💔 70+ Badnaam Sad Shayari in Urdu
Introduction
Sometimes people hurt us with words. Sometimes they blame us without knowing the truth. This pain turns into silence, and silence turns into poetry.
Badnaam Sad Shayari in Urdu speaks for broken hearts, misunderstood souls, and people who stayed quiet while the world talked.
This collection of 70+ Badnaam Sad Shayari is for those who feel pain but still keep dignity.
Description
Badnaam Sad Shayari is poetry about blame, sadness, silence, and truth.
People often search for:
- Badnaam sad shayari in Urdu
- Sad badnaam poetry
- 2 line badnaam shayari
- emotional Urdu shayari
- reality shayari in urdu
- kisi ko badnaam karna quotes
These shayari lines are short, very deep, and understand easily. They are perfect for WhatsApp status, Instagram
captions, and Facebook posts when emotions are heavy.

دیوانہ کہہ کر شہر میں رسوا کیے گئے
ہم میں فقط یہ عیب تھا ہم بےوفا نہ تھے

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺍﺏ مجھ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﻂ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ

نام ہو گا تو بدنام تو ہوں گے
اس لیے اگر نام بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو
بدنامی سے قطعاً نہ ڈریں

کسی مضبوط پہاڑ کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا
جتنا بے قصور پر تہمت لگانے کا ہوتا ہے

لوگ چلے تھے ہمیں بدنام کرنے
الٹا انھوں نے ہی ہمیں مشہور کر دیا

دیوانہ کہہ کر شہر میں رسوا کیے گئے
ہم میں فقط یہ عیب تھا ہم بےوفا نہ تھے

اپنے وسائل کی حد تک ہر کوئی
مجھے بدنام کرنے میں لگا ہے

میں ایک برا انسان ہوں لوگوں کے سامنے
کیونکہ اللہ تو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے

چھوڑنا ہے تو نہ الزام لگا کر چھوڑو
کہیں مل جاؤ تو پھر لطف ملاقات رہے

یوں سرعام مجھے ملنے بلایا نہ کرو
لوگ کر دیتے ہیں بدنام زمانے بھر کے

جس طرح آگ لفظ بول دینے سے منہ نہیں جلتا بالکل اسی طرح اچھے کو
برا کہہ دینے سے وہ برا نہیں ہوجاتا لہذا گمان اچھا رکھیں ایمان مضبوط ہوجائے گا

عزت بنانے میں صدیاں گزر جاتی ہیں
اور لوگ بدنام کرنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں کرتے

خود سے ملنے کی بھی فرصت نہیں مجھے
اور وہ اوروں سے ملنے کا الزام لگا رہے ہیں

تو بدنام کر کے تو دیکھ مجھے محفل میں قسم سے
مشہور میں شھر میں تجھے بھی نا کر دوں تو کہنا

ہم نے تو پھونک پھونک کر رکھا تھا ہر قدم
موسم ہی اپنے شہر میں رسوائیوں کا تھا

ہماری افواہ کا دھواں وہیں سے اٹھتا ہے
جہاں ہمارے نام سے آگ لگ جاتی ہے

اتنے برے تو نہ تھے ہم جتنے الزام لگائے لوگوں نے
بس کچھ مقدر برے تھے کچھ آگ لگائی اپنوں نے

ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہوگئے

کوئی تو ہو جو مجھے سرعام برا کہے
میں بھی دیکھوں حمایت کون کون کرتا ہے

کہاں سے لاوں اپنے جیسا بد کردار
یہاں تو سب فرشتے بنے بیٹھے ہیں

ملو تم روز ہم سے لوگ چاہے جو بھی مطلب لیں
یہاں محفوظ تہمت سے نا یوسف ہے نہ مریم ہے

میں نے پھر ویسا ہی بنا لیا خود کو
جیسا ہونے کا الزام لگایا تھا اس نے

جس دل میں بسا تھا نام تیرا
وہ دل ہی میں نے توڑ دیا
نہ ہونے دیا بدنام تجھے
تیرا نام ہی لینا چھوڑ دیا

ہماری بدنامی نے بڑا نفع بخشا ہے ہمیں
جہاں ہم گمنام تھے وہاں بھی نام کر گئے

آپ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہو
کسی نا کسی کی کہانی میں آپ برے ہی ہوتے ہیں

وہ مجھ سے میرا تعارف کرانے آیا تھا
ابھی گزر جو گیا اک عظیم لمحہ تھا
سنا ہے میں نے یہاں سرخ گھاس آ گئی تھی
وہ بادشاہ یہیں اپنی جنگ ہارا تھا
ہماری رات سے بہتر تھی اگلے وقت کی رات
ہر ایک گھر میں دیا صبح تک تو جلتا تھا
عزیز مجھ کو بھی تھے نقش اپنے ماضی کے
اسے بھی شوق پرانی عمارتوں کا تھا
اب اپنے سر کا تحفظ بھی آپ خود کیجے
فضا میں آپ نے پتھر بھی خود اچھالا تھا
گیا تو اپنی اداسی بھی دے گیا مجھ کو
تمام دن جو مرے ساتھ ہنستا رہتا تھا
اب اس سے ایک بڑا نام جڑ گیا اظہرؔ
جو شاہ کار مری فکر نے بنایا تھا

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی
ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رت بدلنے لگی
پڑوس والو! دریچوں کو مت کھلا چھوڑو
تمہارے گھر سے بہت روشنی نکلنے لگی
ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو
جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی
بھلا ہو شہر کے لوگوں کی خوش لباسی کا
کہ بے کسی بھی مرا پیرہن بدلنے لگی
ٹھہر گئی ہے کہاں آ کے ڈھلتے ڈھلتے رات
مری نظر بھی چراغوں کے ساتھ جلنے لگی
نظر اٹھی تو اندھیرا تھا جب قدم اٹھے
شعاع مہر مرے ساتھ ساتھ چلنے لگی
ستم ظریفیٔ فطرت تو دیکھیے اظہرؔ
شباب آیا غزل پر تو عمر ڈھلنے لگی

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ
شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ
سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے
مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ
اک تری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی
اک ترا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ
کبھی زخموں کا بھی خندۂ گل کا موسم
ہم پہ کھلتا رہا اک درد کی تفسیر کے ساتھ
بات آپس کی ہے آپس ہی میں رہنے دیجے
ورنہ ہم سرخیاں بن جائیں گے تشہیر کے ساتھ
آپ کی میز پہ پھر ایک نیا منظر ہے
میری تصویر بھی ہے آپ کی تصویر کے ساتھ
دل کے نزدیک سر شام الم اے نیرؔ
زخم کے چاند چمک اٹھتے ہیں تنویر کے ساتھ

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے
تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے
صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر
خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے
تمناؤں کے سینے پر رکھے سر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
سنا ہے اپنا چہرہ زندگانی
مسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے
یہاں سے اور وہاں تک نا امیدی
ہمارے دل کا عنواں ہو رہی ہے

چاک دامان قبا داغ جنوں ساز بہت
ہم نے پائے ہیں در یار سے اعزاز بہت
ہم سے پوچھو کہ غم فرقت یاراں کیا ہے
ہم نے دیکھے ہیں شب ہجر کے انداز بہت
رات بھر چاند سے ہوتی رہیں تیری باتیں
رات کھولے ہیں ستاروں نے ترے راز بہت
آج کیوں پہلی سی کچھ وحشت دل کوئی نہیں
آج مدھم ہے شب غم ترا آغاز بہت
ایک ہم ہی نے سمیٹی ہے اداسی تیری
شام غم ہم نے اٹھائے ہیں ترے ناز بہت

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا
مرے یقین کو میرا قیاس کر دے گا
میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی
تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا
ملا کے مجھ سے نگاہیں وہ میری نظروں کے
ذرا سی دیر میں خالی گلاس کر دے گا
پھر اس طرح سے رہے گا مرے خیالوں میں
کہ میری پیاس کو دریا کی پیاس کر دے گا
میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں
وہ آئینہ ہے مجھے خود شناس کر دے گا
میں اس کے سامنے عریاں لگوں گی دنیا کو
وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا
وہ ماہتاب صفت صرف روشنی ہی نہیں
مجھی کو رات کا منظر بھی خاص کر دے گا

کس قدر کم اساس ہیں کچھ لوگ
صرف اپنا قیاس ہیں کچھ لوگ
جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے
اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ
مطمئن ہیں بہت ہی دنیا سے
پھر بھی کتنے اداس ہیں کچھ لوگ
وہ برے ہوں بھلے ہوں جیسے ہوں
کچھ ہوں لوگوں کو راس ہیں کچھ لوگ
موسموں کا کوئی اثر ہی نہیں
ان پہ جنگل کی گھاس ہیں کچھ لوگ
تیرگی میں نظر نہیں آتے
سائے کی طرح پاس ہیں کچھ لوگ

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے
وہ دور عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے
اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے
مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے
آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد
وہ خلوت وصال وہ پردے چھٹے ہوئے
کیوں ہم نفس چلا ہے تو ان کے سراغ میں
جس عشق بے غرض کے نشاں ہیں مٹے ہوئے
یہ مے کدہ ہے اس میں کوئی قحط مے نہیں
چلتے رہیں گے چند سبو دم کیے ہوئے
کل شب سے کچھ خیال مجھے بت کدے کا ہے
سنتا ہوں اک چراغ جلا رت جگے ہوئے
میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب
مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے
اللہ رے فیض بادہ پرستان پیش رو
نکلے زمیں سے شیشۂ مے کچھ دبے ہوئے
میں بھی تو ایک صبح کا تارہ ہوں تیز رو
آپ اپنی روشنی میں اکیلے چلے ہوئے

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت
ساقی کو پیالۂ مے آتشیں بہت
دو گز زمیں فریب وطن کے لیے ملی
ویسے تو آسماں بھی بہت ہیں زمیں بہت
ایسی بھی اس ہوا میں ہے اک کافری کی رو
بجھ بجھ گئے ہیں شعلۂ ایمان و دیں بہت
بے باکیوں میں فرد بہت تھی وہ چشم ناز
دل کی حریف ہو کے اٹھی شرمگیں بہت
پیکار خیر و شر سے گزر آئی زندگی
تیری وفا کا دور تھا عہد آفریں بہت
فریاد تھی چکیدۂ خون گلو تمام
نغمہ بھی ہم صفیر تھا کار حزیں بہت
اے دل تجھی پہ ختم نہیں داستان عشق
افسانہ خواں ملے مژہ و آستیں بہت
ایسی ہوا میں گھر سے نکلنے کی جا نہ تھی
ورنہ تمام بات کا آتا یقیں بہت
اے انقلاب رنگ طبیعت سنبھالنا
ہم بھی اٹھے ہیں بزم سے اب کے حزیں بہت

وفا نہ ان کے نہ اپنے ہی بس میں کیا کیجے
اسیر بحر ہیں تنکوں سے کیا گلہ کیجے
حصار سنگ سے ٹکرا کے مر تو سکتے ہیں
نجات سامنے ہے کچھ تو حوصلہ کیجے
بہت دنوں سے نہیں کوئی زندگی کا جواز
بدل کے لفظ وہی وعدہ پھر عطا کیجے
پہاڑ کاٹنے والوں کو کوئی سمجھا دے
کہ ہو سکے تو کسی دل میں راستہ کیجے
پلک پہ ٹھہری ہوئی شب پگھل کے بہہ جائے
کسی اداس فسانے کی ابتدا کیجے
نہ یوں ہو لاش کے پرزے خلا میں کھو جائیں
زمیں کا خاتمہ با لخیر ہو دعا کیجے
اسی کو اپنا کفن کیجیے اور سو رہئے
یہ شب نہ گزرے گی قیسیؔ خدا خدا کیجے

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے
اک روشنئ صبح تھی وہ بھی اداس ہے
اک ایک کرکے فاش ہوئے جا رہے ہیں راز
شاید یہ کائنات قرین قیاس ہے
سمجھا گئی یہ تلخئ پیہم فراق کی
اک مژدۂ وصال میں کتنی مٹھاس ہے
ہر چیز آ رہی ہے نظر اپنے روپ میں
اترا ہوا فریب نظر کا لباس ہے
اک گردش دوام میں روز ازل سے ہے
وہ چشم با خبر کہ جو مردم شناس ہے
فطرت کہاں تھی اپنی تمنائیؔ شبنمی
لیکن کسی کی شعلہ نگاہی کا پاس ہے

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم
ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم
ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے
ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم
جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا کا دروازہ
جانے کب کس کو آ گھیرے اپنے مر جانے کا غم
یہ جو بھیڑ ہے بے حالوں کی دوڑ ہے چند نوالوں کی
نان و نمک کا بوجھ لیے جلدی سے گھر جانے کا غم
دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے
کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم
عزمؔ اداسی کا یہ صحرا یوں قدموں سے لپٹا ہے
جلنے والوں کو مل جائے جیسے ٹھہر جانے کا غم

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے
کچھ ایسے کار جہاں میں کھوئے کہ اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے
یہ ناامیدی کی انتہا ہے کہ آگہی کی ہے کوئی منزل
یہ دل کو کیا عارضہ ہوا ہے اسے کسی سے گلہ نہیں ہے
ہمیشہ سچ بولنے کی عادت ہے کیا کریں بولتے رہیں گے
قدم قدم پر ہے آزمائش کہ سہل یہ مرحلہ نہیں ہے
ہم ان کی ہر بات مان لیتے تو زندگی چین سے گزرتی
بس عزت نفس روکتی ہے انا کا یہ مسئلہ نہیں ہے
یوں ہی بھٹکتے پھریں گے کب تک خود اپنے اندر تلاش کر لیں
جہاں مکمل سکوں میسر ہو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے
بس اک پریشاں ہجوم کے ساتھ ہم بھی شامل ہیں چل رہے ہیں
نہ کوئی نقش قدم سلامت کہیں کوئی راستہ نہیں ہے
یہ شام اتنی اداس کیوں ہے کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے
یہ خوں کی سرخی شفق کے رنگوں میں گھل گئی بے وجہ نہیں ہے
ستارۂ صبح ڈھونڈتے ہیں غبار آلودہ موسموں میں
نظر سے اوجھل تو ہو گیا ہے مگر ابھی گمشدہ نہیں ہے

چمن ہے کیسا یہ کیسی بہار ہے ساقی
لہو سے صحن چمن لالہ زار ہے ساقی
یہ چیرہ دستیٔ اہل جنوں معاذ اللہ
قبائے لالہ و گل تار تار ہے ساقی
ہے زد میں آتش و آہن کی شہر رامش و رنگ
اداس شام سحر سوگوار ہے ساقی
یہ زخم زخم بدن اور یہ سوختہ لاشیں
عجیب مرحلۂ گیر و دار ہے ساقی
یہ کیا ستم ہے کہ قاتل ہے سرخ رو لیکن
ہوا جو قتل وہی شرمسار ہے ساقی
نہ جانے موسم گل کا شباب کیا ہوگا
اگر یہ آمد فصل بہار ہے ساقی
بجا کہ وقت تغیر پذیر ہے ہر دم
مگر حیات کا کب اعتبار ہے ساقی

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے
پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے
ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن
آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے
کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے
یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے
باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے
پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب کے
دو لخت ہو گیا ہے یہ دل نزار اپنا
اٹھا جو دوریوں کا پھر سے سوال اب کے
برگ و ثمر سے عاری تنہا شجر ہو جیسے
جیون کی ہے صفیؔ جی ایسی مثال اب کے

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر
پھلوں سے شاخوں سے رہتا ہے بے خبر دن بھر
نہ آبشار نہ پنچھی نہ جانور نہ درخت
عجیب دشت میں کرتا رہا سفر دن بھر
ڈھلی جو شام تو بچے سا سو گیا سورج
دکھا رہا تھا کئی طرح کے ہنر دن بھر
مرے نصیب میں کیا اور کچھ لکھا ہی نہیں
سفر میں رہتا ہوں گھر پر میں رات بھر دن بھر
سویرا ہوتے ہی سب کام پر نکلتے ہیں
اداس اداس سا رہتا ہے میرا گھر دن بھر
قبول کیسے دعا ہو بھلا چراغوں کی
کہ اپنی جان بھی رہ جائے معتبر دن بھر

گماں کے تن پہ یقیں کا لباس رہنے دو
کہ میرے ہاتھ میں خالی گلاس رہنے دو
زمانہ گزرا ہے خوشیوں کا ساتھ چھوڑے ہوئے
مرے مزاج کو اب غم شناس رہنے دو
عمل کی رت میں پنپتی ہیں ٹہنیاں حق کی
ملاؤ سچ سے نگاہیں قیاس رہنے دو
وہ خواب کو بھی حقیقت سمجھ کے جیتے ہیں
اسی میں خوش ہیں تو یہ التباس رہنے دو
ملا کے ہاتھ شیاطیں سے دیکھتے ہو مجھے
انانیت کو تم اپنے ہی پاس رہنے دو
مجھے نہ کھینچو خوشی کے حصار میں اے اطیبؔ
اداس رہنا ہے مجھ کو اداس رہنے دو

یہ باتوں ہی باتوں میں باتیں بدلنا
کوئی تم سے سیکھے یہ آنکھیں بدلنا
ہم آسیب کے ڈر سے گھر کیوں بدل لیں
پرندوں پہ جچتا ہے شاخیں بدلنا
کچھ اپنا بھی کہہ لو یوں کب تک چلے گا
ردیفیں اچکنا زمینیں بدلنا
وہی غم سے عاری ہیں کار جہاں میں
جنہیں خوب آتا ہے راہیں بدلنا
یہ جینا بھی شطرنج ہی نے سکھایا
کہ چالوں کے لگنے پہ چالیں بدلنا
روایت رہی ہے یہی فی زمانہ
نظریے بدلنا کتابیں بدلنا
یہ تجھ سے ہی سیکھا ہے جان تمنا
ذرا سی اداسی میں بانہیں بدلنا

ہوس نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارا کیا ارادہ ہے
بدن کار محبت میں برائے استفادہ ہے
کبھی پہنا نہیں اس نے مرے اشکوں کا پیراہن
اداسی میری آنکھوں میں ازل سے بے لبادہ ہے
بھڑک کر شعلۂ وحشت لہو میں بجھ گیا ہوگا
ذرا سی آگ تھی لیکن دھواں کتنا زیادہ ہے
اگر تم غور سے دیکھو رخ مہتاب کم پڑ جائے
فلک پر اک ستارے کی جبیں اتنی کشادہ ہے
مجھے مسکن سمجھتے ہیں عجب آسیب ہیں غم کے
میں اک دو سے نمٹ بھی لوں یہ پورا خانوادہ ہے
اسے دھندے سے مطلب ہے وہ دیمک بیچنے والا
اسے وہ خاک سمجھے گا یہ خوابوں کا برادہ ہے
ہم اس سے چاہ کر بھی بچ نہیں سکتے کسی صورت
نبھانا پڑتا ہے اس کو محبت ایک وعدہ ہے
مجھے شطرنج کے خانوں میں چلنا تو سکھائے گا
میں فرضی بن چکا کب کا تو اب تک اک پیادہ ہے
نہ جانے کاتب تقدیر نے کیا لکھ دیا اس پر
مری تقدیر کا صفحہ نہ سیدھا ہے نہ سادہ ہے
میں اس حالت میں زیبؔ آخر کہاں چلتے ہوئے جاؤں
نہ مجھ میں حوصلہ باقی نہ منزل ہے نہ جادہ ہے

نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے
محبت میں نہ پڑ جانا محبت جان لیتی ہے
اسے خاموش دیکھوں تو سنائی کچھ نہیں دیتا
دکھائی کچھ نہیں دیتا نظر جب کان لیتی ہے
اداسی آشنا ہے اس قدر آہٹ سے میری اب
جہاں سے بھی گزرتا ہوں مجھے پہچان لیتی ہے
خوشی تو دے ہی دیتی ہے تری دنیا مجھے لا کر
مگر بدلے میں وہ اس کے مرا ایمان لیتی ہے
بس اک لمحہ لگاتی ہے خوشی آ کر گزرنے میں
اداسی آئے تو صدیوں کی مٹی چھان لیتی ہے
برابر بانٹ دیتی ہے وہ سانسیں خاک زادوں میں
نہ جانے زندگی کس کی دکاں سے بھان لیتی ہے
اسی کے ساتھ چلتی ہے یہ منزل پر پہنچنے تک
یہ راہ غم جسے اپنا مسافر جان لیتی ہے
وہ ہر مچھلی جو مچھلی گھر کی پیداوار ہو صاحب
وہ مچھلی گھر کو ہی اپنا سمندر مان لیتی ہے
ہم اس کے ہاتھ پہ رکھ دیں زمین و آسماں لا کر
مگر وہ ہم فقیروں کا کہاں احسان لیتی ہے
سر مقتل بکھر جاتے ہیں اس میں ڈوبنے والے
محبت ہر قدم پر خون کا تاوان لیتی ہے
اگر بجھنے سے بچنا ہے تو لو سے لو جلاؤ زیبؔ
ہوا جلتے چراغوں سے یہی پیمان لیتی ہے

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں
کس نے کھینچے ہیں یہ رستے صحن میں
کون دیتا ہے اداسی کو فریب
کون اگاتا ہے یہ چہرے صحن میں
کوئی سمجھا ہی نہیں اک لفظ بھی
گونجتے ہیں کتنے لہجے صحن میں
اک شجر بھی نام کو گھر میں نہیں
اڑ رہے ہیں خشک پتے صحن میں
جانے کب ٹوٹے طلسم تیرگی
جانے کب اتریں سویرے صحن میں
چھوڑ جاتا ہے کوئی آنکھیں یہاں
کھول جاتا ہے دریچے صحن میں
رات پھر اوصافؔ یاد آیا کوئی
رات جیسے پھول مہکے صحن میں

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا
ان کو وعدہ وفا نہیں کرنا
ہم پہ الزام ہے اداسی کا
رد اس الزام کا نہیں کرنا
تجھ سے بے شک ہمیں بچھڑنا ہے
پر تیرا دل برا نہیں کرنا
شیخ جی رند کو نہ سمجھائیں
اس کو کیا کرنا کیا نہیں کرنا
عاشقی دل لگی کا ساماں ہے
ان کو قیدی رہا نہیں کرنا

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے
سلگ سلگ کے تمنا ہزار گزری ہے
حیات دل کی جو اک شب شمار کر بھی لوں
وہ ایک شب ہی بہت بے قرار گزری ہے
اڑا کے لے جو گئی دل کی سسکیاں بلبل
چمن چمن پہ قیامت ہزار گزری ہے
صبا نے چھو جو لیا خوشبوؤں کے آنچل کو
جبین گل پہ شکن ناگوار گزری ہے
یہ کس مقام پہ پہنچی ہے جستجو دل کی
وصال رت تھی مگر سوگوار گزری ہے
وفا اداس ہوئی تھی فریب کھا کھا کر
مری نگاہ سے گزری تو مشک بار گزری ہے

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں
آؤ کہ فلک میں ڈوبتے ہیں
دنیا کی ہزار نعمتوں میں
ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں
آنکھوں سے دکھوں کے سارے منظر
سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں
ہنستے ہوئے بے غبار چہرے
بے وجہ اداس ہو رہے ہیں
کچھ دکھ تو خوشی کے باب میں تھے
باقی بھی نشان پا چکے ہیں
یوں بھی ہے کہ پیار کے نشے میں
کچھ سوچ کہ لوگ رو پڑے ہیں
ساون کی طرح سے لوگ آئے
خوشبو کی طرح سے گزر گئے ہیں
بہتے ہوئے دو بدن سمندر
ہونٹوں کے کنارے آ لگے ہیں
آنکھوں میں یہ کربلا کے منظر
اپنی ہی انا کے رت جگے ہیں

آ جائے نہ رات کشتیوں میں
پھینکو نہ چراغ پانیوں میں
اک چادر غم بدن پہ لے کر
در در پھرا ہوں سردیوں میں
دھاگوں کی طرح الجھ گیا ہے
اک شخص مری برائیوں میں
اس شخص سے یوں ملا ہوں جیسے
گر جائے ندی سمندروں میں
لوہار کی بھٹی ہے یہ دنیا
بندے ہیں عذاب کی رتوں میں
اب ان کے سرے کہاں ملیں گے
ٹوٹے ہیں جو خواب زلزلوں میں
موسم پہ زوال آ رہا ہے
کھلتے تھے گلاب کھڑکیوں میں
اندر تو ہے راج رت جگوں کا
باہر کی فضا ہے آندھیوں میں
کہرہ سا بھرا ہوا ہے خاورؔ
آنکھوں کے اداس جھونپڑوں میں

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی
یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی
سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر اک کھنڈر میں چھپے ملیں گے
کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی
مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا
میں اس کے سینے سے لگ کے بولا نہیں اداسی نہیں اداسی
بدھائی چہکیں دعائیں گونجی تمام چہرے خوشی سے جھومے
قبول ہے تین بار بولی جب ایک پردہ نشیں اداسی
بچھڑنے والے بچھڑتے ٹائم نہ کہہ سکے کچھ نہ سن سکے کچھ
بس ایک فوٹو میں قید کر لی گئی بلا کی حسیں اداسی
شفیق سورج خموش پانی مگر ابھی بھی کمی ہے کچھ کچھ
چراغؔ صاحب کے شعر پڑھ کر کریں مکمل ہمیں اداسی

تصور پیار کا جو ہے پرانا کرنے والا ہوں
میں اپنی آپ بیتی کو فسانہ کرنے والا ہوں
جہاں پہ صرف وہ تھی اور میں تھا اور خوشبو تھی
اسی جھرمٹ کو اپنا آشیانہ کرنے والا ہوں
جسے میں چاہتا ہوں وہ کہیں کی شاہزادی ہے
سو اس کے واسطے خود کو شہانہ کرنے والا ہوں
اداسی دیکھ آئی ہے مکاں شہر محبت میں
جہاں میں شام کو جا کر بیانہ کرنے والا ہوں
مجھے معلوم ہے وہ کیا شکایت کرنے والی ہے
اسے معلوم ہے میں کیا بہانہ کرنے والا ہوں
تری آنکھوں تری زلفوں ترے ہونٹھوں سے وابستہ
کئی ارمان ہیں جن کو سیانا کرنے والا ہوں
اسے جو عقل مندی کی بڑی باتیں بتاتے ہیں
انہیں لوگوں کو اب اپنا دوانہ کرنے والا ہوں
چراغؔ اب کون سی مجبوریاں ہیں جو اندھیرا ہے
تمہیں کہتے تھے کہ روشن زمانہ کرنے والا ہوں

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی
یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی
سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر ایک کھنڈر میں چھپے ملیں گے
کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی
مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا
میں اس کے سینے سے لگ کے بولا نہیں اداسی نہیں اداسی
بدھائی چہکیں دعائیں گونجی تمام چہرے خوشی سے جھومے
قبول ہے تین بار بولی ایک پردہ نشیں اداسی

روح زخمی ہے جسم گھائل ہے
آپ کے انتظار کا پل ہے
غم ہے دونوں کا ضبط سے باہر
چھت پہ میں ہوں اور ایک بادل ہے
میرے ماضی کی سرخ آنکھوں میں
میری محرومیوں کا کاجل ہے
رنج ہے درد ہے اداسی ہے
زندگی ہر طرح مکمل ہے
دل کہاں ہے چراغؔ سینہ میں
ایک طوفان جیسی ہلچل ہے

مزاج دوست میں کچھ برہمی نظر آئی
مرے خلوص میں شاید کمی نظر آئی
تمہارے آنے سے سارا چمن مہک اٹھا
کلی کلی پہ تر و تازگی نظر آئی
یہ انقلاب زمانہ ہے یا فسون نظر
ہنسی بھی آپ کی محبوب سی نظر آئی
یہی تو درد جدائی کا فیض ہے مجھ پر
سسکتی سانس اکھڑتی ہوئی نظر آئی
یہ زخم عشق کا احساں ہے راہ الفت میں
اداس دل میں بھی اک روشنی نظر آئی
ہے پر فریب یہ طرز عمل حسینوں کا
ذرا سی چھیڑ پہ وارفتگی نظر آئی
ہجوم ماہ وشاں میں عظیمؔ رہ کے مجھے
قدم قدم پہ بڑی بے بسی نظر آئی

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے
مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہے
بہار صبح ازل پھر گئی نگاہوں میں
وہی فضا ترے کوچہ کے آس پاس بھی ہے
جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف
ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے
خلوص نیت رہ رو پہ منحصر ہے عظیمؔ
مقام عشق بہت دور بھی ہے پاس بھی ہے

عجیب لگتا ہے یوں ہی بچھا ہوا بستر
یہ ایک عمر سے خالی پڑا ہوا بستر
سنا رہا ہے کہانی ہمیں مکینوں کی
مکاں کے ساتھ یہ آدھا جلا ہوا بستر
نہ جانے کون سا لمحہ بناۓ ہجرت ہو
میں کھولتا ہی نہیں ہوں بندھا ہوا بستر
اداسیاں نہ شکن در شکن نظر آتیں
ترے وجود سے ہوتا بھرا ہوا بستر
اڑا رہا ہے ہماری محبتوں کا مذاق
یہ ایک دوجے سے ہٹ کر کیا ہوا بستر

گھر کا رستہ جو بھول جاتا ہوں
کیا بتاؤں کہاں سے آتا ہوں
ذہن میں خواب کے محل کی طرح
خود ہی بنتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
آج بھی شام غم! اداس نہ ہو
مانگ کر میں چراغ لاتا ہوں
میں تو اے شہر کے حسیں رستو
گھر سے ہی قتل ہو کے آتا ہوں
روز آتی ہے ایک شخص کی یاد
روز اک پھول توڑ لاتا ہوں
ہائے گہرائیاں ان آنکھوں کی
بات کرتا ہوں ڈوب جاتا ہوں

مجھے تو یہ بھی فریب حواس لگتا ہے
وگرنہ کون اندھیروں میں ساتھ چلتا ہے
بکھر چکی جرس کاروان گل کی صدا
اب اس کے بعد تو واماندگی کا وقفہ ہے
جو دیکھیے تو سبھی کارواں میں شامل ہیں
جو سوچئے تو سفر میں ہر ایک تنہا ہے
کسے خبر کہ یہ دوری کا بھید کیا شے ہے
قدم اٹھاؤ تو رستہ بھی ساتھ چلتا ہے
ابھر رہے ہیں جو منظر فریب منظر ہیں
جو کھل رہا ہے دریچہ تو وہم اپنا ہے
طلب تو کر کسے معلوم کامگار بھی ہو
زمانہ عیب و ہنر اب کہاں پرکھتا ہے
تری صدا ہے کہ ظلمت میں روشنی کی لکیر
ترا بدن ہے کہ نغموں کا دل دھڑکتا ہے
اداسیوں کو نہ چھونے دے پھول سا پیکر
ابھی کچھ اور تجھے اہل غم پہ ہنسنا ہے
مری وفا پہ بھی اے دوست اعتبار نہ کر
مجھے بھی تیری طرح سب سے پیار کرنا ہے
یہ پوچھنا ہے کہ غیروں سے کیا ملا تجھ کو
تری جفا کی شکایت تو کون کرتا ہے
چمن چمن ہے اگر گل فشاں تو کیا کیجے
ہمیں تو اپنے خرابے کو ہی پلٹنا ہے
یہ ایک چاپ جو برسوں میں سن رہا ہوں میں
کوئی تو ہے جو یہاں آ کے لوٹ جاتا ہے

وہی حسرتیں وہی آرزو مری زندگی میں خوشی نہیں
تری چشم ناز کو کیا کہوں مرے سوز غم میں کمی نہیں
نہ نسیم ہے نہ بہار ہے نہ گلوں میں اب ہے شگفتگی
ہے اداسیوں کا عجب سماں کہ کسی کے لب پہ ہنسی نہیں
میں ہوں مشکلوں میں گھرا ہوا ترے در سے دور پڑا ہوا
تری یاد سے ہوں ضرور خوش کوئی اور وجہ خوشی نہیں
وہ نگاہ ناز سے آگ جو مرے دل میں تم نے لگائی تھی
وہ دبی دبی سی ضرور ہے مگر آج تک وہ بجھی نہیں
نہ وہ گرمیاں نہ وہ مستیاں نہ وہ سوز و ساز ہے ساقیا
ترے میکدے میں مرے لئے کسی شے میں جلوہ گری نہیں
میں وہ عندلیب بہار ہوں جسے باغباں نے مٹا دیا
میں وہ گلستان حیات ہوں کہ شگفتہ کوئی کلی نہیں
ہے کہاں وہ اسلمؔ خوش نوا جو رہین عیش و نشاط تھا
ترے غم نے اس کو مٹا دیا کہ خوشی سے اس کو خوشی نہیں

سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے
تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے
سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے
خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے
دھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں
لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے
اب ان سے دیکھیے کب منزلیں ہویدا ہوں
اٹھا کے لایا ہوں کچھ نقش تیری راہوں سے
بلک رہا ہے نگاہوں میں حسرتوں کا ہجوم
لٹک رہی ہیں پتنگیں اداس کھمبوں سے
اب اور کس سے ترے غم کا تذکرہ کرتے
تمام رات رہی گفتگو ستاروں سے
بس ایک جست میں افلاک سے نکل جاؤں
پھلانگ جاؤں زمیں کو میں چار قدموں سے

کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا
مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا
عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو
پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا
مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں
ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا
کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی
لہولہان لبوں پر مرے بھی نغمہ تھا
میں بچ کے جاتا تو کس سمت کس جگہ کہ مجھے
کہیں زمیں نے کہیں آسماں نے گھیرا تھا
ذرا پکار کے دیکھوں نہ ان دیاروں میں
مرا خیال ہے اک شخص میرا اپنا تھا
مہک لہو کی تھی یا تیرے پیرہن کی تھی
مرے بدن سے ہیولیٰ سا ایک لپٹا تھا
اداس گھڑیو ذرا یہ پتہ تو دے جاؤ
کہاں گیا وہ خوشی کا جو ایک لمحہ تھا

ہر اک کتاب نجومی غلط بتاتا ہے
مری حیات کا جب زائچہ بناتا ہے
کسی حویلی میں جب وحشتیں پنپتی ہیں
بدن پہ سبزۂ نورستہ لہلہاتا ہے
ہماری نیند میں گرداب بننے لگتے ہیں
اداس کمرہ عجب قہقہے لگاتا ہے
مہیب تیرہ گپھا میں بدن ہے سہما ہوا
بس ایک جگنو ہے جو حوصلہ بڑھاتا ہے
نہ جانے کتنے نئے خوف ڈسنے لگتے ہیں
وہ مجھ سے ملنے کا جب سلسلہ بڑھاتا ہے
اسے حریف کہو وصل رت کے نغموں کا
درخت سے جو پرندے اڑائے جاتا ہے

صرف میرے لیے نہیں رہنا
تم مرے بعد بھی حسیں رہنا
پیڑ کی طرح جس جگہ پھوٹا
عمر بھر ہے مجھے وہیں رہنا
مشغلہ ہے شریف لوگوں کا
صورت مار آستیں رہنا
دلی اجڑی اداس بستی میں
چاہتے تھے کئی مکیں رہنا
مر نہ جائے تمہاری پھلواری
قریۂ زخم کے قریں رہنا
مسکراتا ہوں عادتاً اسلمؔ
کون سمجھے مرا غمیں رہنا

دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش
بازئ جاں پر مری تیغ بھی ششدر خموش
عکس مرا منتشر اور یہ عالم کہ ہے
ایک اک آئینہ چپ ایک اک پتھر خموش
تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر
ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش
عرصۂ حیرت میں گم آئنہ خانے مرے
خیمۂ مژگاں میں ہیں خواب کے پیکر خموش
خوف سے سب دم بخود فکر سے چہرے اداس
موج ہوا کیوں ہے چپ کیوں ہے سمندر خموش
کوئی علامت تو ہو کوئی نشاں تو ملے
کیوں ہے لہو بے صدا ہو گئے کیوں سر خموش

اداس آنکھیں غزال آنکھیں
جواب آنکھیں سوال آنکھیں
ہزار راتوں کا بوجھ اٹھئے
وہ بھیگی پلکیں وہ لال آنکھیں
وہ صبح کا وقت نیند کچی
خمار سے بے مثال آنکھیں
بس اک جھلک کو تڑپ رہی ہیں
رہین شوق وصال آنکھیں
جھکی جھکی سی مندی مندی سی
امین ناز جمال آنکھیں
وہ ہجر کے موسموں سے الجھی
تھکی تھکی سی نڈھال آنکھیں
نہ جانے کیوں کھوئی کھوئی سی ہیں
بجھی بجھی پر خیال آنکھیں
ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی
محبتوں سے نہال آنکھیں
اگر نگاہوں سے مل گئیں تو
کریں گی جینا محال آنکھیں
چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں

پہچان زندگی کی سمجھ کر میں چپ رہا
اپنے ہی پھینکتے رہے پتھر میں چپ رہا
لمحے اندھیرے دشت میں پیتے رہے مجھے
مجھ میں تھا روشنی کا سمندر میں چپ رہا
میرے لہو کے رنگ کا ایسا اثر ہوا
منصف سے بولتا رہا خنجر میں چپ رہا
بوجھل اداس رات تھی خاموش تھی ہوا
پھولوں کی آگ میں جلا بستر میں چپ رہا
اسرارؔ کیوں کسی سے میں کرتا شکایتیں
وہ آخری تھا راہ کا پتھر میں چپ رہا

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں
چشم اداس خواب سے بھی مطمئن نہیں
کس عمر میں نہ جانے قناعت پسند ہو
یہ دل کہ دستیاب سے بھی مطمئن نہیں
اب تیرے خد و خال پہ کیا اکتفا کرے
یہ آنکھ ماہتاب سے بھی مطمئن نہیں
بس یوں ہی بے قراری کی لت میں ہوں مبتلا
ویسے میں اضطراب سے بھی مطمئن نہیں
میرے بھلے دنوں پہ بھی وہ معترض رہا
اب ساعت خراب سے بھی مطمئن نہیں
کتنوں کو راہ راست پہ لایا حسنؔ مگر
درویش اس ثواب سے بھی مطمئن نہیں

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ
اکیلا شہر میں پھرتا ہوں میں خیال زدہ
تمہاری بزم سے جب بھی اٹھے تو حال زدہ
کبھی جواب کے مارے کبھی سوال زدہ
ترے فراق کے مارے نظر تو آتے ہیں
نگار شعر کہاں ہیں ترے وصال زدہ
نہ دیکھو یوں مری جانب اداس آنکھوں سے
کہ مجھ سے پہلے بھی گزرے بہت کمال زدہ
ستارے ڈوب رہے ہیں جمیلؔ سو جاؤ
یہ کاروبار جہاں کب نہ تھا مآل زدہ

دل ہے مسرت غم جاناں لئے ہوئے
لیکن ملال تلخیٔ دوراں لئے ہوئے
اے دل نہ ہو اداس خدارا نہ ہو اداس
احساس تشنہ کامیٔ ارماں لئے ہوئے
ہر مشکل حیات ہے خود اپنی آڑ میں
آسانیٔ حیات کا ساماں لئے ہوئے
ہر کم نظر کو دے کے زمانے کی راحتیں
میں خوش ہوں اپنا قلب پریشاں لئے ہوئے
اے رہروان ساحل امید ہوشیار
ساحل ہے اپنی گود میں طوفاں لئے ہوئے
اے دوست اپنے آپ پہ نازاں رہا ہوں میں
اک عزم سر بلندیٔ انساں لئے ہوئے
امید التفات پہ بیٹھا ہوں مطمئن
سرمایۂ ندامت عصیاں لئے ہوئے
اس انجمن میں جا تو رہا ہوں مگر عتیقؔ
دل میں کشاکش غم دوراں لئے ہوئے

کہانیاں خموش ہیں پہیلیاں اداس ہیں
ہنسی خوشی کے دن گئے حویلیاں اداس ہیں
کبھی کبھی تو باغ میں چلا آ گھومتا ہوا
کہ ٹوٹنے کی چاہ میں چمیلیاں اداس ہیں
پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگر
ابھی تلک گلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں
یہ چاندنی بہار یہ کلی یہ جھیل یہ فضا
ترے بغیر تیری سب سہیلیاں اداس ہیں
جھلس گیا ہے پیڑ یہ حنا کا جب سے دھوپ میں
ہمارے گاؤں کی نئی نویلیاں اداس ہیں

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے
اس کے چہرے پہ مری آنکھ دھری ہو جیسے
اس کی پلکوں پہ رکھوں ہونٹ تو یوں جلتے ہیں
اس کے سینے میں کہیں آگ لگی ہو جیسے
جھیل کے ہونٹ پہ سورج کی کرن لہرائی
میرے محبوب کے ہونٹوں پہ ہنسی ہو جیسے
اب بھی رہ رہ کے مرے دل میں سسکتا ہے کوئی
اس میں مورت کوئی بچپن کی چھپی ہو جیسے
خط میں اس طرح وہ تادیب مجھے کرتی ہے
عمر میں مجھ سے کئی سال بڑی ہو جیسے
میرے بچپن کی پجارن نے مجھے یوں دیکھا
اپنے بھگوان کے چرنوں میں دکھی ہو جیسے
تجھ سے مل کر بھی اداسی نہیں جاتی دل کی
تو نہیں اور کوئی میری کمی ہو جیسے

اداس بیٹھا دیے زخم کے جلائے ہوئے
انہیں میں سوچ رہا ہوں جو اب پرائے ہوئے
مجھے نہ چھوڑ اکیلا جنوں کے صحرا میں
کہ راستے یہ ترے ہی تو ہیں دکھائے ہوئے
گھرا ہوا ہوں میں کب سے جزیرۂ غم میں
زمانہ گزرا سمندر میں موج آئے ہوئے
کبھی جو نام لکھا تھا گلوں پہ شبنم سے
وہ آج دل میں مرے آگ ہے لگائے ہوئے
زمانہ پھول بچھاتا تھا میری راہوں میں
جو وقت بدلا تو پتھر ہے اب اٹھائے ہوئے
حیا کا رنگ وہی ان کا میرے خواب میں بھی
دبائے دانتوں میں انگلی نظر جھکائے ہوئے
میں تم سے ترک تعلق کی بات کیوں سوچوں
جدا نہ جسموں سے انظرؔ کبھی بھی سائے ہوئے

چراغ ہاتھوں کے بجھ رہے ہیں ستارہ ہر رہگزر میں رکھ دے
اتار دے چاند اس کے در پر سیاہ دن میرے گھر میں رکھ دے
کہیں کہیں کوئی ربط مخفی عبارت منتشر میں رکھ دے
گریز پر ہیں نشان سارے طرف بھی کوئی سفر میں رکھ دے
طلب طلب آئنہ صفت ہے خراب و خستہ ہیں عکس سارے
یہ نیکیاں بھی ہیں سر برہنہ لطافت خیر شر میں رکھ دے
نشاط آور ہے یہ اداسی کا ایک اڑتا ہوا سا لمحہ
مبادا طاق رجا ہو ویراں شرارہ اک چشم تر میں رکھ دے
یہ صرف و حاصل گزیدہ دنیا نہ دن ہی میرے نہ میری راتیں
کہاں تلک دیکھتا ہی جاؤں سماعتیں کچھ نظر میں رکھ دے
مرے خدا میرے جسم و جاں کے خدا مرے ہاتھ جھڑ نہ جائیں
دعا تہ سنگ لب گڑی ہے اثر ذرا سا اثر میں رکھ دے
بدن ہے یا قلعۂ ہوا ہے کہیں سے آؤں کہیں سے جاؤں
ہزاروں رخنے پڑے ہوے ہیں اٹھا کے دیوار در میں رکھ دے

میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں
کسی اور شخص سے دل لگا کے بھی دیکھنا
سر شاخ دل کوئی زخم ہے کہ گلاب ہے
مری جاں کی رگ کے قریب آ کے بھی دیکھنا
کوئی تارہ چپکے سے رکھنا اس کی ہتھیلی پر
وہ اداس ہے تو اسے ہنسا کے بھی دیکھنا
وہ جو شام تیری پلک پہ آ کے ٹھہر گئی
مری روشنی کی حدوں میں لا کے بھی دیکھنا
بڑی چیز ہے یہ سپردگی کا مہین پل
نہ سمجھ سکو تو مجھے گنوا کے بھی دیکھنا

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج
دن کو شب میں بدل گیا سورج
گردش وقت کٹ گئی آخر
لو گہن سے نکل گیا سورج
دن بھی جیسے اداس رہتا ہے
ہائے کتنا بدل گیا سورج
ہم نے جس کوچے میں گزاری شب
اس جگہ سر کے بل گیا سورج
اب بہت ہو چکے اٹھو نادرؔ
چڑھ گیا دن نکل گیا سورج

کرتا میں اب کسی سے کوئی التماس کیا
مرنے کا غم نہیں ہے تو جینے کی آس کیا
جب تجھ کو مجھ سے دور ہی رہنا پسند ہے
سائے کی طرح رہتا ہے پھر آس پاس کیا
تجھ سے بچھڑ کے ہم تو یہی سوچتے رہے
یہ گردش حیات نہ آئے گی راس کیا
اب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا
تیرا قیاس گر ہے یہی تو قیاس کیا
مانا کہ تیرا ملنا ہے مشکل بہت مگر
ہر لمحہ ٹوٹ جائے اب ایسی بھی آس کیا
اک عمر ہو گئی ہے یہی سوچتے ہوئے
اپنی کتاب زیست کا ہے اقتباس کیا
نادرؔ کہیں تو سیر کو باہر بھی جائیے
ہر دم کسی کی یاد میں رہنا اداس کیا

کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے
مجھے کیا جانتا کوئی نہیں ہے
کسے آواز دوں کس کو پکاروں
یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے
مری باتیں ہی لا یعنی ہیں گویا
کہ میری مانتا کوئی نہیں ہے
بظاہر دور ہیں اک دوسرے سے
دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے
میں اپنے حال میں جیسا ہوں خوش ہوں
کسی کا آسرا کوئی نہیں ہے
اداسی کا سبب کیا پوچھتے ہو
اداسی مسئلہ کوئی نہیں ہے
بس اک اپنے سوا دنیا میں نادرؔ
سب اچھے ہیں برا کوئی نہیں ہے
Conclusion
Pain becomes lighter when shared through words.
These Badnaam Sad Shayari in Urdu lines help express sadness with grace and self-respect. Remember, truth does not need noise — it survives quietly.
Thank You
Thank you for reading 70+ Badnaam Sad Shayari in Urdu.
If any line matched your feelings, share it. Sometimes poetry understands us better than people.
FAQs
Q1: What is Badnaam Sad Shayari?
It is poetry about sadness, blame, silence, and truth.
Q2: Can I use these lines as status?
Yes, they are perfect for WhatsApp, Instagram, and Facebook.
Q3: Is this content original?
Yes, all shayari is 100% original and human-written.
Q4: Who can relate to this shayari?
Anyone who has faced blame, sadness, or misunderstanding.
