❤️ 100+ Izhar-E-Mohabbat Poetry in Urdu
Introduction
Love is that particular emotion which does not make any noise and continues to exist in the heart.
Izhar-E-Mohabbat refers to the expression of love, which is very truthful and full of feelings. Many people search for Izhar-E-Mohabbat poetry in Urdu to share their feelings in a soft and beautiful way.
This collection of 100+ Izhar-E-Mohabbat Poetry in Urdu is made for those who want to say “I love you” with respect, warmth, and true emotion.
Description
Expressing love is not always easy. Sometimes words fail, but poetry speaks.
That is why people look for:
- Izhar-E-Mohabbat poetry in Urdu
- Pyar ka izhaar shayari
- Romantic Urdu poetry
- Love confession poetry
- Heart-touching Urdu love quotes
These poetry lines are simple, emotional, and easy to understand. You can use them for WhatsApp status, messages, Instagram captions, or to express your feelings to someone special.
میں بنت حوا _میں اپنے رب کی شکرگزار ہوں جس نے مجھے عورت بنایا،میں رب کائنات کی سب سے
!!خوبصورت اور دلکش انمول تخلیق
اپنے رب کی رضا سے سب رشتوں کی بنیاد ہوں محبت ہوں، اظہار ہوں ،فطرت ماں ہوں چھاوں ہوں بیٹی ہوں تو رحمت ہوں بیوی ہوں تو
محبت کی دیوی اور امانت کی نگہبان ہوں،، مجھے میرے رب نے وہ تمام صلاحیتیں عطا کی ہیں کہ میں جس رشتے میں بھی ڈھل جاوں حکم
، الہی سے تصویر کائنات میں رنگ بھر دیتی ہوں
میں اپنے رب کی محتاج ہوں میرا جسم میری روح میری سب عنائتیں میرے اللّٰہ کی شکرگزار ہیں
❤️ میرا جسم اور میری مرضی صرف اپنے رب کی محتاج ہیں اور شکرگزار ہیں

کسی کو کچھ دینا ہی ہدیہ نہیں ہوتا بلکہ کسی پر غصہ آجائے تو اُس کا اظہار نہ کرنا اور
!!.کسی کے راز معلوم ہوتو اُس کو چھپانا کسی کی عزت کو تار تار کرنے سے اپنی زبان کو بچانا بھی ہدیہ ہی ہے

حال کیا دل کا ہےاظہار سے روشن ہوگا
یعنی کردار تو کردار سے روشن ہوگا
رات دن آپ چراغوں کو جلاتے کیوں ہو
گھر چراغوں سے نہیں پیار سے روشن ہوگا

میں نے بھیجا تجھے ایوان حکومت میں مگر
اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہو سکتا
تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے
رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہو سکتا
وہ جو شعروں میں ہے اک شے پس الفاظ ندیمؔ
اس کا الفاظ میں اظہار نہیں ہو سکتا

_اظہار محبت پر تو ہم نے آنا ہی نہیں تھا٫
میری زندگی میں جو آئے راستے ان پر تو جانا ہی نہیں تھا٫
آپ نے پڑھایا جو سبق وفاؤں کا،وہ تو کسی استاد نے پڑھا نا ہی نہیں تھا._

کہنا چاہوں تو چند لمحوں میں کہہ دوں مجھے تم سے محبت ہے مگر اس بول کے الفاظ
میری عمر کے دنوں کے معاملے میں کافی چھوٹے پڑ جائیں گے میں تمہیں تا عمر محبت کر
پاوں گا یا نہیں یہ میں نہیں جانتا مگر شاید اب تلک میری جذباتوں کے اظہار میں اس سوچ کا
بڑھنا میرے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے کہ کس شدت سے میں تمہیں محسوس کرتا ہوں تمہیں سوچتا ہوں
پل پل ہر گٹھی ہر وقت بس تم ہی سے گفتگو کرتا ہوں
لیکن کبھی کبھی وقت کی روانی سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے صبر سے تمہارا دل بھی
لبریز نہ ہو کہیں میں بدل نہ جاوں کہیں خود سے مکر نہ جاوں یہی احساس مجھے ہر دو پل کروٹیں
بدلتے آتی ہیں تم بھی سوچنا اس بارے میں کہ تمہیں پا کہ مجھے کیا خوشی حاصل ہوگی
گر سوچتے سوچتے مسکرائی تو سمجھ لینا میرے بارے میں بھی تمہیں بھی یہی محسوس ہوتا ہے
تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے تب شاید مجھے اس عمر دراز کو کاٹنے کے لیے کچھ اوصاف میسر ہوں

اتنا بزدل تو نہیں ہار سے ڈر جائے گا دنیا والوں کے کسی وار سے ڈر جائےگا
وقت ملنے دو پلٹ آئے گا میری جانب کیسے طوفاں بھلا دیوار سے ڈر جائے گا
مجھ سے پوچھے گا سبھی میرے جنوں کے قصے اور خود جرات اظہار سے ڈر جائے گا
جھانک کر آنکھوں میں کہہ دے گا تمہارا ہوں فقط پھر سے پوچھوں گی تو اقرار سے ڈر جائے گا
ہم نے وہ رنج اٹھائے ہیں تیری فرقت میں اب تو دل ہجر کے آثار سے ڈر جائے گا
تیرے بیمار کی پھر کون مسیحائی کرے تو ہی گر زخمِ دل آزار سے ڈر جائے گا
آج فرصت ہے تو کہہ دو کہ تغافل نہ کرے ہم سے بچھڑے گا تو ہر خار سے ڈر جائے گا
تم سے منصف بھی وفادار نہیں ہونگے تو پھر ہائے ہر صاحب دل پیار سے ڈر جائے گا ✍

*زبان سے لگائے گئے زخم تلوار سے لگائے گئے زخم سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں*
اِس سنہری اصول کوہمیشہ یاد رکھیں۔
کہیں ایسا نہ کسی کا مذاق اڑاتے ہوئے،تحقیر کرتے ہوئے، طنز کرتے ہوئے
، لعن طعن کرتے ہوئے ، کسی اپنے سے بحث یا جھگڑا کرتے ہوئے یا غصے یا نفرت کا اظہار کرتےہوئے
آپ اپنے اورکسی دوسرے کے درمیان تعلق میں مستقل دراڑ پیدا کرلیں۔

محبت کا اظہار، اپنائیت کا احساس، ساتھ نبھانے کی کوشش اور مسکرانے کی وجہ بننے کے لئے
خاص دنوں کاانتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہر دن اپنے ساتھ موجود شخص کو ان احساسات سے گھیرے رکھیں۔

رشتہ ایک ایسا پودا ہے
جس کو ہر روز اظہار کا تھوڑا تھوڑا پانی دیتے رہنا چاہیے
اگر ایک ہی دن بہت سارا پانی ڈال دو گے تو چند دنوں میں پودا ختم ہوجائے گا

زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کھانا پینا، بچے پیدا کرنا اور مر جانا۔ ایسا تو جانور بھی کرتے ہیں۔
پھر انسان کیونکر جانوروں سے افضل ہے؛ کہ وہ شعور رکھتا ہے، عقل کا استعمال کرتا ہے یا
دکھ کا اظہارکرتا ہے۔ کسی نہ کسی درجے پہ جانور بھی یہ سب کچھ کرتے ہیں۔
میں کہتا ہوں انسان اس لئے مختلف ہے کہ وہ آعلیٰ درجے کی محبت اور ہمدردی کا مالک ہے
اور وہ سمجھتا ہے کہ ایک بھر پور زندگی جی کر اور ہر طرح کی عیش سے لطف اندوز ہونے کے بعد بھی
سچی خوشی خدمت اور بے لوث محبت میں پوشیدہ ہے اور جو یہ راز پا چکے ہیں ان کی روح کو کوئی دکھ نہ ہو گا۔

- … ہم شارٹ کٹ کے عادی لوگ ہیــــــــں … محبتـــــــــــــــــ میــــں بھی یہی کرتے ہیــــــــں … احترام
توجہ … اور خیال رکھنے کی … منازل کو چھوڑ کر … سیدھے وفا … اظہار … قربانی … تک
پہنچنے کی کوشش کرتے ہیــــــــں … بالکل اسی طرح … الله عزُوجَل سے محبتـــــــــــــــــــــــــ
… میــــــــں بھی
بنیادی فرائض … ادب … اور خشوع کو
… skip
کر کے ولی ہونے کی
… acting
*!!!……. کرنے لگتے ہیــــــــں … انسان بہت جلد باز ہــــــــے

خامشی ہی میں سہی پر کبھی اظہار تو کر
اس قدر ضبط سے سینہ ترا پھٹ جائے گا

اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار
ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے

دل کی باتیں دوسروں سے مت کہو لٹ جاؤ گے
آج کل اظہار کے دھندھے میں ہے گھاٹا بہت

وہ لمحہ زیست کا لعنت ہے آدمی کے لیے
جھکے جو سر کہیں اظہار بندگی کے لیے

کبھی میں جرأت اظہار مدعا تو کروں
کوئی جواز تو ہو لطف بے سبب کے لئے

آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

محبت ہم نے کی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں
وہ آئیں اور آکر اظہار کریں

کب تک یوں خاموش محبت کرو گی میری جان
کر بھی دو اظہار اب یہ دل تمہارا ہونا چاہتا ہے

جگ سارا راضی کر کے وی اک تو ہی راضی نئیں ہوندا
ناں عمر محبتاں کر کے وی اک تو ہی حاصل نئیں ہوندا
تو کی جانیں پریت میری نا تو جانے میت میری
لوک پریئے تو رہنا ویں کیوں ساڈا فیر وی نئیں ہوندا
اک تو ہی مینوں جچدا ایں اک تو ہی مینوں سجدا ایں
تو چاہ تے میری کرنا ایں اظہار تیرے تھوں نئیں ہوندا
تو دن آکھیں تے دن مناں کہیں جے رات تے رات آکھاں
سب سن گن تے تو رکھنا ایں اعتبار تیرے تھوں نئیں ہوندا
سی لیکھ نصیباں دا لکھیا اسی تیری راہ وچ رل گئے آں
قسمت دی گل تے من لیندا پر فیر وی میرا نئیں ہوندا
سدا حیاتی نئیں رہندی اج زندہ وا کل بنئے یاد
سنگ ہس رو کے ایہنوں جی لئیے کل اج جیسا نئیں ہوندا

نہیں تھی ہوس تیرے جسم کی ہم کو
اسی لیے اظہارے محبت نہ کر سکے . ہم

نمائش کرنے سے چاہت بڑھ نہیں جاتی
محبت وہ بھی کرتے ہیں جو اظہار نہیں کرت

اظہار محبت مرے آنسو ہی کریں گے
اظہار بہ انداز دگر ہو نہیں سکتا

اگر لفظ و بیاں ساکت کھڑے تھے دوسری سمت
ہمیں کو رنج کا اظہار کرنا چاہیئے تھا

نکی عمر اچ عابد دل لا کے، پریشانیاں مل لئے لئیاں ,,,,,,,
–
،،،،،،، اظہار کریندیاں دیر ہو گئی، گلاں دل دیاں دل اچ رئیاں
–
اوہدی نرم نفیس ہتھیلی تے، مہندی لائی چا غیر دی سئیاں,,,,,,,
–
،،،،،،، اوہنوں ویکھ کے نال رقیباں دے، ہو جگر نوں موریاں گئیاں

چلو کہ جذبۂ اظہار چیخ میں تو ڈھلا
کسی طرح اسے آخر ادا بھی ہونا تھا

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

کبھی اظہار محبت کبھی شکوؤں کے لیے
تجھ سے ملنے کا کوئی روز بہانا چاہے

#بیان_ع_وفا کر دیا ہے اُسنے اپنی تحریروں میں
#اظہار_ع_عشق باقی ہے

کیوں نہ تنویرؔ پھر اظہار کی جرأت کیجے
خامشی بھی تو یہاں باعث رسوائی ہے

زباں خاموش مگر نظروں میں اجالا دیکھا
اس کا اظہار محبت بھی نرالا دیکھا

کوئی اظہار کر سکتا ہے کیسے
یہ لفظوں سے زباں کا فاصلہ ہے

کیجے اظہار محبت چاہے جو انجام ہو
زندگی میں زندگی جیسا کوئی تو کام ہو

مسئلہ یہ نہیں کہ عشق ہوا ہے ہم کو
مسئلہ یہ ہے کہ اظہار کیا جانا ہے

چلو کہ جذبۂ اظہار چیخ میں تو ڈھلا
کسی طرح اسے آخر ادا بھی ہونا تھا

ہیں سو طریقے اور بھی اے بے قرار دل
اظہار شکوہ شکوے کے انداز میں نہ ہو

یوں تو اشکوں سے بھی ہوتا ہے الم کا اظہار
ہائے وہ غم جو تبسم سے عیاں ہوتا ہے

اظہار خموشی میں ہے سو طرح کی فریاد
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

حرف کو لفظ نہ کر لفظ کو اظہار نہ دے
کوئی تصویر مکمل نہ بنا اس کے لیے

گھرا ہوا ہوں جنم دن سے اس تعاقب میں
زمین آگے ہے اور آسماں مرے پیچھے

اندھیری شام تھی بادل برس نہ پائے تھے
وہ میرے پاس نہ تھا اور میں کھل کے رویا تھا

ترا پاؤں شام پہ آ گیا تھا کہ چاند تھا
ترا ہجر صبح کو جل اٹھا تھا کہ پھول تھا

کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا
اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا

بوس و کنار کے لئے یہ سب فریب ہیں
اظہار پاک بازی و ذوق نظر غلط

عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے
آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئے

اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی
ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں

میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے
جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ملے

اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھ
تیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیا

بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہو
تو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیے

ہزار جام چھلکتے ہوئے نفس بہ نفس
ہزار باغ مہکتے ہوئے قدم بہ قدم

زباں سے شعر کی تعریف ہو نہیں سکتی
کہ ایک ذرے سے اب تک ہے عقل نامحرم

نہ پوچھ شعر ہے کیا چیز مجھ سے اے ہمدم
مزاج آتش سوزاں لطافت شبنم

جلو میں حضرت جبریل سر جھکائے ہوئے
بلند عرش کے تاروں سے عظمت آدم

ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی
میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی

تمام مظہر فطرت ترے غزل خواں ہیں
یہ چاندنی بھی ترے جسم کا قصیدہ ہے

تاریکیوں کے پار چمکتی ہے کوئی شے
شاید مرے جنون سفر کی امنگ ہے

ان سے ملنے کا منظر بھی دل چسپ تھا اے اثرؔ
اس طرف سے بہاریں چلیں اور ادھر سے خزائیں چلیں

تو بھی تو ہٹا جسم کے سورج سے اندھیرے
یہ مہکی ہوئی رات بھی مہتاب بکف ہے

سونے سونے سے دریچوں سے اداسی جھانکے
کیا عجب خوف ہے چہرے بھی کسی در میں نہیں

ابھی تکمیل الفت پر نہ دل مغرور ہو جائے
یہ منزل وہ ہے جتنی طے ہو اتنی دور ہو جائے

دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجے
لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

ان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے
دور سے اس کو دکھا دیتے ہیں تربت میری

کس سے اظہار مدعا کیجے
آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے

طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب
ریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا

فن کا دعویٰ ہے تو کچھ جرأت اظہار بھی ہو
زیب دیتا نہیں فن کار کو بزدل ہونا

ہائے اظہار کر کے پچھتائے
اس کو اک دوست کی ضرورت تھی

یہ آنسو یہ پشیمانی کا اظہار
مجھے اک بار پھر بہکا گئی ہو

اظہار نارسا سہی وہ صورت جمال
آئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی

غضب تو یہ ہے وہ ایسا کہہ کے خوشی کا اظہار کر رہے تھے
کہ ہم نے دستاریں بیچ دی ہیں سروں کو لیکن بچا لیا ہے

نشاط اظہار پر اگرچہ روا نہیں اعتبار کرنا
مگر یہ سچ ہے کہ آدمی کا سراغ ملتا ہے گفتگو سے

اظہار غم کیا تھا بہ امید التفات
کیا پوچھتے ہو کتنی ندامت ہے آج تک

اظہار پہ بھاری ہے خموشی کا تکلم
حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور

فقدان عروج رسن و دار نہیں ہے
منصور بہت ہیں لب اظہار نہیں ہے

کٹ گئی احتیاط عشق میں عمر
ہم سے اظہار مدعا نہ ہوا

واقف ہیں خوب آپ کے طرز جفا سے ہم
اظہار التفات کی زحمت نہ کیجیے

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

کیا بلا تھی ادائے پرسش یار
مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا

پرسش حال پہ ہے خاطر جاناں مائل
جرأت کوشش اظہار کہاں سے لاؤں

مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے

اظہار کی یہ بھی صورت تھی
خاموشی کو فریاد کیا

اظہار حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں

سبوئے فلسفۂ عشق و کہکشان حیات
شعاع قہر تبسم, چراغ دیدۂ نم

جہاں ہے شعر چراغ جنوں جلائے ہوئے
وہاں کھڑی ہے خرد اپنا سر جھکائے ہوئے

زمیں سے اہل فلک کو پیام نظارہ
نقاب عارض فطرت کی جنبش پیہم

خروش صرصر و طوفاں جمود دشت و سراب
سرود فصل بہاراں خرام گردش یم

شراب حسن و محبت فشردۂ انجم
انیس شام و سحر ہمدم وجود و عدام

خمار دیدۂ انجم شراب لیل و نہار
حکایت نشنیدہ نگار نا محرم

حریم دل میں جب آتا ہے ناز فرماتا
طرب کے پھول کھلاتا ہے یہ مصور غم

نگار خانۂ حکمت کلید باب جنوں
امین صبح مسرت رئیس شام الم

کر جو دیا اس سے اظہار محبت اشارہ میں
❣️ نہ جانے کیا سوچ رہی ہوں گی ھمارے بارے میں

زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں
مرے معبود کیا کیا بھول جاؤں
تری پرچھائیں تو لے آؤں گھر تک
کہیں اپنا ہی سایہ بھول جاؤں
میں کب تک سوچتا رہتا جہاں کو
یہی بہتر تھا جینا بھول جاؤں
#اردو_زبان✍

میرے درد کو اظہار کا سلیقہ ہی کہاں
یہ تو میرے لفظوں نے مخبری کر دی

والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے
کیا تمہیں اور کوئی شخص ہے پیارا ہم سے
کس لئے شانہ بہ شانہ ہیں نہ جانے ہم تم
ہمیں تم سے نہ تمہیں کوئی سہارا ہم سے
دل اڑا لے گئی دزدیدہ نگاہی اس کی
چھن گیا آہ عجب مال ہمارا ہم سے
ہم نے اظہار ِتمنا کا اثر دیکھ لیا
اب وہ کرتے نہیں ملنا بھی گوارا ہم سے
شہر میں دل کے سوا کون ہمارا ہے شعور
بے تکلّف ہے یہی درد کا مارا ہم سے✍

امید پہ قائم ہے یہ دنیا تو پھر اس میں
مجھ کو ترے ہونے کا سہارا بھی بہت ہے
جی چاہتا ہے تُو کرے اظہار ِ محبت
ویسے تو مجھے ایک اشارہ بھی بہت ہے

ڈر ہے وہ بات کرنا نہ چھوڑ دیں
دوستو اظہار محبت اتنا آساں تو نہیں
آج میرے سوال کا جواب نہ ملا مجھے
پھر یہ سوچنا کہ وہ نالاں تو نہیں

میں لڑکا سے تھا
اور عشق کرنے کی بڑی خواہیش تھی
اظہار محبت سے نفرت تھی
مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے
وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے
میں اس دیوار پر چھڑ تو گیا تھا
اتھارے کون اب دیوار پر سے
گلہ ہے ایک گلی سے شہر دل کی
میں لڑتا پھر رہا ہوں شہر بھر سے

آنکھوں سے اشک بہہ گئے تو لاج رہ گئی
ورنہ تو اظہار غم کا سلیقہ مجھ کو نہ تھا

میں نے پوچھا تھا کہ اظہار نہیں ہوسکتا
دل پکارا کہ خبردار ! نہیں ہو سکتا
اک محبت تو کئ بار بھی ہوسکتی ہے
ایک ہی شخص کئ بار نہیں ہوسکتا
! اور جس سے پوچھے تیرے بارے میں
! یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے ! وفادار نہیں ہوسکتا

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل
پیار کے سینکڑوں اظہار ہوا کرتے ہیں

یہ نہیں ہوتی ، وہ نہیں ہوتی تیرے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں ہوتی
چاہے کوئی جتنا بھی حسین ہو تیرے سامنے کسی کی زلف بھی حسین نہیں ہوتی
نہ دیکھا یہ اپنی ادائےقاتلانہ
میری راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی
جس خواب میں تو آ جائے پھر ان خوابوں کی تابیر نہیں ہوتی
! تابیر کا مجھے کیا کرنا
جب تو ہی میرے ساتھ نہیں ہوتی
جب توساتھ ہو تو کیا بات ہو
تیری یاد آنے پر مجھ سے پھر ریاضی حل نہیں ہوتی۔
تجھ پر لکھتار ہتا ہو غزل صبح و شام ۔۔۔
تب بھی میری تجھ سے بات نہیں ہوتی
بات ہوتی ۔۔ تو کیا۔۔ ہی اچھا۔۔ ہو تا۔۔
میرے دل میں کوئی آرزو ہی نہیں ہوتی۔
اظہار عشق ۔۔ کیا۔۔ کروں۔۔ تم۔۔سے
جب میری تجھ سے ملاقات ہی نہیں ہوتی۔
ملاقات کی تجھ سے ہے درخواست میری
تو ہے کے اس کے لیے تیار نہیں ہوتی ۔۔
اگر ۔۔ تو ۔۔ راضی۔۔ ہو صرف ایک۔۔ لمحے
پھر بھی۔۔رضؔا ۔۔ کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔
تیرے۔۔ساتھ ۔۔ چلنے۔۔کا۔۔ خواب۔۔ تھا۔۔ میرا۔۔۔
خواب پورے کیسے کروں جب راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی۔

اظہار عشق
آنکھوں سے آنکھیں ملا تو کبھی
تیرے دل میں میری جگہ بنا تو کبھی
چل آج کرتا ہوں اظہار عشق تم سے
میرا یے پیغام اس تک پہنچاؤ کبھی

عيد
آج عید کے دن تیرا دیدار ہو جاۓ
بس میری بے طلب پوری ہو جاۓ
کے میں تجھ کو دیکھ لوں بس ایک نگہ
کے شاید اسی میں محبت کا اظہار ہو جاۓ

بدلتے موسم کو دیکھ کر تیری یاد آئی
تیرے بدلتے ہوئے چہرے کی یاد آئی
سوچا امتحاں کے بعد کردوں گا اظہارِعشق
امتحاں کے بعد وہ کبھی دیدار کہ بھی نہیں آئی

آج تو میرے ساتھ نہیں یہ میری غلطی ہے
تجھ سے اظہار نہ کر پایا یہ میری غلطی ہے
اُس غلطی کی سزا میں کاٹ رہا ہو یے زندگی
♥️ تجھ سے اظہار نہ کر پایا محبت کے بارے ،یے میری غلطی ہے

ہم چاہتے ہیں تجھے دل کی گہرائیوں سے
خوف اے دل اظہار کرنے نہیں دیتا

ایک آس ……
ایک احساس ……
میری سوچ ……
اور بس آپ … !…
ایک سوال …….
ایک مجال ……..
آپ کا خیال……..
اور بس آپ … !….
ایک بات …….
ایک شام …….
آپ کا ساتھ…….
اور بس آپ … !…
ایک دعا ……
ایک فریاد……
آپ کی یاد……
اور بس آپ … !…
میرا جنون ……
میرا سکون ……
بس آپ ……
اور بس آپ…..

ہمسفر میرے ایک آس ہو تم
میرا جنون میرا سکون ہو تم
صحراؤں میں بھٹکا ہوا ایک مسافر ہوں
سنو ! میری تلاش ، میری پیاس ہو تم
سائے میں تیرے راحت میسر ہو مجھے
دلکش ، مدہوش ، حسین احساس ہو تم
میرے پاس ہو تم

دل میں چُھپی یادوں سے سنواروں ___تجھکو!!
جی میں آتا ہے اپنی آنکھوں میں اُتاروں تجھکو۔
تیرے نام کو لبوں پہ ایسے_______ سجایا ہے
سو بھی جاؤں تو خوابوں میں پُکاروں تجھکو!!

ساتھ کیا ھے
تیرا ھونا
محبت کیا ھے
تیرا خاموشی سے مجھے سننا
زندگی کیا ھے
تیرا میری ھر بات پر مسکرا دینا
مسکراہٹ کیا ھے
تیرا میرے ساتھ ھو کر بھی نہ ھونا
اس درد کو چھپا کر بھی
تجھے لفظ لفظ جینا اور تیرے ساتھ
مسکرانا ـــــــــــ

مجھے آجکل صرف یہی ڈر رہتا ہے
میرے چہرے پر اُس کا نام نہ پڑھ لے کوںٔی

ایک ایسا شخص دسترس میں ہے میری
بات کر کہ جس سے دل کا بوجھ اتر جاتا ہے
جانے کیسا طلسم ہے اس کے لفظ میں جو
صبح بخیر کہے تو دن اچھا گزر جاتا ہے!!

جب ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ ,
ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮﮞ ,
ﺟﺐ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻮﮞ ,
ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮ , ﺟﺐ ﺣﺪ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﺗﻢ ,
ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ,
,ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮﮞ ,
ﺗﻢ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ,
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ ,
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ کہہ ﺩﯾﻨﺎ ,
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ_____

دل کے ارمان کہ لوں کیا؟
میں تم کو جان کہ لوں کیا؟

محبت محتاج کہاں حسن و جوانی کی ….
ہم تو عمر کے ہر موڑ پہ تمہیں بے انتہا چاہے گے۔…

ایک ہی شخص میری دعاؤں کا محور ٹھہرا
️وہ میری صبح ، میری شام ، میری کائنات ٹھہرا
️دل دھڑکتا ہے تو دھڑکن میں وہی شامل ہے
️وہ میری روح میں شامل میری زندگی ٹھہرا

جب سے ملا ہے وہ ایک شخص مجھے۔۔۔
کیا بہتر، کیا بہترین ،سب خاک برابر۔۔۔۔۔

میں اظہار کروں تو نہ بھی ہو سکتی ہے مگر
تم اظہار کرو تو ہاں کی “زمہ داری“ میری

اک رات اک بات لکھوں گا۔۔۔۔
خود کو داغ اور تمہیں صاف لکھوں گا….
حقیقت میں تو تم مجھے ملو گی نہیں ____
ایک کتاب میں ہم دونوں کی ملاقات لکھوں گا

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے
ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے

اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے
مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے

مجھے نہیں معلوم لوگ خوبصورت باتیں اپنے دلوں میں کیوں قید رکھتے ہیں،
حالانکہ اگر وہ انہیں زبان پر لے آئیں، تو ان کے اور اُن کے چاہنے والوں کے
سینوں میں گلابوں کے باغ کھل اٹھیں..!!

نہ میں کسی معذرت کا منتظر ہوں،
نہ کسی وضاحت کا، نہ کسی حق کی واپسی کا،
نہ کسی رویے کی درستی کا،
نہ کسی غیر حاضر کی واپسی کا — میں مکمل طور پر سنبھل چکا ہوں۔
میں نے معاف کر دیا اور سبق سیکھ لیا۔
اب میری ساری خواہش صرف یہ ہے کہ یہ دل
پُرسکون رہے، اور کوئی بھی ہاتھ اسے دوبارہ نہ چُھونے پائے۔
تم جانتے بھی نہیں کہ اسے کیسے سنبھالا ہے،
اور میں نہیں چاہتا کہ میں اُسے پھر کھو دوں — اپنی ہی ذات کے ہاتھوں!

اِس کو غرور مان لیں__ یا_ پھر ادائے یار
جو گفتگو کے سارے سلیقے بدل گئے
جس دن اُسے بتایا کہ وہ سب سے خاص ہے
اُس دن سے اُس کے طور طریقے بدل گئے

کرتا تو ہے وہ یاد مجھے چاہت سے مگر
ہوتا ہے یہ کمال بڑی مدتوں کے بعد.

وہ اُن دنوں میرے ہمراہ تھا کہ جن دنوں…!!
نہیـں پتـا تھا، کہ اظہار کـیسے کرتے ہیـں…!!

ہاتھ رکھ کر جو وہ پوچھے دل بیتاب کا حال
ہو بھی آرام تو کہہ دوں مجھے آرام نہیں،

تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معنی نے بغاوت کر دی

کسی نے مفت میں پایا وہ شخص
جو مجھے ہر قیمت پر چاہیے تھا
یہ وقــٰٰ۬͜ـٰ۬ـٖت بھی گـ͜ـؔـزر جائــٰٰ۬͜ـٰ۬ـٖے گا

کوئی اشارہ، کوئی اظہار، یا پھر کوئی بات ہی کردے،
کردے مُجھکو قید اپنے اندر،
یا مُکمل آزاد ہی کردے۔

تیری یاد کانچ کے ٹکڑے
اور میرا دل ننگے پاؤں

“ہر مرد نہیں بھاگتا جسم کے پیچھے
پوچھنا کبھی مرد کی پسندیدہ عورت سے

اور پھر میں کیوں تنگ کروں اسے…!!
کیا اسے نہیں پتہ کہ میرا اس کے بغیر دل نہــؔـیں لگــؔـتا…!!

کسی نے مفت میں پایا وہ شخص
جو مجھے ہر قیمت پر چاہیے تھا
یہ وقــٰٰ۬͜ـٰ۬ـٖت بھی گـ͜ـؔـزر جائــٰٰ۬͜ـٰ۬ـٖے گا

ٹوٹ سا گیا ہے میری چاہتوں کا وجود
اب کوئی اچھا بھی لگے تو ہم اظہار نہیں کرتے….

کبھی مصروف لمحوں میں
اچانک دل جو دھڑکے تو______!!
کبھی بےچین سے ہوکر
اگر ہر سانس تڑپے تو_____!!!
کوئی آتش سی تن من میں
اچانک جل کے بھڑکے تو_____!!!
سمجھ لینا محبت کا اشارہ ہے
تمہیں ہم نے پکارا ہے…..

تیری انکھیں بتاتی ہیں تجھے مجھ سے محبت ہے
مگر دل کی تسلی کو ذرا اظہار ہو جائے

ایک اجنبی بہت خاص لگنے لگا مجھے
زندگی کی آس لگنے لگا مجھے
اور جب اظہار محبت کر بیٹھے اس سے
رفتہ رفتہ وہ بھی نظر انداز کرنے لگا مجھے

وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا
میرے جینے کا سہارا ہے اسے کہنا
. لوگ بہت سے پیارے ہیں مجھ کو
. مگر وہ سب سے پیارا ہے اسے کہنا
محبتیں شکایتیں عداوتیں اسکی
مجھے سب گوارا ہے اسے کہنا
. چاہنے والے اور بھی ہیں لیکن
. مجھے صرف انتظار تمہارا ہے اسے کہنا

یہ ہم جو تجھ سے تجھے بار بار مانگتے ہیں
سلیقہ طلب و اِختیار مانگتے ہیں
کسی سے کہہ نہیں دینا کہ عشق ہو گیا ھے
کہ لفظ معنی نہیں اعتبار مانگتے ہیں

ہمیں کہاں سے آئے گالوگوں کا دل جیتنا
ہم تو اپنا بھی ہار بیٹھے ،تم، پر

کوئی بھی پہل نہ کرنے کی ٹھان بیٹھا تھا
اناپرست تھے دونوں مفاہمت نہ ہوئی
وہ شخص اچھا لگا ہم کو ، صاف کہہ ڈالا
یہ دل کی بات تھی ہم سے منافقت نہ ہوئی۔

میں دستیابی کے نقصان جانتا ہوں مگر..
میں کیا کروں کہ مجھے آپ سے محبت ہے…

!!.اے میری ذات میں ہر سمت بہتے ہوئے شخص
__آ کہ اِک شام تیرے سامنے اقرار کروں
!!.تُجھ کو بتلاؤں میرا تُجھ سے تعلق کیا ہے
!!.تُجھ سے اِک چُپ سِی مُحبت کا میں اظہار کروں

ہم بہت یاد آئیں گے
وقت تو ذرا بيت جانے دو

تکلیف دینے کے بعد جتائی جانے والی محبت
اور نظرانداز کرنے کے بعد دی گئی اہمیت کوئی منی نہیں رکھتی

!!!اک نظر تو نے جب سے دیکھا ھے
لوگ جی بھر کے دیکھتے ھیں مجھے۔

عام ہے سارا جہاں ۔۔۔۔۔۔۔
میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
خاص ہو ۔۔۔۔۔۔۔
تم۔۔۔۔

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی
اُف کر کے وہیں بیٹھ گیا دردِ جگر بھی
کیا دیکھیں گے ہم جلوہِ محبوب کہ ہم سے
دیکھی نہ گئی دیکھنے والے کی نظر بھی

پھول لڑ پڑے ہوں گے، آپس میں یقیناً
گلستاں سے جب بھی تو گزری ہو گی
مہ جبیں! تیرا حجاب جب اُلٹا ھو گا
چاند تاروں میں جنگ تو چھڑی ہو گی۔

ابھی تازہ ھیں بہت گھاؤ بچھڑ جانے کے
گھیر لیتی ھے تیری یاد سر شام ابھی
توڑ سکتا ھے میرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ھے تیرا نام ابھی
میرے ہاتھوں میں ھے موجود تیرے ہاتھ کا لمس
دل میں برپا ھے اسی شام کا کہرام ابھی
میری نظریں کریں کیسے تیرے چہرے کا طواف
میری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی۔
Conclusion
Love becomes more meaningful when it is expressed honestly.
These Izhar-E-Mohabbat poetry lines help you share your feelings in a gentle and beautiful way. Even a small line can make a deep place in someone’s heart.
Thank you.
Thank you for reading 100+ Izhar-E-Mohabbat Poetry in Urdu.
If these words touched your heart, share them with someone special. Love grows when it is expressed.
FAQs
Q1: What does ‘Izhar-E-Mohabbat’ mean?
It means expressing love honestly and from the heart.
Q2: Can I use this poetry on social media?
Yes, these lines are perfect for WhatsApp, Instagram, and Facebook.
Q3: Is this poetry original?
Yes, all content is 100% original and human-written.
Q4: Who can use this poetry?
Anyone who wants to express love — for a partner, spouse, or someone special.
