Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Love is a feeling that lives in the heart, but sometimes it needs deep words. Mohabbat ka Izhaar means expressing true very love honestly and softly.
Many people search for Mohabbat ka Izhaar Shayari to tell someone special how they feel. This collection of 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari is made for those moments when you want to say “I love you” in a beautiful Urdu style.
Description
Expressing love is not always easy. Shayari helps when words feel difficult.
People often look for:
- Mohabbat ka izhaar shayari
- Pyar ka izhaar poetry
- Romantic Urdu shayari
- Love confession shayari in Urdu
- Heart-touching love quotes
These shayari lines are so simple, emotional, and perfect for WhatsApp status, messages, Instagram captions, or personal notes. Each line reflects pure feelings, not fake words.

کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگی
کہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگی
کہا: ہم کیا کریں اس عہد نا پرساں میں کچھ کہیے
وہ بولے کوئی آخر صورت اظہار تو ہوگی
کہا: ہم اپنی مرضی سے سفر بھی کر نہیں سکتے
وہ بولے ہر قدم پر اک نئی دیوار تو ہوگی
کہا: آنکھیں نہیں اس غم میں بینائی بھی جاتی ہے
وہ بولے ہجر کی شب ہے ذرا دشوار تو ہوگی
کہا: جلتا ہے دل بولے اسے جلنے دیا جائے
اندھیرے میں کسی کو روشنی درکار تو ہوگی
کہا: یہ کوچہ گردی اور کتنی دیر تک آخر
وہ بولے عشق میں مٹی تمہاری خوار تو ہوگی

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں
بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے
وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر
میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں
مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے
جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں
مرے دل کا الاؤں آج تک دیکھا نہیں جس نے
وہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں
یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میں
مرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں
ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے
محبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں
جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہے
مزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں

پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی
اب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئی
موسم تھا نمائش کا مگر آنکھ نہ کھولی
جاناں ترے زخموں کو سیاست نہیں آئی
جو روح سے آزار کی مانند لپٹ جائے
ہم پر وہ گھڑی اے شب وحشت نہیں آئی
اے دشت انا الحق ترے قربان ابھی تک
وہ منزل اظہار صداقت نہیں آئی
ہم لوگ کہ ہیں ماؤں سے بچھڑے ہوئے بچے
حصے میں کسی کے بھی محبت نہیں آئی
ہم نے تو بہت حرف تری مدح میں سوچے
افسوس کہ سنوائی کی نوبت نہیں آئی
لرزے بھی نہیں شہر کے حساس در و بام
دل راکھ ہوئے پھر بھی قیامت نہیں آئی
ساجدؔ وہ سحر جس کے لئے رات بھی روئی
آئی تو سہی حسب ضرورت نہیں آئی

درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی
اکثر چارہ گروں کی حالت مجھ سے سوا گمبھیر ہوئی
کیا جانے کیوں مجھ سے میری برگشتہ تقدیر ہوئی
مملکت عیش آنکھ جھپکتے ہی غم کی جاگیر ہوئی
اس نے میرے شیشۂ دل کو دیکھ کے کیوں منہ موڑ لیا
شاید اس آئینے میں اس کو ظاہر کوئی لکیر ہوئی
جب بھی لکھا حال دل مضطر میں نے اس کو رات گئے
تا بہ سحر اشک افشانی سے ضائع وہ تحریر ہوئی
بڑھتی جاتی ہے دورئ منزل جب سے جنوں نے چھوڑا ساتھ
اب تو خرد ہر گام پر اپنے پیروں کی زنجیر ہوئی
مجھ کو عطا کرتے وہ یقیناً میری طلب سے سوا لیکن
خودداری میں ہاتھ نہ پھیلا شرم جو دامن گیر ہوئی
کس کو خبر ہے ان کی گلی میں کتنے دلوں کا خون ہوا
رعنائی میں ان کی گلی جب وادئ کشمیر ہوئی
ان سے کروں اظہار تمنا سوچا رکھ کر عذر جنوں
لیکن وہ بھی راس نہ آیا لا حاصل تدبیر ہوئی
ٹپ ٹپ آنکھ سے آنسو ٹپکے عاجزؔ آہ سرد کے ساتھ
میرے سامنے نذر آتش جب میری تصویر ہوئی

پابندئ اظہار کی لعنت ہی الگ ہے
خاموش زبانوں کی حکایت ہی الگ ہے
جو تم نے ستم ڈھائے ہیں وہ اور ہیں لیکن
اس درد جدائی کی اذیت ہی الگ ہے
تم نے تو اداؤں سے بہت قتل کئے ہیں
انداز تغافل کی قیامت ہی الگ ہے
ہونٹوں سے تو ہوتے ہیں ادا حرف محبت
آنکھوں کے اشارے کی وضاحت ہی الگ ہے
تا حد نظر دید کے قابل ہیں نظارے
لیکن ترے دیدار کی حسرت ہی الگ ہے
عشرت کدہ دہر میں کیا کیا نہیں لیکن
تیرے لب و رخسار کی جنت ہی الگ ہے
پڑھتے ہیں بڑے شوق سے ارباب ادب بھی
اجملؔ ترے اشعار کی ندرت ہی الگ ہے

آزار بہت لذت آزار بہت ہے
دل دست ستم گر کا طلب گار بہت ہے
اقرار کی منزل بھی ضرور آئے گی اک دن
اس وقت تو بس لذت انکار بہت ہے
یاران سفر کوئی دوا ڈھونڈ کے لاؤ
انسان مرے دور کا بیمار بہت ہے
ہاں دیکھیو عرفان بغاوت نہ جھلس جائے
منظر مری دنیا کا شرر بار بہت ہے
ہم گھر کی پناہوں سے جو نکلے تو یہ جانا
ہنگامہ پس سایۂ دیوار بہت ہے
قاتل کی عنایت کا مزہ اور ہے ورنہ
جاں لینے کو یہ سانس کی تلوار بہت ہے
کیا لوگ ہیں یہ سوچ کے بیٹھے ہوں گھروں میں
بس ظلم سے بے زاری کا اظہار بہت ہے
حالات زمانہ سے لرز جاتے ہیں اجملؔ
یوں ہے کہ زمانہ سے ہمیں پیار بہت ہے

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہو
وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا
کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں
اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا
جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی
ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس درجہ ورق نمناک ہوا
خوش رہیو سن اے باد صبا کہیں اور تو اپنے ناز دکھا
تو جس کے بال اڑاتی تھی وہ شخص تو کب کا خاک ہوا

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں
خدا کا شکر کہ پاؤں میں اپنے لنگ نہیں
عجیب اس سے تعلق ہے کیا کہا جائے
کچھ ایسی صلح نہیں ہے کچھ ایسی جنگ نہیں
کوئی بتاؤ کہ اس آئنہ کا مول ہے کیا
جس آئنہ پہ نشان غبار و زنگ نہیں
مرا جنون ہے کوتاہ یا یہ شہر تباہ
جو زخم سر کے لیے یاں تلاش سنگ نہیں
ہیں سارے قافلہ سالار سب ہیں راہنما
یہ کیا سفر ہے جو کوئی کسی کے سنگ نہیں
جو کچھ متاع ہنر ہو تو سامنے لاؤ
کہ یہ زمانۂ اظہار نسل و رنگ نہیں

بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے
ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے
ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی
اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے
میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے
میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے
تو ادھر کیسے ارے چاندنی صورت والے
یہ وہ دھندا ہے جو آنکھوں میں جلن چاہتا ہے
وصل کے بعد بھی پوری نہیں ہوتی خواہش
اور کچھ ہے جو یہ نادیدہ بدن چاہتا ہے
سونے سونے سے ہیں لفظوں کے شوالے کاشفؔ
ایسا لگتا ہے کہ اظہار بدن چاہتا ہے

پھول کا یا سنگ کا اظہار کر
آسماں اورنگ کا اظہار کر
جسم کے روزن سے پہلے خود نکل
پھر قبائے تنگ کا اظہار کر
پھول کی پتی پہ کوئی زخم ڈال
آئنے میں رنگ کا اظہار کر
آبگینوں میں سیاہی بھر کے چل
دوستی میں جنگ کا اظہار کر
دھول سے انفاس کے پیکر تراش
خوشبوؤں میں رنگ کا اظہار کر
پڑھ رہا تھا میں قصیدہ نام کا
کوئی بولا ننگ کا اظہار کر
کون کتنا آدمی ہے یہ بتا
آہ میں آہنگ کا اظہار کر

پریشانی میں اظہار پریشانی سے کیا حاصل
بھرے بازار میں خود اپنی ارزانی سے کیا حاصل
مجھے ہر منزل مستی سے ہنس ہنس کر گزرنا ہے
مٹا دے جو مری ہمت اس آسانی سے کیا حاصل
بغیر جبر و قوت جھک نہیں سکتا جو اک سر بھی
تو پھر ایسی جہانگیری جہاں بانی سے کیا حاصل
ہجوم برق و باراں ہو نزول قہر و طوفاں ہو
فضائے عافیت میں بال جنبانی سے کیا حاصل
دل برباد سے پیدا نیا دل ہو نہیں سکتا
اب آنسو پونچھیے بھی اب پشیمانی سے کیا حاصل
ترستے ہیں در و دیوار بھی اب ان کے جلوؤں کو
مجھے اے خانۂ دل تیری ویرانی سے کیا حاصل
قفس ہو یا نشیمن کوئی ہم آہنگ ہو ورنہ
ادیبؔ ایسی فغاں ایسی غزل خوانی سے کیا حاصل

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو
رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو
طاقت نہیں زباں میں تو لکھ ہی لو دل کی بات
کوئی تو ساتھ صورت اظہار لے چلو
دیکھوں تو وہ بدل کے بھلا کیسا ہو گیا
مجھ کو بھی اس کے سامنے اس بار لے چلو
کب تک ندی کی تہہ میں اتاروگے کشتیاں
اب کے تو ہاتھ میں کوئی پتوار لے چلو
پڑتی ہیں دل پہ غم کی اگر سلوٹیں تو کیا
چہرے پہ تو خوشی کے کچھ آثار لے چلو
جتنے بھنور کہو گے پہن لوں گا جسم پر
اک بار تو ندی کے مجھے پار لے چلو
کچھ بھی نہیں اگر تو ہتھیلی پہ جاں سہی
تحفہ کوئی تو اس کے لئے یار لے چلو

اجڑے ہوئے دیار کا مطلب سمجھ گئے
تم کیسے انتظار کا مطلب سمجھ گئے
جو اجنبی تھے عشق و محبت کے لفظ سے
صد شکر ہے وہ یار کا مطلب سمجھ گئے
پھر کھل کے اپنے عشق کا اظہار کر دیا
جب وہ بھی حال زار کا مطلب سمجھ گئے
حیرت میں ہوں میں دیکھ کے یہ آج دوستو
وہ کیسے دل فگار کا مطلب سمجھ گئے
تھوڑی بہت ادھر بھی ہیں کچھ بے قراریاں
جو دل کے تار تار کا مطلب سمجھ گئے
اس کو بھی میری یاد نے مجبور کر دیا
جب موسم بہار کا مطلب سمجھ گئے
نظریں جھکائے رکھنا حراؔ ان کے روبرو
وہ بھی تمہارے پیار کا مطلب سمجھ گئے

شب کو پازیب کی جھنکار سی آ جاتی ہے
بیچ میں پھر کوئی دیوار سی آ جاتی ہے
ان کا انداز نظر دیکھ کے محفل میں کبھی
مجھ میں بھی جرأت اظہار سی آ جاتی ہے
اس ادا سے کبھی چلتی ہے نسیم سحری
خشک پتوں میں بھی رفتار سی آ جاتی ہے
ہم تو اس وقت سمجھتے ہیں کہ آتی ہے بہار
دشت سے جب کوئی جھنکار سی آ جاتی ہے

غم حیات کے پیش و عقب نہیں پڑھتا
یہ دور وہ ہے جو شعر و ادب نہیں پڑھتا
کوئی تو بات ہے روداد خون ناحق میں
کہیں کہیں سے وہ پڑھتا ہے سب نہیں پڑھتا
کسی کا چہرۂ تاباں کہ ماہ رخشندہ
جو پڑھنے والا ہے قرآں وہ کب نہیں پڑھتا
وہ کون ہے جو تجھے رات دن نہیں لکھتا
وہ کون ہے جو تجھے روز و شب نہیں پڑھتا
وہ اب تو اس قدر اظہار حق سے ڈرتا ہے
اگر لکھا ہو کہیں لب تو لب نہیں پڑھتا
نہ جانے ان دنوں کیا ہو گیا ہے ساقی کو
نگاہ رند میں حسن طلب نہیں پڑھتا
اسی کا رنگ ہے افسرؔ اسی کی خوشبو ہے
مرا کلام کوئی بے سبب نہیں پڑھتا

اپنے ہی لہو سے کہیں مسمار نہ ہونا
دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہونا
گمنام ہی رہنے میں بڑا نام ہے پیارے
شہرت کے لیے داخل دربار نہ ہونا
اے میرے خدا قید ہوں میں کیسے جہاں میں
گویائی تو ہونا دم گفتار نہ ہونا
بازار ہو گر مصر کا بولی تو لگانا
یوسف کو جو چاہو تو خریدار نہ ہونا
اوروں سے گلہ کیا ہو کہ لے ڈوبا ہمیں تو
اندر کے جواں مرد کا اظہار نہ ہونا

بسائے جاتے ہیں اہل جنوں سے ویرانے
رموز مملکت حسن کوئی کیا جانے
یہ کس کی بزم ہے آراستہ خدا جانے
نہیں ہے شمع تو کیوں جل رہے ہیں پروانے
ہے بندہ ہونے کے اظہار پر بشر مجبور
پئے سجود بنیں مسجدیں کہ بت خانے
نہ قیس دشت میں ہے اور نہ کوہ میں فرہاد
پر ان کے نام سے گونج اٹھتے ہیں یہ ویرانے
فزوں ہیں نغمۂ بلبل سے قہقہے گل کے
کہ انتظام چمن اب کریں گے دیوانے
دیار عشق میں برپا ہے انقلاب عظیم
یہ دور وہ ہے کہ اپنے ہوئے ہیں بیگانے
چھپا لیا رخ انور حنائی ہاتھوں سے
ہمارے دل پہ جو گزری تری بلا جانے
ستم ہزار ہوں ظالم مگر دلوں کو نہ توڑ
ترے خیال سے آباد ہیں یہ کاشانے
وہ حال غم مرا خود مجھ سے سن کے کہتے ہیں
کہ سن چکے ہیں ہم ایسے ہزار افسانے
ہے بادہ نوشی سے مستوں کو بعد مرگ بھی ربط
کہ ان کی خاک سے یاں بن رہے ہیں پیمانے
صنم سے حال دل زار کہہ تو دوں آغاؔ
مگر میں جاؤں کہاں وہ اگر برا مانے

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے
ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے
راستے خود ہی بدل جائیں تو بدلیں ورنہ
چلنے والے کبھی رفتار نہیں بدلیں گے
دور تک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی
کیا مرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے
میں سمجھتا ہوں ستارے جو سحر سے پہلے
بجھنے والے ہیں شب تار نہیں بدلیں گے
گل بدل جائیں گے جب موسم گل بچھڑے گا
جب خزاں جائے گی تو خار نہیں بدلیں گے
لوگ بدلیں گے مفاہیم مسلسل آغازؔ
اور یہ سچ ہے مرے اشعار نہیں بدلیں گے

وہ میرے ساتھ چلنے پر اگر تیار ہو جائے
بھلے منزل کی جانب سے مجھے انکار ہو جائے
مرا فن اداکاری نمایاں ہو کے ابھرے گا
ذرا تیری کہانی میں مرا کردار ہو جائے
نشاط انگیز شاموں کا تسلسل اس طرح ٹوٹا
کہ گہری نیند سے یک دم کوئی بیدار ہو جائے
اگر اپنی مدھر آواز میں نغمہ سنا دے وہ
تو راہ محفل یاراں ذرا ہموار ہو جائے
اگر وہ اک نظر دیکھے مرے جذبے کی سچائی
نصیحت چھوڑ کر ناصح مرا غم خوار ہو جائے
تری آنکھیں بتاتی ہیں تجھے مجھ سے محبت ہے
مگر دل کی تسلی کو ذرا اظہار ہو جائے
سمجھ لو تیرگی دیرینہ ساتھی ہو گئی عادلؔ
چراغ جاں جلانا جب تمہیں دشوار ہو جائے

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار
میں سکوت گلگت و اسکر دو پارہ چنار
بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس
اے سنہری زین والے نقرئی رتھ کے سوار
گلشن اظہار کے دو خسرو و سرمست پھول
رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہسار
یار ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح گر
تو کسی فرقے کا شاعر میں لسان کردگار
انگلیوں میں روشنی دیتے زمرد کے چراغ
مرمریں بازو کا حلقہ سرخ یاقوتی حصار
روشنی تاریک رستے سے زمیں تک آ گئی
بیج کو شوق نمو نے کر دیا ہے آشکار

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے
میں کچھ کہوں تو ترازو نکال لیتا ہے
وہ پھول توڑے ہمیں کوئی اعتراض نہیں
مگر وہ توڑ کے خوشبو نکال لیتا ہے
میں اس لئے بھی ترے فن کی قدر کرتا ہوں
تو جھوٹ بول کے آنسو نکال لیتا ہے
اندھیرے چیر کے جگنو نکالنے کا ہنر
بہت کٹھن ہے مگر تو نکال لیتا ہے
وہ بے وفائی کا اظہار یوں بھی کرتا ہے
پرندے مار کے بازو نکال لیتا ہے

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے
اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے
کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش
کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے
رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ
فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے
گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں
دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے
دیدنی ہے یہ توجہ بھی بہ انداز ستم
عمر بھر شیشۂ خالی سے پلاتا ہے مجھے
ہمہ اندیشۂ گرداب بہ پہلوئے نشاط
موج در موج ہی ساحل نظر آتا ہے مجھے

کیا جانیے اس نام میں کیا بھید بھرا تھا
سنتے ہی جسے رات کوئی چونک پڑا تھا
اس شور کو سن سن کے یہ دل کانپ گیا تھا
جیسے کوئی میری ہی طرح چیخ رہا تھا
اس کو بس ادھر ایک ہی دھن تھی اور ادھر میں
بگڑی ہوئی اک بات بنانے میں لگا تھا
حیرانی یہی تھی کہ چمک کیسی ہے دل میں
پھر آج جو اک زخم کو دیکھا تو ہرا تھا
کل گریۂ پیہم نے مری جان بچائی
میں ضبط کی دیوار کے ملبے میں دبا تھا
وہ سرد سماعت میں مجھے ڈھونڈ رہی تھی
میں شعلۂ اظہار کے باطن میں چھپا تھا

یہ بھی اصرار کوئی روزن در باز نہ ہو
سانس لیتے رہو پر سانس کی آواز نہ ہو
یک بیک عالم اظہار میں سناٹے کی گونج
آنے والے کسی طوفان کی غماز نہ ہو
شعر و فن آذر حاضر کے تراشیدہ صنم
تہمت لوح و قلم توسن پرواز نہ ہو
پھر تری یاد سے روشن ہوا کاشانۂ دل
وسعت کون و مکاں جلوہ گہہ ناز نہ ہو
وقت کے جبر سے کب کار جنوں خیز رکا
کوشش سنگ زنی نقطۂ آغاز نہ ہو

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا
اک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا
وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری
پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا
بارش وہ برستی ہے کہ بھر جاتے ہیں جل تھل
دیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا
گھر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میں
چاہو کہ نکل جائیں تو رستہ نہیں ہوتا
یادوں پہ بھی جم جاتی ہے جب گرد زمانہ
ملتا ہے وہ پیغام کہ پہنچا نہیں ہوتا
تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے
لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا
کیا اس سے گلہ کیجیئے بربادئ دل کا
ہم سے بھی تو اظہار تمنا نہیں ہوتا

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے
میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی
کیا ترا جسم ترے حسن کی حدت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی

میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا
ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا
اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے
کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا
اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے
تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہو سکتا
اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے
تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہو سکتا
تو کہ اک موجۂ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے
حشر آتا ہے تو بیدار نہیں ہو سکتا
سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی
گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہو سکتا
راکھ سی مجلس اقوام کی چٹکی میں ہے کیا
کچھ بھی ہو یہ مرا پندار نہیں ہو سکتا
اس حقیقت کو سمجھنے میں لٹایا کیا کچھ
میرا دشمن مرا غم خوار نہیں ہو سکتا
میں نے بھیجا تجھے ایوان حکومت میں مگر
اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہو سکتا
تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے
رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہو سکتا
وہ جو شعروں میں ہے اک شے پس الفاظ ندیمؔ
اس کا الفاظ میں اظہار نہیں ہو سکتا

زیست آزار ہوئی جاتی ہے
سانس تلوار ہوئی جاتی ہے
جسم بے کار ہوا جاتا ہے
روح بیدار ہوئی جاتی ہے
کان سے دل میں اترتی نہیں بات
اور گفتار ہوئی جاتی ہے
ڈھل کے نکلی ہے حقیقت جب سے
کچھ پر اسرار ہوئی جاتی ہے
اب تو ہر زخم کی منہ بند کلی
لب اظہار ہوئی جاتی ہے
پھول ہی پھول ہیں ہر سمت ندیمؔ
راہ دشوار ہوئی جاتی ہے

جو محبت کو اختیار کرے
حرف مطلب نہ آشکار کرے
آدمی کو بلند رہنا ہے
پستیوں کو نہ اختیار کرے
ہے وہ انسان قدر کے قابل
آدمیت کو جو شعار کرے
ہم تو مر مٹ چکے ہیں جیتے جی
موت کا کون انتظار کرے
ہم بھی رکھتے ہیں پاس خودداری
کون اظہار حال زار کرے
چاک ہے جس کا دامن ہستی
کیوں گریباں کو تار تار کرے
شوق ہے جس کو خاک ہونے کا
مذہب عشق اختیار کرے
ہم ہیں مصروف دید مصحف رخ
کون نظارۂ بہار کرے
نبض ڈوبی مریض الفت کی
چارہ گر خاک کیا شمار کرے

احساس عشق دل کی پناہوں میں آ گیا
بادل سمٹ کے چاند کی باہوں میں آ گیا
اظہار عشق میں نے کسی سے نہیں کیا
اور بے سبب جہاں کی نگاہوں میں آ گیا
وہ مسکرا کے دیکھ رہے ہیں مری طرف
اتنا اثر تو اب مری آہوں میں آ گیا
کیا پوچھتے ہو عزم سفر کی کرامتیں
منزل کا نقش خود مری راہوں میں آ گیا
ہیں ابتدائی مرحلے یہ عشق کے ابھی
ساحلؔ یہ سوز کیوں تری آہوں میں آ گیا

مرے دن کی طرح روشن مری ہر رات ہوتی ہے
دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے
عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہار محبت کا
زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے
تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں
مرے ہم راہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے
بھلا الزام کوئی دشمنی پر کیا رکھا جائے
کہ اب تو دوستی ہی باعث صدمات ہوتی ہے
رہوں میں کوئی عالم کوئی حالت میں مگر ساحلؔ
مرے پیش نظر تو بس خدا کی ذات ہوتی ہے

راز کھل جائے نہ ساقی کہیں میخانے کا
ذکر اچھا نہیں پیمانے سے پیمانے کا
کیا ٹھکانا ہے بھلا آپ کے دیوانے کا
زندگی جس کے لئے نام ہے مر جانے کا
شہر میں تیرے میں پھرتا ہوں یوں مارا مارا
جیسے اک اجنبی بھٹکا ہوا ویرانے کا
بات تو جب ہے کہ پلکوں سے بھی اظہار نہ ہو
دل میں مستور رہے راز صنم خانے کا
جان دے دینا بھری بزم میں آسان نہیں
شمع پر مٹنا ہی مقدور ہے پروانے کا
ایک لمحے میں بدل جائے گلستاں کا نظام
ہم الٹ دیں جو ورق عشق کے افسانے کا
دردؔ کے درد کو تسکین میسر ہو جائے
خط جو مل جائے کبھی آپ کے آ جانے کا

وہ ربط باہمی نہیں وہ پیار بھی نہیں
پہلی سی وہ نگاہ طرحدار بھی نہیں
اب حال دل کا لایق اظہار بھی نہیں
جیتے ہیں اور جینے کے آثار بھی نہیں
ہر ہر نفس میں زیست کے ہے آرزوئے شوق
کم دل کشی میں عشق کا آزار بھی نہیں
تھی جان اک امانت یار اس کو سونپ دی
اب زندگی کے دوش پہ یہ بار بھی نہیں
اس دور کی عجیب ہے تنظیم دوستو
فن کار وہ بنا ہے جو فن کار بھی نہیں
دور ہوس میں کوئی بھی پرسان غم نہیں
اپنوں سے کیا شکایت اغیار بھی نہیں
دنیا میں ایک تیرا سہارا ہے اے خدا
تنہا ہوں کوئی یار و مددگار بھی نہیں
حق بات دردؔ اہل خرد کو نہ ہو قبول
غالبؔ کے لوگ اتنے طرف دار بھی نہیں

گھر چھوڑ کے بھی گھر ہی کے آزار میں رہنا
کھوئے ہوئے فکر در و دیوار میں رہنا
کچھ اور بڑھا دیتا ہے معنی کا تأثر
چپ رہ کے بھی پیرایۂ اظہار میں رہنا
جو مصلحت وقت کو خاطر میں نہ لائے
وہ حسن انا چاہئے فنکار میں رہنا

جام چھلکائیں صراحی سے نظر چار کریں
میکدہ نیند میں ہے ہم اسے بیدار کریں
کوئی آئے گا شب غم مری پرسش کے لئے
آپ آئیں گے ذرا سوچ کے اقرار کریں
ایک قاتل بھی ہے اس شہر میں منصف کی طرح
جان کی ہم جو اماں پائیں تو اظہار کریں
غنچہ و گل پہ کوئی تازہ قیامت ٹوٹے
لوگ اتنا بھی نہ فکر لب و رخسار کریں

کیا روش اختیار کر بیٹھے
بے وفاؤں سے پیار کر بیٹھے
جو سمجھتے نہیں ہیں دل کی زباں
ان پہ ہم دل نثار کر بیٹھے
ہجر کی رات کاٹے کٹتی نہیں
ایک پل کو ہزار کر بیٹھے
تاب نظارہ کب تھی آنکھوں میں
پھر بھی ضد بار بار کر بیٹھے
ان کا وعدہ تو صرف وعدہ تھا
جس پہ ہم اعتبار کر بیٹھے
جانے والے نہ آئیں گے ہرگز
لوگ کیوں انتظار کر بیٹھے
کر کے اظہار حال ان سے مجیدؔ
خود کو ہم شرمسار کر بیٹھے

کبھی اقرار کرتا ہے کبھی انکار کرتا ہے
محبت کا وہ مجھ سے اس طرح اظہار کرتا ہے
میرے خوابوں میں آ کر چھین لیتا ہے سکوں میرا
یہ کیسا دوست ہے جینا مرا دشوار کرتا ہے
کبھی بھی سامنے سے دو بدو ہوتا نہیں ظالم
عجب بزدل ہے ہر دم فاصلے سے وار کرتا ہے
بچھاتا ہے جو کانٹے دوسروں کی راہ میں ہر دم
حقیقت میں وہ اپنی راہ خود پر خار کرتا ہے
نباہے گا زمانے سے وہ کیسے رسم الفت کو
جو اپنی کج ادائی سے ہمیں بیزار کرتا ہے
گناہوں میں چھپا رکھی ہے اس نے کس قدر لذت
نہیں کرنا ہے جس کو دل اسے سو بار کرتا ہے
مجیدؔ اب دل لگانا بھی نہیں آتا ہے لوگوں کو
جسے دیکھو وہی الفت میں کاروبار کرتا ہے

دل غم عشق کے اظہار سے کتراتا ہے
آہ غم خوار کہ غم خوار سے کتراتا ہے
یہ سمجھ کر کے جفاؤں میں مزا پاتا ہے
وہ ستم گر مرے آزار سے کتراتا ہے
ہو گیا اس پہ بھی کچھ اس کی شکایت کا اثر
اب مسیحا بھی جو بیمار سے کتراتا ہے
ہو رہا ہے مجھے تکمیل محبت کا گماں
عشق اب حسن کے دیدار سے کتراتا ہے
دل پروردہ غم خوشیوں سے یوں جاتا ہے
سوزؔ اک بال جوں اغیار سے کتراتا ہے

مری نگاہ کو جلووں کا حوصلہ دے دو
گزر بسر کا کوئی بھی تو آسرا دے دو
تمہاری بزم سے جاتا ہے نا مراد کوئی
سفر بخیر کی جان وفا دعا دے دو
عطا پہ حرف نہ آ جائے مانگنے سے مرے
خدا ہو میرے تو پھر حسب مدعا دے دو
مٹا دو میری نگاہوں سے تم نقوش تمام
وگرنہ دوسرا مجھ کو اک آئنہ دے دو
فریب شرح تمنا بھی کھا لے اب یہ دل
لبوں کو جرأت اظہار مدعا دے دو
جنوں نواز و جنوں خیز و صد جنوں ساماں
تم اپنے جلووں کو ایسی کوئی ادا دے دو
عدو کو شکوۂ لذت کوئی نہ رہ جائے
مرے لہو کو کچھ ایسا ہی ذائقہ دے دو
غزل کی آبرو تم ہو غزل مجھے محبوب
شعور فکر کو اسلوب خوش نما دے دو
یہ دل تو دشمن جانی ہے ایک مدت سے
جو غم نواز ہو ایسا غم آشنا دے دو
لباس کہنہ غزل کا اتار کر طرزیؔ
بہ فیض طبع رسا اک نئی قبا دے دو

کام بس فاتحہ خوانی سے نہیں ہوتا ہے
عشق اظہار زبانی سے نہیں ہوتا ہے
ہے یہ قرآن عمل کرنے کی دولت یارو
نفع بس لفظ معانی سے نہیں ہوتا ہے
کچھ عنایت یہاں احباب بھی کر جاتے ہیں
سب زیاں دشمن جانی سے نہیں ہوتا ہے
کام ہو جاتا ہے بس مصرع اول سے بھی کبھی
کام جو مصرع ثانی سے نہیں ہوتا ہے
یہ تجارت نہیں اک اہم عبادت ہے میاں
عشق میں لابھ و ہانی سے نہیں ہوتا ہے
بعض اوقات ٹھہرنے کی طلب ہوتی ہے
کام ہر وقت روانی سے نہیں ہوتا ہے
جان لیوا کبھی خاموشی بھی ہو جاتی ہے
خون بس شعلہ بیانی سے نہیں ہوتا ہے
عارضی پیاس تو بجھ جاتی ہے اس سے لیکن
پیاس مٹ جائے یہ پانی سے نہیں ہوتا ہے
پینا پڑتا ہے یہاں جام شہادت قادرؔ
نام بس قصہ کہانی سے نہیں ہوتا ہے

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے
حوصلہ دل کا بڑھاؤ تو کوئی بات بنے
صرف اظہار محبت سے نہیں کام چلے
ہاں اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے
دور سے دیدۂ امید کو ترساتے ہو
جب مجھے پاس بلاؤ تو کوئی بات بنے
نہ کرو دور سے دعوائے مسیحائی تم
مجھ سے مردے کو جلاؤ تو کوئی بات بنے
غیریت اب بھی نمایاں ہے ذرا رحم کرو
تم مجھے اپنا بناؤ تو کوئی بات بنے
معاملہ دل کا بتانے میں پس و پیش ہے کیا
پردۂ شرم اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
کیوں سناتے ہو مجھے قصۂ درد ہجراں
پیار کے گیت سناؤ تو کوئی بات بنے
آنکھ سے آنکھ ملاتے ہو بھلا احقرؔ سے
دل کو دل سے جو ملاؤ تو کوئی بات بنے

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں
تبھی تو حرف آئندہ ہوئے ہیں
طلوع صبح کی امید کم تھی
دعائے شب سے تابندہ ہوئے ہیں
نہ کام آیا جہاں عرض ہنر بھی
لب اظہار شرمندہ ہوئے ہیں
بدن میں جیتے جی جو مر گئے تھے
وہ اپنی روح میں زندہ ہوئے ہیں
ہماری شعلگی سب سے جدا ہے
بجھے ہیں ہم تو سوزندہ ہوئے ہیں
مٹا سکتا نہیں جن کو زمانہ
کچھ ایسے نقش پایندہ ہوئے ہیں
ہمیں سود و زیاں سے کیا سخنؔ ہم
نہ یابندہ نہ گیرندہ ہوئے ہیں

اک حقیقت ہوں اگر اظہار ہو جاؤں گا میں
جانے کس کس جرم کا اقرار ہو جاؤں گا میں
کاٹ لو اب کے مجھے بھی خواہشوں کی فصل پر
زندگی اک خواب ہے بیدار ہو جاؤں گا میں
رفتہ رفتہ باغ کی سب تتلیاں کھو جائیں گی
اور اک دن خود سے بھی بیزار ہو جاؤں گا میں
یا تو اک دن توڑ ڈالوں گا حصار آگہی
یا کسی قصے کا اک کردار ہو جاؤں گا میں
عکس اندر عکس آتا ہے نظر مجھ کو کمالؔ
کیا کسی دن آئنے کے پار ہو جاؤں گا میں

جب کبھی رسم و رہ عام صدا دیتی ہے
دل کو کیا کیا ہوس نام سدا دیتی ہے
مشعلیں اپنی سنبھالو کہ فضائیں چمکیں
اتنی جاتی ہوئی ہر شام صدا دیتی ہے
کیا زمانے میں کوئی صاحب دانش نہ رہا
زندگی ہم کو بہر گام صدا دیتی ہے
ہے یہی وقت کہ قدموں کو ہم آہنگ کرو
پھر کہاں گردش ایام صدا دیتی ہے
زائچہ میرے خیالوں کا جدا سب سے الگ
کس کو ہم پیشگیٔ عام صدا دیتی ہے
پردۂ سنگ نہیں پردۂ اظہار جمال
روح خوابیدۂ اصنام صدا دیتی ہے
اک یقیں اور پس مرگ یقیں ابھرے گا
ہر شکست دل ناکام صدا دیتی ہے
ہر گماں زاد دھندلکے سے گزر جاؤ عروجؔ
روشنی سی وہ لب بام صدا دیتی ہے

روز وحشت کوئی نئی مرے دوست
اس کو کہتے ہیں زندگی مرے دوست
علم احساس آگہی مرے دوست
ساری باتیں ہیں کاغذی مرے دوست
دیکھ اظہارئیے بدل گئے ہیں
یہ ہے اکیسویں صدی مرے دوست
کیا چراغوں کا تذکرہ کرنا
روشنی گھٹ کے مر گئی مرے دوست
ہاں کسی المیے سے کم کہاں ہے
مری حالت تری ہنسی مرے دوست
ساتھ دینے کی بات سارے کریں
اور نبھائے کوئی کوئی مرے دوست
اتنی گلیاں اگ آئیں بستی میں
بھول بیٹھا تری گلی مرے دوست
لازمی ہے خرد کی بیداری
نیند لیکن کبھی کبھی مرے دوست

اگر تم روک دو اظہار لاچاری کروں گا
جو کہنی ہے مگر وہ بات میں ساری کروں گا
مرا دل بھر گیا بستی کی رونق سے سو اب میں
کسی جلتے ہوئے صحرا کی تیاری کروں گا
سر راہ تمنا خاک ڈالوں گا میں سر میں
جو آنسو بجھ گئے ان کی عزا داری کروں گا
مجھے اب آ گئے ہیں نفرتوں کے بیج بونے
سو میرا حق یہ بنتا ہے کہ سرداری کروں گا
میں لے آؤں گا میداں میں سبھی لفظوں کے لشکر
اور ان سے لوح فکر و فن پہ پرکاری کروں گا
کئی غم آ گئے ہیں حال میرا پوچھنے کو
میں اب اس حال میں کس کس کی دل داری کروں گا

نہ کرب ہجر نہ کیفیت وصال میں ہوں
مجھے نہ چھیڑئیے اب میں عجیب حال میں ہوں
تمام رنگ عبارت میں سوز جاں سے مرے
میں حسن ذات ہوں اور منزل جمال میں ہوں
مرا وجود ضرورت ہے ہر زمانے کی
میں روشنی کی طرح ذہن ماہ و سال میں ہوں
ابھی وسیلۂ اظہار ڈھونڈھتی ہے نگاہ
ابھی سوال کہاں حسرت سوال میں ہوں
مجھے نہ دیکھ مری ذات سے الگ کر کے
میں جو بھی کچھ ہوں فقط اپنے خد و خال میں ہوں
میں جی رہا ہوں یہ میرا کمال ہے حشریؔ
میں اپنے عہد کی تہذیب کے زوال میں ہوں

بڑی جی دار آنکھیں ہیں
وہ جو مے خوار آنکھیں ہیں
سر دیوار میں لیکن
پس دیوار آنکھیں ہیں
مرا تو عشق ہیں آنکھیں
ترا اوتار آنکھیں ہیں
نہ کوئی خواب جو دیکھیں
بڑی بے کار آنکھیں ہیں
انہیں میں روز تکتا ہوں
بہت شہکار آنکھیں ہیں
وہی دل ہار جاتے ہیں
جو کرتے چار آنکھیں ہیں
کسی کا پیار ہیں چہرے
کسی کا پیار آنکھیں ہیں
جہاں بھر میں محبت کا
بڑا اظہار آنکھیں ہیں
کہیں انکار ہیں عابدؔ
کہیں اقرار آنکھیں ہیں

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے
بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے
سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ
شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے
وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو
بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی کہتے
وہ تو شاید دونوں کا دکھ اک جیسا تھا ورنہ
ہم بھی پتھر مارتے تجھ کو اور دیوانی کہتے
تبدیلی سچائی ہے اس کو مانتے لیکن کیسے
آئینے کو دیکھ کے اک تصویر پرانی کہتے
تیرا لہجہ اپنایا اب دل میں حسرت سی ہے
اپنی کوئی بات کبھی تو اپنی زبانی کہتے
چپ رہ کر اظہار کیا ہے کہہ سکتے تو آنسؔ
ایک علاحدہ طرز سخن کا تجھ کو بانی کہتے

کچھ نئی ہم پہ گزر جائے تو پھر شعر کہیں
بھولی بصری کوئی یاد آئے تو پھر شعر کہیں
زندگی ہم کو لگے پھر سے جو انجانی سی
اور گیا وقت پلٹ آئے تو پھر شعر کہیں
کوئی اڑتا ہوا آنچل کوئی بکھری ہوئی زلف
شعر کہنے کو جو اکسائے تو پھر شعر کہیں
فکر فردا غم ایام کا چھایا ہے غبار
ذہن سے دھند یہ چھٹ جائے تو پھر شعر کہیں
کرب احساس کا اظہار ہے مقصود غزل
درد لفظوں میں سمٹ آئے تو پھر شعر کہیں

روش عصر سے انکار بہت مشکل ہے
کرب احساس کا اظہار بہت مشکل ہے
وہ یہ کہتے ہیں کہ میں بولوں ہوں آواز ان کی
اف یہ مجبوریٔ گفتار بہت مشکل ہے
ہم سے دیوانے کہاں تاب و تپش سے ٹھہرے
ڈھونڈھ لیں سایۂ دیوار بہت مشکل ہے
مرا دشمن مرے اندر ہی چھپا ہے اور میں
خود سے ہوں بر سر پیکار بہت مشکل ہے
آہ کرنے کی اجازت نہیں اس شہر میں اب
اور اک یہ دل بیمار بہت مشکل ہے

ہجوم غم میں جینا کس قدر صبر آزما ہوتا
اگر درد محبت سے یہ دل نا آشنا ہوتا
مری لغزش نے رنگیں کر دیا ہر نقش ہستی کو
یہاں ہو کا سماں ہوتا اگر میں پارسا ہوتا
تمنا خود فریبی آرزو ہے جان کی دشمن
مسرت دل کو دینا تھی تو بس غم ہی دیا ہوتا
یہ انسان اپنی دنیا کو تباہی سے بچا لیتا
اگر فکر جزا ہوتی اگر خوف خدا ہوتا
کریں کیا ہم بھی ہیں مجبور دل سے ورنہ اے ہمدم
تری ہر بات سن لیتے اگر دل دوسرا ہوتا
خوشا قسمت جنون جستجو تھا ساتھ ساتھ اپنی
وگرنہ رہنما نے تو ہمیں بھٹکا دیا ہوتا
کہاں تھا حوصلہ کیسے گزرتی زندگی یا رب
اگر فیض محبت کا نہ دل کو آسرا ہوتا
بس اک ذوق تمنا نے کیا رسوا مجھے ورنہ
نہ تکلیف فنا ہوتی نہ ارمان بقا ہوتا
علاج اپنے کئے کا کچھ نہیں دنیا میں آشفتہؔ
نہ ہم اظہار غم کرتے نہ کوئی خود نما ہوتا

ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا
کوئی بندہ مگر خدا نہ ہوا
اف رے ان کے جمال کا عالم
مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا
ساقیٔ میکدہ نے جو دے دی
میں اسے پی کے بد مزہ نہ ہوا
مجھ سے عبرت جہاں کو حاصل ہے
میں برا ہو کہ بھی برا نہ ہوا
زخم دل کا شمار کون کرے
تیر اس کا کوئی خطا نہ ہوا
قید غم سے مگر رہا نا ہوا
میں نے کوشش بھی کی دعا بھی کی
قید غم سے مگر رہا نہ ہوا
مر گیا آسیؔٔ شکستہ دل
یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا

چمک کیسی رخ انوار میں ہے
زمانہ سارا ہی اسرار میں ہے
لگائیں اپنے فن پاروں کی قیمت
کہ اب ہر چیز ہی بازار میں ہے
کئی آنکھیں گڑھی جاتی ہیں مجھ میں
کوئی روزن در و دیوار میں ہے
رہا ہوں منتظر جس کا ازل سے
وہی چہرہ مرے افکار میں ہے
نہیں پہلا سا اب رنگ بہاراں
کہ ویرانی گل و گلزار میں ہے
حدیث دل بیاں کیسے ہو آصیؔ
مجھے مشکل بہت اظہار میں ہے

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا
چاند سے چہرے پہ پردہ بھی غزل جیسا تھا
سارے الفاظ غزل جیسے تھے گفتار کے وقت
رنگ اظہار تمنا بھی غزل جیسا تھا
پھول ہی پھول تھے کلیاں تھیں حسیں گلیاں تھیں
آپ کے گھر کا وہ رستہ بھی غزل جیسا تھا
اس کی آنکھیں بھی حسیں آنکھ میں آنسو بھی حسیں
غم میں ڈوبا ہوا چہرہ بھی غزل جیسا تھا
وہ جوانی وہ محبت وہ شرارت کا نشہ
وہ مری عمر کا حصہ بھی غزل جیسا تھا
فاصلے تھے نہ جدائی تھی نہ تنہائی تھی
تیری قربت کا وہ لمحہ بھی غزل جیسا تھا
وہ نہ میرا نہ میں اس کا تھا مگر اے داناؔ
دھندلا دھندلا سا وہ رشتہ بھی غزل جیسا تھا

منظر شمشان ہو گیا ہے
دل قبرستان ہو گیا ہے
اک سانس کے بعد دوسری سانس
جینا بھگتان ہو گیا ہے
چھو آئے ہیں ہم یقیں کی سرحد
جس وقت گمان ہو گیا ہے
سرگوشیوں کی دھمک ہے ہر سو
غل کانوں کان ہو گیا ہے
وہ لمحہ ہوں میں کہ اک زمانہ
میرے دوران ہو گیا ہے
سو نوک پلک پلک جھپک میں
عقدہ آسان ہو گیا ہے
منزل وہ خم سفر ہے جس پر
چوری سامان ہو گیا ہے
اک مرحلۂ کشاکش فن
وجہ امکان ہو گیا ہے
کاغذ پہ قلم ذرا جو پھسلا
اظہار بیان ہو گیا ہے
پیدا ہوتے ہی آدمی کو
لاحق نسیان ہو گیا ہے
پیلی آنکھوں میں زرد سپنے
شب کو یرقان ہو گیا ہے
سودے میں غزل کے فائدہ سازؔ
کیسا نقصان ہو گیا ہے

دور سے شہر فکر سہانا لگتا ہے
داخل ہوتے ہی ہرجانہ لگتا ہے
سانس کی ہر آمد لوٹانی پڑتی ہے
جینا بھی محصول چکانا لگتا ہے
روز پلٹ آتا ہے لہو میں ڈوبا تیر
روز فلک پر ایک نشانہ لگتا ہے
بیچ نگر دن چڑھتے وحشت بڑھتی ہے
شام تلک ہر سو ویرانہ لگتا ہے
عمر زمانہ شہر سمندر گھر آکاش
ذہن کو ایک جھٹکا روزانہ لگتا ہے
بے حاصل چلتے رہنا بھی سہل نہیں
قدم قدم پر ایک بہانہ لگتا ہے
کیا اسلوب چنیں کس ڈھب اظہار کریں
ٹیس نئی ہے درد پرانا لگتا ہے
ہونٹ کے خم سے دل کے پیچ ملانا سازؔ
کہتے کہتے بات زمانہ لگتا ہے

یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے
اپنے زخم نظر پر خوش فہمی کے پھاہے رکھے تھے
ہم نے تضاد دہر کو سمجھا دوراہے ترتیب دیئے
اور برتنے نکلے تو دیکھا سہ راہے رکھے تھے
رقص کدہ ہو بزم سخن ہو کوئی کار گہہ فن ہو
زردوزوں نے اپنی ماتحتی میں جلاہے رکھے تھے
محتسبوں کی خاطر بھی اپنے اظہار میں کچھ پہلو
رکھ تو لیے تھے ہم نے اب چاہے ان چاہے رکھے تھے
جو وجہ راحت بھی نہ تھے اور ٹوٹ گئے تو غم نہ ہوا
آہ وہ رشتے کیوں ہم نے اک عمر نباہے رکھے تھے
کاہکشاں بندی میں سخن کی رہ گئی سازؔ کسر کیسی
لفظ تو ہم نے چن کے نجومے مہرے ماہے رکھے تھے

نظر آسودہ کام روشنی ہے
مرے آگے سراب آگہی ہے
زمانوں کو ملا ہے سوز اظہار
وہ ساعت جب خموشی بول اٹھی ہے
ہنسی سی اک لب ذوق نظر پر
شفق زار تحیر بن گئی ہے
زمانے سبز و سرخ و زرد گزرے
زمیں لیکن وہی خاکستری ہے
پگھلتا جا رہا ہے سارا منظر
نظر تحلیل ہوتی جا رہی ہے
دھندلکوں کو اندھیرے چاٹ لیں گے
کہ آگے عہد مرگ روشنی ہے
بکھرتے کارواں یہ ارتقا کے
سراسیمہ سا ذوق زندگی ہے
میں دیکھوں تو دکھا دوں گا تمہیں سازؔ
ابھی مجھ میں بصیرت کی کمی ہے

خود کو کیوں جسم کا زندانی کریں
فکر کو تخت سلیمانی کریں
دیر تک بیٹھ کے سوچیں خود کو
آج پھر گھر میں بیابانی کریں
اپنے کمرے میں سجائیں آفاق
جلسۂ بے سر و سامانی کریں
عمر بھر شعر کہیں خوں تھوکیں
منتخب راستہ نقصانی کریں
خود کے سر مول لیں اظہار کا قرض
دوسروں کے لیے آسانی کریں
شعر کے لب پہ خموشی لکھیں
حرف نا گفتہ کو لا فانی کریں
کیمیا کاری ہے فن اپنا سازؔ
آگ کو بیٹھے ہوئے پانی کریں

ازدواجی زندگی بھی اور تجارت بھی ادب بھی
کتنا کار آمد ہے سب کچھ اور کیسا بے سبب بھی
جس کے ایک اک حرف شیریں کا اثر ہے زہر آگیں
کیا حکایت لکھ گئے میرے لبوں پر اس کے لب بھی
عمر بھر تار نفس اک ہجر ہی کا سلسلہ ہے
وہ نہ مل پائے اگر تو اور اگر مل جائے تب بھی
لوگ اچھے زندگی پیاری ہے دنیا خوب صورت
آہ کیسی خوش کلامی کر رہی ہے روح شب بھی
لفظ پر مفہوم اس لمحے کچھ ایسا ملتفت ہے
جیسے از خود ہو عنایت بوسۂ لب بے طلب بھی
ناتواں کم ظرف عصیاں کار جاہل اور کیا کیا
پیار سے مجھ کو بلاتا ہے وہ میرا خوش لقب بھی
ہم بھی ہیں پابندئ اظہار سے بیزار لیکن
کچھ سلیقہ تو سخن کا ہو ہنر کا کوئی ڈھب بھی
نام نسبت ملکیت کچھ بھی نہیں باقی اگرچہ
سازؔ اس کوچے میں میرا گھر ہوا کرتا ہے اب بھی

ہر اک لمحے کی رگ میں درد کا رشتہ دھڑکتا ہے
وہاں تارہ لرزتا ہے جو یاں پتہ کھڑکتا ہے
ڈھکے رہتے ہیں گہرے ابر میں باطن کے سب منظر
کبھی اک لحظۂ ادراک بجلی سا کڑکتا ہے
مجھے دیوانہ کر دیتی ہے اپنی موت کی شوخی
کوئی مجھ میں رگ اظہار کی صورت پھڑکتا ہے
پھر اک دن آگ لگ جاتی ہے جنگل میں حقیقت کے
کہیں پہلے پہل اک خواب کا شعلہ بھڑکتا ہے
مری نظریں ہی میرے عکس کو مجروح کرتی ہیں
نگاہیں مرتکز ہوتی ہیں اور شیشہ تڑکتا ہے

بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں
برگد نیچے ندی کنارے بیٹھ کہانی بولیں
دھیرے دھیرے خود کو نکالیں اس بندھن جکڑن سے
سنگ کسی آوارہ منش کے ہولے ہولے ہو لیں
فکر کی کس سرشار ڈگر پر شام ڈھلے جی چاہا
جھیل میں ٹھہرے اپنے عکس کو چومیں ہونٹ بھگو لیں
ہاتھ لگا بیٹھے تو جیون بھر مقروض رہیں گے
دام نہ پوچھیں درد کے صاحب پہلے جیب ٹٹولیں
نوشادر گندھک کی زباں میں شعر کہیں اس یگ میں
سچ کے نیلے زہر کو لہجے کے تیزاب میں گھولیں
اپنی نظر کے باٹ نہ رکھیں سازؔ ہم اک پلڑے میں
بوجھل تنقیدوں سے کیوں اپنے اظہار کو تولیں

طبع حساس مری خار ہوئی جاتی ہے
بے حسی عشرت کردار ہوئی جاتی ہے
یہ خموشی یہ گھلاوٹ یہ بچھڑتے ہوئے رنگ
شام اک درد بھرا پیار ہوئی جاتی ہے
اور باریک کئے جاتا ہوں میں موئے قلم
تیز تر سوزن اظہار ہوئی جاتی ہے
کچھ تو سچ بول کہ دل سے یہ گراں بوجھ ہٹے
زندگی جھوٹ کا طومار ہوئی جاتی ہے
جادۂ فن سے گزرنا بھی کشاکش ہے تمام
راہ خود راہ کی دیوار ہوئی جاتی ہے
سوچ کی دھوپ میں جل اٹھنے کو جی چاہتا ہے
اپنے لفظوں سے بھی اب عار ہوئی جاتی ہے
زیست یوں شام کے لمحوں سے گزرتی ہے کبھی
خود بہ خود شرح غم یار ہوئی جاتی ہے
کم سے کم پھونک ہی دے بجھتی ہوئی راکھ میں سازؔ
آخری سانس بھی بے کار ہوئی جاتی ہے

جو کچھ بھی یہ جہاں کی زمانے کی گھر کی ہے
روداد ایک لمحۂ وحشت اثر کی ہے
پھر دھڑکنوں میں گزرے ہوؤں کے قدم کی چاپ
سانسوں میں اک عجیب ہوا پھر ادھر کی ہے
پھر دور منظروں سے نظر کو ہے واسطہ
پھر ان دنوں فضا میں حکایت سفر کی ہے
پہلی کرن کی دھار سے کٹ جائیں گے یہ پر
اظہار کی اڑان فقط رات بھر کی ہے
! ادراک کے یہ دکھ یہ عذاب آگہی کے دوست
کس سے کہیں خطا نگہ خود نگر کی ہے
وہ ان کہی سی بات سخن کو جو پر کرے
سازؔ اپنی شاعری میں کمی اس کسر کی ہے

کئی بار ان کی محفل میں ہمارا ذکر خیر آیا
مگر اظہار لطف دوست داری کے بغیر آیا
سمجھتا ہوں یہ سنگ راہ کعبہ ہے سمجھتا ہوں
مگر شام آئی اور میں لوٹ کر پھر سوئے دیر آیا
جمال دوست سے پر نور ہے دنیائے دل میری
خیال دوست اس گھر میں تکلف کے بغیر آیا
نہ ڈر گرداب غم کا ہے نہ طوفان حوادث کا
دل آزاد ان موجوں میں لاکھوں بار تیر آیا
جھلکتے ہیں مژہ پر اشک دل سجدے لٹاتا ہے
زبان بے کسی پر آج کس کا ذکر خیر آیا
رہ ہستی میں سو مشکل کی اک مشکل یہ تھی فطرتؔ
دل ناداں نے سمجھا یہ حرم ہے جب بھی دیر آیا

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا
ضبط سخن کو بات کا عنواں بنا لیا
ہم نے بہار رفتہ کی تصویر کے لیے
شاخ مژہ کو شاخ گل افشاں بنا لیا
دیکھا زمانۂ گزراں کو اسی نے خوب
آنکھوں کو جس نے روزن زنداں بنا لیا
ژولیدگی کہ میرے خیالوں کی جان تھی
تم نے اسی کو زلف کا عنواں بنا لیا
جب خود حریف رنگ گلستاں نہ ہو سکے
خود کو حریف رنگ گلستاں بنا لیا
آرائش حریم وفا کے خیال سے
ہر داغ دل کو شمع فروزاں بنا لیا
فطرتؔ حریم شوق میں آنا جو تھا انہیں
اشکوں کو ہم نے شمع شبستاں بنا لیا

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے
جمے ہیں پاؤں زمیں پر سر آسماں کو چھوئے
جو سر نوشت میں ہے اس کو ہو کے رہنا ہے
تو کس بھروسے پہ انسان جد و جہد کرے
اب آسماں سے صحیفے نہیں اترتے مگر
کھلا ہوا ہے در اجتہاد سب کے لیے
زباں عطا کرے شعر ان کی بے زبانی کو
جو اپنے کرب کا اظہار کر نہیں سکتے
بہار و بہجت و عز و وقار اس پہ نثار
زباں سے مال سے جاں سے جو ظالموں سے لڑے
ہے آنسوؤں میں شفا کیسی کیا خبر اس کو
بہائے مکر سے جو جھوٹ موٹ کے ٹسوے
ہے بسکہ کام ہم ایسوں کا بھی مسیحائی
ہم آسمان پہ زندہ اٹھائے جائیں گے

اس نے کیا ہی نہیں ہم سے محبت کا اظہار
مرشد
ہم کیوں اس کے لیے اپنی زندگی برباد کرے

✨ میری زباں کو سطوتِ گُفتار چاہئے
اس دل کو اِک ذریعہِ اظہار چاہئے
اُجرت مِرے کلام کی اِک داد ہی تو ہے
شاعر ہوں مجھ کو قیمتِ اشعار چاہئے ✨

رموزِ عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رموزِ عشق ہر کوئی نہیں جانتا ہے
کہاں آداب کہنا ، کہاں تسلیم کہنا ہے
کہاں زانوئے ادب تہہ کرنا ہے
کہاں پر عشق کو حافظ خدا کہنا ہے
رموز عشق ہر کوئی نہیں جانتی
چلتی ہے عشق کرنے
آدابِ عشق نہیں جانتی
کہاں پر اپنی لامبی پلکیں جُھکا لینی ہیں
نہیں سمجھتی کہاں پر حجاب کرنا ہے
کہاں پر حجاب اتار دینا ہے
کس مقام پر سولہ سنگھار کر کے استقبال کرنا ہے
کب رُوٹھ جانا ہے
کب رُوٹھے کو محبت سے منانا ہے
کب ہونٹوں کو تر و تازہ کرنا ہے
کب ہونٹوں کا عرق پلانا ہے
اور خود کیسے طلب کا اظہار کرنا ہے
محبت کا بے پایاں اقرار کرنا ہے
رموز عشق ہر کوئی نہیں جانتا ہے
دلربا کو کب پھول لا کے دینے ہیں
کس وقت اُسے آسودہ کرنا ہے
یہ سمجھنے کا نام رموزِ عشق ہوتا ہے
!!! اِس اظہار کا ذریعہ دونوں کا فرض ہوتا ہے ۔۔۔

موجودہ دور میں محبت کا اظہار صرف جنازوں پر کیا جاتا ہے

خاموشی میں پیار کے اظہار بھی ہیں
پس پردہ چاہت کے اثار بھی ہیں

زندگی تھوڑی سی مہلت تو کبھی دی ہوتی
زندہ رہنے کی اجازت تو کبھی دی ہوتی
کوئی اظہار وفا آپ سے کیسے کرتا
بات کہہ دینے کی جرأت تو کبھی دی ہوتی
سخت لہجوں کے رویوں کو بدلنے کے لئے
نورؔ جذبوں کو نزاکت تو کبھی دی ہوتی

میرے دل کا درد لکھوگے لفظ کہا سے لاؤگے
کوزے میں دریا ھبر لوگے لفظ کہاں سے لاؤگے
سارے عالم فاضل تھک کر چور ہوئے مجبور ہوئے
میری قسمت آپ لکھو گے لفظ کہاں سے لاؤ گے
آنکھوں کی بھی ایک زباں ہے تم بولو اور میں سمجھوں
الفت کا اظہار کروگے لفظ کہاں سے لاؤگے

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا
اور مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتی دنیا
سب ہی مے خانۂ ہستی سے پیا کرتے ہیں
مجھ کو اک جام بھی بھرنے نہیں دیتی دنیا
آستاں پر ترے ہم سر کو جھکا تو لیتے
سر سے یہ بوجھ اترنے نہیں دیتی دنیا
ہم کبھی دیر کے طالب ہیں کبھی کعبہ کے
ایک مرکز پہ ٹھہرنے نہیں دیتی دنیا
بجلیوں سے جو بچاتا ہوں نشیمن اپنا
مجھ کو ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا
مندمل ہونے پہ آئیں تو چھڑکتی ہے نمک
زخم دل کے مرے بھرنے نہیں دیتی دنیا
میری کوشش ہے محبت سے کنارہ کر لوں
لیکن ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا
دینے والوں کو ہے دنیا سے بغاوت لازم
دینے والوں کو ابھرنے نہیں دیتی دنیا
جس نے بنیاد گلستاں کی کبھی ڈالی تھی
اس کو گلشن سے گزرنے نہیں دیتی دنیا
گھٹ کے مر جاؤں یہ خواہش ہے زمانے کی
آہ بھرتا ہوں تو بھرنے نہیں دیتی دنیا

اظہارِ عشق میں جو تحریر بھیجی ٬ رَد ہوگئی
میں پھر بھی اسکی راہ تکوں؟ مطلب حَد ہوگئی

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل
پیار کے سینکڑوں….. اظہار ہُوا کرتے ہیں
وہ تو پَربت ہیں جو گر جاتے ہیں ٹکڑے ہو کر
حوصلے بھی کہیں مِسمار ہُوا کرتے ہیں
کس محبت سے عدم! ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے
چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو مُمکن لیکن
اب میں اظہارِ تمنّا نہیں ہونے دوں گا
لوگ کہتے ہیں کہ درد اُٹھ کے بتا دیتا ہے
اب تو میں، یہ بھی اِشارا نہیں ہونے دوں گا
اے مِرے ظرف و اَنا اِتنے پریشاں کیوں ہو
کہہ چکا ہُوں تمہیں رُسوا نہیں ہونے دوں گا

! کہو نا یاد کرتے ہو
! انا کے دیوتا
اچھا چلو مرضی تمہاری
پر
میں اتنا جانتا تو ہوں
کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے
تو لمبی رات کی کجلائی آنکھوں میں
ستارے جھلملاتے ہیں
تمہیں میں اس گھڑی پھر چاند کو تکتے ہوئے
شدت سے اتنا یاد آتا ہوں کہ جتنی شدتوں سے
تم خموشی کی ردا کو اوڑھ کر یہ کہہ نہیں پاتے
! کہ ہاں! تم یاد آتے ہو
چلو مانا انائیں اہم ہوتی ہیں
مگر ان سے کہیں زیادہ محبت اہم ہوتی ہے
چلو مانا تمہیں عادت نہیں اظہار کی،
اقرار کی،
اور تم بھی محسن نقوی کی وہ نظم تھی نا جو
“چلو چھوڑو” ، کی بس ان چند سطروں سے متاثر ہو
کہ جو کچھ اس طرح سے تھیں
چلو چھوڑو! محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا”
مگر اِس نظم میں پنہاں
جو ہے اک بے بسی کی اوٹ میں ٹوٹا،
تھکا ہارا بڑا ہی مضطرب اور طنزیہ لہجہ
اسے تم نے کبھی محسوس کرنے کی سعی کی
نا مرے جذباب کو سمجھا
مجھے معلوم ہے تم کو محبت ہے مگر تم کہہ نہیں سکتے
! انا کے دیوتا
میں جانتا ہوں ان کہی باتیں
مگر چھوٹی سی یہ خواہش
مجھے تڑپائے رکھتی ہے کہ تم بھی تو
کبھی اپنی انا کا بت گراؤ
وہ سبھی باتیں ذرا شیریں سے لہجے میں سناؤ
وہ سبھی باتیں جنھیں تم کہہ نہیں پائے
جنھیں تم کہہ نہیں سکتے
مجھے معلوم ہے کہ میں تمہیں بے چینیوں کی شدتوں میں
حد سے زیادہ یاد آتا ہوں
مگر تم لب ہلاؤ تو
مری ان رتجگوں کی مٹھیوں میں قید آنکھوں میں
!! تم اپنی ڈال کر آنکھیں ذرا اک بار دیکھو تو
کہو کس واسطے جذبوں کا اپنے خون کرتے ہو
بھلا کیوں روندتے ہو پاؤں میں ایسے گُلِ خوابِ محبت کو
تمہیں ملتا ہی کیا ہے درد سے مجھ کو سدا منسوب رکھنے میں
انا کو اوڑھ کر تم کس لیے یہ خواہشیں اور حسرتیں برباد کرتے ہو
کہو نا یاد کرتے ہو۔۔۔

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو
یہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانو
الفاظ کہاں سے لاؤں چھالے کی ٹپک کو سمجھاؤں
اظہار محبت کرتے ہو احساس محبت کیا جانو
کیا حسن کی بھیک بھی ہوتی ہے جب چٹکی چٹکی جڑتی ہے
ہم اہل غرض جانیں اس کو تم صاحب دولت کیا جانو
ہے فرق بڑا اے جان رضاؔ دل دینے میں دل لینے میں
الفت کا تعلق جان کے بھی رشتے کی نزاکت کیا جانو

سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا
خواب ہی ٹھہرا تو جتنی دیر دیکھا خوب تھا
آگ دے دے کر بحد آشیاں یہ انتقام
تنکا تنکا کیوں کسی کو اس قدر محبوب تھا
وہ نگاہوں کے پیام اور وہ پیاموں کی بہار
دیکھیے میری طرف وہ بھی زمانہ خوب تھا
اب تو سودائے محبت ہے فقط دیوانگی
ورنہ سودائے محبت کا بھی اک اسلوب تھا
کب کھلا عقدہ رضاؔ جب کر چکے اظہار شوق
مدعا جائز تھا حرف مدعا معیوب تھا

اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میں
غیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میں
اس قدر نخرے نہ کر اے موت آ جا سامنے
کب تلک چھپ کر رہے گی زندگی کی آڑ میں
آج اک محفل میں جب اس سے نظر ٹکرا گئی
ہم نے کہہ دی دل کی باتیں شاعری کی آڑ میں
اک سلیقے سے کیا ہے پھول دے کر پھول کو
عشق کا اظہار چودہ فروری کی آڑ میں
پچھلی شب کا واقعہ اب کیا بتاؤں دوستوں
چوم آیا چاند کو میں تیرگی کی آڑ میں

پہلے اپنایا خار پھولوں کا
تب کہیں پایا پیار پھولوں کا
میں بھی گلشن سمیٹ لایا ہوں
اس نے مانگا تھا ہار پھولوں کا
یاد آتی ہے اس کی مت چھیڑو
ذکر یوں بار بار پھولوں کا
تجھ سے ملنے کے بعد یہ جانا
کون ہے دست کار پھولوں کا
پھیل جا بن کے خوشبو گلشن میں
چھین لے اختیار پھولوں کا
تیرے چھونے سے ہی تو چلتا ہے
آج کل روزگار پھولوں کا
دے کے اظہار عشق کرتے ہیں
اس سے سمجھو وقار پھولوں کا
جب سے عامر عطاؔ ہوا عاشق
چڑھ گیا ہے ادھار پھولوں کا

رشتہ ایک ایسا پودا ہے
جس کو ہر روز اظہار کا تھوڑا تھوڑا پانی دیتے رہنا چاہیے
اگر ایک ہی دن بہت سارا پانی ڈال دو گے تو چند دنوں میں پودا ختم ہوجائے گا

کر جو دیا اس سے اظہار محبت اشارہ میں
❣️ نہ جانے کیا سوچ رہی ہوں گی ھمارے بارے میں

زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں
مرے معبود کیا کیا بھول جاؤں
تری پرچھائیں تو لے آؤں گھر تک
کہیں اپنا ہی سایہ بھول جاؤں
میں کب تک سوچتا رہتا جہاں کو
یہی بہتر تھا جینا بھول جاؤں

میرے درد کو اظہار کا سلیقہ ہی کہاں
یہ تو میرے لفظوں نے مخبری کر دی

والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے
کیا تمہیں اور کوئی شخص ہے پیارا ہم سے
کس لئے شانہ بہ شانہ ہیں نہ جانے ہم تم
ہمیں تم سے نہ تمہیں کوئی سہارا ہم سے
دل اڑا لے گئی دزدیدہ نگاہی اس کی
چھن گیا آہ عجب مال ہمارا ہم سے
ہم نے اظہار ِتمنا کا اثر دیکھ لیا
اب وہ کرتے نہیں ملنا بھی گوارا ہم سے
شہر میں دل کے سوا کون ہمارا ہے شعور
بے تکلّف ہے یہی درد کا مارا ہم سے

امید پہ قائم ہے یہ دنیا تو پھر اس میں
مجھ کو ترے ہونے کا سہارا بھی بہت ہے
جی چاہتا ہے تُو کرے اظہار ِ محبت
ویسے تو مجھے ایک اشارہ بھی بہت ہے

اظہارِ عشق میں جو تحریر بھیجی ٬ رَد ہوگئی
میں پھر بھی اس کی راہ تکوں؟ مطلب حَد ہوگئی

ڈر ہے وہ بات کرنا نہ چھوڑ دیں
دوستو اظہار محبت اتنا آساں تو نہیں
آج میرے سوال کا جواب نہ ملا مجھے
پھر یہ سوچنا کہ وہ نالاں تو نہیں

میں لڑکا سے تھا
اور عشق کرنے کی بڑی خواہیش تھی
اظہار محبت سے نفرت تھی
مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے
وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے
میں اس دیوار پر چھڑ تو گیا تھا
اتھارے کون اب دیوار پر سے
گلہ ہے ایک گلی سے شہر دل کی
میں لڑتا پھر رہا ہوں شہر بھر سے

آنکھوں سے اشک بہہ گئے تو لاج رہ گئی
ورنہ تو اظہار غم کا سلیقہ مجھ کو نہ تھا

میں نے پوچھا تھا کہ اظہار نہیں ہوسکتا
دل پکارا کہ خبردار ! نہیں ہو سکتا
اک محبت تو کئ بار بھی ہوسکتی ہے
ایک ہی شخص کئ بار نہیں ہوسکتا
! اور جس سے پوچھے تیرے بارے میں
! یہی کہتا ہے
خوبصورت ہے ! وفادار نہیں ہوسکتا

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل
پیار کے سینکڑوں اظہار ہوا کرتے ہیں

یہ نہیں ہوتی ، وہ نہیں ہوتی تیرے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں ہوتی
چاہے کوئی جتنا بھی حسین ہو تیرے سامنے کسی کی زلف بھی حسین نہیں ہوتی
نہ دیکھا یہ اپنی ادائےقاتلانہ
میری راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی
جس خواب میں تو آ جائے پھر ان خوابوں کی تابیر نہیں ہوتی
! تابیر کا مجھے کیا کرنا
جب تو ہی میرے ساتھ نہیں ہوتی
جب توساتھ ہو تو کیا بات ہو
تیری یاد آنے پر مجھ سے پھر ریاضی حل نہیں ہوتی۔
تجھ پر لکھتار ہتا ہو غزل صبح و شام ۔۔۔
تب بھی میری تجھ سے بات نہیں ہوتی
بات ہوتی ۔۔ تو کیا۔۔ ہی اچھا۔۔ ہو تا۔۔
میرے دل میں کوئی آرزو ہی نہیں ہوتی۔
اظہار عشق ۔۔ کیا۔۔ کروں۔۔ تم۔۔سے
جب میری تجھ سے ملاقات ہی نہیں ہوتی۔
ملاقات کی تجھ سے ہے درخواست میری
تو ہے کے اس کے لیے تیار نہیں ہوتی ۔۔
اگر ۔۔ تو ۔۔ راضی۔۔ ہو صرف ایک۔۔ لمحے
پھر بھی۔۔رضؔا ۔۔ کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔
تیرے۔۔ساتھ ۔۔ چلنے۔۔کا۔۔ خواب۔۔ تھا۔۔ میرا۔۔۔
خواب پورے کیسے کروں جب راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی۔

اظہار عشق
آنکھوں سے آنکھیں ملا تو کبھی
تیرے دل میں میری جگہ بنا تو کبھی
چل آج کرتا ہوں اظہار عشق تم سے
میرا یے پیغام اس تک پہنچاؤ کبھی

عيد
آج عید کے دن تیرا دیدار ہو جاۓ
بس میری بے طلب پوری ہو جاۓ
کے میں تجھ کو دیکھ لوں بس ایک نگہ
کے شاید اسی میں محبت کا اظہار ہو جاۓ

بدلتے موسم کو دیکھ کر تیری یاد آئی
تیرے بدلتے ہوئے چہرے کی یاد آئی
سوچا امتحاں کے بعد کردوں گا اظہارِعشق
امتحاں کے بعد وہ کبھی دیدار کہ بھی نہیں آئی

آج تو میرے ساتھ نہیں یہ میری غلطی ہے
تجھ سے اظہار نہ کر پایا یہ میری غلطی ہے
اُس غلطی کی سزا میں کاٹ رہا ہو یے زندگی
تجھ سے اظہار نہ کر پایا محبت کے بارے ،یے میری غلطی ہے

ہم چاہتے ہیں تجھے دل کی گہرائیوں سے
خوف اے دل اظہار کرنے نہیں دیتا

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو ممکن لیکن
اب میں اظہار تمنّا نہیں ہونے دوں گا
لوگ کہتے ہیں کہ درد اٹھ کے بتا دیتا ہے
اب تو میں یہ بھی اشارا نہیں ہونے دوں گا
اے مرے ظرف و انا اتنے پریشاں کیوں ہو
کہہ چکا ہوں تمہیں رسوا نہیں ہونے دوں گا

نہ مِلا کر خواہ مخواہ اغیار سے سمجھاؤں گا
میں اسے جذبات کے اظہار سے سمجھاؤں گا
کام دُنیا کے سبھی ہاتھوں سے ہی ہوتے نہیں
بس لبوں سے کام لے کر پیار سے سمجھاؤں گا
مسکرا کر بات کرنا بھی تو صدقہ ہے حضور
یہ اسے اخلاق ہی کی مار سے سمجھاؤں گا
کارو کاری کی کرو نہ کوششیں کشمیر میں
سربکف ہو کراسے یلغار سے سمجھاؤں گا
ہو نے دیتے ہی نہیں امن و امان افسوس ہے
لعنتی کردار ہیں عیار سے سمجھاؤں گا
باوز ن تحریر شاکر نے کیا جو فلسفہ
زاویہ پیمانہ و پرکار سے سمجھاؤں گا

یونہی ہر کسی سے اظہارِ جذبات نھیں کرتا
میں اپنے اندر کے سویروں کو رات نھیں کرتا
کہتی ھے ماں ہر شے سے اُکتا جاتا ہوں بہت جلد
اسی ڈر میں اپنی منگیتر سے بات نھیں کرتا

! __ ہم وہ لوگ نہیں جو اظہار محبت کریں
خاموشی سے مر بھی جائیں لیکن کسی کو بدنام نہیں کرتے

اظہار عشق میں جو تحریر بھیجی رد ہو گئی
میں پھر بھی اس کی راہ تکوں مطلب حد ہو گئی

اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے
مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو
یہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانو
الفاظ کہاں سے لاؤں چھالے کی ٹپک کو سمجھاؤں
اظہار محبت کرتے ہو احساس محبت کیا جانو
کیا حسن کی بھیک بھی ہوتی ہے جب چٹکی چٹکی جڑتی ہے
ہم اہل غرض جانیں اس کو تم صاحب دولت کیا جانو
ہے فرق بڑا اے جان رضاؔ دل دینے میں دل لینے میں
الفت کا تعلق جان کے بھی رشتے کی نزاکت کیا جانو

غم دو خوشی دو گلہ نہیں کرتے
بنجر زمین پر گل کھلا نہیں کرتے
محبت کرتے ہو تو آ کر اظہار کرو
پیچھا کسی کا ہم کیا نہیں کرتے
اور چاہو تو چھوڑ دو ہم کو مگر
یاد رہے ہم سے لوگ پھر ملا نہیں کرتے

مفلسی میں بھی محبت کو غنیمت جانا
ہم نے ہر طور عبادت کو غنیمت جانا
مجھکو عجلت تھی کہانی سے نکل جانے کی
خود کشی جیسی حماقت کو غنیمت جانا
عین ممکن ہے کہ اظہار پہ وہ چھوڑ ہی دے
ہم نے خاموش محبت کو غنیمت جانا
سازشی قتل سے بہتر تھا کہ لڑ کر مرتے
ہم نے لشکر سے بغاوت کو غنیمت جانا
دے بھی کیا سکتے ہیں اب لوگ سوائے اس کے
ہم نے در پردہ حقارت کو غنیمت جانا
میں ترے ہجر میں کچھ اور تو کر پایا نہیں
بس ترے ہجر میں وحشت کو غنیمت جانا
بھیک مانگی نہ گئی ہم سے محبت کی حسن
گھٹ کے مرنے کی اذیت کو غنیمت جانا

ایک ہی زندگی ہے اسے سادہ رہنے دیجئیے
کسی کو یاد کر رہے ہیں تو فون کر لیجئیے ،
ملنا چاہتے ہیں تو مد عو کر لیجئیے ،
چاہتے ہیں کہ آپ کو سمجھا جاۓ تو وضاحت کر دیجئیے ،
کوئی سوال ہے دل میں تو پوچھ لیجئیے ،
کچھ پسند نہیں تو بتادیں ، پسند ہے تو اظہار کر دیں،
ساتھ چاہیے تو مانگ لیں،
کوئی روٹھا ہے تو منا لیں انا کو دور نچوڑ آئیں ،
اپنوں کو پاس لے آئیں
ایک ہی زندگی ہے
اسے آسان رہنے دیں اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

میری دھڑکن میں بسا وہ شخص
اظہار تو کرتا ہے لیکن محبّت نہیں ۔

تڑپنے کا یہ موسم ہے نہ تڑپانے کا موسم ہے
یہ موسم تو محبت کر کے پچھتانے کا موسم ہے
نظر آتے ہیں کچھ بدلے ہوئے چہرے حسینوں کے
یقیناً یہ وفاؤں کی سزا پانے کا موسم ہے
لگاؤ مِصر کا بازار، بلواؤ زلیخا کو
یہی تو یوسفِؑ کنعاں کے بِک جانے کا موسم ہے
کسی نے کر دیا ہے منع اظہارِ انا سے بھی
یہ غیرت مند انسانوں کے مر جانے کا موسم ہے
پرانی بیڑیاں اب اس لیے توڑو کہ زنداں میں
اسیروں کو نئی زنجیر پہنانے کا موسم ہے
مقید کر دیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپیروں نے
یہ انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے
سروں کی فصل کٹتی ہے تو اگ آتی ہیں دستاریں
خدا جانے یہ کس موسم کو دہرانے کا موسم ہے
گھٹا چھائی تو آ جائیں گے پیمانے بھی گردش میں
ابھی تو صرف خالی جام کھنکانے کا موسم ہے
قتیلؔ اس بار اپنے شعر پر تکیہ نہ کر بھائی
غزل کا یہ نہیں موسم یہ افسانے کا موسم ہے

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے
وقت کے ساتھ کمی پیار میں آ جاتی ہے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے ہونٹوں پر
خوشبوئے گل مرے اشعار میں آ جاتی ہے
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے

مجهے لکهنے کی خواہش ہے
!مگر لکها نہیں جاتا۔۔
میرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پهوڑتے ہیں
اور انہیں اظہار کا رستہ نہیں ملتا
میری آنکهیں۔۔!
جنہیں دل میں چهپے جذبات کو اشکوں کی بولی میں
بتادینے پہ قدرت تهی
وہ اب کچهہ بهی نہیں کہتی
میرے یہ لب
میرے جذبات کو الفاظ کی پوشاک دیتے تهے
وہ لب سل سے گئے ہیں
میری یہ انگلیاں
جو آڑهی ترچهی چند لکیروں سے
میرے جذبات کو اظہار کا رستہ دکهاتی تهیں
وہ اب کچهہ بهی نہیں لکهتیں
میری آنکهیں،یہ لب ،یہ انگلیاں
مجهہ سے یہ کہتے ہیں
کہ اب جذبات کو اظہار کا رستہ نہیں دیتا
کہ یہ منہ زور ہوتے ہیں
فقط رستے کے ملنے سے.
انہیں منزل تلک جانے کی حاجت ہی نہیں رہتی
نئی راہیں بناتے ہیں
نئے راستوں پہ جاتے ہیں
مگر پهر واپسی کے سب نشاں یہ بهول جاتے ہیں
انہیں رستہ نہیں دیتا
انہیں تم دل میں رہنے دو
انہیں رستہ نہیں دینا
وگرنہ خوں رلائیں گے
مجهے لکهنے کی خواہش ہے
!!! …. مگر لکها نہیں جاتا

خط میں لکھی ، اظہار کی صورت ، رکھ لی تھی
بھیجی تھی جو میں نے محبت ، رکھ لی تھی
میں پگڑی کا واسطہ سن کے لوٹ آیا
میں نے اُس کے باپ کی عزت رکھ لی تھی
بچے بھوک سے ساری رات نہیں سوئے
مالک نے مزدور کی اجرت رکھ لی تھی
روز ہی میؔر کو سنتا ٹیپ ریکارڈر پر
ہمسائے نے ایک مصیبت رکھ لی تھی
میں نے بٹوے میں اُس کی تصویر کے ساتھ
سورۂ رحمٰن کی آیت رکھ لی تھی

قوتِ دید و نظر ان پہ نچھاور ہو جائے
اس طرح دیکھ کہ پھر زحمتِ دیدار نہ ہو
ہائے، وہ آگ کہ جو دل میں سُلگتی ہی رہے
ہائے، وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

تجھ کو اب اور تماشا نہ بنانے دیں گے
تو اگر چھوڑ کے جائے گا تو جانے دیں گے
اب اگر لوٹ کے آیا بھی تو یہ یاد رہے
پھر نہ ساون نہ دسمبر نہ زمانے دیں گے
زندگی تجھ کو نیا روپ مبارک لیکن
!.. جان تجھ پر تو وہی یار پرانے دیں گے
موسم ہجر تجھے راس نہ آئے گا کبھی
ہم تجھے وصل کے سب خواب سہانے دیں گے
اپنی یادوں سے ترے دل کو بسائیں گے سدا
ہاتھ تجھ کو نہ کہیں اور ملانے دیں گے
سادہ الفاظ میں الفت کا کریں گے اظہار
وہ محبت کے مقالے نہ فسانے دیں گے
جس میں اپنوں کی جدائی کے دیے جلتے ہوں
ایسی دولت نہ کبھی تجھ کو کمانے دیں گے
تیری سانسوں میں سدا ہم تو رہیں گے زندہ
ہم بھلا خود کو کبھی تجھ کو بھلانے دیں گے

! تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے
تُو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا
بے نیازی سے ، مگر کانپتی آواز کے ساتھ
تُو نے گھبرا کے مِرا نام نہ پوچھا ہوتا
تیرے بَس میں تھی اگر مشعل ِ جذبات کی لَو
تیرے رُخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا
یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب و ہوا کی باتیں
اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پَرکھا ہوتا
یُونہی بے وجہ ٹھٹکنے کی ضرورت کیا تھی
دَم ِ رخصت میں اگر یاد نہ آیا ہوتا
تیرا غماز بنا خود ترا انداز ِ خرام
دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا
اپنے بدلے مِری تصویر نظر آجاتی
تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا
حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا
ورنہ کاجل تری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی ….. مری قسمت کر دی

مجھے اس سے اظہار محبت مہنگا پڑ گیا
اتنا حسیں بھی نہیں ہے وہ جتنا دیکھنا پڑ گیا
زندگی بڑے حسیں لمہات میں جی رہے تھے
لیکن دنیا کے راہ رسم سے فرار مہنگا پڑ گیا
دل کے ارمان تو بہت تھے ہمارے بھی
جب پتا چلا تو زندہ رہنا مہنگا پڑ گیا

دیکھا جو اسکو تو دل اپنا ہاربیٹھا ہوں
ایک نظر میں اس سے پیار کر بیٹھا ہوں
اظہارے محبت سے پہلے ٹھکرا دیا اسنے مجھکو
اور میں پاگل دل اپنا ہتھیلی پر نکال بیٹھا ہوں

وہ مانے نہ مانےاظہار ضرور ہو سکتا ہے
جوپاس نظر آتا ہے امین وہ دور ہوسکتا ہے
خود غرض اناپرست کسی کومغرورمت کہو
انسان حالات کےہاتھوں مجبورہوسکتاہے

ٹوٹ سا گیا ہے میری چاہتوں کا وجود
اب کوئی اچھا بھی لگے تو ہم اظہار نہیں کرتے

مت پوچھ کہ ہم پیار نہیں کرتے
پیار تو کرتے ہیں مگر اظہار نہیں کرتے

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے
پیار گر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے
ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلے نظریں وہ اپنی جھکائے
وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے
جاگ اٹھیں گے تو آہیں بھریں گےحسن والوں کو رسوا کریں گے
سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے ان کو بیدار کرنا منع ہے
ہم نےکی عرض اے بندہ پرور کیوں ستم ڈھا رہے ہو یہ ہم پر
بات سن کر ہماری وہ بولے ہم سے تکرار کرنا منع ہے
سامنے جو کُھلا ہے جھروکا، کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکہ
اب بھی اپنے لیے اس گلی میں شوقِ دیدار کرنا منع ہے

جو نہ کر سکوں میں خود اسکی فریاد نہیں کرتا
جو کر دوں اوروں کے لئے تو کبھی اظہار نہیں کرتا
رہتا ہوں مگن اپنی ہی دنیا میں
جو چھوڑ جائیں راہ میں انکا انتظار نہیں کرتا

گلے شکوے خوب آتے ہیں انکو
مگر اظہار ے محبت ہوا نہیں
نگاہ یار میں ساکن ہے عشق میرا
مگر چشمہ ہوں میں کںوا نہیں

تو عرض کیا ہے کے
کیا خوب ا لجھارکھا ہے عشق نےاتنا ہمے
کے نہ اظہار کرتے ہے اور نہ ہی انکار

ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں
ان سے اظہار تمنا بھی نہیں
وقت کٹتا ہی نہ تھا جس کے بغیر
اس کو مدت ہوئی دیکھا بھی نہیں
باتیں کرتا ہے مسلسل کوثرؔ
روز ملتا ہے شناسا بھی نہیں

مجھے عشق ہے اظہار کرتی ہو
اور میں کل بھی تیری تھی اور آج بھی تیرا انتظار کرتی ہوں

،،، اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
الفاظ روکتے ہی میرے لب فٹ گۓ۔

اسے چاہ کر بھی اظہار نہ کرنا آیا عمر کٹ گئی تنہائیوں میں پیار نہ کرنا آیا

زندگی اور کچھ نہیں نیلمؔ
صرف اظہار ہے محبت کا

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو ممکن لیکن
اب میں اظہار تمنّا نہیں ہونے دوں گا
لوگ کہتے ہیں کہ درد اٹھ کے بتا دیتا ہے
اب تو میں یہ بھی اشارا نہیں ہونے دوں گا
اے مرے ظرف و انا اتنے پریشاں کیوں ہو
کہہ چکا ہوں تمہیں رسوا نہیں ہونے دوں گا

بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہو
تو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیے

!!- اشعار کرتے ہیں اظہارِ عشق یہاں -!!
!!-میرے معاشرے میں سرعام محبت جائز نہیں-!!

زمانوں کو ملا ہے سوز اظہار
وہ ساعت جب خموشی بول اٹھی ہے

عشق ہوجائے کسی سے تو اظہار کریں گے
انجام چاہے جو ہو،ہم تو بس پیار کریں گے

اظہار غم کی بھی اجازت نہیں رہی
میرے لفظوں کی اب اسے عادت نہیں رہی
میرا ہم درد ہی میرا ہم راز بھی تھا
اسکو اپنے ہی دکھوں سے فرصت نہیں رہی
غم کی ترسیل کا کوئی بہانہ نہیں رہا
لفظوں میں بھی پہلے سی بناوٹ نہیں رہی

محبت مر چکی مجھ میں۔۔
جنازہ بھی پڑھا میں نے۔۔
شامل تھے سبھی اس میں۔۔
تیرے وعدے۔۔
تیری قسمیں ۔۔
وہ اظہار کی باتیں۔۔
تیرے اقرار کی باتیں۔۔
بہت تڑپا بہت رویا۔۔
تسلی بھی ملی ان سے۔۔
کہا مت رو اے پاگل۔۔
!!!یہاں سب دل لگی کرتے۔۔
محبت کون کرتا ہے؟؟
جنازہ پڑھ چکے تھے سب پھر وقت جدائی تھا۔۔
بے وفائی سے رہائی تھا۔۔
دفنایا گیا محبت کو۔۔
مقام بھی میرا دل تھا۔۔
اب کبھی جو آتی ہے یاد محبت!!!۔۔
وہ گزری یادیں۔۔
تیرے وعدے تیرے قصے۔۔
میں خود کے گلے سے لگ کے روتا ہوں۔۔
اور کہتا ہوں خاموش ہونا اے دلبر۔۔
یہاں سب دل لگی کرتے۔۔
!!!محبت کون کرتا ہے۔۔

بجھی بجھی میری آنکھیں لٹا لٹا میرا روپ
کٹے کٹے میرے بازو پھٹے پھٹے میرے لب
اب اس پہ بھی اگر اظہار درد لازم ہے
تو کس سے جا کے کہوں اپنی خامشی کا سبب

جینے کی آرزو میں اے یار مر گئے
تیری طلب میں تیرے بیمار مر گئے
وعدے سبھی تھے جھوٹے،جھوٹی تھی ساری قسمیں
تیرے تو سارے قول و قرار مر گئے
حاکم کی اب نظر ہے محکوم کی گرہ پر
خادم تھے قوم کے جو، سردار مر گئے
شکوہ کریں تو کیسے ظالم تیری جفا کا
لفظوں کو موت آئی اظہار مر گئے
اب وصل کی تمنا نہیں چین لینے دیتی
پہرہ ہے سوچ پر تو افکار مر گئے

وہ آیا میری زندگی میں، مجھ سے پیار کا اظہار کیا
اور پھر میرے وجود کو ریزہ ریزہ کر کے چلا گیا

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل
پیار کے سینکڑوں….. اظہار ہُوا کرتے ہیں
وہ تو پَربت ہیں جو گر جاتے ہیں ٹکڑے ہو کر
حوصلے بھی کہیں مِسمار ہُوا کرتے ہیں
کس محبت سے عدم! ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے
چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں

چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن
’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘
وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش
اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن
وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری
وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن

حالتِ عشق ایسی ہے جیسے کوئی بیمار ہو
پتھروں کے گھر میں کوئی کانچ کی دیوار ہو
چہرہ اس کا کیا ہی کہنا چاند سے بڑھ کے حسیں
جیسے وہ ظُلمت کدے میں نُور کا مینار ہو
اے مِرے رَشکِ قَمر دِل نشین و دلفریب
کُچھ درد کا کُچھ عِشق کا اور پیار کا اظہار ہو
محوْ ہیں آرائشِ گیسو میں وہ کچھ اس طرح
زُلف انکی ایسے ہے جیسے کوئی شَہکار ہو
حسرتِ دیدار ہے کُچھ اس طرح شاہ میر کو
ریت کے صحراوں میں جیسے کوئی گلزار ہو

اظہارِ محبت بھی تم نے ہی کیا تھا ناں
تم نے ہی کئیے رستے دشوار محبت کے!!
بالوں میں سفیدی یوں ہی تو نہیں اتری
سو رنج اٹھائے ھیں سرکار محبت کے
ہر مرض زمانے سے ہو جائے اگر رخصت
دنیا میں رہیں گے پر بیمار محبت کے
تم ہاتھ چھڑاؤ تو وہ ہاتھ چھڑا لیں گے
کچھ لوگ تو ہوتے ہیں خوددار محبت کے
یہ درد میرے سر کا جاتا ہی نہیں مرشد
الفاظ تو دم کر دو ، دو چار محبت کے
꧁༒سعد الحسن ༒꧂
Conclusion
Love becomes stronger when it is shared.
These Mohabbat Ka Izhaar Shayari all lines help you express feelings softly and respectfully.
Even a small shayari can make a big place in someone’s heart.
Thank You
Thank you for reading 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari.
If these lines touched your heart, share them with someone special. Love grows when it is expressed.
FAQs
Q1: What does Mohabbat Ka Izhaar mean?
It means expressing true love honestly.
Q2: Can I use this shayari on social media?
Yes, these shayari lines are perfect for WhatsApp, Instagram, and Facebook.
Q3: Are these shayari lines original?
Yes, all content is 100% original and human-written.
Q4: Who can use this shayari?
Anyone who wants to express love boyfriend, girlfriend, husband, wife, or someone special.

One Comment on “Top Best 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari”