50+ Jaun Elia Best Quotes – Words That Touch the Soul
Introduction – The Genius and Pain of Jaun Elia
The few poets in the history of Urdu could communicate with the heart as Jaun Elia. His writings were naked, sincere, and very much human.
He openly portrayed pain, love, loneliness, and the intricate beauty of existence through his verses.
This anthology of 50+ Jaun Elia Best Quotes is a roundup of his mightiest and most unforgettable lines — each being filled with the same feeling, the same wisdom, and the same hint of defiance as the previous one. No matter if it is Jaun Elia’s gloomy quotes, love poems, or thought-stimulating Urdu lines you fancy, you will find your heart beaten directly by the words of this collection.
All the messages portray an intimate relationship, for Jaun always wrote not to dazzle but to ventilate.
Description – Jaun Elia’s Magic in Words
Jaun Elia was a poet and a philosopher with emotions sharper than the very truth. He could only create quotes that mixed pain and beauty the way he did. These Jaun Elia Urdu quotes cover the entire human experience: love, heartbreak, loneliness, self-awareness, and the quest for meaning.
In this collection, you will find:
- Romantic Jaun Elia quotes talking about love’s fire and loss
- Sad Urdu lines portraying heartbreak and emptiness
- Philosophical quotes about life, time, and human nature
- Famous Jaun Elia poetry lines that are known across generations
- Jaun’s words are everlasting; they remind us that often, pain and poetry co-exist.
His pen never describes emotions; rather, it evokes them.

یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری
جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار
بس یوں سمجھو میرے اوپر بجلی سی اک بار گری
دھار پہ باڑ رکھی جائے اور ہم اس کے گھائل ٹھہریں
میں نے دیکھا اور نظروں سے ان پلکوں کی دھار گری
گرنے والی ان تعمیروں میں بھی ایک سلیقہ تھا
تم اینٹوں کی پوچھ رہے ہو مٹی تک ہموار گری
بے داری کے بستر پر میں ان کے خواب سجاتا ہوں
نیند بھی جن کی ٹاٹ کے اوپر خوابوں سے نادار گری
خوب ہی تھی وہ قوم شہیداں یعنی سب بے زخم و خراش
میں بھی اس صف میں تھا شامل وہ صف جو بے وار گری
ہر لمحہ گھمسان کا رن ہے کون اپنے اوسان میں ہے
کون ہے یہ؟ اچھا تو میں ہوں لاش تو ہاں اک یار گری

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
ہے بدن خواب وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کی بانہوں میں
شکوۂ نارسائی کرتے ہیں
حالت وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
آپ جو میری جاں ہیں میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
با وفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
پل قیامت کے سود خوار ہیں جونؔ
یہ ابد کی کمائی کرتے ہیں

یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں
سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں
تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں
بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں
دامن میں کیے ہیں جمع گرداب
جیبوں میں حباب رکھ رہا ہوں
آئے گا وہ نخوتی سو میں بھی
کمرے کو خراب رکھ رہا ہوں
تم پر میں صحیفہ ہائے کہنہ
اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں

وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں
سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں
اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر
درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں
بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو
سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں
چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا
مست کر دے مگر پلا ہی نہیں
تو جو ہے جان تو جو ہے جاناں
تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں
مست ہوں میں مہک سے اس گل کی
جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں
ہائے جونؔ اس کا وہ پیالۂ ناف
جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں
تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ
ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
ہے اسے دور کا سفر در پیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
تم بنو رنگ تم بنو خوشبو
ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں
میں اسی طرح تو بہلتا ہوں
اور سب جس طرح بہلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں

خود سے رشتے رہے کہاں ان کے غم تو جانے تھے رائیگاں ان کے مست ان کو گماں میں
رہنے دے خانہ برباد ہیں گماں ان کے یار سکھ نیند ہو نصیب ان کو دکھ یہ ہے دکھ ہیں بے
اماں ان کے کتنی سرسبز تھی زمیں ان کی کتنے نیلے تھے آسماں ان کے
نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں ان کے

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے میری تنہائی میں
خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

کوئے جاناں میں اور کیا مانگو حالت حال یک صدا مانگو ہر نفس تم یقین منعم سے
رزق اپنے گمان کا مانگو ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک اس سے دوری کا سلسلہ مانگو
در مطلب ہے کیا طلب انگیز کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو گوشہ گیر غبار ذات ہوں میں مجھ میں
ہو کر مرا پتا مانگو منکران خدائے بخشندہ اس سے تو اور اک خدا مانگو اس شکم رقص گر کے سائل ہو
ناف پیالے کی تم عطا مانگو لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں کچھ نہ مانگو فقط دعا مانگو

نہیں شوریدگانِ شہر میں وہ سوزِ جاں اب کے ہیں شامیں سوختہ جانوں کی بے شورِ فغاں اب کے ہیں
شوقِ گرمئ آغوش کے جذبے زمستانیشب اندر شب ہو جیسے برفباری کا سماں اب کےکوئی لہجہ
یہاں شعلے پہن کے اب نہیں آتانہیں سایہ فگن محفل پہ سانسوں کا دھواں اب کےسرود و ساز ہیں
سرما فروشِ حلقۂ یاراںدلوں میں زمہریری کپکپی ہے پر فشاں اب کےستم ہے رشتہ ہائے
آشتی کی پاسداری ہےمرے یارو! تمہارے اور خدا کے درمیاں اب کےلباسِ آتشِ انکارِ ابلیسی
جلا ڈالایقیں کے ستر پوشانِ گماں نے بے گماں اب کےہوئی گم اے گروہِ دل تپاں، آتش بجاں
آخرترے احساس اور انفاس کی سوزش کہاں اب کےہے اک خورشیدِ یخ بستہ کا پرتو
خاک پر غلطاںہے زندہ دھوپ کو ترسی ہوئی یہ بستیاں اب کےسیاہی کی لپک ہے اور ہیں
آتشکدے اپنےکہاں پائیں فروغِ چشمِ جاں زردشتیاں اب کےدر و دیوار یخ ہیں اور ہوائیں
زمہریری ہیںلبِ شکوہ کھلے بھی تو صدائیں زمہریری ہیںدلوں کی فصل برفانی ہے اور
شیوے زمستانیوفائیں زمہریری ہیں، جفائیں زمہریری ہیںکسے کس سے گلہ ہو اور
گلے کا کیا صلہ ٹھہرےسماعت یخ زدہ ہے، التجائیں زمہریری ہیںکیا خونِ جگر
کا خوش گمانی میں زیاں ہم نےشفق کے رنگ لکھے داستاں در داستاں ہم نےفضا ہے
ایسی برفانی کہ سانسیں جم کے رہ جائیںنہ کی ہوتی یہاں سینے کی گرمی رائیگاں ہم نے
نفس ٹھٹھرے ہوئے ہیں شعلہ ہائے لب کے موسم میںمجھے سردی زیادہ ہی لگے گی اب کے موسم میں

رنج ہے حالت سفر حال قیام رنج ہے صبح بہ صبح رنج ہے شام بہ شام رنج ہے اس کی شمیم زلف کا کیسے ہو
شکریہ ادا جب کہ شمیم رنج ہے جب کہ مشام رنج ہے صید تو کیا کہ صید کار خود بھی نہیں
یہ جانتا دانہ بھی رنج ہے یہاں یعنی کہ دام رنج ہے معنئ جاودان جاں کچھ بھی نہیں
مگر زیاں سارے کلیم ہیں زبوں سارا کلام رنج ہے بابا الف مری نمود رنج ہے
آپ کے بقول کیا مرا نام بھی ہے رنج ہاں ترا نام رنج ہے کاسہ گداگری کا ہے
ناف پیالہ یار کا بھوک ہے وہ بدن تمام وصل تمام رنج ہے جیت کے کوئی آئے تب ہار کے
کوئی آئے تب جوہر تیغ شرم ہے اور نیام رنج ہے دل نے پڑھا سبق تمام بود تو ہے
قلق تمام ہاں مرا نام رنج ہے ہاں ترا نام رنج ہے پیک قضا ہے دم بہ دم جونؔ
قدم قدم شمار لغزش گام رنج ہے حسن خرام رنج ہے بابا الف نے شب کہا نشہ بہ نشہ
کر گلے جرعہ بہ جرعہ رنج ہے جام بہ جام رنج ہے آن پہ ہو مدار کیا بود کے روزگار
کا دم ہمہ دم ہے دوں یہ دم وہم دوام رنج ہے رزم ہے خون کا حذر کوئی
بہائے یا بہے رستم و زال ہیں ملال یعنی کہ سام رنج ہے

حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے کہ دار پر گئے ہم اور پھر اتر آئے عجیب حال کے
مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز بہ سوئے باد یہ محمل میں بیٹھ کر آئے کبھی گئے تھے
میاں جو خبر کے صحرا کی وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے کوئی جنوں نہیں سودائیان
صحرا کو کہ جو عذاب بھی آئے وہ شہر پر آئے بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا پرندگان ہوا
خاک پر اتر آئے عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو خیال خام کا تاوان تھا سو بھر آئے

مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں پوچھتی ہیں
آپ، آپ اچھے تو ہیں جی میں اچھا ہوں، دوائیں چاہییں

غم کو غزلوں میں سجا کر حسن پیدا کر لیا
میں نے اپنے درد کا بھی اک تماشہ کر لیا
میں نے بھی میں ٹھیک ہوں کہہ کر نگاہیں پھیر لیں
تو نے بھی اس جھوٹ پر رسماً بھروسہ کر لیا
جستجو تیری تھی پھر کیا دھوپ کیسی تشنگی
وسعت صحرا میں ان آنکھوں کو دریا کر لیا
اک تعلق یاد کا بچتا ہے جس پر بس نہیں
باقی جیسا تو نے چاہا میں نے ویسا کر لیا
کتنی ہی بے خواب راتیں بد حواسی شاعری
خود کو تیری یاد میں جون ایلیاؔ سا کر لیا
مطرب ساز شکستہ شاعر آشفتہ سر
اک تری فرقت میں میں نے خود کو کیا کیا کر لیا

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہو گی
چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی
چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہو گی
سو گئی ہو گی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہو گی
سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہو گی
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہو گی
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہو گی
نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہو گی
ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہو گی

اس رایگانی میں
سو وہ ہمارے آخری آنسو تھے
جو ہم نے گلے مل کر بہائے تھے
نہ جانے وقت اُن آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
مگر میری فریبِ وقت کی بہکی ہوئی آنکھوں نے
اس کے بعد بھی
آنسو بہائے ہیں
میرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ہیں
مگر یوں ہے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
مری آنکھیں
گلے ملتے ہوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو
پھر نہ رو پائیں

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم
ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں
تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں
اور اِس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں
پس سر بسر اذّیت و آزار ہی رہو
بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم
جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو
تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض
تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو
میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا
تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو
تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی
اس رنگ اس ادا میں بھی پُرکار ہی رہو
میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات
میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو
اپنی متاعِ ناز لُٹا کر میرے لیے
بازارِ التفات میں نادار ہی رہو
جب میں تمہیں نشاطِ محبت نہ دے سکا
غم میں کبھی سکونِ رفاقت نہ دے سکا
جب میرے سب چراغِ تمنا ہوا کے ہیں
جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں
پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم ،
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسم دُوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا ، اخلاص ، قربانی ، محبت ،
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم ،
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
نہیں دنیا کو جب پرواہ ہماری ،
تو پھر دنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی،مرو ّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

ہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے🥀
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے😢
کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے🖤
ہم سے روٹھا بھی گیا ہم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے💔
جون! دل شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر تو و ہّم کے بسائے بھی گئے

تم اتنا مختصر کیوں بولتی ہو
کہ جیسے اک مجسم خامشی ہو
سر محفل نگاہیں کہہ چکی ہیں
مرے کانوں میں تم جو کہہ رہی ہو
مسلسل ہچکیاں آنے لگی ہیں
مرے بارے میں کتنا سوچتی ہو
مجھے کہتی ہو میں سب بھول جاؤں
خود اب بھی میری غزلیں پڑھ رہی ہو
اداسی دل میں یوں اتری ہے جیسے
کوئی جون ایلیا کی شاعری ہو
کئی دن ہو گئے بے چین ہوں میں
کئی راتوں سے تم بھی جاگتی ہو

ہاں یہ ٹھیک ہے میں انا کا مریض ہوں
آخر میرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے ، چھین لے کوئی

لکھنے میں دُکھن ھے اور پڑھنے میں دُکھ ھے۔
بولنے میں آزار ھے اور سننے میں اُداسی ھے۔
جو کچھ لکھا اور پڑھا سب رائیگاں گیا ،
جو کچھ کہا گیا اورسنا گیا سب کارِ دشت کی سیاہی ھے
اور المیہ یہ ھے کہ اُس سے فرار بھی نہیں.
آئیے اُداسی میں مزید اُداسی کو شامل کرتے ھیں اور یہ نظم پڑھتے ھیں.
”مگر یہ زخم ، یہ مرھم“
تمہارے نام ، تمہارے نشان سے بے سروکار
تمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ھیں
بس ایک منظرِ بے ھجر و وصل ھے , جس میں
ھم اپنے آپ ھی , کچھ رنگ بھرتے جاتے ھیں
نہ وہ نشاط تصور ، کہ لو تم آ ھی گئے
نہ زخم دل کی ھے سوزش ، کوئی جو سہنی ھو
نہ کوئی وعدہ و پیماں کی شام ھے ، نہ سحر
نہ شوق کی ھے کوئی داستاں ، جو کہنی ھو
نہیں جو محملِ لیلائے آرزو، سرِ راہ
تو اب فضا میں ، فضا کے سوا کچھ نہیں
نہیں جو موجِ صبا میں کوئی شمیمِ پیام
تو اَب صبا میں ، صبا کے سِوا کچھ نہیں
اُتار دے جو کنارے پہ ، ھم کو کشتئ وھم
تو گرد و پیش کو ، گرداب ھی سمجھتے ھیں
تمہارے رنگ مہکتے ھیں ، خواب میں جب بھی
تو خواب میں بھی اُنہیں ، خواب ھی سمجھتے ھیں
نہ کوئی زخم ، نہ مرھم , کہ زندگی اپنی
گزر رھی ھے ، ھر احساس کو گنوانے میں
مگر یہ زخم ، یہ مرھم بھی , کم نہیں شاید
کہ ھم ھیں ایک زمیں پر ، اور ایک زمانے میں

آج کے بعد عشرت مجلس شام غم کہاں
جی نہ لگے گا تیرے بعد ، پر ترے بعد ہم کہاں
اب یہ جبین و چشم و لب تجھ کو نظر نہ آئیں گے
غور سے دیکھ لے ہمیں ___، آج کے بعد ہم کہاں

آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یاد گار تھے ہم تو
اُڑے جاتے ہیں دھول کی مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
تم نے کیسے بھلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جان ِ من جاں نثار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادر ِ روز گار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو

سو وہ ہمارے آخری آنسو تھے
جو ہم نے گلے مل کر بہائے تھے
نہ جانے وقت اُن آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
مگر میری فریبِ وقت کی بہکی ہوئی آنکھوں نے
اس کے بعد بھی
آنسو بہائے ہیں
میرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ہیں ۔۔
مگر یوں ہے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
مری آنکھیں
گلے ملتے ہوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی،مرو ّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

ساری دُنیا کے غم — ہمارے ہیں
اور سِتم یہ – کہ ہم تمہارے ہیں
دلِ برباد ———– یہ خیال رہے
اُس نے گیسُو نہیں سَنوارے ہیں
اُن رفیقوں سے —- شرم آتی ہے
جو مِرا ساتھ دے کے ہارے ہیں
اور تو ہم نے کیا —- کِیا اب تک
یہ کِیا ہے —- کہ دن گُزارے ہیں
اُس گلی سے جو ہو کے آئے ہوں
اب تو وہ راہرو بھی پیارے ہیں
جونؔ! ہم زندگی کی راہوں میں
اپنی — تنہا رَوی کے مارے ہیں

یادوں کا حساب رکھ رہا ہوں
سینے میں عذاب رکھ رہا ہوں
تم کچھ کہے جاؤ کیا کہوں میں
بس دل میں جواب رکھ رہا ہوں
تم پر میں صحیفہ ہائے کہنہ
اک تازہ کتاب رکھ رہا ہوں
جون ایلیا

اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں
میں جرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں
کوئی بھی نہیں ہے مجھ سے نادم
بس طے یہ ہوا کہ میں برا ہوں
جون ایلیا

تم جب آؤ گی ، تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ھے مجھ پر
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرتِ انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
جون ایلیاء

دیوار جانتا تھا جسے میں وہ ریت تھی
اب مجھکو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
اے شخص اب تو مجھکو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
ثابت ہوا سکونِ دل و جاں کہیں نہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
جون ایلیاء

لہو روتے نہ اگر ہم دم رخصت یاراں
کیا عجب تھا جو کوئی اور تماشا کرتے
چلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنے
وہ جو ہوتا تو اسے بھی نہ گوارا کرتے
جون ایلیا

یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے میعاد ستم
جز حریفان ستم کس کو پکارا جائے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم وقت کو مسند سے اتارا جا ئے

بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں
جفا کے تیر کھائے جارہے ہیں
فدا کرنے کو دین مصطفی پر
علی اکبر سجائے جا رہے ہیں

شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ ، وہ ، جی، مگر ’ ’یہ سب کیا ہے‘‘
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

سر میں تکمیل کا تھا اک سودا
ذات میں اپنی تھا ادھورا میں
کیا کہوں تم سے کتنا نادم ہوں
تم سے مل کر ہوا نہ پورا میں
اب میں سمجھا ہوں بے کسی کیا ہے
اب تمہیں بھی مرا خیال نہیں
ہائے یہ رشق کا زوال کہ اب
ہجر میں ہجر کا ملال نہیں

یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیں
کاغذوں کا فضول استعمال
روشنائی کا شاندار اسراف
سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے
جن کی توجیہہ آج تک نہ ہوئی

میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں
کر لیا تھا میں نے عہد ترک عشق
تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دیں

چارہ سازوں کی چارہ سازی سے
درد بدنام تو نہیں ہو گا
ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دو
مجھ کو آرام تو نہیں ہو گا

ہے ضرورت بہت توجہ کی
یاد آؤ تو کم نہ یاد آؤ
چاہیے مجھ کو جان و دل کا سکوں
میرے حق میں عذاب بن جاؤ

چند خوش ذوق کم نصیبوں نے
بسر اوقات کے لیے شاید جون
یہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں
کتنی ہی بےقصور نسلوں نے
ان کو پڑھنے کے جرم میں تا عمر
لے کے کشکول علم و حکمت و فن
کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے
جون ایلیا

چند خوش ذوق کم نص
نشہ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
اپنے ہی زور میں کم زور ہوئی جاتی ہو
میں کوئی آگ نہیں آنچ نہیں دھوپ نہیں
کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو

وہ کسی دن نہ آ سکے پر اسے
پاس وعدے کو ہو نبھانے کا
ہو بسر انتظار میں ہر دن
دوسرا دن ہو اس کے آنے کا

تیز رو جنگلوں کی رات اور میں
جانے اس وقت کیا بجا ہو گا
اس کی دوری میں ہیں سفر درپیش
جو مری راہ دیکھتا ہو گا

کون سود و زیاں کی دنیا میں
درد غربت کا ساتھ دیتا ہے
جب مقابل ہوں عشق اور دولت
حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے

شرابی بھول جاتے ہیں سبھی کچھ
پھر اس پر خود سے اک بیگانگی بھی
تو کیا تم تھیں مرا سرمایہء جاں
تو کیا میں نے تمہیں پر جان دی تھی

شرم دہشت جھجھک پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ وہ جی مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

سفری ہوں میں پر یہ مشکل ہے
پاس میرے سفر کی زاد نہیں
تم مرا خواب میری ذات تھیں تم
نام کیا ہے تمہارا یاد نہیں

مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں
پوچھتی ہیں آپ آپ اچھے تو ہیں
جی میں اچھا ہوں دعائیں چاہییں

تیری یادوں کے راستے کی طرف
اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں
دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر
اب تیرے خط نہیں پڑھوں گا میں

دیوار جانتا تھا جسے میں وہ ریت تھی
اب مجھکو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
اے شخص اب تو مجھکو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
ثابت ہوا سکونِ دل و جاں کہیں نہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
اِک عجب حال ہے کہ اب اُس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صُورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بُھولنے میں میری بھلائی ہے۔
Conclusion – Jaun Elia: The Voice of the Restless Heart
Jaun Elia’s work of poetry is like a mirror; it reveals the aspect of yourself that you seldom disclose to anyone. His expressions are a source of solace for the shattered, a test for the rational, and a source of upliftment for the fantasizer.
These best quotes by Jaun Elia confirm that pain can be translated into poetry, sadness can become a form of art, and love can still exist even after death.
He left a piece of truth about life, solitude, and desire in every line.
“Main bhi bahut ajeeb hoon, itna ajeeb hoon ke bas, Khud ko tabah kar liya, aur malaal bhi nahi.”
Jaun’s poetic genius is immortalized in the marriage of his words to the very language of all hearts that have ever experienced the intensity of feelings.
Thank-You Message
We appreciate your taking the time to go through our 50+ Jaun Elia Best Quotes compilation.
His phrases may have indicated to you that it is nothing to feel, to be broken, and to be reborn.
In case any of the quotes impressed your spirit, communicate it; perhaps, the other person may have the same experience of getting tranquillity through it.
Reading the poetry of Jaun Elia is not just an intellectual exercise; it is an emotional experience.
FAQs
Q1: Who was Jaun Elia?
Jaun Elia was among the main Urdu poets of Pakistan—his poetry was noted for the profoundness of the emotions expressed and the breadth of the thoughts it provoked.
Q2: What type of quotes did Jaun Elia create?
Love, heartbreak, loneliness, time, and human emotions were his major topics — and he often combined the sadness of the themes with beauty.
Q3: Are Jaun Elia’s quotes to be considered romantic or sad?
Both. His writings encapsulate every feeling: love, pain, nostalgia, and philosophy — thus making them eternal.
Q4: Can I post these Jaun Elia quotes on social media?
For sure! These quotes from Jaun Elia in Urdu are ideal for Instagram captions, WhatsApp statuses, or poetry posts.
Q5: What is Jaun Elia’s secret to popularity?
Because his poems are relatable, sincere, and raw. He simply expresses the truth that even the majority of people are afraid to admit.
