Purana Juta-1 Powerful Lesson Hidden in Old Shoes

Purana Juta

Purana Juta:تعارف

کیا آپ نے کبھی اپنے پہننے کی وجہ سے خود کو چھوٹا محسوس کیا ہے؟

ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اس خاموش احساس کا سامنا کیا ہے جو پرانے جوتے اور سادہ لباس پہننے سے آتا ہے جس سے وہ دوسروں

سے کمتر محسوس کرتے ہیں۔ پران جوٹا کی کہانی صرف ایک پرانے جوتے کی نہیں ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح لوگ دوسروں

کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے اعمال سے عزت نفس کھو دیتے ہیں۔

مختصر متاثر کن کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ جس چیز کو کمزوری سمجھتے ہیں وہ دراصل ان کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر کام

کرتی ہے۔ زندگی اپنے انتہائی اہم اسباق غیر متوقع تجربات کے ذریعے دیتی ہے۔

For Read More


عنوان کا مطلب— “پُرانا جُوتا” کیوں؟

“پُرانا جُوتا” بظاہر ایک عام سا عنوان ہے مگر اس میں ایک گہری علامت پوشیدہ ہے۔ راوی کے پاؤں میں پرانا جوتا ہے جسے دیکھ کر وہ

احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن کہانی کے آخر میں یہی پُرانا جُوتا اس کے لیے نعمت کی علامت بن جاتا ہے کیونکہ کم از کم اس کے

پاؤں تو سیدھے ہیں۔

عنوان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم جن چیزوں کو “پُرانی” یا “معمولی” سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، انہی میں اللہ کی بے

شمار نعمتیں پوشیدہ ہیں۔ پرانا جوتا اس کہانی میں شکرگزاری، عاجزی اور نقطہ نظر کی تبدیلی کی علامت بن جاتا ہے۔


 

کہانی کی تفصیل — “پُرانا جُوتا” مکمل خلاصہ

پرانا جوتا اپنی جذباتی کہانی کے ذریعے شکرگزاری اور عزت نفس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کہانی سکھاتی ہے کہ لوگ جسے اپنی

کمزوریوں کے طور پر سمجھتے ہیں وہ دراصل ان کی پوشیدہ طاقت کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کبھی بھی دوسروں کے

خلاف خود پر فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔


 

ہم اپنی ایک رشتہ دار خاتون کی عیادت کے لئے کھاریاں کینٹ آئے تھے۔وہ ہسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج تھیں۔یہاں مریض

کے علاوہ کسی کو زیادہ دیر ٹھہرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہاں میجر رینک کے فوجی افسروں کے لئے بہت خوبصورت بنگلے تھے۔ہر

بنگلے میں وسیع لان،رہائشی کمرے ان کے پیچھے سرسبز لان۔گرمی کے دن تھے۔ہم لان میں درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں تلے کرسیوں پر بیٹھ

گئے۔کچھ دیر آرام کے بعد میں اس خوبصورت علاقے کودیکھنے کے لئے گھر سے باہر نکلا۔گھر کے سامنے چھوٹی سی سڑک کے پار

گرین بیلٹ نظر آرہی تھی۔پھر ایک چھوٹا سا نالہ تھا نالے کے پار گھنے درختوں کی قطار میں ایک اور گرین بیلٹ تھی۔پھر جوگنگ ٹریک

تھا۔جوگنگ ٹریک کے ساتھ ایک چھوٹی سی ٹرین کی پٹڑی تھی جو اس وسیع پارک کو گھیرے ہوئے تھی۔پارک میں بچوں کے لئے بہت سے

جھولے لگے ہوئے تھے۔ایک جگہ خوبصورت پنجروں میں طوطے،کبوتر،خوگوش،اور جل مرغیاں تھیں۔وہ چھوٹی ٹرین بھی کھڑی تھی

جس کی پٹڑی پارک کے گرد کسی ہار کی طرح نظر آرہی تھی۔ یہ ٹرین شاید بچوں کو پارک کی سیر کرواتی تھی۔ اس وقت دوپہر تھی اور

پارک میں میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ہر طرف ایک سحر انگیز خاموشی کا راج تھا۔کبھی کبھی کسی پرندے کی آواز خاموشی کے سحر کو توڑ

دیتی اور پھر سناٹا چھا جاتا۔میں نالے کے پل کو پار کرکے گرین بیلٹ کے کنارے بچھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مست

ہو کر میں نے کرسی کی ٹیک پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں اور مجھے اونگھ آگئی۔ پھر ٹرین کے انجن کی چھک چھک سے میری آنکھ

کھل گئی۔سہ پہر ہوگئی تھی۔ٹرین بچوں کو لیے پٹڑی پر رواں دواں تھی۔جہاں پہلے خاموشی کا راج تھا وہاں ان میلے کا سا سماں تھا،جھولوں

کے آس پاس بچوں کا ہجوم لگا تھا۔ میدان کے وسط میں میری نظر ایک نوجوان کھلاڑی پر پڑی ۔وہ خوبصورت سپورٹس شرٹ اور لونگ

نیکر پہنے ہوئے تھا۔پاؤں میں قیمتی جوگر نظر آرہے تھے۔ وہ ہاتھوں میں فٹ بال تھامے ہوئے تھا۔ایک لمحے کو میرا دل چاہا کہ اس نوجوان

سے بات کروں مگر پھر اپنے معمولی کپڑوں اور پرانی جوتی کا خیال کرکے میں رک گیا۔اپنی خستہ حالت دیکھ کر میں احساس کمتری کا

شکار ہوگیا اور ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکا۔ پھر اچانک وہ نوجوان کھلاڑی مجھے اپنی طرف آتا نظر آیا۔جب وہ کچھ قریب آیا تو مجھے

اس کی حالت کچھ عجیب سی لگی پھر وہ میرے پاس آکر رک گیا۔میں نے دیکھا اس کے دونوں پاؤں ٹیڑھے تھے۔ یہ فٹ بال تمہارا ہے؟۔میں

نے یونہی اس سے بات کرنے کے لئے پوچھ لیا مگر وہ سپاٹ چہرے اور بے تاثر نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے

پھر اپنا سوال دہرایا ،وہ چند لمحے خاموشی سے مجھے دیکھتا ریا پھر بولا”ہاں“میں سمجھ گیا دونوں پاؤں کے علاوہ ذہن بھی غیر متوازن

تھا۔وہ بات کا مفہوم دیرسے سمجھتا تھا۔ ”تمہارے ساتھی کھلاڑی نظر نہیں آرہے؟“ میں نے پھر پوچھا۔کچھ ٹھہر کر اس نے گراؤنڈ کی طرف

اشارہ کیا اور بولا”وہ وہاں ہیں“مگر میں نے دیکھا گراؤنڈ میں کوئی کھلاڑی بھی نہیں تھا۔پھر اچانک اس نے بچوں کی طرح قلقاری ماری

اور گراؤنڈ کی طرف بھاگا مگرابھی چند قدم ہی بھاگا تھا اس کے پاؤں آپس میں الجھے اور وہ منہ کے بل گڑ پڑا۔فٹ بال اس کے ہاتھوں سے

چھوٹ گیا۔میں آگے بڑھ کر اسے اٹھایا۔اس کا فٹ بال اسے دیا اور وہ آڑا ترچھا چلتا گراؤنڈ کی طرف چل پڑا۔ میں چند لمحے اسے جاتا دیکھتا

رہا پھر میری نظر اپنے لباس سے ہوتی ہوئی اپنے قدموں پر جم گئی۔میرے پاؤں میں جوتا پرانا تھا مگر شکر الحمداللہ میرے پاؤں سیدھے

تھے۔


نتیجہ — کہانی کا حاصل

“پُرانا جُوتا” ایک ایسی کہانی ہے جو پڑھنے کے بعد آپ کو خود سے پوچھنے پر مجبور کر دیتی ہے: کیا میں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرتا

ہوں؟ کیا میں نے کبھی اپنے سیدھے پاؤں، صحیح آنکھوں، صحت مند ذہن کے لیے اللہ کا شکر ادا کیا؟

ہم اکثر اس چیز کو دیکھتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہے اور اس چیز کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو ہمارے پاس ہے۔ یہ کہانی ہمیں نقطہ نظر

بدلنے کی دعوت دیتی ہے — اوپر نہیں، نیچے دیکھیں، اور الحمداللہ کہیں۔

خاریاں کینٹ کے اس چھوٹے سے پارک میں ہونے والی ملاقات نے راوی کی زندگی بدل دی۔ شاید اس کہانی کو پڑھ کر آپ کی زندگی میں

بھی تبدیلی آئے — اللہ کی نعمتوں کو پہچاننے اور دل سے شکرگزار ہونے کی تبدیلی۔


شکریہ

اس سبق آموز کہانی “پُرانا جُوتا” کو پڑھنے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اگر اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو اسے اپنے دوستوں،

خاندان اور پیاروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں — کیونکہ ایک اچھی کہانی جو ایک دل میں شکرگزاری پیدا کرے، وہ صدقہ جاریہ ہے۔

اگر آپ اردو ادب، سبق آموز کہانیاں اور اسلامی تحریریں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ہمارے بلاگ کو سبسکرائب کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں

تاکہ نئی تحریریں سب سے پہلے آپ تک پہنچیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال ۱: “پُرانا جُوتا” کہانی کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

جواب: اس کہانی کا مرکزی پیغام شکرگزاری ہے۔ ہم اکثر اپنی کمیوں پر دھیان دیتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ

کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ صحت، چلنے پھرنے کی صلاحیت اور سیدھے پاؤں بھی اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں جن کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

 

سوال ۲: “پُرانا جُوتا” کہانی کے راوی نے احساس کمتری کیوں محسوس کیا؟

جواب: راوی نے اپنے پُرانے جوتے اور معمولی کپڑوں کو دیکھ کر خود کو اس قیمتی لباس والے نوجوان سے کمتر سمجھا۔ یہ ایک فطری

انسانی کمزوری ہے — ہم اپنا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں، حالانکہ ہم نہیں جانتے کہ اس دوسرے

شخص کی اپنی کیا مشکلات ہیں۔

 

سوال ۳: اس کہانی میں نوجوان فٹ بالر کی علامتی اہمیت کیا ہے؟

جواب: نوجوان فٹ بالر اس کہانی میں حقیقی مشکل کی علامت ہے۔ اس کے ٹیڑھے پاؤں اور ذہنی معذوری کے باوجود اس کا جوش اور

خوشی ہمیں بتاتی ہے کہ روح کی آزادی کو جسمانی حدود نہیں باندھ سکتیں۔ وہ ہمارے لیے صبر، ہمت اور قبولیت کی علامت ہے۔

 

سوال ۴: کیا یہ کہانی بچوں کو پڑھائی جا سکتی ہے؟

جواب: جی بالکل۔ یہ کہانی اسکولوں، مدرسوں اور گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لیے بہترین ہے۔ اس کی زبان سادہ اور واقعہ دلچسپ ہے

جبکہ سبق گہرا اور یادگار ہے۔ یہ بچوں میں ہمدردی، شکرگزاری اور عاجزی کی عادت پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

 

سوال ۵: کہانی میں فٹ بال کی کیا علامت ہے؟

جواب: فٹ بال نوجوان کی امیدوں، خوشیوں اور زندگی میں حصہ لینے کی خواہش کی علامت ہے۔ وہ خالی میدان میں بھی فٹ بال کھیلتا ہے

جہاں اس کے تخیلاتی ساتھی کھلاڑی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی روح ہر حال میں زندہ رہنا چاہتی ہے اور خوشی تلاش کرتی ہے۔

 

سوال ۶: اسلامی نقطہ نظر سے اس کہانی کا کیا پیغام ہے؟

جواب: اسلام میں شکر کا تصور بہت اہم ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو تاکہ اللہ کی

نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ یہ کہانی اسی حدیث کی عملی تصویر ہے۔ “الحمداللہ” کہنا محض الفاظ نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کا شکر ادا

کرنا ہے۔

 

سوال ۷: خاریاں کینٹ کی ترتیب کہانی پر کیا اثر ڈالتی ہے؟

جواب: خاریاں کینٹ کا پُرسکون، خوبصورت اور مراعات یافتہ ماحول کہانی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سب کچھ

ظاہری طور پر خوبصورت اور بے عیب نظر آتا ہے — مگر اسی خوبصورتی کے درمیان ایک انسان کی حقیقی مشکل کا انکشاف ہوتا ہے۔

یہ تضاد کہانی کو مزید موثر بناتا ہے۔

 

سوال ۸: “پُرانا جُوتا” کہانی سے ہماری روزمرہ زندگی میں کیا سبق ملتا ہے؟

جواب: اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر صبح اٹھ کر اپنی صحت، چلنے کی صلاحیت، دیکھنے کی طاقت اور سوچنے کی صلاحیت پر اللہ

کا شکر ادا کریں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کم نہ سمجھیں۔ آپ کا “پُرانا جُوتا” کسی دوسرے کا خواب ہو

سکتا ہے۔


 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *