Top Best 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari

Mohabbat Ka Izhaar Shayari

Mohabbat Ka Izhaar Shayari

Love is a feeling that lives in the heart, but sometimes it needs deep words. Mohabbat ka Izhaar means expressing true very love honestly and softly.

Many people search for Mohabbat ka Izhaar Shayari to tell someone special how they feel. This collection of 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari is made for those moments when you want to say “I love you” in a beautiful Urdu style.

Description

Expressing love is not always easy. Shayari helps when words feel difficult.
People often look for:

  • Mohabbat ka izhaar shayari
  • Pyar ka izhaar poetry
  • Romantic Urdu shayari
  • Love confession shayari in Urdu
  • Heart-touching love quotes

These shayari lines are so simple, emotional, and perfect for WhatsApp status, messages, Instagram captions, or personal notes. Each line reflects pure feelings, not fake words.

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگی

کہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگی

کہا: ہم کیا کریں اس عہد نا پرساں میں کچھ کہیے

وہ بولے کوئی آخر صورت اظہار تو ہوگی

کہا: ہم اپنی مرضی سے سفر بھی کر نہیں سکتے

وہ بولے ہر قدم پر اک نئی دیوار تو ہوگی

کہا: آنکھیں نہیں اس غم میں بینائی بھی جاتی ہے

وہ بولے ہجر کی شب ہے ذرا دشوار تو ہوگی

کہا: جلتا ہے دل بولے اسے جلنے دیا جائے

اندھیرے میں کسی کو روشنی درکار تو ہوگی

کہا: یہ کوچہ گردی اور کتنی دیر تک آخر

وہ بولے عشق میں مٹی تمہاری خوار تو ہوگی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے

وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر

میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں

مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے

جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں

مرے دل کا الاؤں آج تک دیکھا نہیں جس نے

وہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں

یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میں

مرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں

ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے

محبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں

جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہے

مزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی

اب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئی

موسم تھا نمائش کا مگر آنکھ نہ کھولی

جاناں ترے زخموں کو سیاست نہیں آئی

جو روح سے آزار کی مانند لپٹ جائے

ہم پر وہ گھڑی اے شب وحشت نہیں آئی

اے دشت انا الحق ترے قربان ابھی تک

وہ منزل اظہار صداقت نہیں آئی

ہم لوگ کہ ہیں ماؤں سے بچھڑے ہوئے بچے

حصے میں کسی کے بھی محبت نہیں آئی

ہم نے تو بہت حرف تری مدح میں سوچے

افسوس کہ سنوائی کی نوبت نہیں آئی

لرزے بھی نہیں شہر کے حساس در و بام

دل راکھ ہوئے پھر بھی قیامت نہیں آئی

ساجدؔ وہ سحر جس کے لئے رات بھی روئی

آئی تو سہی حسب ضرورت نہیں آئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی

اکثر چارہ گروں کی حالت مجھ سے سوا گمبھیر ہوئی

کیا جانے کیوں مجھ سے میری برگشتہ تقدیر ہوئی

مملکت عیش آنکھ جھپکتے ہی غم کی جاگیر ہوئی

اس نے میرے شیشۂ دل کو دیکھ کے کیوں منہ موڑ لیا

شاید اس آئینے میں اس کو ظاہر کوئی لکیر ہوئی

جب بھی لکھا حال دل مضطر میں نے اس کو رات گئے

تا بہ سحر اشک افشانی سے ضائع وہ تحریر ہوئی

بڑھتی جاتی ہے دورئ منزل جب سے جنوں نے چھوڑا ساتھ

اب تو خرد ہر گام پر اپنے پیروں کی زنجیر ہوئی

مجھ کو عطا کرتے وہ یقیناً میری طلب سے سوا لیکن

خودداری میں ہاتھ نہ پھیلا شرم جو دامن گیر ہوئی

کس کو خبر ہے ان کی گلی میں کتنے دلوں کا خون ہوا

رعنائی میں ان کی گلی جب وادئ کشمیر ہوئی

ان سے کروں اظہار تمنا سوچا رکھ کر عذر جنوں

لیکن وہ بھی راس نہ آیا لا حاصل تدبیر ہوئی

ٹپ ٹپ آنکھ سے آنسو ٹپکے عاجزؔ آہ سرد کے ساتھ

میرے سامنے نذر آتش جب میری تصویر ہوئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

پابندئ اظہار کی لعنت ہی الگ ہے

خاموش زبانوں کی حکایت ہی الگ ہے

جو تم نے ستم ڈھائے ہیں وہ اور ہیں لیکن

اس درد جدائی کی اذیت ہی الگ ہے

تم نے تو اداؤں سے بہت قتل کئے ہیں

انداز تغافل کی قیامت ہی الگ ہے

ہونٹوں سے تو ہوتے ہیں ادا حرف محبت

آنکھوں کے اشارے کی وضاحت ہی الگ ہے

تا حد نظر دید کے قابل ہیں نظارے

لیکن ترے دیدار کی حسرت ہی الگ ہے

عشرت کدہ دہر میں کیا کیا نہیں لیکن

تیرے لب و رخسار کی جنت ہی الگ ہے

پڑھتے ہیں بڑے شوق سے ارباب ادب بھی

اجملؔ ترے اشعار کی ندرت ہی الگ ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

آزار بہت لذت آزار بہت ہے

دل دست ستم گر کا طلب گار بہت ہے

اقرار کی منزل بھی ضرور آئے گی اک دن

اس وقت تو بس لذت انکار بہت ہے

یاران سفر کوئی دوا ڈھونڈ کے لاؤ

انسان مرے دور کا بیمار بہت ہے

ہاں دیکھیو عرفان بغاوت نہ جھلس جائے

منظر مری دنیا کا شرر بار بہت ہے

ہم گھر کی پناہوں سے جو نکلے تو یہ جانا

ہنگامہ پس سایۂ دیوار بہت ہے

قاتل کی عنایت کا مزہ اور ہے ورنہ

جاں لینے کو یہ سانس کی تلوار بہت ہے

کیا لوگ ہیں یہ سوچ کے بیٹھے ہوں گھروں میں

بس ظلم سے بے زاری کا اظہار بہت ہے

حالات زمانہ سے لرز جاتے ہیں اجملؔ

یوں ہے کہ زمانہ سے ہمیں پیار بہت ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہو

وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا

کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں

اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا

جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی

ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس درجہ ورق نمناک ہوا

خوش رہیو سن اے باد صبا کہیں اور تو اپنے ناز دکھا

تو جس کے بال اڑاتی تھی وہ شخص تو کب کا خاک ہوا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں

خدا کا شکر کہ پاؤں میں اپنے لنگ نہیں

عجیب اس سے تعلق ہے کیا کہا جائے

کچھ ایسی صلح نہیں ہے کچھ ایسی جنگ نہیں

کوئی بتاؤ کہ اس آئنہ کا مول ہے کیا

جس آئنہ پہ نشان غبار و زنگ نہیں

مرا جنون ہے کوتاہ یا یہ شہر تباہ

جو زخم سر کے لیے یاں تلاش سنگ نہیں

ہیں سارے قافلہ سالار سب ہیں راہنما

یہ کیا سفر ہے جو کوئی کسی کے سنگ نہیں

جو کچھ متاع ہنر ہو تو سامنے لاؤ

کہ یہ زمانۂ‌ اظہار نسل و رنگ نہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے

ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے

ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی

اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے

میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے

میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے

تو ادھر کیسے ارے چاندنی صورت والے

یہ وہ دھندا ہے جو آنکھوں میں جلن چاہتا ہے

وصل کے بعد بھی پوری نہیں ہوتی خواہش

اور کچھ ہے جو یہ نادیدہ بدن چاہتا ہے

سونے سونے سے ہیں لفظوں کے شوالے کاشفؔ

ایسا لگتا ہے کہ اظہار بدن چاہتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

پھول کا یا سنگ کا اظہار کر

آسماں اورنگ کا اظہار کر

جسم کے روزن سے پہلے خود نکل

پھر قبائے تنگ کا اظہار کر

پھول کی پتی پہ کوئی زخم ڈال

آئنے میں رنگ کا اظہار کر

آبگینوں میں سیاہی بھر کے چل

دوستی میں جنگ کا اظہار کر

دھول سے انفاس کے پیکر تراش

خوشبوؤں میں رنگ کا اظہار کر

پڑھ رہا تھا میں قصیدہ نام کا

کوئی بولا ننگ کا اظہار کر

کون کتنا آدمی ہے یہ بتا

آہ میں آہنگ کا اظہار کر

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

پریشانی میں اظہار پریشانی سے کیا حاصل

بھرے بازار میں خود اپنی ارزانی سے کیا حاصل

مجھے ہر منزل مستی سے ہنس ہنس کر گزرنا ہے

مٹا دے جو مری ہمت اس آسانی سے کیا حاصل

بغیر جبر و قوت جھک نہیں سکتا جو اک سر بھی

تو پھر ایسی جہانگیری جہاں بانی سے کیا حاصل

ہجوم برق و باراں ہو نزول قہر و طوفاں ہو

فضائے عافیت میں بال جنبانی سے کیا حاصل

دل برباد سے پیدا نیا دل ہو نہیں سکتا

اب آنسو پونچھیے بھی اب پشیمانی سے کیا حاصل

ترستے ہیں در و دیوار بھی اب ان کے جلوؤں کو

مجھے اے خانۂ دل تیری ویرانی سے کیا حاصل

قفس ہو یا نشیمن کوئی ہم آہنگ ہو ورنہ

ادیبؔ ایسی فغاں ایسی غزل خوانی سے کیا حاصل

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو

رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو

طاقت نہیں زباں میں تو لکھ ہی لو دل کی بات

کوئی تو ساتھ صورت اظہار لے چلو

دیکھوں تو وہ بدل کے بھلا کیسا ہو گیا

مجھ کو بھی اس کے سامنے اس بار لے چلو

کب تک ندی کی تہہ میں اتاروگے کشتیاں

اب کے تو ہاتھ میں کوئی پتوار لے چلو

پڑتی ہیں دل پہ غم کی اگر سلوٹیں تو کیا

چہرے پہ تو خوشی کے کچھ آثار لے چلو

جتنے بھنور کہو گے پہن لوں گا جسم پر

اک بار تو ندی کے مجھے پار لے چلو

کچھ بھی نہیں اگر تو ہتھیلی پہ جاں سہی

تحفہ کوئی تو اس کے لئے یار لے چلو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اجڑے ہوئے دیار کا مطلب سمجھ گئے

تم کیسے انتظار کا مطلب سمجھ گئے

جو اجنبی تھے عشق و محبت کے لفظ سے

صد شکر ہے وہ یار کا مطلب سمجھ گئے

پھر کھل کے اپنے عشق کا اظہار کر دیا

جب وہ بھی حال زار کا مطلب سمجھ گئے

حیرت میں ہوں میں دیکھ کے یہ آج دوستو

وہ کیسے دل فگار کا مطلب سمجھ گئے

تھوڑی بہت ادھر بھی ہیں کچھ بے قراریاں

جو دل کے تار تار کا مطلب سمجھ گئے

اس کو بھی میری یاد نے مجبور کر دیا

جب موسم بہار کا مطلب سمجھ گئے

نظریں جھکائے رکھنا حراؔ ان کے روبرو

وہ بھی تمہارے پیار کا مطلب سمجھ گئے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

شب کو پازیب کی جھنکار سی آ جاتی ہے

بیچ میں پھر کوئی دیوار سی آ جاتی ہے

ان کا انداز نظر دیکھ کے محفل میں کبھی

مجھ میں بھی جرأت اظہار سی آ جاتی ہے

اس ادا سے کبھی چلتی ہے نسیم سحری

خشک پتوں میں بھی رفتار سی آ جاتی ہے

ہم تو اس وقت سمجھتے ہیں کہ آتی ہے بہار

دشت سے جب کوئی جھنکار سی آ جاتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

غم حیات کے پیش و عقب نہیں پڑھتا

یہ دور وہ ہے جو شعر و ادب نہیں پڑھتا

کوئی تو بات ہے روداد خون ناحق میں

کہیں کہیں سے وہ پڑھتا ہے سب نہیں پڑھتا

کسی کا چہرۂ تاباں کہ ماہ رخشندہ

جو پڑھنے والا ہے قرآں وہ کب نہیں پڑھتا

وہ کون ہے جو تجھے رات دن نہیں لکھتا

وہ کون ہے جو تجھے روز و شب نہیں پڑھتا

وہ اب تو اس قدر اظہار حق سے ڈرتا ہے

اگر لکھا ہو کہیں لب تو لب نہیں پڑھتا

نہ جانے ان دنوں کیا ہو گیا ہے ساقی کو

نگاہ رند میں حسن طلب نہیں پڑھتا

اسی کا رنگ ہے افسرؔ اسی کی خوشبو ہے

مرا کلام کوئی بے سبب نہیں پڑھتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اپنے ہی لہو سے کہیں مسمار نہ ہونا

دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہونا

گمنام ہی رہنے میں بڑا نام ہے پیارے

شہرت کے لیے داخل دربار نہ ہونا

اے میرے خدا قید ہوں میں کیسے جہاں میں

گویائی تو ہونا دم گفتار نہ ہونا

بازار ہو گر مصر کا بولی تو لگانا

یوسف کو جو چاہو تو خریدار نہ ہونا

اوروں سے گلہ کیا ہو کہ لے ڈوبا ہمیں تو

اندر کے جواں مرد کا اظہار نہ ہونا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بسائے جاتے ہیں اہل جنوں سے ویرانے

رموز مملکت حسن کوئی کیا جانے

یہ کس کی بزم ہے آراستہ خدا جانے

نہیں ہے شمع تو کیوں جل رہے ہیں پروانے

ہے بندہ ہونے کے اظہار پر بشر مجبور

پئے سجود بنیں مسجدیں کہ بت خانے

نہ قیس دشت میں ہے اور نہ کوہ میں فرہاد

پر ان کے نام سے گونج اٹھتے ہیں یہ ویرانے

فزوں ہیں نغمۂ بلبل سے قہقہے گل کے

کہ انتظام چمن اب کریں گے دیوانے

دیار عشق میں برپا ہے انقلاب عظیم

یہ دور وہ ہے کہ اپنے ہوئے ہیں بیگانے

چھپا لیا رخ انور حنائی ہاتھوں سے

ہمارے دل پہ جو گزری تری بلا جانے

ستم ہزار ہوں ظالم مگر دلوں کو نہ توڑ

ترے خیال سے آباد ہیں یہ کاشانے

وہ حال غم مرا خود مجھ سے سن کے کہتے ہیں

کہ سن چکے ہیں ہم ایسے ہزار افسانے

ہے بادہ نوشی سے مستوں کو بعد مرگ بھی ربط

کہ ان کی خاک سے یاں بن رہے ہیں پیمانے

صنم سے حال دل زار کہہ تو دوں آغاؔ

مگر میں جاؤں کہاں وہ اگر برا مانے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے

ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے

راستے خود ہی بدل جائیں تو بدلیں ورنہ

چلنے والے کبھی رفتار نہیں بدلیں گے

دور تک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی

کیا مرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے

میں سمجھتا ہوں ستارے جو سحر سے پہلے

بجھنے والے ہیں شب تار نہیں بدلیں گے

گل بدل جائیں گے جب موسم گل بچھڑے گا

جب خزاں جائے گی تو خار نہیں بدلیں گے

لوگ بدلیں گے مفاہیم مسلسل آغازؔ

اور یہ سچ ہے مرے اشعار نہیں بدلیں گے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

وہ میرے ساتھ چلنے پر اگر تیار ہو جائے

بھلے منزل کی جانب سے مجھے انکار ہو جائے

مرا فن اداکاری نمایاں ہو کے ابھرے گا

ذرا تیری کہانی میں مرا کردار ہو جائے

نشاط انگیز شاموں کا تسلسل اس طرح ٹوٹا

کہ گہری نیند سے یک دم کوئی بیدار ہو جائے

اگر اپنی مدھر آواز میں نغمہ سنا دے وہ

تو راہ محفل یاراں ذرا ہموار ہو جائے

اگر وہ اک نظر دیکھے مرے جذبے کی سچائی

نصیحت چھوڑ کر ناصح مرا غم خوار ہو جائے

تری آنکھیں بتاتی ہیں تجھے مجھ سے محبت ہے

مگر دل کی تسلی کو ذرا اظہار ہو جائے

سمجھ لو تیرگی دیرینہ ساتھی ہو گئی عادلؔ

چراغ جاں جلانا جب تمہیں دشوار ہو جائے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار

میں سکوت گلگت و اسکر دو پارہ چنار

بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس

اے سنہری زین والے نقرئی رتھ کے سوار

گلشن اظہار کے دو خسرو و سرمست پھول

رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہسار

یار ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح گر

تو کسی فرقے کا شاعر میں لسان کردگار

انگلیوں میں روشنی دیتے زمرد کے چراغ

مرمریں بازو کا حلقہ سرخ یاقوتی حصار

روشنی تاریک رستے سے زمیں تک آ گئی

بیج کو شوق نمو نے کر دیا ہے آشکار

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے

میں کچھ کہوں تو ترازو نکال لیتا ہے

وہ پھول توڑے ہمیں کوئی اعتراض نہیں

مگر وہ توڑ کے خوشبو نکال لیتا ہے

میں اس لئے بھی ترے فن کی قدر کرتا ہوں

تو جھوٹ بول کے آنسو نکال لیتا ہے

اندھیرے چیر کے جگنو نکالنے کا ہنر

بہت کٹھن ہے مگر تو نکال لیتا ہے

وہ بے وفائی کا اظہار یوں بھی کرتا ہے

پرندے مار کے بازو نکال لیتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے

اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے

کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش

کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے

رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ

فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے

گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں

دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے

دیدنی ہے یہ توجہ بھی بہ انداز ستم

عمر بھر شیشۂ خالی سے پلاتا ہے مجھے

ہمہ اندیشۂ گرداب بہ پہلوئے نشاط

موج در موج ہی ساحل نظر آتا ہے مجھے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کیا جانیے اس نام میں کیا بھید بھرا تھا

سنتے ہی جسے رات کوئی چونک پڑا تھا

اس شور کو سن سن کے یہ دل کانپ گیا تھا

جیسے کوئی میری ہی طرح چیخ رہا تھا

اس کو بس ادھر ایک ہی دھن تھی اور ادھر میں

بگڑی ہوئی اک بات بنانے میں لگا تھا

حیرانی یہی تھی کہ چمک کیسی ہے دل میں

پھر آج جو اک زخم کو دیکھا تو ہرا تھا

کل گریۂ پیہم نے مری جان بچائی

میں ضبط کی دیوار کے ملبے میں دبا تھا

وہ سرد سماعت میں مجھے ڈھونڈ رہی تھی

میں شعلۂ اظہار کے باطن میں چھپا تھا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

یہ بھی اصرار کوئی روزن در باز نہ ہو

سانس لیتے رہو پر سانس کی آواز نہ ہو

یک بیک عالم اظہار میں سناٹے کی گونج

آنے والے کسی طوفان کی غماز نہ ہو

شعر و فن آذر حاضر کے تراشیدہ صنم

تہمت لوح و قلم توسن پرواز نہ ہو

پھر تری یاد سے روشن ہوا کاشانۂ دل

وسعت کون و مکاں جلوہ گہہ ناز نہ ہو

وقت کے جبر سے کب کار جنوں خیز رکا

کوشش سنگ زنی نقطۂ آغاز نہ ہو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

اک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا

وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری

پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا

بارش وہ برستی ہے کہ بھر جاتے ہیں جل تھل

دیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا

گھر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میں

چاہو کہ نکل جائیں تو رستہ نہیں ہوتا

یادوں پہ بھی جم جاتی ہے جب گرد زمانہ

ملتا ہے وہ پیغام کہ پہنچا نہیں ہوتا

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

کیا اس سے گلہ کیجیئے بربادئ دل کا

ہم سے بھی تو اظہار تمنا نہیں ہوتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے

میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے

تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ

تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی

کیا ترا جسم ترے حسن کی حدت میں جلا

راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا

ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا

اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے

کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا

اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے

تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہو سکتا

اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے

تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہو سکتا

تو کہ اک موجۂ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے

حشر آتا ہے تو بیدار نہیں ہو سکتا

سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی

گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہو سکتا

راکھ سی مجلس اقوام کی چٹکی میں ہے کیا

کچھ بھی ہو یہ مرا پندار نہیں ہو سکتا

اس حقیقت کو سمجھنے میں لٹایا کیا کچھ

میرا دشمن مرا غم خوار نہیں ہو سکتا

میں نے بھیجا تجھے ایوان حکومت میں مگر

اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہو سکتا

تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے

رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہو سکتا

وہ جو شعروں میں ہے اک شے پس الفاظ ندیمؔ

اس کا الفاظ میں اظہار نہیں ہو سکتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

زیست آزار ہوئی جاتی ہے

سانس تلوار ہوئی جاتی ہے

جسم بے کار ہوا جاتا ہے

روح بیدار ہوئی جاتی ہے

کان سے دل میں اترتی نہیں بات

اور گفتار ہوئی جاتی ہے

ڈھل کے نکلی ہے حقیقت جب سے

کچھ پر اسرار ہوئی جاتی ہے

اب تو ہر زخم کی منہ بند کلی

لب اظہار ہوئی جاتی ہے

پھول ہی پھول ہیں ہر سمت ندیمؔ

راہ دشوار ہوئی جاتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جو محبت کو اختیار کرے

حرف مطلب نہ آشکار کرے

آدمی کو بلند رہنا ہے

پستیوں کو نہ اختیار کرے

ہے وہ انسان قدر کے قابل

آدمیت کو جو شعار کرے

ہم تو مر مٹ چکے ہیں جیتے جی

موت کا کون انتظار کرے

ہم بھی رکھتے ہیں پاس خودداری

کون اظہار حال زار کرے

چاک ہے جس کا دامن ہستی

کیوں گریباں کو تار تار کرے

شوق ہے جس کو خاک ہونے کا

مذہب عشق اختیار کرے

ہم ہیں مصروف دید مصحف رخ

کون نظارۂ بہار کرے

نبض ڈوبی مریض الفت کی

چارہ گر خاک کیا شمار کرے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

احساس عشق دل کی پناہوں میں آ گیا

بادل سمٹ کے چاند کی باہوں میں آ گیا

اظہار عشق میں نے کسی سے نہیں کیا

اور بے سبب جہاں کی نگاہوں میں آ گیا

وہ مسکرا کے دیکھ رہے ہیں مری طرف

اتنا اثر تو اب مری آہوں میں آ گیا

کیا پوچھتے ہو عزم سفر کی کرامتیں

منزل کا نقش خود مری راہوں میں آ گیا

ہیں ابتدائی مرحلے یہ عشق کے ابھی

ساحلؔ یہ سوز کیوں تری آہوں میں آ گیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مرے دن کی طرح روشن مری ہر رات ہوتی ہے

دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے

عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہار محبت کا

زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے

تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں

مرے ہم راہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے

بھلا الزام کوئی دشمنی پر کیا رکھا جائے

کہ اب تو دوستی ہی باعث صدمات ہوتی ہے

رہوں میں کوئی عالم کوئی حالت میں مگر ساحلؔ

مرے پیش نظر تو بس خدا کی ذات ہوتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

راز کھل جائے نہ ساقی کہیں میخانے کا

ذکر اچھا نہیں پیمانے سے پیمانے کا

کیا ٹھکانا ہے بھلا آپ کے دیوانے کا

زندگی جس کے لئے نام ہے مر جانے کا

شہر میں تیرے میں پھرتا ہوں یوں مارا مارا

جیسے اک اجنبی بھٹکا ہوا ویرانے کا

بات تو جب ہے کہ پلکوں سے بھی اظہار نہ ہو

دل میں مستور رہے راز صنم خانے کا

جان دے دینا بھری بزم میں آسان نہیں

شمع پر مٹنا ہی مقدور ہے پروانے کا

ایک لمحے میں بدل جائے گلستاں کا نظام

ہم الٹ دیں جو ورق عشق کے افسانے کا

دردؔ کے درد کو تسکین میسر ہو جائے

خط جو مل جائے کبھی آپ کے آ جانے کا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

وہ ربط باہمی نہیں وہ پیار بھی نہیں

پہلی سی وہ نگاہ طرحدار بھی نہیں

اب حال دل کا لایق اظہار بھی نہیں

جیتے ہیں اور جینے کے آثار بھی نہیں

ہر ہر نفس میں زیست کے ہے آرزوئے شوق

کم دل کشی میں عشق کا آزار بھی نہیں

تھی جان اک امانت یار اس کو سونپ دی

اب زندگی کے دوش پہ یہ بار بھی نہیں

اس دور کی عجیب ہے تنظیم دوستو

فن کار وہ بنا ہے جو فن کار بھی نہیں

دور ہوس میں کوئی بھی پرسان غم نہیں

اپنوں سے کیا شکایت اغیار بھی نہیں

دنیا میں ایک تیرا سہارا ہے اے خدا

تنہا ہوں کوئی یار و مددگار بھی نہیں

حق بات دردؔ اہل خرد کو نہ ہو قبول

غالبؔ کے لوگ اتنے طرف دار بھی نہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

گھر چھوڑ کے بھی گھر ہی کے آزار میں رہنا

کھوئے ہوئے فکر در و دیوار میں رہنا

کچھ اور بڑھا دیتا ہے معنی کا تأثر

چپ رہ کے بھی پیرایۂ اظہار میں رہنا

جو مصلحت وقت کو خاطر میں نہ لائے

وہ حسن انا چاہئے فنکار میں رہنا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جام چھلکائیں صراحی سے نظر چار کریں

میکدہ نیند میں ہے ہم اسے بیدار کریں

کوئی آئے گا شب غم مری پرسش کے لئے

آپ آئیں گے ذرا سوچ کے اقرار کریں

ایک قاتل بھی ہے اس شہر میں منصف کی طرح

جان کی ہم جو اماں پائیں تو اظہار کریں

غنچہ و گل پہ کوئی تازہ قیامت ٹوٹے

لوگ اتنا بھی نہ فکر لب و رخسار کریں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کیا روش اختیار کر بیٹھے

بے وفاؤں سے پیار کر بیٹھے

جو سمجھتے نہیں ہیں دل کی زباں

ان پہ ہم دل نثار کر بیٹھے

ہجر کی رات کاٹے کٹتی نہیں

ایک پل کو ہزار کر بیٹھے

تاب نظارہ کب تھی آنکھوں میں

پھر بھی ضد بار بار کر بیٹھے

ان کا وعدہ تو صرف وعدہ تھا

جس پہ ہم اعتبار کر بیٹھے

جانے والے نہ آئیں گے ہرگز

لوگ کیوں انتظار کر بیٹھے

کر کے اظہار حال ان سے مجیدؔ

خود کو ہم شرمسار کر بیٹھے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کبھی اقرار کرتا ہے کبھی انکار کرتا ہے

محبت کا وہ مجھ سے اس طرح اظہار کرتا ہے

میرے خوابوں میں آ کر چھین لیتا ہے سکوں میرا

یہ کیسا دوست ہے جینا مرا دشوار کرتا ہے

کبھی بھی سامنے سے دو بدو ہوتا نہیں ظالم

عجب بزدل ہے ہر دم فاصلے سے وار کرتا ہے

بچھاتا ہے جو کانٹے دوسروں کی راہ میں ہر دم

حقیقت میں وہ اپنی راہ خود پر خار کرتا ہے

نباہے گا زمانے سے وہ کیسے رسم الفت کو

جو اپنی کج ادائی سے ہمیں بیزار کرتا ہے

گناہوں میں چھپا رکھی ہے اس نے کس قدر لذت

نہیں کرنا ہے جس کو دل اسے سو بار کرتا ہے

مجیدؔ اب دل لگانا بھی نہیں آتا ہے لوگوں کو

جسے دیکھو وہی الفت میں کاروبار کرتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دل غم عشق کے اظہار سے کتراتا ہے

آہ غم خوار کہ غم خوار سے کتراتا ہے

یہ سمجھ کر کے جفاؤں میں مزا پاتا ہے

وہ ستم گر مرے آزار سے کتراتا ہے

ہو گیا اس پہ بھی کچھ اس کی شکایت کا اثر

اب مسیحا بھی جو بیمار سے کتراتا ہے

ہو رہا ہے مجھے تکمیل محبت کا گماں

عشق اب حسن کے دیدار سے کتراتا ہے

دل پروردہ غم خوشیوں سے یوں جاتا ہے

سوزؔ اک بال جوں اغیار سے کتراتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مری نگاہ کو جلووں کا حوصلہ دے دو

گزر بسر کا کوئی بھی تو آسرا دے دو

تمہاری بزم سے جاتا ہے نا مراد کوئی

سفر بخیر کی جان وفا دعا دے دو

عطا پہ حرف نہ آ جائے مانگنے سے مرے

خدا ہو میرے تو پھر حسب مدعا دے دو

مٹا دو میری نگاہوں سے تم نقوش تمام

وگرنہ دوسرا مجھ کو اک آئنہ دے دو

فریب شرح تمنا بھی کھا لے اب یہ دل

لبوں کو جرأت اظہار مدعا دے دو

جنوں نواز و جنوں خیز و صد جنوں ساماں

تم اپنے جلووں کو ایسی کوئی ادا دے دو

عدو کو شکوۂ لذت کوئی نہ رہ جائے

مرے لہو کو کچھ ایسا ہی ذائقہ دے دو

غزل کی آبرو تم ہو غزل مجھے محبوب

شعور فکر کو اسلوب خوش نما دے دو

یہ دل تو دشمن جانی ہے ایک مدت سے

جو غم نواز ہو ایسا غم آشنا دے دو

لباس کہنہ غزل کا اتار کر طرزیؔ

بہ فیض طبع رسا اک نئی قبا دے دو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کام بس فاتحہ خوانی سے نہیں ہوتا ہے

عشق اظہار زبانی سے نہیں ہوتا ہے

ہے یہ قرآن عمل کرنے کی دولت یارو

نفع بس لفظ معانی سے نہیں ہوتا ہے

کچھ عنایت یہاں احباب بھی کر جاتے ہیں

سب زیاں دشمن جانی سے نہیں ہوتا ہے

کام ہو جاتا ہے بس مصرع اول سے بھی کبھی

کام جو مصرع ثانی سے نہیں ہوتا ہے

یہ تجارت نہیں اک اہم عبادت ہے میاں

عشق میں لابھ و ہانی سے نہیں ہوتا ہے

بعض اوقات ٹھہرنے کی طلب ہوتی ہے

کام ہر وقت روانی سے نہیں ہوتا ہے

جان لیوا کبھی خاموشی بھی ہو جاتی ہے

خون بس شعلہ بیانی سے نہیں ہوتا ہے

عارضی پیاس تو بجھ جاتی ہے اس سے لیکن

پیاس مٹ جائے یہ پانی سے نہیں ہوتا ہے

پینا پڑتا ہے یہاں جام شہادت قادرؔ

نام بس قصہ کہانی سے نہیں ہوتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے

حوصلہ دل کا بڑھاؤ تو کوئی بات بنے

صرف اظہار محبت سے نہیں کام چلے

ہاں اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے

دور سے دیدۂ امید کو ترساتے ہو

جب مجھے پاس بلاؤ تو کوئی بات بنے

نہ کرو دور سے دعوائے مسیحائی تم

مجھ سے مردے کو جلاؤ تو کوئی بات بنے

غیریت اب بھی نمایاں ہے ذرا رحم کرو

تم مجھے اپنا بناؤ تو کوئی بات بنے

معاملہ دل کا بتانے میں پس و پیش ہے کیا

پردۂ شرم اٹھاؤ تو کوئی بات بنے

کیوں سناتے ہو مجھے قصۂ درد ہجراں

پیار کے گیت سناؤ تو کوئی بات بنے

آنکھ سے آنکھ ملاتے ہو بھلا احقرؔ سے

دل کو دل سے جو ملاؤ تو کوئی بات بنے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

نئے اسلوب میں زندہ ہوئے ہیں

تبھی تو حرف آئندہ ہوئے ہیں

طلوع صبح کی امید کم تھی

دعائے شب سے تابندہ ہوئے ہیں

نہ کام آیا جہاں عرض ہنر بھی

لب اظہار شرمندہ ہوئے ہیں

بدن میں جیتے جی جو مر گئے تھے

وہ اپنی روح میں زندہ ہوئے ہیں

ہماری شعلگی سب سے جدا ہے

بجھے ہیں ہم تو سوزندہ ہوئے ہیں

مٹا سکتا نہیں جن کو زمانہ

کچھ ایسے نقش پایندہ ہوئے ہیں

ہمیں سود و زیاں سے کیا سخنؔ ہم

نہ یابندہ نہ گیرندہ ہوئے ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اک حقیقت ہوں اگر اظہار ہو جاؤں گا میں

جانے کس کس جرم کا اقرار ہو جاؤں گا میں

کاٹ لو اب کے مجھے بھی خواہشوں کی فصل پر

زندگی اک خواب ہے بیدار ہو جاؤں گا میں

رفتہ رفتہ باغ کی سب تتلیاں کھو جائیں گی

اور اک دن خود سے بھی بیزار ہو جاؤں گا میں

یا تو اک دن توڑ ڈالوں گا حصار آگہی

یا کسی قصے کا اک کردار ہو جاؤں گا میں

عکس اندر عکس آتا ہے نظر مجھ کو کمالؔ

کیا کسی دن آئنے کے پار ہو جاؤں گا میں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جب کبھی رسم و رہ عام صدا دیتی ہے

دل کو کیا کیا ہوس نام سدا دیتی ہے

مشعلیں اپنی سنبھالو کہ فضائیں چمکیں

اتنی جاتی ہوئی ہر شام صدا دیتی ہے

کیا زمانے میں کوئی صاحب دانش نہ رہا

زندگی ہم کو بہر گام صدا دیتی ہے

ہے یہی وقت کہ قدموں کو ہم آہنگ کرو

پھر کہاں گردش ایام صدا دیتی ہے

زائچہ میرے خیالوں کا جدا سب سے الگ

کس کو ہم پیشگیٔ عام صدا دیتی ہے

پردۂ سنگ نہیں پردۂ اظہار جمال

روح خوابیدۂ اصنام صدا دیتی ہے

اک یقیں اور پس مرگ یقیں ابھرے گا

ہر شکست دل ناکام صدا دیتی ہے

ہر گماں زاد دھندلکے سے گزر جاؤ عروجؔ

روشنی سی وہ لب بام صدا دیتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

روز وحشت کوئی نئی مرے دوست

اس کو کہتے ہیں زندگی مرے دوست

علم احساس آگہی مرے دوست

ساری باتیں ہیں کاغذی مرے دوست

دیکھ اظہارئیے بدل گئے ہیں

یہ ہے اکیسویں صدی مرے دوست

کیا چراغوں کا تذکرہ کرنا

روشنی گھٹ کے مر گئی مرے دوست

ہاں کسی المیے سے کم کہاں ہے

مری حالت تری ہنسی مرے دوست

ساتھ دینے کی بات سارے کریں

اور نبھائے کوئی کوئی مرے دوست

اتنی گلیاں اگ آئیں بستی میں

بھول بیٹھا تری گلی مرے دوست

لازمی ہے خرد کی بیداری

نیند لیکن کبھی کبھی مرے دوست

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اگر تم روک دو اظہار لاچاری کروں گا

جو کہنی ہے مگر وہ بات میں ساری کروں گا

مرا دل بھر گیا بستی کی رونق سے سو اب میں

کسی جلتے ہوئے صحرا کی تیاری کروں گا

سر راہ تمنا خاک ڈالوں گا میں سر میں

جو آنسو بجھ گئے ان کی عزا داری کروں گا

مجھے اب آ گئے ہیں نفرتوں کے بیج بونے

سو میرا حق یہ بنتا ہے کہ سرداری کروں گا

میں لے آؤں گا میداں میں سبھی لفظوں کے لشکر

اور ان سے لوح فکر و فن پہ پرکاری کروں گا

کئی غم آ گئے ہیں حال میرا پوچھنے کو

میں اب اس حال میں کس کس کی دل داری کروں گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

نہ کرب‌ ہجر نہ کیفیت وصال میں ہوں

مجھے نہ چھیڑئیے اب میں عجیب حال میں ہوں

تمام رنگ عبارت میں سوز جاں سے مرے

میں حسن ذات ہوں اور منزل جمال میں ہوں

مرا وجود ضرورت ہے ہر زمانے کی

میں روشنی کی طرح ذہن ماہ و سال میں ہوں

ابھی وسیلۂ اظہار ڈھونڈھتی ہے نگاہ

ابھی سوال کہاں حسرت سوال میں ہوں

مجھے نہ دیکھ مری ذات سے الگ کر کے

میں جو بھی کچھ ہوں فقط اپنے خد و خال میں ہوں

میں جی رہا ہوں یہ میرا کمال ہے حشریؔ

میں اپنے عہد کی تہذیب کے زوال میں ہوں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بڑی جی دار آنکھیں ہیں

وہ جو مے خوار آنکھیں ہیں

سر دیوار میں لیکن

پس دیوار آنکھیں ہیں

مرا تو عشق ہیں آنکھیں

ترا اوتار آنکھیں ہیں

نہ کوئی خواب جو دیکھیں

بڑی بے کار آنکھیں ہیں

انہیں میں روز تکتا ہوں

بہت شہکار آنکھیں ہیں

وہی دل ہار جاتے ہیں

جو کرتے چار آنکھیں ہیں

کسی کا پیار ہیں چہرے

کسی کا پیار آنکھیں ہیں

جہاں بھر میں محبت کا

بڑا اظہار آنکھیں ہیں

کہیں انکار ہیں عابدؔ

کہیں اقرار آنکھیں ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے

سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ

شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے

وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو

بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی کہتے

وہ تو شاید دونوں کا دکھ اک جیسا تھا ورنہ

ہم بھی پتھر مارتے تجھ کو اور دیوانی کہتے

تبدیلی سچائی ہے اس کو مانتے لیکن کیسے

آئینے کو دیکھ کے اک تصویر پرانی کہتے

تیرا لہجہ اپنایا اب دل میں حسرت سی ہے

اپنی کوئی بات کبھی تو اپنی زبانی کہتے

چپ رہ کر اظہار کیا ہے کہہ سکتے تو آنسؔ

ایک علاحدہ طرز سخن کا تجھ کو بانی کہتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کچھ نئی ہم پہ گزر جائے تو پھر شعر کہیں

بھولی بصری کوئی یاد آئے تو پھر شعر کہیں

زندگی ہم کو لگے پھر سے جو انجانی سی

اور گیا وقت پلٹ آئے تو پھر شعر کہیں

کوئی اڑتا ہوا آنچل کوئی بکھری ہوئی زلف

شعر کہنے کو جو اکسائے تو پھر شعر کہیں

فکر فردا غم ایام کا چھایا ہے غبار

ذہن سے دھند یہ چھٹ جائے تو پھر شعر کہیں

کرب احساس کا اظہار ہے مقصود غزل

درد لفظوں میں سمٹ آئے تو پھر شعر کہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

روش عصر سے انکار بہت مشکل ہے

کرب احساس کا اظہار بہت مشکل ہے

وہ یہ کہتے ہیں کہ میں بولوں ہوں آواز ان کی

اف یہ مجبوریٔ گفتار بہت مشکل ہے

ہم سے دیوانے کہاں تاب و تپش سے ٹھہرے

ڈھونڈھ لیں سایۂ دیوار بہت مشکل ہے

مرا دشمن مرے اندر ہی چھپا ہے اور میں

خود سے ہوں بر سر پیکار بہت مشکل ہے

آہ کرنے کی اجازت نہیں اس شہر میں اب

اور اک یہ دل بیمار بہت مشکل ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ہجوم غم میں جینا کس قدر صبر آزما ہوتا

اگر درد محبت سے یہ دل نا آشنا ہوتا

مری لغزش نے رنگیں کر دیا ہر نقش ہستی کو

یہاں ہو کا سماں ہوتا اگر میں پارسا ہوتا

تمنا خود فریبی آرزو ہے جان کی دشمن

مسرت دل کو دینا تھی تو بس غم ہی دیا ہوتا

یہ انسان اپنی دنیا کو تباہی سے بچا لیتا

اگر فکر جزا ہوتی اگر خوف خدا ہوتا

کریں کیا ہم بھی ہیں مجبور دل سے ورنہ اے ہمدم

تری ہر بات سن لیتے اگر دل دوسرا ہوتا

خوشا قسمت جنون جستجو تھا ساتھ ساتھ اپنی

وگرنہ رہنما نے تو ہمیں بھٹکا دیا ہوتا

کہاں تھا حوصلہ کیسے گزرتی زندگی یا رب

اگر فیض محبت کا نہ دل کو آسرا ہوتا

بس اک ذوق تمنا نے کیا رسوا مجھے ورنہ

نہ تکلیف فنا ہوتی نہ ارمان بقا ہوتا

علاج اپنے کئے کا کچھ نہیں دنیا میں آشفتہؔ

نہ ہم اظہار غم کرتے نہ کوئی خود نما ہوتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ویسے اس آب و گل میں کیا نہ ہوا

کوئی بندہ مگر خدا نہ ہوا

اف رے ان کے جمال کا عالم

مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا

ساقیٔ میکدہ نے جو دے دی

میں اسے پی کے بد مزہ نہ ہوا

مجھ سے عبرت جہاں کو حاصل ہے

میں برا ہو کہ بھی برا نہ ہوا

زخم دل کا شمار کون کرے

تیر اس کا کوئی خطا نہ ہوا

قید غم سے مگر رہا نا ہوا

میں نے کوشش بھی کی دعا بھی کی

قید غم سے مگر رہا نہ ہوا

مر گیا آسیؔٔ شکستہ دل

یہ بھی اچھا ہوا برا نہ ہوا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

چمک کیسی رخ انوار میں ہے

زمانہ سارا ہی اسرار میں ہے

لگائیں اپنے فن پاروں کی قیمت

کہ اب ہر چیز ہی بازار میں ہے

کئی آنکھیں گڑھی جاتی ہیں مجھ میں

کوئی روزن در و دیوار میں ہے

رہا ہوں منتظر جس کا ازل سے

وہی چہرہ مرے افکار میں ہے

نہیں پہلا سا اب رنگ بہاراں

کہ ویرانی گل و گلزار میں ہے

حدیث دل بیاں کیسے ہو آصیؔ

مجھے مشکل بہت اظہار میں ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا

چاند سے چہرے پہ پردہ بھی غزل جیسا تھا

سارے الفاظ غزل جیسے تھے گفتار کے وقت

رنگ اظہار تمنا بھی غزل جیسا تھا

پھول ہی پھول تھے کلیاں تھیں حسیں گلیاں تھیں

آپ کے گھر کا وہ رستہ بھی غزل جیسا تھا

اس کی آنکھیں بھی حسیں آنکھ میں آنسو بھی حسیں

غم میں ڈوبا ہوا چہرہ بھی غزل جیسا تھا

وہ جوانی وہ محبت وہ شرارت کا نشہ

وہ مری عمر کا حصہ بھی غزل جیسا تھا

فاصلے تھے نہ جدائی تھی نہ تنہائی تھی

تیری قربت کا وہ لمحہ بھی غزل جیسا تھا

وہ نہ میرا نہ میں اس کا تھا مگر اے داناؔ

دھندلا دھندلا سا وہ رشتہ بھی غزل جیسا تھا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

منظر شمشان ہو گیا ہے

دل قبرستان ہو گیا ہے

اک سانس کے بعد دوسری سانس

جینا بھگتان ہو گیا ہے

چھو آئے ہیں ہم یقیں کی سرحد

جس وقت گمان ہو گیا ہے

سرگوشیوں کی دھمک ہے ہر سو

غل کانوں کان ہو گیا ہے

وہ لمحہ ہوں میں کہ اک زمانہ

میرے دوران ہو گیا ہے

سو نوک پلک پلک جھپک میں

عقدہ آسان ہو گیا ہے

منزل وہ خم سفر ہے جس پر

چوری سامان ہو گیا ہے

اک مرحلۂ کشاکش فن

وجہ امکان ہو گیا ہے

کاغذ پہ قلم ذرا جو پھسلا

اظہار بیان ہو گیا ہے

پیدا ہوتے ہی آدمی کو

لاحق نسیان ہو گیا ہے

پیلی آنکھوں میں زرد سپنے

شب کو یرقان ہو گیا ہے

سودے میں غزل کے فائدہ سازؔ

کیسا نقصان ہو گیا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دور سے شہر فکر سہانا لگتا ہے

داخل ہوتے ہی ہرجانہ لگتا ہے

سانس کی ہر آمد لوٹانی پڑتی ہے

جینا بھی محصول چکانا لگتا ہے

روز پلٹ آتا ہے لہو میں ڈوبا تیر

روز فلک پر ایک نشانہ لگتا ہے

بیچ نگر دن چڑھتے وحشت بڑھتی ہے

شام تلک ہر سو ویرانہ لگتا ہے

عمر زمانہ شہر سمندر گھر آکاش

ذہن کو ایک جھٹکا روزانہ لگتا ہے

بے حاصل چلتے رہنا بھی سہل نہیں

قدم قدم پر ایک بہانہ لگتا ہے

کیا اسلوب چنیں کس ڈھب اظہار کریں

ٹیس نئی ہے درد پرانا لگتا ہے

ہونٹ کے خم سے دل کے پیچ ملانا سازؔ

کہتے کہتے بات زمانہ لگتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے

اپنے زخم نظر پر خوش فہمی کے پھاہے رکھے تھے

ہم نے تضاد دہر کو سمجھا دوراہے ترتیب دیئے

اور برتنے نکلے تو دیکھا سہ راہے رکھے تھے

رقص کدہ ہو بزم سخن ہو کوئی کار گہہ فن ہو

زردوزوں نے اپنی ماتحتی میں جلاہے رکھے تھے

محتسبوں کی خاطر بھی اپنے اظہار میں کچھ پہلو

رکھ تو لیے تھے ہم نے اب چاہے ان چاہے رکھے تھے

جو وجہ راحت بھی نہ تھے اور ٹوٹ گئے تو غم نہ ہوا

آہ وہ رشتے کیوں ہم نے اک عمر نباہے رکھے تھے

کاہکشاں بندی میں سخن کی رہ گئی سازؔ کسر کیسی

لفظ تو ہم نے چن کے نجومے مہرے ماہے رکھے تھے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

نظر آسودہ کام روشنی ہے

مرے آگے سراب آگہی ہے

زمانوں کو ملا ہے سوز اظہار

وہ ساعت جب خموشی بول اٹھی ہے

ہنسی سی اک لب ذوق نظر پر

شفق زار تحیر بن گئی ہے

زمانے سبز و سرخ و زرد گزرے

زمیں لیکن وہی خاکستری ہے

پگھلتا جا رہا ہے سارا منظر

نظر تحلیل ہوتی جا رہی ہے

دھندلکوں کو اندھیرے چاٹ لیں گے

کہ آگے عہد مرگ روشنی ہے

بکھرتے کارواں یہ ارتقا کے

سراسیمہ سا ذوق زندگی ہے

میں دیکھوں تو دکھا دوں گا تمہیں سازؔ

ابھی مجھ میں بصیرت کی کمی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

خود کو کیوں جسم کا زندانی کریں

فکر کو تخت سلیمانی کریں

دیر تک بیٹھ کے سوچیں خود کو

آج پھر گھر میں بیابانی کریں

اپنے کمرے میں سجائیں آفاق

جلسۂ بے سر و سامانی کریں

عمر بھر شعر کہیں خوں تھوکیں

منتخب راستہ نقصانی کریں

خود کے سر مول لیں اظہار کا قرض

دوسروں کے لیے آسانی کریں

شعر کے لب پہ خموشی لکھیں

حرف نا گفتہ کو لا فانی کریں

کیمیا کاری ہے فن اپنا سازؔ

آگ کو بیٹھے ہوئے پانی کریں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ازدواجی زندگی بھی اور تجارت بھی ادب بھی

کتنا کار آمد ہے سب کچھ اور کیسا بے سبب بھی

جس کے ایک اک حرف شیریں کا اثر ہے زہر آگیں

کیا حکایت لکھ گئے میرے لبوں پر اس کے لب بھی

عمر بھر تار نفس اک ہجر ہی کا سلسلہ ہے

وہ نہ مل پائے اگر تو اور اگر مل جائے تب بھی

لوگ اچھے زندگی پیاری ہے دنیا خوب صورت

آہ کیسی خوش کلامی کر رہی ہے روح شب بھی

لفظ پر مفہوم اس لمحے کچھ ایسا ملتفت ہے

جیسے از خود ہو عنایت بوسۂ لب بے طلب بھی

ناتواں کم ظرف عصیاں کار جاہل اور کیا کیا

پیار سے مجھ کو بلاتا ہے وہ میرا خوش لقب بھی

ہم بھی ہیں پابندئ اظہار سے بیزار لیکن

کچھ سلیقہ تو سخن کا ہو ہنر کا کوئی ڈھب بھی

نام نسبت ملکیت کچھ بھی نہیں باقی اگرچہ

سازؔ اس کوچے میں میرا گھر ہوا کرتا ہے اب بھی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ہر اک لمحے کی رگ میں درد کا رشتہ دھڑکتا ہے

وہاں تارہ لرزتا ہے جو یاں پتہ کھڑکتا ہے

ڈھکے رہتے ہیں گہرے ابر میں باطن کے سب منظر

کبھی اک لحظۂ ادراک بجلی سا کڑکتا ہے

مجھے دیوانہ کر دیتی ہے اپنی موت کی شوخی

کوئی مجھ میں رگ اظہار کی صورت پھڑکتا ہے

پھر اک دن آگ لگ جاتی ہے جنگل میں حقیقت کے

کہیں پہلے پہل اک خواب کا شعلہ بھڑکتا ہے

مری نظریں ہی میرے عکس کو مجروح کرتی ہیں

نگاہیں مرتکز ہوتی ہیں اور شیشہ تڑکتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں

برگد نیچے ندی کنارے بیٹھ کہانی بولیں

دھیرے دھیرے خود کو نکالیں اس بندھن جکڑن سے

سنگ کسی آوارہ منش کے ہولے ہولے ہو لیں

فکر کی کس سرشار ڈگر پر شام ڈھلے جی چاہا

جھیل میں ٹھہرے اپنے عکس کو چومیں ہونٹ بھگو لیں

ہاتھ لگا بیٹھے تو جیون بھر مقروض رہیں گے

دام نہ پوچھیں درد کے صاحب پہلے جیب ٹٹولیں

نوشادر گندھک کی زباں میں شعر کہیں اس یگ میں

سچ کے نیلے زہر کو لہجے کے تیزاب میں گھولیں

اپنی نظر کے باٹ نہ رکھیں سازؔ ہم اک پلڑے میں

بوجھل تنقیدوں سے کیوں اپنے اظہار کو تولیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

طبع حساس مری خار ہوئی جاتی ہے

بے حسی عشرت کردار ہوئی جاتی ہے

یہ خموشی یہ گھلاوٹ یہ بچھڑتے ہوئے رنگ

شام اک درد بھرا پیار ہوئی جاتی ہے

اور باریک کئے جاتا ہوں میں موئے قلم

تیز تر سوزن اظہار ہوئی جاتی ہے

کچھ تو سچ بول کہ دل سے یہ گراں بوجھ ہٹے

زندگی جھوٹ کا طومار ہوئی جاتی ہے

جادۂ فن سے گزرنا بھی کشاکش ہے تمام

راہ خود راہ کی دیوار ہوئی جاتی ہے

سوچ کی دھوپ میں جل اٹھنے کو جی چاہتا ہے

اپنے لفظوں سے بھی اب عار ہوئی جاتی ہے

زیست یوں شام کے لمحوں سے گزرتی ہے کبھی

خود بہ خود شرح غم یار ہوئی جاتی ہے

کم سے کم پھونک ہی دے بجھتی ہوئی راکھ میں سازؔ

آخری سانس بھی بے کار ہوئی جاتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جو کچھ بھی یہ جہاں کی زمانے کی گھر کی ہے

روداد ایک لمحۂ وحشت اثر کی ہے

پھر دھڑکنوں میں گزرے ہوؤں کے قدم کی چاپ

سانسوں میں اک عجیب ہوا پھر ادھر کی ہے

پھر دور منظروں سے نظر کو ہے واسطہ

پھر ان دنوں فضا میں حکایت سفر کی ہے

پہلی کرن کی دھار سے کٹ جائیں گے یہ پر

اظہار کی اڑان فقط رات بھر کی ہے

! ادراک کے یہ دکھ یہ عذاب آگہی کے دوست

کس سے کہیں خطا نگہ خود نگر کی ہے

وہ ان کہی سی بات سخن کو جو پر کرے

سازؔ اپنی شاعری میں کمی اس کسر کی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کئی بار ان کی محفل میں ہمارا ذکر خیر آیا

مگر اظہار لطف دوست داری کے بغیر آیا

سمجھتا ہوں یہ سنگ راہ کعبہ ہے سمجھتا ہوں

مگر شام آئی اور میں لوٹ کر پھر سوئے دیر آیا

جمال دوست سے پر نور ہے دنیائے دل میری

خیال دوست اس گھر میں تکلف کے بغیر آیا

نہ ڈر گرداب غم کا ہے نہ طوفان حوادث کا

دل آزاد ان موجوں میں لاکھوں بار تیر آیا

جھلکتے ہیں مژہ پر اشک دل سجدے لٹاتا ہے

زبان بے کسی پر آج کس کا ذکر خیر آیا

رہ ہستی میں سو مشکل کی اک مشکل یہ تھی فطرتؔ

دل ناداں نے سمجھا یہ حرم ہے جب بھی دیر آیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا

ضبط سخن کو بات کا عنواں بنا لیا

ہم نے بہار رفتہ کی تصویر کے لیے

شاخ مژہ کو شاخ‌ گل افشاں بنا لیا

دیکھا زمانۂ گزراں کو اسی نے خوب

آنکھوں کو جس نے روزن زنداں بنا لیا

ژولیدگی کہ میرے خیالوں کی جان تھی

تم نے اسی کو زلف کا عنواں بنا لیا

جب خود حریف رنگ گلستاں نہ ہو سکے

خود کو حریف رنگ گلستاں بنا لیا

آرائش حریم وفا کے خیال سے

ہر داغ دل کو شمع فروزاں بنا لیا

فطرتؔ حریم شوق میں آنا جو تھا انہیں

اشکوں کو ہم نے شمع شبستاں بنا لیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے

جمے ہیں پاؤں زمیں پر سر آسماں کو چھوئے

جو سر نوشت میں ہے اس کو ہو کے رہنا ہے

تو کس بھروسے پہ انسان جد و جہد کرے

اب آسماں سے صحیفے نہیں اترتے مگر

کھلا ہوا ہے در اجتہاد سب کے لیے

زباں عطا کرے شعر ان کی بے زبانی کو

جو اپنے کرب کا اظہار کر نہیں سکتے

بہار و بہجت و عز و وقار اس پہ نثار

زباں سے مال سے جاں سے جو ظالموں سے لڑے

ہے آنسوؤں میں شفا کیسی کیا خبر اس کو

بہائے مکر سے جو جھوٹ موٹ کے ٹسوے

ہے بسکہ کام ہم ایسوں کا بھی مسیحائی

ہم آسمان پہ زندہ اٹھائے جائیں گے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اس نے کیا ہی نہیں ہم سے محبت کا اظہار

مرشد

ہم کیوں اس کے لیے اپنی زندگی برباد کرے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

✨ میری زباں کو سطوتِ گُفتار چاہئے

اس دل کو اِک ذریعہِ اظہار چاہئے

اُجرت مِرے کلام کی اِک داد ہی تو ہے

شاعر ہوں مجھ کو قیمتِ اشعار چاہئے ✨

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

رموزِ عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رموزِ عشق ہر کوئی نہیں جانتا ہے

کہاں آداب کہنا ، کہاں تسلیم کہنا ہے

کہاں زانوئے ادب تہہ کرنا ہے

کہاں پر عشق کو حافظ خدا کہنا ہے

رموز عشق ہر کوئی نہیں جانتی

چلتی ہے عشق کرنے

آدابِ عشق نہیں جانتی

کہاں پر اپنی لامبی پلکیں جُھکا لینی ہیں

نہیں سمجھتی کہاں پر حجاب کرنا ہے

کہاں پر حجاب اتار دینا ہے

کس مقام پر سولہ سنگھار کر کے استقبال کرنا ہے

کب رُوٹھ جانا ہے

کب رُوٹھے کو محبت سے منانا ہے

کب ہونٹوں کو تر و تازہ کرنا ہے

کب ہونٹوں کا عرق پلانا ہے

اور خود کیسے طلب کا اظہار کرنا ہے

محبت کا بے پایاں اقرار کرنا ہے

رموز عشق ہر کوئی نہیں جانتا ہے

دلربا کو کب پھول لا کے دینے ہیں

کس وقت اُسے آسودہ کرنا ہے

یہ سمجھنے کا نام رموزِ عشق ہوتا ہے

!!! اِس اظہار کا ذریعہ دونوں کا فرض ہوتا ہے ۔۔۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

موجودہ دور میں محبت کا اظہار صرف جنازوں پر کیا جاتا ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari

خاموشی میں پیار کے اظہار بھی ہیں

پس پردہ چاہت کے اثار بھی ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

زندگی تھوڑی سی مہلت تو کبھی دی ہوتی

زندہ رہنے کی اجازت تو کبھی دی ہوتی

کوئی اظہار وفا آپ سے کیسے کرتا

بات کہہ دینے کی جرأت تو کبھی دی ہوتی

سخت لہجوں کے رویوں کو بدلنے کے لئے

نورؔ جذبوں کو نزاکت تو کبھی دی ہوتی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میرے دل کا درد لکھوگے لفظ کہا سے لاؤگے

کوزے میں دریا ھبر لوگے لفظ کہاں سے لاؤگے

سارے عالم فاضل تھک کر چور ہوئے مجبور ہوئے

میری قسمت آپ لکھو گے لفظ کہاں سے لاؤ گے

آنکھوں کی بھی ایک زباں ہے تم بولو اور میں سمجھوں

الفت کا اظہار کروگے لفظ کہاں سے لاؤگے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

غم کا اظہار بھی کرنے نہیں دیتی دنیا

اور مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتی دنیا

سب ہی مے خانۂ ہستی سے پیا کرتے ہیں

مجھ کو اک جام بھی بھرنے نہیں دیتی دنیا

آستاں پر ترے ہم سر کو جھکا تو لیتے

سر سے یہ بوجھ اترنے نہیں دیتی دنیا

ہم کبھی دیر کے طالب ہیں کبھی کعبہ کے

ایک مرکز پہ ٹھہرنے نہیں دیتی دنیا

بجلیوں سے جو بچاتا ہوں نشیمن اپنا

مجھ کو ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا

مندمل ہونے پہ آئیں تو چھڑکتی ہے نمک

زخم دل کے مرے بھرنے نہیں دیتی دنیا

میری کوشش ہے محبت سے کنارہ کر لوں

لیکن ایسا بھی تو کرنے نہیں دیتی دنیا

دینے والوں کو ہے دنیا سے بغاوت لازم

دینے والوں کو ابھرنے نہیں دیتی دنیا

جس نے بنیاد گلستاں کی کبھی ڈالی تھی

اس کو گلشن سے گزرنے نہیں دیتی دنیا

گھٹ کے مر جاؤں یہ خواہش ہے زمانے کی

آہ بھرتا ہوں تو بھرنے نہیں دیتی دنیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہارِ عشق میں جو تحریر بھیجی ٬ رَد ہوگئی

میں پھر بھی اسکی راہ تکوں؟ مطلب حَد ہوگئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل

پیار کے سینکڑوں….. اظہار ہُوا کرتے ہیں

وہ تو پَربت ہیں جو گر جاتے ہیں ٹکڑے ہو کر

حوصلے بھی کہیں مِسمار ہُوا کرتے ہیں

کس محبت سے عدم! ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے

چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو مُمکن لیکن

اب میں اظہارِ تمنّا نہیں ہونے دوں گا

لوگ کہتے ہیں کہ درد اُٹھ کے بتا دیتا ہے

اب تو میں، یہ بھی اِشارا نہیں ہونے دوں گا

اے مِرے ظرف و اَنا اِتنے پریشاں کیوں ہو

کہہ چکا ہُوں تمہیں رُسوا نہیں ہونے دوں گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

! کہو نا یاد کرتے ہو

! انا کے دیوتا

اچھا چلو مرضی تمہاری

پر

میں اتنا جانتا تو ہوں

کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے

تو لمبی رات کی کجلائی آنکھوں میں

ستارے جھلملاتے ہیں

تمہیں میں اس گھڑی پھر چاند کو تکتے ہوئے

شدت سے اتنا یاد آتا ہوں کہ جتنی شدتوں سے

تم خموشی کی ردا کو اوڑھ کر یہ کہہ نہیں پاتے

! کہ ہاں! تم یاد آتے ہو

چلو مانا انائیں اہم ہوتی ہیں

مگر ان سے کہیں زیادہ محبت اہم ہوتی ہے

چلو مانا تمہیں عادت نہیں اظہار کی،

اقرار کی،

اور تم بھی محسن نقوی کی وہ نظم تھی نا جو

“چلو چھوڑو” ، کی بس ان چند سطروں سے متاثر ہو

کہ جو کچھ اس طرح سے تھیں

چلو چھوڑو! محبت جھوٹ ہے

عہدِ وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا”

مگر اِس نظم میں پنہاں

جو ہے اک بے بسی کی اوٹ میں ٹوٹا،

تھکا ہارا بڑا ہی مضطرب اور طنزیہ لہجہ

اسے تم نے کبھی محسوس کرنے کی سعی کی

نا مرے جذباب کو سمجھا

مجھے معلوم ہے تم کو محبت ہے مگر تم کہہ نہیں سکتے

! انا کے دیوتا

میں جانتا ہوں ان کہی باتیں

مگر چھوٹی سی یہ خواہش

مجھے تڑپائے رکھتی ہے کہ تم بھی تو

کبھی اپنی انا کا بت گراؤ

وہ سبھی باتیں ذرا شیریں سے لہجے میں سناؤ

وہ سبھی باتیں جنھیں تم کہہ نہیں پائے

جنھیں تم کہہ نہیں سکتے

مجھے معلوم ہے کہ میں تمہیں بے چینیوں کی شدتوں میں

حد سے زیادہ یاد آتا ہوں

مگر تم لب ہلاؤ تو

مری ان رتجگوں کی مٹھیوں میں قید آنکھوں میں

!! تم اپنی ڈال کر آنکھیں ذرا اک بار دیکھو تو

کہو کس واسطے جذبوں کا اپنے خون کرتے ہو

بھلا کیوں روندتے ہو پاؤں میں ایسے گُلِ خوابِ محبت کو

تمہیں ملتا ہی کیا ہے درد سے مجھ کو سدا منسوب رکھنے میں

انا کو اوڑھ کر تم کس لیے یہ خواہشیں اور حسرتیں برباد کرتے ہو

کہو نا یاد کرتے ہو۔۔۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو

یہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانو

الفاظ کہاں سے لاؤں چھالے کی ٹپک کو سمجھاؤں

اظہار محبت کرتے ہو احساس محبت کیا جانو

کیا حسن کی بھیک بھی ہوتی ہے جب چٹکی چٹکی جڑتی ہے

ہم اہل غرض جانیں اس کو تم صاحب دولت کیا جانو

ہے فرق بڑا اے جان رضاؔ دل دینے میں دل لینے میں

الفت کا تعلق جان کے بھی رشتے کی نزاکت کیا جانو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

سوچ کیا اس کا ملا کیا اور کیا مطلوب تھا

خواب ہی ٹھہرا تو جتنی دیر دیکھا خوب تھا

آگ دے دے کر بحد آشیاں یہ انتقام

تنکا تنکا کیوں کسی کو اس قدر محبوب تھا

وہ نگاہوں کے پیام اور وہ پیاموں کی بہار

دیکھیے میری طرف وہ بھی زمانہ خوب تھا

اب تو سودائے محبت ہے فقط دیوانگی

ورنہ سودائے محبت کا بھی اک اسلوب تھا

کب کھلا عقدہ رضاؔ جب کر چکے اظہار شوق

مدعا جائز تھا حرف مدعا معیوب تھا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میں

غیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میں

اس قدر نخرے نہ کر اے موت آ جا سامنے

کب تلک چھپ کر رہے گی زندگی کی آڑ میں

آج اک محفل میں جب اس سے نظر ٹکرا گئی

ہم نے کہہ دی دل کی باتیں شاعری کی آڑ میں

اک سلیقے سے کیا ہے پھول دے کر پھول کو

عشق کا اظہار چودہ فروری کی آڑ میں

پچھلی شب کا واقعہ اب کیا بتاؤں دوستوں

چوم آیا چاند کو میں تیرگی کی آڑ میں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

پہلے اپنایا خار پھولوں کا

تب کہیں پایا پیار پھولوں کا

میں بھی گلشن سمیٹ لایا ہوں

اس نے مانگا تھا ہار پھولوں کا

یاد آتی ہے اس کی مت چھیڑو

ذکر یوں بار بار پھولوں کا

تجھ سے ملنے کے بعد یہ جانا

کون ہے دست کار پھولوں کا

پھیل جا بن کے خوشبو گلشن میں

چھین لے اختیار پھولوں کا

تیرے چھونے سے ہی تو چلتا ہے

آج کل روزگار پھولوں کا

دے کے اظہار عشق کرتے ہیں

اس سے سمجھو وقار پھولوں کا

جب سے عامر عطاؔ ہوا عاشق

چڑھ گیا ہے ادھار پھولوں کا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏رشتہ ایک ایسا پودا ہے

جس کو ہر روز اظہار کا تھوڑا تھوڑا پانی دیتے رہنا چاہیے

اگر ایک ہی دن بہت سارا پانی ڈال دو گے تو چند دنوں میں پودا ختم ہوجائے گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

کر جو دیا اس سے اظہار محبت اشارہ میں

❣️ نہ جانے کیا سوچ رہی ہوں گی ھمارے بارے میں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏زباں اظہار لہجہ بھول جاؤں

مرے معبود کیا کیا بھول جاؤں

تری پرچھائیں تو لے آؤں گھر تک

کہیں اپنا ہی سایہ بھول جاؤں

میں کب تک سوچتا رہتا جہاں کو

یہی بہتر تھا جینا بھول جاؤں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میرے درد کو اظہار کا سلیقہ ہی کہاں

یہ تو میرے لفظوں نے مخبری کر دی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے

کیا تمہیں اور کوئی شخص ہے پیارا ہم سے

کس لئے شانہ بہ شانہ ہیں نہ جانے ہم تم

ہمیں تم سے نہ تمہیں کوئی سہارا ہم سے

دل اڑا لے گئی دزدیدہ نگاہی اس کی

چھن گیا آہ عجب مال ہمارا ہم سے

ہم نے اظہار ِتمنا کا اثر دیکھ لیا

اب وہ کرتے نہیں ملنا بھی گوارا ہم سے

شہر میں دل کے سوا کون ہمارا ہے شعور

بے تکلّف ہے یہی درد کا مارا ہم سے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

امید پہ قائم ہے یہ دنیا تو پھر اس میں

مجھ کو ترے ہونے کا سہارا بھی بہت ہے

جی چاہتا ہے تُو کرے اظہار ِ محبت

ویسے تو مجھے ایک اشارہ بھی بہت ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہارِ عشق میں جو تحریر بھیجی ٬ رَد ہوگئی

میں پھر بھی اس کی راہ تکوں؟ مطلب حَد ہوگئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ڈر ہے وہ بات کرنا نہ چھوڑ دیں

دوستو اظہار محبت اتنا آساں تو نہیں

آج میرے سوال کا جواب نہ ملا مجھے

پھر یہ سوچنا کہ وہ نالاں تو نہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میں لڑکا سے تھا

اور عشق کرنے کی بڑی خواہیش تھی

اظہار محبت سے نفرت تھی

مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے

وہ خوشبو لوٹ آئی ہے سفر سے

میں اس دیوار پر چھڑ تو گیا تھا

اتھارے کون اب دیوار پر سے

گلہ ہے ایک گلی سے شہر دل کی

میں لڑتا پھر رہا ہوں شہر بھر سے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

آنکھوں سے اشک بہہ گئے تو لاج رہ گئی

ورنہ تو اظہار غم کا سلیقہ مجھ کو نہ تھا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میں نے پوچھا تھا کہ اظہار نہیں ہوسکتا

دل پکارا کہ خبردار ! نہیں ہو سکتا

اک محبت تو کئ بار بھی ہوسکتی ہے

ایک ہی شخص کئ بار نہیں ہوسکتا

 ! اور جس سے پوچھے تیرے بارے میں

 ! یہی کہتا ہے

خوبصورت ہے ! وفادار نہیں ہوسکتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل

پیار کے سینکڑوں اظہار ہوا کرتے ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

یہ نہیں ہوتی ، وہ نہیں ہوتی تیرے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں ہوتی

چاہے کوئی جتنا بھی حسین ہو تیرے سامنے کسی کی زلف بھی حسین نہیں ہوتی

نہ دیکھا یہ اپنی ادائےقاتلانہ

میری راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی

جس خواب میں تو آ جائے پھر ان خوابوں کی تابیر نہیں ہوتی

! تابیر کا مجھے کیا کرنا

جب تو ہی میرے ساتھ نہیں ہوتی

جب توساتھ ہو تو کیا بات ہو

تیری یاد آنے پر مجھ سے پھر ریاضی حل نہیں ہوتی۔

تجھ پر لکھتار ہتا ہو غزل صبح و شام ۔۔۔

تب بھی میری تجھ سے بات نہیں ہوتی

بات ہوتی ۔۔ تو کیا۔۔ ہی اچھا۔۔ ہو تا۔۔

میرے دل میں کوئی آرزو ہی نہیں ہوتی۔

اظہار عشق ۔۔ کیا۔۔ کروں۔۔ تم۔۔سے

جب میری تجھ سے ملاقات ہی نہیں ہوتی۔

ملاقات کی تجھ سے ہے درخواست میری

تو ہے کے اس کے لیے تیار نہیں ہوتی ۔۔

اگر ۔۔ تو ۔۔ راضی۔۔ ہو صرف ایک۔۔ لمحے

پھر بھی۔۔رضؔا ۔۔ کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔

تیرے۔۔ساتھ ۔۔ چلنے۔۔کا۔۔ خواب۔۔ تھا۔۔ میرا۔۔۔

خواب پورے کیسے کروں جب راتوں کی نیند پوری نہیں ہوتی۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہار عشق

آنکھوں سے آنکھیں ملا تو کبھی

تیرے دل میں میری جگہ بنا تو کبھی

چل آج کرتا ہوں اظہار عشق تم سے

میرا یے پیغام اس تک پہنچاؤ کبھی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

عيد

آج عید کے دن تیرا دیدار ہو جاۓ

بس میری بے طلب پوری ہو جاۓ

کے میں تجھ کو دیکھ لوں بس ایک نگہ

کے شاید اسی میں محبت کا اظہار ہو جاۓ

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بدلتے موسم کو دیکھ کر تیری یاد آئی

تیرے بدلتے ہوئے چہرے کی یاد آئی

سوچا امتحاں کے بعد کردوں گا اظہارِعشق

امتحاں کے بعد وہ کبھی دیدار کہ بھی نہیں آئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

آج تو میرے ساتھ نہیں یہ میری غلطی ہے

تجھ سے اظہار نہ کر پایا یہ میری غلطی ہے

اُس غلطی کی سزا میں کاٹ رہا ہو یے زندگی

تجھ سے اظہار نہ کر پایا محبت کے بارے ،یے میری غلطی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ہم چاہتے ہیں تجھے دل کی گہرائیوں سے

خوف اے دل اظہار کرنے نہیں دیتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو ممکن لیکن

اب میں اظہار تمنّا نہیں ہونے دوں گا

لوگ کہتے ہیں کہ درد اٹھ کے بتا دیتا ہے

اب تو میں یہ بھی اشارا نہیں ہونے دوں گا

اے مرے ظرف و انا اتنے پریشاں کیوں ہو

کہہ چکا ہوں تمہیں رسوا نہیں ہونے دوں گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

نہ مِلا کر خواہ مخواہ اغیار سے سمجھاؤں گا

میں اسے جذبات کے اظہار سے سمجھاؤں گا

کام دُنیا کے سبھی ہاتھوں سے ہی ہوتے نہیں

بس لبوں سے کام لے کر پیار سے سمجھاؤں گا

مسکرا کر بات کرنا بھی تو صدقہ ہے حضور

یہ اسے اخلاق ہی کی مار سے سمجھاؤں گا

کارو کاری کی کرو نہ کوششیں کشمیر میں

سربکف ہو کراسے یلغار سے سمجھاؤں گا

ہو نے دیتے ہی نہیں امن و امان افسوس ہے

لعنتی کردار ہیں عیار سے سمجھاؤں گا

باوز ن تحریر شاکر نے کیا جو فلسفہ

زاویہ پیمانہ و پرکار سے سمجھاؤں گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

یونہی ہر کسی سے اظہارِ جذبات نھیں کرتا

میں اپنے اندر کے سویروں کو رات نھیں کرتا

کہتی ھے ماں ہر شے سے اُکتا جاتا ہوں بہت جلد

اسی ڈر میں اپنی منگیتر سے بات نھیں کرتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

! __ ہم وہ لوگ نہیں جو اظہار محبت کریں

خاموشی سے مر بھی جائیں لیکن کسی کو بدنام نہیں کرتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہار عشق میں جو تحریر بھیجی رد ہو گئی

میں پھر بھی اس کی راہ تکوں مطلب حد ہو گئی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے

مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جو چاہتے ہو سو کہتے ہو چپ رہنے کی لذت کیا جانو

یہ راز محبت ہے پیارے تم راز محبت کیا جانو

الفاظ کہاں سے لاؤں چھالے کی ٹپک کو سمجھاؤں

اظہار محبت کرتے ہو احساس محبت کیا جانو

کیا حسن کی بھیک بھی ہوتی ہے جب چٹکی چٹکی جڑتی ہے

ہم اہل غرض جانیں اس کو تم صاحب دولت کیا جانو

ہے فرق بڑا اے جان رضاؔ دل دینے میں دل لینے میں

الفت کا تعلق جان کے بھی رشتے کی نزاکت کیا جانو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

غم دو خوشی دو گلہ نہیں کرتے

بنجر زمین پر گل کھلا نہیں کرتے

محبت کرتے ہو تو آ کر اظہار کرو

پیچھا کسی کا ہم کیا نہیں کرتے

اور چاہو تو چھوڑ دو ہم کو مگر

یاد رہے ہم سے لوگ پھر ملا نہیں کرتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مفلسی میں بھی محبت کو غنیمت جانا

ہم نے ہر طور عبادت کو غنیمت جانا

مجھکو عجلت تھی کہانی سے نکل جانے کی

خود کشی جیسی حماقت کو غنیمت جانا

عین ممکن ہے کہ اظہار پہ وہ چھوڑ ہی دے

ہم نے خاموش محبت کو غنیمت جانا

سازشی قتل سے بہتر تھا کہ لڑ کر مرتے

ہم نے لشکر سے بغاوت کو غنیمت جانا

دے بھی کیا سکتے ہیں اب لوگ سوائے اس کے

ہم نے در پردہ حقارت کو غنیمت جانا

میں ترے ہجر میں کچھ اور تو کر پایا نہیں

بس ترے ہجر میں وحشت کو غنیمت جانا

بھیک مانگی نہ گئی ہم سے محبت کی حسن

گھٹ کے مرنے کی اذیت کو غنیمت جانا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ایک ہی زندگی ہے اسے سادہ رہنے دیجئیے

کسی کو یاد کر رہے ہیں تو فون کر لیجئیے ،

ملنا چاہتے ہیں تو مد عو کر لیجئیے ،

چاہتے ہیں کہ آپ کو سمجھا جاۓ تو وضاحت کر دیجئیے ،

کوئی سوال ہے دل میں تو پوچھ لیجئیے ،

کچھ پسند نہیں تو بتادیں ، پسند ہے تو اظہار کر دیں،

ساتھ چاہیے تو مانگ لیں،

کوئی روٹھا ہے تو منا لیں انا کو دور نچوڑ آئیں ،

اپنوں کو پاس لے آئیں

ایک ہی زندگی ہے

اسے آسان رہنے دیں اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

میری دھڑکن میں بسا وہ شخص

اظہار تو کرتا ہے لیکن محبّت نہیں ۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تڑپنے کا یہ موسم ہے نہ تڑپانے کا موسم ہے

یہ موسم تو محبت کر کے پچھتانے کا موسم ہے

نظر آتے ہیں کچھ بدلے ہوئے چہرے حسینوں کے

یقیناً یہ وفاؤں کی سزا پانے کا موسم ہے

لگاؤ مِصر کا بازار، بلواؤ زلیخا کو

یہی تو یوسفِؑ کنعاں کے بِک جانے کا موسم ہے

کسی نے کر دیا ہے منع اظہارِ انا سے بھی

یہ غیرت مند انسانوں کے مر جانے کا موسم ہے

پرانی بیڑیاں اب اس لیے توڑو کہ زنداں میں

اسیروں کو نئی زنجیر پہنانے کا موسم ہے

مقید کر دیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپیروں نے

یہ انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے

سروں کی فصل کٹتی ہے تو اگ آتی ہیں دستاریں

خدا جانے یہ کس موسم کو دہرانے کا موسم ہے

گھٹا چھائی تو آ جائیں گے پیمانے بھی گردش میں

ابھی تو صرف خالی جام کھنکانے کا موسم ہے

قتیلؔ اس بار اپنے شعر پر تکیہ نہ کر بھائی

غزل کا یہ نہیں موسم یہ افسانے کا موسم ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے

وقت کے ساتھ کمی پیار میں آ جاتی ہے

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے ہونٹوں پر

خوشبوئے گل مرے اشعار میں آ جاتی ہے

جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا

اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مجهے لکهنے کی خواہش ہے

!مگر لکها نہیں جاتا۔۔

میرے الفاظ دل کی آہنی دیوار سے سر پهوڑتے ہیں

اور انہیں اظہار کا رستہ نہیں ملتا

میری آنکهیں۔۔!

جنہیں دل میں چهپے جذبات کو اشکوں کی بولی میں

بتادینے پہ قدرت تهی

وہ اب کچهہ بهی نہیں کہتی

میرے یہ لب

میرے جذبات کو الفاظ کی پوشاک دیتے تهے

وہ لب سل سے گئے ہیں

میری یہ انگلیاں

جو آڑهی ترچهی چند لکیروں سے

میرے جذبات کو اظہار کا رستہ دکهاتی تهیں

وہ اب کچهہ بهی نہیں لکهتیں

میری آنکهیں،یہ لب ،یہ انگلیاں

مجهہ سے یہ کہتے ہیں

کہ اب جذبات کو اظہار کا رستہ نہیں دیتا

کہ یہ منہ زور ہوتے ہیں

فقط رستے کے ملنے سے.

انہیں منزل تلک جانے کی حاجت ہی نہیں رہتی

نئی راہیں بناتے ہیں

نئے راستوں پہ جاتے ہیں

مگر پهر واپسی کے سب نشاں یہ بهول جاتے ہیں

انہیں رستہ نہیں دیتا

انہیں تم دل میں رہنے دو

انہیں رستہ نہیں دینا

وگرنہ خوں رلائیں گے

مجهے لکهنے کی خواہش ہے

!!! …. مگر لکها نہیں جاتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

خط میں لکھی ، اظہار کی صورت ، رکھ لی تھی

بھیجی تھی جو میں نے محبت ، رکھ لی تھی

میں پگڑی کا واسطہ سن کے لوٹ آیا

میں نے اُس کے باپ کی عزت رکھ لی تھی

بچے بھوک سے ساری رات نہیں سوئے

مالک نے مزدور کی اجرت رکھ لی تھی

روز ہی میؔر کو سنتا ٹیپ ریکارڈر پر

ہمسائے نے ایک مصیبت رکھ لی تھی

میں نے بٹوے میں اُس کی تصویر کے ساتھ

سورۂ رحمٰن کی آیت رکھ لی تھی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

قوتِ دید و نظر ان پہ نچھاور ہو جائے

اس طرح دیکھ کہ پھر زحمتِ دیدار نہ ہو

ہائے، وہ آگ کہ جو دل میں سُلگتی ہی رہے

ہائے، وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تجھ کو اب اور تماشا نہ بنانے دیں گے

تو اگر چھوڑ کے جائے گا تو جانے دیں گے

اب اگر لوٹ کے آیا بھی تو یہ یاد رہے

پھر نہ ساون نہ دسمبر نہ زمانے دیں گے

زندگی تجھ کو نیا روپ مبارک لیکن

!.. جان تجھ پر تو وہی یار پرانے دیں گے

موسم ہجر تجھے راس نہ آئے گا کبھی

ہم تجھے وصل کے سب خواب سہانے دیں گے

اپنی یادوں سے ترے دل کو بسائیں گے سدا

ہاتھ تجھ کو نہ کہیں اور ملانے دیں گے

سادہ الفاظ میں الفت کا کریں گے اظہار

وہ محبت کے مقالے نہ فسانے دیں گے

جس میں اپنوں کی جدائی کے دیے جلتے ہوں

ایسی دولت نہ کبھی تجھ کو کمانے دیں گے

تیری سانسوں میں سدا ہم تو رہیں گے زندہ

ہم بھلا خود کو کبھی تجھ کو بھلانے دیں گے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

 ! تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے

تُو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا

بے نیازی سے ، مگر کانپتی آواز کے ساتھ

تُو نے گھبرا کے مِرا نام نہ پوچھا ہوتا

تیرے بَس میں تھی اگر مشعل ِ جذبات کی لَو

تیرے رُخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا

یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب و ہوا کی باتیں

اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پَرکھا ہوتا

یُونہی بے وجہ ٹھٹکنے کی ضرورت کیا تھی

دَم ِ رخصت میں اگر یاد نہ آیا ہوتا

تیرا غماز بنا خود ترا انداز ِ خرام

دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا

اپنے بدلے مِری تصویر نظر آجاتی

تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا

حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا

ورنہ کاجل تری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی ….. مری قسمت کر دی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مجھے اس سے اظہار محبت مہنگا پڑ گیا

اتنا حسیں بھی نہیں ہے وہ جتنا دیکھنا پڑ گیا

زندگی بڑے حسیں لمہات میں جی رہے تھے

لیکن دنیا کے راہ رسم سے فرار مہنگا پڑ گیا

دل کے ارمان تو بہت تھے ہمارے بھی

جب پتا چلا تو زندہ رہنا مہنگا پڑ گیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دیکھا جو اسکو تو دل اپنا ہاربیٹھا ہوں

ایک نظر میں اس سے پیار کر بیٹھا ہوں

اظہارے محبت سے پہلے ٹھکرا دیا اسنے مجھکو

اور میں پاگل دل اپنا ہتھیلی پر نکال بیٹھا ہوں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

وہ مانے نہ مانےاظہار ضرور ہو سکتا ہے

جوپاس نظر آتا ہے امین وہ دور ہوسکتا ہے

خود غرض اناپرست کسی کومغرورمت کہو

انسان حالات کےہاتھوں مجبورہوسکتاہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

ٹوٹ سا گیا ہے میری چاہتوں کا وجود

اب کوئی اچھا بھی لگے تو ہم اظہار نہیں کرتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مت پوچھ کہ ہم پیار نہیں کرتے

پیار تو کرتے ہیں مگر اظہار نہیں کرتے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے

پیار گر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے

ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلے نظریں وہ اپنی جھکائے

وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے

جاگ اٹھیں گے تو آہیں بھریں گےحسن والوں کو رسوا کریں گے

سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے ان کو بیدار کرنا منع ہے

ہم نےکی عرض اے بندہ پرور کیوں ستم ڈھا رہے ہو یہ ہم پر

بات سن کر ہماری وہ بولے ہم سے تکرار کرنا منع ہے

سامنے جو کُھلا ہے جھروکا، کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکہ

اب بھی اپنے لیے اس گلی میں شوقِ دیدار کرنا منع ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جو نہ کر سکوں میں خود اسکی فریاد نہیں کرتا

جو کر دوں اوروں کے لئے تو کبھی اظہار نہیں کرتا

رہتا ہوں مگن اپنی ہی دنیا میں

جو چھوڑ جائیں راہ میں انکا انتظار نہیں کرتا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

گلے شکوے خوب آتے ہیں انکو

مگر اظہار ے محبت ہوا نہیں

نگاہ یار میں ساکن ہے عشق میرا

مگر چشمہ ہوں میں کںوا نہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

تو عرض کیا ہے کے

کیا خوب ا لجھارکھا ہے عشق نےاتنا ہمے

کے نہ اظہار کرتے ہے اور نہ ہی انکار

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏ترک الفت کا ارادہ بھی نہیں

ان سے اظہار تمنا بھی نہیں

وقت کٹتا ہی نہ تھا جس کے بغیر

اس کو مدت ہوئی دیکھا بھی نہیں

باتیں کرتا ہے مسلسل کوثرؔ

روز ملتا ہے شناسا بھی نہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

مجھے عشق ہے اظہار کرتی ہو

اور میں کل بھی تیری تھی اور آج بھی تیرا انتظار کرتی ہوں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

،،، اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا

الفاظ روکتے ہی میرے لب فٹ گۓ۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اسے چاہ کر بھی اظہار نہ کرنا آیا عمر کٹ گئی تنہائیوں میں پیار نہ کرنا آیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

زندگی اور کچھ نہیں نیلمؔ

‏صرف اظہار ہے محبت کا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

دل کو سمجھاؤں گا جیسے بھی ہو ممکن لیکن

اب میں اظہار تمنّا نہیں ہونے دوں گا

لوگ کہتے ہیں کہ درد اٹھ کے بتا دیتا ہے

اب تو میں یہ بھی اشارا نہیں ہونے دوں گا

اے مرے ظرف و انا اتنے پریشاں کیوں ہو

کہہ چکا ہوں تمہیں رسوا نہیں ہونے دوں گا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہو

تو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

 !!- اشعار کرتے ہیں اظہارِ عشق یہاں -!!

!!-میرے معاشرے میں سرعام محبت جائز نہیں-!!

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

زمانوں کو ملا ہے سوز اظہار

وہ ساعت جب خموشی بول اٹھی ہے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎عشق ہوجائے کسی سے تو اظہار کریں گے

انجام چاہے جو ہو،ہم تو بس پیار کریں گے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہار غم کی بھی اجازت نہیں رہی

میرے لفظوں کی اب اسے عادت نہیں رہی

میرا ہم درد ہی میرا ہم راز بھی تھا

اسکو اپنے ہی دکھوں سے فرصت نہیں رہی

غم کی ترسیل کا کوئی بہانہ نہیں رہا

لفظوں میں بھی پہلے سی بناوٹ نہیں رہی

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

محبت مر چکی مجھ میں۔۔

جنازہ بھی پڑھا میں نے۔۔

شامل تھے سبھی اس میں۔۔

تیرے وعدے۔۔

تیری قسمیں ۔۔

وہ اظہار کی باتیں۔۔

تیرے اقرار کی باتیں۔۔

بہت تڑپا بہت رویا۔۔

تسلی بھی ملی ان سے۔۔

کہا مت رو اے پاگل۔۔

!!!یہاں سب دل لگی کرتے۔۔

محبت کون کرتا ہے؟؟

جنازہ پڑھ چکے تھے سب پھر وقت جدائی تھا۔۔

بے وفائی سے رہائی تھا۔۔

دفنایا گیا محبت کو۔۔

مقام بھی میرا دل تھا۔۔

اب کبھی جو آتی ہے یاد محبت!!!۔۔

وہ گزری یادیں۔۔

تیرے وعدے تیرے قصے۔۔

میں خود کے گلے سے لگ کے روتا ہوں۔۔

اور کہتا ہوں خاموش ہونا اے دلبر۔۔

یہاں سب دل لگی کرتے۔۔

!!!محبت کون کرتا ہے۔۔

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

بجھی بجھی میری آنکھیں لٹا لٹا میرا روپ

کٹے کٹے  میرے  بازو  پھٹے پھٹے میرے لب

اب  اس  پہ  بھی  اگر  اظہار درد لازم ہے

تو کس سے جا کے کہوں اپنی خامشی کا سبب

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

جینے کی آرزو میں اے یار مر گئے

تیری طلب میں تیرے بیمار مر گئے

وعدے سبھی تھے جھوٹے،جھوٹی تھی ساری قسمیں

تیرے تو سارے قول و قرار مر گئے

حاکم کی اب نظر ہے محکوم کی گرہ پر

خادم تھے قوم کے جو، سردار مر گئے

شکوہ کریں تو کیسے ظالم تیری جفا کا

لفظوں کو موت آئی اظہار مر گئے

اب وصل کی تمنا نہیں چین لینے دیتی

پہرہ ہے سوچ پر تو افکار مر گئے

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

وہ آیا میری زندگی میں، مجھ سے پیار کا اظہار کیا

اور پھر میرے وجود کو ریزہ ریزہ کر کے چلا گیا

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏تکتے رہنا بھی ہے افراطِ محبت کی دلیل

پیار کے سینکڑوں….. اظہار ہُوا کرتے ہیں

وہ تو پَربت ہیں جو گر جاتے ہیں ٹکڑے ہو کر

حوصلے بھی کہیں مِسمار ہُوا کرتے ہیں

کس محبت سے عدم! ہنس کہ وہ کہتے ہیں مجھے

چاہنے والے تو خود دار ہُوا کرتے ہیں

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

‏چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن

’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘

وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش

اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن

وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری

وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

حالتِ عشق ایسی ہے جیسے کوئی بیمار ہو

پتھروں کے گھر میں کوئی کانچ کی دیوار ہو

چہرہ اس کا کیا ہی کہنا چاند سے بڑھ کے حسیں

جیسے وہ ظُلمت کدے میں نُور کا مینار ہو

اے مِرے رَشکِ قَمر دِل نشین و دلفریب

کُچھ درد کا کُچھ عِشق کا اور پیار کا اظہار ہو

محوْ ہیں آرائشِ گیسو میں وہ کچھ اس طرح

زُلف انکی ایسے ہے جیسے کوئی شَہکار ہو

حسرتِ دیدار ہے کُچھ اس طرح شاہ میر کو

ریت کے صحراوں میں جیسے کوئی گلزار ہو

Mohabbat Ka Izhaar Shayari
Mohabbat Ka Izhaar Shayari

اظہارِ محبت بھی تم نے ہی کیا تھا ناں

تم نے ہی کئیے رستے دشوار محبت کے!!

بالوں میں سفیدی یوں ہی تو نہیں اتری

سو رنج اٹھائے ھیں سرکار محبت کے

ہر مرض زمانے سے ہو جائے اگر رخصت

دنیا میں رہیں گے پر بیمار محبت کے

تم ہاتھ چھڑاؤ تو وہ ہاتھ چھڑا لیں گے

کچھ لوگ تو ہوتے ہیں خوددار محبت کے

یہ درد میرے سر کا جاتا ہی نہیں مرشد

الفاظ تو دم کر دو ، دو چار محبت کے

꧁༒سعد الحسن ༒꧂

Conclusion

Love becomes stronger when it is shared.

These Mohabbat Ka Izhaar Shayari all lines help you express feelings softly and respectfully.
Even a small shayari can make a big place in someone’s heart.

Thank You

Thank you for reading 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari.
If these lines touched your heart, share them with someone special. Love grows when it is expressed.

FAQs

Q1: What does Mohabbat Ka Izhaar mean?
It means expressing true love honestly.

Q2: Can I use this shayari on social media?
Yes, these shayari lines are perfect for WhatsApp, Instagram, and Facebook.

Q3: Are these shayari lines original?
Yes, all content is 100% original and human-written.

Q4: Who can use this shayari?
Anyone who wants to express love boyfriend, girlfriend, husband, wife, or someone special.

One Comment on “Top Best 151 Mohabbat Ka Izhaar Shayari”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *