60+ Ansu Quotes in Urdu – When Words Fall Like Tears
The Language of Tears (Ansu)
Tears are a heart’s medium, not a weakness.
Whenever the heart is in pain, Ansu (tears) will say what cannot be uttered.
This assortment of 60+ Ansu Quotes in Urdu mirrors the beauty and fate of every tear drop, the very lines reflecting simplicity and yet being full of emotion, just like the Urdu language itself.
No matter if love, loss, or silence was the cause of your tears, these quotes will echo the thought that emotions are the very things that make us human.
There are healing tears. There are remembering tears.
Nevertheless, every tear is a tale, and it is up to you to feel it.
Ansu Quotes That Touch the Soul
In Urdu poetry, Ansu is not merely a tear — it stands for love, suffering, and honesty at the same time.
These Ansu-related Urdu quotes aim to create a profound impact on the reader’s soul — to soothe those who have experienced intense emotions.
- The collection features:
- Sorrowful Ansu quotes in Urdu, narrating the stories of breakups and solitude
- Love quotes with Ansu that reveal the heart’s secret behind the affection
- Touching Urdu lines on life’s softly spoken sorrows
- Weeping poetry quotes illustrating the loveliness of suffering
Each quote is a reminder of the fact that tears do not signify weakness; they are the proof of your authenticity. And within each of the tears shed, there is a tiny bit of valour that keeps the heart beating.

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم
خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم
اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا
خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم
آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں
لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم
لکھ نہ پائے جو کسی کی نیم باز آنکھوں کا راز
وہ یہ وعدہ کر رہے ہیں میرؔ بن جائیں گے ہم
گر یوں ہی بڑھتا رہا دن رات شغل مے کشی
ایک دن اس میکدے کے پیر بن جائیں گے ہم
اس نے بھی اوروں کے جیسا ہی کیا ہم سے سلوک
جو یہ کہتا تھا تری تقدیر بن جائیں گے ہم

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں
ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں
دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے
اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں
بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مرا جذبۂ عشق
آنسوؤں سے تری تصویر بنا لایا ہوں
میں نے اک شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا
لیکن اس شہر کو آنکھوں میں بسا لایا ہوں
اتنی غفلت کی بھی نیند اچھی نہیں ہوتی ہے
اے چراغو اٹھو دیکھو میں ضیا لایا ہوں

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے
میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے
سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا
پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے
ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں
دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے
بزم میں خوب لٹائے گئے چاہت کے گلاب
اس طرح صدقۂ احباب اتارا اس نے
آنسوؤں سے کبھی سیراب نہ ہوتا صحرا
میرے اندر کوئی سیلاب اتارا اس نے

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا
عشق بس خواب ہے اس خواب کے جادو پہ نہ جا
اب پلٹ کر نہیں شہروں کو میں جانے والی
مرے جنگل تو پریشانی و ہا ہو پہ نہ جا
میں ترا رقص ہوں اس رقص کو پورا کر لے
تھک کے یوں ٹوٹ کے گرتے ہوئے گھنگھرو پہ نہ جا
گرمیٔ رقص کے تھمتے ہی تھمیں گے ہم سب
حصۂ رقص ہے اس جنبش ابرو پہ نہ جا

اختلافات میں بیمار نظر آتے ہیں
مجھ کو یہ سارے ہی بیزار نظر آتے ہیں
جتنے جاہل ہیں نکمے ہیں اچکے ہیں یہاں
وہی حاکم کے طرف دار نظر آتے ہیں
حکم زردار یہ ہے ان کو نظر بند کرو
امن کے جو بھی طرف دار نظر آتے ہیں
آنسوؤں کی تو ان آنکھوں میں کچھ اوقات نہیں
گرچہ آتے ہیں تو بے کار نظر آتے ہیں
سارے رنگوں کے گلوں سے ہے چمن کی زینت
یہ چمن جو ابھی گلزار نظر آتے ہیں
اب جو لکھ دی ہے حقیقت تو ہم اظہرؔ سب کو
ہیں تو شاعر پر اداکار نظر آتے ہیں

کیوں مرے ساتھ ہی اکثر یہ ہوا کرتا ہے
میں جسے چاہوں اسے وقت جدا کرتا ہے
مر بھی جاتا ہے تو دیتا ہے جہاں کو ریشم
جال اطراف وہ اپنے ہی بنا کرتا ہے
اس کی آنکھوں سے برستی ہے سدا ہی ریشم
کس کی یادوں میں شب و روز گھلا کرتا ہے
ختم ہوتی ہیں وہاں اپنی نگاہوں کی حدیں
کہیں سورج بھی پہاڑی میں ڈھلا کرتا ہے
آ ہی جاتے ہیں وداعی پہ دلہن کی آنسو
کس کے روکے سے یہ سیلاب رکا کرتا ہے
ورنہ موجیں لب ساحل بھی ڈبوتیں ساحل
مرے جینے کی کوئی ہے جو دعا کرتا ہے

مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے
میں دھوپ ہوں مجھے ناحق سکوڑتا کیوں ہے
اگر یہ سچ ہے کہ تو میرا خواب ہے تو بتا
کہ آنکھ لگتے ہی مجھ کو جھنجھوڑتا کیوں ہے
ادھر بھی تو ہے ادھر بھی جو صرف تو ہی ہے
تو پھر یہ بیچ کی دیوار توڑتا کیوں ہے
میں تیرے وعدے کو جب آنسوؤں سے دھوتی ہوں
ہر ایک لفظ ترا رنگ چھوڑتا کیوں ہے
مگر یہ دل ہے کہ کیا جانے تیری باتوں سے
طرح طرح کے بہانے نچوڑتا کیوں ہے

بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ
پیار آتا ہے تری جور و جفا کے ساتھ ساتھ
ضعف سے راہ محبت میں قدم اٹھتے نہیں
پاؤں جمتے ہیں زمیں پر نقش پا کے ساتھ ساتھ
چھوٹ کر کنج قفس سے نکہت گل کی طرح
ہم بھی اڑ کر جائیں گے باد صبا کے ساتھ ساتھ
سرد آہوں سے پھنکا جاتا ہے سینے میں جگر
آتش غم تیز ہوتی ہے ہوا کے ساتھ ساتھ
میرے آنسو بھی بہے جوش محبت میں عزیزؔ
میرے نالے بھی رہے میری دعا کے ساتھ ساتھ

اس وہم کی انتہا نہیں ہے
سب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہے
کیا اس کا سراغ کوئی پائے
جس چیز کی ابتدا نہیں ہے
کھلتا ہی نہیں فریب ہستی
کچھ بھی نہیں اور کیا نہیں ہے
اس طرح ستم وہ کر رہے ہیں
جیسے میرا خدا نہیں ہے
تم خوش ہو تو ہے مجھے ندامت
ہر چند مری خطا نہیں ہے
دیکھو تو نگاہ واپسیں کو
اس ایک نظر میں کیا نہیں ہے
دنیا کا بھرم نہ کھول اے آہ
یہ راز ابھی کھلا نہیں ہے
ہر ذرہ ہے شاہد تجلی
اس حسن کی انتہا نہیں ہے
سرگرم تلاش رہنے والے
تیرا بھی کہیں پتا نہیں ہے
امڈا ہے جو دل عزیزؔ رو لو
آنسو کوئی روکتا نہیں ہے

دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں
ورنہ کیا ظلم نہیں کون سی بیداد نہیں
حسن اک شان الٰہی ہے مگر اے بے مہر
بے وفائی تو کوئی حسن خداداد نہیں
سر تربت وہ خموشی پہ مری کہتے ہیں
مرنے والے تجھے پیمان وفا یاد نہیں
حسن آراستہ قدرت کا عطیہ ہے مگر
کیا مرا عشق جگر سوز خدا داد نہیں
لاکھ پابند علائق نہ رہے کوئی یہاں
طبع وارستہ مگر فکر سے آزاد نہیں
باہم آئین وفا رسم محبت کیسی
وقت اب وہ ہے کہ بندوں کو خدا یاد نہیں
چشم مخمور وہ ہے کابل غرق مے ناب
دفتر عشق پہ جب تک کہ مرے صاد نہیں
پوچھتے کیا ہو تباہی کا فسانہ مجھ سے
دل برباد کی صورت بھی مجھے یاد نہیں
ذرے ذرے میں ہے اک عالم معنی پنہاں
خاک برباد کو سمجھے ہو کہ آباد نہیں
آپ کہتے ہیں کہ ہے گور غریباں ویراں
ایسی بستی تو جہاں میں کوئی آباد نہیں
آنسوؤں کو بھی ذرا دیکھ لے رونے والے
ان ستاروں میں تو دنیا کوئی آباد نہیں
حسن خود میں نے کیے آئنے کے سو ٹکڑے
اب نہ کہنا کہ نگاہیں ستم ایجاد نہیں
کب خیالات پہ ممکن ہے کسی کا پہرہ
دل تو آزاد رہا میں اگر آزاد نہیں
سینہ کاوی کے لیے شرط ہے دل کی ہمت
ناخن دست جنوں تیشۂ فرہاد نہیں
بے خودی منزل عرفاں ہے ذرا ہوش میں آ
ہے خودی کا یہ نتیجہ کہ خدا یاد نہیں
طبقۂ خاک میں ہے عالم خاموش آباد
جس کو برباد سمجھتے ہو وہ برباد نہیں
دل ویراں کی تباہی کی کوئی حد ہے عزیزؔ
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا ابھی آباد نہیں

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں
سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں
اصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں
نہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں
غریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی
جہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں
دیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں
یہاں کے ذرے ذرے کو جب اپنا دل سمجھتے ہیں
کریں کیا ان سے شکوہ جو کسی کے دل جلانے کو
فروغ گرمیٔ ہنگامۂ محفل سمجھتے ہیں
جھکانا آستاں پر سر کوئی مشکل نہیں لیکن
جبین بندگی کو ہم کب اس قابل سمجھتے ہیں
شکستہ دل لیے یہ سوچ کر اس بزم سے نکلا
شکایت کیجیے ان سے جو دل کو دل سمجھتے ہیں
یہ دل حاضر ہے بسم اللہ وہ کھولیں گرہ اس کی
اگر آسان حل عقدۂ مشکل سمجھتے ہیں
لب فریاد اگر کھولوں تو کیا ہنگامہ برپا ہو
خموشی کو مری جب گفتگوئے دل سمجھتے ہیں
وہ خلوت ہو کہ جلوت ہو تجلی ہو کہ تاریکی
جہاں تم ہو اسی کو ہم بھری محفل سمجھتے ہیں
ارادہ ہو تو دل مضبوط کر اے ڈوبنے والے
جب ایسا وقت ہو دھارے کو بھی ساحل سمجھتے ہیں
دم آخر رکا ہے ایک آنسو دیدۂ تر میں
اسی کو ہستئ ناکام کا حاصل سمجھتے ہیں
وفا کی حد دکھا کر جلنے والے دل خدا حافظ
تجھے بھی اک چراغ کشتۂ منزل سمجھتے ہیں
مٹا ڈالا مجھے پھر بھی یہ ہے بیداد کی حسرت
ابھی فہرست موجودات میں شامل سمجھتے ہیں
مرا طرز سلوک اس راہ کے رہ رو نہ سمجھیں گے
مگر جو راہ بر راہ حق و باطل سمجھتے ہیں
نثار دوست ہے یہ موتیوں کا بے بہا مالا
ہر اک آنسو کو ہم ٹوٹا ہوا اک دل سمجھتے ہیں
جنہیں معلوم ہے تیری نگاہ ناز کا عالم
وہ اپنے ضبط کے دعووں کو خود باطل سمجھتے ہیں
عزیزؔ افکار دنیا اور مشاغل شعر گوئی کے
احبا کی محبت ہے جو اس قابل سمجھتے ہیں

یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں
فقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیں
کہو کچھ حقیقت مشتہر کہ مجھے کہیں کی خبر نہیں
یہ مناظر دو جہاں ہیں کیا جو فریب ذوق نظر نہیں
کسی آہ میں نہیں سوز جب کسی نالے میں جب اثر نہیں
یہ کمال سوزش دل نہیں یہ فروغ داغ جگر نہیں
چمک اٹھ رہی ہے جو پے بہ پے یہ تجلیوں کا خزانہ ہے
یہ ہجوم برق تپاں نہیں یہ متاع درد جگر نہیں
یہ ہے اہتمام حجاب کیوں یہ ہے بند و بست نقاب کیوں
تمہیں آنکھ بھر کے میں دیکھ لوں وہ نظر نہیں وہ جگر نہیں
وہ رہین لذت غم ہوں میں نہ ملی ازل میں جسے طرب
میں ہی اس کرم کا تھا منتظر میں ہی مستحق تھا مگر نہیں
کبھی وقت ناز و نیاز ہے کبھی محو زلف ایاز ہے
مگر اس پہ بھی دل غزنوی کرم آشنائے نظر نہیں
یہ تعینات نظام تھے فقط ایک پردۂ ماسوا
خبر اس کی جب سے ہوئی مجھے کوئی اس جہاں کی خبر نہیں
تجھے کارگاہ فنا بتا انہی ہستیوں پہ غرور ہے
جو شریک سود و زیاں نہیں جو رہین نفع و ضرر نہیں
چمک اے چراغ ضمیر اب کہ طلوع مہر کمال ہو
وہ لحد ہوں تیرہ و تار میں کہ جہاں بیاض سحر نہیں
نہ وہ سوز ہے نہ وہ ساز ہے نہ وہ دل خزانۂ راز ہے
وہ شرر ہوں جس میں دھواں نہیں وہ حجر ہوں جس میں شرر نہیں
نظر اس کی ہے مری سمت ابھی مرا دامن گہریں نہ دیکھ
ابھی خون دل ہے رکا ہوا ابھی آنسوؤں سے یہ تر نہیں
چمک اے تجلیٔ دل ربا نکل اے خلاصۂ دعا
کہ نظارۂ دو جہاں فقط یہ مآل ذوق نظر نہیں
یہ جبہ سائی بے محل مجھے شب کو دے رہی تھی خبر
نہ مٹا دے ظلمت دہر جو وہ نشان سجدۂ در نہیں
یہ تغیرات جہاں نہیں اثر تلون طبع ہے
تری اک نظر کا کرشمہ یہ فلک کی گردش سر نہیں
کہو شمع سے کہ یہ نقل کیا کوئی اپنا قصۂ غم کہے
کرے اب فسانے کو مختصر کہ مجھے امید سحر نہیں
ہے تلاش اپنی فقط مجھے میں ملوں تو ہوں گی شکایتیں
مجھے اب کسی سے گلا نہیں مجھے اب کسی کی خبر نہیں
یہی منزلیں ہیں وہ منزلیں کہ جہنم ان سے پناہ لے
دل نا شناس رہ وفا مجھے کوئی خوف و خطر نہیں
مری غفلتوں کا گلا نہ کر یہی نظم کون و فساد ہے
خبر اس طلسم نمود کی مجھے ہو چکی ہے مگر نہیں
سبق اس سے لے کہ خبر ملے تجھے آنے والے زمانے کی
ہے تغیرات کا آئنہ یہ شکستہ کاسۂ سر نہیں
یہ ہیں دار تیری نگاہ کے کسی ناتواں سے رکیں گے کیا
دل داغ داغ عزیزؔ ہے ستم آزما یہ سپر نہیں

کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی
اب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کی
ڈوب دے دے بادۂ گل رنگ میں زاہد اگر
دیکھیے رنگینیاں پھر جامۂ احرام کی
عکس ابرو دیکھتے ہیں بادۂ سرجوش میں
عید ہے ساقی پرستوں میں ہلال جام کی
ابتدائے عشق ہے اور بجھ رہا ہے دل مرا
ہو چلی دھیمی ابھی سے لو چراغ شام کی
آنکھ میں آنسو ہیں ماتھے پر عرق ہے موت کا
لے خبر عمر رواں اپنے چھلکتے جام کی
ہو گئی بازیچۂ اطفال بے ذوق و شعور
شاعری جو تھی مرادف معنی الہام کی
پختگی سمجھے ہوئے ہیں جو تناسب کو فقط
چاہیے اصلاح ان کو اس خیال خام کی
ہے یہ نازک فن جو شایان تہی مغزی نہیں
دور مجلس میں ضرورت کیا ہے خالی جام کی
ٔہے عزیزؔ آئینۂ لفظی مراعات النظیر
حسن معنی جب نہیں پھر شاعری کس کام کی

ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں
دل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیں
ایک ہم ہیں کہ کسی بات کا مقدور نہیں
ایک وہ ہیں کہ کسی رنگ میں مجبور نہیں
امتحاں گاہ محبت نہیں گل زار خلیل
کون ایسا ہے جو زخموں سے یہاں چور نہیں
نزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی
وقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں منظور نہیں
قابل غور ہے اے جلوہ پرستان ازل
یہ کہانی ہے مری واقعۂ طور نہیں
مصر کا چاند ہو آغوش میں زنداں کے طلوع
فطرت حسن بدل جائے تو کچھ دور نہیں
سر جھکائے در دولت سے پلٹنے والے
بے نیازی کی ادائیں ہیں وہ مغرور نہیں
جبہ سائی بھی گوارا نہیں کرتا کوئی
اٹھ کے جانا در دولت سے بھی دستور نہیں
عشق میں سرحد منزل سے کچھ آگے ہوں گے
اس کا رونا ہے کوئی سعی بھی مشکور نہیں
دل میں پیوست ہوئی تھی جو مرے روز ازل
ہے وہی شوخ نظر صاعقۂ طور نہیں
دل کو بھی دی گئی ہے خدمت درد ابدی
صرف آنکھیں ہی مری رونے پہ معمور نہیں
سر مژگاں مرے آنسو کا ستارہ چمکا
دار پر اب اثر جذبۂ منصور نہیں
صاد سرخی سے کیا کس نے سر فرد جمال
اپنے عالم میں ترے دیدۂ مخمور نہیں
زندگی ختم ہوئی جب تو اک آواز سنی
آ گیا میں ترے نزدیک بس اب دور نہیں
روح کہتی ہوئی نکلی ہے دم نزع عزیزؔ
ان سے اس بزم میں ملنا ہمیں منظور نہیں

دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں
الجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں
یہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے
مگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں
پتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے
نگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں
یہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے گا
دم آخر رکا ہے ایک آنسو چشم گریاں میں
مری جمعیت خاطر کا ساماں حشر کیا کرتا
قیامت ہو گئی ترتیب اجزائے پریشاں میں
فروغ لالہ و گل کا تماشا دیکھنے والے
یہ میرے دل کی چوٹیں ہیں جو ابھری ہیں گلستاں میں
عزیزؔ آرائش گلشن کی کوئی انتہا بھی ہے
وہ محو سیر گل ہیں یا گلستاں ہے گلستاں میں

رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا
خدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھا
بڑھ گئے کچھ اور ان کے حوصلے
رونے والوں کو ہنسانا ہی نہ تھا
دل کا بھی رکھنا تھا ہم کو کچھ خیال
اس طرح آنسو بہانا ہی نہ تھا
کل زمانہ خود مٹا دیتا جنہیں
ایسے نقشوں کو مٹانا ہی نہ تھا
بے پیے واعظ کو میری رائے میں
مسجد جامع میں جانا ہی نہ تھا
رہ گیا آنکھوں میں نقشہ آپ کا
نزع میں صورت دکھانا ہی نہ تھا
خود وہ دے دیتے تو اچھا تھا عزیزؔ
کیا کہیں یوں زہر کھانا ہی نہ تھا

دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں
سمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوں
مدت سے کھو گیا ہوں سرگرم جستجو ہوں
اپنا ہی مدعا ہوں اپنی ہی آرزو ہوں
صورت سوال ہوں میں پوچھو نہ میرا مطلب
میں اپنے مدعا کی تصویر ہو بہ ہو ہوں
ہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو
رستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ہوں
زخموں سے دل کا عالم کیا پوچھتے ہو کیا ہے
گلزار بے خزاں ہوں دنیائے رنگ و بو ہوں
جلوے حجاب افگن آنکھیں ہلاک حسرت
تو محو پردہ داری میں وقف جستجو ہوں
پامال یوں ہوا ہوں پنہاں ہے مجھ میں عالم
ایک مشت خاک ہو کر صحرائے آرزو ہوں
رخ سے کفن ہٹا دو کیا پوچھتے ہیں پوچھیں
پردے میں خامشی کے سرگرم گفتگو ہوں
کس سے عزیزؔ رکھوں امید دوستی کی
سرکش ہے نفس جب تک اپنا ہی میں عدو ہوں

جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی
میں تو آواز ہوں آواز کی ہجرت کیسی
سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی
قصہ گو تو نے سنائی تھی حکایت کیسی
ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے
دشت کہتے ہیں کسے دشت کی وحشت کیسی
آپ کے خوف سے کچھ ہاتھ بڑھے ہیں لیکن
دست مجبور کی سہمی ہوئی بیعت کیسی
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
راکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
اور کچھ زخم مرے دل کے حوالے مری جاں
یہ محبت ہے محبت میں شکایت کیسی
میں کسی آنکھ سے چھلکا ہوا آنسو ہوں نبیلؔ
میری تائید ہی کیا میری بغاوت کیسی

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
محبتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں
وہ شہر حیرت کا شاہزادہ گرفت ادراک میں نہیں ہے
اس ایک چہرے کی حیرتوں میں ہزار آنکھیں سما چکی ہیں
ہم اپنے سر پر گزشتہ دن کی تھکن اٹھائے بھٹک رہے ہیں
دیار شب تیری خواب گاہیں تمام پردے گرا چکی ہیں
بدلتے موسم کی سلوٹوں میں دبی ہیں ہجرت کی داستانیں
وہ داستانیں جو سننے والوں کی نیند کب کی اڑا چکی ہیں
وہ ساری صبحیں تمام شامیں کہ جن کے ماتھے پہ ہم لکھے تھے
سنا ہے کل شب تمہارے در پر لہو کے آنسو بہا چکی ہیں
کہاں سے آئے تھے تیر ہم پر، طنابیں خیموں کی کس نے کاٹیں
گریز کرتی ہوائیں ہم کو تمام باتیں بتا چکی ہیں
دھوئیں کے بادل چھٹے تو ہم نے نبیلؔ دیکھا عجیب منظر
خموشیوں کی سلگتی چیخیں فضا کا سینہ جلا چکی ہیں

صبح اور شام کے سب رنگ ہٹائے ہوئے ہیں
اپنی آواز کو تصویر بنائے ہوئے ہیں
اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس و خاشاک سمجھ
کوزہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں اتنے تہی چشم کہ رو بھی نہ سکیں
چند آنسو ابھی آنکھوں میں بچائے ہوئے ہیں
ہم نے خود اپنی عدالت سے سزا پائی ہے
زخم جتنے بھی ہیں اپنے ہی کمائے ہوئے ہیں
اے خدا بھیج دے امید کی اک تازہ کرن
ہم سر دست دعا ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں
ہر نیا لمحہ ہمیں روند کے جاتا ہے کہ ہم
اپنی مٹھی میں گیا وقت چھپائے ہوئے ہیں
ایک مدت ہوئی تم آئے نہ پیغام کوئی
پھر بھی کچھ یوں ہے کہ ہم آس لگائے ہوئے ہیں

زندگانی کو سکوں حاصل کسی پہلو نہیں
دل کے بہلانے کو یوں تو سب ہے لیکن تو نہیں
اے تسلی دینے والے تجھ کو اس کی کیا خبر
حسرتوں کا خون ہے پلکوں پہ یہ آنسو نہیں
سر جھکائے گوشۂ تنہائی میں بیٹھا ہوں میں
اب تصور میں کسی کے لب نہیں گیسو نہیں
لے چلا ہے کھینچ کر اک بے وفا کی بزم میں
کیا کروں خود اپنے دل پر بھی مرا قابو نہیں
صرف اپنوں میں نہیں غیروں میں بھی مقبول ہوں
یہ محبت کا کرشمہ ہے کوئی جادو نہیں
اب یہ عالم ہے کہ شاخوں پر گلستاں میں عزیزؔ
پھول تو کھلتے ہی رہتے ہیں مگر خوشبو نہیں

ہارے ہوئے لوگوں کی کہانی کی طرح ہیں
ہم لوگ بھی بہتے ہوئے پانی کی طرح ہیں
دنیا ترے ہونے کا یقیں کیوں نہیں کرتی
ہم بھی تو یہاں تیری نشانی کی طرح ہیں
چپکے سے گزرتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی
دن رات بھی کمبخت جوانی کی طرح ہیں
گر نام کمانا ہے تمہیں اتنا سمجھ لو
آنسو بھی محبت کی نشانی کی طرح ہیں
اس بار ہے ہونا بھی نہ ہونے کے برابر
اس بار تو ہم جیسے کہانی کی طرح ہیں

خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد
آپ آئے تو مگر طوفاں گزر جانے کے بعد
چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا
روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد
ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر میں
اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد
زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا
زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد
شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو
ہم بہت مصروف ہو جاتے ہیں گھر جانے کے بعد
زندگی کے نام پر ہم عمر بھر جیتے رہے
زندگی کو ہم نے پایا بھی تو مر جانے کے بعد

یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں
ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں
آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش
دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں
یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر
اے صاحب جمال ترا آئنا ہوں میں
یوں بار بار مجھ کو صدائیں نہ دیجئے
اب وہ نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں میں
میری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں
سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں میں
وہ بے وفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو
آنکھوں میں اس کے خواب لیے پھر رہا ہوں میں

وعدے ان حسینوں کے وفا ہو نہیں سکتے
پتھر کے صنم ہیں یہ خدا ہو نہیں سکتے
اک عمر چبھے ہیں مری آنکھوں میں جو آنسو
وہ تو مرے زخموں کی دوا ہو نہیں سکتے
فکر غم دنیا ہے کبھی فکر غم دل
احسان زمانے کے ادا ہو نہیں سکتے
اک شوخ نے یوں دل کو دکھایا ہے کہ یارو
سینے سے مرے ہاتھ جدا ہو نہیں سکتے
جذبات جو اک عمر سے اس دل میں نہاں ہیں
الفاظ میں اے یار ادا ہو نہیں سکتے
جنت ملے اب یا نہ ملے لیکن ایازؔ ہم
اس بت سے کسی طرح جدا ہو نہیں سکتے

اشک کو دریا بنایا آنکھ کو ساحل کیا
میں نے مشکل وقت کو کچھ اور بھی مشکل کیا
ایک مایوسی ہی دل میں کب تلک رہتی مرے
میں نے مایوسی میں دل کا خوف بھی شامل کیا
نیند کی امداد جیسے ہی بہم پہنچی مجھے
آنکھ کے مقتل میں اپنے خواب کو داخل کیا
ورنہ تیرا چھوڑ جانا جان لے جاتا مری
کرب میں آنسو ملا کر درد کو زائل کیا
جیسے دنیا دیکھتی ہے ویسے کب تک دیکھتے
دیدۂ بینا سے دیکھیں خود کو اس قابل کیا
ایک چہرہ اور دو آنکھیں لے گئے بازار میں
گروی رکھ کے ان کو پھر اک آئنہ حاصل کیا
ورنہ وہ کب بات سنتا تھا کسی کی بزم میں
میں نے اپنے شعر سے اس شخص کو قائل کیا
بے نیازی سے گزارے عمر کے بتیس سال
کھو دیا کب جانے تجھ کو کب تجھے حاصل کیا
رات دن الٹا لٹک کر ذات کے کنویں میں زیبؔ
سوچ کی ناپختگی کو مشق سے کامل کیا

پھر وہی تجدید موسم ہو گئی
وہ لہو برسا زمیں نم ہو گئی
برگ و گل کے جسم نیلے پڑ گئے
باغ کی تازہ ہوا سم ہو گئی
کیا کہا موج ہوا نے شام سے
لو چراغوں کی جو مدھم ہو گئی
کیا خبر کس سوچ میں ڈوبا ہے چاند
بام و در کی روشنی کم ہو گئی
عشق کا میدان خالی ہو گیا
شوق کی تلوار بے دم ہو گئی
آسماں سے رفعتیں نازل ہوئیں
جب جبیں انسان کی خم ہو گئی
یہ ہوائے سرد کی لہریں ایازؔ
آنسوؤں کی بوند شبنم ہو گئی

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا
تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا
زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا
مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا
دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے
پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا
تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک اجنبی
ایسے لگتا ہے یہ منظر ہے مرا دیکھا ہوا
ریزہ ریزہ ہو گیا میں تو نے جب آواز دی
تیری خاموشی سے تھا میں اس قدر ٹوٹا ہوا
کتنی یادیں آنسوؤں میں تھرتھرا کر رہ گئیں
اس نے جب پوچھا کہو آزادؔ تم کو کیا ہوا

وہ جو کسی کا روپ دھار کر آیا تھا
میرے اندر بسنے والا سایا تھا
وہ دکھ بھی کیوں ہم کو تنہا چھوڑ گئے
کیا کیا چھوڑ کے ہم نے جنہیں اپنایا تھا
خود تم نے دروازے بند رکھے ورنہ
میں اک تازہ ہوا کا جھونکا لایا تھا
میری اک آواز سے ساری ٹوٹ گئی
وہ دیواریں جن پر تو اترایا تھا
ویراں دل میں غم کے پریت بھٹکتے تھے
میری چپ پر کسی صدا کا سایا تھا
اس میں ایک جنم بھر کے دکھ سمٹے تھے
وہ آنسو جو پلکوں پر لہرایا تھا

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا
مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا
سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا
مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا
کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر
کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا
کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ہوئی خوشیاں
کرشمہ جو بھی تھا سارا ہماری ہی حسوں کا تھا
خود اپنی کاوشوں سے ہم نے اپنی قسمتیں لکھیں
مگر کچھ ہاتھ ان میں بھی ہمارے دشمنوں کا تھا
نئے رشتے مقدس خواب سے آواز دیتے تھے
مگر آسیب سا دل پر گزشتہ رابطوں کا تھا
کسے ملتی نجات آزادؔ ہستی کے مسائل سے
کہ ہر کوئی مقید آب و گل کے سلسلوں کا تھا

کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے
مقدر میں جو غم لکھے ہیں ان کا غم نہیں کرتے
تمہارے نقش پا پر جو نگاہیں اپنی رکھتے ہیں
وہ سر دیر و حرم کے سامنے بھی خم نہیں کرتے
گھٹاؤں کو برسنے کا اشارہ ہی نہیں ملتا
وہ جب تک زلف اپنے دوش پر برہم نہیں کرتے
مسائل دور حاضر کے ہیں موضوع غزل کچھ یوں
کہ شاعر آج کے ذکر گل و شبنم نہیں کرتے
اسے تہذیب غم کا نام اہل درد دیتے ہیں
مرے آنسو کبھی دامن تمہارا نم نہیں کرتے
سمجھتے ہیں اسے اہل نظر سامان خود بینی
شکستہ آئنہ کا وہ کبھی ماتم نہیں کرتے
اندھیروں کی شکایت کیا اندھیرے پھر اندھیرے ہیں
اجالے بھی ستم اس دور میں کچھ کم نہیں کرتے
محبت کس سے ہم کرتے ہیں کچھ بتلا نہیں سکتے
یہ ہے وہ راز جس میں دل کو بھی محرم نہیں کرتے
فریبوں سے کہاں تک دل کو ہم آزادؔ بہلائیں
سراب دشت شدت تشنگی کی کم نہیں کرتے

الم زندگی میں کما کر تو دیکھو
نظر آنسوؤں سے سجا کر تو دیکھو
کھڑے ہوں گے شانہ بہ شانہ تمہارے
ہمیں تم کبھی آزما کر تو دیکھو
تمہاری گلی میں لگی رونقیں ہیں
سر بام اک بار آ کر تو دیکھو
تمہیں بھی جواباً محبت ملے گی
محبت سے دل میں سما کر تو دیکھو
میں آئینہ ہوں سچ کہوں گا ہمیشہ
مجھے میری رہ سے ہٹا کر تو دیکھو
مجھے روشنی کا سہارا بہت ہے
مجھے ظلمتو تم مٹا کر تو دیکھو
پہن لی ہے عادلؔ نے دستار الفت
ذرا ہاتھ اس کو لگا کر تو دیکھو

بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے
فلک معصوم لوگوں کو بہت آنسو رلاتا ہے
میں دل کی لاش پر نوحہ کناں ہوں اور تو ظالم
بلا کر شہر داروں کو مرا چہرہ دکھاتا ہے
ارے حد ہو چکی بس بے حسی یہ اہل مسند کی
سر بازار لاشوں کی کوئی بولی لگاتا ہے
یہاں چلتا ہے میرے شہر میں قانون جنگل کا
یہاں ہر میمنہ کوئی درندہ کاٹ کھاتا ہے
تجھے معلوم بھی ہے یہ نگر ہے ظلم زادوں کا
ہے عنقا عدل یاں زنجیر کس خاطر ہلاتا ہے
اسے آتی فقط ہے مسند جاں پر خود آرائی
وہ فارغ بیٹھ کر بس خالی تقریریں بناتا ہے
مرے مولا مرے بچوں کو رکھ اپنے اماں میں تو
کہ عادلؔ وقت کا حالت پہ میری مسکراتا ہے

عشق نے تیرے نہ جانے کیا تماشا کر دیا
ایک قطرہ تھا میں لیکن مجھ کو دریا کر دیا
جب جنوں میرا بڑھا تو اس نے ایسا کر دیا
ان کو شرمندہ کیا اور مجھ کو رسوا کر دیا
عشق میرا چھپ نہیں سکتا چھپانے سے مرے
آنسوؤں نے خوب بہہ کر اس کو افشا کر دیا
ایک جلوہ جو کبھی تو نے دکھایا تھا مجھے
تیرے اس جلوے ہی نے محو تماشا کر دیا
کونسی تھی وہ خطا جس کی مجھے دی یہ سزا
بزم سے تو نے اٹھا کر مجھ کو رسوا کر دیا
اب تلاش چارہ گر میں کیوں کروں اور کس لئے
درد نے اب تو مرا خود ہی مداوا کر دیا
کیا ضرورت ہے چھپانے کی مرے قاتل کو اب
خون نے اس کو زباں سے آشکارہ کر دیا
میں بہت ممنون احساں ہوں عزیزؔ اس عشق کا
جس نے میرے قلب کو حسن مجلیٰ کر دیا

حسن پر جب شباب آتا ہے
اک نیا انقلاب آتا ہے
ان کو بھیجا ہے آج نامۂ شوق
دیکھیے کیا جواب آتا ہے
میری آنکھوں میں دیکھ کر آنسو
ان کو مجھ پر عتاب آتا ہے
بے نقاب ان کو دیکھنے کے لئے
رات کو ماہتاب آتا ہے
طالب دید درس الفت لیں
امتحاں میں یہ باب آتا ہے
آپ جو بھی سوال پوچھیں گے
مجھ کو اس کا جواب آتا ہے
قبر پر میری گل چڑھانے کو
وہ برائے ثواب آتا ہے
توبہ کرتے رہو گناہوں سے
شیطنت سے عذاب آتا ہے
رات میں دن عزیزؔ نکلے گا
ایسا اک آفتاب آتا ہے

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا
کرم کی شان رکھتے ہیں ستم ڈھانا نہیں آتا
مرے زخموں سے تم کب تک بچاؤ گے نظر اپنی
یہ وہ غنچے ہیں جن کو کھل کے مرجھانا نہیں آتا
کہوں کیسے کہ آنسو میری آنکھوں میں نہیں لیکن
صدف کو گوہر نایاب بکھرانا نہیں آتا
ہم اہل غم سدا سنگ الم سے کھیلتے آئے
یہ کس نے کہہ دیا پتھر سے ٹکرانا نہیں آتا
ہمارے جرم الفت کی تو کی شہرت زمانے میں
مگر اپنی جفا پر ان کو شرمانا نہیں آتا
ہم اپنی بد نصیبی سے اب اس منزل پہ آ پہنچے
فسانہ غم کا جس منزل پہ دہرانا نہیں آتا
فریب عہد سے ان کے عزیزؔ اب تو یہ عالم ہے
کسی صورت دل مضطر کو بہلانا نہیں آتا

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے
ہر مسافر سر پٹکتا جائے ہے
نازکی کیا کہئے نازک پھول کی
بار شبنم سے لچکتا جائے ہے
زخم دل ہم نے چھپایا تو مگر
پھول کی صورت مہکتا جائے ہے
کہہ رہا ہوں میں تو اپنی داستاں
کیوں تمہارا دل دھڑکتا جائے ہے
جب بجھانا چاہتا ہوں غم کی آگ
اور بھی شعلہ بھڑکتا جائے ہے
لب پہ ناصح کے نصیحت ہے مگر
ہاتھ میں ساغر چھلکتا جائے ہے
دیدۂ مقتول میں اب کس لئے
عکس قاتل کا جھلکتا جائے ہے
راہ میں پہلے بھٹکتا تھا عزیزؔ
اب سر منزل بھٹکتا جائے ہے

پنچھیوں کی کسی قطار کے ساتھ
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
کام آسان تو نہیں پھر بھی
جی رہے ہیں دل فگار کے ساتھ
آنسوؤں کی طرح وجود مرا
بہتا جاتا ہے آبشار کے ساتھ
اڑ رہا ہے جو تیری گلیوں میں
میں بھی شامل ہوں اس غبار کے ساتھ
شام وحشت کہاں پہ لے آئی
تو مجھے اپنے انتظار کے ساتھ
اور بھی اک حصار ہے اظہرؔ
شہر زنداں کے اس حصار کے ساتھ

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا
یاد رکھنے کو ملاقات کے جگنو لے جا
میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا
اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا
آ ذرا دیر کو اور مجھ سے ملاقات کے بعد
سوچنے کے لیے روشن کوئی پہلو لے جا
حادثے اونچی اڑانوں میں بہت ہوتے ہیں
تجربہ تجھ کو نہیں ہے مرے بازو لے جا
جو بھی اب ہاتھ ملاتا ہے تجھے پوچھتا ہے
آ مرے ہاتھوں سے یہ لمس کی خوشبو لے جا
لوگ اس شہر میں کیا جانے ہوں کیسے کیسے
میرا لہجہ مرے اخلاص کا جادو لے جا

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی
ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رت بدلنے لگی
پڑوس والو! دریچوں کو مت کھلا چھوڑو
تمہارے گھر سے بہت روشنی نکلنے لگی
ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو
جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی
بھلا ہو شہر کے لوگوں کی خوش لباسی کا
کہ بے کسی بھی مرا پیرہن بدلنے لگی
ٹھہر گئی ہے کہاں آ کے ڈھلتے ڈھلتے رات
مری نظر بھی چراغوں کے ساتھ جلنے لگی
نظر اٹھی تو اندھیرا تھا جب قدم اٹھے
شعاع مہر مرے ساتھ ساتھ چلنے لگی
ستم ظریفیٔ فطرت تو دیکھیے اظہرؔ
شباب آیا غزل پر تو عمر ڈھلنے لگی

رنگتیں معصوم چہروں کی بجھا دی جائیں گی
تتلیاں آندھی کے جھونکوں سے اڑا دی جائیں گی
حسرت نظارگی بھٹکے گی ہر ہر گام پر
خواب ہوں گے اور تعبیریں چھپا دی جائیں گی
آہٹیں گونجیں گی اور کوئی نہ آئے گا نظر
پیار کی آبادیاں صحرا بنا دی جائیں گی
اس قدر دھندلائیں گے نقش و نگار آزرو
دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں گنوا دی جائیں گی
فرصتیں ہوں گی مگر ایسی بڑھیں گی تلخیاں
صرف یادیں ہی نہیں شکلیں بھلا دی جائیں گی
اس قدر روئیں گی آنکھیں دیکھ کر پچھلے خطوط
آنسوؤں سے ساری تحریریں مٹا دی جائیں گی
رات کے جگنو پہ ہوگا چڑھتے سورج کا گماں
ظلمتیں ماحول کی اتنی بڑھا دی جائیں گی

یہ کیا کہ رنگ ہاتھوں سے اپنے چھڑائیں ہم
الزام تتلیوں کے پروں پر لگائیں ہم
ہوتی ہیں روز روز کہاں ایسی بارشیں
آؤ کہ سر سے پاؤں تلک بھیگ جائیں ہم
اکتا گیا ہے ساتھ کے ان قہقہوں سے دل
کچھ روز کو بچھڑ کے اب آنسو بہائیں ہم
کب تک فضول لوگوں پر ہم تجربے کریں
کاغذ کے یہ جہاز کہاں تک اڑائیں ہم
کردار سازیوں میں بہت کام آئیں گے
بچوں کو واقعات بڑوں کے سنائیں ہم
اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ
محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم
اظہرؔ سماعتیں ہیں لطیفوں کی منتظر
محفل میں اپنے شعر کسے اب سنائیں ہم

دیکھیے چلتا ہے پیمانہ کدھر سے پہلے
بزم میں شور ہے ہر سمت ادھر سے پہلے
غم کی تاریک گھٹاؤں سے پریشان نہ ہو
تیرگی ہوتی ہے آثار سحر سے پہلے
آپ جس راہ گزر سے ہیں گزرنے والے
ہم گزر آئے ہیں اس راہ گزر سے پہلے
مجھ سے دیکھے نہیں جاتے ہیں کسی کے آنسو
پونچھ لو اشک ذرا دیدۂ تر سے پہلے
حسن والے تو بہت پھرتے ہیں ہر سو لیکن
تم سا کوئی نہیں گزرا ہے نظر سے پہلے
ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ
سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے
تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے
صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر
خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے
تمناؤں کے سینے پر رکھے سر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
سنا ہے اپنا چہرہ زندگانی
مسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے
یہاں سے اور وہاں تک نا امیدی
ہمارے دل کا عنواں ہو رہی ہے

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے
ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے
یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے
آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم
اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے
روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے
اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے
ارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزری
آئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے
یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی
محفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے
اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں
سب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے
وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے
چاہئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے
یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے
ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود
تم پکارو گے تو ہر بار اٹھا لائیں گے
گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غم خوار اٹھا لائیں گے
کون سا پھول سجے گا ترے جوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے

رات وحشت سے گریزاں تھا میں آہو کی طرح
پاؤں پڑتی رہی زنجیر بھی گھنگرو کی طرح
اب ترے لوٹ کے آنے کی کوئی آس نہیں
تو جدا مجھ سے ہوا آنکھ سے آنسو کی طرح
اب ہمیں اپنی جہالت پہ ہنسی آتی ہے
ہم کبھی خود کو سمجھتے تھے ارسطو کی طرح
ہاں تجھے بھی تو میسر نہیں تجھ سا کوئی
ہے ترا عرش بھی ویراں مرے پہلو کی طرح
ناز و انداز میں شائستہ سا وہ حسن نفیس
ہو بہ ہو جان غزل ہے مری اردو کی طرح

بھنور سے ناؤ کے پلڑے بچانے پڑتے ہیں
مجھے یہ لوگ کنارے لگانے پڑتے ہیں
سو اتنا سہل محبت کو لے نہ شہزادی
گداز پوروں سے کانٹے اٹھانے پڑتے ہیں
کبھی جو حال کو چہرے سے بھانپ لیتا تھا
اب اس کو رنج بھی رو کر بتانے پڑتے ہیں
ہماری شاخوں تک آتی ہے جب خزاں کی شنید
ہم ایسے پیڑوں کو پتے گرانے پڑتے ہیں
تپش بھی دھوپ کی لگنے نہ دی ہو جن کو کبھی
وہ پیارے مٹی میں اک دن دبانے پڑتے ہیں
وہ شخص میری حسنؔ ایک بھی نہیں سنتا
میں کیا کروں مجھے آنسو بہانے پڑتے ہیں

آنسو تمہاری آنکھ میں آئے تو اٹھ گئے
ہم جب کرم کی تاب نہ لائے تو اٹھ گئے
بیٹھے تھے آ کے پاس کہ اپنوں میں تھا شمار
دیکھا کہ ہم ہی نکلے پرائے تو اٹھ گئے
ہم حرف زیر لب تھے ہمیں کون روکتا
لفظوں کے تم نے جال بچھائے تو اٹھ گئے
بیٹھے چھپا چھپا کے جو دامن میں آفتاب
ہم نے بھی کچھ چراغ جلائے تو اٹھ گئے
کیا تھا ہمارے پاس بجز اک سکوت غم
چرکے بہت جو تم نے لگائے تو اٹھ گئے

چند لمحوں کو سہی تھا ساتھ میں رہنا بہت
ایک بس تیرے نہ ہونے سے ہے سناٹا بہت
ضبط کا سورج بھی آخر شام کو ڈھل ہی گیا
غم کا بادل بن کے آنسو رات بھر برسا بہت
دشمنوں کو کوئی بھی موقع نہ ملنے پائے گا
دوستوں نے ہی مرے بارے میں ہے لکھا بہت
میں کھرا اترا نہیں تیرے تقاضے پر کبھی
زندگی اے زندگی تجھ سے ہوں شرمندہ بہت
بس انا کے بوجھ نے نظریں مری اٹھنے نہ دیں
اس کی جانب دیکھنے کو جی مرا چاہا بہت
میں نے پوچھا یہ بتا مجھ سے بچھڑنے کا تجھے
کچھ قلق ہوتا ہے کیا اس نے کہا تھوڑا بہت
گھر ہمارا پھونک کر کل اک پڑوسی اے عتیقؔ
دو گھڑی تو ہنس لیا پھر بعد میں رویا بہت

مری زندگی کسی موڑ پر کبھی آنسوؤں سے وفا نہ دے
تری آنکھ کی یہ گھٹا کہیں یوں برس کے مجھ کو رلا نہ دے
وہی چھاؤں نیم کے پیڑ کی وہی شام دے یہ فضا نہ دے
گئے موسموں کا اسیر ہوں نئے موسموں کی سزا نہ دے
مرے ناخدا ترا شکریہ کوئی اور مجھ پہ کرم نہ کر
تری مصلحت کی ہوا کہیں مرا بادبان اڑا نہ دے
مرے خط کو لے کے خوشی سے وہ کئی بار چومے گی تو مگر
مجھے ڈر ہے بھیگا وہ لفظ اک مرے غم کا قصہ سنا نہ دے
وہی جس کے پیار کی آگ نے مرے خد و خال جھلس دیے
مجھے ڈر ہے اب مجھے دیکھ کے وہ نظر سے اپنی گرا نہ دے
تری شوخ آنکھوں میں بارہا کئی خواب دیکھے ہیں پیار کے
ترا پیار میرا نصیب ہے کسی اور کو یہ وفا نہ دے

جس کی خاطر میں نے دنیا کی طرف دیکھا نہ تھا
وہ مجھے یوں چھوڑ جائے گا کبھی سوچا نہ تھا
اس کے آنسو ہی بتاتے تھے نہ اب لوٹے گا وہ
اس سے پہلے تو بچھڑتے وقت یوں روتا نہ تھا
رہ گیا تنہا میں اپنے دوستوں کی بھیڑ میں
اور ہمدم وہ بنا جس سے کوئی رشتہ نہ تھا
قہقہوں کی دھوپ میں بیٹھے تھے میرے ساتھ سب
آنسوؤں کی بارشوں میں پر کوئی بھیگا نہ تھا
اشک پلکوں پے بچھڑ کر اپنی قیمت کھو گیا
یہ ستارہ قیمتی تھا جب تلک ٹوٹا نہ تھا
مرمریں گنبد پہ رکتی تھی ہر اک پیاسی نظر
پر کسی نے مقبرے میں غم چھپا دیکھا نہ تھا

قلب گہہ میں ذرا ذرا سا کچھ
زخم جیسا چمک رہا تھا کچھ
یوں تو وہ لوگ مجھ ہی جیسے تھے
ان کی آنکھوں میں اور ہی تھا کچھ
تھا سر جسم اک چراغاں سا
روشنی میں نظر نہ آیا کچھ
ہم زمیں کی طرف جب آئے تھے
آسمانوں میں رہ گیا تھا کچھ
دوسروں کی نظر سے دیکھیں گے
دیکھنا کچھ تھا ہم نے دیکھا کچھ
کچھ بدن کی زبان کہتی تھی
آنسوؤں کی زبان میں تھا کچھ

شب نے کیا کھول دئے اپنے مہکتے گیسو
پھر سے یادوں کے بہکنے لگے پاگل جگنو
کچھ تعجب نہیں رک جائے ہوا کی دھڑکن
کہر سی کہر ہے پھیلی ہوئی اب تو ہر سو
مدتوں پہلے کبھی برسے تھے دل پر پتھر
آج تک دیدۂ احساس سے بہتا ہے لہو
عارض شب پہ جھلکتی ہے یوں تاروں کی لڑی
جیسے تنہائی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو
دشت تخئیل وہ صحرائے جنوں ہے اطہرؔ
صرف لفظوں کا جہاں چل نہیں سکتا جادو

چپ چاپ حبس وقت کے پنجرے میں مر گیا
جھونکا ہوا کا آتے ہی کمرے میں مر گیا
سورج لحاف اوڑھ کے سویا تمام رات
سردی سے اک پرندہ دریچے میں مر گیا
جو ناخدا کو کہہ نہ سکا عمر بھر خدا
وہ شخص کل انا کے جزیرے میں مر گیا
ایڈیٹری نے کاٹ دیں تخلیق کی رگیں
اچھا بھلا ادیب رسالے میں مر گیا
سورج نے آنسوؤں کی توانائی چھین لی
شبنم سا شخص دھوپ کے قصبے میں مر گیا
اس مرتبہ بھی سچی گواہی اسی نے دی
اس مرتبہ مگر وہ کٹہرے میں مر گیا
ناسکؔ وہ اپنی ذات میں منزل سے کم نہ تھا
وہ رہرو حیات جو رستے میں مر گیا

ہاتھ کیوں تھکنے لگے ہیں قاتلوں سے پوچھنا
کے بھی کیوں بولتی ہیں گردنوں سے پوچھنا
تم نے تو بس حال ہی پوچھا تھا مجھ بیمار کا
آ گئے ہیں کیوں امنڈ کر آنسوؤں سے پوچھنا
جوجھتے رہنے کا ہے سیلاب سے مفہوم کیا
کشتیوں کو کھینے والے مانجھیوں سے پوچھنا
بھوکے بچے کے لیے کیا شے ہے ممتا کی تڑپ
دودھ سے محروم ماں کی چھاتیوں سے پوچھنا
دھوپ میں پت جھڑ کی ان کا پیڑ سے رشتہ ہے کیا
سوکھے ڈنٹھل جن کے ہیں ان پتیوں سے پوچھنا
گونجتی ہے اک اکیلے ہنس کی آواز کیوں
کل ملے تھے جن پہ ہم ان ساحلوں سے پوچھنا
یاد ہے اب تک مجھے اطہرؔ کہ میرا بار بار
ان کے نقش پا کہاں ہیں راستوں سے پوچھنا

بہت دشوار ہے تسکین ذوق رنگ و بو کرنا
جو چن سکتے ہو کانٹے تو گلوں کی آرزو کرنا
جہاد زندگی میں ہو جو خود کو سرخ رو کرنا
جگر کو خاک کرنا اور کبھی دل کو لہو کرنا
کسی کو دیکھنے کی خواب میں جب آرزو کرنا
نظر کو اشک خون دل سے پہلے با وضو کرنا
خرد کا دیجئے نام اس کو یا دیوانگی کہئے
گریباں چاک کرنا اور دامن کو رفو کرنا
بغیر خوئے تسلیم و رضا جینا کچھ ایسا ہے
کہ شغل بادہ نوشی جیسے بے جام و سبو کرنا
لگے کیوں کر جبیں پر اپنی داغ منت قاتل
مجھے آتا ہے شمشیر ستم زیب گلو کرنا
سر مژگاں چھلک کر آنسوؤں نے دستگیری کی
کہاں ممکن تھا ورنہ شرح حرف آرزو کرنا
یہ عالم ہے کہ بار خاطر صیاد ہے اطہرؔ
در و دیوار زنداں سے بھی میرا گفتگو کرنا

اوڑھ لے پھر سے بدن رات کے بازو نکلے
خواب در خواب کسی خوف کا چاقو نکلے
آئنے پر کسی ناخن کی خراشوں کا وہم
عکس نوچوں تو وہاں بھی ترا جادو نکلے
تیری آواز کی کرنوں سے تصور روشن
پھول نکلے کہ ترے جسم کی خوشبو نکلے
شعبدہ گر تری آغوش تلک جا پہنچا
تیرے پہلو سے کئی اور بھی پہلو نکلے
جشن زنداں کی روایت کا بھرم قائم ہے
جسم نے رقص کیا آنکھ سے آنسو نکلے

مری مشکل اگر آساں بنا دیتے تو اچھا تھا
لبوں سے لب دم آخر ملا دیتے تو اچھا تھا
میں جی سکتا تھا بس تیری ذرا سی اک عنایت سے
مرے ہاتھوں میں ہاتھ اپنا تھما دیتے تو اچھا تھا
مری بیتاب دھڑکن کو بھی آ جاتا قرار آخر
مرے خوابوں کی دنیا کو سجا دیتے تو اچھا تھا
تمہاری بے رخی پر دل مرا بے چین رہتا تھا
کبھی عادت یہ تم اپنی بھلا دیتے تو اچھا تھا
کبھی اس جلد بازی کا ثمر اچھا نہیں ہوتا
کوئی دن اور چاہت میں بتا دیتے تو اچھا تھا
صفیؔ آنسو بھی دشمن بن گئے ہیں دیکھ لے آخر
نہ ان کو ضبط کرتے تم بہا دیتے تو اچھا تھا

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے
پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے
ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن
آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے
کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے
یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے
باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے
پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب کے
دو لخت ہو گیا ہے یہ دل نزار اپنا
اٹھا جو دوریوں کا پھر سے سوال اب کے
برگ و ثمر سے عاری تنہا شجر ہو جیسے
جیون کی ہے صفیؔ جی ایسی مثال اب کے

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے
ہم آدمی ہیں ہماری بساط ہی کیا ہے
بچھڑ کے گھر سے یہی سوچتا ہوں میں دن رات
شجر سے ٹوٹ کے پتوں کی زندگی کیا ہے
جلے مگر جو نہ روشن ہوئے زمانے میں
وہی چراغ سمجھتے ہیں روشنی کیا ہے
بس ایک رات کا مہمان ہے پرندہ یہاں
اسے پتہ ہی نہیں شاخ چاہتی کیا ہے
ہمارے آنسو جو چاہیں تو غرق ہو دنیا
ہمارے بارے میں دنیا یہ جانتی کیا ہے
کبھی خموش کبھی تیز رو بپھرتی ہے
پہاڑ سے کوئی پوچھے ذرا ندی کیا ہے

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں
مگر کسی کی دعائیں بھی کام کرتی ہیں
مشاعروں میں فقط شاعری نہیں چلتی
مشاعروں میں ادائیں بھی کام کرتی ہیں
چراغ ہوں نہ کوئی پھول ہوں یہاں پھر بھی
مرے خلاف ہوائیں بھی کام کرتی ہیں
کسی کے رونے سے میں بھی بکھرنے لگتا ہوں
کہ آنسوؤں کی صدائیں بھی کام کرتی ہیں
ہمارا روگ بڑھانے میں اجنبیؔ صاحب
کبھی کبھی تو دوائیں بھی کام کرتی ہیں

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے
ہر ایک موج سمندر کی پائیدان سی ہے
ہر ایک شخص کو گاہک سمجھ کے خوش رکھنا
یہ زندگی بھی ہماری کوئی دکان سی ہے
میں آسماں کی طرح مدتوں سے ٹھہرا ہوں
بدن میں پھر بھی زمیں جیسی کچھ تھکان سی ہے
دکھوں کا کیا ہے یہ آتے ہیں تیر کی مانند
خوشی ہمیشہ مرے واسطے کمان سی ہے
قدم سنبھال کے رکھنا حسین راہوں پر
پھسل گئے تو پھر آگے بڑی ڈھلان سی ہے
زبان منہ میں ہمارے تھی جب غلام تھے ہم
ہمارے منہ میں مگر اب تو بس زبان سی ہے
اب آئے دن ہی نکلتا ہے آنسوؤں کا جلوس
ہماری آنکھ مسلسل لہولہان سی ہے

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے
نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے
میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا
کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے
تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق
جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے
ہزاروں طور نہیں چشم معرفت کے لئے
جہاں جہاں تری معجز نما نظر جائے
تجلیات سے معمور ہے ہر اک ذرہ
بلا سبب نہ کوئی کوہ طور پر جائے
نہ پی تو اپنے یہ آنسو مذاق میں ساقیؔ
کہیں نہ زہر محبت میں کام کر جائے

عجیب شخص ہوں فرط وبال ہوتے ہوئے
فراق مانگ رہا ہوں وصال ہوتے ہوئے
نڈھال اپنے تماشائیوں کے جھرمٹ میں
میں خود کو دیکھ رہا ہوں خیال ہوتے ہوئے
بس ایک ورزش تحریر لوح ہستی پر
بس اک سوال کی دھن خود سوال ہوتے ہوئے
کچھ اس کمال سے روندا گیا ہوں مستی میں
بہت سکون ہے اب پائمال ہوتے ہوئے
شرار سنگ کو کیا اب بھی استعارہ کہوں
ان آنسوؤں کی یہ زندہ مثال ہوتے ہوئے
گزر گیا ہوں مثال زمانہ خود پر سے
میں لمحہ لمحہ علی الاتصال ہوتے ہوئے
میں اپنے عکس کو عاصمؔ خدا سمجھ بیٹھا
خطا ہوئی تھی یہ محو جمال ہوتے ہوئے

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے
عمر لگ جائے گی اس بوند کو دریا کرتے
عشق میں جاں سے گزرنا بھی کہاں ہے مشکل
جان دینی ہو تو عاشق نہیں سوچا کرتے
ایک تو ہی نظر آتا ہے جدھر دیکھتا ہوں
اور آنکھیں نہیں تھکتی ہیں تماشا کرتے
زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ
سامنے تجھ کو بٹھا بیٹھ کے دیکھا کرتے
ہم سزاوار تماشا تھے ہمیں دیکھنا تھا
اپنے ہی قتل کا منظر تھا مگر کیا کرتے
اب یہی سوچتے رہتے ہیں بچھڑ کر تجھ سے
شاید ایسے نہیں ہوتا اگر ایسا کرتے
جو بھی ہم دیکھتے ہیں صاف نظر آ جاتا
چشم حیرت کو اگر دیدۂ بینا کرتے
شہر کے لوگ اب الزام تمہیں دیتے ہیں
خود برے بن گئے عاصمؔ اسے اچھا کرتے
Conclusion – Even Tears Have Meaning
Life is not a continuous display of happiness; rather, in some cases, tears are the sincerest prayers.
These Ansu quotations in Urdu remind us that even in the most painful moments of life, there is a certain serenity in surrendering one’s heart.
When you are in a situation where tears come to your eyes, it is a sign that you have loved, lost, and lived deeply, so do not forget that.
The Ansu may drop down without making a sound, but their noise goes to the heart of the Almighty who hears.
Thus, allow your tears to stream down whenever they feel the need to, for they cleanse the soul.
Thank You Message
We are grateful to you for viewing our collection of 60+ Ansu Quotes in Urdu.
Let these sincere words in Urdu remind you that, at the same time, pain is a struggle; it can approach poetry too.
If any quote here reflected your feeling, pass it on to someone else might get healed by the emotion you both have shared.
Because, indeed, every tear links one heart to the other.
FAQs
Q1: What are Ansu Quotes in Urdu?
Emotional Urdu proverbs and poetic lines that cry speak about their root, sadness, heartbreak, and the depth of human feelings, among others.
Q2: Are these quotes only about sadness?
Mainly, yes, but a number of Urdu tear quotes also refer to strength, healing, and inner peace.
Q3: Can I share these quotes on social media?
Certainly! These Ansu Urdu quotes are indeed suitable for Instagram captions, WhatsApp statuses, or even poetry posts.
Q4: Why are Ansu’s quotes so popular in Urdu?
Because Urdu is an emotional language — each term possesses a feeling, and tears make poetry even more powerful.
Q5: Are these quotes easy to understand?
Yes, all the quotes are composed in plain Urdu, simple for everyone to comprehend and feel
