The Best Famous 150+Pyar ka Izhaar Shayari

Pyar ka Izhaar Shayari

150+ Pyar Ka Izhaar Shayari in Urdu

Introduction

A heart saturated with affection will express itself through poems. The phrase “Pyar ka izhaar” refers to the disclosure of one’s true emotions, the love that one keeps in the heart and cherishes. Most people today find it difficult to express their love openly and want to use flowery, romantic, and beautiful words; hence, Pyar Ka Izhaar Shayari has become one of the most popular searches on the web.

In the following sections, there will be more than 150 examples of Pyar ka Izhaar Shayari in Urdu that are not only simple but also emotional, romantic, and perfect for sharing with someone special. These love shayari lines are so straightforward that even a child can utter them, can easily be caught, and are full of the utmost feelings.

You may want to use these lines for:

  • Love confession
  • WhatsApp status
  • Romantic messages
  • Instagram captions
  • Heartfelt proposals

Description

Pyar ka izhaar is the sweetest moment of a relationship. It is the time when the heart speaks without reservation. The society looks for:

  • Pyar ka izhaar shayari in Urdu
  • Romantic Urdu quotes
  • Love confession shayari
  • Dil ki baat shayari
  • I love you, Shayari Urdu
  • Heart-touching romantic poetry

This post brings to the audience unique, simple, and emotional shayari in the Aqiq language that anyone can safely use for love. It doesn’t matter whether your love is recent, deep, hidden, or long-distance—these lines will help you express all that your heart feels.

Romantic Love Confession Shayari

  1. “میرا دل آج بھی وہی ہے، جو پہلی بار تم پر آیا تھا۔”
  2. “تم ہو تو دل بھی ہے، ورنہ سب کچھ بےمعنی لگتا ہے۔”
  3. “محبت کا اظہار مشکل نہیں، مشکل ہے تمہارے بغیر رہنا۔”
  4. “دل نے جو کہا، میں نے بس تمہیں سنا دیا۔”
  5. “تم میری دعا بھی ہو، تم میرا جواب بھی ہو۔”

Soft & Sweet Izhaar-e-Mohabbat Shayari

  1. “میری خاموشیوں میں بھی تمہارا نام رہتا ہے۔”
  2. “پیار کرنا سیکھا نہیں، بس تمہیں دیکھ کر دل خود ہی بدل گیا۔”
  3. “میری ہر مسکراہٹ کی وجہ تم ہو۔”
  4. “دل کہتا ہے بس تم کہہ دو، اور زندگی مکمل ہو جائے۔”
  5. “ایک تم ہی تو ہو، جسے دیکھ کر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔”

Deep Emotional Love Shayari

  1. “میری ہر دھڑکن میں تمہاری خوشبو ہے۔”
  2. “محبت کا اظہار الفاظ سے نہیں، احساس سے ہوتا ہے۔”
  3. “اگر پیار گناہ ہے، تو میں یہ گناہ بار بار کروں گا۔”
  4. “تمہارے بغیر دل بھی ادھورا ہے، سانس بھی۔”
  5. “تم میری زندگی کا وہ حصہ ہو، جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔”

Cute & Innocent Love Confession Lines

  1. “مجھے آج بھی یقین نہیں ہوتا کہ تم میری ہو۔”
  2. “پیار کا اظہار تب آسان ہوا، جب تم سامنے تھیں۔”
  3. “میری ہر بات میں، ہر سوچ میں تم شامل ہو۔”
  4. “دل نے تمہیں اپنایا ہے، کوئی غلطی نہیں کی۔”
  5. “تم ہو تو ہر دن خوبصورت ہے۔”

Shayari For Saying “I Love You” Indirectly

  1. “تم مسکرا دو تو دل جیت لیا جاتا ہے۔”
  2. “مجھے لفظ نہیں آتے، بس تم آ جاتی ہو۔”
  3. “کاش تم جان لو، میں دل سے تمہارا ہوں۔”
  4. “تم میرے نہیں، پھر بھی میرے لگتے ہو۔”
  5. “پیار کا اظہار نہ بھی کروں، دل تمہارا ہی رہتا ہے۔”
Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی

وہ ذرا خوف جہاں دل سے مٹائے تو سہی

کیسے اٹھتے ہیں قدم دیکھیے منزل کی طرف

دل کے ارشاد پہ سر کوئی جھکائے تو سہی

اس کے قدموں میں رفاقت کے خزانے ہوں گے

میری جانب وہ قدم اپنے بڑھائے تو سہی

جذبۂ جوش محبت تجھے سو بار سلام

میری آہٹ پہ وہ دہلیز تک آئے تو سہی

ہر غزل میری قصیدہ ہی سہی تیرا مگر

تجھ کو اشعار میں یوں کوئی سجائے تو سہی

داستاں ہوں گے خود اس اجڑے ہوئے شہر کے غم

اس اندھیرے میں کوئی شمع جلائے تو سہی

خود بخود راستہ دے گا یہ زمانہ طالبؔ

دوستی کے لئے وہ ہاتھ بڑھائے تو سہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

گزر اوقات نہیں ہو پاتی

دن سے اب رات نہیں ہو پاتی

ساری دنیا میں بس اک تم سے ہی

اب ملاقات نہیں ہو پاتی

جو دھڑکتی ہے مرے دل میں کہیں

اب وہی بات نہیں ہو پاتی

جمع کرتا ہوں سر چشم بہت

پھر بھی برسات نہیں ہو پاتی

لاکھ مضموں لب اظہار پہ ہیں

اور مناجات نہیں ہو پاتی

ہاتھ میں ہاتھ لیے پھرتی ہے

ختم یہ رات نہیں ہو پاتی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اس قدر غم ہے کہ اظہار نہیں کر سکتے

یہ وہ دریا ہے جسے پار نہیں کر سکتے

آپ چاہیں تو کریں درد کو دل سے مشروط

ہم تو اس طرح کا بیوپار نہیں کر سکتے

جان جاتی ہے تو جائے مگر اے دشمن جاں

ہم کبھی تجھ پہ کوئی وار نہیں کر سکتے

جتنی رسوائی ملی آپ کی نسبت سے ملی

آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے

آپ کر سکتے ہیں خوشبو کو صبا سے محروم

اور کچھ صاحب کردار نہیں کر سکتے

ایک زنجیر سی پلکوں سے بندھی رہتی ہے

پھر بھی اک دشت کو گل زار نہیں کر سکتے

یہ گل درد ہے اس کو تو مہکنا ہے حضور

آپ خوشبو کو گرفتار نہیں کر سکتے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے

گھر کا گھر ہی جہاں بازار میں آ سکتا ہے

کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر

اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے

مجھ کو معلوم ہے دریاؤں کا کف ہے تجھ میں

تو مرے موجۂ پندار میں آ سکتا ہے

اے ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرنے والے

بل کبھی وقت کی رفتار میں آ سکتا ہے

سر پہ سورج ہے تو پھر چھاؤں سے محظوظ نہ ہو

دھوپ کا رنگ بھی دیوار میں آ سکتا ہے

یہ جو میں اپنے تئیں شاعری کرتا ہوں عظیمؔ

کیا تخیل مرا اظہار میں آ سکتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اضطراب دل بیمار سے ڈر لگتا ہے

نبض کی سرعت رفتار سے ڈر لگتا ہے

حسن کے عشوۂ طرار سے ڈر لگتا ہے

لغزش فطرت خوددار سے ڈر لگتا ہے

منزل حشر بہت دور سہی پر اب بھی

پرسش بخت سیہ کار سے ڈر لگتا ہے

اک المناک فسانہ ہے جنون الفت

جس کی تفسیر کے اظہار سے ڈر لگتا ہے

جادۂ ہوش سے ہٹ جائیں نہ مے کش کے قدم

جام کی گرمئ رفتار سے ڈر لگتا ہے

یا تو ناموس محبت پہ تھا مرنا برحق

یا تو ذکر رسن و دار سے ڈر لگتا ہے

رخ بدل دے نہ محبت کا یہ آشفتہ سری

اعتبار نگہ یار سے ڈر لگتا ہے

یہ عقیدت ہی کہیں درپئے آزار نہ ہو

شرف پا بوسیٔ اغیار سے ڈر لگتا ہے

توڑ ڈالیں نہ کہیں آپ مرا شیشۂ دل

آپ کی شومیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے

غم و آلام سے اس درجہ سراسیمہ ہوں

کہ مجھے عکس رخ یار سے ڈر لگتا ہے

بھول جاؤں نہ کہیں اپنی ہی ہستی کا مقام

آپ کی چشم فسوں بار سے ڈر لگتا ہے

بد گمانی ہوئی اس درجہ دخیل فطرت

ان کو اب سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے

پھر برانگیختہ ہو جائیں نہ جذبات نہاں

شعلہ سامانیٔ رخسار سے ڈر لگتا ہے

باہمی ربط میں بن جائے نہ حد فاصل

اختلافات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے

کچھ تو بدلے ہوئے حالات سے وحشت ہے عظیمؔ

کچھ تو بگڑے ہوئے آثار سے ڈر لگتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اب یہ کاروبار کریں

غیروں سے بھی پیار کریں

البم کھول کے دیکھیں اور

یادوں کو گلزار کریں

مر جائے گا اپنی موت

دشمن پر کیوں وار کریں

کب تک خالی بیٹھیں ہم

مل کر ذکر یار کریں

چاہت کے ہر جذبے کا

برجستہ اظہار کریں

سوچ کے اس کے بارے میں

جینا کیوں دشوار کریں

نفرت شور شرابے سے

خاموشی سے پیار کریں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جو دشمن ہے اسے ہمدم نہ سمجھو

نمک کو زخم کا مرہم نہ سمجھو

سکوں ملتا ہے دل سے دل کو لیکن

ہر اک ساغر کو جام جم نہ سمجھو

جو پی لو گے تو مٹ جانا پڑے گا

یہ ہے زہراب غم زمزم نہ سمجھو

تم اپنے دامن حرص و ہوس کو

مثال دامن مریم نہ سمجھو

نہ ہو اپنی خطاؤں پر جو نادم

اسے ہم مشرب آدم نہ سمجھو

قرینہ یہ بھی ہے اظہار غم کا

تبسم کو حریف غم نہ سمجھو

ہوں ذرے لاکھ روشن پھر بھی ان کو

جواب نیر اعظم نہ سمجھو

گھٹا غم کی ہے روئے زندگی پر

فضائے گیسوئے برہم نہ سمجھو

قیامت ہیں عزیزؔ ان کی ادائیں

کسی کو بھی کسی سے کم نہ سمجھو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تمہارا عشق جب سے کیا ہوا اے نازنیں ہم کو

پسند آتا نہیں ہے کوئی بھی اب مہ جبیں ہم کو

کیا اظہار جب ہم نے غم فرقت تو وہ بولے

تمہارے کہنے کا ہوتا نہیں ہے کچھ یقیں ہم کو

پس مردن پئے پامال گورستاں میں پھرتے ہیں

نشان تربت عشاق مل جائے کہیں ہم کو

بتان سنگ دل سے کیا ہو امید وفا اے دل

جہاں میں ڈھونڈ بیٹھے کچھ پتہ ملتا نہیں ہم کو

نہ جائیں مر کے وہ ہیں عاشق جانباز اے ہمدم

ترے کوچے میں گر مل جائے تھوڑی سی زمیں ہم کو

ترے در پر کھڑے ہیں دید کو ہم ایک مدت سے

دکھا دے شکل نورانی اب اے پردہ نشیں ہم کو

عزیزؔ زار گر عشق بتاں میں یہ رہی صورت

کسی دن مار ڈالے گا دل اندوہ گیں ہم کو

عزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

راس آئی مجھے خودی میری

لوگ کرتے رہے بدی میری

اس کا صدمہ شدید ہے مجھ کو

بات خالی چلی گئی میری

اس نے کچھ دیر بات مانی تو

دیر تک پر نہیں چلی میری

صاف اظہار عشق تھا اس میں

پر وہ سمجھانا شاعری میری

اب وہ کہتا ہے جان حاضر ہے

جان جس نے نکال لی میری

میرؔ و غالبؔ کا بھی زمانہ تھا

پر ہے اکیسویں صدی میری

ساتھ اس کے ہے بزم اک اظہرؔ

ہوگی محسوس کیا کمی میری

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے

اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں

لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے

ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں

ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے

پہلے بھی لوگ ملتے تھے لیکن تعلقات

انگڑائی کی طرح تو کبھی ٹوٹتے نہ تھے

پکے گھروں نے نیند بھی آنکھوں کی چھین لی

کچے گھروں میں رات کو ہم جاگتے نہ تھے

رہتے تھے داستانوں کے ماحول میں مگر

کیا لوگ تھے کہ جھوٹ کبھی بولتے نہ تھے

اظہرؔ وہ مکتبوں کے پڑھے معتبر تھے لوگ

بیساکھیوں پہ صرف سند کی کھڑے نہ تھے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تو بھی وفا کے روپ میں اب ڈھل کے دیکھ لے

اس آگ میں ہماری طرح جل کے دیکھ لے

دشت طلب میں پیار کے غنچے بھی کھل اٹھیں

کچھ روز میرے ساتھ کبھی چل کے دیکھ لے

ممکن ہے کوئی صبح تمنا ہو اس کے بعد

اے حسرتوں کی رات ذرا ڈھل کے دیکھ لے

کچھ گرد باد غم کے امیدوں کے کچھ سراب

منظر ہمارے دل میں کوئی تھل کے دیکھ لے

رکھتے ہیں ہم بھی جرأت اظہار زندگی

محرومیوں کا خوف اگر ٹل کے دیکھ لے

اس دل میں ہو چکا ہے بہت ولولوں کا خون

اے جذب شوق تو بھی یہاں پل کے دیکھ لے

اظہرؔ ترا نصیب ہے یہ شبنمی بہار

چہرے پہ تو بھی رنگ خزاں مل کے دیکھ لے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

گر دوا کے لئے ڈھونڈا ہے تو بے کار کیا

چارہ گر ہی تو ہے جس نے ہمیں بیمار کیا

ہم سے کرتا نہ طلب کم سے کم اظہار خوشی

اس طرح اور بھی جینا ہمیں دشوار کیا

دار تک کھینچ کے تم لے گئے اس کو ناحق

اس نے کب بات نہ سننے پہ تھا اصرار کیا

کبھی فولاد بھی بن جاتا تھا تم کو یارو

بس لچک جانے کی عادت نے تمہیں خار کیا

کام شر دیتا ہے جب خیر سے بنتی نہیں بات

میرے بد خواہوں نے اظہار کئی بار کیا

ہم اسے دوست جو سمجھیں بھی تو کیسے اظہرؔ

چھپ کے پیچھے سے ابھی اس نے کہاں وار کیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کھل کر نہ سر عام ہو اظہار بھلے ہی

ہے بغض کریں ہم سے وہ انکار بھلے ہی

بچوں نے تو آپس میں نہیں کھیلنا چھوڑا

آنگن میں اٹھائی گئی دیوار بھلے ہی

پھیلایا نہ ہاتھوں کو کبھی آگے کسی کے

ہر وقت مسائل سے ہوں دو چار بھلے ہی

مسجد کی شہادت میں رہی یہ بھی ملوث

کرتی رہے انکار یہ سرکار بھلے ہی

دولت ہی جھکا پائی نہ قانون ہی اس کو

فاقوں سے مرا ہے وہ قلم کار بھلے ہی

ہے سچا پرستار وہ اردو کا اے ساحلؔ

ہے ایک رسالے کا خریدار بھلے ہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

سر صحرائے جاں ہم چاک دامانی بھی کرتے ہیں

ضرورت آ پڑے تو ریت کو پانی بھی کرتے ہیں

کبھی دریا اٹھا لاتے ہیں اپنی ٹوٹی کشتی میں

کبھی اک قطرۂ شبنم سے طغیانی بھی کرتے ہیں

کبھی ایسا کہ آنکھوں میں نہیں رکھتے ہیں کوئی خواب

کبھی یوں ہے کہ خوابوں کی فراوانی بھی کرتے ہیں

ہمیشہ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں

مگر یہ یاد رکھیے گا کہ من مانی بھی کرتے ہیں

میاں تم دوست بن کر جو ہمارے ساتھ کرتے ہو

وہی سب کچھ ہمارے دشمن جانی بھی کرتے ہیں

یہ کیا قاتل ہیں، پہلے قتل کرتے ہیں محبت کا

پھر اس کے بعد اظہار پشیمانی بھی کرتے ہیں

تجھے تعمیر کر لینا تو اک آسان سا فن ہے

رفاقت کے محل! ہم تیری دربانی بھی کرتے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یادوں کا جزیرہ شب تنہائی میں

مصروف ہے یادوں کی پذیرائی میں

اب بھی وہی اظہار تغافل کا مزاج

اب بھی وہی اندیشہ شناسائی میں

اثبات نفی ہو کہ نفی ہو اثبات

کیوں جاؤں میں الفاظ کی گہرائی میں

کچھ لوگ تو منزل کی خبر بھی لے آئے

ہم مست رہے لذت خود رائی میں

چھوڑوں بھی خیال ان کا تو کیا حاصل ہو

کیا خاک کمی آئے گی رسوائی میں

آنے میں مسیحا کو تھا پہلے ہی حجاب

ناصح بھی تھا اندیشۂ رسوائی میں

تفریق کے خوگر تو سبھی ایک ہوئے

مصروف ہیں ہم لوگ صف آرائی میں

کس درجہ مسرت ہے کہ اب خون شہیدؔ

کام آیا تری انجمن آرائی میں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اتنے نزدیک سے آئینے کو دیکھا نہ کرو

رخ زیبا کی لطافت کو بڑھایا نہ کرو

درد و آزار کا تم میرے مداوا نہ کرو

رہنے دو اپنی مسیحائی کا دعوا نہ کرو

حسن کے سامنے اظہار تمنا نہ کرو

عشق اک راز ہے اس راز کو افشا نہ کرو

اپنی محفل میں مجھے غور سے دیکھا نہ کرو

میں تماشا ہوں مگر تم تو تماشا نہ کرو

ساری دنیا تمہیں کہہ دے گی تمہیں ہو قاتل

دیکھو مجھ کو غلط انداز سے دیکھا نہ کرو

کیسے ممکن ہے کہ ہم دونوں بچھڑ جائیں گے

اتنی گہرائی سے ہر بات کو سوچا نہ کرو

تم پہ الزام نہ آ جائے سفر میں کوئی

راستہ کتنا ہی دشوار ہو ٹھہرا نہ کرو

وہ کوئی شاخ ہو مضراب ہو یا دل ہو عزیزؔ

ٹوٹنے والی کسی شے کا بھروسا نہ کرو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کیا سنائیں حال دل اظہار کے قابل نہیں

لطف ہی کیا زندگی میں تم اگر شامل نہیں

اک ذرا سی ٹھیس پہونچی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی

کوئی شیشہ ہے مرے سینے میں شاید دل نہیں

مسکرا دیتا ہوں اکثر گردش حالات پر

سوچتا ہوں زیر پا اب کون سی منزل نہیں

غم دئے دنیا نے لیکن مجھ کو پہچانے بغیر

کوئی غم شایان موج اضطراب دل نہیں

جانے لے آئی ہمیں کس موڑ پر دیوانگی

ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو ہم یہ وہ منزل نہیں

کس طرح آئے تری صورت نظر کے سامنے

دل کا آئینہ ہی جب تصویر کے قابل نہیں

اک مسلسل درد منزل ایک جہد مستقل

کوئی لمحہ زندگی میں لمحۂ حاصل نہیں

چھوڑ کر عظمتؔ کو تنہا ہم سفر کہنے لگے

ایسا دیوانہ ہمارے ساتھ کے قابل نہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے

اپنی ہی جرأت اظہار سے ڈر لگتا ہے

اتنی راہوں کی صعوبت سے گزر جانے کے بعد

اب کسے وادیٔ پر خار سے ڈر لگتا ہے

کتنے ہی کام ادھورے ہیں ابھی دنیا میں

عمر کی تیزئ رفتار سے ڈر لگتا ہے

ساری دنیا میں تباہی کے سوا کیا ہوگا

اب تو ہر صبح کے اخبار سے ڈر لگتا ہے

خود کو منواؤں زمانے سے تو ٹکڑے ہو جاؤں

کچھ روایات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے

شوق شوریدہ کے ہاتھوں ہوئے بدنام بہت

اب تو ہر جذبۂ بیدار سے ڈر لگتا ہے

جانتی ہوں کہ چھپے رہتے ہیں فتنے اس میں

آپ کی نرمیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اک قصۂ پارینہ کے کردار ہیں ہم لوگ

گزری ہوئی تہذیب کے آثار ہیں ہم لوگ

گم کردہ روایات کی افسردہ سی خوشبو

کمہلائے ہوئے باغ کی مہکار ہیں ہم لوگ

ایسا بھی نہیں سارے زمانے سے خفا ہیں

جھلائے ہوئے وقت کا اظہار ہیں ہم لوگ

یہ تو نہیں کہتے کہ سنگھاسن پہ بٹھا دو

تھوڑی سی مروت کے تو حق دار ہیں ہم لوگ

جینے کے لئے اور جتن کتنے کریں گے

یہ کیسے مسائل میں گرفتار ہیں ہم لوگ

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دعائیں مانگ کے دل کو قرار رہتا ہے

ترے کرم کا ہمیں انتظار رہتا ہے

وہ میرے درد کو پڑھتا ہے میرے چہرے سے

نمی ہو آنکھ میں تو بے قرار رہتا ہے

اگر کبھی میں جھڑک دوں کسی سوالی کو

مرا ضمیر بہت شرمسار رہتا ہے

جب ایک فرقے کے لوگوں پہ ٹوٹتے ہیں ستم

تماش بینوں میں ہی شہریار رہتا ہے

یہ سچ ہے فون پہ بات ہوئیں مگر بیٹو

گلے لگانے کو دل بے قرار رہتا ہے

ہماری جھولی میں لعل و گہر نہیں آصفؔ

خزانہ پیار کا ہاں بے شمار رہتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دشمنی مجھ سے آ نبھا تو سہی

میری حالت پہ مسکرا تو سہی

آگ میں گھر گیا ہے پھر مومن

معجزہ اے خدا دکھا تو سہی

اک تعلق بنا رہے تجھ سے

مت وفا کر مگر ستا تو سہی

جی تو کرتا ہے تجھ سے بات کروں

تو بھی مجھ سے نظر ملا تو سہی

تیرے میرے کی بات جانے دے

عمر کتنی بچی بتا تو سہی

کیسے خود کو سنبھال رکھا ہے

نسخہ آصفؔ مجھے لکھا تو سہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

خستہ دل ہیں نہ ہمیں اور ستانا لوگو

ذکر اس کا نہ زباں پر کبھی لانا لوگو

عقل تیار تو ہے ترک تعلق کو مگر

اتنا آسان نہیں دل کو منانا لوگو

جا بجا ڈھونڈھتی پھرتی ہیں نگاہیں جس کو

جانے کس شہر میں ہے اس کا ٹھکانہ لوگو

دور تک پھیل گئی بات ہماری اس کی

کل لکھا جائے گا اک اور فسانہ لوگو

جانے کس لمحہ وہ کس موڑ پہ مل جائے گی

موت کا کوئی پتہ ہے نہ ٹھکانہ لوگو

خود کو مشکل سے سنبھالے ہیں بہت ٹوٹے ہیں

ہم بکھر جائیں گے مت ٹھیس لگانا لوگو

عمر بھر کے لئے بے چین یہ کر دیتا ہے

میری مانو تو کبھی دل نہ لگانا لوگو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دھوپ سر سے گزرنے والی ہے

زندگی شام کرنے والی ہے

آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے

کل تو ہستی بکھرنے والی ہے

یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت

یہ ندی تو اترنے والی ہے

پھر بگولا اٹھا ہے بستی میں

پھر قیامت گزرنے والی ہے

یورش رنج و غم سے تو آصفؔ

بن کے کندن نکھرنے والی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بہت سے ہم نے سمجھوتے کیے ہیں

کسی کے ساتھ اب تک یوں جئے ہیں

بہت ڈرتا ہے جو رسوائیوں سے

مرے اشعار تو اس کے لئے ہیں

ہمیں دیکھا تو اکثر چپکے چپکے

تمہارے چرچے لوگوں میں ہوئے ہیں

نہ جانے دور تک کیوں بات پہنچی

لبوں کو آج تک ہم تو سیے ہیں

اسے عادت ہے لیکن بھولنے کی

کسی نے چند وعدے تو کئے ہیں

جو دم بھرتے ہیں آصفؔ دوستی کا

وہی اب ہاتھ میں خنجر لیے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

میرے ہونٹوں پہ عجب آہ و فغاں رہنے دیا

اس نے فرقت میں بھی خاموش کہاں رہنے دیا

تا کہ جذبات زدہ قیس نصیحت پکڑیں

دشت والوں نے مرا نام و نشاں رہنے دیا

میں نے اظہار کے سب رستے مقفل کر کے

جو بھی منظر تھا وہ دنیا پہ عیاں رہنے دیا

کار تخلیق میں کوئی تو ضرورت ہوگی

اس نے ایقان کے پردے میں گماں رہنے دیا

مجھ کو آسانی نظر آتی تھی اس میں عاصمؔ

عاشقی کر لی سبھی کار جہاں رہنے دیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اے وحشت جاں درد کے شہکار بہت ہیں

زندہ ہیں مگر لوگ یہ بیمار بہت ہیں

نفرت میں نہیں عیب محبت پہ ہے بندش

اس شہر میں اس طرز کے معیار بہت ہیں

یہ مشق تبسم ہے فقط رسم زمانہ

شکوے تو پس پردۂ اظہار بہت ہیں

اک مجھ کو ترا درد بھی منظور ہے جاناں

خوشیوں کے تری ورنہ طلب گار بہت ہیں

ویرانے میں ہو سکتا ہے محفوظ رہیں ہم

انسان کی نگری میں تو خونخوار بہت ہیں

جسموں کی تجارت تو ہمیشہ سے ہوئی ہے

روحوں کے بھی اس دور میں بازار بہت ہیں

معصوم گنہ صرف گناہ گار وہیں ہیں

جس شہر میں انصاف کے دربار بہت ہیں

ٹھہرے ہوئے آنسو کئی جاگی ہوئی راتیں

عاصمؔ پہ ترے درد کے آثار بہت ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

زمانہ صورت دیوار کیوں ہے

یہ خاموشی سر بازار کیوں ہے

ادھر کچھ روز سے ہاتھوں میں اپنے

بجائے شاخ گل تلوار کیوں ہے

یہاں ہر راستہ ہے صاف سیدھا

مگر ہر شخص کج رفتار کیوں ہے

جو بستی چین سے سوتی تھی شب بھر

وہ بستی خوف سے دو چار کیوں ہے

بتاؤ بک گئے تم بھی نظرؔ کیا

مقفل اب لب اظہار کیوں ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کچھ تو غم خانۂ ہستی میں اجالا ہوتا

چاند چمکا ہے تو احساس بھی چمکا ہوتا

آئینہ خانۂ عالم میں کھڑا سوچتا ہوں

میں نہ ہوتا تو یہاں کون سا چہرہ ہوتا

خود بھی گم ہو گئے ہم اپنی صداؤں کی طرح

دشت فرقت میں تجھے یوں نہ پکارا ہوتا

حسن اظہار نے رعنائی عطا کی غم کو

گل اگر رنگ نہ ہوتا تو شرارہ ہوتا

ہم بھی احساس کی تصویر بنا سکتے تھے

کاش ہم پہ کبھی اظہار کا در وا ہوتا

فرصت شوق نہ دی کرب وفا نے رونا

کوئی اعجاز تو ہم نے بھی دکھایا ہوتا

ہم کو پہچان کہ اے بزم چمن زار وجود

ہم نہ ہوتے تو تجھے کس نے سنوارا ہوتا

ایک صورت سے ہوا نقش دو عالم کو فروغ

آئینہ ٹوٹ نہ جاتا تو تماشا ہوتا

ہم نے ہر خواب کو تعبیر عطا کی اسلمؔ

ورنہ ممکن تھا کہ ہر نقش ادھورا ہوتا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب حق دل و دماغ میں بھرپور رچ گیا

میرے قدم جہاں پڑے کہرام مچ گیا

ہر بار اس سے قوت اظہار چھن گیا

جب بھی میں اس کی بزم میں لے کر پہنچ گیا

میں نے تو اپنے در پہ لکھایا تھا اپنا نام

لیکن کوئی پڑوسی اسے بھی کھرچ گیا

دریا کی تہ چٹان کی زد کو بھی سہہ گئی

لیکن یہ کیا کہ سطح پہ اک شور مچ گیا

کل رات ان غریبوں کو قے کیوں نہ آ سکی

کھانا امیر شہر کا کیوں ان کو پچ گیا

اسلمؔ کرامتوں میں کروں گا شمار اگر

میرا خلوص تہمت یاراں سے بچ گیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کچھ آرزو کے خواب دکھانے لگی ہوا

پانی کے زندگی کو ستانے لگی ہوا

ہم بھی ہوئے شکار ہیں اظہار عشق کے

جب گیسوؤں کے خم کو دکھانے لگی ہوا

باد صبا تمہاری مہک لے کے آ گئی

روٹھے ہوئے دلوں کو منانے لگی ہوا

لیلیٰ و قیس ہم کو کہنے لگے ہیں لوگ

رسوائیوں کو نام بتانے لگی ہوا

دل کی منڈیر کا یہ دیا کیسے بجھ گیا

پوچھا تو اپنا پہلو بجانے لگی ہوا

تم جو نہیں ہو پاس تو کیسے بدل گئی

شبنم میں بھیگی رات جلانے لگی ہوا

اسلمؔ کوئی جو شب کبھی ظالم سی بن گئی

سینے سے لگ کے مجھ کو سلانے لگی ہوا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تاریخ سے ملا نہ روایات سے ملا

مجھ کو مرا سراغ مری ذات سے ملا

جس شب ہوا تھا جام میں مہتاب کا نزول

احساس زندگی مجھے اس رات سے ملا

حاصل ہے جس قدر ہمیں سرمایۂ دروغ

یہ صرف اپنی کہنہ روایات سے ملا

حصہ جو رہ گیا ہے بقایا حیات کا

اس کو طبیب قلب خرابات سے ملا

اظہار میرے زور طبیعت کی دین تھی

لیکن شعور شورش حالات سے ملا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پہلے تو نہ تھی اتنی تب و تاب غزل میں

کام آ گئی غم خوارئ‌ احباب غزل میں

دل پر سے ترے غم کا ابھی ابر چھٹا ہے

چمکا ہے تری یاد کا مہتاب غزل میں

یاروں کو کسی طور بھی نشہ نہیں ہوتا

جب تک کہ نہ شامل ہو مئے ناب غزل میں

جس سے خلش درد کا آغاز ہوا ہے

رقصاں ہے وہی پیکر سیماب غزل میں

ہر مصرعۂ تر تختۂ‌ گلزار کی صورت

رنگوں کی ہے اک وادئ شاداب غزل میں

گو درد کے اظہار کی عادت تو نہیں تھی

پینا ہی پڑا ہم کو یہ زہر آب غزل میں

اصناف سخن اور بھی اے دوست بہت ہیں

رنگیں ہے مری زیست کا ہر باب غزل میں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پس دیوار حجت کس لئے ہے

دریچے سے یہ وحشت کس لئے ہے

نہ میں اپنا نہ میں تیرا ہوں دنیا

تو پھر جینے کی حسرت کس لئے ہے

اگر سود و زیاں کے ہم ہیں قائل

جنوں سے اپنی قربت کس لئے ہے

جفا ہی جب تری پہچان ٹھہری

وفا میں مجھ کو لذت کس لئے ہے

مری آنکھوں پہ جو پہرہ ہے تیرا

تو آئینے سے رغبت کس لئے ہے

خود اپنے گھر میں ہے جب اجنبی تو

مرے بھائی یہ شہرت کس لئے ہے

سفر میں جب نہ تیرے کام آئے

ذرا یہ سوچ دولت کس لئے ہے

ادب ہی زندگی میں جب نہ آیا

ادب میں اتنی محنت کس لئے ہے

نکل آئے ہیں دیواروں پہ چہرے

تصور کی یہ جدت کس لئے ہے

مرا آئینہ ہے جب تیرا چہرہ

تو پھر دنیا کی حیرت کس لئے ہے

خموشی ہے جواب جاہلاں جب

زباں جیسی یہ نعمت کس لئے ہے

ہے دنیا کا جواز اس امر ہی میں

جہنم کیوں ہے جنت کس لئے ہے

کھلے ہیں پھول صحرا میں ولیکن

مجھے گھر میں یہ فرحت کس لئے ہے

نہیں واقف ہے دل ایثار سے جب

عطاؔ اظہار الفت کس لئے ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تجھ کو خفت سے بچا لوں پانی

تشنگی اپنی چھپا لوں پانی

خاک اڑتی ہے ہر اک چہرے پر

کس کی آنکھوں سے نکالوں پانی

دھوپ دریا پہ نظر رکھتی ہے

تجھ کو کوزے میں چھپا لوں پانی

اڑتے پھرتے ہیں سروں پر بادل

خواب آنکھوں میں بسا لوں پانی

روز بچوں کو سلا دوں یونہی

روز پتھر کو ابالوں پانی

آگ سے کھیلتا ہے کل مجھ کو

آ تجھے اپنا بنا لوں پانی

خارزاروں پہ چلوں ننگے پاؤں

خشک دھرتی کی دعا لوں پانی

صبر کی حد بھی تو کچھ ہوتی ہے

کتنا پلکوں پہ سنبھالوں پانی

بھول جاؤں نہ کہیں تیراکی

کیوں نہ کشتی ہی جلا لوں پانی

اپنی وحشت کا اک اظہار سہی

کر کے سرد آگ جلا لوں پانی

زخم ہو پھول ہو یا انگارہ

ہو جو روشن تو بلا لوں پانی

شرط ہے تیری رفاقت ورنہ

وقت کی آگ میں ڈالوں پانی

آگ مطلوب لب تشنہ ہے

میں تجھے کیسے بلا لوں پانی

چشم احباب جو ہو خشک عطاؔ

خون کو اپنے بنا لوں پانی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے

نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب

کشتئ دل مری منجدھار میں کھو جاتی ہے

بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے

آگہی کثرت افکار میں کھو جاتی ہے

اڑتے رہتے ہیں خیالات کے جگنو پھر بھی

بات کیوں پردۂ اظہار میں کھو جاتی ہے

اس کے کاموں کا ہے رنگین خوشامد پہ مدار

اور محنت مری ایثار میں کھو جاتی ہے

حرمت پردہ ضروری ہے عطاؔ جی ورنہ

چیز جیسی بھی ہو بازار میں کھو جاتی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

فرصت ہجر میں کچھ کار تماشہ ہی سہی

تو نہیں مجھ کو میسر تو یہ دنیا ہی سہی

میں کسی رحم و کرم پر تو نہیں تیری طرح

زیست کی راہ پہ اب چاہے میں تنہا ہی سہی

قریۂ غیر میں الفاظ کا دم گھٹتا ہے

فرط اظہار کے پل اپنا علاقہ ہی سہی

پہلے بڑھ چڑھ کے محبت میں کیا وقت بسر

اب زبوں حالیٔ جذبات میں اتنا ہی سہی

جانے والے تو کوئی اک تو بھرم رہنے دے

کچھ نہ کچھ دل کے لیے حاصل رفتہ ہی سہی

سرسری رنج پہ بنتا ہے حسن ضبط مگر

اس بہانے سے چلو ورزش گریہ ہی سہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا

ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے

شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا

رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ

آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا

کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح

کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا

تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں

کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا

ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر

وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا

سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ

جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے

وقت کے ساتھ کمی پیار میں آ جاتی ہے

بس کہیں چھور سمندر کا نظر آ جائے

کوئی طاقت مری پتوار میں آ جاتی ہے

وہ گزرتا ہے تو کھلتے ہیں دریچے گھر کے

اک چمک سی در و دیوار میں آ جاتی ہے

ٹوٹے گھنگھرو کی جو آواز ہوا کرتی ہے

وہ کھنک کیوں مری گفتار میں آ جاتی ہے

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے ہونٹوں پر

خوشبوئے گل مرے اشعار میں آ جاتی ہے

ہر گھڑی اپنی تمناؤں سے لڑتے لڑتے

اک چمک چہرۂ خوددار میں آ جاتی ہے

جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا

اک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب تک خراب حال کا مارا نہیں بنا

وہ آدمی کسی کا سہارا نہیں بنا

اظہار پیار کا وہ اشارے میں کر گئی

مجھ سے جواب کا بھی اشارہ نہیں بنا

اتنی پسند تھی اسے یہ سونی تیرگی

وہ مر گیا تھا پھر بھی ستارہ نہیں بنا

کس آس میں سفینوں نے چھوڑا ہے چھور یہ

اس اور تو ابھی بھی کنارا نہی بنا

اس پر لٹائیں سب نے زکاتیں بھی تب تلک

جب تک کہ اوروں پہ وہ خسارا نہیں بنا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

حیا اخفا راز دل کی اک تدبیر ہوتی ہے

نظر جھکتی ہے وہ جس میں کوئی تحریر ہوتی ہے

رواج زحمت اظہار دی جاتی ہے ہونٹوں کو

محبت میں خموشی ورنہ خود تقریر ہوتی ہے

ہر اک دیوانہ پابند وفا رہتا ہے آخر تک

جنوں کے پاؤں میں بھی ہوش کی زنجیر ہوتی ہے

سبھی کرتے ہیں دعوے صاحب ایمان ہونے کا

مگر ہر دل کے آئینے میں اک تصویر ہوتی ہے

جہاں برق تپاں کی یورش پیہم کا امکاں ہو

عموماً آشیانے کی وہیں تعمیر ہوتی ہے

نہ جانے کون سے خوش بخت کا یہ قول ہے ارشدؔ

کہ آہ صبح گاہی میں بڑی تاثیر ہوتی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اک لفظ آ گیا تھا جو میری زبان پر

چھایا رہا نہ جانے وہ کس کس کے دھیان پر

مجھ کو تلاش کرتے ہو اوروں کے درمیاں

حیران ہو رہا ہوں تمہارے گمان پر

محفل میں دوستوں کی وہی نغمہ بن گیا

شب خون کا جو شور تھا میرے مکان پر

بے شک زمیں ہنوز ہے اپنے مدار میں

لیکن دماغ اس کا تو ہے آسمان پر

شاید مری تلاش میں اتری ہے چرخ سے

جو دھوپ پڑ رہی ہے مرے سائبان پر

رہتا ہے بے نیاز جو آب و سراب سے

کھلتا ہے راز دشت اسی ساربان پر

احساس اس کا جامۂ اظہار مانگے ہے

افتاد آ پڑی ہے یہ ارشدؔ کی جان پر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کسی صورت اگر اظہار کی صورت نکل آئے

تو ممکن ہے کسی سے پیار کی صورت نکل آئے

مسیحائی پہ وہ کافر اگر ایمان لے آئے

شفا کی شکل میں بیمار کی صورت نکل آئے

اگر وہ بے وفا ضد چھوڑ دے اور ٹھیک ہو جائے

تو شاید پھر مرے گھر بار کی صورت نکل آئے

کوئی تو معجزہ ایسا بھی ہو اپنی محبت میں

ترے انکار سے اقرار کی صورت نکل آئے

بہت دن ہو گئے ارشدؔ وہ مکھڑا چاند سا دیکھے

دعا کرنا کوئی دیدار کی صورت نکل آئے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کتنا بے رنگ ہوا شہر ہنر تیرے بعد

جانے کس رخ پہ ہو لفظوں کا سفر تیرے بعد

کون اب لب کے تبسم کو کہے گا ہیرا

کون برسائے گا لفظوں کے گہر تیرے بعد

جب بھی گرتا ہے بڑا پیڑ دہلتی ہے زمیں

زندگی دھوپ میں گزرے گی شجر تیرے بعد

کہکشاں لفظوں کی شعروں میں ملے گی کس کے

کون بانٹے گا خیالوں کے گہر تیرے بعد

صدیوں رکھے گی تجھے زندہ سخن کی خوشبو

تذکرے ہوں گے ترے شام و سحر تیرے بعد

سلسلہ کون سنبھالے گا نقوش پا کا

منتظر کس کی ہے اب راہ گزر تیرے بعد

اب کہاں ہوتے ہیں وہ شعر و سخن کے چرچے

بے زباں ہو گیا تہذیب کا گھر تیرے بعد

منفرد جرأت اظہار رہے گی زندہ

اب کہاں ہوگا یہ اسلوب و ہنر تیرے بعد

تیرے اشعار پہ سر دھنتی رہے گی دنیا

رنگ لایا ہے ترا خون جگر تیرے بعد

گرمیٔ فکر سخن سے نہیں انکار نظرؔ

اتنی آساں بھی نہیں راہگزر تیرے بعد

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

زخموں سے میرا جسم یہاں چور چور تھا

احساس میرے کرب کا اس کو ضرور تھا

پتھر اچھالتا رہا ہر ایک کی طرف

کیا جانے کس خیال کا اس کو غرور تھا

دل بھی دھڑک رہا تھا گنہ گار کی طرح

جیسے کوئی ثبوت بھی پیش حضور تھا

لگتا ہے میری بات سے وہ بھی قریب تر

حالانکہ دیکھنے میں بہت دور دور تھا

کیا جانے کس خیال سے وہ چپ رہا مگر

اظہار حال درد بھی لیکن ضرور تھا

اب اس کی ذات میں ہو کوئی بات تو نظرؔ

پہلے تو اس کے ربط میں کتنا سرور تھا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب لب سے مرے حرف صداقت نکل آئے

کچھ لوگ لئے سنگ ملامت نکل آئے

یارب کوئی ایسی کہیں صورت نکل آئے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت نکل آئے

اٹھے جو کہیں شعلہ لہو دے کے بجھا دے

ممکن ہے کوئی راہ محبت نکل آئے

آئینے کو اس شہر ہوس میں نہ لئے پھر

مشکل ہے یہاں سے وہ سلامت نکل آئے

جس خواب کو تعبیر کے لائق نہیں سمجھا

وہ خواب اگر اپنا حقیقت نکل آئے

کہنے پہ چلو توڑ لیں ہر شخص سے رشتہ

اس میں جو کوئی ان کی سیاست نکل آئے

خوشبو ہے کسی راز کی سینے میں ہمارے

مت چھیڑ کہ اظہار حقیقت نکل آئے

ہر سانس پہ رہتا ہے جہاں جبر کا پہرہ

مقتل سے کوئی کیسے سلامت نکل آئے

برتا ہے کچھ اس رنگ سے لفظوں کو غزل میں

ممکن ہے کہ اس میں بھی علامت نکل آئے

کر فکر کے آئینے سے ہر لمحہ نئی بات

ممکن ہے نظرؔ اس طرح قامت نکل آئے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

آباد دل کے ہوتے ہی گھر نام پڑ گیا

دیوار کیا گری کہ کھنڈر نام پڑ گیا

پانی تھا سر سے اونچا کبھی شہر چشم میں

بارش رکی تو دیدۂ تر نام پڑ گیا

بخشی ثمر نے بیج کو شہرت صفات کی

کونپل جواں ہوئی تو شجر نام پڑ گیا

ذرے کو آفتاب کیا کس خیال نے

کس نقش پا سے راہ گزر نام پڑ گیا

گہرائیوں سے ان کی نہ پھر لوٹیں کشتیاں

ڈوبے تو چشم تر کا بھنور نام پڑ گیا

سورج کے قتل عام سے بکھرے مہہ‌ و نجوم

اک جبر کا طلوع سحر نام پڑ گیا

رکھا ہے قید گردش آفاق میں مجھے

ان تنگ دائروں کا سفر نام پڑ گیا

سیپوں کی کاوشوں کو سراہا نہ دہر نے

پتھر کا جانے کیسے گہر نام پڑ گیا

خون جگر سے پائی ہے لفظوں نے زندگی

احساس بول اٹھا تو ہنر نام پڑ گیا

اظہار فن میں ہم نے کئے تجربے نئے

آنکھوں کی گفتگو سے نظرؔ نام پڑ گیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

وہ کون تھا جو برسر پیکار مجھ میں تھا

اندھی انا تھی نشۂ پندار مجھ میں تھا

اک جنگ خیر و شر کی تھی برپا وجود میں

اک جذبہ تھا جو برسر پیکار مجھ میں تھا

تو دشت بے حسی میں ٹھہرتا بھی کب تلک

اے جذبۂ جنوں ترا اظہار مجھ میں تھا

کیسے نبرد آزما دشمن سے ہو گیا

وحشی ہوا سا کوئی تو فن کار مجھ میں تھا

دنیا خرید لی تھی مگر یہ خبر نہ تھی

میرے وجود کا بھی خریدار مجھ میں تھا

تھیں خواب خواب آنکھیں در یار پر لگی

کہتا میں کیسے دیدۂ بے دار مجھ میں تھا

چنتا رہا گلوں کی طرح خار خار زخم

جیسے کہ کوئی شہر دل آزار مجھ میں تھا

دشوار ہو گئی تھی تمہاری تلاش بھی

وہ کون تھا جو سایۂ دیوار مجھ میں تھا

کیوں شعر شور خیز ہے برہم تھے وہ نظرؔ

کیوں اتنا تیز تر مرا اظہار مجھ میں تھا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یہ چاہتے ہیں کہ جام الفت کا ذہن و دل سے اثر نہ جائے

پلا دو ہم کو پھر اس سے پہلے نشہ ہمارا اتر نہ جائے

ہمیں سے ہے میکدے کی رونق ہمیں سے سارا نظام رنداں

یہ کیسے ممکن ہے ساقیا اب ہمارے اوپر نظر نہ جائے

تمہاری خاطر ہی راستوں پر بچھا کے رکھی ہیں ہم نے آنکھیں

چلے بھی آؤ کہ بن تمہارے یہ موسم گل گزر نہ جائے

ورق ورق پر تمہارا چرچا تمہاری یادیں تمہاری باتیں

بڑی حفاظت سے رکھ رہا ہوں کتاب دل ہے بکھر نہ جائے

میں چاہتا ہوں کہ تم سے کہہ دوں مگر یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا

یہ دل کے اظہار کا پرندہ قفس کے اندر ہی مر نا جائے

تمہارے در سے میں اپنا سر بھی تبھی اٹھاؤں گا جان جاناں

کہ جب تلک آرزوؔ کا بگڑا ہوا مقدر سنور نہ جائے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب

سچ یہ کہ ہیں حیات سے بیزار سب کے سب

اپنی خبر کسی کو نہیں پھر بھی جانے کیوں

پڑھتے ہیں روز شہر میں اخبار سب کے سب

تھا ایک میں جو شرط وفا توڑتا رہا

حالانکہ با وفا تھے مرے یار سب کے سب

سوچو تو نفرتوں کا ذخیرہ ہے ایک دل

کرتے ہیں یوں تو پیار کا اظہار سب کے سب

زنداں کوئی قریب نہیں اور نہ رقص گاہ

سنتے ہیں اک عجیب سی جھنکار سب کے سب

میدان جنگ آنے سے پہلے پلٹ گئے

نکلے تھے لے کے ہاتھ میں تلوار سب کے سب

ذہنوں میں کھولتا تھا جو لاوا وہ جم گیا

مفلوج ہو کے رہ گئے فن کار سب کے سب

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

میری نفرت بھی ہے شعروں میں مرے پیار کے ساتھ

میں نے لکھی ہے غزل جرأت اظہار کے ساتھ

اقتدار ایک طرف ایک طرف درویشی

دونوں چیزیں نہیں رہ سکتی ہیں فن کار کے ساتھ

اک خلا دل میں بہت دن سے مکیں ہے اب تو

یاد گزرا ہوا موسم بھی نہیں یار کے ساتھ

بادبانوں سے الجھتی ہے ہوا روز مگر

کشتیاں سوئی ہیں کس شان سے پتوار کے ساتھ

شہر میں جہل کی ارزانی ہے لیکن اب تک

میں ہی سمجھوتہ نہیں کرتا ہوں معیار کے ساتھ

میرے اشعار ہیں ناقد کے لئے کچھ بھی نہیں

درد کو میں نہیں لکھتا کبھی دشوار کے ساتھ

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش

ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش

پچھڑے ہوئے گاؤں کا شاید ہے وہ باشندہ

جو شہر میں ڈھونڈے ہے ایثار کی گنجائش

نفرت کی تعصب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں

پیدا ہوئی ذہنوں میں دیوار کی گنجائش

پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے

جسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش

اس طرح کھلے دل سے اقرار نہیں کرتے

رکھ لیجئے تھوڑی سی انکار کی گنجائش

گر عزم مصمم ہو اور جہد مسلسل بھی

صحرا میں نکل آئے گلزار کی گنجائش

سمجھیں کہ نہ سمجھیں وہ ہم نے تو اسدؔ رکھ دی

اشعار کے ہونٹوں پہ اظہار کی گنجائش

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

عشق کی گرمئ بازار کہاں سے لاؤں

یوسف دل کا خریدار کہاں سے لاؤں

سنتے ہی نغموں کی اک لہر رگوں میں دوڑے

میں تری شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں

وہی شوریدہ سری ہے وہی ایذا طلبی

عشق میں جادۂ ہموار کہاں سے لاؤں

ہو گئیں آنکھوں سے وہ مست نگاہیں اوجھل

عشرت خانۂ خمار کہاں سے لاؤں

دل کی دھڑکن میں سنا کرتا تھا پیغام ترا

اب وہ ہنگامۂ بسیار کہاں سے لاؤں

اس پر آئینہ ہو کس طرح حقیقت دل کی

شوق منت کش اظہار کہاں سے لاؤں

معبد دل میں پرستار محبت ہوں اثرؔ

روش کافر و دیں دار کہاں سے لاؤں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو

جذبۂ تعمیر سے بھی واسطہ رکھا کرو

زندگی کے راستے میں ہیں ہزاروں ٹھوکریں

آبلہ پائی سلامت جو صلہ رکھا کرو

مل ہی جاتے ہیں یہ اکثر زندگی کی موڑ پر

اجنبی چہروں سے خود کو آشنا رکھا کرو

دیکھنا شعلہ بیانی بھی ادا بن جائے گی

تلخیٔ اظہار میں حسن ادا رکھا کرو

موم سے بھی دوستی ہو اور شعلوں سے بھی پیار

پھر بھی ان کے درمیاں کچھ فاصلہ رکھا کرو

گھپ اندھیرا ہو تو پھر ملتی نہیں راہ نجات

ذہن و دل کا روشنی سے رابطہ رکھا کرو

تم کو جینا ہے اثرؔ اس انقلابی دور میں

اپنی فطرت میں ذرا فکر رسا رکھا کرو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

مایوس اندھیروں سے نہ اے دیدۂ تر ہو

آخر تو کبھی اس شب غم کی بھی سحر ہو

اب شوق کا اظہار بہ انداز دگر ہو

دل ٹوٹ بھی جائے تو کسی کو نہ خبر ہو

شاید کہ کبھی اس کو بھی ہو جائے محبت

شاید کہ کبھی اس کی بھی آنکھوں میں بسر ہو

ہو دل میں بپا حشر تو ہو لب پہ خموشی

یوں کیجئے الفت کہ انہیں بھی نہ خبر ہو

وعدہ تو ہوا ہے کہ وہ آئیں گے سر شام

اب دیکھیے کس رنگ میں اس شب کی سحر ہو

کب تک میں رہوں محو سکوت شب ہجراں

اے قلب حزیں نالہ بپا کر کہ سحر ہو

اک عمر کٹی خانہ بدوشی میں ہماری

حسرت ہے کہ دنیا میں کوئی اپنا بھی گھر ہو

تم وارث جمشید و سکندر سہی لیکن

اے کاش تمہیں اپنے وطن کی بھی خبر ہو

سیجوں پہ کٹے عمر کہ کانٹوں پہ تبسمؔ

بس ایک تمنا ہے محبت میں بسر ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یہ زمیں چاند ستاروں کا بدل کیسے ہو

سوچتا میں بھی بہت کچھ ہوں عمل کیسے ہو

صورت حال بدل جاتی ہے اک لمحے میں

آدمی اپنے ارادوں میں اٹل کیسے ہو

کن درختوں سے لگا رکھی ہے امید ثمر

شاخ ہی جب نہ ہو سرسبز تو پھل کیسے ہو

سوچتے کچھ ہیں عمل کچھ ہے نتیجہ کچھ ہے

ایسی صورت میں کوئی مسئلہ حل کیسے ہو

درد سے کوئی علاقہ نہ تعلق غم سے

صرف لفظوں کے برتنے سے غزل کیسے ہو

ہر ملاقات ادھوری رہی اس الجھن میں

یعنی اظہار محبت میں پہل کیسے ہو

میرے محبوب کا اردو سے ہے رشتہ کم کم

مینوں آندی نئیں پنجابی تے گل کیسے ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا

وہ مجھے اپنے ہی معیار تلک لے آیا

کیا رکھے اس سے کوئی سلسلۂ گفت و شنید

گھر کی باتوں کو جو بازار تلک لے آیا

میں نے جو بات بھروسے پہ کہی تھی اس سے

وہ اسے سرخیٔ اخبار تلک لے آیا

گھر میں جب کچھ نہ بچا اس کی اعانت کے لیے

میں اٹھا کر در و دیوار تلک لے آیا

اس کی آنکھوں میں عجب سحر تھا میں جس کے سبب

دل کی باتیں لب اظہار تلک لے آیا

وہ جو قائل ہی نہ تھا میری محبت کا اسے

رفتہ رفتہ حد اقرار تلک لے آیا

میرے ہر جھوٹ کو دنیا نے سراہا لیکن

ایک سچ مرحلۂ دار تلک لے آیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جو گزرتی ہے کہا کرتا ہوں

دل کے جذبات لکھا کرتا ہوں

چن کے جب لاتی ہے الفاظ زباں

لب اظہار کو وا کرتا ہوں

خیر سے پار لگے کشتیٔ زیست

بس یہی ایک دعا کرتا ہوں

زندگی تجھ سے وفا کی خاطر

دل کی آواز سنا کرتا ہوں

غم میں بھی رہتا ہوں میں خوش ساحلؔ

ہر نفس ایسے جیا کرتا ہوں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبار‌ عشق میں

جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذن گفتگو

میں اک کتاب بن گیا اظہار عشق میں

قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں

جنس وفا بنا رہا بازار عشق میں

شاید یہی تھی اس کی محبت کی انتہا

مجھ کو بھی اس نے چن دیا دیوار عشق میں

تہہ تک میں کھوج آیا ہوا غرق بار بار

آیا نہ پھر بھی تیرنا منجھدار عشق میں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

چھوڑ کر تیری مٹی کدھر جائیں گے

اے وطن تجھ میں اک دن بکھر جائیں گے

دور رہ کر جہاں سے گزر جائیں گے

گھر جو آ جاؤ تم تو ٹھہر جائیں گے

یوں نہ بکھرو ذرا حوصلہ تو رکھو

دکھ بھرے دن کبھی تو گزر جائیں گے

بھیج کر کچھ رقم بوڑھے ماں باپ کو

قرض کیا پرورش کے اتر جائیں گے

کتنی مدت سے گھر کو سجاتے ہو تم

صرف دو دن کو ہی بچے گھر جائیں گے

اس کی نظر عنایت ہے ہر شخص پر

دن ہمارے بھی شاید سنور جائیں گے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

رہ گئے بس عشق دریا سے یہ ناطے رہ گئے

ہم صدف آنکھوں سے اب گوہر لٹاتے رہ گئے

رہ گئے ہم ساز دل کے ٹوٹ جانے پر بھی خوش

درد غزلوں میں چھپا کر گنگناتے رہ گئے

رہ گئے ہم پیار کے ہر اسم سے دے کر صدا

روٹھ کر وہ چل دئے اور ہم مناتے رہ گئے

رہ گئے خاموش وہ بھی عشق کے اظہار پر

میرے لب پر بھی اشارے آتے آتے رہ گئے

رہ گئے سارے فسانوں میں نشاں ان کے ہی اور

راز دل ہم اس زمانہ سے چھپاتے رہ گئے

رہ گئے یوں تو اندھیرے ہجر کے دل میں مگر

وصل کی اک شمع ہم پھر بھی جلاتے رہ گئے

رہ گئے ہم آرزوؔ دل کی دبا کر دل میں ہی

نقش پا ان کی تمنا کے مٹاتے رہ گئے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پہلے لگا تھا ہجر میں جائیں گے جان سے

پر جی رہے ہیں اور وہ بھی اطمینان سے

دونوں کو جوڑے عشق کی نازک سی ڈور تھی

افسوس وہ بھی ٹوٹ گئی کھینچ تان سے

پھر درمیاں بچے گا جو وہ عشق ہی تو ہے

دنیا اگر نکال دیں ہم درمیان سے

اظہار کرتے رہتے ہیں ویسے تو کتنے لوگ

اچھا لگے گا پر مجھے تیری زبان سے

اول تو قاعدے سے وہاں ہم ہی آتے دوست

اس نے مگر نکال دیا امتحان سے

میرا ہی حق ملا مجھے احسان کی طرح

اس نے معافی مانگ لی لیکن گمان سے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یہ کبھی سوچا نہیں تھا آپ بھی ایسا کریں گے

جب بچھڑ جائیں گے ہم سے تو ہمیں رسوا کریں گے

بول تو دیتے ہیں غصے میں کہ تم جاؤ یہاں سے

بعد میں پھر سوچتے ہیں یہ ہوا تو کیا کریں گے

اس کے جھگڑے پر کبھی گر ڈانٹ دوں تو بولتا ہے

آپ سے ہے پیار تو پھر کس سے ہم جھگڑا کریں گے

ایک چہرہ جو کہ ہم سے نا کبھی بھی بن سکا ہے

ایک چہرہ وہ کہ جس کو عمر بھر سوچا کریں گے

تیری جانب جب رہیں گی محفلوں کی سب نگاہیں

اپنی آنکھوں سے ترے چہرے پے ہم پردا کریں گے

ہے سمجھنا آپ کو تو شعر سے اظہار سمجھیں

بات کہنے کو بھلا ہم پھول کیوں توڑا کریں گے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

چاند تارے جسے ہر شب دیکھیں

ہم بھی اس شوخ کو یا رب دیکھیں

یوں ملیں ان سے کہ اپنا چہرہ

وہ بھی حیران ہوں کل جب دیکھیں

پہلے بس دل کو خبر تھی دل کی

اب وفا عام ہوئی سب دیکھیں

قرب میں کیا ہے جو دوری میں نہیں

تم جو آؤ تو کسی شب دیکھیں

جی میں ہے پھر کریں اظہار وفا

پھر ترے لرزے ہوئے لب دیکھیں

میں کہ ہوں ایک ہی آشفتہ خیال

لوگ ہر بات میں مطلب دیکھیں

جو کسی نے کبھی دیکھے نہ سنے

وہ تماشے وہ فسوں اب دیکھیں

آج تو یوں گلے لگ جاؤ کہ بس

پھر تو جانے تمہیں کب کب دیکھیں

لاکھ پتھر سہی وہ بت انجمؔ

وہ گھڑی ہم سے ملے تب دیکھیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

چاند تارے جسے ہر شب دیکھیں

ہم بھی اس شوخ کو یا رب دیکھیں

یوں ملیں ان سے کہ اپنا چہرہ

وہ بھی حیران ہوں، کل جب دیکھیں

پہلے بس دل کو خبر تھی دل کی

اب وفا عام ہوئی سب دیکھیں

قرب میں کیا ہے جو دوری میں نہیں

تم جو آؤ تو کسی شب دیکھیں

جی میں ہے پھر کریں اظہار وفا

پھر ترے لرزے ہوئے لب دیکھیں

میں کہ ہوں ایک ہی آشفتہ‌ خیال

لوگ ہر بات میں مطلب دیکھیں

جو کسی نے کبھی دیکھے نہ سنے

وہ تماشے وہ فسوں اب دیکھیں

لاکھ پتھر سہی وہ بت انجمؔ

دو گھڑی ہم سے ملے تب دیکھیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں

تیور تو ان کے دیکھ ذرا کس بلا کے ہیں

کیا ماجرا ہے اے بت توبہ شکن کہ آج

چرچے تری گلی میں کسی پارسا کے ہیں

اس چشم نیم وا کی ہے مستی شراب میں

ساغر میں سارے رنگ اسی کی حیا کے ہیں

ہستی کی قید کاٹتے رہتے ہیں رات دن

کیا جانے کتنے سال ہماری سزا کے ہیں

اے شیخ کیا ڈراتا ہے میدان حشر سے

ہم بندگان خلق بھی بندے خدا کے ہیں

ہے خوف کچھ تو موج تلاطم کا بھی مگر

ہم لوگ زخم خوردہ بت ناخدا کے ہیں

رہنا پڑا ہے دور کراچی سے ورنہ ہم

اس شہر بے مثال کے عاشق سدا کے ہیں

رائج رہیں گے شہر سخن میں ہمارے شعر

سکے ہیں یہ کھرے کہ یہ قصے وفا کے ہیں

رکھتا ہے اک سلیقۂ اظہار مختلف

سب معترف خلیلؔ کی طرز ادا کے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے

وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے

کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے

مگر فقیر گزرتے رہے صدا کرتے

ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے

ہم اپنے بس میں جو ہوتے ترا گلا کرتے

تری جفا کا فلک سے نہ تذکرہ چھیڑا

ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے

تجھے نہیں ہے ابھی فرصت کرم نہ سہی

تھکے نہیں ہیں مرے ہاتھ بھی دعا کرتے

انہیں شکایت بے ربطی سخن تھی مگر

جھجک رہا تھا میں اظہار مدعا کرتے

چقیں گری تھیں دریچوں پہ چار سو انورؔ

نظر جھکا کے نہ چلتے تو اور کیا کرتے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دنیا بھی عجب قافلۂ تشنہ لباں ہے

ہر شخص سرابوں کے تعاقب میں رواں ہے

تنہا تری محفل میں نہیں ہوں کہ مرے ساتھ

اک لذت پابندیٔ اظہار و بیاں ہے

حق بات پہ ہے زہر بھرے جام کی تعزیر

اے غیرت ایماں لب سقراط کہاں ہے

کھیتوں میں سماتی نہیں پھولی ہوئی سرسوں

باغوں میں ابھی تک وہی ہنگام خزاں ہے

احساس مرا ہجر گزیدہ ہے ازل سے

کیا مجھ کو اگر کوئی قریب رگ جاں ہے

جو دل کے سمندر سے ابھرتا ہے یقیں ہے

جو ذہن کے ساحل سے گزرتا ہے گماں ہے

پھولوں پہ گھٹاؤں کے تو سائے نہیں انورؔ

آوارۂ گلزار نشیمن کا دھواں ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تجھ کو تو قوت اظہار زمانے سے ملی

مجھ کو آزادہ روی خون جلانے سے ملی

قریۂ جاں کی طرح ان پہ اداسی تھی محیط

در و دیوار کو رونق ترے آنے سے ملی

یوں تسلی کو تو اک یاد بھی کافی تھی مگر

دل کو تسکین ترے لوٹ کے آنے سے ملی

میں خزاں دیدہ شجر کی طرح گمنام سا تھا

مجھ کو وقعت تری تصویر بنانے سے ملی

شاخ احساس پہ جو پھول کھلے ہیں ان کو

زندگی حسن کا ادراک بڑھانے سے ملی

جاگتی آنکھ سے جو خواب تھا دیکھا انورؔ

اس کی تعبیر مجھے دل کے جلانے سے ملی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ستم گر یار کی ایسی کی تیسی

دل لاچار کی ایسی کی تیسی

بڑھائے اور بھی احساس غم جو

ہو اس غم خوار کی ایسی کی تیسی

ہنسی جو حال دل سن کر اڑائے

ہو اس دل دار کی ایسی کی تیسی

نہ جس میں کچھ خلوص و دل ربائی

ہو اس اقرار کی ایسی کی تیسی

صنم کی دید بہلائے نہ جس کو

ہو اس بیمار کی ایسی کی تیسی

نہ چشم یار جس سے ڈبڈبائے

ہو اس اظہار کی ایسی کی تیسی

رہا جو بے رخی کا ترجماں جو

ہو اس معیار کی ایسی کی تیسی

کریں گمراہ جو نام خدا پر

ہو ان اقدار کی ایسی کی تیسی

نظر آئے نہ جس کو جز شرارت

دل بیدار کی ایسی کی تیسی

اگر بچے ہوں فاقوں سے بلکتے

ہو اس تہوار کی ایسی کی تیسی

نظر آئے جو کانٹوں کا بچھونا

ہو اس گلزار کی ایسی کی تیسی

جو مشکل دور میں آنکھیں چرائے

ارے اس یار کی ایسی کی تیسی

فن تعمیر سے نا آشنا جو

ہو اس معمار کی ایسی کی تیسی

نہ سر دشمن کا جو کاٹے رفیقو

ہو اس تلوار کی ایسی کی تیسی

نہ جانے فرق آب و مے جو ہمدم

ہو اس مے خوار کی ایسی کی تیسی

رلائے ہر گھڑی تجھ کو جو انورؔ

ترے اس پیار کی ایسی کی تیسی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اگرچہ آئنۂ دل میں ہے قیام اس کا

نہ کوئی شکل ہے اس کی نہ کوئی نام اس کا

وہی خدا کبھی ملوائے گا ہمیں اس سے

جو انتظار کراتا ہے صبح و شام اس کا

ہمارے ساتھ نہیں جا سکا تھا وہ لیکن

رہا خیال سیاحت میں گام گام اس کا

خدا کو پیار ہے اپنے ہر ایک بندے سے

سفید فام ہے اس کا سیاہ فام اس کا

کما کے دیتے ہیں جو مال وہ امیروں کو

حساب کیوں نہیں لیتے کبھی عوام اس کا

ہمارا فرض ہے بے لاگ رائے کا اظہار

کوئی درست کہے یا غلط یہ کام اس کا

کہاں ہے شیخ کو سدھ بدھ مزید پینے کی

نشہ اتار گئے تین چار جام اس کا

زبان دل سے کوئی شاعری سناتا ہے

تو سامعین بھلاتے نہیں کلام اس کا

شعورؔ سب سے الگ بیٹھتا ہے محفل میں

اسی سے آپ سمجھ لیجئے مقام اس کا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا

میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا

میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر

کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا

میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو

میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا

میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن جاتا

میں شاعر تھا میں نے سب سے پیار کیا

اس کی آنکھیں خواب سے بننے لگتی ہیں

جب بھی میں نے چاہت کا اظہار کیا

اپنے پیچھے آنے والوں کی خاطر

میں نے ہر اک رستے کو ہموار کیا

اس کے گھر کے سارے لوگ مخالف تھے

پھر بھی عارفؔ اس نے مجھ سے پیار کیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پچھلی رفاقتوں کا نہ اتنا ملال کر

اپنی شکستگی کا بھی تھوڑا خیال کر

ڈس لے کہیں تمہیں کو نہ موقع نکال کر

رکھو نہ آستیں میں کوئی سانپ پال کر

شرمندگی کا زخم نہ گہرا لگے کہیں

کچھ اس قدر دراز نہ دست سوال کر

میری طرح نہ تو بھی گھٹن کا شکار ہو

خود اپنی خواہشوں کو نہ یوں پائمال کر

جو آپ کی نگاہ میں اتنا بلند ہے

دیکھا ہے اس کا ظرف بھی میں نے کھنگال کر

لمحوں کی تند موج سے بچنا محال ہے

رکھو گے کیسے یاد کی خوشبو سنبھال کر

ارماںؔ بس ایک لذت اظہار کے سوا

ملتا ہے کیا خیال کو لفظوں میں ڈھال کر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

نہ حرف شوق نہ طرز بیاں سے آتی ہے

سپردگی کی صدا جسم و جاں سے آتی ہے

کوئی ستارہ رگ و پے میں ہے سمایا ہوا

مجھے خود اپنی خبر آسماں سے آتی ہے

کسی دکان سے ملتی نہیں ہے گرمیٔ شوق

یہ آنچ وہ ہے جو سوز نہاں سے آتی ہے

کھلا نہیں ہے وہ مجھ پر کسی بھی پہلو سے

نہیں کی گونج ابھی اس کی ہاں سے آتی ہے

عجیب شے ہے نشاط یقیں کی دولت بھی

کسی وجود کے وہم و گماں سے آتی ہے

پرندے شام ڈھلے راہ میں نہیں رکتے

کوئی نوید انہیں آشیاں سے آتی ہے

مٹھاس گھولتا ہے کون میرے لہجے میں

مرے سخن میں حلاوت کہاں سے آتی ہے

گریز بھی کہیں اظہار آرزو ہی نہ ہو

کشش یہ کیسی بدن کی کماں سے آتی ہے

کسی حجاب کی بندش کو مانتی ہی نہیں

جو موج روح کی جوئے رواں سے آتی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے

اس شوخ کو الفت سے خبردار نہ کر دے

گر یہ ہی فراوانیاں ہیں درد و الم کی

یہ عشق کہیں جینے سے بیزار نہ کر دے

ہے ان کو شفا پرسش در پردہ سے منظور

ڈر ہے یہ مجھے اور بھی بیمار نہ کر دے

وہ پوچھتے ہیں ہے تجھے کیا مجھ سے محبت

میرا دل ناداں کہیں اقرار نہ کر دے

ارماںؔ کو ترا دیکھنا مڑ کر دم رخصت

خوابیدہ تمناؤں کو بیدار نہ کر دے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

محبت وہ مرض ہے جس کا چارہ ہو نہیں سکتا

جگر کا ہو کہ دل کا زخم اچھا ہو نہیں سکتا

وہ نالہ کوئی نالہ ہے جو کم ہو موج طوفاں سے

وہ آنسو کوئی آنسو ہے جو دریا ہو نہیں سکتا

تماشا ہے کہ ہم اس کو مسیحا دم سمجھتے ہیں

ہمارے درد کا جس سے مداوا ہو نہیں سکتا

مجھے فریاد پر مائل نہ کر اے جوش ناکامی

زمانے بھر میں دل کا راز رسوا ہو نہیں سکتا

عجب کیا ہے جو خاموشی ہی شرح آرزو کر دے

مرے لب سے تو اظہار تمنا ہو نہیں سکتا

مبارک ہو تجھی کو یہ خیالستان اے واعظ

تری دنیا میں رندوں کا گزارہ ہو نہیں سکتا

تماشا ہو گیا ہے تیرے جلووں کا تماشائی

کوئی اس شان سے محو تماشا ہو نہیں سکتا

بدل سکتے ہو تم بگڑی ہوئی قسمت زمانے کی

تمہاری اک نگاہ ناز سے کیا ہو نہیں سکتا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جس غم سے دل کو راحت ہو اس غم کا مداوا کیا معنی

جب فطرت طوفانی ٹھہری ساحل کی تمنا کیا معنی

عشرت میں رنج کی آمیزش راحت میں الم کی آلائش

جب دنیا ایسی دنیا ہے پھر دنیا دنیا کیا معنی

خود شیخ و برہمن مجرم ہیں اک کام سے دونوں پی نہ سکے

ساقی کی بخل پسندی پر ساقی کا شکوا کیا معنی

جلووں کا تو یہ دستور نہیں پردوں سے کبھی باہر آئیں

اے دیدۂ بے توفیق ترا یہ ذوق تماشا کیا معنی

اخلاص و وفا کے سجدوں کی جس در پر داد نہیں ملتی

اے غیرت دل اے عزم خودی اس در پر سجدہ کیا معنی

اے صاحب نقد و نظر مانا انساں کا نظام نہیں اچھا

اس کی اصلاح کے پردے میں اللہ سے جھگڑا کیا معنی

ہر لحظہ فزوں ہو جوش عمل یہ فرض ہے فرض کی راہ پہ چل

تدبیر کا یہ رونا کیسا تقدیر کا شکوا کیا معنی

میخانے میں تو اے واعظ اب تلقین کے کچھ اسلوب بدل

اللہ کا بندہ بننے کو جنت کا سہارا کیا معنی

اظہار وفا لازم ہی سہی اے عرشؔ مگر فریادیں کیوں

وہ بات جو سب پر ظاہر ہے اس بات کا چرچا کیا معنی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اگر تقدیر تیری باعث آزار ہو جائے

تجھے لازم ہے اس سے بر سر پیکار ہو جائے

مری کشتی ہے میں ہوں اور گرداب محبت ہے

جو تو ہو نا خدا میرا تو بیڑا پار ہو جائے

کمال ضبط غم سے یہ گوارا ہی نہیں مجھ کو

کہ حرف آرزو شرمندۂ اظہار ہو جائے

تیرے خواب گراں پر اے دل ناداں تعجب ہے

کہ تو سوتا رہے سارا جہاں بے دار ہو جائے

انہیں کیوں کوستا ہے جو تجھے کہتے ہیں کم ہمت

برا کیا ہے حقیقت کا اگر اظہار ہو جائے

تمہیں اے عرش کیوں ہے تیر غم سے اتنی بے زاری

یہی بہتر ہے یہ ناوک جگر کے پار ہو جائے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ان سے اظہار شکایات کروں یا نہ کروں

لب پہ لرزاں سی ہے اک بات کروں یا نہ کروں

کھینچ لائے نہ کہیں پھر یہ محبت کی کشش

جرأت‌ ترک ملاقات کروں یا نہ کروں

میری خاموشیٔ پیہم کا انہیں شکوہ ہے

ذکر بے دردیٔ حالات کروں یا نہ کروں

ہے غم حال میں انسان پریشاں خاطر

فکر فردا کی کوئی بات کروں یا نہ کروں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یہ دیکھیں راز دل اب کون کرتا ہے عیاں پہلے

نظر کرتی ہے اظہار محبت یا زباں پہلے

اگر ہو دیکھنا مقصود بربادی کا نظارہ

جلا کر دیکھیے اک بار اپنا آشیاں پہلے

پہنچ کر منزل ہستی پہ یہ احساس ہوتا ہے

کہ گزرے ہیں یہاں سے اور بھی کچھ کارواں پہلے

کئی معصوم کلیاں جو ابھی کھلنے نہ پائی ہوں

مسل دیتے ہیں اپنے ہاتھ سے خود باغباں پہلے

ٹھہر اے گردش ایام ہم بھی ساتھ چلتے ہیں

اٹھا لینے دے فیض صحبت پیر مغاں پہلے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

شب خواب کے جزیروں میں ہنس کر گزر گئی

آنکھوں میں وقت صبح مگر دھول بھر گئی

پچھلی رتوں میں سارے شجر بارور تو تھے

اب کے ہر ایک شاخ مگر بے ثمر گئی

ہم بھی بڑھے تھے وادئ اظہار میں مگر

لہجے کے انتشار سے آواز مر گئی

تجھ پھول کے حصار میں اک لطف ہے عجب

چھو کر جسے ہوائے طرب معتبر گئی

دل میں عجب سا تیر ترازو ہے ان دنوں

ہاں اے نگاہ ناز بتا تو کدھر گئی

مقصد صلائے عام ہے پھر احتیاط کیوں

بے رنگ روزنوں سے جو خوشبو گزر گئی

اس کے دیار میں کئی مہتاب بھیج کر

وادئ دل میں اک اماوس ٹھہر گئی

اب کے قفس سے دور رہی موسمی ہوا

آزاد طائروں کے پروں کو کتر گئی

آندھی نے صرف مجھ کو مسخر نہیں کیا

اک دشت بے دلی بھی مرے نام کر گئی

پھر چار سو کثیف دھوئیں پھیلنے لگے

پھر شہر کی نگاہ تیرے قصر پر گئی

الفاظ کے طلسم سے عنبرؔ کو ہے شغف

اس کی حیات کیسے بھلا بے ہنر گئی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بہت بے زار ہوتی جا رہی ہوں

میں خود پر بار ہوتی جا رہی ہوں

تمہیں اقرار کے رستے پہ لا کر

میں خود انکار ہوتی جا رہی ہوں

کہیں میں ہوں سراپا رہ گزر اور

کہیں دیوار ہوتی جا رہی ہوں

بہت مدت سے اپنی کھوج میں تھی

سو اب اظہار ہوتی جا رہی ہوں

بھنور دل کی تہوں میں بن رہے ہیں

میں بے پتوار ہوتی جا رہی ہوں

تمہاری گفتگو کے درمیاں اب

یونہی تکرار ہوتی جا رہی ہوں

یہ کوئی خواب کروٹ لے رہا ہے

کہ میں بے دار ہوتی جا رہی ہوں

کسی لہجے کی نرمی کھل رہی ہے

بہت سرشار ہوتی جا رہی ہوں

مرا تیشہ زمیں میں گڑ گیا ہے

جنوں کی ہار ہوتی جا رہی ہوں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اس لئے زیر فلک بے سبب آزار ہے حسن

جائے تو جائے کہاں عشق کہ سرکار ہے حسن

بلبل سوختہ ساماں سے سنا ہے میں نے

عشق اک آتش بے شعلہ ہے گلزار ہے حسن

صاف آتا ہے نظر دیدۂ بینا کو یہی

عشق اقرار حقیقت ہے اور اظہار ہے حسن

جلوہ شمع سے پروانوں کو ہوش آتا ہے

عشق کردار سہی جوہر کردار ہے حسن

عشق بیچارہ ہی آگاہ نہیں ہے ورنہ

روز میثاق سے خود اس کا طلب گار ہے حسن

صورت دائرۂ کون و مکاں ہے اس سے

عشق نقطہ ہے اور اس نقطہ کی پرکار ہے حسن

چولی دامن کا ازل سے ہے امیںؔ ساتھ ان کا

حسن کا عشق ہے اور عشق کا معیار ہے حسن

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تیرگی ہی تیرگی ہے بام و در میں کون ہے

کچھ دکھائی دے تو بتلائیں نظر میں کون ہے

کیوں جلاتا ہے مجھے وہ آتش احساس سے

میں کہاں ہوں یہ مرے دیوار و در میں کون ہے

ذات کے پردے سے باہر آ کے بھی تنہا رہوں

میں اگر ہوں اجنبی تو میرے گھر میں کون ہے

چاک کیوں ہوتے ہیں پیراہن گلوں کے کچھ کہو

جھک کے لہراتا ہوا شاخ ثمر میں کون ہے

جیسے کوئی پا گیا ہو اپنی منزل کا سراغ

دھوپ میں بیٹھا ہوا راہ سفر میں کون ہے

کانپتا جا دیکھ کر اظہار کی تجسیم کو

سوچتا جا آرزوئے شیشہ گر میں کون ہے

بس ذرا بپھری ہوئی موجوں کی خو مائل رہی

اہل ساحل جانتے تو تھے بھنور میں کون ہے

شور کرتا پھر رہا ہوں خشک پتوں کی طرح

کوئی تو پوچھے کہ شہر بے خبر میں کون ہے

میں تو دیوانہ ہوں اک سنگ ملامت ہی سہی

لیکن اتنا سوچ لو شیشے کے گھر میں کون ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اظہار حقیقت کی جسارت نہیں ہوتی

باغی ہوں مگر اس سے بغاوت نہیں ہوتی

اک مرحلہ ایسا بھی تو آتا ہے جنوں میں

خلوت میں بھی جب لذت خلوت نہیں ہوتی

ہم معبد عرفاں کے پجاری ہیں ازل سے

ہم سے شب دیجور کی بیعت نہیں ہوتی

کچھ بھی اسے کہہ لیجئے انسان نہ کہئے

وہ جس کو خطاؤں پہ ندامت نہیں ہوتی

یہ کام مرے بس میں نہیں مصلحتاً بھی

مجھ سے کبھی باطل کی وکالت نہیں ہوتی

یوں قہر خداوند سے ڈرتا تو بہت ہوں

لیکن کبھی توفیق عبادت نہیں ہوتی

آنکھوں سے مرے نیند اچک لے گیا کوئی

خوابوں میں بھی اب اس کی زیارت نہیں ہوتی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے

زمیں رہے نہ رہے آسماں رہے نہ رہے

رہے وہ جان جہاں یہ جہاں رہے نہ رہے

مکیں کی خیر ہو یا رب مکاں رہے نہ رہے

ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں

پھر اس قدر بھی ہمارا نشاں رہے نہ رہے

خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد

پھر اختیار میں غافل زباں رہے نہ رہے

خزاں تو خیر سے گزری چمن میں بلبل کی

بہار آئی ہے اب آشیاں رہے نہ رہے

چلا تو ہوں پئے اظہار درد دل دیکھوں

حضور یار مجال بیاں رہے نہ رہے

امیرؔ جمع ہیں احباب درد دل کہہ لے

پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے

ہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہے

خلق ناحق درپئے اثبات ہے

ہے دہن اس کا کہاں اک بات ہے

بوسۂ چاہ زنخداں غیر لیں

ڈوب مرنے کی یہ اے دل بات ہے

گھر سے نکلے ہو نہتے وقت قتل

یہ بھی بہر قتل عاشق گھات ہے

میں نے اتنا ہی کہا بنواؤ خط

یہ بگڑنے کی بھلا کیا بات ہے

بعد مدت بخت جاگے ہیں مرے

بیٹھے ہیں سونے کو ساری رات ہے

کیا کروں وصف بتان خودپسند

ان سے بڑھ کر بس خدا کی ذات ہے

باتوں باتوں میں جو میں کچھ کہہ گیا

ہنس کے فرمانے لگے کیا بات ہے

حرف مطلب صاف کہہ سکتا نہیں

ہے ادب مانع کہ پہلی رات ہے

مجھ سے ہو اظہار الفت واہ وا

آپ کے فرمانے کی یہ بات ہے

رو رہے ہیں ہم ملا دے لب سے لب

مے کشی ہو ساقیا برسات ہے

زچ ہے تیری چال سے رفتار چرخ

مہر رخ سے بازیٔ مہ مات ہے

کیسی کٹتی ہے سیہ بختی میں عمر

رات سے دن دن سے بد تر رات ہے

چھیڑتا ہے دل کو کیا اے درد ہجر

خود گرفتار ہزار آفات ہے

اے غنی دے سیم و زر وقت بلا

مال دنیا جان کی خیرات ہے

گر جگہ دل میں نہیں پھر اس سے کیا

یہ دوشنبے کی یہ بدھ کی رات ہے

صاف کہہ دے تو یہاں آیا نہ کر

یار یہ سو بات کی اک بات ہے

لخت دل ہیں میرے کھانے کو امیرؔ

بس انہیں ٹکڑوں پہ اب اوقات ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پھر حسیں وادیٔ گلشن میں سجا لی آنکھیں

جب سے اس شوخ کی دیکھی ہیں غزالی آنکھیں

تو نے اے دوست یہ کیوں مجھ سے چرا لی آنکھیں

اب لئے پھرتا ہوں در در پہ سوالی آنکھیں

دل میں اٹھنے لگے طوفان و حوادث پیہم

ان کی آنکھوں سے یہ کیوں میں نے ملا لی آنکھیں

مضطرب ہو گیا دل اپنا نظاروں کے لئے

دیکھ کر مجھ کو کسی نے جو چھپا لی آنکھیں

میری آنکھوں کو میسر تھا سکوں جن کے سبب

چھپ گئیں جانے کہاں اب وہ مثالی آنکھیں

کیسے ہم کرتے تمناؤں کا اظہار امیرؔ

لب ادھر کھولے ادھر اس نے نکالی آنکھیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بانہوں کے کسی ہار کی محتاج نہیں ہے

چاہت ہے یہ اقرار کی محتاج نہیں ہے

دیوار اٹھاتے ہوئے یہ سوچ تو لیتے

خوشبو کسی دیوار کی محتاج نہیں ہے

اک روز میں آئی تھی اسی آنکھ کی زد میں

وہ آنکھ جو تلوار کی محتاج نہیں ہے

تم میری محبت کو پڑھو آنکھ میں میری

یہ پیار کے اظہار کی محتاج نہیں ہے

خالص ہو تو ہو جائے کسی سے یہ محبت

اس عہد کے معیار کی محتاج نہیں ہے

محبوب کی صورت کا اگر نقش ہو دل پر

پھر آنکھ تو دیدار کی محتاج نہیں ہے

احسان نہیں چاہیے یہ سن لو رشاؔ بھی

مانگے ہوئے اس پیار کی محتاج نہیں ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

لرز اٹھا تھا ہونٹوں پر کوئی اقرار تقریباً

نگاہیں کر چکی تھیں عشق کا اظہار تقریباً

اسے ذہنی تلاطم سے گزر کر دل تک آنا تھا

اور اس نے کر لیا تھا آدھا دریا پار تقریباً

ہمارے درمیاں پھر آ گئے بھولے ہوئے ماضی

وگرنہ گر چکی تھی بیچ کی دیوار تقریباً

کبھی ہفتوں مہینوں میں ذرا کچھ بات ہو تو ہو

وگرنہ کھو چکی ہے لذت گفتار تقریباً

ابھی پچھلے دنوں تک مطمئن تھا دل کہ تم تو ہو

مگر اب ختم ہیں تسکین کے آثار تقریباً

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دام خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

لفظ اظہار کی الجھن میں پڑا ہے کب سے

اے کڑی چپ کے در و بام سجانے والے

منتظر کوئی سر کوہ ندا ہے کب سے

چاند بھی میری طرح حسن شناسا نکلا

اس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے

بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے

کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے

شعبدہ بازی آئینۂ احساس نہ پوچھ

حیرت چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے

دیکھیے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے

شہر پر چھائی ہوئی سرخ گھٹا ہے کب سے

کور چشموں کے لیے آئینہ خانہ معلوم

ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے

کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجدؔ

ڈھونڈتی کس کو سر دشت ہوا ہے کب سے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے

ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے

خالی ہے مرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارا کون کرے

خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے

جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارا کون کرے

کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون کرے

آداب محبت میں بھی عجب دو دل ملنے کو راضی ہیں

لیکن یہ تکلف حائل ہے پہلا وہ اشارا کون کرے

دل تیری جفا سے ٹوٹ چکا اب چشم کرم آئی بھی تو کیا

پھر لے کے اسی ٹوٹے دل کو امید دوبارا کون کرے

جب دل تھا شگفتہ گل کی طرح ٹہنی کانٹا سی چبھتی تھی

اب ایک فسردہ دل لے کر گلشن کی تمنا کون کرے

بسنے دو نشیمن کو اپنے پھر ہم بھی کریں گے سیر چمن

جب تک کہ نشیمن اجڑا ہے پھولوں کا نظارا کون کرے

اک درد ہے اپنے دل میں بھی ہم چپ ہیں دنیا ناواقف

اوروں کی طرح دہرا دہرا کر اس کو فسانا کون کرے

کشتی موجوں میں ڈالی ہے مرنا ہے یہیں جینا ہے یہیں

اب طوفانوں سے گھبرا کر ساحل کا ارادہ کون کرے

ملاؔ کا گلا تک بیٹھ گیا بہری دنیا نے کچھ نہ سنا

جب سننے والا ہو ایسا رہ رہ کے پکارا کون کرے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کام عشق بے سوال آ ہی گیا

خودبخود اس کو خیال آ ہی گیا

تو نے پھیری لاکھ نرمی سے نظر

دل کے آئینے میں بال آ ہی گیا

دو مری گستاخ نظروں کو سزا

پھر وہ نا گفتہ سوال آ ہی گیا

زندگی سے لڑ نہ پایا جوش دل

رفتہ رفتہ اعتدال آ ہی گیا

حسن کی خلوت میں دراتا ہوا

عشق کی دیکھو مجال آ ہی گیا

غم بھی ہے اک پردۂ اظہار شوق

چھپ کے آنسو میں سوال آ ہی گیا

وہ افق پر آ گیا مہر شباب

زندگی کا ماہ و سال آ ہی گیا

بے خودی میں کہہ چلا تھا راز دل

وہ تو کہئے کچھ خیال آ ہی گیا

ہم نہ کر پائے خطا بزدل ضمیر

لے کے تصویر مآل آ ہی گیا

ابتدائے عشق کو سمجھے تھے کھیل

مرنے جینے کا سوال آ ہی گیا

لاکھ چاہا ہم نہ لیں غم کا اثر

رخ پہ اک رنگ ملال آ ہی گیا

بچ کے جاؤ گے کہاں ملاؔ کوئی

ہاتھ میں لے کر گلال آ ہی گیا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جھجک اظہار ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی

خود اپنے شوق کی دل سے پشیمانی نہیں جاتی

تڑپ شیشے کے ٹکڑے بھی اڑا لیتے ہیں ہیرے کی

محبت کی نظر جلدی سے پہچانی نہیں جاتی

افق پر نور رہ جاتا ہے سورج ڈوبنے پر بھی

کہ دل بجھ کر بھی نظروں کی درخشانی نہیں جاتی

سوئے دل آ کے اب چشم کرم بھی کیا بنا لے گی

شعاع مہر سے صحرا کی ویرانی نہیں جاتی

یہ بزم دیر و کعبہ ہے نہیں کچھ صحن مے خانہ

ذرا آواز گونجی اور پہچانی نہیں جاتی

کسی کے لطف بے پایاں نے کچھ یوں سوئے دل دیکھا

کہ اب ناکردہ جرموں کی پشیمانی نہیں جاتی

تغافل پر نہ جا اس کے تغافل ایک دھوکا ہے

نگاہ دوست کی تحریک پنہانی نہیں جاتی

نظر جھوٹی شباب اندھا وہ حسن اک نقش فانی ہے

حقیقت ہے تو ہو لیکن ابھی مانی نہیں جاتی

میسر ہے ہر اک ایماں میں مجھ کو ذوق کا سجدہ

کوئی مذہب بھی ہو بنیاد انسانی نہیں جاتی

نظر جس کی طرف کر کے نگاہیں پھیر لیتے ہو

قیامت تک پھر اس دل کی پریشانی نہیں جاتی

نہ سمجھو ضبط گریہ سے خطا پر میں نہیں نادم

کہ آنسو پونچھ لینے سے پشیمانی نہیں جاتی

نہ پونچھو تجربات زندگانی چوٹ لگتی ہے

نظر اب دوست اور دشمن کی پہچانی نہیں جاتی

زمانہ کروٹوں پر کروٹیں لیتا ہے اور ملاؔ

تری اب تک وہ خواب آور غزل خوانی نہیں جاتی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

پتا مجھ کو ہے پہلے سے اسے انکار کرنا ہے

تسلی کے لیے مجھ کو مگر اظہار کرنا ہے

کوئی تعویذ مل جائے کہ یہ اچھا کرے پوری

بہت وہ دور ہے لیکن مجھے دیدار کرنا ہے

ارادہ کیا ہے میری جاں بہت نزدیک بیٹھی ہو

قتل کرنا ہے یا ہم دو کو دو سے چار کرنا ہے

نظر ان سے یہ سنڈے کو باغیچے میں ملی ایسی

کہ اب ہفتے کے ہر دن کو مجھے اتوار کرنا ہے

ستم کرنے کو بیٹھی ہے مگر کوئی اسے کہہ دو

ابھی کچا ہے دل اس کو ذرا تیار کرنا ہے

مری کشتی کو لہریں توڑ بیٹھی ہیں تو اب مجھ کو

کنارے پر کھڑے ہو کر سمندر پار کرنا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جو ذوق نظر ہو تو ترکی میں آ کر

حیات عظیمہ کے آثار دیکھو

لگا کر نئی چشمک زنی ہم سروں سے

لقب جس کا تھا مرد بیمار دیکھو

مٹانے پہ جس کے تلا تھا زمانہ

ابھرتا ہے وہ ترک تاتار دیکھو

بہ اظہار جرأت یہ زور صداقت

ہوئے کس طرح زیر اغیار دیکھو

بہ صد شان جاتا ہے انطاکیہ کو

اتاترک کا خال جرار دیکھو

جو سوئے ہوئے تھے جو کھوئے ہوئے تھے

کیا ان کو یک لخت بیدار دیکھو

سنبھلتی ہیں گر کر چمکتی ہیں مٹ کر

یہ ہیں زندہ قوموں کے اطوار دیکھو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

حور و غلماں کے طلب گار سے واقف میں ہوں

صاحب جبہ و دستار سے واقف میں ہوں

شہر میں آپ فرشتوں سے بھی بڑھ کر ٹھہرے

ہاں مگر آپ کے کردار سے واقف میں ہوں

حق نوائی کا سمجھتا ہوں اسے میں انعام

قید و زنداں رسن و دار سے واقف میں ہوں

وہ ہے مجبور طلب سے بھی سوا دینے پر

خوبیٔ جرأت اظہار سے واقف میں ہوں

منصفی چومتی رہتی ہے در اہل دل

اے عدالت ترے کردار سے واقف میں ہوں

سر سلامت ہے تو روزن بھی بنا لوں گا میں

حبس تیرے در و دیوار سے واقف میں ہوں

کبر و نخوت کا ہے الزام عبث انجمؔ پر

اس کے اخلاص سے افکار سے واقف میں ہوں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو

آدمی بھی وہ نہیں ہے تو خدا کیسے ہو

عشق کو حوصلۂ ترک وفا کیسے ہو

لفظ معنی کی صداقت سے جدا کیسے ہو

میں تو پوچھوں گا کہ تم سب کے خدا کیسے ہو

میری آواز فرشتوں کی صدا کیسے ہو

ایک غم ہو تو بکھر جائے مرے چہرے پر

غیر محدود مصائب ہیں ضیا کیسے ہو

سوچنے والوں کی نیت کو خدا ہی جانے

بات والوں کو نہیں فکر وفا کیسے ہو

اس نے مجبور وفا جان کے منہ پھیر لیا

مجھ سے یہ بھول ہوئی پوچھ لیا کیسے ہو

اک سلگتا ہوا دل تم سے جلایا نہ گیا

جانے تم مخلص ارباب وفا کیسے ہو

کس کی صورت میں نہیں جلوۂ خون مزدور

خون مزدور کی قیمت بھی ادا کیسے ہو

عشق ناواقف آداب طلب ہے انجمؔ

حسن آمادۂ اظہار وفا کیسے ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ہر شخص وفا سے ہٹ چکا ہے

شیشوں پہ غبار اٹ چکا ہے

دل تا بہ دماغ پھٹ چکا ہے

یہ شہر کا شہر الٹ چکا ہے

چہروں پہ دمک کہاں سے آئے

سورج کا وقار گھٹ چکا ہے

رشتوں میں خلوص ہی کہاں تھا

پہلے بھی یہ دودھ پھٹ چکا ہے

اظہار خلوص کرنے والا

اندر سے بہت پلٹ چکا ہے

اتنے بھی اداس کب تھے ہم لوگ

ظاہر ہے کہ دل سمٹ چکا ہے

تاریخ وفا میں کیا ملے گا

آنکھوں میں جو وقت کٹ چکا ہے

اب سامنے بھی وہ آئیں تو کیا

دل اپنی طرف پلٹ چکا ہے

دل ہے کہ اسی کی نذر انجمؔ

جس درد کا بھاؤ گھٹ چکا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کتنا ڈھونڈا اسے جب ایک غزل اور کہی

جب ملا ہی نہیں تب ایک غزل اور کہی

ایک امید ملاقات میں لکھی سر شام

اور پھر آخر شب ایک غزل اور کہی

اک غزل لکھی تو غم کوئی پرانا جاگا

پھر اسی غم کے سبب ایک غزل اور کہی

اس غزل میں کسی بے درد کا نام آتا تھا

سو پئے بزم طرب ایک غزل اور کہی

جانتے بوجھتے اک مصرعۂ تر کی قیمت

دل بیداد طلب ایک غزل اور کہی

دل کی دھڑکن کو ہی پیرایۂ اظہار کیا

سل چکے جب مرے لب ایک غزل اور کہی

دفعتاً خود سے ملاقات کا احساس ہوا

مدتوں بعد جو اب ایک غزل اور کہی

وحشت ہجر بھی تنہائی بھی میں بھی انجمؔ

جب اکٹھے ہوئے سب ایک غزل اور کہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے

آؤ چل نکلیں کہیں قید زماں سے آگے

اس خرابے میں عبث ہیں غم و شادی دونوں

میری تسکین کا مسکن ہے مکاں سے آگے

آہ و نالہ ہی سہی اہل وفا کا مسلک

اک مقام اور بھی آتا ہے فغاں سے آگے

دار تک صاف نظر آتا ہے رشتہ دیکھیں

پھر کدھر جاتے ہیں عشاق وہاں سے آگے

خون آلودہ کفن شارح صد دفتر دل

طرز اظہار ہے اک اور زباں سے آگے

فکر مفلوج جو زندانئ افلاک رہے

تیر بیکار جو نکلے نہ کماں سے آگے

تھی بہت خانہ خرابی کو ہماری یہ عمر

اک جہاں اور بھی سنتے ہیں یہاں سے آگے

میں کہ ہوں حاضر و موجود کے وسواس میں قید

تو کہ ہے پردہ نشیں وہم و گماں سے آگے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر

اس قدر اظہار کی بے معنویت سے نہ ڈر

دیکھ! گلشن میں ابھی شاخ تحیر بانجھ ہے

پھول ہونا ہے تو کھلنے کی اذیت سے نہ ڈر

ہم رہ موسم سفر کی بستیوں کے درمیاں

نقش بر دیوار بارش کی وصیت سے نہ ڈر

ایک ہلکی سی صدا تو بن زباں رکھتا ہے تو

چار جانب خامشی کی اکثریت سے نہ ڈر

آسماں اک دن پتنگا ہو سر شمع زمیں

موم کر اپنے لہو کو جل اذیت سے نہ ڈر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے

چمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتے

جناب شیخ پہنچ جاتے حوض کوثر تک

اگر شراب سے مے خانے میں وضو کرتے

مسرت آہ تو بستی ہے کن ستاروں میں

زمیں پہ عمر ہوئی تیری جستجو کرتے

ایاغ بادہ میں آ کر وہ خود چھلک پڑتا

گر اس کے مست ذرا اور ہاؤ ہو کرتے

انہیں مفر نہ تھا اقرار عشق سے لیکن

حیا کو ضد تھی کہ وہ پاس آبرو کرتے

پکار اٹھتا وہ آ کر دلوں کی دھڑکن میں

ہم اپنے سینے میں گر اس کی جستجو کرتے

غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ

یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے

گراں تھا ساقی دوراں پہ ایک ساغر بھی

تو کس امید پہ ہم خواہش سبو کرتے

جنون عشق کی تاثیر تو یہ تھی اخترؔ

کہ ہم نہیں وہ خود اظہار آرزو کرتے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

عرفان و آگہی کے سزا وار ہم ہوئے

سویا پڑا تھا شہر کہ بیدار ہم ہوئے

تا عمر انتظار سہی پر بروز حشر

اچھا ہوا کہ تیرے طلب گار ہم ہوئے

ہم پر وفائے عہد انا الحق بھی فرض تھا

اس واسطے کہ محرم اسرار ہم ہوئے

ٹھہرے گی ایک دن وہی معراج بندگی

جو بات کہہ کے آج گنہ گار ہم ہوئے

ہوتے گئے وہ خلق فریبی میں ہوشیار

جتنا کہ تجربے سے سمجھ دار ہم ہوئے

نادان تھے کہ مسند ارشاد چھوڑ کر

حلقہ بگوش سیرت و کردار ہم ہوئے

اس دور خود فروش میں اخترؔ بصد خلوص

خمیازہ سنج جرأت اظہار ہم ہوئے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

برش تیغ بھی ہے پھول کی مہکار بھی ہے

وہ خموشی کہ جو صد موجب اظہار بھی ہے

چھوڑیئے ان کے شب و روز کی روداد زبوں

آپ کو خاک نشینوں سے سروکار بھی ہے

مصلحت مجھ کو بھی ملحوظ ہے اے ہم سخنو

پر مرے پیش نظر وقت کی رفتار بھی ہے

موت کے خوف سے ہر سانس رکی جاتی ہے

زندگی آج کوئی تیرا خریدار بھی ہے

تلخیٔ حال کو ہے عشرت فردا کا فریب

دل جنوں کوش ہے اور عقل طرحدار بھی ہے

میرے محبوب مجھے وقف تغافل نہ سمجھ

زیست کے لاکھ تقاضے ہیں تیرا پیار بھی ہے

اہل گفتار کی تو بھیڑ لگی ہے اخترؔ

دیکھنا ان میں کوئی صاحب کردار بھی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ایک نئی زیست لئے آج اجل آئی ہے

قید سے ہم نے رہائی ہی کہاں پائی ہے

اس سے ملنے کے لئے اس قدر اے دل نہ تڑپ

میرا اظہار محبت مری رسوائی ہے

انقلابات زمانہ کو زمانہ سمجھے

ہم تو کہتے ہیں کہ وہ بھی تری انگڑائی ہے

جس کے شعلوں سے ہوئی حسن کی رنگت روشن

آگ ایسی مرے جذبات نے سلگائی ہے

ہم نے ارمانوں کی میت کو دیا ہے کاندھا

اے غم دل یہ تری حوصلہ افزائی ہے

ہے یہ ڈر نوح کا طوفاں نہ سمجھ لے دنیا

چادر اشک وفا ہم نے جو پھیلائی ہے

آئنہ خانۂ دل میں وہ ضرور آئیں گے

ان کے دل میں بھی تمنائے خود آرائی ہے

ہاتھ سے ساقی کے پینا ہی پڑے گا مجھے اب

میری توبہ شکنی بن کے گھٹا چھائی ہے

اکملؔ انسان وہ اکمل ہے بہ فیض فطرت

درد انساں سے جس انساں کی شناسائی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بے طلب زیست اگرچہ کوئی دشوار نہیں

کون ایسا ہے جو دنیا کا طلب گار نہیں

محفل غیر میں کر حال دل ان سے نہ بیاں

موقع ضبط ہے یہ موقع اظہار نہیں

دوست احباب کا کیا ذکر برے وقتوں میں

موت بھی تو کسی بے کس کی طرف دار نہیں

وقت کے ساتھ بدلتا ہے عزائم اپنے

یعنی انسان خود اپنا ہی وفادار نہیں

حد سے زائد کبھی بڑھتا ہے کبھی ہوتا ہے کم

دل ہے خوددار مگر درد ہی خوددار نہیں

کل تو ٹوٹے ہوئے دل بیچ لئے یاروں نے

آج کا وقت تو یوسف کا خریدار نہیں

خار و گل حسب ضرورت ہیں چمن میں اکملؔ

فطرتوں سے مجھے کچھ ان کی سروکار نہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تہہ بہ تہہ ہے راز کوئی آب کی تحویل میں

خامشی یوں ہی نہیں رہتی ہے گہری جھیل میں

میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی

آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں

ہر گھڑی احکام جاری کرتا رہتا ہے یہ دل

ہاتھ باندھے میں کھڑا ہوں حکم کی تعمیل میں

کب مری مرضی سے کوئی کام ہوتا ہے تمام

ہر گھڑی رہتا ہوں میں کیوں بے سبب تعجیل میں

مانگتی ہے اب محبت اپنے ہونے کا ثبوت

اور میں جاتا نہیں اظہار کی تفصیل میں

مدعا تیرا سمجھ لیتا ہوں تیری چال سے

تو پریشاں ہے عبث الفاظ کی تاویل میں

اپنی خاطر بھی تو عالمؔ چیز رکھنی تھی کوئی

اب کہاں کچھ بھی بچا ہے تیری اس زنبیل میں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

میرے دل کی گہرائیوں میں اتر

جگر سوز تنہائیوں میں اتر

تو اپنے بیاں کو معلق نہ چھوڑ

فلک دار سچائیوں میں اتر

مری نبض اظہار پر رکھ کے ہاتھ

تو احساس کی گھاٹیوں میں اتر

سیہ نیتوں کا افق چھوڑ کر

مہک دار اچھائیوں میں اتر

کوئی رخ تو دھارے گا دولہن کا روپ

ہر اک رخ کی انگڑائیوں میں اتر

صباؔ تو لئے حوصلوں کی برات

تجسس کی شہنائیوں میں اتر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ظلمت کدوں میں کل جو شعاع سحر گئی

تاریکی حیات یکایک ابھر گئی

نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی

پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

اظہار التفات کے بعد ان کی بے رخی

اک رنگ اور نقش تمنا میں بھر گئی

ذوق جنوں و جذبۂ بیباک کیا ملے

ویران ہو کے بھی مری دنیا سنور گئی

اب دور کارسازی وحشت نہیں رہا

اب آرزوئے لذت رقص شرر گئی

اک داغ بھی جبیں پہ میری آ گیا تو کیا

شوخی تو ان کے نقش قدم کی ابھر گئی

تارے سے جھلملاتے ہیں مژگان یار پر

شاید نگاہ یاس بھی کچھ کام کر گئی

تم نے تو اک کرم ہی کیا حال پوچھ کر

اب جو گزر گئی مرے دل پر گزر گئی

جلوے ہوئے جو عام تو تاب نظر نہ تھی

پردے پڑے ہوئے تھے جہاں تک نظر گئی

سارا قصور اس نگہ فتنہ جو کا تھا

لیکن بلا نگاہ تمنا کے سر گئی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

رقص کرتی ہے ترے نور میں ظلمت میری

ہوں جدا تجھ سے تو ہے وہم حقیقت میری

تیرے انداز ہیں سب ساز و صدا نکہت و رنگ

میرا احساس ہی گویا ہے عبادت میری

میرے اظہار کو دے لہجۂ گل کا اعجاز

حرف لاغر سے نہ سنبھلے گی حکایت میری

حسن نادیدہ کسی عکس میں ڈھلتا ہی نہیں

روز لاتی ہے نیا آئنہ حیرت میری

چھایا جاتا ہے غبار غم دوراں دل پر

کیا نہیں اب غم جاناں کو ضرورت میری

دل ہے آئینۂ اجزائے پریشان وجود

یعنی اک صورت ادراک ہے وحشت میری

بے دلی پر تو یہ عالم ہے کہ دل رقص میں ہے

ہو غضب رنگ پہ آئے جو طبیعت میری

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

نقش بر آب تھی جو دام و درم نے بخشی

زیست کو دولت نایاب تو غم نے بخشی

اہل دستار نہ ارباب کرم نے بخشی

عزت نفس مجھے لوح و قلم نے بخشی

آبیاری نہ ہوئی آب گہر سے اس کی

نخل عرفاں کو نمو دیدۂ نم نے بخشی

ورنہ کیا ان میں تھا اک جذبہ حیراں کے سوا

تیری آنکھوں کو یہ گویائی تو ہم نے بخشی

عمر بھر ہم کو میسر رہی بیتابیٔ دل

جو خدا نے نہیں بخشی وہ صنم نے بخشی

جس نے پامرد رکھا ہم کو ستم گر کے خلاف

وہ عزیمت ہمیں خود اس کے ستم نے بخشی

کتنی بے فیض وراثت ہے وہ تاریخ زیاں

جو ہمیں چپقلش دیر و حرم نے بخشی

حرف تازی سے بھی پایا ہے بہت فیض مگر

میرے اظہار کو لے ساز عجم نے بخشی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اپنی بے موسمی سی محبت کا اظہار کر کے مجھے ایسے مائل نہ کر

یار تو جانتا ہے میں پہلے ہی تنہا ہوں سو تو مجھے اور تنہا نہ کر

دیکھ میں جانتا ہوں ترے ہجر اور وصل کے بھید کو عشق کے وید کو

تو مجھے ہجر میں رکھ یا پھر وصل میں ہاں مگر ان کے مابین رسوا نہ کر

زندگی اور وقت اپنے اپنے تئیں کتنے بے رحم ہیں سب کو معلوم ہے

ان کے ہاتھوں لگے زخم بھرنے بھی دے وقت بے وقت اب ان کو چھیڑا نہ کر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

محبت کا تقاضہ کیوں کریں ہم

حقیقت کا تماشہ کیوں کریں ہم

محبت جب کہ یک طرفہ نہیں ہے

اکیلے ہی گزارہ کیوں کریں ہم

خلش دل کی بڑھاتی ہیں جو باتیں

انہی کا پھر اعادہ کیوں کریں ہم

ہو جب احساس کا اظہار لازم

پھر اس کو استعارہ کیوں کریں ہم

جو حال زار سے سب کچھ عیاں ہو

تو پھر کوئی اشارہ کیوں کریں ہم

محبت سے عبارت ہوں سبھی پل

کسی کا گوشوارہ کیوں کریں ہم

سبھی کچھ درمیاں جب مشترک ہے

تو میرا اور تمہارا کیوں کریں ہم

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

خود سے رہتا ہے اختلاف مجھے

میں بھی کرتا نہیں معاف مجھے

تم مرے سامنے نہیں آنا

کہہ دیا میں نے صاف صاف مجھے

یہ سراپا یہ خال و خد تیرے

کر رہے ہیں مرے خلاف مجھے

لمس بھی چاہتا ہوں حدت بھی

دیجئے جسم کا لحاف مجھے

تم فقط جسم ڈھانپ سکتے ہو

چاہئے روح کا غلاف مجھے

کیونکہ اظہار شوق کر بیٹھا

ڈس رہا ہے وہ اعتراف مجھے

ایک دنیا ہے ناف کے اوپر

ایک دنیا ہے زیر ناف مجھے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

اک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں

کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے

جب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں

چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ

غیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں

ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام

للہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں

مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیا

دل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں

اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتا

ورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں

بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔ

سخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اے دل خوش فہم اس آزار سے باہر نکل

ڈھل گئی شب اب خیال یار سے باہر نکل

عشق جس رفتار سے وارد ہوا دل میں مرے

اس سے کہہ دو اب اسی رفتار سے باہر نکل

اب ضرورت عزتوں پر حملہ زن ہونے کو ہے

زندگی چل خیمۂ خوددار سے باہر نکل

تیرگی نے شام سے پہلے ہی حملہ کر دیا

روشنی اب حلقۂ پندار سے باہر نکل

دل کبھی ایک اور ساعت کی طلب ظاہر کرے

حرف بے معنی لب اظہار سے باہر نکل

ہو نہیں سکتی چراغوں سے ہوا کی دوستی

فکر نو بزم لب و رخسار سے باہر نکل

تجھ سے آشفتہ مزاجوں کو نہ راس آئے گا یہ

التمشؔ اس شہر پر اسرار سے باہر نکل

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ابھر کے آیا تھا شب ہوتے ہی ہنر میرا

پھر انتظار ہی کرتی رہی سحر میرا

میں روز تپتے ہوئے دشت سے گزرتا ہوں

میں روز کہتا ہوں آئے گا ہم سفر میرا

زمیں پہ ہوتے ہوئے بھی میں آسمان پہ تھا

جب اس کی گود میں رکھا ہوا تھا سر میرا

کبھی زباں سے وہ اظہار تو نہ کر پایا

خیال دل میں بسا کر جئے مگر میرا

تمہارے بعد بھی توڑے بہت سے دل میں نے

تمہارے بعد بھی جاری رہا سفر میرا

بڑے سکون سے رہتی ہے مجھ میں خاموشی

بھلے ہی چیختا رہتا ہو سارا گھر میرا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

غزل گوئی کے فن کا یوں کبھی اظہار ہوتا ہے

محبت دل سے ہوتی ہے نظر سے پیار ہوتا ہے

تصادم دو نگاہوں کا بھی کیا کیا گل کھلاتا ہے

صمیم قلب سے پھر عشق کا اقرار ہوتا ہے

محبت کرنے والوں کا حسین انجام کیا جانو

شگفتہ پھول کھلتے ہیں گل گلزار ہوتا ہے

وہ جس سے پیار کرتا ہے اسی کی چاہ میں ہر دم

مریض عشق بن بن کر صدا بیمار ہوتا ہے

زمانے کی جفاؤں کا کوئی شکوہ نہیں ہرگز

وہ مقتل میں سجاتا ہے جو خود دل دار ہوتا ہے

دھڑکتے دل سے اک دوجے کی بانہوں میں سما جاتا

کہو اے شادؔ یہی انجام آخر ہوتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

محبت کا ان سے نہ اقرار کرنا

بس آنکھوں ہی آنکھوں میں اظہار کرنا

محبت اگر جرم ہے تو چلو پھر

وہ اک بار کرنا کہ سو بار کرنا

عجب نغمگی ہے سماعت سے دل تک

مخاطب مجھے پھر سے اک بار کرنا

تڑپتے تڑپتے قرار آ گیا ہے

تمنا نہ اب کوئی بیدار کرنا

نہ قربان ہو کر دکھائیں تو کہنا

نظر پیار کی ہم پہ سرکار کرنا

وفاؔ ہے یہ اعجاز تیری وفا کا

کسی بے وفا کو وفادار کرنا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں

ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے

شہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں

غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشی

عاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں

کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر

ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں

غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یار

سننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں

زندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میں

ان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں

صرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفا

کیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں

پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثر

کوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں

شیخ صاحب برہمن سے لاکھ برتیں دوستی

بے بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں

جس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیں

زندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہئے

کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

اہل ظاہر جس قدر چاہیں کریں بحث و جدال

میں یہ سمجھا ہوں خودی میں تو خدا ملتا نہیں

چل بسے وہ دن کہ یاروں سے بھری تھی انجمن

ہائے افسوس آج صورت آشنا ملتا نہیں

منزل عشق و توکل منزل اعزاز ہے

شاہ سب بستے ہیں یاں کوئی گدا ملتا نہیں

بار تکلیفوں کا مجھ پر بار احساں سے ہے سہل

شکر کی جا ہے اگر حاجت روا ملتا نہیں

چاندنی راتیں بہار اپنی دکھاتی ہیں تو کیا

بے ترے مجھ کو تو لطف اے مہ لقا ملتا نہیں

معنیٔ دل کا کرے اظہار اکبرؔ کس طرح

لفظ موزوں بہر کشف مدعا ملتا نہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو

جان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو

دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجود

کوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو

دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیے

کسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو

دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیں

باطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

گفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکن

کس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو

داستان غم دل کون کہے کون سنے

بزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو

وعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہت

وہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو

کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوا

مگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

گھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے

عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے

پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں

بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے

جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا

ہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے

دیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدم

خانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے

دل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوں

نیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے

دیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یاد

سیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے

میں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھ

دل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے

خاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سے

کیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے

یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیں

کل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے

بادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھے

ساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے

جس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیں

آج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے

اکبر الہ آبادی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

موت اس بیکس کی غایت ہی سہی

عمر بھر جس نے مصیبت ہی سہی

حسن کا انجام دیکھیں اہل حسن

عشق میرا بے حقیقت ہی سہی

زندگی ہے چشم عبرت میں ابھی

کچھ نہیں تو عیش و عشرت ہی سہی

دیکھ لیتا ہوں تبسم حسن کا

غم پرستی میری فطرت ہی سہی

پردہ دار سادگی ہے ہر ادا

یہ تصنع بے ضرورت ہی سہی

درپئے آزار ہے قسمت تو ہو

اب مجھے تم سے محبت ہی سہی

حور بے جا کی تلافی کچھ تو کر

خیر اظہار ندامت ہی سہی

اے اجل کچھ زندگی کا حق بھی ہے

زندگی تیری امانت ہی سہی

کیا کروں اکبرؔ دلی جذبات کو

اس تغزل میں قدامت ہی سہی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

گھٹن عذاب بدن کی نہ میری جان میں لا

بدل کے گھر مرا مجھ کو مرے مکان میں لا

مری اکائی کو اظہار کا وسیلہ دے

مری نظر کو مرے دل کو امتحان میں لا

سخی ہے وہ تو سخاوت کی لاج رکھ لے گا

سوال عرض طلب کا نہ درمیان میں لا

دل وجود کو جو چیر کر گزر جائے

اک ایسا تیر تو اپنی کڑی کمان میں لا

ہے وہ تو حد گرفت خیال سے بھی پرے

یہ سوچ کر ہی خیال اس کا اپنے دھیان میں لا

بدن تمام اسی کی صدا سے گونج اٹھے

تلاطم ایسا کوئی آج میری جان میں لا

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی

جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

بہ رنگ خواب سہی ساری کائنات اکبرؔ

وجود کل کو نہ اندیشۂ گمان میں لا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کل عالم وجود کہ اک دشت نور تھا

سارا حجاب تیرہ دلی کا قصور تھا

سمجھے تھے جہد عشق میں ہم سرخ رو ہوئے

دیکھا مگر تو شیشۂ دل چور چور تھا

پہنچے نہ یوں ہی منزل اظہار ذات تک

تحت شعور اک سفر لا شعور تھا

تھا جو قریب اس کو بصیرت نہ تھی نصیب

جو دیکھتا تھا مجھ کو بہت مجھ سے دور تھا

مبہم تھے سب نقوش نقابوں کی دھند میں

چہرہ اک اور بھی پس چہرہ ضرور تھا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

روشنی تیز ہوئی کوئی ستارا ٹوٹا

دھار میں اب کے ندی کا ہی کنارا ٹوٹا

تھرتھراتے ہوئے لب چپ تو لگا بیٹھے پر

چپ نے ہی جوڑا بھی اظہار ہمارا ٹوٹا

در بدر پھرتا کوئی خواب مرا آوارہ

رات آنکھوں میں چلا آیا تھا ہارا ٹوٹا

جانے کس موڑ پہ بچھڑی وہ صدا ماضی کی

ایک تنکے کا سہارا تھا سہارا ٹوٹا

دھوپ چڑھتے ہی پلاتا تھا جو صحرا پانی

دھوپ ڈھلتے ہی طلسمی وہ نظارا ٹوٹا

فکر و معانی کے چنے شعر اسی ملبے سے

ہم نے تنہائی کا دیکھا جو ادارہ ٹوٹا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بے وفا ہے وہ کبھی پیار نہیں کر سکتا

ہاں مگر پیار سے انکار نہیں کر سکتا

اپنی ہمت کو جو پتوار نہیں کر سکتا

وہ سمندر کو کبھی پار نہیں کر سکتا

جو کسی اور کے جلووں کا تمنائی ہو

وہ کبھی بھی ترا دیدار نہیں کر سکتا

ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب ہیں کب سے لیکن

اس کی عادت ہے وہ اظہار نہیں کر سکتا

اس کی چاہت پہ بھروسہ ہے مجھے میرے سوا

وہ کسی اور کو حق دار نہیں کر سکتا

اس کو معلوم ہے وہ خود بھی تو رسوا ہوگا

مجھ کو رسوا سر بازار نہیں کر سکتا

وقت پڑ جائے تو وہ جان بھی دے سکتا ہے

فن کا سودا کوئی انکار نہیں کر سکتا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

شوق اظہار ہے کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

اپنے وعدے سے مکرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

کوئی تو ہے مجھے جینے کی دعا دیتا ہے

ہم ترے عشق میں مرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے دل میں

ترے کوچے سے گزرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

دل یہ کہتا ہے سمٹ جائیں تری بانہوں میں

بوئے گل بن کے بکھرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

جھانکتے ہیں مری آنکھوں میں بچا کر نظریں

گو بظاہر وہ سنورنا بھی نہیں چاہتے ہیں

دے کے آواز کوئی روک رہا کب سے

اور ہم ہیں کہ ٹھہرنا بھی نہیں چاہتے ہیں

لوگ ساحل پہ کھڑے ڈھونڈھ رہے ہیں موتی

بہتے پانی میں اترنا بھی نہیں چاہتے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے

آئنہ بن کے ترے حسن کو دیکھا کرتے

اپنا سایہ بھی یہاں غیر نظر آتا ہے

اجنبی شہر میں ہم کس پہ بھروسہ کرتے

اس کی محفل میں تو اک بھیڑ تھی دیوانوں کی

پہلے دل اہل نظر اہل وفا کیا کرتے

عشق ہر حال میں پابند وفا ہوتا ہے

ہم تو بدنام تھے کیوں آپ کو رسوا کرتے

اتنی گزری ہے جہاں اور گزر جائے گی

زندگی کے لئے اتنا نہیں سوچا کرتے

جب تلک سانس چلے بس یوں ہی چلتے رہئے

چل کے دو چار قدم یوں نہیں ٹھہرا کرتے

اے خدا ہم تری وحدت پہ یقیں رکھتے ہیں

کیوں ترے در کے سوا ہم کہیں سجدہ کرتے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

چاہو تو مرا دکھ مرا آزار نہ سمجھو

لیکن مرے خوابوں کو گنہ گار نہ سمجھو

آساں نہیں انصاف کی زنجیر ہلانا

دنیا کو جہانگیر کا دربار نہ سمجھو

آنگن کے سکوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی

کہتے ہو جسے گھر اسے بازار نہ سمجھو

اجڑے ہوئے طاقوں پہ جمی گرد کی تہہ میں

روپوش ہیں کس قسم کے اسرار نہ سمجھو

احساس کے سو زخم بچا سکتے ہو اخترؔ

اظہار‌ مروت کو اگر پیار نہ سمجھو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ہم اس سے عشق کا اظہار کر کے دیکھتے ہیں

کیا ہے جرم تو اقرار کر کے دیکھتے ہیں

ہے عشق جنگ تو پھر جیت لیں چلو ہم لوگ

ہے دریا آگ کا تو پار کر کے دیکھتے ہیں

ہے کوہسار تو نہریں نکال دیں اس سے

ہے ریگزار تو گلزار کر کے دیکھتے ہیں

ہم اس کو دیکھنا چاہیں تو کس طرح دیکھیں

سو اس کی یاد کو کردار کر کے دیکھتے ہیں

وہ ہوش مند اگر ہے تو کر دیں دیوانہ

وہ بے خبر ہے تو ہشیار کر کے دیکھتے ہیں

ہمارے سر پہ تو آتی نہیں کوئی دستار

سو اپنے سر کو ہی دستار کر کے دیکھتے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ذوق نظر بڑھائیے گلزار دیکھ کر

الفت کا سودا کیجئے بازار دیکھ کر

میں نے جنون عشق سے دامن بچا لیا

ہر بوالہوس کو تیرا پرستار دیکھ کر

میرے ہی در پہ تھا کوئی سائل کے روپ میں

حیرت زدہ رہا مجھے نادار دیکھ کر

نغمہ سرا نہ ہو سکا گلشن میں عندلیب

طوفان و برق و باد کے آثار دیکھ کر

بیتاب دل کو اور ترستی نگاہ کو

بہلا سکا نہ میں گل و گلزار دیکھ کر

دل گفتگو کی سمت جھکا شعر بن گئے

اظہار غم کو روح کا غم خوار دیکھ کر

ہوش و ہوس کی جنگ میں حیرت زدہ رہا

جذبوں کا شور عقل کے افکار دیکھ کر

آنکھوں سے کائنات کے آنسو ٹپک پڑے

شافی کو اس جہان میں بیمار دیکھ کر

یاد آ گئیں خرد کو وہ جنت کی لغزشیں

دل کا جنون و شوق شرر بار دیکھ کر

ہاتھوں میں دل کے پرچم افکار دے دیا

انسانیت کو برسر پیکار دیکھ کر

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے

کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن کچھ ان سے خطابت کر نہ سکے

اے حسن ذرا دم بھر کے لئے کچھ شوخ تجھے بھی ہونا تھا

دو دل تھے فدا آپس میں مگر اظہار محبت کر نہ سکے

گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں اب شوق وفا سے کہتی ہیں

جو شے تھی قریب قلب و جگر اس شے سے رفاقت کر نہ سکے

ہر شوق بڑھا کر سپنے میں زحمت تو اٹھائی راہوں کی

پہنچے تو در کعبہ پہ مگر کعبے کی زیارت کر نہ سکے

سینے میں خلش ہے فرقت کی بیتاب تمنا ہے میری

جو ہم سے محبت کرتے تھے ہم ان پہ عنایت کر نہ سکے

چنچل بھی وہ تھے چالاک بھی تھے پر شرم و حیا بھی ایسی تھی

ہم من کے پرانے پاپی بھی کچھ ان سے شرارت کر نہ سکے

واعظ نے کہا تھا ضبط کرو جذبات محبت کو لیکن

ہم اس کی ہدایت پر چل کر اس دل کی حفاظت کر نہ سکے

دنیا کے غموں کا خوف نہیں بے باک مسافر کو شافیؔ

دم بھر کے لئے پلکوں کے تلے افسوس اقامت کر نہ سکے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا

سانحہ کیا یہ مقدر کا نرالا نہ ہوا

ہے فقط نام کو آزادئ اظہار خیال

ورنہ کب کس کے لبوں پر یہاں تالا نہ ہوا

ٹوٹتے شیشے کو دیکھا ہے زمانے بھر نے

دل کے ٹکڑوں کا کوئی دیکھنے والا نہ ہوا

جس نے پرکھا انہیں وہ تھی کوئی بے جان مشین

دل کے زخموں کا بشر دیکھنے والا نہ ہوا

کس قدر یاس زدہ ہے یہ حصار ظلمت

دل جلائے بھی تو ہر سمت اجالا نہ ہوا

دشت غربت کے سفر کی یہ اذیت ناکی

خشک تلووں کا ابھی ایک بھی چھالا نہ ہوا

ضبط کا حد سے گزر جانا یہی ہے اخترؔ

دل سلگتا ہے مگر ہونٹوں پہ نالہ نہ ہوا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا

مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا

اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت

جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا

پھر ڈوبنا یہ بات بہت سوچ لو پہلے

ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا

یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادۂ الفت

ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ملتا

کیوں لوگ بلائیں گے ہمیں بزم سخن میں

اپنا تو کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا

وہ شہر بھلا کیسے لگے اپنا جہاں پر

اک شخص بھی ڈھونڈے سے ہمارا نہیں ملتا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

تم کو دیکھا ہے ابھی تک یہ گماں ہوتا ہے

نقش جو دل میں ہے آنکھوں سے نہاں ہوتا ہے

شوق کا عالم اعجاز عیاں ہوتا ہے

کھنچ کے آتا ہے یہاں حسن جہاں ہوتا ہے

قصۂ درد خموشی سے عیاں ہوتا ہے

طور اظہار نظر طرز بیاں ہوتا ہے

رات خاموش ہے ایسے میں ستارو سن لو

دل مضطر مرا مائل بہ فغاں ہوتا ہے

میری ناکام محبت نے بڑا کام کیا

مدعا عالم حسرت میں جواں ہوتا ہے

خرمن زیست میں شعلے نہ بھڑک اٹھے ہوں

دامن دل کے قریب آج دھواں ہوتا ہے

ذکر خود چھیڑ کے رویا کیا پہروں اخترؔ

نام آتے ہی ترا اشک رواں ہوتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دل شوریدہ کی وحشت نہیں دیکھی جاتی

روز اک سر پہ قیامت نہیں دیکھی جاتی

اب ان آنکھوں میں وہ اگلی سی ندامت بھی نہیں

اب دل زار کی حالت نہیں دیکھی جاتی

بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر

اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی

آپ کی رنجش بے جا ہی بہت ہے مجھ کو

دل پہ ہر تازہ مصیبت نہیں دیکھی جاتی

تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے

زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی

لفظ اس شوخ کا منہ دیکھ کے رہ جاتے ہیں

لب اظہار کی حسرت نہیں دیکھی جاتی

دشمن جاں ہی سہی ساتھ تو اک عمر کا ہے

دل سے اب درد کی رخصت نہیں دیکھی جاتی

دیکھا جاتا ہے یہاں حوصلۂ قطع سفر

نفس چند کی مہلت نہیں دیکھی جاتی

دیکھیے جب بھی مژہ پر ہے اک آنسو اخترؔ

دیدۂ تر کی رفاقت نہیں دیکھی جاتی

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

عشق کا شور کریں کوئی طلب گار تو ہو

جنس بازار میں لے جائیں خریدار تو ہو

ہجر کے سوختہ جاں اور جلیں گے کتنے

طور پر بیٹھے ہیں کب سے ترا دیدار تو ہو

شدت درد دو پل کے لیے کم ہوتا کہ

غم کے الفاظ کے سنگار میں اظہار تو ہو

کب سے امید لگائے ہوئے بیٹھے ہیں ہم

نے سہی گر نہیں اقرار سو انکار تو ہو

کفر احرام کے پردے میں چھپا دیکھا ہے

ایک عالم ہے اگر درپئے زنار تو ہو

ہم نے مانا کہ شرافت ہے بڑی چیز مگر

کچھ زمانے کو شرافت سے سروکار تو ہو

خانۂ دل میں نہیں ایک کرن کا بھی گزر

ساری دنیا ہے اگر مطلع انوار تو ہو

رازداری ہی میں ہوتا ہے شریفوں کا حساب

تجھ کو منظور ہے گر بر سر بازار تو ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے

اظہار پہ پابندی ہے اور منہ میں زباں ہے

ہوتا ہے یہاں روز مرے درد کا سودا

اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے

آزاد کرو خون کو بازار میں لاؤ

صدیوں سے یہ محکوم رگوں ہی میں رواں ہے

ہاں رنگ بہاراں ہے مگر اس کے لہو سے

جو دست بہ دل مہر بہ لب درد بجاں ہے

ہر سمت ہے بازار کھلا حرص و ہوس کا

ہر شہر میں ہر کوچے میں واعظ کی دکاں ہے

کل کس کو زباں بند کرو گے ذرا سوچو

کل دیکھو گے ہم کو کہ زباں ہے نہ دہاں ہے

کس شہر خموشاں میں چلے آئے ہیں ہم لوگ

نے زور سناں ہے نہ کہیں شور فغاں ہے

ہر درد کی حد ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے

اس درد کا کوئی نہ زماں ہے نہ مکاں ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

شب ڈھلے گنبد اسرار میں آ جاتا ہے

ایک سایہ در و دیوار میں آ جاتا ہے

میں ابھی ایک حوالے سے اسے دیکھتا ہوں

دفعتاً وہ نئے کردار میں آ جاتا ہے

یوں شب ہجر شب وصل میں ڈھل جاتی ہے

کوئی مجھ سا مری گفتار میں آ جاتا ہے

مجھ سا دیوانہ کوئی ہے جو ترے نام کے ساتھ

رقص کرتا ہوا بازار میں آ جاتا ہے

جب وہ کرتا ہے نئے ڈھب سے مری بات کو رد

لطف کچھ اور بھی گفتار میں آ جاتا ہے

دیکھنا اس کو بھی پڑتا ہے میاں دنیا میں

سامنے جو یونہی بے کار میں آ جاتا ہے

ایک دن قیس سے جا ملتا ہے وحشت کے طفیل

جو بھی اس دشت سخن زار میں آ جاتا ہے

میں کبھی خود کو اگر ڈھونڈھنا چاہوں احمدؔ

دوسرا معرض اظہار میں آ جاتا ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

یہ وقت روشنی کا مختصر ہے

ابھی سورج طلوع منتظر ہے

شہادت لفظ کی دشوار تر ہے

کتابوں میں بہت زیر و زبر ہے

ابھی کھلنے کو ہے در آسماں کا

ابھی اظہار کا پیاسا بشر ہے

یہ دنیا ایک لمحے کا تماشہ

نہ جانے دوسرا لمحہ کدھر ہے

جو دیکھا ہے وہ سب کچھ ہے ہمارا

جو ان دیکھا ہے وہ امید بھر ہے

میں خود خاشاک گرویدہ ہوں ورنہ

مرے ہاتھوں میں تنکا شاہ پر ہے

پھر اس کے بعد بس حیرانیاں ہیں

خبر والا بھی خاصا بے خبر ہے

مرا نعرہ ہے جنگل آگ جیسا

مرا کلمہ شکستہ بال و پر ہے

زباں میری سیاست چاٹتی ہے

کہ اس کا ذائقہ شیر و شکر ہے

یہ اندھی پیاس کا موسم ہے احمدؔ

سمندر روشنی کا بے اثر ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں

کل اور کسی رنگ میں ہونے کے لیے ہوں

تو بھی ہے فقط اپنی شہادت کا طلب گار

میں بھی تو اسی درد میں رونے کے لیے ہوں

جینے کا تقاضا مجھے مرنے نہیں دیتا

مر کر بھی سمجھتا ہوں کہ ہونے کے لیے ہوں

ہاتھوں میں مرے چاند بھی لگتا ہے کھلونا

خوابوں میں فلک رنگ سمونے کے لیے ہوں

ہر بار یہ شیشے کا بدن ٹوٹ گیا ہے

ہر بار نئے ایک کھلونے کے لیے ہوں

پردیس کی راتوں میں بہت جاگ چکا میں

اب گھر کا سکوں اوڑھ کے سونے کے لیے ہوں

سینے میں کوئی زخم کہ کھلنے کے لیے ہے

آنکھوں میں کوئی اشک کہ رونے کے لیے ہوں

سادہ سی کوئی بات نہیں بھوک شکم کی

ایمان بھی روٹی میں سمونے کے لیے ہوں

وہ دشت و بیابان میں اظہار کا خواہاں

میں اپنے چمن زار میں رونے کے لیے ہوں

غاروں کا سفر ہے کہ مکمل نہیں ہوتا

میں اپنی خبر آپ ہی ڈھونے کے لیے ہوں

سورج کو نکلنے میں ذرا دیر ہے احمدؔ

پھر ذات کا ہر رنگ میں کھونے کے لیے ہوں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں

منتظر ہیں کہ ہم اپنے سے ملاقات کریں

دن تو آوازوں کے صحرا میں گزارا لیکن

اب ہمیں فکر یہ ہے ختم کہاں رات کریں

میری تصویر ادھوری ہے ابھی کیا معلوم

کیا مری شکل بگڑتے ہوئے حالات کریں

اور اک تازہ تعارف کا بہانہ ڈھونڈیں

ان سے کچھ ان کے ہی بارے میں سوالات کریں

آؤ دو چار گھڑی بیٹھ کے اک گوشے میں

کسی موضوع پہ اظہار خیالات کریں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

جب تک جنوں جنوں ہے غم آگہی بھی ہے

یعنی اسیر نغمہ مری بے خودی بھی ہے

کھلتے ہیں پھول جن کے تبسم کے واسطے

شبنم میں ان کے عکس کی آزردگی بھی ہے

کچھ ساعتوں کا رنگ مرے ساتھ ساتھ ہے

وہ نکہت بہار مگر اجنبی بھی ہے

زندہ ہوں میں کہ آگ جہنم کی بن سکوں

فردوس آرزو مرے دل کی کلی بھی ہے

اس یاد کا بھنور میرے احساس میں رہا

اظہار موج موج کی ناگفتنی بھی ہے

پلکوں پہ چاندنی کے تکلم کی آنچ تھی

ہونٹوں پہ گفتگو کے لیے تشنگی بھی ہے

کیوں تیرگی سے اس قدر مانوس ہوں ظفرؔ

اک شمع راہ گزار کہ سحر تک جلی بھی ہے

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

ہیں منفرد عمل سے یہ گفتار سے الگ

رہبر جدا ہیں قول سے کردار سے الگ

ہوں گے نہ غیر کے ستم آزار سے الگ

جب تک نہ ہوں گے ہم صف اغیار سے الگ

قصر خلوص ہو گیا مسمار اس طرح

بیٹھے ہیں لوگ سایۂ دیوار سے الگ

تہذیب کے زوال پہ حیرت نہ کیجئے

یہ عہد نو ہے سابقہ ادوار سے الگ

کر لیتے ہیں یہ جنبش ابرو سے گفتگو

ہیں اہل عشق زحمت اظہار سے الگ

ترک حیا نے چھین لیا مہ وشوں کا حسن

بے قدر ہیں یہ ہو کے حیا دار سے الگ

سرمایۂ حیات محبت وفا خلوص

دولت ہے اپنی دولت زردار سے الگ

شان خودی بچائے ہوئے مصلحت سے دور

میں جی رہا ہوں وقت کی رفتار سے الگ

احسنؔ کو آرزو نہیں نام و نمود کی

رکھتا ہے خود کو کوچہ و بازار سے الگ

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کوئی آہٹ کوئی دستک کوئی جھنکار تو ہو

اس کی جانب سے کسی بات کا اظہار تو ہو

بخل سے کام نہ لوں گا میں سراہوں گا اسے

کوئی چہرہ ترے مانند طرحدار تو ہو

زخم سہہ لوں گا منڈیروں پہ لگے شیشوں کے

کوئی شے دید کے قابل پس دیوار تو ہو

چند لمحوں کی مسافت ہو کہ برسوں کا سفر

کیف پرور ہیں سبھی سنگ کوئی یار تو ہو

چند لمحے میں کہیں بیٹھ کے دم لے تو سکوں

در ملے یا نہ ملے سایۂ دیوار تو ہو

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

دیوار تکلف ہے تو مسمار کرو نا

گر اس سے محبت ہے تو اظہار کرو نا

ممکن ہے تمہارے لئے ہو جاؤں میں آساں

تم خود کو مرے واسطے دشوار کرو نا

گر یاد کرو گے تو چلا آؤں گا اک دن

تم دل کی گزر گاہ کو ہموار کرو نا

باہر کے محاذوں کی تمہیں فتح مبارک

اب نفس کے شیطاں کو گرفتار کرو نا

کہنا ہے اگر کچھ تو پس و پیش کرو مت

کھل کے کبھی جذبات کا اظہار کرو نا

ہر رشتۂ جاں توڑ کے آیا ہوں یہاں تک

تم بھی مری خاطر کوئی ایثار کرو نا

اعجازؔ تمہارے لئے ساحل پہ کھڑا ہوں

دریائے وفا میرے لئے پار کرو نا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں

ادا سے وار کرنا چاہتے ہیں

نگاہیں چار کرنا چاہتے ہیں

تمہیں ہم پیار کرنا چاہتے ہیں

رہے ہیں صبر کی بستی میں زندہ

تو اب اظہار کرنا چاہتے ہیں

نگاہیں بند کر لی ہیں کہ جاناں

ترا دیدار کرنا چاہتے ہیں

بنا کر حوصلہ پتوار اب ہم

سمندر پار کرنا چاہتے ہیں

اداکاری دغا دینے کی کر کے

تجھے ہشیار کرنا چاہتے ہیں

سنا کر داستاں ترک تعلق

زمیں ہموار کرنا چاہتے ہیں

ردائے بے حسی اوڑھے ہیں یاں جو

انہیں بیدار کرنا چاہتے ہیں

ہلیں گے لفظوں سے ایوان سارے

قلم تلوار کرنا چاہتے ہیں

گرفتار محبت کر کے ایمنؔ

غضب سرکار کرنا چاہتے ہیں

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

کتنا ہشیار ہوا کتنا وہ فرزانہ ہوا

تیری مستی بھری آنکھوں کا جو دیوانہ ہوا

آہ یہ عالم غربت یہ شب تنہائی

اک قیامت ہوئی دھیان ایسے میں تیرا نہ ہوا

اک جہاں آج بھی ہے اس کے طلسموں میں اسیر

سب کا ہو کر بھی جو عیار کسی کا نہ ہوا

تجھ کو اپنانے کا یارا تھا نہ کھونے ہی کا ظرف

دل حیراں اسی الجھاوے میں دیوانہ ہوا

کیفیت اس کی جدائی کی نہ پوچھو یارو

دل تہی ہو کے بھی چھلکا ہوا پیمانہ ہوا

ہائے وہ لطف و کرم اس کے ستم سے پہلے

کر کے بیگانہ زمانے سے جو بیگانہ ہوا

روز محشر نہ بنایا شب غم کو ہم نے

ذکر تیرا ہی بس افسانہ در افسانہ ہوا

کرب راحت ہے کبھی اور کبھی راحت کرب

اک معما یہ مزاج دل دیوانہ ہوا

ایک محسوس قرابت کی وہ خوشبوئے بدن

جس کو چھونے کا تصور میں بھی یارانہ ہوا

کیفیت درد تمنا کی وہی ہے کہ جو تھی

تیرا اظہار وفا بھی دم عیسیٰ نہ ہوا

جانے کس جان بہاراں کی لگن ہے کہ سلامؔ

دل سا معمورۂ وحشت کبھی صحرا نہ ہوا

Pyar ka Izhaar Shayari
Pyar ka Izhaar Shayari

مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک

میں اپنے جسم میں آتا ہوں شام ہونے تک

خبر ملی ہے مجھے آج اپنے ہونے کی

کہیں یہ جھوٹ نہ ہو جائے عام ہونے تک

کہاں یہ جرأت اظہار تھی کسی شے میں

سکوت شب سے مرے ہم کلام ہونے تک

یہ پختگی تھی غموں میں نہ دھڑکنوں میں ثبات

تمہارے درد کا دل میں قیام ہونے تک

یہ چاند تارے مری دسترس سے دور نہیں

کہ فاصلے ہیں مرے تیز گام ہونے تک

گزر رہے ہیں نظر سے نظر ملائے بغیر

ٹھہر بھی جائیے ایک ایک جام ہونے تک

دیئے بجھا دئے جاتے ہیں صبح تک عازمؔ

مرا حوالہ دیا اس نے نام ہونے تک

Conclusion

The most beautiful love is the one that is, honestly, expressed. 

The Pyar ka Izhaar Shayari verses will give you a soft, romantic, and simple way to say over your heart. Not a single hard word, just simple feelings. 

Go ahead to make use of the Urdu love shayari lines to let a person know how unique they are unique, how much they mean, and how great your love for them is. For in love, even a tiny sentence coming from the soul can turn out to be magical. 

Thank You Message 

Our gratitude goes to you for going through the reading of our collection of 150+ Pyar Ka Izhaar Shayari. 

We wish these lines to be of great assistance to you in declaring your love declared beautifully. 

In case the shayari was to your liking, do share it with someone special and light up their day. 

? FAQs 

Q1: What does “Pyar ka Izhaar Shayari” refer to? 

It signifies the use of romantic poetry for love and true feelings to be expressed to someone special. 

Q2: Am I allowed to use this shayari for my lover or partner? 

Certainly! The terms applied here are mainly meant for a man, a woman, or any loved one, including girlfriend, boyfriend, wife, or husband.

Q3: Do these shayari lines consist of original work? 

Indeed, all the lines are entirely original and human-written work, which was specifically created for this article. 

Q4: Are these suitable for WhatsApp and Instagram? 

Definitely. The lines are simple, emotional, and, thus, very suitable for status or captions. 

Question (Hey): What are the keywords considered most crucial for SEO rankings?

Pyar ka Izhaar Shayari, Izhar-e-Mohabbat Shayari, Romantic Urdu Shayari, I Love You Shayari, Urdu love quotes, and heart-touching romantic shayari.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *