70+ Dhoka Quotes in Urdu – When Trust Breaks, Words Remain
The Pain Hidden in Dhoka (Betrayal)
Betrayal or Dhoka is one of the most profound wounds that a heart can suffer.
It does not show outside, but rather it is an inward suffering.
When someone whom you trusted completely turns out to be a liar, even the silence becomes heavy.
This assortment of over 70 Dhoka Quotes in Urdu articulates that silent suffering, the suffering of being betrayed by someone you trusted.
Each quote is penned down in plain yet striking words that are easy to comprehend but hard to erase from the memory.
No matter you have been through love betrayal, friend dhoka, or the hurt of shattered trust, these Urdu dhoka quotes will resonate the feelings your heart is trying hard to put in words.
Urdu Dhoka Quotes That Touch Every Heart
In the realm of Urdu literature, sorrow and poetry have been inseparable companions. In fact, Dhoka quotes are the one that portrays these feelings of pain, heartbreak, disappointment, and the eventual realization of betrayal in the same manner as Urdu literature does. In this compilation, you will discover:
If not more, the same emotional truth
- Sad Urdu quotes revealing the truth about the betrayed feelings
- Love betrayal quotes in Urdu with grief and yearning
- Friendship Dhoka verses talking about false promises and broken trust
- Heart-touching Urdu proverbs for the ones who have suffered tremendously
These quotes are not intended to make you feel despondent; rather, they are written for your recovery. Because at times, simply reading what you feel leads to the understanding that you are not the only one. Trust, once shattered, never comes back the way it was, but comprehending this can be a way to make you more powerful.
بس اپنے رب کے ہو کر رہیں اُسی سے محبت کریں اُسی کے قریب جانے کی کوشش کریں.
اُسی کو پسند آجائیں ایسے بنے بہت چھوٹی سی زندگی ہے. صرف اپنی آخرت کا سوچیں .
کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ اُن سے کتنی محبت کرتے ہیں. دُنیا ہے ہی دھوکہ یہاں جتنا بھی
کسی کا کرلو. جتنا زیادہ آپ کسی کو مسیر ہونگے اُتنی ہی قدر کم ہوگی آپ کی.
کوئی نی سمجھتا آپ کو صرف رب کے سِوا. کسی سے ناراضگی ظاہر کر دی جائے
تو کوئی بھی نہیں مناتا . یہ ہم ہی سوچ لیتے ہیں کے ہمارا مان رکھا جائے گا
کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا آپ ناراض ہیں. بس رب ہی جو بندے سے خالص مُحبت کرتا ہے.
☺ وہی ہے جو اپنے بندے کا مان رکھ لیتا ہے. بس رب کو پسند آجائیں ایسے ہوجائیں

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے
میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک
خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے
عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے
یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے
اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے
اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے
گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیالؔ
پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے

خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں
کسی سائے کا پیچھا کیوں کروں میں
اسے میں بھول جانا چاہتا ہوں
مگر خود پر بھروسہ کیوں کروں میں
کبھی سوچوں کہ خود میں لوٹ آؤں
کبھی سوچوں کہ ایسا کیوں کروں میں

کب ترے ذکر سے دل شاد نہیں
کب مرے لب پہ تری یاد نہیں
پوچھئے مجھ سے نہ حال ماضی
کیا سناؤں مجھے کچھ یاد نہیں
وہ نگاہوں کا تصادم سر راہ
مجھ کو ہے یاد تجھے یاد نہیں
عشق اور حسن حدوں میں اپنے
دونوں پابند ہیں آزاد نہیں
جس سے ظاہر نہ ہوں جذبات دل
شعر وہ مستحق داد نہیں
استقامت نہیں جس کو حاصل
وہ تو دھوکہ ہے تری یاد نہیں
گلشن علم و ادب میں اکملؔ
حضرت قدرؔ سا استاد نہیں

بہت مشکل ہوا رستہ ہمارا
جب اس نے کھو دیا نقشہ ہمارا
ملا جب روشنی سے مدتوں بعد
لپٹ کر رو پڑا سایہ ہمارا
بہت محدود ہے دنیا ہماری
نہیں نبھ پائے گا رشتہ ہمارا
اگرچہ کوئی بھی آتا نہیں تھا
کھلا رہتا تھا دروازہ ہمارا
نہیں اس میں محبت کے سوا کچھ
بہت ہے مختصر قصہ ہمارا
ہماری کوئی قیمت ہی نہیں ہے
نہیں کر پاؤ گے سودا ہمارا
نہ جانے کون دستک دے گیا ہے
نہ جانے کون ہے اپنا ہمارا
تمہیں اپنا بنایا بول کر جھوٹ
کہو کیسا لگا دھوکہ ہمارا

گئے گزرے دنوں کی یاد کا نشہ ابھی تک ہے
میرے پیمانۂ دل میں کوئی صہبا ابھی تک ہے
چھلک پڑتے ہیں آنسو آنکھ سے اک موڑ مڑتے ہی
پرانے گھر کی گلیوں سے مرا رشتہ ابھی تک ہے
اے کوئے یار تو شاید اسے اب بھول بیٹھی ہو
مگر تیرے سبب سے شخص اک رسوا ابھی تک ہے
تصور ہی کی دنیا تھی خیالوں ہی میں رہتے تھے
یقیں سے کم نہیں تھا جو وہی دھوکہ ابھی تک ہے
انہی آنکھوں سے گزرا ہے وہ ہر منظر جو کہتی ہیں
سراسر وہم تھا وہ سب کے جو دیکھا ابھی تک ہے
یہ گھر اس شخص کی محنت کو اب تک خرچ کرتا ہے
جو سالوں پہلے مر کر بھی کہیں زندہ ابھی تک ہے
مسائل کچھ بھی ہوں لیکن مجھے کب فکر تھی کوئی
تھے وہ بھی دن میں کہتا تھا مرا ابا ابھی تک ہے
محبت کی بھلا اس سے بڑی تصدیق کیا ہوگی
مسلمانوں کی بستی میں جو مندر تھا ابھی تک ہے
برا کہتی ہے گر دنیا ہمیں تو مسئلہ کیا ہے
ہمیں تو فکر ہے اس کی کہ جو اچھا ابھی تک ہے
ہجوم دوستاں ہر سو ہے لیکن باوجود اس کے
امرؔ کیا بات ہے آخر جو تو تنہا ابھی تک ہے

کب ملتا ہے سکھ چین ہمیں کب غم سے رہائی ہوتی ہے
ہر وقت کلیجہ پھنکتا ہے لب پر جان آئی ہوتی ہے
ہر وقت ہے دل میں یاد تری نظروں میں تیرے جلوے ہیں
من مندر میں رہنے والے کب تجھ سے جدائی ہوتی ہے
چپکے سے بزم تصور میں راتوں کو کوئی آ جاتا ہے
بڑھ جاتی ہے رونق بزم دل جس دم تنہائی ہوتی ہے
تم کیا سمجھو تم کیا جانو چھلنی دل کیسے ہوتے ہیں
یہ درد محبت کیا شے ہے کیا چیز جدائی ہوتی ہے
لے دے کے فقط اک دل ہی تھا سو وہ بھی کسی نے لوٹ لیا
دنیا میں نہیں کچھ بھی اپنا ہر چیز پرائی ہوتی ہے
تپ تپ کر فکر کی بھٹی میں اشعار جو دل سے نکلتے ہیں
وہ سحر مجسم ہوتے ہیں ان میں رعنائی ہوتی ہے
جس دیش میں گنگا بہتی ہے اس دیس کے باسی پاپی ہیں
ہوتی ہے جنگ زبانوں پر مذہب پہ لڑائی ہوتی ہے
دنیا میں بہارؔ شرافت کا کوئی بھی نہیں پرساں ہوتا ہے
مکاروں دھوکہ بازوں کی اب تو شنوائی ہوتی ہے

ان کو خلا میں کوئی نظر آنا چاہیے
آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجانہ چاہیے
وہ کام رہ کے شہر میں کرنا پڑا ہمیں
مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے
ہے ہجر تو کباب نہ کھانے سے کیا حصول
گر عشق ہے تو کیا ہمیں مر جانا چاہیے
اس زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر
اترا رہے ہیں ہم ہمیں اترانا چاہیے
دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن اگر ملے
دھوکہ حسین سا تو اسے کھانا چاہیے
تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی
اے بےوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے
اس شاعری میں کچھ نہیں نقاد کے لئے
دل دار چاہیے کوئی دیوانہ چاہیے

لفظوں میں آسانی رکھ
شعر مگر عرفانی رکھ
اتنا دھوکہ چلتا ہے
آنکھوں میں نادانی رکھ
پہلے پہل سب اچھا تھا
کچھ کچھ یاد پرانی رکھ
دھیان ہٹا اب ہونٹوں سے
قدموں پر پیشانی رکھ
کچھ بھی نہیں ہے منظر میں
آنکھوں میں حیرانی رکھ
بھوک اور پیاس نہ مٹنے پائے
اتنا دانہ پانی رکھ
سا سے کام چلا لوں گا
رے گا ما پا دھا نی رکھ
ہلکے ہلکے قدم بڑھا
سر پر بے سامانی رکھ
ہر شے میں موجود ہے جو
اس کی ایک نشانی رکھ
امتؔ بلائے وہ ہر بار
اتنی آنا کانی رکھ

ابھی تو اتنا اندھیرا نظر نہیں آتا
تو ساتھ کیوں میرا سایا نظر نہیں آتا
ان آنکھوں سے یہ زمانہ تو دیکھ سکتا ہوں
بس ایک اپنا ہی چہرہ نظر نہیں آتا
جب ایک اندھا اندھیرے میں دیکھ لیتا ہے
مجھے اجالوں میں کیا کیا نظر نہیں آتا
بندھی یقین کی پٹی ہماری آنکھوں پر
سو چھل فریب یا دھوکہ نظر نہیں آتا
جو دکھ رہے ہیں وہ چابی کے سب کھلونے ہیں
یہاں تو کوئی بھی زندہ نظر نہیں آتا
تراشے بت کی تو تعریف سبھی کرتے پر
ہمارے ہاتھ کا چھالا نظر نہیں آتا
ابھی تو پھیلی یہاں دھندھ اتنی نفرت کی
کسی کو پیار کا رستہ نظر نہیں آتا
انیسؔ یوں تو ہزاروں سے روز ملتا ہوں
مگر مجھے کوئی تم سا نظر نہیں آتا

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے
میں توانا شخص تھا اعصاب دھوکہ دے گئے
گاؤں کی کچھ لڑکیاں اپنے گھڑے بھرنے گئیں
خشک تھا پانی وہاں تالاب دھوکہ دے گئے
جو نظر آتے تھے اکثر ان جبینوں پر تجھے
کیا کریں ماتھے کے وہ محراب دھوکہ دے گئے
اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا مگر وہ اڑ گئے
آج مجھ کو وہ مرے سرخاب دھوکہ دے گئے
میں معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی
کچھ بھی مشکل تھا نہیں اعراب دھوکہ دے گئے
آج سے میں ہجر کاٹوں گا تسلی سے سحرؔ
جو کبھی دیکھے تھے میں نے خواب دھوکہ دے گئے

دل میں جو عشق عشق ہے شوشہ ہے عقل کا
تیری جوانی دل کی بڑھاپا ہے عقل کا
دیکھو کہ دل پذیر ہے پرکھو ہے دل شناس
وحشت جنوں کے بیچ میں پردہ ہے عقل کا
روکو اسے بتاؤ سہی راستہ کہ دل
دل کا تو ٹھیک ٹھاک ہے کچا ہے عقل کا
افسوس خود کو داؤ میں ہارے گا بد قمار
نہلے پہ تیرے دل کے یہ دہلا ہے عقل کا
مجنوں ہے تجھ میں رہتے ہیں جنات یاس کے
حاصل پے کچھ نہیں ہے تو لیلیٰ ہے عقل کا
آنکھوں کو لگ رہا ہے امیدوں کا پارجات
پانی کا ایک صحرا ہے دھوکہ ہے عقل کا
تو پھر کہاں تھا این محبت کے وقت دوست
پہلا ہی حرف ع کا حجه ہے عقل کا

گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا
کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا
گر کسی کو سمجھنا اپنا تم
دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا
اتنی قربت کسی سے مت رکھو
کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا
ان کی ہر بات میٹھی ہوتی ہے
جھوٹی باتوں کا مت گلہ رکھنا
زندگی ایک بار ملتی ہے
اس کو جینے کا حوصلہ رکھنا
ناامیدی کو کفر کہتے ہیں
رب سے امید آصفہؔ رکھنا

دل شکوؤں سے بھرا ہوا ہے کیا لکھوں میں
میرے پاس اب یہی بچا ہے کیا لکھوں میں
میں نے اس دن کس مشکل سے فون کیا تھا
تم نے سن کر کون کہا ہے کیا لکھوں میں
میں کیسے پہچان کراؤں پہلے جیسی
میرا بھی چہرہ بدلا ہے کیا لکھوں میں
ایک یہ ڈر کہ تم یہ رشتہ توڑ نہ ڈالو
ایک یہ غم کہ ٹوٹ گیا ہے کیا لکھوں میں
سوچا تھا وہ لکھوں گی جو سب لکھتے ہیں
پھر جانے کیا کیا سوچا ہے کیا لکھوں میں
آنسو آنکھ کنارے آکر بیٹھ گئے ہیں
ان مہمانوں کا خدشہ ہے کیا لکھوں میں
میں نے اس کو خالی پیار محبت سمجھا
سب دھوکہ ہے سب مایا ہے کیا لکھوں میں
تم لکھنا تم کیسے ہو اور سب کیسے ہیں
خط لکھنا تم کو آتا ہے کیا لکھوں میں

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے
دل تو کب کا مر چکا تھا مر چکا تو تم ملے
جب میں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی
دل بھی غم سے بھر چکا تھا بھر چکا تو تم ملے
بے قراری پھر محبت پھر سے دھوکہ اب نہیں
فیصلہ میں کر چکا تھا کر چکا تو تم ملے
میں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا میں یہاں
خود پہ تہمت دھر چکا تھا دھر چکا تو تم ملے

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے
یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے
کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت
کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے
ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور
مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے
تو پھر وجود امارت نظر کا ہے دھوکہ
جب اینٹ اینٹ ہی تعمیر سے مکرتی ہے
دعا یہ کیجیے یاروں کہ ہوش میں آؤں
مری نگاہ محبت تلاش کرتی ہے
نہ خود کے رہتا ہے انساں نہ دوسروں کے قریب
کوئی حسین شناسائی جب بکھرتی ہے
ستم گروں کو عبادت گزار مت جانو
خدا کی بندگی اظہرؔ خدا سے ڈرتی ہے

بھیڑ میں دو منٹ آنکھوں سے وہ اوجھل ہوا تو
پھر میں سمجھا کہ پریشانی کسے کہتے ہیں
کسی اپنے سے کبھی دھوکہ ملا ہے جس کو
اُس کو معلوم ہے حیرانی کسے کہتے ہیں

ختم ہو دوسری یارو تو پہلی جاگ جاتی ہے
فنا تک کے سفر میں بھوک تو سونے نہیں دیتی
سمندر میں ڈبو کر زندگی مسرور رہتی ہے
کسی بھی ناخدا کو یہ خدا ہونے نہیں دیتی
زمانہ دے کے دھوکہ دیکھتا ہے کب میں روتا ہوں
یہ میری ماں ہے جو مجھ کو کبھی رونے نہیں دیتی
فضا عزت کے جھونکوں سے اگر شملے کو لہرائے
زمیں غیرت میں ڈھل کر ظلم کو بونے نہیں دیتی
مری یادوں کی نگری میں تری انمول سی صورت
ہمیشہ ساتھ رہتی ہے کبھی کھونے نہیں دیتی
اگر باندھے نہ پٹی آنکھوں پر انصاف کی دیوی
تو خوں مجرم کے ہاتھوں سے کبھی دھونے نہیں دیتی
اگر اولاد ہو مخلص سبھی کا مان رکھتی ہو
بڑھاپے میں بزرگوں کو وہ غم ڈھونے نہیں دیتی

کسی کے تلخ یا غمگین ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان
محبت میں دھوکہ کھا کرعشق میں ناکام ھو کرایسا کچھ لکھتا ھے۔۔۔
اکثر خوش مزاج لوگ بھی بہت تلخ باتیں کہہ اور لکھ جاتے ہیں ۔۔۔
۔کیونکہ کچھ باتیں انسان پسند کرتا ہے۔۔۔۔۔
کچھ اسکے مزاج میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔
اور کچھ وہ زندگی ســـــــے سیکھ لیتا ہے۔۔۔۔
ہر بات کی وجہ محبت کا ہوجانا یا محبت کو کھو دینا نہیں ہوتا۔

محبت مان ہوتی ہے یہی ایمان ہوتی ہے
دلوں میں گر اتر جائے تو رب کی شان ہوتی ہے
نظر کو صاف رکھتی ہے دلوں کو پاک رکھتی ہے
ملاوٹ سے یقیں مانو سدا انجان ہوتی ہے
محبت روپ ہے رب کا یہ وحدت کی نشانی ہے
اگر ہو شائبہ دل میں تو بس نقصان ہوتی ہے
محبت اک کہانی ہے وفا کے سات رنگوں کی
جو دھوکہ ہو اگر اس میں تو بس بہتان ہوتی ہے
محبت سوچ کے دریا میں تنکے کا سہارا ہے
یہ اکثر ڈوبنے کے ڈر سے بھی ہلکان ہوتی ہے
محبت صبر کے پیالے سے چکھا گھونٹ ہوتا ہے
عقیدت کا یہ کلمہ ہے شکر کی جان ہوتی ہے
محبت ساز ہے من کا محبت تن کا منتر ہے
محبت بے خودی میں ڈھلنے والا دان ہوتی ہے
دلوں کے تار جڑنے سے محبت راگ بنتی ہے
محبت دل کے نغموں کی سریلی تان ہوتی ہے
محبت جگمگا کر روشنی کو نور دیتی ہے
محبت رقص کرتی تتلیوں کا تھان ہوتی ہے

جگر تھامو نہ تم اپنا نہ ہی زخموں کو بھرنے دو
چھپاؤ دکھ نہ آنکھوں میں اسے دنیا کو پڑھنے دو
محبت کی عبادت میں نہ چھوڑو ساتھ ساجن کا
کرو سجدے رفاقت کے دعا کو ساتھ چلنے دو
مزہ ہو یاد میں جس کی تڑپ کو زندگی کرلو
قدم روکو نہ ہجراں میں غموں کو آگے بڑھنے دو
وفا کے نام پر دھوکہ نہ دو تم اپنے ہمدم کو
نہ وعدوں کو بھلاؤ تم نہ ہی قسموں کو مرنے دو
دکھے جو وہ اچانک تو کرو تم رقص الفت کا
بہاؤ اشک وحشت میں خوشی سے دل کو جلنے دو
اجالے کو اجالے میں کہاں جانچو گے رک جاؤ
نہ پرکھو دن میں تم جگنو زرا سی شام ڈھلنے دو
بچھڑ کر تم کسی سے موت کو نامہ نہ دے ڈالو
نہ چھڑکو راکھ تم خود پر نہ خود کو لاش بننے دو
مجھے لگتا ہے فتنے ہیں مگر کیا لطف ہے ان میں
یہ نینوں کی لڑائی ہے نہ روکو ان کو لڑنے دو

گلہ نہیں کہ مرا آسماں پہ کوئی نہیں
زمیں ہے عشق کی عاشق یہاں پہ کوئی نہیں
یہ کس کے گھر کا پتہ دے کے تو ہوا غائب
عجب ہے بھیڑ جہاں اور وہاں پہ کوئی نہیں
وہ ساعتوں میں رکی سوچ کا مسافر ہے
سمجھ میں رہتا ہے لیکن گماں پہ کوئی نہیں
یہ فرصتوں میں ڈھلا روپ اس کا دھوکہ ہے
جو ساتھ رہتا ہے لیکن نشاں پہ کوئی نہیں
چھپا ہے کون بدن چھوڑ کر اندھیرے میں
گلی میں لاش پڑی ہے مکاں پہ کوئی نہیں
دھواں دھواں سا ہے اس کا خیال باطن میں
وہ دل میں رہتا ہے لیکن زباں پہ کوئی نہیں
عجیب وقت نے کھایا ہے پلٹا اب کے تو
مچی ہے لُوٹ یہاں اور دکاں پہ کوئی نہیں
یہ کس نے تیر چلایا ہے آفتاب میاں
لگا بھی دل کو ہے لیکن کماں پہ کوئی نہیں

جن لوگوں سے ہمیں بہت محبّت ھو ان سے کبھی نفرت نہیں ھو سکتی …
پتہ ہے کیوں ؟؟؟
جب یہ بہت عزیز لوگ دھوکہ دیتے ہیں
تو پھر یہ دل سے نکل جاتے ہیں
اور یوں نکلتے ہیں کہ دل انکے لئے کوئی بهی جذبہ رکھنا پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
محبّت ، نفرت ، عزّت ، احترام کچھ بھی نہیں…!!!!

چاند کو توڑ کے لانے کا وہ دعوی نہ کرے
مجھ کو یہ بھی تو بہت ہے کہ وہ دھوکہ نہ کرے
میں جسے سوچ رہا ہوں اسے میں ہی سوچوں
دوسرا کوئی بھی اس شخص کو سوچا نہ کرے
بات کرتا ہے تو پھر بات سنے بھی مجھ سے
میں کروں بات تو پھر بات میں ٹوکا نہ کرے
پاس اپنے جو بٹھائے تو بٹھائے مجھ کو
مجھ سے ہٹ کے وہ کسی اور کو اپنا نہ کرے
اس کو آواز لگانا تو کبھی زیب نہیں
اٹھ کے جاتے ہوئے احباب کو روکا نہ کرے
عشق میں رنج الم کوئی نئی بات نہیں
ان مسائل کے سبب دل کو تو چھوٹا نہ کرے
ڈال دے آنکھ کے آنسو مری جھولی میں مگر
اس حسیں شخص سے کہہ دو کہ وہ رویا نہ کرے

درد سے دل نے واسطہ رکھا
وقت بدلے گا حوصلہ رکھا
رو دئیے میرے حال پہ پنچھی
چگنے جب صرف باجرا رکھا
میں پرندہ بنا ہوں جب سے تو
سرحدوں سے نہ واسطہ رکھا
دھوکہ اکثر ملے ہے اپنوں سے
اپنوں سے تھوڑا فاصلہ رکھا
تاکہ نکلیں نہیں مرے آنسو
درد سہنے کا سلسلہ رکھا
مندروں مسجدوں میں ڈھونڈھے کون
اس لیے دل میں اک خدا رکھا
توڑ دیتے جو حوصلہ آتشؔ
ان خیالوں سے فاصلہ رکھا

تیری خوشبو کا تراشا ہے یہ پیکر کس نے
کر دیا ہے مرا ماحول معطر کس نے
آسماں ہمت پرواز سے کچھ دور نہیں
اس تمنا کے مگر کاٹ لئے پر کس نے
نا سمجھ قطرۂ ناچیز کی وقعت کو سمجھ
تو سمندر ہے بنایا ہے سمندر کس نے
کس کی پازیب کا سنگیت ہے ہستی میری
پاؤں سے باندھ لیا میرا مقدر کس نے
پرتو حسن ہے ناہید گزر گاہ خیال
سر پہ رکھی ہے چھلکتی ہوئی گاگر کس نے
خوش نما دائرے بنتے ہی چلے جاتے ہیں
دل کے تالاب میں پھینکا ہے یہ کنکر کس نے
تو میرا دوست سہی یار مگر یہ تو بتا
وقت یہ دھوکہ دیا ہے مجھے اکثر کس نے
دفعتاً کس نے جگا دی مری سوئی قسمت
میرا منہ چوم لیا خواب میں افسرؔ کس نے

بد نصیبی کی سولی پہ نیند آ گئی خواب دیکھا مگر خواب نے کیا دیا
خوش گمانی کی خوش رنگ قندیل نے نا مرادوں کو صحرا میں بھٹکا دیا
شامیانے میں دریاں لپیٹی گئیں دوست اٹھنے لگے کچھ نے کندھا دیا
بین کرتے ہوئی عورتیں ہٹ گئیں اور میرے جنازے کو رستہ دیا
دو گھڑی میں مری عصر ڈھلتی ہوئی اٹھ کے مغرب کی دیوار سے جا لگی
اور معدوم ہوتے ہوئے چاند نے آہ بھرتی ہوئی شب کو پرسہ دیا
میں توقف کے کونے میں گوشہ نشیں میرؔ صاحب کی تصویر تکتا رہا
شبد پردے کے پیچھے سے ظاہر ہوئے شعر نے جھک کے ہاتھوں کو بوسہ دیا
آسمانی صحیفوں کی تاریخ ہے نا شناسوں میں ہادی ستائے گئے
پاک بازوں پہ تہمت لگائی گئی پارساؤں کو دنیا نے دھوکہ دیا
جب زمانے کے ہاتھوں ستائے ہوئے چند سادات ملتان میں بس گئے
مائی دھرتی نے ماتھوں کی تعظیم کی شاہ دریا نے تلووں کو بوسہ دیا
یار احمد جہانگیرؔ جیتے رہو شہر میں خیر مقدم کا ہنگام تھا
واہ بربط کو صحرا میں پھینک آئے ہو اور مشعل کو مٹی میں دفنا دیا

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے
اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے
روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا
دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے
موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا
ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے
پوری طرح سے ہاتھ میں آیا نہیں کبھی
وہ حسن بے مثال بھی آدھا سراب ہے
کھلتا نہیں ہے ریت ہے پانی کہ اور کچھ
میری نظر کے سامنے پہلا سراب ہے
سورج کی تیز دھوپ میں دھوکہ ہر ایک شے
کالی گھٹا سی رات میں سایہ سراب ہے

دھوکہ دیتی ہے یہ محراب کی کالک اکثر
لوگ کردار سے کُھلتے ہیں جبینوں سے نہیں
مجھ سے اک پل کی بھی غفلت نہ برتنے والے
رابطہ خود سے مرا کتنے مہینوں سے نہیں

کبھی کبھی معلوم بھی ہوتا ہے کہ سامنے والا شخص دھوکہ دے رہا ہے
لیکن اسے چھوڑا نہیں جاتا کیونکہ اس کے دھوکے سے تو جی لیں گے مگر اس کے بغیر نہیں

مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائے
ہر بلا سر پہ آجائے میری حسن والوں سے اللہ بچائے
ان کی معصومیت پر نہ جانا ان کے دھوکے میں ہرگز نہ آنا
لوٹ لیتے ہیں یہ مسکرا کر ان کی چالوں سے اللہ بچائے
بھولی صورت ہے باتیں ہیں بھولی منہ میں کچھ ہے مگر دل میں کچھ
لاکھ چہرا سہی چاند جیسا دل کے کالوں سے اللہ بچائے
دل میں ہے خواہش حور وجنت اور ظاہر میں شوق عبادت
بس ہمیں شیخ جی آپ جیسے اللہ والوں سے اللہ بچائے
ان کی فطرت میں ہے بے وفائی جانتی ہے یہ ساری خدائی
اچھے اچھوں کو دیتے ہیں دھوکہ ، بھولے بھالوں سے اللہ بچائے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے
جھوٹ کما کر لاتا ہے
جانے وہ اس چہرہ پر
کس کا دھوکہ کھاتا ہے
مشکل سن لی جاتی ہے
کوئی کرم فرماتا ہے

جیسے تم نے وقت میں ہاتھ کو روکا ہو
سچ تو یہ ہے تم آنکھوں کا دھوکہ ہو
! اسی لیے تو سب سے زیادہ بھاتی ہو
کتنے سچے دل سے جھوٹی قسمیں کھاتی ہو

انجانے میں ہم اپنا دل گوا بیٹھے
اس پیار میں کیسا دھوکہ کھا بیٹھے
اس سے کیا گلہ کریں بھول ہماری تھی
جو بنا دل والوں سے دل لگا بیٹھے

محبت آس کا پنچھی
محبت باس ہے تیری
محبت دل کا مندر ہے
بسا ہے روح میں میری
محبت سوچ کا دریا
محبت راگ منگتوں کا
مناتا ہوں جسے تاعمر
وہی ہےسوگ رسموں کا
محبت چاشنی رب کی
محبت بندگی سب کی
محبت فرض جیسی ہے
محبت قرض جیسی ہے
محبت آگ جسموں کی
محبت جرم قسموں کا
محبت طوق وعدوں کا
محبت موت فرقوں کی
محبت نظم فطرت کی
محبت غزل کی صورت
محبت مرثیہ شب کا
محبت مثنویِ شام
محبت شور دریا کا
محبت خواب جھیلوں سا
محبت میگھنا کا راگ
اڑاتا ہے سروں پہ خاک
محبت صوفی کی منت
محبت سنت کا پیالہ
محبت درد کا آنگن
محبت خبط کی جنت
محبت یاد ماضی کی
محبت حال کا نوحہ
محبت فلک کا دھوکہ
محبت جوگی کا چولہ
محبت راز قدرت کا
محبت خار گلشن کا
محبت آپلہ پگ کا
محبت قافلہ سگ کا
محبت سانس خوشبو کی
محبت پھانس کانٹے سی
محبت ترس تعلق کا
محبت حرس ملنے کی
محبت سراب ہے یارو
محبت ثواب ہے یارو
جو ملنے پر نہیں ملتی
اک عذاب ہے یارو
محبت نہ ملے تو پھر
ساری قاتل خدائی ہے
محبت کی سدا منزل
میری جاں بس جدائی ہے
میری جاں بس جدائی ہے

عشق اقرار میں ڈوبے تو کہانی مانگے
جیسے صحرا میں بھٹکتا ہوا پانی مانگے
دل فسوں ساز مہکنے کو ترستا جائے
گویا وہ عشق میں اشکوں کی روانی مانگے
حسن دھوکہ ہے کسی آنکھ کی بینائی کا
عشق دریا ہے نگلنے کو جوانی مانگے
یار کا روگ کسی یاد میں ڈھلتا جائے
یاد کا ربط وہی شوخ دوانی مانگے
ہجر مانگے ہے وہی دن جو ترے ساتھ کٹے
آنکھ غم خوار وہی شام سہانی مانگے
سوچ سولی پہ چڑھی اندھی عقیدت اکثر
جہل کردار سے عظمت کی نشانی مانگے
ہوگئ مات جسے وہ ہی تو اب ہر لمحہ
ہار سے جیت کی تربت کے معانی مانگے

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے
پیار گر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے
ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلے نظریں وہ اپنی جھکائے
وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے
جاگ اٹھیں گے تو آہیں بھریں گےحسن والوں کو رسوا کریں گے
سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے ان کو بیدار کرنا منع ہے
ہم نےکی عرض اے بندہ پرور کیوں ستم ڈھا رہے ہو یہ ہم پر
بات سن کر ہماری وہ بولے ہم سے تکرار کرنا منع ہے
سامنے جو کُھلا ہے جھروکا، کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکہ
اب بھی اپنے لیے اس گلی میں شوقِ دیدار کرنا منع ہے

میرے دل میں تم تھی
میری ہر سانس میں تم تھی
میرے جسم میں تم تھی
میری روح میں تم تھی
تم نے جو دھوکا دیا ہے مجھے
اب صرف دماغ میں ہو تم

اور اک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کو صبر آجاتا ہے
کسی کی ضرورت نہیں رہتی سب کچھ جب اللّه سامنے لے آتا ہے
انسان کسی کو اپنے جذبات نہیں دیکھا سکتا جو اللّه کو دکھاتا پچھتاوا ہوتا ہے
کے ہم منافقو دھوکہ بازو کے ساتھ بی مخلص تھے

جو آسانی سے ملے وہ ہیں ۔
دھوکہ
جو مشکل سے ملے وہ ہیں۔
♥عزت♥
جو دل سے ملے وہ ہیں۔
♥پیار♥
اور جو نصیب سے ملے وہ ہیں۔
♥دوست♥

انسان کو انسان دھوکہ نہیں دیتا ہے
بلکے انسان کو اسکی وہ امید دھوکہ دیتی ہے
جو وہ
!!دوسروں سے لگاے رہتا ہیں ۔۔۔

دنیا ایک دھوکہ ہے یہاں کوئی آپکا ہمدرد نہیں آپ تنہا آئے ہیں
اور تنہا ہی جانا ہے کسی سے دل لگانے سے بہتر ہے خدا سے لو لگائیں

ہاں ہم مانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دیا
مگر یہ نہیں جانتے آپ
دھوکا دینے کی وجہ بھی آپ تھے
جیسا کہ آپ نے ہم کو کہا تھا ہم سب دکھ میں آپ کے ساتھ رہیں گے
مگر جب بات آئی تو آپ نے بھی ہم کو دھوکا دیا تھا

نبھا نہ سگیں تاں سہارا نہ ڈیویں
کوئی خواب میکوں اُدھارا نہ ڈیویں
زمانے دے رلے جے ماریں توں پتھر
رقیباں کوں اکھ دا اشارہ نا ڈیویں
میڈا ہتھ پکڑ کے جے ول چھوڑ ڈیویں
بھنور اچ میں ٹھیک آں کنارہ نا ڈیویں
سجن تیڈی نفرت ملاوٹ تو پاک ھئے
محبت دا دھوکہ دوبارہ نا ڈیویں
عمر کھپدیں ساری گزاری اے شاکرؔ
بڈھیپے دے وچ توں کھپارا نا ڈیویں

ہجر کی رت دہائی دیتی ہے
سانس جب تک رہائی دیتی ہے
وہ محبت کا نام لیتی ہے
مجھ کو وحشت سنائی دیتی ہے
درد دیتی ہے اس کی بے قدری
درد بھی انتہائی دیتی ہے
جب وہ آنکھیں چرانے لگتی ہے
مجھ کو طعنے خدائی دیتی ہے
روز کنگن پہننے لگتی ہے
روز دھوکہ کلائی دیتی ہے

روز اول سے اجل کھیل رہی ہے شطرنج
مجھ کو شہہ ہو بھی چکی مات ابھی باقی ہے
چاندنی پر ہے تمہیں رنگِ سحر کا دھوکہ
گل نہ کر دینا دیے رات ابھی باقی ہے
ہر غزل کی مجھے تکمیل پہ محسوس ہوا
دل میں کہنے کو کوئی بات ابھی باقی ہے

زندگی کا بھروسہ نہیں دنیا کا یقین کیا کرے
آج کی یاری مطلب کی کوئی کسی کیلئے کیوں مرے
بھائی بھائی سے کرے دھوکہ غیروں سے امید کیا کریں

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا

مجھے تو بس اپنے رب پر بھروسہ ہے
باقی دنیا میں تو دھوکہ ہی دھوکہ ہے

” پہلے سفر کے واسطے صحرا دیا مُجھے
پھر خود سراب بن گیا دھوکہ دیا مُجھے
میں چاند بن کے سوچتا رہتا ہوں ساری رات
کالے گگن پہ کس لئے لٹکا دیا مُجھے
میں نے اُٹھا کے طاق سے دے مارا خاک پر
آنکھیں دکھا رہا تھا یہ جلتا دیا مُجھے “

کرتا ہوں ندا اشاروں سے
بات کرتا ہوں آبشاروں سے
جو خود کو کہتے تھے باوفا
دھوکہ ملا ان یاروں سے

ہاں ہم مانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دیا
مگر یہ نہیں جانتے آپ
دھوکا دینے کی وجہ بھی آپ تھے
جیسا کہ آپ نے ہم کو کہا تھا ہم سب دکھ میں آپ کے ساتھ رہیں گے
مگر جب بات آئی تو آپ نے بھی ہم کو دھوکا دیا تھا

نبھا نہ سگیں تاں سہارا نہ ڈیویں
کوئی خواب میکوں اُدھارا نہ ڈیویں
زمانے دے رلے جے ماریں توں پتھر
رقیباں کوں اکھ دا اشارہ نا ڈیویں
میڈا ہتھ پکڑ کے جے ول چھوڑ ڈیویں
بھنور اچ میں ٹھیک آں کنارہ نا ڈیویں
سجن تیڈی نفرت ملاوٹ تو پاک ھئے
محبت دا دھوکہ دوبارہ نا ڈیویں
عمر کھپدیں ساری گزاری اے شاکرؔ
بڈھیپے دے وچ توں کھپارا نا ڈیویں

ہجر کی رت دہائی دیتی ہے
سانس جب تک رہائی دیتی ہے
وہ محبت کا نام لیتی ہے
مجھ کو وحشت سنائی دیتی ہے
درد دیتی ہے اس کی بے قدری
درد بھی انتہائی دیتی ہے
جب وہ آنکھیں چرانے لگتی ہے
مجھ کو طعنے خدائی دیتی ہے
روز کنگن پہننے لگتی ہے
روز دھوکہ کلائی دیتی ہے

روز اول سے اجل کھیل رہی ہے شطرنج
مجھ کو شہہ ہو بھی چکی مات ابھی باقی ہے
چاندنی پر ہے تمہیں رنگِ سحر کا دھوکہ
گل نہ کر دینا دیے رات ابھی باقی ہے
ہر غزل کی مجھے تکمیل پہ محسوس ہوا
دل میں کہنے کو کوئی بات ابھی باقی ہے

زندگی کا بھروسہ نہیں دنیا کا یقین کیا کرے
آج کی یاری مطلب کی کوئی کسی کیلئے کیوں مرے
بھائی بھائی سے کرے دھوکہ غیروں سے امید کیا کریں

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا

” پہلے سفر کے واسطے صحرا دیا مُجھے
پھر خود سراب بن گیا دھوکہ دیا مُجھے
میں چاند بن کے سوچتا رہتا ہوں ساری رات
کالے گگن پہ کس لئے لٹکا دیا مُجھے
میں نے اُٹھا کے طاق سے دے مارا خاک پر
آنکھیں دکھا رہا تھا یہ جلتا دیا مُجھے “

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے
یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے
کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت
کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے
ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور
مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے
تو پھر وجود امارت نظر کا ہے دھوکہ
جب اینٹ اینٹ ہی تعمیر سے مکرتی ہے
دعا یہ کیجیے یاروں کہ ہوش میں آؤں
مری نگاہ محبت تلاش کرتی ہے
نہ خود کے رہتا ہے انساں نہ دوسروں کے قریب
کوئی حسین شناسائی جب بکھرتی ہے
ستم گروں کو عبادت گزار مت جانو
خدا کی بندگی اظہرؔ خدا سے ڈرتی ہے

کرتا ہوں صدا اشاروں سے
بات کرتا ہوں آبشاروں سے
جو خود کو کہتے تھے باوفا
دھوکہ ملا ان یاروں سے

ہاں ہم مانتے ہیں کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دیا
مگر یہ نہیں جانتے آپ
دھوکا دینے کی وجہ بھی آپ تھے
جیسا کہ آپ نے ہم کو کہا تھا ہم سب دکھ میں آپ کے ساتھ رہیں گے
مگر جب بات آئی تو آپ نے بھی ہم کو دھوکا دیا تھا

زندگی کا بھروسہ نہیں دنیا کا یقین کیا کرے
آج کی یاری مطلب کی کوئی کسی کیلئے کیوں مرے
بھائی بھائی سے کرے دھوکہ غیروں سے امید کیا کریں

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا
زندگی اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا

محبت ہی محبت ہے
محبت ہی میں دھوکا ہے
محبت کرنے والوں کو ہمیشہ روتے دیکھا ہے

! اہک بات بتاؤ یاروں
کبھی بھی اس انسان کے ساتھ دھوکا نہ کرنا
جو تمہارے لیے اپنے گھر تک کو چھوڑنے کے لیے مان جاے

دھوکہ دیتی ہے یہ محراب کی کالک اکثر
لوگ کردار سے کُھلتے ہیں جبینوں سے نہیں
مجھ سے اک پل کی بھی غفلت نہ برتنے والے
رابطہ خود سے مرا کتنے مہینوں سے نہیں

جیسے تم نے وقت میں ہاتھ کو روکا ہو
سچ تو یہ ہے تم آنکھوں کا دھوکہ ہو
! اسی لیے تو سب سے زیادہ بھاتی ہو
کتنے سچے دل سے جھوٹی قسمیں کھاتی ہو

انجانے میں ہم اپنا دل گوا بیٹھے
اس پیار میں کیسا دھوکہ کھا بیٹھے
اس سے کیا گلہ کریں بھول ہماری تھی
جو بنا دل والوں سے دل لگا بیٹھے

تلخ حقیقت
لوگوں سے دھوکہ کھانے کے بعد بعض اوقات انسان اتنا محتاط ہوجاتا ہے
… کہ اچھے لوگوں سے بھی ڈرنے لگتا ہے

بھیڑ میں دو منٹ آنکھوں سے وہ اوجھل ہوا تو
پھر میں سمجھا کہ پریشانی کسے کہتے ہیں
کسی اپنے سے کبھی دھوکہ ملا ہے جس کو
اُس کو معلوم ہے حیرانی کسے کہتے ہیں

• وَمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ
“اور دُنیا کی زِندگی محض دھوکہ ہے”

خود اپنے ساتھ دھوکہ کیوں کروں میں
کسی سائے کا پیچھا کیوں کروں میں
اسے میں بھول جانا چاہتا ہوں
مگر خود پر بھروسہ کیوں کروں میں
کبھی سوچوں کہ خود میں لوٹ آؤں
کبھی سوچوں کہ ایسا کیوں کروں میں

لوگ دنیا کو حقیقت سمجھ بیٹھے”
“حالانکہ بنانے والے نے بتایا تھا دھوکہ ہے
کچھ مخلص اس لیے بھی ہوں کہ”
“تربیت نے دھوکہ دینا نہیں سکھایا

صبر میں اتنی طاقت ہوتی ہے”
“کہ دھوکہ دینے والوں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے
فقط محبوب ہی دھوکہ نہیں دیتا ہے جناب”
“کچھ دوستوں کی مہربانیاں بھی ہوتی ہے

اے قمر ہجرکی شب کٹ گئی دھوکہ ہے تمہیں”
“صبح ہوتی تو ستارے نہ درخشاں ہوتے
ھم نے دیکھا ہے زمانے بھر کو”
“اس کی آڑ میں دھوکہ چھپا ہے

ہی الفت کی دنیا ہے یہاں کون کیسی کا ہوتا ہے”
“دھوکا وہی دیتا ہے جس پر بھروسہ ہوتا ہے
لوگوں سے دھوکہ کھانے کے بعد بعض اوقات انسان اتنا***
***محتاط ہوجاتا ہے کہ اچھے لوگوں سے بھی ڈرنے لگتا ہے

سبق اس زندگی میں بس اتنا ہی ملا ہے”
“دھوکہ بس وہ نہیں دیتا جسے موقع نہیں ملتا
__________ حروف دھوکہ۔ ****
—– تشریح
*** سب کو ملے گا
Conclusion – Pain Teaches What Trust Couldn’t
Every Dhoka is a turning point in someone’s life. It reveals the people to trust, the things to defend, and the ways of rising.
Through these Urdu wisdoms regarding Dhoka, we are reminded that nothing is completely dark, with the advice even in suffering and endurance through betrayal.
Your tears signify that you were very much trusting; they do not make you powerless.
Yet, one day, the very same heart that has undergone a break will be healed — more insightful, more composed, and more tranquil than ever.
As one Urdu poet put it:
“Dhoka khakar bhi hum muskuraye,
Kyunke sach samajhna bhi ek naseeb hota hai.”
(Even after betrayal, we smiled — because understanding truth is also a gift.)
Thank-You Message
Your reading of our compilation of over 70 Dhoka Quotes in Urdu is highly appreciated.
Let these quotes be a reminder to you that suffering is a transitory state, teaching is permanent, and life continues, albeit with increased vigor.
In case any of the lines here resonate with you, do not hesitate to share, for your expression might sometimes turn out to be the remedy for another’s pain.
FAQs
Q1: What are the Dhoka quotes in Urdu?
They are sayings in Urdu and poetry lines that show the feelings of pain, heartache, and disappointment caused by betrayal or deceit.
Q2: Are these quotes solely focused on love betrayal?
No. The pain of love, friendships, and broken promises are all included in these Urdu Dhoka quotes.
Q3: Can I post these quotes on social media?
Yes! These sad Urdu quotes are just what you need for your Instagram captions, WhatsApp statuses, or poetry posts.
Q4: Are these Dhoka quotes difficult to read?
Yes — they’re written in easy-to-understand Urdu, thus, every reader can easily comprehend and empathize with the feelings expressed.
Q5: Why do people enjoy reading Dhoka quotes so much?
Because they provide a way to articulate one’s suffering and let the emotions out, which, in turn, relates to the fact that heartbreak is a human experience.
