💔 120+ Badnaam Quotes in Urdu | Truth, Silence & Reality Words
Introduction:
In our journey through life, we encounter times when we are not understood by others. There are occasions when individuals spread rumours and try to defame us without actually knowing the truth. Such incidents cause us great emotional pain, but at the same time, they are the ones that help us develop our quality of being strong and patient.
The purpose of this compilation of more than 120 Badnaam Quotes in Urdu is to whisper for the ones who were silent, but the world was talking. These Quotes in their plainness will do the work of expressing the state of suffering, the dignity of a person, the truth, and the self-respect.
Description
Badnaam quotes talk about blame, lies, jealousy, and reality.
Many people search for:
- Badnaam quotes in Urdu
- kisi ko badnaam karna quotes
- reality quotes in urdu
- emotional badnaam shayari
- silence and truth quotes in Urdu
- sad badnaam lines
These Urdu quotes are short and meaningful, and easy to understand. They are perfect for WhatsApp status, Instagram captions, and Facebook posts when you want to say something strong without speaking too much.

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے
تجھ سے بچھڑ کے گاؤں میں سارے اداس تھے
سوچا تو تو مگن تھا فقط میری ذات میں
دیکھا تو کتنے لوگ ترے آس پاس تھے
جب ہم نہ مل سکے تو ہمیں ماننا پڑا
بستی کے لوگ کتنے ستارہ شناس تھے
دل اس پہ مطمئن تھا کہ ہم ایک ہو گئے
لیکن کئی گماں مری سوچوں کے پاس تھے
وہ پھول ہو ستارہ ہو شبنم ہو جھیل ہو
تیری کتاب حسن کے سب اقتباس تھے
اشفاقؔ اس کو دیکھ کے ہم سے غزل ہوئی
مدت سے ورنہ ہم تو یوں ہی محو یاس تھے

نظر نظر ہے نظر عین شین قاف نہیں
ملی ہے مجھ کو خبر عین شین قاف نہیں
یہ غین میم تو جینا محال کر دے گا
برابری میں اگر عین شین قاف نہیں
یہ لکھ کے کاٹنا خط میں اب آپ بند کریں
اگر مگر کا سفر عین شین قاف نہیں
اداسی آنسو عداوت نصیحتیں رنجش
بغیر پھل کا شجر عین شین قاف نہیں
تمہارے بعد تو کٹ مر رہے ہیں آپس میں
تمہارے بعد ادھر عین شین قاف نہیں
اداسی دیکھ کے اشرفؔ کی رب نے فرمایا
میں دل بناؤں گا پر عین شین قاف نہیں

رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے
بارش سے کھڑکی کے شیشے بھیگ گئے
بارش کی بوچھاڑ تو اندر تک آئی
خشک تنوں کے سب اندازے بھیگ گئے
بھیگ گئے سب اپنی اپنی یادوں میں
کچھ روتے کچھ ہنستے ہنستے بھیگ گئے
بھیگ گئے سب خط رکھے الماری میں
اور ان میں سب لکھے وعدے بھیگ گئے
دیکھ دیے کی لو تو نے تو دیکھے ہیں
کتنی آنکھیں کتنے تکیے بھیگ گئے
بادل کے ہم راہ سکول سے نکلے تھے
گھر تک آتے آتے بستے بھیگ گئے
اڑتے پنچھی تیری منزل دور ہے کیا
دیکھ مسافر تیرے کپڑے بھیگ گئے
رات ستارے آنگن اور اداس آنکھیں
تیری باتیں کرتے کرتے بھیگ گئے
باہر آ کر دیکھ یہ منظر شہزادی
ہم تیری دہلیز پہ بیٹھے بھیگ گئے
جانے کیسے موسم کی یہ بارش تھی
میری آنکھیں تیرے سپنے بھیگ گئے
جس بستی میں دھوپ سا روپ چمکتا تھا
اس بستی کے سارے رستے بھیگ گئے

شب فراق تھی خاموشی تھی اداسی تھی
یہ تین بہنیں تھیں جن میں بڑی اداسی تھی
مرے وجود سے اترا جہاں میں بار الم
مرے نصیب میں بھاگیرتھی اداسی تھی
تمہیں ہی پاس وفا تھا نہیں وگرنہ کبھی
ہمارے پاس بھی اچھی بھلی اداسی تھی
وہ مسکرا تو رہا تھا بیان کرتے ہوئے
مگر بیان میں اس کے بسی اداسی تھی
ہرا ہوا تو ہرا ہی رہا شگفتہ دل
شریر زخم تھا اندر چھپی اداسی تھی
میں اپنے شہر کا سب سے اداس لڑکا تھا
مرے قریب لڑکپن سے ہی اداسی تھی

بیٹھنا ساحل پہ دریا کی روانی دیکھنا
اور خالی وقت میں فلمیں پرانی دیکھنا
دیکھنا چاہو اداسی میں شجر ڈوبے ہوئے
تم پرندوں کی کبھی نقل مکانی دیکھنا
انتہائی سکھ کنہیں آنکھوں میں میرے خواب ہوں
انتہائی دکھ انہیں آنکھوں میں پانی دیکھنا
روز سو جانا فلک کی وسعتوں کو اوڑھ کر
روز خوابوں میں زمیں کی بے کرانی دیکھنا
طے ہوا ہے آئے گا وہ ملنے آدھی رات کو
نیم شب میں آپ نور کہکشانی دیکھنا

روز تجھ کو یاد کرنے کی تمنا بھی نہیں
بھول جانے کا مگر ہم میں کلیجہ بھی نہیں
غیب ہی سے معجزہ ہو بات تب شاید بنے
دشت امکان میں کھڑا ہوں اور رستہ بھی نہیں
زخم بھی رستے نہیں طنز زمانہ بے اثر
ہے مرض میرا یگانہ دور ہوتا بھی نہیں
پڑ نہ جانا عشق میں تم شاعروں کے جان لو
کب غزل کر دیں یہ خارج کچھ بھروسہ بھی نہیں
نکہت گل کی طرح بکھرا دیا اس کا پتہ
منتشر ہوں عشق رکھنے کا سلیقہ بھی نہیں
ذات میں میری اداسی کا ہے نقش معتبر
ذات میں میری خوشی کا تو ٹھکانا بھی نہیں
آگ چولھے کی جلی تو خواہشیں ایندھن بنیں
راکھ ہی میں دب گیا شعلہ جو بھڑکا بھی نہیں

بس ایک سکے سے دھرتی خرید سکتا ہوں
میں اپنے خواب میں کچھ بھی خرید سکتا ہوں
مجھے ترے لیے خوشیاں خریدنی ہیں دوست
سو کیا میں تیری اداسی خرید سکتا ہوں
کوئی عزیز مرا پیاسا مرنے والا ہے
میں خون بیچ کے پانی خرید سکتا ہوں
کسی کی بھوک مٹا کر بھی بھوک مٹتی ہے
میں روٹی بیچ کے روٹی خرید سکتا ہوں
مری سمجھ کو سمجھنا سمجھ سے باہر ہے
جو میں نے بیچا ہے میں ہی خرید سکتا ہوں

ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں
حوصلہ بن کر چراغوں میں اتر جاتا ہوں میں
نیند کی آغوش میں تھک کر گروں میں جب کبھی
خواب جی اٹھتے ہیں میرے اور مر جاتا ہوں میں
گھر مکینوں سے بنا کرتا ہے پتھر سے نہیں
بس اسی امید پر ہر روز گھر جاتا ہوں میں
میں نے تجھ سے کیا کبھی پوچھا کدھر جاتی ہے تو
اے شب آوارہ تجھ کو کیا کدھر جاتا ہوں میں
میرے جانے پر نہ ہو گھر کی اداسی یوں ملول
تو اگر گھبرا گئی ہے تو ٹھہر جاتا ہوں میں

ہر دم کچھ اضطراب کے ایسے بھنور میں ہوں
جیسے کسی دعائے ضرر کے اثر میں ہوں
بہہ جاؤں بن کے سیل رواں اس زمین پر
میں اک اداس شام کسی چشم تر میں ہوں
خود کی تلاش میں ہی زمانے گزر گئے
کیا اپنی جستجو ہی کے دام سحر میں ہوں
جیسے کسی اجاڑ خرابے میں گونج ہو
موجود اس طرح ترے دیوار و در میں ہوں
منزل شناس بن نہ سکا میں تو کیا ہوا
اتنا تو جانتا ہوں کہ راہ سفر میں ہوں
عاصمؔ مزاج میں ہیں تمنائیں اس طرح
جیسے میں آج تک کوئی بچہ سا گھر میں ہوں

درمیاں فاصلہ بڑھاتے ہوئے
کتنا خوش تھا وہ دور جاتے ہوئے
خون پوروں سے ہو گیا جاری
برف سے انگلیاں ہٹاتے ہوئے
ہم کسی اور کو بھی دیکھیں کیا
آپ کو آئنہ دکھاتے ہوئے
کیا اداسی اترنے لگتی ہے
میرؔ کا شعر گنگناتے ہوتے
ایک نقطے پہ مل گئے دونوں
ہجر کا دائرہ بناتے ہوئے
جس کے درشن کو نین ترسے ہیں
کیسے دیکھیں گے اس کو جاتے ہوئے
ہم کنارے سے آ لگے عاصمؔ
آخری شخص کو بچاتے ہوئے

یہ جسم و روح کا رشتہ بھی بوجھ لگتا ہے
خود اپنے آپ کا سایہ بھی بوجھ لگتا ہے
کسی کو چاہتے رہنا بھی بوجھ لگتا ہے
کسی کے ہجر میں رونا بھی بوجھ لگتا ہے
یہ کس مقام پہ لائی ہیں شہرتیں مجھ کو
کہ اپنے نام کا چرچا بھی بوجھ لگتا ہے
تمہارے ساتھ ہی گزری جو زندگی گزری
تمہارے بعد تو جینا بھی بوجھ لگتا ہے
کسی کو میری اداسی اداس کرتی ہے
کسی کو میرا یہ ہنسنا بھی بوجھ لگتا ہے
اب آنکھیں اس طرح بوجھل ہوئی ہیں اے عاصمؔ
کہ کوئی خواب سہانا بھی بوجھ لگتا ہے

دلوں کی خاک اڑنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
کسی کے جینے مرنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
تمہارے گھر کے رستے کی اداسی ختم ہو جائے
مجھے گھر تک بلانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
تمہیں اچھی نہیں لگتیں مری خوشیاں بتاؤ کیوں
مرے ہنسنے ہنسانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
تمہیں تو چھت میسر ہے سلامت ہے تمہارا گھر
مرا گھر ڈوب جانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے
مرے اطراف دشمن ہیں پرائے اور اپنے بھی
لڑے تنہا زمانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے
تمہارے بعد تو دل محو یاس رہتا ہے
میں کیا کروں گا بھلا زیست بن ترے جاناں
کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے
نہ جانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا
وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے
میں کیوں کہوں کہ میں تنہا ہوں ہجر کا مارا
وہ بن کے خوشبو یہیں آس پاس رہتا ہے
میں بن کے اس کی تمنا اڑا پھروں تنہا
وہ بن کے میری وفا کا لباس رہتا ہے

ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے
تلاش میں ہے نظر دل میں بیکلی سی ہے
کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا
بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے
بڑی عجیب اداسی ہے مسکراتا ہوں
جو آج کل مری حالت ہے شاعری سی ہے
گزر رہے ہیں شب و روز بے سبب میرے
یہ زندگی تو نہیں صرف زندگی سی ہے
تھکی تو ایک محبت نے موند لی آنکھیں
ہر ایک نیند سے اب میری دشمنی سی ہے
ترے بغیر کہاں ہے سکون کیا آرام
کہیں رہوں مری تکلیف بے گھری سی ہے
نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ
یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں
اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں
مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان
جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں
کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا
کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں
جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں
جسے میں اپنے سخن میں اتار لیتی ہوں
میں اب بھی یاد تو کرتی ہوں عاصمہ اس کو
اسی کا غم ہے جسے میں سہار لیتی ہوں

تیری یادیں بحال رکھتی ہے
رات دل پر وبال رکھتی ہے
شب غم کی یہ راگنی بن میں
بانسری جیسی تال رکھتی ہے
دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن
وحشتوں کو اجال رکھتی ہے
بام و در پر اترنے والی دھوپ
سبز رنگ ملال رکھتی ہے
شام کھلتی ہے تیرے آنے سے
لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے
ایک لڑکی اداس صفحوں میں
اک جزیرہ سنبھال رکھتی ہے
آخری دیپ کی لرزتی لو
مہر و مہ سا جمال رکھتی ہے

شام دل کو بجھائے جاتی ہے
تیری باتیں سنائے جاتی ہے
یہ اداسی بھی خوب صورت ہے
مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے
رات کی آنکھ سے اسے دیکھو
کیسے منظر دکھائے جاتی ہے
ایک لمحے کی روشنی مجھ میں
ایک دنیا بسائے جاتی ہے
کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی
میرے اندر سمائے جاتی ہے
ہجر کی شب ہماری جانب کیوں
دیکھ کر مسکرائے جاتی ہے
زندگی بے وفا سہی لیکن
ساتھ پھر بھی نبھائے جاتی ہے
آپ تعبیر جانتے ہوں گے
چاندنی بوکھلائے جاتی ہے
کوئی خوشبو گریزاں ہے مجھ سے
کوئی آہٹ بلائے جاتی ہے
زندگی لاڈلی سی شہزادی
میرا آنچل اڑائے جاتی ہے

ہماری یاد انہیں آ گئی تو کیا ہوگا
گھٹا ادھر کی ادھر چھا گئی تو کیا ہوگا
ابھی تو بزم میں قائم ہے دو دلوں کا بھرم
نظر نظر سے جو ٹکرا گئی تو کیا ہوگا
دھڑک رہا ہے سر شام ہی سے دل کم بخت
وصال یار کی صبح آ گئی تو کیا ہوگا
یہ سوچتا ہوں کہ دل کی اداس گلیوں سے
تمہاری یاد بھی کترا گئی تو کیا ہوگا
سرور آ گیا رندوں کو دیکھتے ہی سبو
جو میکدے پہ گھٹا چھا گئی تو کیا ہوگا
وہ بات جس سے دھواں اٹھ رہا ہے سینے سے
وہ بات لب پہ اگر آ گئی تو کیا ہوگا
وفا کا دم نہ بھرو دوستو تم اسلمؔ سے
تمہیں جو وقت پہ جھٹلا گئی تو کیا ہوگا

یادوں کا لمس ذہن کو چھو کر گزر گیا
نشتر سا میرے جسم میں جیسے اتر گیا
موجوں کا شور مجھ کو ڈراتا رہا مگر
پانی میں پاؤں رکھتے ہی دریا اتر گیا
پیروں پہ ہر طرف ہی ہواؤں کا رقص تھا
اب سوچتا ہوں آج وہ منظر کدھر گیا
دو دن میں خال و خط مرے تبدیل ہو گئے
آئینہ دیکھتے ہی میں اپنے سے ڈر گیا
اپنا مکان بھی تھا اسی موڑ پر مگر
جانے میں کس خیال میں اوروں کے گھر گیا
اس دن مرا یہ دل تو بہت ہی اداس تھا
شاید سکون ہی کے لئے در بہ در گیا
میں سنگ ہوں نہ اور وہ شیشہ ہی تھا مگر
اسلمؔ جو اس کو ہاتھ لگایا بکھر گیا

کہیں پہ قرب کی لذت کا اقتباس نہیں
ترے خیال کی خوشبو بھی آس پاس نہیں
ہزار بار نگاہوں سے چوم کر دیکھا
لبوں پہ اس کے وہ پہلی سی اب مٹھاس نہیں
سجا کے بوتلیں ٹیبل پہ منتظر ہوں مگر
قریب و دور نگاہوں کے وہ گلاس نہیں
سمندروں کا یہ نمکین پانی کیسے پیوں
پیاسا ہوں مگر اتنی زیادہ پیاس نہیں
یہ اور بات کہ مجھ سے بچھڑ کے خوش ہے مگر
وہ کیسے کہہ دے کہ میں ان دنوں اداس نہیں
تمہارے کپڑے کہیں گرد میں نہ اٹ جائیں
یہ خشک پتوں کا بستر ہے سبز گھاس نہیں
بجھی بجھی سہی یہ دھوپ کم نہیں اسلمؔ
اب اس کے بعد کسی روشنی کی آس نہیں

ہمارے ذہن کی کوئی جہت قیاسی نہ تھی
امید ساتھ تھی ہر گام پر اداسی نہ تھی
یہ سچ ہے کوچۂ جاناں سے لوٹ آئے ہم
مگر دلوں کی فضا اتنی تو سیاسی نہ تھی
حیا تھی آنکھوں میں سانسوں میں تھا وقار بہت
ہمارے عہد میں سب کچھ تھا بے لباسی نہ تھی
سمیٹ پائے نہ آپ اپنے ہی وجود کو ہم
جو بات اس نے کہی تھی ہمیں ذرا سی نہ تھی
ہمیں نے توڑ دئے آئنے گھروں کے نظرؔ
کچھ ایسی شہر نگاراں میں بد حواسی نہ تھی

اے سیم تن تجھے گل پیرہن کہا جائے
کہ آفتاب کی پہلی کرن کہا جائے
حکومتیں کہ جہاں شہ گروں کا غلبہ ہو
اس اقتدار کو دار و رسن کہا جائے
اذیتوں کا صلہ ہے مہک اٹھیں گلیاں
ہمارے زخم کو مشک ختن کہا جائے
جسے چھوا ہے نہ دیکھا نگاہ باطن نے
اسے خیال گماں یا بدن کہا جائے
یہ روشنی کا نگر صبح شام کیا معنی
برہنہ تن کو جہاں پیرہن کہا جائے
ہمارے عہد کے صیاد ہم سے چاہیں گے
کہ قتل گاہ کو اپنا چمن کہا جائے
لگا دے آگ جو خاموش آبگینوں میں
اسے ہمارا ہی طرز سخن کہا جائے
وہ جن کا قد سے بھی اونچا انا کا پیکر ہو
وہ چاہتے ہیں انہیں انجمن کہا جائے
ہزار رنگ نصیبوں میں باندھ لائے جو
اسے جہاں میں مگر کوہکن کہا جائے
وہ روشنی کی طلب میں وہاں تلک پہنچے
جہاں پہ دھوپ کو سایہ فگن کہا جائے
بجھا کے رکھ دے جو جلتے ہوئے چراغوں کو
تو کیا اسے بھی ہوا کا سخن کہا جائے
مشقتیں جو عیاں ہوں اداس آنکھوں سے
انہیں خمار کہیں یا تھکن کہا جائے
نکھر گیا ہو کوئی حسن جب پسینے میں
اسے تو صبح کی پہلی کرن کہا جائے
ہجوم فکر میں دل کو لہو لہو کر لیں
غزل میں تب کہیں رمز سخن کہا جائے
حقیقتیں کہ جو دیکھی ہیں کتنی آنکھوں نے
نظرؔ کہیں تو اسے سوئے ظن کہا جائے

محبت کے سہارے مر گئے کیا
شب فرقت کے مارے مر گئے کیا
بھنور سے جو نکل آئے تھے بچ کر
وہ دریا کے کنارے مر گئے کیا
نظر آتی ہے ان میں کیوں اداسی
ان آنکھوں کے ستارے مر گئے کیا
نہیں ہوتی ہے دل میں کوئی ہلچل
سبھی ارماں ہمارے مر گئے کیا
خزاں کیوں سعدؔ دل پر ہے مسلط
نظر کے سب نظارے مر گئے کیا

بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
بس اب ذلیل نہ کر اے نگاہ یاس مجھے
یہ دل ہے شوق میں بے خود وہ آنکھ نشہ میں چور
جھکا نہ دے سوۓ ساغر بھڑکتی پیاس مجھے
ادھر ملامت دنیا ادھر ملامت نفس
بڑا عذاب ہے آئے ہوئے حواس مجھے
پلٹ دو بات نہ لو منہ سے نام رخصت کا
ابھی سے گھر نظر آنے لگا اداس مجھے
جو ملتفت ہیں یہ نظریں بدل بھی سکتی ہیں
بنا چکا ہے زمانہ ادا شناس مجھے

بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے
یہ تجربہ بھی اسی زندگی میں کرنا ہے
ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں
ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے
میں منظروں کے گھنے پن سے خوف کھاتا ہوں
فنا کو دست محبت یہاں بھی دھرنا ہے
تلاش رزق میں دریا کے پنچھیوں کی طرح
تمام عمر مجھے ڈوبنا ابھرنا ہے
اداسیوں کے خد و خال سے جو واقف ہو
اک ایسے شخص کو اکثر تلاش کرنا ہے

مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں
ابھی کتنا وقت ہے اے خدا ان اداسیوں کے زوال میں
کبھی موج خواب میں کھو گیا کبھی تھک کے ریت پہ سو گیا
یوں ہی عمر ساری گزار دی فقط آرزوئے وصال میں
کہیں گردشوں کے بھنور میں ہوں کسی چاک پر میں چڑھا ہوا
کہیں میری خاک جمی ہوئی کسی دشت برف مثال میں
یہ ہوائے غم یہ فضائے نم مجھے خوف ہے کہ نہ ڈال دے
کوئی پردہ میری نگاہ پر کوئی رخنہ تیرے جمال میں

زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے
یقینوں کو گماں لکھا گیا ہے
جو کہنا تھا کبھی منہ سے نہ نکلا
جو لکھنا تھا کہاں لکھا گیا ہے
اداسی کا قصیدہ اس برس بھی
سر دیوار جاں لکھا گیا ہے
چراغوں کو ہواؤں کا پیمبر
خموشی کو زباں لکھا گیا ہے
مرے لفظوں سے اتنی برہمی کیوں
بہت کچھ رائیگاں لکھا گیا ہے

ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا
نہ جاگنا ہی میسر مجھے نہ سو جانا
یہ سب فریب ہے میں کیا ہوں میری چاہت کیا
جو ہو سکے تو مری طرح تو بھی ہو جانا
ہنسی میں زخم چھپانے کا فن بھی زندہ ہے
اسی خیال سے سیکھا نہ میں نے رو جانا
اداس شہر میں زندہ دلی کی قیمت کیا
بجا ہے میری ہنسی کا غبار ہو جانا
حسین تجھ سے زیادہ بھی ہیں زمانے میں
برا ہے آنکھ کا پابند رنگ ہو جانا

نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا
سلگتی دھوپ کی سرحد پہ گھر کوئی بھی نہ تھا
ہر ایک جسم تھا اک پوسٹر شعاعوں کا
سلگتے دشت میں ٹھنڈا شجر کوئی بھی نہ تھا
چمکتے دن میں تو سب لوگ ساتھ تھے لیکن
اداس شب میں مرا ہم سفر کوئی بھی نہ تھا
ہر ایک شہر میں تھا اضطراب کا آسیب
جہاں سکون ہو ایسا نگر کوئی بھی نہ تھا
سبھی کو فن جراحت سے واقفیت تھی
ہماری طرح وہاں بے ہنر کوئی بھی نہ تھا
سب اپنے کمروں میں مستی کی نیند سوئے تھے
سیاہ شب میں سر رہ گزر کوئی بھی نہ تھا
جو تلخ شام کے سایوں کو قتل کر دیتا
تمام شہر میں اتنا نڈر کوئی بھی نہ تھا
مرے زوال کی سب کو تھی آرزو اسعدؔ
مرے کمال سے خوش دل مگر کوئی بھی نہ تھا

جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
میں اس کے حسن پہ اک روز خاک ڈال آیا
یہ عشق خوب رہا باوجود ملنے کے
نہ درمیان کبھی لمحۂ وصال آیا
اشارہ کرنے لگے ہیں بھنور کے ہاتھ ہمیں
خوشا کہ پھر دل دریا میں اشتعال آیا
مروتوں کے ثمر داغ دار ہونے لگے
محبتوں کے شجر تجھ پہ کیا زوال آیا
حسین شکل کو دیکھا خدا کو یاد کیا
کسی گناہ کا دل میں کہاں خیال آیا
خدا بچائے تصوف گزیدہ لوگوں سے
کوئی جو شعر بھلا سن لیا تو حال آیا

ایک بیوہ کی آس لگتی ہے
زندگی کیوں اداس لگتی ہے
ہر طرف چھائی گھور تاریکی
روشنی کی اساس لگتی ہے
پی رہا ہوں ہنوز اشک غم
بحر غم کو بھی پیاس لگتی ہے
لاکھ پہناؤ دوستی کی قبا
دشمنی بے لباس لگتی ہے
موت کے سامنے حیات اسدؔ
صورت التماس لگتی ہے

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے
ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے
نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں
بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے
خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں
اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے
جنہیں شعور سے عاری قرار دیتے تھے
وہی بنے ہیں قیافہ شناس افسانے
لباس والے بھی پڑھتے ہیں ان کو چھپ چھپ کر
جو میں نے لکھے ہیں کچھ بے لباس افسانے
وہ ایک پیاسے نے خون جگر سے لکھے ہیں
جو بن گئے ہیں سمندر کی پیاس افسانے
وہ ایک پیاسے نے خون جگر سے لکھے ہیں
جو بن گئے ہیں سمندر کی پیاس افسانے
خیال و خواب کے قصے نہیں ہیں ان میں اسدؔ
ہیں عہد نو کے حقیقت شناس افسانے

نہ آئیں گے لوٹ کر وہ پھر بھی میں عمر بھر انتظار کر لوں
ادھر تو آ اے غم محبت تجھے ہی جی بھر کے پیار کر لوں
نہ جانے کب تک ڈھلے شب غم نہ جانے صبح امید کب ہو
قدم قدم پر بچھا لوں تارے نفس نفس شعلہ بار کر لوں
کبھی عیادت ہوئی نہ اس سے کبھی کسی سے نہ حال پوچھا
مریض غم پر وہ مہرباں ہے یہ کیسے میں اعتبار کر لوں
ابھی سلامت ہے عزم محکم ابھی ہے باقی لہو رگوں میں
الٹ کے رکھ دوں نظام گلشن خزاں بہ رنگ بہار کر لوں
ذرا ٹھہر اے جنون الفت تو لے چلا ہے کہاں ابھی سے
متاع دل جب لٹا چکا ہوں تو جاں بھی ان پر نثار کر لوں
یہیں بچھڑ کے میں رو پڑا تھا یہیں ہے بھیگا زمیں کا آنچل
یہیں پھر اس سے ملن بھی ہوگا یہیں پہ میں انتظار کر لوں
نہیں ہے باقی اگر پتنگے تو رہ کے تنہا اداس ہوگی
لحد سے اٹھ کر اسیرؔ میں ہی طواف شمع مزار کر لوں

شاید مری نگاہ میں کوئی شگاف تھا
ورنہ اداس رات کا چہرہ تو صاف تھا
اک لاش تیرتی رہی برفیلی جھیل میں
جھوٹی تسلیوں کا امیں زیر ناف تھا
بوسوں کی راکھ میں تھے سلگتے شرار لمس
چہرے کی سلوٹوں میں کوئی انکشاف تھا
دوزخ کے گرد گونگے فرشتے تھے محو رقص
اور پسلیوں کی ٹیس پہ میلا غلاف تھا
کھڑکی سے جھانکتا ہوا وہ پر غرور سر
تازہ ہوا سے اس کا کوئی اختلاف تھا
رستے فرار کے سبھی مسدود تو نہ تھے
اپنی شکست کا مجھے کیوں اعتراف تھا

مجھے اداس بھی کرتے رہے مرے اندر
جو پھول کھل کے بکھرتے رہے مرے اندر
مجھے مٹاتی رہی میری خامشی اکثر
مرے ہی خواب بکھرتے رہے مرے اندر
میسر آیا نہ ان کو لباس صوت و صدا
مرے خیال سنورتے رہے مرے اندر
اب ان کی مار سے چہرہ بجھا بجھا ہے مرا
جو صدمے مجھ پہ گزرتے رہے مرے اندر
بڑے جتن سے جلائے تھے کچھ دئے میں نے
جو ایک جھونکے سے ڈرتے رہے مرے اندر
وہ اشک دل کی زمینوں کو کر گئے شاداب
جو قطرہ قطرہ اترتے رہے مرے اندر
مری نمو میں رکاوٹ بنے رہے عامرؔ
جو وسوسے سے ابھرتے رہے مرے اندر

کہیں کنائے پہ رکھتی ہے آرزو مجھ کو
بہا کے دور نہ لے جائے جستجو مجھ کو
مجھے سنبھال مرے ساتھ چل مرے ساقی
کہ لے چلا ہے کہیں اور یہ سبو مجھ کو
وہ پیڑ ہوں جسے پانی نہیں ملا کب سے
مری زمیں نے ہی رکھا ہے بے نمو مجھ کو
ترے بغیر میں کیسے یہاں چلا آیا
بہت اداس کرے گی یہ ہا و ہو مجھ کو
تجھے بتاؤں محبت میں ایسا ہوتا ہے
تری خموشی بھی لگتی ہے گفتگو مجھ کو

کہاں تک یہ ستارے در بدر پھرتے رہیں گے
تری آنکھوں میں آخر اپنی منزل ڈھونڈ لیں گے
پرانی اس کہانی پر یقیں آئے نہ آئے
مگر ہم سامری کے سحر سے کیسے بچیں گے
اداسی اس گلی میں کتنے دن تک رہ سکے گی
نئے موسم پرانے قفل آخر توڑ دیں گے
ہوائے تازہ بدلے گی فضا اس باغ کی بھی
نئی رت میں نئے پودے یہاں پھولے پھلیں گے
ترے در تک نہ پہنچیں گے بھڑکتے تیز شعلے
تو کیا اس آگ میں ہم ہی سدا جلتے رہیں گے

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں
تمہارے زخم کو پہچانتا تو میں بھی ہوں
نہ جانے کون سی آنکھوں سے دیکھتے ہو مجھے
تمہاری طرح سے ٹوٹا ہوا تو میں بھی ہوں
تمہی پہ ختم نہیں مہر و ماہ کی گردش
شکست خواب کا اک سلسلہ تو میں بھی ہوں
تمہیں منانے کا مجھ کو خیال کیا آئے
کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا تو میں بھی ہوں
مجھے بتا کوئی تدبیر رت بدلنے کی
کہ میں اداس ہوں یہ جانتا تو میں بھی ہوں
تلاش اپنی خود اپنے وجود کو کھو کر
یہ کار عشق ہے اس میں لگا تو میں بھی ہوں
رموز حرف نہ ہاتھ آئے ورنہ اے اشفاقؔ
زمانے بھر سے الگ سوچتا تو میں بھی ہوں

تو اب کے عجب طرح ملا ہے
چہرہ تو وہی ہے دل نیا ہے
سنتا ہی نہیں ہے ایک میری
دل تیرے مزاج پر گیا ہے
تنہا بھی نہیں مگر ترے بعد
شاموں کا اداس سلسلہ ہے
پلکوں پہ ہے کچھ نمی ادھر بھی
دل آج ادھر بھی رو دیا ہے
چمکا ہے یہ کون جس کے آگے
سورج سا چراغ بجھ گیا ہے
فرصت اسے ہو تو اس سے پوچھوں
میرے لیے اس کا حکم کیا ہے

تمام رشتے اسی شاخ بے ثمر سے ہیں
تلاش انہی کو ہے گھر کی جو نکلے گھر سے ہیں
شناخت کی یہ کہانی بس ایک نسل کی ہے
پھر اس کے بعد فسانے ادھر ادھر سے ہیں
ابھی خبر نہیں نو واردان ہجرت کو
کہاں سے اٹھے ہیں بادل کہاں پہ برسے ہیں
قدم اٹھے نہیں معلوم منزلوں کی طرف
مگر اداس ہم اندیشۂ سفر سے ہیں
بس آنکھ کھلتے ہی تعبیر خواب مل جائے
یہ کس طرح کے تقاضے ہمیں سحر سے ہیں
نگاہ رکھتے ہیں سیارگاں کی نبض پہ ہم
اور اپنے چاروں طرف کتنے بے خبر سے ہیں

جن دنوں ہم اداس لگتے ہیں
جانے کیا کیا قیاس لگتے ہیں
وہ اداکار ہیں خیال رہے
جو بہت غم شناس لگتے ہیں
بعض اوقات بد حواسی میں
سب کے سب بد حواس لگتے ہیں
مسکرانے کی کیا ضرورت ہے
آپ یوں بھی اداس لگتے ہیں
چند خوش فہم خوش لباسوں کو
دوسرے بے لباس لگتے ہیں

اسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں
کئی بناتے ہیں میں نے خدا بنایا نہیں
یہ بستی رات کا کس طرح سامنا کرے گی
یہاں کسی نے بھی دن میں دیا بنایا نہیں
پتا کرو کہ یہ نقاش کس قبیل کا ہے
پرندہ جب بھی بنایا رہا بنایا نہیں
یہ لوگ ظلم کما کر شب ایسے سوتے ہیں
خدا نے جیسے کہ روز جزا بنایا نہیں
لہو بھی جلتا ہے جھڑتی ہے خاک بھی میری
کہ شعر اترتا ہے لیکن بنا بنایا نہیں
وہ مہرباں ہے مگر بھولتا نہیں مجھ کو
وہ ایک کام جو اس نے مرا بنایا نہیں
اداس دیکھا نہیں جاتا کوئی مجھ سے عقیلؔ
کسی کو اس لیے حال آشنا بنایا نہیں

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے
ترے بغیر مری زندگی عذاب میں ہے
جو اس کے دیدۂ بدمست میں ہے اے ساقی
کہاں وہ نشہ و مستی تری شراب میں ہے
تڑپ رہی ہے نظر جس کو دیکھنے کے لئے
وہ اپنا چہرہ چھپائے ہوئے نقاب میں ہے
بسا کے پیار کی خوشبو میں جس کو بھیجا تھا
ابھی تک آپ کا وہ خط مری کتاب میں ہے
میں حسن و عشق کی باتوں سے کیوں کروں پرہیز
مری حیات ابھی عالم شباب میں ہے
نگاہیں ان کی مرے دل پہ ہوں نہ ہوں شاطرؔ
مری غزل تو حسینوں کے انتخاب میں ہے

دل کی دھڑکن بھی صدا دینے لگی برسات کو
یاد ان کی آ گئی کمرے میں آدھی رات کو
ہر طرف پورب ہو پچھم پھول سے کھلنے لگے
شیشہ و ساغر نے کل چوما تھا میرے ہات کو
دشمنوں کے درمیاں جب نام تیرا آ گیا
بھر لیا دامن میں جیسے گردش حالات کو
میں سمجھتا تھا کہ اب یہ دوریاں مٹ جائیں گی
ٹھیس پہنچاتا رہا وہ ہر گھڑی جذبات کو
تیرے جانے سے ہر اک شے پر اداسی چھا گئی
چھوڑ آیا گاؤں میں تیری ہر اک سوغات کو
سوچتا رہتا ہوں ماہرؔ آئنوں کے درمیاں
کر گیا ہے کون روشن ہجر و غم کی رات کو

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں
نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں
کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی
کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں
کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی
کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں
سجایا ہے کہیں آنکھوں نے خود کو ماہ و انجم سے
اسی امید پر کہ آنے والے دن سنہرے ہیں
بھروسا کر تو لوں لیکن بتاؤ کس پہ کرنا ہے
کہ ہر چہرے کے پیچھے ہی نہ جانے کتنے چہرے ہیں

ڈھلی جو رات بہت دیر مسکرائی صبا
فضا کو دے کے گئی آج پھر بدھائی صبا
بھلے ہی آج چمن کو تو راس آئی صبا
گلوں کے لب پہ مگر ہے تری برائی صبا
اٹھا کے ہاتھ دعا مانگنے لگے ہیں چراغ
تو کر رہی ہے بھلا کیسی رہنمائی صبا
چڑھی جو دھوپ تو دامن جھٹک دیا اس نے
افق سے کرنے لگی کھل کے بے وفائی صبا
مہک اٹھی ہے تمنا بھی زخم کھانے کی
کٹار ہاتھ میں لے کر گلی میں آئی صبا
غبار ذہن جگر میں اٹھا دیا غم کا
ستم کے شہر سے سیدھے ہی دل میں آئی صبا
عجیب ڈھنگ کی مستی ہے ان پہاڑوں کی
بدن پر اوڑھ لی ہنس کر کبھی بچھائی صبا
گلاب خواب ستارے دھنک اداس چراغ
پڑی ہے فصل محبت کٹی کٹائی صبا
نہ جانے کس کے اشارے پہ رات دن ساحلؔ
سنا رہی ہے کہانی سنی سنائی صبا

میرے ہمدم مجھے میری خوشی اور غم سے کیا مطلب
تو ایسا تیر ہے جس کو کسی مرہم سے کیا مطلب
دکھاتا ہے مجھے تو اس لئے یہ سب کی تصویریں
مجھے بس تجھ سے مطلب ہے کسی البم سے کیا مطلب
بکھرتے ہیں جو راتوں کو ہرے پتوں پہ کچھ موتی
اڑاتی ہے سحر ان کو اسے شبنم سے کیا مطلب
تمہارے چاہنے والے ہیں لاکھوں لوگ دنیا میں
تمہیں بس ان سے مطلب ہے تمہیں اب ہم سے کیا مطلب
مجھے کیا فرق پڑتا ہے دسمبر بیت جانے سے
اداسی میری فطرت ہے اسے موسم سے کیا مطلب

تو زمیں پر ہے کہکشاں جیسا
میں کسی قبر کے نشاں جیسا
میں نے ہر حال میں کیا ہے شکر
اس نے رکھا مجھے جہاں جیسا
ہو گئی وہ بہن بھی اب رخصت
پیار جس نے دیا تھا ماں جیسا
فاصلہ کیوں دلوں میں آیا ہے
گھر کے آنگن کے درمیاں جیسا
میرے دل کو ملا نہ لفظ کوئی
میرے اشکوں کے ترجماں جیسا
میرے اک شعر میں سمایا ہے
کرب صدیوں کی داستاں جیسا
شہر میں ایک مجھ کو دکھلا دو
تم مرے گاؤں کے جواں جیسا
جھیل سی ان اداس آنکھوں میں
عکس تھا نیلے آسماں جیسا
مجھ کو ویسا خدا ملا بالکل
میں نے عارفؔ کیا گماں جیسا

تمہاری بزم میں جانے یہ کیسا عالم ہے
چراغ جتنے زیادہ ہیں روشنی کم ہے
روش روش پہ ہیں خوں ریزیوں کے ہنگامے
قدم قدم پہ یہاں زندگی کا ماتم ہے
چمن میں پھول کھلے ہیں مگر اداس اداس
بہار آئی ہے لیکن خزاں کا عالم ہے
وہ آنکھ آنکھ نہیں جس میں سیل اشک نہ ہو
وہ پھول خار ہے جو بے نیاز شبنم ہے
خزاں کی گود میں لٹتی رہی حیات چمن
مگر ہنوز وہی باغباں کا عالم ہے
ہیں یوں تو رونقیں محفل میں آپ کی لیکن
بہار کم ہے خوشی کم ہے دل کشی کم ہے
جدھر بھی دیکھیے انسانیت نہیں ملتی
یہ کس مقام پہ ارمانؔ ابن آدم ہے

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو
کہ مجھ سے چھوٹ کے بھی آج کیسے زندہ ہو
جوانیوں کی یہ رت کس طرح گزرتی ہے
بس ایک بار تم اپنی نظر سے دیکھ تو لو
وہ آرزوؤں کا موسم تو کب کا بیت چکا
میں کب سے جھیل رہا ہوں دکھوں کے صحرا کو
مسرتوں کی رتیں تو تمہارے ساتھ گئیں
میں کیسے دور کروں روح کی اداسی کو
گزر نہ جاؤ سر راہ اجنبی کی طرح
تمہارا خواب ہوں میں تم تو مجھ کو پہچانو
جو جا چکے وہ مسافر نہ آئیں گے ارمان
بس اب تو دفن کرو نیم جاں امیدوں کو

پہلے خود اپنے سامنے تم آئنہ کرو
عیبوں پہ دوسروں کے اگر تبصرہ کرو
طے کرنا یہ محال ہے اپنے شعور سے
جو بے وفا ہے ان سے کہاں تک وفا کرو
ڈر ہے لپک نہ لے مجھے میری اداسیاں
تم مسکرا کے مجھ میں اجالا کیا کرو
اچھا نہیں کہا ہے خاموشی کو عشق میں
ہم سے کہا کرو کبھی ہم سے سنا کرو

مرے وہم و گماں پے رات دن چھائی اداسی ہے
پہن کر خواہشوں کا یہ بدن آئی اداسی ہے
پرندہ جسم کے پنجرے میں آیا تو بہت خوش تھا
مگر اس نے سحر سے شام تک پائی اداسی ہے
کوئی بتلائے کہ اب کس طرح پاؤں سکون دل
میرے اس جسم کے پنجرے میں در آئی اداسی ہے
چمن بے رنگ افسردہ کلی ہر پھول بے خوشبو
بہاروں کی فضا بھی اس برس لائی اداسی ہے
نظر آیا نہیں مجھ کو مرا گل رنگ چہرہ جب
کہا آئینہ نے حضرت یہ تنہائی اداسی ہے
ہر اک سو شہر دل آرام میں جشن بہاراں تھا
فضا میرے ہی گھر آنگن کی کہلائی اداسی ہے
گھٹا چھاتے ہی جیسے دھوپ چھٹ جاتی ہے آنگن کی
تجھے آتے ذرا دیکھا تو شرمائی اداسی ہے

دل میں ہر وقت یاس رہتی ہے
اب طبیعت اداس رہتی ہے
ان سے ملنے کی گو نہیں صورت
ان سے ملنے کی آس رہتی ہے
موت سے کچھ نہیں خطر مجھ کو
وہ تو ہر وقت پاس رہتی ہے
آب حیواں جسے بجھا نہ سکے
زندگی کو وہ پیاس رہتی ہے
دل تو جلووں سے بد حواس ہی تھا
آنکھ بھی بد حواس رہتی ہے
ان کی صورت عجب ہے شعبدہ باز
دور رہ کر بھی پاس رہتی ہے
دل کہاں عرشؔ اب تو پہلو میں
ایک تصویر یاس رہتی ہے

میں اداس ہوں مرے مہرباں میں اداس ہوں
تو کہیں نہیں ہے تو ہے کہاں میں اداس ہوں
مرا شہر خواب تو ریزہ ریزہ بکھر چکا
کہیں کھو گئی مری کہکشاں میں اداس ہوں
مجھے اپنے قدموں کی خاک میں ہی پناہ دے
میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ماں میں اداس ہوں
یہ جو جنگ ہے کسی اور وقت پہ ٹال دیں
صف دوستاں صف دشمناں میں اداس ہوں
تمہیں عمر بھر کا ہے تجربہ کوئی مشورہ
کوئی مشورہ اے شکستگاں میں اداس ہوں
میں عجیب ہوں نہیں مختلف ہاں عجیب ہوں
وہاں سارا شہر ہے خوش جہاں میں اداس ہوں

اداس رات کو مہکائیں کوئی چارا کریں
خیال یار کو خوشبو کا استعارا کریں
بلا کی تیرگی ہے چشم ماہ کو سوچیں
شعاع خواب طرح دار کو ستارا کریں
مہک رتوں کی بلائے تصرفوں کی طرف
کٹیلے تار مگر اور ہی اشارا کریں
خزاں کے دن کسی پیلے پہاڑ جیسے دن
شگفت گل تری امید پر گزارا کریں
ہمارے عشق کے سرخاب پر وہ اترائے
حواس جاں میں ہم اس کی نظر اتارا کریں
ترا ہی نام نکلتا ہے ہر طریقے سے
کسی بھی طرح محبت کا استخارا کریں
یہ دشت و خار یہ شہر و گلاب سب تیرے
شبانہ روز ترے لطف کو نہارا کریں

تمام شہر کی آنکھوں کا ماہتاب ہوا
میں جب سے اس کی نگاہوں میں انتخاب ہوا
ہوا کے کاندھوں نے پہنچایا آسمانوں تک
میں برگ سبز تھا سوکھا تو آفتاب ہوا
پلٹ کے دیکھوں تو مجھ کو سزائیں دیتا ہے
عجب ستارہ رہ غم میں ہم رکاب ہوا
یوں قوس چشم میں آیا وہ بارشوں کی طرح
کہ حرف دید کئی رنگوں کی کتاب ہوا
پگھل کے آ گئی ساری اداسی لفظوں میں
وفور غم مرے آئینے میں حباب ہوا
میں اپنی خواہشیں گم کر کے مل گیا اس کو
خوشا وہ میری محبت میں کامیاب ہوا

کہاں کہاں سے سناؤں تمہیں فسانۂ شب
طویل گزرا ہے مجھ پر بہت زمانۂ شب
مہک رہا ہے ہمیں سے حریم گلشن روز
ہمیں سے نور فزا ہے نگار خانۂ شب
ہوا ہے حکم یہ منجانب شہ ظلمات
حدود شہر سیہ چھوڑ دے دوانۂ شب
خموش ہوتے ہیں دن کے تمام تر سکے
کھنکتا رہتا ہے کشکول دل میں آنۂ شب
ہر ایک شاخ پہ ویرانیاں مسلط ہیں
بدن درخت بھی گویا ہے آشیانۂ شب
تمام یادیں تو آ بیٹھتی ہیں شام ڈھلے
اداس رہتا ہے پھر کس لئے سرہانۂ شب
امید خاک رکھی جائے اب اجالوں کی
چراغ اوندھے پڑے ہیں بہ آستانۂ شب
حلال رزق میسر ہو کیا انہیں صارمؔ
کہ جن پرندوں کو چگنا ہے صرف دانۂ شب

نفرت کے اندھیروں کو مٹانے کے لئے آ
آ شمع محبت کو جلانے کے لئے آ
بے باک ہوا جاتا ہے اب درد جدائی
ابھرے ہوئے زخموں کو دبانے کے لئے آ
کب تک میں سنبھالوں تری یادوں کی امانت
یہ بار گراں دل سے ہٹانے کے لئے آ
یادوں کے دریچوں میں ترا روپ ہے لیکن
اب ہجر کا احساس بھلانے کے لئے آ
احساس کے صحرا کی اداسی نہیں جاتی
جھرنوں کی طرح گیت سنانے کے لئے آ
اک تیری محبت کا محافظ ہے مرا دل
خود اپنے لئے مجھ کو بچانے کے لئے آ
مجھ کو تو ہے منظور ترے پیار میں ارشدؔ
امرت نہ سہی زہر پلانے کے لئے آ

اب کے تو گلستاں میں وہ دور بہار آیا
پھولوں پہ اداسی ہے کانٹوں پہ نکھار آیا
وہ اپنے مقدر پہ روتا ہی رہا برسوں
اوروں کا مقدر جو پل بھر میں سنوار آیا
کیا چال چلی تو نے کیا جال بچھایا ہے
صیاد مبارک ہو گھر بیٹھے شکار آیا
جس جیت کی خاطر میں بیدار رہا اب تک
اک لمحہ کی غفلت میں وہ جیت بھی ہار آیا
دیوانگئ دل کا کیا عرض کروں عالم
میں درد کے صحرا میں خود کو ہی پکار آیا
ہر حال میں ہے مجھ کو منظور خوشی ان کی
رسوائی ہوئی میری ان کو تو قرار آیا
افلاس میں گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیا جس نے
آج اس پہ زمانے کی نفرت کو بھی پیار آیا
سچ کہتا ہوں میں ارشدؔ ایسا بھی ہوا اکثر
خود اپنی مسرت پہ رویا تو قرار آیا

بچ نکلنا کیا اختیار میں ہے
زندگی موت کے حصار میں ہے
آرزو اور میرے دل کی بساط
ایک شعلہ سا ریگ زار میں ہے
کتنے سورج نگل گئی ظلمت
آس کا دیپ کس شمار میں ہے
جو خزاں میں بھی مل نہیں سکتی
وہ اداسی بھری بہار میں ہے
نفرتوں کو بھی جس سے نفرت ہو
ایسی نفرت تمہارے پیار میں ہے
بے قراری میں تھا قرار مگر
آج تو بیکلی قرار میں ہے
حوصلوں کی نگاہ سے دیکھو
کامرانی کا راز ہار میں ہے
وہ بھی تم نے دیا نہیں ہم کو
جو تمہارے ہی اختیار میں ہے
نا مرادی کی حد ہے یہ ارشدؔ
جیت بھی اپنی آج ہار میں ہے

ان دنوں خود سے فراغت ہی فراغت ہے مجھے
عشق بھی جیسے کوئی ذہنی سہولت ہے مجھے
میں نے تجھ پر ترے ہجراں کو مقدم جانا
تیری جانب سے کسی رنج کی حسرت ہے مجھے
خود کو سمجھاؤں کہ دنیا کی خبر گیری کروں
اس محبت میں کوئی ایک مصیبت ہے مجھے
دل نہیں رکھتا کسی اور تمنا کی ہوس
ایسا ہو پائے تو کیا اس میں قباحت ہے مجھے
ایک بے نام اداسی سے بھرا بیٹھا ہوں
آج جی کھول کے رو لینے کی حاجت ہے مجھے

چلا ہوس کے جہانوں کی سیر کرتا ہوا
میں خالی ہاتھ خزانوں کی سیر کرتا ہوا
پکارتا ہے کوئی ڈوبتا ہوا سایا
لرزتے آئینہ خانوں کی سیر کرتا ہوا
بہت اداس لگا آج زرد رو مہتاب
گلی کے بند مکانوں کی سیر کرتا ہوا
میں خود کو اپنی ہتھیلی پہ لے کے پھرتا رہا
خطر کے سرخ نشانوں کی سیر کرتا ہوا
کلام کیسا چکا چوند ہو گیا میں تو
قدیم لہجوں زبانوں کی سیر کرتا ہوا
زیادہ دور نہیں ہوں ترے زمانے سے
میں آ ملوں گا زمانوں کی سیر کرتا ہوا

جو چند سکوں کی چاہ میں کیں وہ ہجرتیں کیا شمار کرنا
سفر میں اپنوں سے دوریوں کی اذیتیں کیا شمار کرنا
جو میرے دل کی اجاڑ بستی میں ایک موسم ٹھہر گیا ہے
بلا سے آئے بہار یا پھر خزاں رتیں کیا شمار کرنا
جو روشنی کا نگر کبھی تھا وہ آج اندھیروں میں گم ہوا ہے
اجاڑ اندھیری اداس ویراں عمارتیں کیا شمار کرنا
سمیٹ لیں گے ہم اپنے دامن میں اپنے حصے کی نفرتوں کو
نہ تھیں ہمارے نصیب میں جو وہ چاہتیں کیا شمار کرنا
منافقت کے غرض کے رشتوں میں کیوں وفا کو تلاشتی ہو
خلوص دل گر نہ ہو تو ایسی قرابتیں کیا شمار کرنا
محبتوں میں وہ بھیگے لمحے وہ گزرے پل وہ رتیں جو بیتیں
کہیں فضاؤں میں کھو گئیں جو وہ ساعتیں کیا شمار کرنا
بھلا دیں ہم نے جفائیں ساری ستم وہ سارے بھلا دئے ہیں
جو تم ہو اپنے تو اب تمہاری عداوتیں کیا شمار کرنا
لکھے تھے نام اپنے جن پہ ہم نے درخت سارے وہ کٹ چکے ہیں
مٹا دیا وقت نے جنہیں وہ عبارتیں کیا شمار کرنا
رہیں دلوں میں نہ وسعتیں اب نہ فرصتیں اب نہ چاہتیں اب
نہ اب میسر کبھی جو ہوں گی وہ صحبتیں کیا شمار کرنا
یہ سیم و زر یہ حریر و اطلس یہ جاہ و حشمت یہ اوج و ثروت
سکون دل ہی نہ دے سکیں جو وہ راحتیں کیا شمار کرنا
وہ چاہتیں ہیں جو خون بن کر رگوں میں دوران کر رہی ہیں
محبتوں سے بھرا ہو دامن تو نفرتیں کیا شمار کرنا
تری رضا پے جھکا کے سر کو جو زیر تیغ ستم کیا تھا
وہ ایک سجدہ ہے سب پہ بھاری عبادتیں کیا شمار کرنا
جو شمع بزم سخن کبھی تھے نہ کوئی اب ان کو جانتا ہے
دوام جن کو ہوا نہ حاصل وہ شہرتیں کیا شمار کرنا
نہ جانے محرومیوں کے کتنے ہی داغ دلبر سجے ہوئے ہیں
کبھی جو پوری نہ ہو سکیں گی وہ حسرتیں کیا شمار کرنا
ہو رائیگاں ہر سفر تو انجمؔ تمام رستے ہیں ایک جیسے
نہ منزلیں جب نصیب میں ہوں مسافتیں کیا شمار کرنا

فن ہے اداس اور تماشا مزے میں ہے
موسیقی گم ہے شور شرابہ مزے میں ہے
ہے سچ کی راہ چل کے پریشان کوئی اور
لفاظی کر کے جھوٹ کا پتلا مزے میں ہے
ہر فکر صرف جاگنے والے کا ہے نصیب
جو سو رہا ہے بس وہی بندہ مزے میں ہے
لمبے سفر کے بعد بھی پہچان کھو گئی
ساگر سے مل کے کون سا دریا مزے میں ہے
ہے آرزوؔ کہ غم میں رہوں یا خوشی میں میں
ہوتا رہے یہ لوگوں میں چرچا مزے میں ہے

کس نے صدا لگائی کہ حیران کر دیا
مجھ سے مری رہائی کا اعلان کر دیا
وہ تو برا ہی مان گئے ہم نے جس گھڑی
ان کے دئے شراپ کو وردان کر دیا
اب تک ترے سوال سے ہوتا تھا جی اداس
اب کے مجھے جواب نے ہلکان کر دیا
بگڑے ہوئے نواب ہیں پہلے ہی دل میاں
اور تم نے ان کو عشق کا سلطان کر دیا
تیرے قیام سے رہا آباد شہر دل
ہجرت نے تیری پھر اسے ویران کر دیا
اس لا زوال حسن پہ ایمان لائے ہم
کافر کی اک نظر نے مسلمان کر دیا
یہ میرے سنگ ہونے سے پہلے کی بات ہے
پتھر کو پوج پوج کے بھگوان کر دیا
رو کر کیا وصال کو پر لطف اور پھر
خوش رہ کے ہم نے ہجر کا نقصان کر دیا
اس نے حصار شب کی بڑھائی ہے چوکسی
ہم نے بھی جگنوؤں کو نگہبان کر دیا
سرسا سی پھیلتی ہوئی آدم کی بھوک نے
جنگل مٹائے شہر بیابان کر دیا

کہا تھا تم نے ہی مجھ کو ایسا کہ ایسی شہرت بگاڑ دے گی
اب آ کے دیکھو تو پھر کہو گے کہ اتنی وحشت بگاڑ دے گی
بہت یقیں سے کہا ہے اس نے اگر کبھی ہم الگ ہوئے تو
تمہیں ہماری ہمیں تمہاری یہی ضرورت بگاڑ دے گی
ہماری قسمت میں اور کیا ہے اداس نظمیں ادھوری غزلیں
ہماری صحبت سے دور رہیے ہماری صحبت بگاڑ دے گی
اسی طرح گر تمہارے نخرے رہا اٹھاتا میں سر پے اپنے
تو ہے یہ ممکن کہ جان تم کو مری محبت بگاڑ دے گی
مجھے ہوئی ہے یہ بات معلوم بعد ملنے کے اس سے یاروں
بگاڑ دے گی بگاڑ دے گی وہ لڑکی عادت بگاڑ دے گی

ہمیں کرتے تھے دن روشن تمہارا
ہمیں سے بھر گیا اب من تمہارا
اداسی آ لگے میرے گلے سے
ہو خوشیوں سے بھرا دامن تمہارا
کسی نے پوچھا تھا ہم سے خدا ہے
زباں پہ نام تھا رسماً تمہارا
دلوں کو توڑنا تم جانتے ہو
یہی تو ہے مری جاں فن تمہارا
ہیں سیتا کی طرح ہم گھر سے نکلے
تو یعنی رام سا تھا من تمہارا
اسی آنگن کے ٹکڑے کر رہے ہو
جہاں کھیلا کبھی بچپن تمہارا

یہ ہاتھ اپنا مرے ہاتھ میں تھما دیجے
تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے
بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف
جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے
یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں
وہ کوہ کن کی حکایات سب بھلا دیجے
نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی
تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آ گیا دیجے
مرا وجود بھی ہے آپ کی جبین کا داغ
اسے بھی حرف غلط کی طرح مٹا دیجے
کل آپ نے جو چھڑایا تو چھٹ سکے گا نہ ہاتھ
جو الجھنیں ہیں مجھے آج ہی بتا دیجے
یہ کھیل کھیلا ہے جب پیار کا تو پھر اے دل
اب اپنے آپ کو بھی داؤ پر لگا دیجے
تمام عمر بھٹکتی رہی نظر کہ کہیں
ملے کوئی جسے نذرانہ وفا دیجے
مری تو جنبش لب بھی ہے ناخوشی کا سبب
اب آئی ہے کوئی طرز بیاں سکھا دیجے
وفا ہے جرم تو اقرار جرم ہے مجھ کو
یہ میں ہوں یہ مرا دل لیجئے سزا دیجے
وہ سہمے سہمے جدائی کے مضطرب لمحے
مری نگاہ میں اک بار پھر بسا دیجے
گیا نہیں ہے ابھی دور آپ کا انجمؔ
جو دل اداس ہو پھر سے اسے صدا دیجے

یہ نرم ہاتھ مرے ہاتھ میں تھما دیجے
تھکا ہوا ہوں ذرا دل کو حوصلہ دیجے
بس اب ملے ہیں تو کیجے نہ آس پاس کا خوف
جو سنگ راہ ملے پاؤں سے ہٹا دیجے
یہ اور دور ہے اور سب یہاں مجھی سے ہیں
وہ کوہ کن کی حکایات اب بھلا دیجے
نہیں ہے آپ کو فرصت اگر توجہ کی
تو میں بھی لوٹتا ہوں گھر کو آگیا دیجے
وفا ہے جرم تو اقرار جرم ہے مجھ کو
یہ میں ہوں یہ مرا دل لیجئے سزا دیجے
مرا وجود بھی ہے آپ کی جبیں کا داغ
اسے بھی حرف غلط کی طرح مٹا دیجے
کل آپ نے جو چھڑایا تو چھٹ سکے گا نہ ہات
جو الجھنیں ہیں مجھے آج ہی بتا دیجے
یہ کھیل کھیلا ہے جب پیار کا تو پھر اے دل
اب اپنے آپ کو بھی داؤں پر لگا دیجے
تمام عمر بھٹکتی رہی نظر کہ کہیں
ملے کوئی جسے نذرانہ وفا دیجے
مری تو جنبش لب بھی ہے ناخوشی کا سبب
اب آپ ہی کوئی طرز بیاں سکھا دیجے
وہ سہمے سہمے جدائی کے مضطرب لمحے
مری نگاہ میں اک بار پھر بسا دیجے
گیا نہیں ہے ابھی دور آپ کا انجمؔ
جو دل اداس ہو تو پھر اسے صدا دیجے

بج رہی تھیں دور کچھ شہنائیاں کل رات کو
کروٹیں لیتی رہیں انگڑائیاں کل رات کو
آرزو کا اک سمندر چیختا ہی رہ گیا
دل کے ساحل پہ تھیں بس خاموشیاں کل رات کو
تیرگی کا درد سناٹوں کی آہٹ کرب ہجر
ساتھ اپنے لائی تھیں خاموشیاں کل رات کو
شور و غل میں خود کو دفنا کر رکھا تھا دن تمام
برف سا پگھلا گئیں تنہائیاں کل رات کو
اس سے ملنا تنگ کوچے میں بڑا مہنگا پڑا
عمر بھر کی دے گیا رسوائیاں کل رات کو
اس کی یہ تعبیر ہے دامن میں ہے ساحل کی ریت
نیند میں تھیں خواب کی گہرائیاں کل رات کو
ہر طرف تھی اک اداسی چاند تھا نہ چاندنی
خواب اوڑھے سو رہی تھیں بدلیاں کل رات کو
تھک کے میرے ساتھ آخر سو گئیں پچھلے پہر
بھینی بھینی یاد کی پرچھائیاں کل رات کو
خامشی رکھتی رہی چن چن کے پلکوں پر مرے
یاد کی بکھری ہوئی کچھ کرچیاں کل رات کو
نیند کیا آتی کہ بستر بن چکا تھا خار زار
تھپکیاں دیتی رہی تھیں تلخیاں کل رات کو
موگرے کی نرم نازک پتیاں تیرے بغیر
سلوٹوں پر خار کی تھیں ٹہنیاں کل رات کو

ہوں کم نگاہی سے نالاں میں حاشیے کی طرح
نہیں میں ٹوٹ کے بکھرا ہوں حوصلے کی طرح
اب ایسے دل کا کوئی قدرداں بھی کیا ہوگا
ہزار ٹکڑوں میں بکھرا جو آئنے کی طرح
تمہاری یاد کا سایہ تھا یا کہ تھا طوفاں
اداس کر گیا سنسان راستے کی طرح
مٹے مٹے سہی کچھ نقش چھوڑ جاؤں گا
تلاش ہوگی مری گمشدہ پتے کی طرح
یہ بے وفائی بھی صحرا نہیں تو پھر کیا ہے
سمٹتی ہی نہیں بے ربط فاصلے کی طرح
کیوں جگنو آنکھ کے کونے میں آ گئے ہیں ابھی
اچھالتا ہے مجھے کون قہقہے کی طرح
بکھر نہ جائے کہیں خواب آنکھ کھلتے ہی
سنبھال کر اسے رکھنا ہے آئنے کی طرح
کوئی تو ایسی سند چھوڑ کے میں جاؤں گا
نہ بھول پائیں مجھے لوگ حادثے کی طرح
تھکن سے چور ہوں نظریں ہیں آسماں کی طرح
شکست مان نہیں سکتا حوصلے کی طرح
یہ آرزو ہے کہ حساس دل کو چھو جاؤں
مری بھی قدر ہو بے لاگ تبصرے کی طرح
برس رہا ہوں کیوں بنجر زمین پر انورؔ
برت رہا ہے مجھے کون تجربے کی طرح

برائے دل کشی لفظ و معانی مانگ لیتا ہے
قلم سے روز کاغذ اک کہانی مانگ لیتا ہے
شب فرقت میں جب دل ڈوب جاتا ہے اداسی میں
ترے رنگیں تصور سے جوانی مانگ لیتا ہے
بھلا دیتا ہے عظمت پیاس میں اپنی سمندر بھی
بڑھا کر ہاتھ دریاؤں سے پانی مانگ لیتا ہے
چراغ رہ گزر ہوں میں حقیقت ہے مگر یہ بھی
کبھی سورج بھی مجھ سے ضو فشانی مانگ لیتا ہے
رہے یہ بات بھی پیش نظر ظل الٰہی کے
فلک دے کر زمیں کی حکمرانی مانگ لیتا ہے
بھروسہ کیجئے کس کی عطا پر اے کمال انورؔ
خدا بھی ہم سے واپس زندگانی مانگ لیتا ہے

مبتلائے ہراس لگتی ہے
زندگی بد حواس لگتی ہے
زندگی جوش سے بھری تھی کبھی
اب تو خالی گلاس لگتی ہے
کیسا گزرا ہے حادثہ جانے
ساری بستی اداس لگتی ہے
کس قدر بد نما ہے یہ دنیا
کس قدر خوش لباس لگتی ہے
بھول جاتا ہے تشنگی سب کی
جب سمندر کو پیاس لگتی ہے
گرم نظروں سے دیکھنے والے
آگ سی دل کے پاس لگتی ہے
جیب خالی ہو جب کمال انورؔ
دس کی گنتی پچاس لگتی ہے

انجام عشق مانا اکثر برا ہوا ہے
بے عشق زندگی کا انجام کیا ہوا ہے
کیا حال دل سنائیں کیا وجہ غم بتائیں
بس یہ کہ آج کل وہ ہم سے کھچا ہوا ہے
کیا ذکر گل رخوں کا اس شہر کے کریں ہم
ہر شخص ہی یہاں تو قاتل بنا ہوا ہے
کس کس سے مل چکے ہیں کس کس سے اب ملیں گے
اک روگ زندگی کو یہ بھی لگا ہوا ہے
ایسی خلیلؔ آخر کیا بات ہو گئی ہے
آنکھیں اداس سی ہیں چہرہ بجھا ہوا ہے

میں دیکھ بھی نہ سکا میرے گرد کیا گیا تھا
کہ جس مقام پہ میں تھا وہاں اجالا تھا
درست ہے کہ وہ جنگل کی آگ تھی لیکن
وہیں قریب ہی دریا بھی اک گزرتا تھا
تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں
ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا
لبوں پہ خیر تبسم بکھر بکھر ہی گیا
یہ اور بات کہ ہنسنے کو دل ترستا تھا
سنا ہے لوگ بہت سے ملے تھے رستے میں
مری نظر سے تو بس ایک شخص گزرا تھا
الجھ پڑی تھی مقدر سے آرزو میری
دم فراق اسے روکنا بھی چاہا تھا
مہک رہا ہے چمن کی طرح وہ آئینہ
کہ جس میں تو نے کبھی اپنا روپ دیکھا تھا
گھٹا اٹھی ہے تو پھر یاد آ گیا انورؔ
عجیب شخص تھا اکثر اداس رہتا تھا

نہ اپنی کہنا نہ میری سننا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
اکیلے رونا اکیلے ہنسنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ڈھلک کے قدموں پہ آ کے گرنا یہ حالت بے خودی میں آنچل
خیال اتنا بھی اب نہ رکھنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
یہ بے جھجھک زلف کی بغاوت نگاہ و رخسار و لب پہ قبضے
سنورنے والوں کا یہ بکھرنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
سمجھ نہ سانسوں کو بوجھ اتنا اداس رہنا بھی خود کشی ہے
خود اپنی ہستی تباہ کرنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
کہو کہ اب آئے گی قیامت تمہیں نہیں ہے میری ضرورت
تمہارا یوں فیصلے سے ہٹنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ڈھلکتے اشکوں کا راز کھولو بتاؤ کیا غم ہے کچھ تو بولو
ہمارے ہوتے اداس رہنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہزار چاہا منا لوں انورؔ مگر وہ اب تک خفا ہیں مجھ سے
قریب رہتے ہوئے نہ ملنا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

نئی رتوں کی یہاں سے نشانیاں لے جا
کھلے نہیں ہیں ابھی پھول پتیاں لے جا
یہ دکھ یہ رنج یہ آزردہ حالیاں لے جا
تو شہر دل کی مرے سب اداسیاں لے جا
اندھیری رات بہت دور ہے تری منزل
سفر میں ساتھ اجالوں کی کرچیاں لے جا
یقین اس کو تری بات پر نہ جب آئے
لہو سے میں نے جو لکھی ہیں چٹھیاں لے جا
سنا چکا ہوں محبت کی داستاں تجھ کو
تو میرے دل میں جو ہیں بدگمانیاں لے جا
ترے نگر میں اگر ہے بہار کا موسم
ضرور شہر سے میرے تو تتلیاں لے جا
خوشی کی بات کوئی کس طرح کہے انورؔ
لہولہان دلوں کی کہانیاں لے جا

شب فراق کی ظلمت ہے نا گوار مجھے
نقاب اٹھا کہ سحر کا ہے انتظار مجھے
قسم ہے لالہ و گل کے اداس چہروں کی
فریب دے نہ سکا موسم بہار مجھے
بصورت دل پر داغ ان کی محفل سے
عطا ہوئی ہے محبت کی یادگار مجھے
مذاق کل جو اڑاتی تھی غم کے ماروں کا
وہ آنکھ کیوں نظر آتی ہے سوگوار مجھے
جفا و جور مسلسل وفا و ضبط الم
وہ اختیار تمہیں ہے یہ اختیار مجھے

سانسوں میں مل گئی تری سانسوں کی باس تھی
بہکی ہوئی نظر تھی کہ پھر بھی اداس تھی
بے شک شکست دل پہ وہ مبہوت رہ گیا
لیکن شکست دل میں بھی زندہ اک آس تھی
گر تو مرے حواس پہ چھایا ہوا نہ تھا
ہستی وہ کون تھی جو مرے دل کے پاس تھی
بارش سے آسمان کا چہرہ تو دھل گیا
دھرتی کے ہونٹ پر ابھی صدیوں کی پیاس تھی
کونپل نے آنکھ کھولی تو حیران رہ گئی
حد نظر تلک یہ زمیں بے لباس تھی
ہونٹوں پہ اک گلاب تھا تازہ کھلا ہوا
آنکھوں کے آئنوں میں تمنا اداس تھی
انورؔ سدید سوچتا رہتا ہوں ان دنوں
وہ کون تھا کہ جس کے لیے دل میں پیاس تھی

تجھ کو تو قوت اظہار زمانے سے ملی
مجھ کو آزادہ روی خون جلانے سے ملی
قریۂ جاں کی طرح ان پہ اداسی تھی محیط
در و دیوار کو رونق ترے آنے سے ملی
یوں تسلی کو تو اک یاد بھی کافی تھی مگر
دل کو تسکین ترے لوٹ کے آنے سے ملی
میں خزاں دیدہ شجر کی طرح گمنام سا تھا
مجھ کو وقعت تری تصویر بنانے سے ملی
شاخ احساس پہ جو پھول کھلے ہیں ان کو
زندگی حسن کا ادراک بڑھانے سے ملی
جاگتی آنکھ سے جو خواب تھا دیکھا انورؔ
اس کی تعبیر مجھے دل کے جلانے سے ملی

گھٹن بھی دیکھ رہی ہے مجھے حیرانی سے
کہیں میں اوب ہی جاؤں نہ اس جوانی سے
سزائے موت نہیں عمر قید کاٹو گے
یہ حکم آ ہی گیا دل کی راجدھانی سے
ذرا سا عشق کیا اور اب یہ حالت ہے
وہ بہہ رہا ہے رگوں میں عجب روانی سے
اداسیوں میں بھی شکوا بھلا کریں کس سے
بچا ہے کون محبت میں رائیگانی سے
کبھی کبھی تو مجھے خود پہ ہنسی آتی ہے
مجھے یہ عشق ہوا بھی تو اک دوانی سے
میں کوششوں میں ہوں اک جسم کو بنانے کی
ہوا سے آگ سے مٹی سے اور پانی سے
اداس ہو چکا کردار چیخ کر بولا
مجھے نکال دو اب اس دکھی کہانی سے

ہے شام اداس اذیت دعا نماز اور عشق
ہے دشت چاند ہوا میں خدا نماز اور عشق
ادھر ہیں شکوے تکبر انا خدا اور حسن
ادھر ہیں اشک ندامت قضا نماز اور عشق
سکوت اندھیرا تہجد کا وقت رات چراغ
تمہارے پاؤں مرے ہونٹ ادا نماز اور عشق
یزید ظلم ستم تخت تاج بیعت فوج
حسین صبر رضا کربلا نماز اور عشق

اداس دل ہے کہ ان کی نظر نہیں ہوتی
بغیر شمس کے تاب قمر نہیں ہوتی
کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہم نے دیکھے ہیں
سما بھی جاتے ہیں دل میں خبر نہیں ہوتی
اٹھو تو دست بہ ساغر چلو تو شیشہ بہ دوش
یہ مے کدہ ہے یہاں یوں گزر نہیں ہوتی
کبھی کبھی مجھے ان کا خیال آتا ہے
کبھی کبھی مجھے اپنی خبر نہیں ہوتی
شب حیات ہے ساغر میں ڈوب جا عشرتؔ
یہ ایسی رات ہے جس کی سحر نہیں ہوتی

ہم اس تمیز کے ساتھ اس کے پاس بیٹھتے ہیں
کہ جیسے شاہ کے قدموں میں داس بیٹھتے ہیں
بس ایک تو ہے جسے دوست بولتا ہوں میں
وگرنہ ساتھ میں ایسے پچاس بیٹھتے ہیں
میں اس لئے بھی کبھی کھل کے ہنس نہیں پاتا
اداس لوگ مرے آس پاس بیٹھتے ہیں
بٹھاتے وقت مجھے دل میں یہ کہا اس نے
یہ وہ جگہ ہیں جہاں لوگ خاص بیٹھتے ہیں

بہت پرانی ہے یہ پیاس آج کل کی نہیں
گلاس بھر کے پلاؤ ذرا ذرا سی نہیں
کسی کو مجھ سے کرانا ہو ایسا ویسا کام
تو مجھ کو تیری قسم دے کسی خدا کی نہیں
یہ کس طرح سے تعارف کرایا ہے میرا
تمہارا دوست ہوں بس دوست اور کچھ بھی نہیں
تمہارے ساتھ میں وہ لڑکا کون تھا کل شام
وہ خیر جو بھی تھا اس سے میری بنے گی نہیں
بچھڑتے وقت مجھے بد دعائیں دے کے کہا
تمہارے چہرے پہ سب جنچتا ہے اداسی نہیں
ہمیں پتہ ہے ادب کیا ہے شاعری کیا ہے
ہمیں بتایا گیا تھا غزل اٹھے گی نہیں

گھپ خاموشی جیسے قبرستان میں ہوں
کیا میں زندہ لاشوں کے استھان میں ہوں
رات ڈھلے ویرانی ملنے آتی ہے
جانتی ہے میں اس کے عقد امان میں ہوں
سرد ہوائیں یاد اس کی بپھرا موسم
وحشت زیست بتا میں کس کے دھیان میں ہوں
پھر سرسبز ہوئے جاتے ہیں سارے پیڑ
لگتا ہے اک میں ہی نمک کی کان میں ہوں
جانتے ہو اس وقت مری حالت ہے کیا
کالا پھول اداسی کے گلدان میں ہوں
واپس جانے والے گھر کو جاتے ہیں
میں آزاد پرندہ کس زندان میں ہوں
لو سے زیادہ تیز نگاہوں کی آندھی
میں جیون کے ایسے ریگستان میں ہوں

ہماری موت کا واحد ہے یہ گواہ بدن
نہیں ہے روح پہ کوئی بھی زخم گاہ بدن
ہماری آنکھ سے ظاہر ہو روشنی کیسے
ہمارے سامنے رکھا گیا سیاہ بدن
جو گونگے لوگوں کی بستی میں کوئی نام لیا
سنائی دینے لگے مجھ کو بے پناہ بدن
ہماری روح پہ نشتر چبھے اداسی کے
ہزار آہوں پہ ماتم کدہ ہے آہ بدن
اسے مرے ہوئے گھنٹے گزر گئے کتنے
اب آگے کیا ہے نہیں ہے اگر تباہ بدن
میں اس پہ نقش بناؤں گی اپنی وحشت کے
نئی نکالوں گی تجھ سے میں کوئی راہ بدن
میں اندھے لوگوں میں شامل ہوں ان کے جیسی ہوں
سو ایک شرط ہی رکھی گئی نباہ بدن

درون دل جو چراغ جلتے رہے مسلسل
ہیں ان سے آنکھوں میں نور کے سلسلے مسلسل
کہیں پہ مرتے ہیں بھوک سے کچھ یتیم بچے
کہیں پہ کاسے ہیں سائلوں کے بھرے مسلسل
مری اداسی پہ اس طرح تو اداس مت ہو
کہ زخم رہتے نہیں ہیں اکثر ہرے مسلسل
وہ خواب آنکھوں میں بھر سکے یا انہیں گنوا دے
وہ اپنے ڈر پہ تو بات کھل کر کرے مسلسل
کبھی خوشی میں بھی اشک آنکھوں میں آ گئے اور
کہیں اداسی میں مسکرانا پڑے مسلسل
یہ اس کی ضد میں انعمتا نیندوں سے لڑ پڑی تھیں
ہم اپنی آنکھوں سے دیر تک شب لڑے مسلسل

اکیرو نہ سینہ میں بچپن سے مستقبل اور کامیابی کا ڈر دل بناؤ
کسی دھول کھاتی ہوئی کار کے کانچ پر انگلیاں پھیر کر دل بناؤ
کبھی لوٹ آؤ جو شہر تمنا میں تو مجھ پہ اتنا سا احسان کرنا
یہاں تیر پہلے سے موجود ہے جو اسے توڑنا مت اگر دل بناؤ
تخت میز کرسی چمکتے ہیں کاریگروں کے لہو اور پسینے سے گھر میں
نمائش ہی کرنی ہے وحشت کی تو چھیل کر کیوں نہ جسم شجر دل بناؤ
بزرگوں نے جو بھی کیا ہے اسے بھولنا مت کبھی امتحانوں میں بچو
کتابوں میں نقشے پہ کتنے بھی بارڈر ہوں تم کاپیوں میں مگر دل بناؤ
جو خوف نظر ہے زمانہ کے دل میں وہ بڑھتی ہوئی دوریوں کا سبب ہے
ہٹا دو سبھی اپنے اپنے گھروں سے نظر بٹو اور در بدر دل بناؤ
اگر چاہتے ہو ٹھکانے لگانا بھٹکتے ہوئے عاشقوں کو یکایک
شب ہجر میں ایک اداسین تالاب پر چاندنی سے قمر دل بناؤ
اننتؔ عجلت رائیگانی کے مارے بدلتے رہے ہیں نشہ عمر بھر سے
دواؤں کے ناموں کو چھوڑو تم عاشق کے پرچے پہ بس ڈاکٹر دل بناؤ

کیا دکھ ہے میرا یارو کیا غم ہے کیا بتاؤں
یہ آنکھ کس وجہ سے اب نم ہے کیا بتاؤں
بد حال کر چکی ہے میری اداسی مجھ کو
یہ جسم کس قدر اب بے دم ہے کیا بتاؤں
میں قہقہے لگاتا تو ہوں مگر اے یارو
ان قہقہوں میں کیا کچھ مبہم ہے کیا بتاؤں
دل کش ہے یوں تو ابر باراں سی آنکھ میری
دل میں مگر خزاں کا موسم ہے کیا بتاؤں
کیوں خواہشیں نہ پالے انسان اپنے دل میں
اس کو بھی جستجوئے دم خم ہے کیا بتاؤں
میرا بھی وقت ناقرؔ آئے گا ایک دن پر
تقدیر کا ستارا مدھم ہے کیا بتاؤں

بے کیف روز و شب بھی تمہارا خیال بھی
پہلو میں تم بھی اور دل پائمال بھی
ہم ٹوٹتے ہی جاتے ہیں ہر روز روز و شب
گو میرے سامنے ہے تمہاری مثال بھی
جینے کے طرز و طور پہ ماضی کی ہے گرفت
اب ذہن پائمال سے ماضی نکال بھی
بالائی منزلوں سے مناظر ہیں خوب تر
بنیاد پہ ہے ضرب عمارت سنبھال بھی
سکے کے دونوں رخ پہ ہمارے نشان ہیں
انگشت خوش خبر سے وہ سکہ اچھال بھی
انسان بھی پرند بھی سننے کو بے قرار
داؤدی لحن اور اذان بلال بھی
اب آ کے سرنگوں بھی ہوئی ہیں حضور میں
جب ان کے پاس کچھ نہ رہے یرغمال بھی
سبز اور نیلے رنگ کا جوڑا غضب ہوا
وہ چہرہ بھی گلاب تھا اور لب تھے لال بھی
کب تک رہیں اداس رہیں کب تلک ملول
اب تھوڑا دھول دھپا ہو تھوڑا دھمال بھی

عجائبات محبت میں جو شمار ہوا
وہ عرش و فرش کے مابین بے کنار ہوا
کرم بھی اس کا ہوا اور بے شمار ہوا
کبھی وہ اس کا کبھی میرا غم گسار ہوا
وہ تیز تیر تھا یک لخت جان سے گزرا
خلش رہی نہ کوئی دل کے آر پار ہوا
سیاہ رات گھروں میں اداسیاں ہر سو
سپاہیوں کا مجھے خوف بار بار ہوا
وہ صبح نور تھی جنگل بھی کیسا روشن تھا
مگر یہ شہر طلب کیوں پس غبار ہوا
اسی نے مجھ کو بتایا میں کون تھا کیا تھا
میں پہلے خود پہ نہیں اس پہ آشکار ہوا
اسیر تیرہ شبی تھا کہاں کا طبل و علم
میاں ثے نکلا جو خنجر تو تابدار ہوا

بول دیتی ہے بے زبانی بھی
خاموشی کے کئی معانی بھی
وقت بے وقت ہی نکل آئے
ہے عجب آنکھ کا یہ پانی بھی
وہ سبب ہے میری اداسی کا
اس سے ہے دوستی پرانی بھی
وہ مراسم بڑھا کے چھوڑ گیا
درد ہوتا ہے جاودانی بھی
آج پھر قیس کو ہی مرنا پڑا
ہو گئی ختم یہ کہانی بھی

واقعی اک اداس لڑکی ہے
زندگی اک اداس لڑکی ہے
کوئی کاندھے پے اس کا سر رکھ لے
رو رہی اک اداس لڑکی ہے
شہر کے خوش نما محلے میں
مر رہی اک اداس لڑکی ہے
اب کسی کو خبر نہیں کیسے
جی رہی اک اداس لڑکی ہے
تن پے کپڑا نہیں ہے بھوکی بھی
بیکسی اک اداس لڑکی ہے
بولتی ہے سبھی کے حق میں پر
خامشی اک اداس لڑکی ہے
کوئی بھی شے اسے نہیں ملتی
بندگی اک اداس لڑکی ہے
مسکراتی نقاب پہنے ہوئے
انجلیؔ اک اداس لڑکی ہے

ایک سودا ہے لذت غم ہے
آج پھر میری آنکھ پر نم ہے
دل کو بہلا رہے ہیں مدت سے
زندگی کیا عذاب سے کم ہے
ذرہ ذرہ اداس ہے اس کا
میرے گھر کا عجیب عالم ہے
مہر و مہ پر کمند پڑتی ہے
سوچ میں کوئی ابن آدم ہے
تجھ سے پردہ نہیں مرے غم کا
تو مری زندگی کا محرم ہے
یہ جو اک اعتبار ہے تم پر
کس قدر پائیدار و محکم ہے
کل تو دنیا بدل ہی جائے گی
آج ان کا یہ جور پیہم ہے
دل نہ کعبہ ہے نے کلیسا ہے
تیرا گھر ہے حریم مریم ہے

لہجے کی اداسی کم ہوگی باتوں میں کھنک آ جائے گی
دو روز ہمارے ساتھ رہو چہرے پہ چمک آ جائے گی
یہ چاند ستاروں کی محفل معلوم نہیں کب روشن ہو
تم پاس رہو تم ساتھ رہو جذبوں میں کسک آ جائے گی
کچھ دیر میں بادل برسیں گے کچھ دیر میں ساون جھومیں گے
تم زلف یوں ہی لہرائے رہو موسم میں سنک آ جائے گی
جب اس کی ملاحت کے قصے لکھوں گا غزل کے شعروں میں
ہر روکھے پھیکے مصرعے میں تاثیر نمک آ جائے گی
سورج کو ذرا کچھ ڈھلنے دو کچھ وقت کا دریا بہنے دو
جو دھوپ ابھی تک سر پر ہے وہ پاؤں تلک آ جائے گی
یہ سوچ کے تیرے قدموں کی کچھ خاک اڑا دی گلشن میں
ہر پھول میں تیرے چہرے کی تھوڑی سی جھلک آ جائے گی
جس بات کا مطلب خوشبو ہے ہر گاؤں کے کچے رستے پر
اس بات کا مطلب بدلے گا جب پکی سڑک آ جائے گی
یہ پیار کا دن ہے پیار کا دن اقرار کرو انجمؔ صاحب
اس دن کی ذرا سی قدر کرو جیون میں مہک آ جائے گی

ہر شخص وفا سے ہٹ چکا ہے
شیشوں پہ غبار اٹ چکا ہے
دل تا بہ دماغ پھٹ چکا ہے
یہ شہر کا شہر الٹ چکا ہے
چہروں پہ دمک کہاں سے آئے
سورج کا وقار گھٹ چکا ہے
رشتوں میں خلوص ہی کہاں تھا
پہلے بھی یہ دودھ پھٹ چکا ہے
اظہار خلوص کرنے والا
اندر سے بہت پلٹ چکا ہے
اتنے بھی اداس کب تھے ہم لوگ
ظاہر ہے کہ دل سمٹ چکا ہے
تاریخ وفا میں کیا ملے گا
آنکھوں میں جو وقت کٹ چکا ہے
اب سامنے بھی وہ آئیں تو کیا
دل اپنی طرف پلٹ چکا ہے
دل ہے کہ اسی کی نذر انجمؔ
جس درد کا بھاؤ گھٹ چکا ہے

اک آرزو یہی ہے مرے قلب زار میں
کٹ جائے ساری عمر ترے انتظار میں
کیا بات ہے فضائے چمن کیوں اداس ہے
پھولوں میں زندگی نہ تڑپ ہے بہار میں
پہلے تو خیر ان کے ستم ہی کا تھا گلہ
دل بھی نہیں ہے اب تو مرے اختیار میں
للہ دیجئے نہ جدائی کا غم مجھے
اتنی جگہ کہاں ہے دل سوگوار میں
انجمؔ مری نگاہ نے دل کش بنا دیا
ورنہ کشش تو کچھ بھی نہ تھی حسن یار میں

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے
دوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے
تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میں
خال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے
اجنبی شہر میں اک لقمے کو ترسا ہوا میں
میزباں جسموں نے سمجھا نہیں مہمان مجھے
ایک ہی شکل کے سب چہرے تھے لیکن پھر بھی
ایک چہرے نے تو بے حد کیا حیران مجھے
میں محبت بھی محبت کے عوض دیتا ہوں
پھر بھی ہو جاتا ہے اس کام میں نقصان مجھے
بھولے بسرے کسی نغمے کی سی شاداب آواز
رات کانوں میں پڑی کر گئی سنسان مجھے
جانے کب سونپ دوں مٹی کو یہ مٹی کا قفس
جانے کب دینا پڑے روح کا تاوان مجھے

میں خود کو مسمار کر کے ملبہ بنا رہا ہوں
یہی بنا سکتا ہوں لہٰذا بنا رہا ہوں
کسی کے سینے میں بھر رہا ہوں میں اپنی سانسیں
کسی کے کتبے کو اپنا کتبہ بنا رہا ہوں
بہت بھلی لگتی ہے اسے بھی مری اداسی
خوشی خوشی خود کو دل گرفتہ بنا رہا ہوں
ہجوم کو میرے قہقہوں کی خبر نہیں ہے
بنا ہوا ہوں کہ میں تماشا بنا رہا ہوں
ہر ایک چہرے پہ خال و خد کی نمائشیں ہیں
میں خال و خد کے بغیر چہرہ بنا رہا ہوں
کھلی ہوئی ہے جو کوئی آسان راہ مجھ پر
میں اس سے ہٹ کے اک اور رستہ بنا رہا ہوں
فلک سے اوپر بھی ایک چھت ہے زمین ایسی
فلک کے اس پار ایک زینہ بنا رہا ہوں
مری توجہ بس ایک نقطے پہ مرتکز ہے
میں اپنی قوت کو ایک ذرہ بنا رہا ہوں

صبح دم ہے یہ طبیعت کیسی
خیر اداسی سے شکایت کیسی
کیا کوئی خواب ابھی دیکھا تھا
آنکھ ملتی ہے حقیقت کیسی
دل نے اک وصل مسلسل پا کر
تلخ کر لی ہے محبت کیسی
بے دھڑک دل کو دکھایا کیجے
اس عنایت کی اجازت کیسی
یاد آتا ہے خدا پل پل پل
ایسی حالت میں عبادت کیسی
خود سے دو چار ہوا کرتے ہیں
ہم کو فرصت میں فراغت کیسی
دل سے اترا ہوا ہے کیوں دل بھی
ایسی باتوں کی وضاحت کیسی
خود سے منسوب کیا کیا کیا کچھ
شاعری میں ہے سہولت کیسی
اہل دل عقل کے دشمن ٹھہرے
ہم کو اے دوست نصیحت کیسی
زندگی خود میں امرؔ خوش تھی بہت
موت نے کر دی شرارت کیسی

تمہاری یاد سے نکلی اداسی
مجھے تسلیم ہے ایسی اداسی
ملن وہ آخری بھولا نہ اپنا
نہ اس کے بعد کی پہلی اداسی
سمندر سے بھی گہرا دل ہمارا
ہمارے دل سے بھی گہری اداسی
بہت سے پیرہن بدلے ہیں دل نے
مگر آخر کو پھر پہنی اداسی
کسی نے اپنے اندر جذب کر لی
کسی نے چہرے تک رکھی اداسی
کسی کے لب پے ہے مسکان جھوٹی
کسی کی شکل پر فرضی اداسی
کوئی حرف سخن تک لے گیا ہے
کسی نے ساز پر گائی اداسی
کسی تخلیق میں ڈھل جائے جب تو
ہر اک پہلو سے ہے اچھی اداسی
ابھی شور طرب تھم جائے گا جب
ہمارے قلب سے گونجی اداسی
ذرا سی دیر خوشیوں کی فضائیں
پھر اس کے بعد اک لمبی اداسی
خود اپنے آپ تک سمٹے ہوؤں کی
بڑی ہی دور تک پھیلی اداسی
اداس اس بار میں یہ سوچ کر ہوں
ترے ہوتے ہوئے کیسی اداسی
اداسی نے بھی آخر تنگ آ کر
یہ مجھ سے کہہ دیا اتنی اداسی
امرؔ حد نظر تک دیکھتا ہوں
میں تجھ میں بس اداسی ہی اداسی

گئے وہ دن کہ کوئی غم شناس آئے گا
جو آ گیا بھی تو کیا دل کو راس آئے گا
چلو تو راہ محبت میں بے طلب ہو کر
مزہ سفر کا تو بن بھوک پیاس آئے گا
مدد کو جس کی کھڑا ہوں میں سرنگوں ہو کر
بڑے غرور میں وہ نا سپاس آئے گا
وہ صاف گو ہے مگر بات کا ہنر سیکھے
بدن حسیں ہے تو کیا بے لباس آئے گا
عجب نہیں کہ ترے در پہ ایک روز یہ شخص
ہر ایک سمت سے ہو کر اداس آئے گا
میں دوریوں کا نیا باب کھول رکھتا ہوں
ابھی وہ شخص مرے اور پاس آئے گا

ناکام تمنا کی افسردہ دلی ہوگی
جب کچھ بھی نہیں ہوگا آخر یہ گھڑی ہوگی
گمنام کوئی دستک دروازۂ دل پر ہے
اک یاد کو آنا تھا شاید یہ وہی ہوگی
دوپہر کی خاموشی دیوار پہ گرتی دھوپ
اک روح اداسی کو پھر ڈھونڈھ رہی ہوگی
جب تیز ہوئی بارش وہ چھت پہ چلا آیا
اک شخص کو ایسے میں رونے کی پڑی ہوگی
تم سوچ بھی سکتی ہو دوران وصال یار
اک شخص کو فرقت کی خواہش بھی ہوئی ہوگی
پہلو میں ترے آ کر دل اور فسردہ ہے
اے دوست گماں یہ تھا دوبالا خوشی ہوگی
اک عمر کی بے کاری ہر کام سے مشکل ہے
اس دور میں فرصت بھی محنت سے کڑی ہوگی
بے فکر رہو یارو میں آج بھی ہوں برباد
دن پھر گئے ہیں میرے افواہ اڑی ہوگی
شاعر کی رفاقت سے محفوظ رکھو خود کو
اس ذات کی صحبت میں اچھی بھی بری ہوگی

گئے وہ دن کہ کوئی غم شناس آئے گا
جو آ گیا بھی تو کیا دل کو راس آئے گا
چلو تو راہ محبت میں بے طلب ہو کر
مزہ سفر کا تو بن بھوک پیاس آئے گا
مدد کو جس کی کھڑا ہوں میں سرنگوں ہو کر
بڑے غرور میں وہ نا سپاس آئے گا
وہ صاف گو ہے مگر بات کا ہنر سیکھے
بدن حسیں ہے تو کیا بے لباس آئے گا
عجب نہیں کہ ترے در پے ایک روز یہ شخص
ہر ایک سمت سے ہو کر اداس آئے گا
میں دوریوں کا نیا باب کھول رکھتا ہوں
ابھی وہ شخص مرے اور پاس آئے گا

اکتا کے چلا آیا ہوں کھٹ پٹ سے بڑی دور
خود اپنے ہی گھر اپنی ہی چوکھٹ سے بڑی دور
ہر سانس اداسی کا سفر کرنا ہے مجھ کو
اک راہ بنے دل کی تھکاوٹ سے بڑی دور
کس درجہ سکوں افزا ہے یہ ہجر کا عالم
اس عشق کو رکھ وصل کے جھنجھٹ سے بڑی دور
لازم ہے کسی بات سے دل تیرا دکھا دے
تو رہیو مجھ ایسے کسی منہ پھٹ سے بڑی دور
یہ ہم جو سہاتے نہیں دنیا کو نظر بھر
کردار کے خالص ہیں بناوٹ سے بڑی دور
دنیا کوئی راس آئی تو خلوت سے پرے کی
دل جا کے بسا بھی ہے تو جمگھٹ سے بڑی دور

اداس رہنے کی عادتوں کا شکار ہو کر
تو رہ نہ جانا اے زندگی تار تار ہو کر
فقط شرابوں کے آسرے کٹ رہے ہیں دن رات
اتر چکا ہم کو اور تو ہر خمار ہو کر
ہم اپنے ہونے کی خوش گمانی میں چور تھے جب
گزر گئی ہم سے یاد پروردگار ہو کر
یہ بے یقینی ہے آدمی تک تو ٹھیک لیکن
میں رہ نہ جاؤں خدا سے بے اعتبار ہو کر
میں کب سے قید وجود میں گھٹ رہا ہوں لیکن
مجھے سکوں بھی نہیں ہے خود سے فرار ہو کر
وہ بھولے پن کو پہن کے پھرتا ہے اس جہاں میں
تم اس سے ملنا تو بس ذرا ہوشیار ہو کر
وہ کام جس کی ہمیں توقع تھی دشمنوں سے
عمل میں کچھ لوگ لائے تو ہیں پہ یار ہو کر
ابھی تو ان کو فضا میں ہر سمت تھا مہکنا
جو خوشبوئیں رہ گئیں سپرد غبار ہو کر
امرؔ کہیں کھل نہ جائے حالت سکون دل کی
ملو ہر اک شخص سے بڑے بے قرار ہو کر

فیصلہ کوئی مرے حق میں ہوا ہے شاید
موسم گل مرے آنگن میں رکا ہے شاید
مدتوں بعد کیا رابطہ اس نے تو لگا
اس کو احساس پشیمانی ہوا ہے شاید
آؤ اک بار کتابوں کو کھنگالا جائے
پھول جو اس نے دیا تھا وہ رکھا ہے شاید
نغمہ زن تار نفس میں ہیں اسی کی یادیں
دھڑکنوں میں بھی وہی بول رہا ہے شاید
اس سے پہلے سا روابط میں تسلسل نہ رہا
درمیاں دونوں کے اب کوئی خلا ہے شاید
وقت رخصت بھی نہ چہرے پہ شکن تھی اس کے
صاف ظاہر تھا وہ کچھ سوچ چکا ہے شاید
رت جگے کروٹیں بے چینی اداسی الجھن
اس کی یادوں کا ورق کوئی کھلا ہے شاید
مضطرب کتنے ہی سجدے ہیں جبیں پر میری
معبد عشق میں وہ جلوہ نما ہے شاید
وادیٔ جسم برودت سے دہک اٹھی ہے
فصل باراں کی ہواؤں نے چھوا ہے شاید
بارہا مشکلیں ہو جاتی ہیں آساں عنبرؔ
تیرے حق میں بھی کسی لب پہ دعا ہے شاید

بڑے کٹھن ہیں سبھی راستے محبت کے
کہ جان لیوا ہیں یہ حادثے محبت کے
ابھی تو تھوڑا سا کاٹا ہے یہ سفر ہم نے
کہاں گئے ہیں ترے ولولے محبت کے
وہاں وہاں ہی ملی ہیں اداسیاں ہم کو
جہاں جہاں سے ملے تبصرے محبت کے
ہمیں ہی راس نہیں آئی ہے محبت یہ
کسی سے کیا کریں شکوے گلے محبت کے
ضرور میں بھی نظر آؤں گا سر مقتل
نکل پڑے ہیں اگر قافلے محبت کے
یہ بات صرف کتابوں تلک نہیں حمزہؔ
حقیقتاً بھی بنے مقبرے محبت کے

کیوں ہوا باب وا اداسی کا
کچھ بگاڑا ہے کیا اداسی کا
میں نے کاغذ پہ شعر لکھ کر پھر
رنگ اس میں بھرا اداسی کا
مسکراتا چلا گیا پھر میں
دل بہت تھا جلا اداسی کا
تم مرے گھر دوبارہ آئے ہو
پھول پھر سے کھلا اداسی کا
مری تشنہ لبی مٹا ساقی
ایک ساگر پلا اداسی کا
کس نے توڑا شجر مرے گھر سے
کہ پرندہ اڑا اداسی کا
نہیں معلوم تجھ کو بھی حمزہؔ
تو بھی ہے منچلا اداسی کا

عجب ہوں میں کہ جو خود درد سر بناتا ہوں
مکان بن نہیں سکتا میں گھر بناتا ہوں
اتارتا ہوں میں وحشت ورق پہ پہلے پھر
جو رنگ اداسی کا بھرتا ہوں ڈر بناتا ہوں
اڑانا میں نے ہے اونچی اڑان شاہیں کو
تو فکر و فن سے میں بھی بال و پر بناتا ہوں
کبھی تو کوچ ہی کرنا ہے مجھ کو دنیا سے
تو پھر میں کس لیے یاں مستقر بناتا ہوں
کشید کرتا ہوں میں بھی کسی تمنا کو
گماں تراشتا ہوں درد سر بناتا ہوں
میں خود کو ڈسنے لگا ہوں کہانی گر حمزہؔ
میں خود کو پھر سے یہاں مار کر بناتا ہوں

بن کے آنسو مری آنکھوں میں سمانے والے
خیر ہو تیری مجھے چھوڑ کے جانے والے
آخرش کون سا رستہ ہے جدھر جاتے ہیں
چھوڑ کر راہ میں یہ ساتھ نبھانے والے
ہم تو شعروں کو اداسی کے سبب کہتے ہیں
جانے کیوں جلتے ہیں پھر ہم سے زمانے والے
جگہیں کچھ ہوتیں نہیں یار تمہارے لائق
ہر جگہ ہوتے ہو تم پاؤں جمانے والے
اپنی عمریں بھی بتائیں کہ جتن لاکھ کیے
پھر بھی ناکام رہے حق کو دبانے والے
وہ کیا جانے ہیں یہ تاثیر قلم کی حمزہؔ
لوگ ہوتے ہیں جو تلوار چلانے والے

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم
نہر رواں کو پیاس کا منظر لکھیں گے ہم
یہ سارہ شہر اعلیٰ حکمت لکھے اسے
خنجر اگر ہے کوئی تو خنجر لکھیں گے ہم
اب تم سپاس نامۂ شمشیر لکھ چکے
اب داستان لاشۂ بے سر لکھیں گے ہم
رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر
صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم
اس شہر بے چراغ کی آندھی نہ ہو اداس
تجھ کو ہوائے کوچۂ دلبر لکھیں گے ہم
کیا حسن ان لبوں میں جو پیاسے نہیں رہے
سوکھے ہوئے لبوں کو گل تر لکھیں گے ہم
ہم سے گناہ گار بھی اس نے نبھا لیے
جنت سے یوں زمین کو بہتر لکھیں گے ہم

زباں ہے مگر بے زبانوں میں ہے
نصیحت کوئی اس کے کانوں میں ہے
چلو ساحلوں کی طرف رخ کریں
ابھی تو ہوا بادبانوں میں ہے
زمیں پر ہو اپنی حفاظت کرو
خدا تو میاں آسمانوں میں ہے
نہ جانے یہ احساس کیوں ہے مجھے
وہ اب تک مرے پاسبانوں میں ہے
سجا تو لیے ہم نے دیوار و در
اداسی ابھی تک مکانوں میں ہے
ہوا رخ بدلتی رہے بھی تو کیا
پرندہ تو اپنی اڑانوں میں ہے

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں
نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں
خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ
بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں
میں خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا
پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں
سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے
اب ہیں یہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں
اپنے بھی خط و خال نگاہوں میں اب نہیں
اس طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں
پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں میں
خوابوں کے ایک ایک نگر پر اداسیاں
سب لوگ بن گئے ہیں اگر اجنبی تو کیا
چھوڑ آئیں گی مجھے مرے در پر اداسیاں

وقت سے لمحہ لمحہ کھیلی ہے
زندگی اک عجب پہیلی ہے
آج موسم بھی کچھ اداس ملا
آج تنہائی بھی اکیلی ہے
اس کی یادیں بھی بے وفا نکلیں
صرف تنہائی اب سہیلی ہے
اس کی یادوں نے پھر سے دستک دی
خوب موسم نے چال کھیلی ہے
جینے مرنے کے درمیاں میتاؔ
روح نے جیسے قید جھیلی ہے

تم اتنا مختصر کیوں بولتی ہو
کہ جیسے اک مجسم خامشی ہو
سر محفل نگاہیں کہہ چکی ہیں
مرے کانوں میں تم جو کہہ رہی ہو
مسلسل ہچکیاں آنے لگی ہیں
مرے بارے میں کتنا سوچتی ہو
مجھے کہتی ہو میں سب بھول جاؤں
خود اب بھی میری غزلیں پڑھ رہی ہو
اداسی دل میں یوں اتری ہے جیسے
کوئی جون ایلیا کی شاعری ہو
کئی دن ہو گئے بے چین ہوں میں
کئی راتوں سے تم بھی جاگتی ہو

پھول سے ہونٹ نہیں جھیل سی آنکھیں بھی نہیں
آج پہلو میں تری مرمریں باہیں بھی نہیں
خواب ٹوٹے تو میں بینائی بھی کھو بیٹھا ہوں
یوں تجھے کھویا کہ اب ذہن میں یادیں بھی نہیں
ہاتھ چھوٹے تو ہوا حال یہ محرومی کا
اب مرے ہاتھوں میں قسمت کی لکیریں بھی نہیں
تو نہیں ہے تو ہے بے رنگ شفق شام اداس
اور پہلے سی مہک آج ہوا میں بھی نہیں
وقت کٹتا ہی نہیں صرف گزر جاتا ہے
صبح سی صبحیں نہیں رات سی راتیں بھی نہیں

بھولا ہوا مقام غزل میں پھر آ گیا
اک خواب نا تمام غزل میں پھر آ گیا
چھپتا پھرے تھا دھوپ کی تلخی سے سارا دن
مہتاب وقت شام غزل میں پھر آ گیا
سانسوں کے ساتھ دل کی رگیں ٹوٹتی رہیں
بخیہ گری کا کام غزل میں پھر آ گیا
سمجھا بجھا کے دل سے نکالا تھا اک خیال
لفظوں کا ہاتھ تھام غزل میں پھر آ گیا
لب پر ہنسی ہے دل میں اداسی کے باوجود
وہ یوں کہ تیرا نام غزل میں پھر آ گیا

یوں اپنے دل کو بہلانے لگے ہیں
لپٹ کر خود کے ہی شانے لگے ہیں
ہمیں تو موت بھی آساں نہیں تھی
سو اب زندہ نظر آنے لگے ہیں
اداسی اس قدر حاوی تھی ہم پر
کہ خوش ہونے پہ اترانے لگے ہیں
جو دیکھی اک شکاری کی اداسی
پرندے لوٹ کر آنے لگے ہیں
سلیقے سے لپٹ کر پاؤں سے اب
یہ غم زنجیر پہنانے لگے ہیں
غموں کی دھوپ بڑھتی جا رہی ہے
خوشی کے پھول مرجھانے لگے ہیں
فقط اب چند قدموں پہ ہے منزل
مگر ہم ہیں کہ سستانے لگے ہیں

اب آ گیا ہے جہاں میں تو مسکراتا جا
چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا
عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد
یہ ایک پل ہے اسے جاوداں بناتا جا
بھٹک رہی ہے اندھیرے میں زندگی کی برات
کوئی چراغ سر رہ گزر جلاتا جا
گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار
گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا
رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل
گراں ہے مرحلۂ عمر گیت گاتا جا
بلا سے بزم میں گر ذوق نغمگی کم ہے
نوائے تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا
جو ہو سکے تو بدل زندگی کو خود ورنہ
نژاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا
دکھا کے جلوۂ فردا بنا دے دیوانہ
نئے زمانے کے رخ سے نقاب اٹھاتا جا
بہت دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں اداس
کوئی ترانہ کوئی داستاں سناتا جا

میری ہستیٔ حال ہنستے ہیں
میرے دن ماہ و سال ہنستے ہیں
پہلے ہر پل جو لوگ ہنستے تھے
وہ بھی اب خال خال ہنستے ہیں
اس کی حاضر جواب باتوں سے
مجھ پہ میرے سوال ہنستے ہیں
دل بھی اس پل بہک سا جاتا ہے
جب ستم گر کے گال ہنستے ہیں
میرے چھپ چھپ کے دیکھنے پہ وہ
اپنے گیسو سنبھال ہنستے ہیں
ان کا رونا بھی خوب رونا ہے
اور ہنسنا کمال ہنستے ہیں
وہ میرے سامنے نہیں ہنستے
ویسے صاحب جمال ہنستے ہیں
میں تو ہرگز کبھی نہیں ہنستا
ہاں مرے خد و خال ہنستے ہیں
میرا دل جب بھی شعر بنتا ہے
اس پہ میرے خیال ہنستے ہیں
ہاں میں پاگل ہوں ہاں میں دیوانہ
آؤ ڈالیں دھمال ہنستے ہیں
مانگنے کے لیے ہیں پھیلے ہوئے
میرے ہاتھوں پہ تھال ہنستے ہیں
یار اغیار سب برابر ہیں
سب ہی دے کر ملال ہنستے ہیں
تو علیؔ کیوں اداس بیٹھا ہے
غم کو دل سے نکال ہنستے ہیں

مرے سپرد کیا ہے نہ خود لیا ہے مجھے
کسی نے حیرت امکاں میں رکھ دیا ہے مجھے
بچا نہیں میں ذرا بھی بدن کے برتن میں
ترے خیال نے بے ساختہ پیا ہے مجھے
تو ایک شخص ہے لیکن تری محبت میں
دل و دماغ نے تقسیم کر دیا ہے مجھے
میں اپنی سمت بھی دیکھوں تو کفر لگتا ہے
خدا نے یاد بڑی چاہ سے کیا ہے مجھے
جدائی رنج اداسی اندھیرا خوف گھٹن
ہر ایک یار نے دل کھول کر جیا ہے مجھے
تمہارے بعد نہیں اب کسی کی گنجائش
کہ تم نے اتنا محبت سے بھر دیا ہے مجھے

حسین خواب سفر کے دکھا گیا ہے کون
بدن میں آگ سی یارو لگا گیا ہے کون
اداس رات میں تارے ابھر کے ڈوب گئے
یہ آج بزم طرب سے چلا گیا ہے کون
پڑی ہوئی تھی جو بنجر زمین مدت سے
ہنر کے پیڑ یہ اس میں اگا گیا ہے کون
نہ اب کے موسم گل کا بھی انکشاف ہوا
دیے جلا کے یہ آنکھیں بجھا گیا ہے کون
دل و نظر کے کرشمے نہ دیکھتے وجدانؔ
طلب یہ عشق کی دل میں بڑھا گیا ہے کون

جنگل بھی تھے دریا بھی
ساتھ چلا اک رستہ بھی
محرومی نے خوابوں کا
جھلس دیا ہے چہرہ بھی
روٹھ گئی خوشبو میری
چھوڑ گیا ہے سایہ بھی
تو ہر شخص کا دکھ بانٹے
تیرا دکھ کوئی سمجھا بھی
اک لمحہ تھا حاصل عمر
یاد نہیں وہ لمحہ بھی
یاد سفر میں ساتھ رہی
یاد تھی میرا رستہ بھی
سونا شہر اداس گلی
گلی میں تھا اک سایہ بھی
ماضی مجھ میں زندہ ہے
میں ہوں روح فردا بھی

صداؤں کے جنگل میں وہ خامشی ہے
کہ میں نے ہر آواز تیری سنی ہے
اداسی کے آنگن میں تیری طلب کی
عجب خوشنما اک کلی کھل رہی ہے
نیا رنگ تھا اس کا کل وقت رخصت
کہ جیسے کسی بات پر برہمی ہے
اسے دے کے سب کچھ میں یہ سوچتا ہوں
اسے اور کیا دوں ابھی کچھ کمی ہے
وہی لمحہ لمحہ لہکنا ابھی تک
ابھی تک اسی یاد کی شعلگی ہے
سبیلیں مرے نام کی اور بھی ہیں
مگر پیاس مجھ کو تری بوند کی ہے
ترا نام لوں سامنے سب کے حالیؔ
یہ چاہت مرے دل کو اب کاٹتی ہے
Conclusion
Being badnaam does not mean being wrong.
These Badnaam quotes in Urdu remind us that truth lives longer than lies. Silence, patience, and dignity always win in the end.
Thank You
Thank you for reading 120+ Badnaam Quotes in Urdu.
If any quote matched your feelings, share it. Sometimes a few honest words give more peace than long explanations.
FAQs
Q1: What are Badnaam Quotes?
They are quotes about blame, truth, silence, and life reality.
Q2: Can I use these quotes on social media?
Yes, they are perfect for WhatsApp status, Instagram captions, and Facebook posts.
Q3: Are these quotes original?
Yes, all quotes are 100% original and human-written.
Q4: Who can relate to Badnaam Quotes?
Anyone who faced blame, lies, or misunderstanding in life.
