50+ Eid Quotes in Urdu – Celebrate with Love and Blessings
Introduction – The Spirit of Eid in Words
Eid is not only a festivity but also an experience of joy, tranquility, and unity.
Eid is the conclusion of a period of prayers, patience, and devotion, and it is the sign that every end brings a new blessing.
This compilation of 50+ Eid Quotes in Urdu offers some of the most beautiful expressions of love, thanksgiving, and faith. No matter if you are looking for Eid Mubarak quotes in Urdu, Islamic Eid messages, or heart-touching Eid poetry lines, each and every quote here signifies the warmth of this special day.
These quotes are composed in very easy Urdu so that anyone — children, for example, no one else, and so on — can understand their meaning. They stand for the very essence of Eid: pardon, joy, and togetherness.
Description – Why Eid Quotes in Urdu Touch the Heart
Urdu is a language that has a captivating quality by which every feeling becomes more intense – at least that is the case for Eid.
The aforementioned Eid proverbs in Urdu embody the very attributes of love, charity, and spirituality, which they do so by informing us that Eid is not a total celebration but a partial disconnection as well.
The assortment includes:
- Faith and blessings filled the Islamic Eid quotes
- Touching the heart Eid Mubarak quotes in Urdu for dedicating to friends and family
- Lines of Eid poetry that show tranquility and joy
- Eid greetings in Urdu for every person, be it friends or family, whom you deem important to you
The selection of each line is aimed at making your Eid wishes count more brief, passionate, and love-laden.

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے
مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے
جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں
پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے
جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں
چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے
دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے
ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے
جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک
دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے
یعنی ترتیب کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے
اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

ہوئی ہے دید نہ کوئی نوید آئی ہے
عجیب رنگ میں کچھ اب کے عید آئی ہے
جدھر جدھر بھی تری مضطرب نگاہ اٹھی
ادھر ادھر سے دل و جاں خرید آئی ہے
سنبھل سنبھل کے چلے جب بھی ان کے کوچے میں
تو جان و دل پہ تباہی مزید آئی ہے
کسی نے پوچھ لیا ہے جو دل کا حال کبھی
تو جیسے کوچۂ ارماں میں عید آئی ہے
ایازؔ کوچۂ قاتل سے آج دل کی ہوس
خوشی کے نام پہ کچھ غم خرید آئی ہے

ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی
تمہیں اس وقت ہی چاہت ملے گی
جنازے پر ضرور آنا ہمارے
وہاں تم کو نئی عبرت ملے گی
ہماری دھڑکنوں کو سننے والے
یہاں ہر پل تمہیں حیرت ملے گی
روایت سے بھلا کب منحرف ہیں
ان آنکھوں میں مگر جدت ملے گی
تمہارا نام کتبے پر لکھا ہے
ہماری قبر کو شہرت ملے گی
بہاولپور سے اظہرؔ نام لینا
تمہیں ہر حلقے میں عزت ملے گی
ہمیں کب عید سے مطلب ہے کاملؔ
اسے دیکھیں گے تو راحت ملے گی

اک غزل تو مرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے
کاش کے تو مرا محبوب خیالی ہو جائے
دیکھ لے تو مری جانب جو اٹھا کر نظریں
چشم پر نم جو تری ہے وہ غزالی ہو جائے
چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل
عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے
سامنے اس کو میں رکھتا ہوں غزل کہتا ہوں جب
اس غزل گوئی کی نقالی پہ تالی ہو جائے
دل میں تو ہے مرے آیت کی سی پاکیزہ پر
یہ دعا کر مری نیت نہ جمالی ہو جائے
خیر سے اپنا یہ نیتا بھی ہے بے حس ورنہ
شکل جو اس کی ہے چمکیلی وہ کالی ہو جائے
اب بھی ہو سکتی ہے ایمان کی رونق اظہرؔ
اک اذاں پھر جو اندھیروں میں بلالی ہو جائے

کمی ہے کون سی گھر میں دکھانے لگ گئے ہیں
چراغ اور اندھیرا بڑھانے لگ گئے ہیں
یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تجھے
جو میرے مشورے بے کار جانے لگ گئے ہیں
میں اتنا وعدہ فراموش بھی نہیں ہوں کہ آپ
مرے لباس پہ گرہیں لگانے لگ گئے ہیں
وہ پہلے تنہا خزانے کے خواب دیکھتا تھا
اب اپنے ہاتھ بھی نقشے پرانے لگ گئے ہیں
فضا بدل گئی اندر سے ہم پرندوں کی
جو بول تک نہیں سکتے تھے گانے لگ گئے ہیں
کہیں ہمارا تلاطم تھمے تو فیصلہ ہو
ہم اپنی موج میں کیا کیا بہانے لگ گئے ہیں
نہیں بعید کہ جنگل میں شام پڑ جائے
ہم ایک پیڑ کو رستہ بتانے لگ گئے ہیں

مآل دوستی کہیے حدیث مہوشاں کہیے
ملے دل سے ذرا فرصت تو دل کی داستاں کہیے
مگر اس خامشی سے اہل دل کا کچھ بھرم تو ہے
جو کچھ کہیے تو ساری عمر کی محرومیاں کہیے
غم دل اولیں دور تمنا کی امانت ہے
نوید عیش اگر سنیے نصیب دشمناں کہیے
جو رکھ لے خستگی کی شرم ایسی برق رحمت ہے
گرے جو آشیاں سے دور اس کو بے اماں کہیے
ہمارا کیا ہے ناصح ہم اسے نا مہرباں کہہ دیں
پر ایسا بھی تو ہو کوئی کہ جس کو مہرباں کہیے
کسی سے بھی نہ کہیے حال دل بے مہر دنیا میں
یہاں سب کچھ بہ انداز حدیث دیگراں کہیے
بس اب اٹھیے کہ ننگ پرسش بے جا قیامت ہے
کہاں تک ایک اک بے نام سے نام و نشاں کہیے

سر پر مرے عمر بھر رہی دھوپ
جس سمت چلا ادھر چلی دھوپ
کم ایسی وطن میں بھی نہ تھی دھوپ
غربت میں بلائے جاں بنی دھوپ
ماں ہے نہ یہاں شجر ہے کوئی
تا حد نگاہ دھوپ ہی دھوپ
برسوں سے لٹک رہی ہے سر پر
خنجر کی طرح کھنچی ہوئی دھوپ
یادوں کے نہاں کدے میں چمکی
تتلی کے پروں پہ ناچتی دھوپ
اک روپ کے نام ان گنت ہیں
بجلی برسات چاندنی دھوپ
قائم رہیں تیرے زلف و عارض
سایہ میرا یہی یہی دھوپ

ہلاکت دل ناشاد رائیگاں بھی نہیں
نگاہ دوست میں اب کوئی امتحاں بھی نہیں
تلاش دیر و حرم کا مآل کیا کہیے
سکوں یہاں بھی نہیں ہے سکوں وہاں بھی نہیں
تری نگاہ نے کھولا معاملہ دل کا
نظر زباں نہیں رکھتی پہ بے زباں بھی نہیں
اسی کو سارے زمانے سے ہم چھپائے رہے
وہ ایک بات زمانے سے جو نہاں بھی نہیں
ثبوت برق کی غارت گری کا کس سے ملے
کہ آشیاں تھا جہاں اب وہاں دھواں بھی نہیں
نشان قافلۂ عمر ڈھونڈنے والو
یہاں تو دور تلک گرد کارواں بھی نہیں

کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی
اب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کی
ڈوب دے دے بادۂ گل رنگ میں زاہد اگر
دیکھیے رنگینیاں پھر جامۂ احرام کی
عکس ابرو دیکھتے ہیں بادۂ سرجوش میں
عید ہے ساقی پرستوں میں ہلال جام کی
ابتدائے عشق ہے اور بجھ رہا ہے دل مرا
ہو چلی دھیمی ابھی سے لو چراغ شام کی
آنکھ میں آنسو ہیں ماتھے پر عرق ہے موت کا
لے خبر عمر رواں اپنے چھلکتے جام کی
ہو گئی بازیچۂ اطفال بے ذوق و شعور
شاعری جو تھی مرادف معنی الہام کی
پختگی سمجھے ہوئے ہیں جو تناسب کو فقط
چاہیے اصلاح ان کو اس خیال خام کی
ہے یہ نازک فن جو شایان تہی مغزی نہیں
دور مجلس میں ضرورت کیا ہے خالی جام کی
ٔہے عزیزؔ آئینۂ لفظی مراعات النظیر
حسن معنی جب نہیں پھر شاعری کس کام کی

پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیا
ایک مست ناز کو دل بے مدعا دیا
اب کیا گلہ کروں عدم التفات کا
میری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا
بڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں
احساس حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا
دیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا
بے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا
ہے شاد بے دلی پہ تہی دست آرزو
اچھا کیا نشان تمنا مٹا دیا
مایوس جلوہ ہائے طرب ہوں خبر نہیں
دل خود ہی بجھ گیا کہ کسی نے بجھا دیا
کیا لطف اضطراب دکھاؤں کہ آپ نے
احساس درد درد سے پہلے مٹا دیا
انجام دید و عید اب اے ہم نشیں نہ پوچھ
وہ مجھ کو یاد ہے مجھے جس نے بھلا دیا
معلوم تھا تجھے کہ وہ درد آشنا نہیں
منظورؔ دل کا درد انہیں بھی سنا دیا

کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا
پھرتا ہے کیوں تو بھول اپس کا پیا پیا
بوجھا ہے کیوں اجل کو اپس سے بعید کر
غفلت میں چپ عمر کو تو ضائع کیا کیا
اب تو سمجھ ٹک ایک ترا جان کون ہے
پاپا ہے جی کو جس نے موا نہیں جیا جیا
لیکن نہیں ہے کام ہر اک خام کا یہاں
عاشق وہی ہوا ہے کہ جو سر دیا دیا
پہنچا ہے جو کہ عشق میں منزل کو وصل کی
بے شک سکل جہاں میں ہوا بے ریا ریا
جو کوئی قدم کو اپنے رکھا راہ عشق میں
کہتے ہیں عاشقاں کی وہ منزل لیا لیا
دونوں جہاں سے کام نہیں مجھ کو اے علیمؔ
بس ہے مجھے کریم دیا سو ہیا ہیا

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
ہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
آج تک قصر امل ہے ناتمام
بندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ
دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کے
سو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ
عید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
کھیت رستے پر ہے اور رہ رو سوار
کشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ
بات واعظ کی کوئی پکڑی گئی
ان دنوں کم تر ہے کچھ ہم پر لتاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں
کر لیا ساری خدائی سے بگاڑ

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے
سجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے
ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے
عاشقوں کی عید قرباں اور ہے
روز و شب یاں ایک سی ہے روشنی
دل کے داغوں کا چراغاں اور ہے
خال دکھلاتی ہے پھولوں کی بہار
بلبلو اپنا گلستاں اور ہے
قید میں آرام آزادی وبال
ہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے
بحر الفت میں نہیں کشتی کا کام
نوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے
کس کو اندیشہ ہے برق و سیل سے
اپنا خرمن کا نگہباں اور ہے
درد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغ
جس کا مرہم جس کا درماں اور ہے
کعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔ
اپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے

خود کی ہی قربانی ہے
مجھ کو عید منانی ہے
توبہ توبہ توبہ ہائے
عشق بڑا من مانی ہے
رستے رستے کانٹے ہیں
کیسے جان بچانی ہے
دریا دریا سوکھا پن
سب کی آنکھیں پانی ہے
تیرے عشق کی ہوا چلے
اپنی خاک اڑانی ہے
میری آنکھیں چمک اٹھی
وہ چہرہ نورانی ہے
میرے پیچھے اک لڑکی
رادھا سی دیوانی ہے

خوشی کے وقت بھی وہ لگ رہا تھا رویا ہوا
تھا باغ وصل میں فرقت کا بیج بویا ہوا
وہ رات خواب میں آیا ہوا تھا ملنے مجھے
مرا نصیب تھا بیدار میں تھا سویا ہوا
نیا لباس کفن تھوڑی ہے جو مل جائے
سو ہم نے عید پہ پہنا لباس دھویا ہوا
وہ میرے سامنے ہے اور فون میں گم ہے
ملا ہے برسوں کا کھویا ہوا بھی کھویا ہوا
تو جس کی لاش کو اب جھیل سے نکالتا ہے
وہ بحر غم میں تھا پہلے ترا ڈبویا ہوا
ستم گرو یہ سزاؤں کی فصل کاٹو اب
کسی نے خون سے تھا انقلاب بویا ہوا
تو یوں سمجھتا ہے حق دار خود کو شہرت کا
تجھے مرے ہوئے عرصہ نبیلؔ گویا ہوا

اک جھلک تیری جو پائی ہوگی
چاند نے عید منائی ہوگی
صبح دم اس کو رلا آیا ہوں
سارا دن خود سے لڑائی ہوگی
اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر
پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی
کیس جگنو پہ چلے گا انجمؔ
بستی اوروں نے جلائی ہوگی

نا جا یوں روٹھ کر دلبر ذرا رک جا ذرا رک جا
مری قسمت کے سودا گر ذرا رک جا ذرا رک جا
مری ہر سانس آہو کی طرح مجھ سے گریزاں ہے
نہیں سنتی کہا اکثر ذرا رک جا ذرا رک جا
بھٹکتا ہی گیا وہ تو ہوس کی بیکرانی میں
پکارا لاکھ اے رہبر ذرا رک جا ذرا رک جا
نہ لوٹ اے یاد رفتہ میرے ارمانوں کی نگری میں
لگے ماضی سے مجھ کو ڈر ذرا رک جا ذرا رک جا
بڑا نازک ہے اے مکھی مگر مکڑے کا جالا ہے
نہیں یہ ریشمی بستر ذرا رک جا ذرا رک جا
بگڑتا کھیل ہے بنتا نہیں یہ جلد بازی سے
یہی کہتے ہیں دانشور ذرا رک جا ذرا رک جا
تھما ہرگز نہ طوفان غم فرقت کہا گرچہ
بہ نام اللہ اکبر ذرا رک جا ذرا رک جا
ہلال عید جب دیکھا اسے رخصت کی تب سوجھی
کہا میں نے خدا سے ڈر ذرا رک جا ذرا رک جا
وہ آنے کو ہیں ملک الموت آہا تجھ کو کیا عجلت
خدارا یوں نہ جلدی کر ذرا رک جا ذرا رک جا
مجھے لطف تجسس میں ہیں بھائے جب سے ویرانے
کہے وہ لوٹ آ اب گھر ذرا رک جا ذرا رک جا
خیال آبرو ہے میں تمہیں کب تک مناؤں گا
کہوں گا میں نہ اب ہمسر ذرا رک جا ذرا رک جا
سنی اس نے نا رحماں کی نہ شیطاں کی نہ یزداں کی
کہا سب نے اسے انورؔ ذرا رک جا ذرا رک جا

آیا نہ آب رفتہ کبھی جوئبار میں
کیسے قرار آئے دل بے قرار میں
ہنگام صبح عید میں بھی وہ مزا کہاں
جو لطف مل گیا ہے شب انتظار میں
بجلی گری تھی کب یہ کسی کو خبر نہیں
اب تک چمن میں آگ لگی ہے بہار میں
جب تک بکھر نہ جائے تری زلف عنبریں
نکہت کہاں سے آئے نسیم بہار میں
فرصت ملی ہے دل کو نشیمن کی فکر سے
پھر برق کوندنے لگی ہر شاخسار میں
پھر کس کی یاد آئی کہ انوارؔ آج کل
موتی پرو رہا ہوں گریباں کے ہار میں

سیر کرتے اسے دیکھا ہے جو بازاروں میں
مشورے ہوتے ہیں یوسف کے خریداروں میں
چاہتے ہیں کہ کوئی غیرت یوسف پھنس جائے
کس قدر کھوٹے کھرے بنتے ہیں بازاروں میں
دو قدم چل کے جو تو چال دکھا دے اپنی
ٹھوکریں کھاتے پھریں کبک بھی کہساروں میں
خون عشاق سے لازم ہے یہ پرہیز کریں
کہ شمار آپ کی آنکھوں کا ہے بیماروں میں
شیخ کعبہ ہو دیا برہمن بتخانہ
ایک ہی کے در یہ دونوں ہیں پرستاروں میں
دیکھیے کتنے خریدار ہیں کیا اٹھنا ہے
جنس دل بھیج کے ان کو کوئی ہے بازاروں میں
فصل گل آئی خزاں بھی ہوئے گلزار مگر
طائر دل ہے ہنوز ان کے گرفتاروں میں
سیر کے واسطے نکلا جو وہ رشک یوسف
بند رستے ہوئے ٹھٹ لگ گئے بازاروں میں
یہ نیا یار کی سرکار میں دیکھا انصاف
بے گنہ بھی گنے جاتے ہیں گنہ گاروں میں
کہیں ڈھونڈے سے بھی ملتے تھے نہ ارباب کمال
جن دنوں قدر شناسی تھی خریداروں میں
تیغ قاتل کے گلے ملتے ہیں خوش ہو ہو کر
عید قرباں ہے محبت کے گنہگاروں میں
کسی امن سے نہ الجھا نہ ہوئی صحبت گل
اے ضعیفی تن زار اپنا ہے ان خاروں میں
قلقؔ اثبات دہن منہ کو نہ کھلوائے کہیں
ہے بڑی بات اگر بات رہی یاروں میں

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی
یعنی مہ صیام کی پہلی کو عید کی
مرنے کے بعد بھی یہ تمنا تھی دید کی
آنکھیں ہوئیں نہ بند تمہارے شہید کی
پھر جنس دل نہ اپنی کسی نے خرید کی
سچ ہے کہ قدر کچھ نہیں مال مزید کی
یہ وقت چشم پوشیٔ اہل وفا نہیں
جان آنکھوں میں ہے یار ترے محو دید کی
مسی دہان تنگ کی دیکھی تو شک ہوا
انگشتری ہے کوئی نگین حدید کی
وہ شوخ جنگجو جو ہمارے گلے ملا
ماتم مخالفوں نے محبوں نے عید کی
عالم ہے چشم شوق کا ہر ایک ذرے میں
برباد خاک ہے یہ کسی محو دید کی
کیا بے نقط سنائی ہیں اس طفل شوق نے
قاصد نے نامہ دے کے طلب جب رسید کی
کیوں وہ سوال وصل کا دیتے نہیں جواب
حاجت ہے ان کے قفل دہن کو کلید کی
غصے سے آگ ہو کے ہوئے تر پسینے میں
عطر بہار حسن کی اپنے کشید کی
کس روز میں نے مصحف رخسار مس کیا
جھوٹی نہ قسمیں کھاؤ کلام مجید کی
دیکھے نہ پیر زال جہاں کو اٹھا کے آنکھ
مردوں میں آبرو نہیں کچھ زن مرید کی
بے شبہ اے قلقؔ سگ دنیا ہے وہ بشر
جس نے بہ دل اطاعت نفس پلید کی

دل میں آتے ہی خوشی ساتھ ہی اک غم آیا
عید آئی تو میں سمجھا کہ محرم آیا
خون دل ہو گیا شاید دم گریہ جو آج
عوض اشک لہو آنکھوں سے پیہم آیا
نازکی کہتے ہیں اس کو کہ ہزاروں بل کھاتے
تا کمر یار کا جب گیسوئے پر خم آیا
دل میں ہے جلوہ کناں چاہ زنخداں کا خیال
عین کعبے میں نظر چشمۂ زمزم آیا
پھر بہار آئے گی پھر داغ جنوں چمکیں گے
پھر سوئے برج حمل نیر اعظم آیا
پاک دامن ہے تو ایسا کہ پئے صدق کلام
شان عصمت میں تری سورۂ مریم آیا
دی دہائی تری رحمت کی گنہ گاروں نے
لب واعظ پہ جوں ہی نام جہنم آیا
دشت غربت میں بجز بیکسی و یاس و الم
قبر مجنوں پہ نہ کوئی پئے ماتم آیا
شعر گوئی ہے وہ شے جن کا صلہ دینے کو
خواب فردوسی خوش فکر میں رستم آیا
پھر گیا آنکھوں میں اس کان کے موتی کا خیال
گوش گل تک نہ کوئی قطرۂ شبنم آیا
جیتے جی ہی کے تھے سب یار پس مرگ قلقؔ
گور پر کوئی نہ غم خوار نہ ہمدم آیا

ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ
سونگھیں گل عذار کی بو باس اور لوگ
واعظ ہمیں ڈرا نہ وفور گناہ سے
اس کے کرم سے ہوتے ہیں بے آس اور لوگ
سودائے عشق یاں تو ہے سر میں بھرا ہوا
نام جنوں سے کرتے ہیں وسواس اور لوگ
آزاد گان عشق ہر اک حال میں ہیں شاد
ہوں گے اسیر رنج و غم و یاس اور لوگ
ہیں سیر بوریائے توکل کے فاقہ مست
ہوتے ہیں مضطرب دم افلاس اور لوگ
یاں ہے فقط ہوس در دنداں کے دید کی
کھاتے ہیں اس کے دانتوں پہ الماس اور لوگ
سنجوگ ایک اپنا تمہارا ازل سے ہے
پوچھیں برہمنوں سے بتو راس اور لوگ
اٹھے فنا و ایک نہ اک کیا بعید ہے
اب بیٹھنے لگے ہیں ترے پاس اور لوگ
اس آب لعل پر کبھی ہم بھی محیط تھے
لب چوس کر بجھائے ہیں اب پیاس اور لوگ
ہم تو نہ گھر میں آپ کے دم بھر ٹھہرنے پائیں
روز آئیں جائیں صورت انفاس اور لوگ
اپنے نصیب میں تو نہ ہو آب خضر لب
سیراب ہوں بہ صورت الیاس اور لوگ
دیوان میں مرے نہیں بھرتی کے ایسے شعر
بھرتے ہیں جیسے صفحۂ قرطاس اور لوگ
وہ بے وفا کرے گا مری قدر کیا قلقؔ
کرتے ہیں اپنے عاشقوں کا پاس اور لوگ

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے
ہر ایک فرد گلوں میں گلاب جیسا ہے
چراغ سب نے جلائے ہیں امن کے لیکن
اندھیرا وقت کا اک آفتاب جیسا ہے
ملیں نہ ہاتھ فقط دل سے دل بھی مل جائیں
یہ دیکھنے کو مجھے اضطراب جیسا ہے
عجیب خواب کا ہے انتظار آنکھوں کو
یہ انتظار بھی شاید کہ خواب جیسا ہے
شمار میں ہمیں رکھ بے شمار ہیں ہم بھی
ہمیں گلہ ہی کہاں ہے حساب جیسا ہے
بھروسہ اب ترے وعدوں کا کیا کریں ساقی
ترا یہ جام و سبو تک سراب جیسا ہے
تو دے رہا ہے کہاں درس اتحاد اثرؔ
ترا خیال فقط انقلاب جیسا ہے

تری خوشی نہ ملی مجھ کو تیرا غم بھی نہیں
حیات کیا ہے مری اب قضا سے کم بھی نہیں
یہ کس مقام پہ ساقی نے لا کے چھوڑا ہے
نہیں ہے ساغر جم تو یہاں پہ سم بھی نہیں
ہے میرے ظرف میں جتنا بھرا وہ پیمانہ
شراب اس میں ہے جو اس میں کوئی دم بھی نہیں
اتار لیتا میں سارے غموں کا اس سے نشہ
حریف غم کا ہو ایسا یہ جام جم بھی نہیں
جوان سال ہوں مجھ کو نہ شان پیری دے
سیاہ ریش ابھی ہوں کمر میں خم بھی نہیں
ترے الم نے کیا ہے اثرؔ کو پژمردہ
ملاؤں زیست سے آنکھیں اب اتنا دم بھی نہیں

عبارت اس میں ہر اک بے نقاب میری ہے
لکھا ہے نام تمہارا کتاب میری ہے
گلاب توڑ کے زینت بنا لو دامن کی
نہ کھاؤ خوف یہ شاخ گلاب میری ہے
یہ میکدہ یہ حسیں جام گو تمہارے ہیں
جو پی رہے ہو مزے سے شراب میری ہے
بھٹک نہ جائے کہیں اسپ عشق راہوں سے
دعا لبوں پہ ترے ہم رکاب میری ہے
وہ ٹوٹ کر نہیں گرتے زمین پر نہ سہی
ستارے چرخ کے ہیں آب و تاب میری ہے
میں حرف حرف میں اس کے بسا ہوں دھڑکن سا
کوئی بھی کہہ لے خوشی سے کتاب میری ہے

ساتھ مرے وہ جب تک ٹھہرا
غم کا سایا تب تک ٹھہرا
وقت مصیبت ساتھ ہمارے
دوست کوئی بھی کب تک ٹھہرا
رسوائی کا خوف تھا شاید
نام کسی کا لب تک ٹھہرا
سورج میرے ارمانوں کا
ایک اندھیری شب تک ٹھہرا
جاڑوں کے لمحات جواں ہیں
سورج سر پر کب تک ٹھہرا
آہوں کا اتنا تو اثرؔ ہے
جن کا سایا چھب تک ٹھہرا

باب دل جب بھی وا ہوا اپنا
اس میں نقصان ہی ہوا اپنا
کوئی دل والا آ ملے مجھ سے
در ہے رکھا کھلا ہوا اپنا
نقش پا ثبت ہیں لٹیروں کے
گھر سے غائب ہے رہنما اپنا
لٹ گیا سب حساب کیا ہوگا
غیر کا کیا تھا اور کیا اپنا
منزلوں کا نشان کہلائے
خون اگلا ہے نقش پا اپنا
دل کو تاکا تھا اے اثرؔ میں نے
کیا نشانہ ہوا خطا اپنا

میلی چادر ساتھ لیے
اپنی انا کی ذات لیے
کوچہ کوچہ پھرتا ہوں
تن کا لاشہ ساتھ لیے
اک درندہ جیت گیا
پھرتا ہوں میں مات لیے
ڈھونڈیں آؤ انساں کو
پاگل پن کو ساتھ لیے
ان کا دامن دیکھ چکا
آنکھوں میں برسات لیے
ٹوٹ چکے وہ تاج محل
سوئے تھے ہم رات لیے
کس کا بھروسہ آج اثرؔ
یار کھڑا ہے گھات لیے

وہ ایک پل جو گزارا ہے پاسداری میں
سکون دیتا رہا مجھ کو بے قراری میں
وہ میری روح میں جب تک نہ بس گیا آ کر
سنبھل سکا نہ کبھی دل یہ بے قراری میں
حنائی دست کی معجز نمائیاں مت پوچھ
تمام عمر گزاری ہے شرمساری میں
ہوس ہے گوہر نایاب کی اگر تجھ کو
تو ڈوب جا کبھی شبنم کی تاب کاری میں
سما گئے ہیں نظر میں لہو لہو منظر
تجھے ملے گا بھی کیا خاک اشک باری میں
کسی کے دل کو بھلا کھینچے کیا ترا نالہ
اثرؔ اثر ہو کوئی جب نہ آہ و زاری میں

ہر گھڑی فکر راستی کیا ہے
اک مصیبت ہے زندگی کیا ہے
گھپ اندھیرا ہے میرے چاروں اور
اس میں تھوڑی سی روشنی کیا ہے
بہت الجھا ہوا حساب ہے یہ
میرا کھاتا ہے کیا بہی کیا ہے
نام ہیں نفس کی پرستش کے
دوستی کیا ہے دشمنی کیا ہے
شہر میں رہ کے دیکھیے اک دن
دور جنگل میں راہبی کیا ہے
ساری باتوں کا میں مصنف ہوں
میرے آگے لکھی سنی کیا ہے
میں نے دیکھا ہے خوں کی شمعوں سے
گم رہی کیا ہے رہروی کیا ہے
عہد پیری میں اپنی لوح ضمیر
صاف ہو گر تو خسروی کیا ہے
یہ تضادات یہ سراب یہ دل
زندگی کیا ہے آدمی کیا ہے
بند اشکال میں مقید ہوں
عقل کس کام آگہی کیا ہے
سوچتا ہوں تو کچھ نہیں کھلتا
جانتا ہوں مگر بدی کیا ہے
دل میں وسواس یا علیؑ کیوں ہے
سر محجوب یا نبی کیا ہے

عشق کا شور کریں کوئی طلب گار تو ہو
جنس بازار میں لے جائیں خریدار تو ہو
ہجر کے سوختہ جاں اور جلیں گے کتنے
طور پر بیٹھے ہیں کب سے ترا دیدار تو ہو
شدت درد دو پل کے لیے کم ہوتا کہ
غم کے الفاظ کے سنگار میں اظہار تو ہو
کب سے امید لگائے ہوئے بیٹھے ہیں ہم
نے سہی گر نہیں اقرار سو انکار تو ہو
کفر احرام کے پردے میں چھپا دیکھا ہے
ایک عالم ہے اگر درپئے زنار تو ہو
ہم نے مانا کہ شرافت ہے بڑی چیز مگر
کچھ زمانے کو شرافت سے سروکار تو ہو
خانۂ دل میں نہیں ایک کرن کا بھی گزر
ساری دنیا ہے اگر مطلع انوار تو ہو
رازداری ہی میں ہوتا ہے شریفوں کا حساب
تجھ کو منظور ہے گر بر سر بازار تو ہو

خالی ہے ذہن طاقت گفتار کیا کرے
ہے آنکھ بند روزن دیوار کیا کرے
ہم عقل دل کے سامنے رکھتے رہے ولے
دریا کے آگے ریت کی دیوار کیا کرے
جی میرا اب تو میری بھی صحبت سے تنگ ہے
ہر رشتہ یاں ہے باعث آزار کیا کرے
ہر سو ہے کائنات میں اپنے لہو کا رنگ
ہو چشم دل سے دور تو دیدار کیا کرے
کہتا ہوں بار بار سمجھتا نہیں کوئی
بہرا ہو دل تو بات پہ اصرار کیا کرے
جز تیغ درد جاں کا نہیں کوئی شے علاج
خالی ہے ہاتھ دیدۂ خوں بار کیا کرے
ہر فلسفے سے شوق ہے آزاد سر بہ سر
اقرار کیا کرے یہاں انکار کیا کرے
الجھے ہوئے ہیں کتنے تمنا کے سلسلے
اے خالق حیات گناہ گار کیا کرے
راہ نبی میں بچے جواں پیر سب گئے
خیمے میں تنہا عابد بیمار کیا کرے

درد اک روز کوئی رنگ دکھائے تو بنے
روح گر چھوڑ کے تن دہر میں آئے تو بنے
نظر آئیں ترے چہرے کے خد و خال تمام
دل سے اٹھ جائیں کبھی وہم کے سائے تو بنے
وحدت درد ہو قریوں میں ہوا کی مانند
ایک ہو جائیں اگر اپنے پرائے تو بنے
واعظاں مژدہ کہ جنت میں بہار آئی ہے
میری دنیا سے خزاں لوٹ کے جائے تو بنے
دیو تقدیر کھڑا ہے میرے آگے ہر دم
کوئی تدبیر اسے زہر پلائے تو بنے
جس کو دیکھا کسی مردے کا مقلد دیکھا
اپنی ہو جائے ہر اک شخص کی رائے تو بنے
سب کے دکھ سنتا ہوں میں ضعف ضعیفی میں ولے
میرا دکھ کوئی مری ماں کو سنائے تو بنے
اپنے اعمال کو اوروں سے چھپا رکھا ہے
میری نیت کو کوئی مجھ سے چھپائے تو بنے
میں بناتا تو بہت ہوں نہیں بنتی لیکن
وہ عنایت سے مری بات بنائے تو بنے

ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر
بوئے گل ٹھہری ہوئی ہے جس کلی کے نام پر
کچھ نہ نکلا دل میں داغ حسرت دل کے سوا
ہائے کیا کیا تہمتیں تھیں آدمی کے نام پر
پھر رہا ہوں کو بہ کو زنجیر رسوائی لیے
ہے تماشا سا تماشا زندگی کے نام پر
اب یہ عالم ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں سر
مار ڈالا ایک بت نے بندگی کے نام پر
کچھ علاج ان کا بھی سوچا تم نے اے چارہ گرو
وہ جو دل توڑے گئے ہیں دلبری کے نام پر
کوئی پوچھے میرے غم خواروں سے تم نے کیا کیا
خیر اس نے دشمنی کی دوستی کے نام پر
کوئی پابندی ہے ہنسنے پر نہ رونا جرم ہے
اتنی آزادی تو ہے دیوانگی کے نام پر
آپ ہی کے نام سے پائی ہے دل نے زندگی
ختم ہوگا اب یہ قصہ آپ ہی کے نام پر
کاروان صبح یارو کون سی منزل میں ہے
میں بھٹکتا پھر رہا ہوں روشنی کے نام پر

اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا
درد برداشت سے سوا دیکھا
دل بے چین کو کہاں لے جائیں
اک جہاں سے اسے لگا دیکھا
وائے اختر خدا کو بھول گئے
جب کہیں کوئی آسرا دیکھا
زہر محرومیٔ مسا چکھا
قہر مسمومیٔ صبا دیکھا
کوئی امید ہے تو غیروں سے
بارہا خود کو آزما دیکھا
پھول گلشن میں مور جنگل میں
سیم صبح و زر مسا دیکھا
نگہ شوخ سرمہ سا دیکھی
دست صد طرۂ حنا دیکھا
نے سہی گر وفا نہیں دیکھی
ہم نے یاں حسن بے پنہ دیکھا
جس نے چاہا اسے خدا چاہا
جس نے دیکھا اسے خدا دیکھا

دور ہے با حضور لگتا ہے
گو ہے مستور عور لگتا ہے
آب و نان و ہوا نہیں کافی
تیرے دل میں فتور لگتا ہے
جا رہے ہو خدا کے گھر یعنی
وہ تمہیں خود سے دور لگتا ہے
گرچہ ہرگز مرا قصور نہیں
پھر بھی میرا قصور لگتا ہے
ایک عالم پہ بھی نہیں راضی
یہ دل ناصبور لگتا ہے
ذہن آزاد فکر ہستی ہے
جو گنا کا تنور لگتا ہے
ایک مٹی کا ڈھیر ہے وہ تو
جو تمہیں کوہ طور لگتا ہے
روز ہوتا ہوں ہم کلام اس سے
روز یوم نشور لگتا ہے
خود پھنساتے ہو خود چھڑاتے ہو
کھیل کوئی حضور لگتا ہے

ر مکاں ایک ادا ہے یکسر
یہ جو دی ہے ہمیں آزادئ افکار و عمل
کوئی بتلاؤ جزا ہے کہ سزا ہے یکسر
وقت ہے تیشہ و شمشیر کا جس میں کب سے
وہ ہتھیلی ابھی مصروف دعا ہے یکسر
مرحبا جشن جبلت کہ نہیں ہم پابند
مرحبا زیست کہ آزاد حیا ہے یکسر
بات کہنے کو ہے کچھ اور جہاں کا ممدوح
بال جبریل نہیں بال ہما ہے یکسر
تو سمجھتا ہے جسے اپنا معز و رزاق
ہم سمجھتے ہیں وہی تیرا خدا ہے یکسر
آج جو فطرت آدم نظر آتی ہے ہمیں
یہ مری جان زمانے کی ہوا ہے یکسر
منبع فیض سے آتی ہے جو رحمت یاں تک
یہ ہمیں آل محمدؐ کی عطا ہے یکسر
خالق ختم رسل آل عبا کا مسجود
اپنا مسجود مگر آل عبا ہے یکسر

پھر صبا گزری ہے در صحن چمن کیا کہنا
اب تلک کانپتے ہیں سرو و سمن کیا کہنا
ذرۂ خاک ہوں میں سیل حوادث کے لیے
اور اس ذرے میں دل شاہ زمن کیا کہنا
جسم کے حکم سے آزاد ہو جاں چاہا تھا
روح کے حکم سے آزاد ہے تن کیا کہنا
شہر ویران ہوا گور غریباں کی طرح
اس پہ میں اور مری رنگینئ فن کیا کہنا
ہے گراں طبع شہیداں پہ مزار و مرقد
جسم خوں بستہ ہے خود ان کا کفن کیا کہنا
لیک یہ بھی تو کھلے کچھ تری نیت کیا ہے
ندرت فکر اور انداز سخن کیا کہنا
آخرش سہل ہوا نفع و ضرر کا مطلب
اب ہر اک چیز پہ چسپاں ہے سمن کیا کہنا
زیست اک پل ہے فقط دیکھیے کیا کیجیے کیا
اور اس پل میں بھی صد رنج و محن کیا کہنا
اس قدر خوف میں ہوں میں کہ نہ نیند آوے ہے
کس قدر خواب میں ہیں اہل وطن کیا کہنا

مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں
ثبوت معجزۂ رفتگان عالم ہوں
دیا ہے مجھ کو مگر بے سرور ہنگامہ
ملا ہے مجھ کو مگر وقف اضطراب سکوں
نہ چاند میں ہے چمک اپنی اور نہ شبنم میں
کروں تو کس کا زمانے میں اعتبار کروں
جو دل میں بات ہے الفاظ میں نہیں آتی
سو ایک بات ہے دل کی لگی کہوں نہ کہوں
سزا ہے میری رہو اس دیار میں کہ جہاں
گراں ہے آب مصفا مگر ہے ارزاں خوں
سوال عقل وہی ہے جواب جہل وہی
ہزار بار کروں دس ہزار بار سنوں
خفا ہے رنگ گل و موجۂ صبا مجھ سے
کہ باندھتا ہوں دل بے قرار کا مضموں
مجھے تو اپنے پہ اک لمحہ اعتبار نہیں
نگار دہر تجھے گرچہ با وفا سمجھوں
ہزار راستے پنہاں ہیں ریگ صحرا میں
جو دم میں دم ہو تو اس دشت کی ہوا دیکھوں
کھلا ہے آل محمدؐ کے فیض سے مجھ پر
کہ آدمی کو بھی ہے اختیار کن فیکوں
بلند بعد شہادت بھی ہے یہ نوک سناں
سر امام کسی حال بھی نہیں ہے نگوں

اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے
بیٹھا ہوا ہے دیر سے بے کار کیا کرے
یک ہجوم درد اور اور ای تمام
دل زیر پر لگائے ہے منقار کیا کرے
تاریخ کہ رہی ہے کہ مٹتا نہیں ہے ظلم
مختار کل بتا ترا سنسار کیا کرے
کھینچے ہے سب کو دست فنا ایک سا تو پھر
ایک سادہ لوح کرے یہاں عیار کیا کرے
کوئی نہیں ہے مجھ کو ہنر روزگار کا
جز خاکسار مدحت سرکار کیا کرے
جو ساری کائنات کی فطرت کا ہو امیں
ہر تجربے کا جو ہو خریدار کیا کرے
جی مضطرب ہے حدت قیل و مقال میں
ڈھونڈے ہے کوئی سایۂ دیوار کیا کرے
شہروں میں میری خاک اڑے مثل بوئے گل
بے شامہ ہے خلق طرح دار کیا کرے
مولا مدد کہ میں ہوں عزادار آل او
آقا ترے بغیر گناہ گار کیا کرے

دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں
سر بہ سر ہے نفی اس میں کہیں اثبات نہیں
رنج گر واں سے تو راحت بھی وہیں سے آوے
کون کہتا ہے یہاں وحدت آیات نہیں
مجھ سے کہتے ہیں حوائج سے سروکار نہ رکھ
میری تعریف بجز قصۂ حاجات نہیں
کوئی بتلاؤ شب و روز پہ کیا گزری ہے
رات خاموش نہیں دن میں کوئی بات نہیں
تھی فلاطوں کی جو جمہور سے رو گردانی
ہم سمجھتے تھے خرافات خرافات نہیں
دل سے گزرے کبھی دشمن کے لیے فکر ضرر
وہ وطیرہ نہیں میرا مرے جذبات نہیں
عہد بے مہر میں اک چال محبت بھی چلے
شہہ میں بازی ہے مری گرچہ ابھی مات نہیں
صاحبا دیکھنا حد سے نہ بڑھے یورش غم
ناتواں دل ہے مرا خیمۂ سادات نہیں

دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے
وہ دن کہ ہم تھے شمع مجالس ہوا ہوئے
ان کو نہیں دماغ تلذذ جہان میں
جو ابتدا سے وقف غم انتہا ہوئے
خورشید کی نگاہ سے شبنم ہے مشتہر
وہ آشنا ہوئے ہیں تو سب آشنا ہوئے
منزل ہے شہریارئ عالم تو دیکھنا
اس راہ میں ہزاروں قبیلے فنا ہوئے
حد سے زیادہ ہم نے خوشامد بتوں کی کی
یہ لوگ بڑھتے بڑھتے بالآخر خدا ہوئے
اس کا بھی کچھ حساب کریں گے بروز حشر
نالے ازل سے کتنے سپرد صبا ہوئے
کرتے رہے حضور پہ تکیہ اخیر تک
ہم آسرے کے ہونے سے بے آسرا ہوئے
کس دن ہمارا حرص و ہوا سے بری تھا دل
کس روز ہم سے اپنے فریضے ادا ہوئے

بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے
اظہار پہ پابندی ہے اور منہ میں زباں ہے
ہوتا ہے یہاں روز مرے درد کا سودا
اے تیغ بکف روز مکافات کہاں ہے
آزاد کرو خون کو بازار میں لاؤ
صدیوں سے یہ محکوم رگوں ہی میں رواں ہے
ہاں رنگ بہاراں ہے مگر اس کے لہو سے
جو دست بہ دل مہر بہ لب درد بجاں ہے
ہر سمت ہے بازار کھلا حرص و ہوس کا
ہر شہر میں ہر کوچے میں واعظ کی دکاں ہے
کل کس کو زباں بند کرو گے ذرا سوچو
کل دیکھو گے ہم کو کہ زباں ہے نہ دہاں ہے
کس شہر خموشاں میں چلے آئے ہیں ہم لوگ
نے زور سناں ہے نہ کہیں شور فغاں ہے
ہر درد کی حد ہوتی ہے یوں لگتا ہے جیسے
اس درد کا کوئی نہ زماں ہے نہ مکاں ہے

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے
آؤ چل نکلیں کہیں قید زماں سے آگے
اس خرابے میں عبث ہیں غم و شادی دونوں
میری تسکین کا مسکن ہے مکاں سے آگے
آہ و نالہ ہی سہی اہل وفا کا مسلک
اک مقام اور بھی آتا ہے فغاں سے آگے
دار تک صاف نظر آتا ہے رشتہ دیکھیں
پھر کدھر جاتے ہیں عشاق وہاں سے آگے
خون آلودہ کفن شارح صد دفتر دل
طرز اظہار ہے اک اور زباں سے آگے
فکر مفلوج جو زندانئ افلاک رہے
تیر بیکار جو نکلے نہ کماں سے آگے
تھی بہت خانہ خرابی کو ہماری یہ عمر
اک جہاں اور بھی سنتے ہیں یہاں سے آگے
میں کہ ہوں حاضر و موجود کے وسواس میں قید
تو کہ ہے پردہ نشیں وہم و گماں سے آگے

ہمارے پاس ہے حکمت نہ راز کیا کیجے
سوائے درد دل جاں گداز کیا کیجے
عنایتیں ہیں اگرچہ ہزار ہا لیکن
بنے نہ بات تو بندہ نواز کیا کیجے
نہ ضرب و تار سے رشتہ نہ دل فریبئ دم
مرے خیال کو عالم ہے ساز کیا کیجے
ز روئے فقہ جو سب سے زیادہ ہے معتوب
ہماری اس سے بھی ہے ساز باز کیا کیجے
جو جانتے ہیں نہیں جانتے نہ جانے ہیں
جو ہے عیاں یہاں وہ بھی ہے راز کیا کیجے
جہاں گزارش احوال پر ہوں تعزیریں
سوائے جرأت عرض نیاز کیا کیجے
کھلا اک عمر کی کوشش سے یہ کہ لکھا ہے
ہمارے نام نشیب و فراز کیا کیجے
برا ہو لذت تخیل کا کہ رہتی ہے
حقیقتوں میں تلاش مجاز کیا کیجے
ہزار درد ہے اور جان ناتواں میری
علاج ہے نہ گلے کا جواز کیا کیجے

جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے
الفاظ کا لشکر مری تحریر میں آوے
اک خاص عنایت ہے کہ دیتے نہیں مجھ کو
وہ درد کہ جو پنجۂ تدبیر میں آوے
یکسر رگ منصور کی ہمت سے پرے ہے
وہ علم کہ اک عرصۂ تقطیر میں آوے
جو چاہے بھرے میں نے مصور سے کہا تھا
کچھ رنگ محبت مری تصویر میں آوے
وہ بات خوشا دیتا ہے دل جس کی گواہی
یہ کیا کہ کہو اگلی اساطیر میں آوے
جو حکم تمہارا ہے وہ واجب ہے بلا شک
جو عرض ہماری ہے وہ تعزیر میں آوے
ہے گرچہ بہت میرے لیے خواب کی دنیا
کچھ اور مزہ خواب کی تعبیر میں آوے
جس پاس مداوا نہیں کچھ آب و ہوا کا
لازم ہے مرے حلقۂ تقریر میں آوے
ممکن نہیں آدم کے لیے شان خدائی
ہاں یوں کہ مگر آیۂ تطہیر میں آوے

خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے
بات کرتے رہے ہم بات سے کیا ہوتا ہے
رات کٹ جائے تو پھر رات چلی آئے گی
رات کٹ جائے گی اک رات سے کیا ہوتا ہے
کسی جانب سے جواب آئے تو کچھ بات چلے
کاوش حسن سوالات سے کیا ہوتا ہے
جب کہ تقطیر رگ جاں سے بندھی ہے تقدیر
بے خبر ذکر و مناجات سے کیا ہوتا ہے
دان دیجے کہ مرے غم کا مداوا ہووے
رنج ہوتا ہے حسابات سے کیا ہوتا ہے
دل کی وسعت سے ہے آسانئ انفاس ولے
وسعت صحن محلات سے کیا ہوتا ہے
سامنے آؤ کسی روز تو کچھ بات کریں
عمر بھر حل معمات سے کیا ہوتا ہے
ذات ہی مظہر معیار حق و باطل ہے
وہ غلط کہتے ہیں کہ ذات سے کیا ہوتا ہے
جاں نکل جائے گی تو فیصلہ دیں گے چہ خوب
صاحبو ایسی مکافات سے کیا ہوتا ہے

نگاہ یوں بھی نہ ٹھہرے کہ درد سر بن جائے
یہ سنگ چشم کسی ڈھب سے اب گہر بن جائے
کمال کوزہ گری ہے کہ میں جسے سوچوں
وہ نقش چاک پہ آنے سے پیشتر بن جائے
جدید عہد میں الٹا ہے ارتقا کا سفر
عجب نہیں ہے پھر انسان جانور بن جائے
میں چاہتا ہوں کہ چکنی چٹان پر ہی چلوں
یہ کیا بعید مرے بعد رہ گزر بن جائے
بہت نحیف نہیں ہے گرفت حلقۂ چشم
نظر اٹھے تو زمانے کی جان پر بن جائے

غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا
احساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیا
ساتھ ان کے لے رہا ہوں میں گل گشت کے مزے
یہ خواب ہی سہی مرا جی تو بہل گیا
مجبور عشق چشم فسوں ساز سے ہوں میں
جادو مجھی پہ دوست کا چلنا تھا چل گیا
میں انتظار عید میں تھا عید آ گئی
ارمان دید دامن عشرت میں پل گیا
ہے برق جلوہ یاد مگر یہ نہیں ہے یاد
خرمن مرے غرور کا کس وقت جل گیا
پیمان عشق و حسن کی تجدید کے سوا
جو بھی خیال ذہن میں آیا نکل گیا
بڑھتے چلے ہیں آئے دن اسباب اضطراب
یادش بخیر آج کا وعدہ بھی ٹل گیا
منظورؔ کس زباں سے بتوں کو برا کہیں
ایماں ہمارا کفر کے دامن میں پل گیا

لہجہ بدل کے تجھ سے نہ کی گفتگو کبھی
لیکن یہ کیا کہ کھل نہ سکا مجھ پہ تو کبھی
بڑھتے ہیں تجربات بھی عمر رواں کے ساتھ
گھٹتا نہیں ہے دائرۂ جستجو کبھی
اب بے نیاز رسم جہاں ہو گیا ہوں میں
تھا آشنائے لذت جام و سبو کبھی
عہد بہار ہو کہ خزاں کا حصار ہو
ہوتا نہیں ہے بند در آرزو کبھی
جس نے مجھے شعور غم معتبر دیا
اخترؔ وہ شخص آ نہ سکا روبرو کبھی

عشق کی راہوں پہ چلنا ہے تو رسوائی نہ دیکھ
تجھ کو پانی میں اترنا ہے تو گہرائی نہ دیکھ
دیکھنا یہ ہے پس پردہ ملوث کون ہے
پاؤں میں کس شخص نے زنجیر پہنائی نہ دیکھ
پڑھ سکے تو پڑھ حکایات غم وارفتگاں
دھوپ میں جھلسے ہوئے چہروں پہ رعنائی نہ دیکھ
خار زاروں سے گزر جا تو بلا خوف و خطر
اے مسافر ہر جگہ رسم شناسائی نہ دیکھ
تجھ کو منزل کی طلب ہے تو قدم آگے بڑھا
اس سفر میں ہم سفر کوئی مرے بھائی نہ دیکھ
سامنے آ گفتگو کا حوصلہ رکھتا ہوں میں
میری صورت پر نہ جا زخم شناسائی نہ دیکھ
خود نہ بن اخترؔ تماشا اس تماشا گاہ میں
دیکھ اپنے آپ کو ظرف تماشائی نہ دیکھ

اقرار کی صورت تھی نہ انکار کی صورت
دیکھی نہ گئی مجھ سے مرے یار کی صورت
سب مجمع آشفتہ سراں دیکھ رہے تھے
میں تکتا رہا آئنہ بردار کی صورت
کچھ دن کے لئے قافلۂ خوش نظراں بھی
گردش میں رہا گردش پرکار کی صورت
وہ شہر جو رونق تھا جہان گزراں کی
لگتا ہے مجھے وادیٔ پر خار کی صورت
میں دشت تمنا کا مسافر ہوں مجھے بھی
اک سایہ ملے سایۂ دیوار کی صورت
اب تک مری آنکھوں میں حرارت ہے وفا کی
دیکھی تھی کبھی کوچۂ دل دار کی صورت
اخترؔ کو نہ راس آیا کبھی موسم ہجراں
پھر بھی ہے رواں لمحۂ بیدار کی صورت

ہم آشنائے غم رہے فراق سے وصال تک
دل و نظر بہم رہے فراق سے وصال تک
ہم اور درد عشق کی لطافتوں سے آشنا
شریک چشم نم رہے فراق سے وصال تک
ہماری زندگی رہی مثال موجۂ صبا
ہم اتنے محترم رہے فراق سے وصال تک
قیود اجتناب میں حدود احتساب میں
نہ تم رہے نہ ہم رہے فراق سے وصال تک
جہان عشق کی فضا ہوا چراغ آئنہ
ہمارے ہم قدم رہے فراق سے وصال تک
سفر ہماری ذات کا رہین جستجو رہا
ہم اپنے گھر میں کم رہے فراق سے وصال تک
ہوائے شہر آرزو حریف عشق تھی مگر
چراغ تازہ دم رہے فراق سے وصال تک

مجھے حاصل کمال گفتگو ہے
یہ میں ہوں یا مرے لہجہ میں تو ہے
جنون آبلہ پائی ٹھہر جا
ابھی برہم مزاج جستجو ہے
کسی دن تو حد امکاں میں ہوگا
تصور میں جو شہر آرزو ہے
اثر انداز ہوگا ذہن و دل پر
جو سناٹا فضا میں چار سو ہے
زباں پر ہی نہیں حرف تمنا
مرا دل بھی شریک گفتگو ہے
ہر اک چہرہ تر و تازہ ملے گا
جہاں تک بھی حصار رنگ و بو ہے
محافظ ہے مری اچھائیوں کا
وہ آئینہ جو میرے روبرو ہے

دیدنی جسم و جاں کا رشتہ ہے
یہ سمندر بھی کتنا گہرا ہے
گھر ہو یا ہو نگر بہر صورت
آدمی تو سفر میں رہتا ہے
لوگ تو اجنبی نہیں لیکن
راستہ اجنبی سا لگتا ہے
سامنے سر پھری ہواؤں کے
کب کسی کا چراغ جلتا ہے
ڈھونڈھتی ہیں تجھے مری آنکھیں
جب کوئی قافلہ گزرتا ہے
لوگ تو آئنہ سے ڈرتے ہیں
آئنہ کب کسی سے ڈرتا ہے
کوئی عالم ہو ان دنوں اخترؔ
ایک چہرہ نظر میں رہتا ہے

زمانے بھر سے اس کا رابطہ ہے
جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے
کسی کو کیا خبر میں جانتا ہوں
ترے خوابوں نے مجھ کو کیا دیا ہے
خرد بھی چاک کرتی ہے گریباں
مگر دیوانگی اپنی جگہ ہے
اسے زخم شناسائی ملیں گے
جو اپنے آپ سے ناآشنا ہے
صداقت کا علمبردار ہوگا
وہ جس کی دسترس میں آئنہ ہے
زمانہ ہے رواں پستی کی جانب
مگر روشن چراغ ارتقا ہے
زمانہ ساز ہوتے جا رہے ہو
میاں اخترؔ تمہیں کیا ہو گیا ہے

حصار چشم سے باہر نہیں ملا کوئی
میں ڈھونڈھتا ہی رہا پر نہیں ملا کوئی
مرے وجود میں خوشبو کہاں سے آئے گی
بہت دنوں سے گل تر نہیں ملا کوئی
فصیل جسم سے باہر بھی جھانک کر دیکھا
مجھے تو میرے برابر نہیں ملا کوئی
پس غبار بھی میں آئنہ بدست رہا
مگر نگاہ کو منظر نہیں ملا کوئی
ہیں تیرے دست تصرف میں انفس و آفاق
مجھے خلوص کا پیکر نہیں ملا کوئی
ہوا چلی تو مکاں تیرگی میں ڈوب گئے
چراغ راہ گزر پر نہیں ملا کوئی
یہ خود سری کا عجب دور ہے کہ اخترؔ سے
غریب شہر سمجھ کر نہیں ملا کوئی

شریک غم مرا سایہ نہیں تھا
وگرنہ دسترس میں کیا نہیں تھا
سر صحرائے غم تشنہ لبی تھی
لب دریا کوئی پیاسا نہیں تھا
اجالے دور تک پھیلے ہوئے تھے
پس پردہ کوئی چہرہ نہیں تھا
وہ چہرے ہی تمازت کھو چکے تھے
غبار آلودہ آئینہ نہیں تھا
مرے خوابوں میں کیسے ڈھل گیا ہے
جسے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا
مجھے بھی بد گمانی ہو گئی تھی
ترا لہجہ بھی شائستہ نہیں تھا
اندھیرے میں نشاں گم ہو گئے تھے
مسافر راستہ بھولا نہیں تھا
اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ
لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ
سوچ کو احساس پر غالب نہ کر
زندگی کو خوف سے آزاد رکھ
زندگی کی چاہتیں رعنائیاں
تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ
ظلم کا بیوپار چل سکتا نہیں
دھیان اتنا اے ستم ایجاد رکھ
ڈھنگ آ جائے گا جینے کا تجھے
ڈوبتے سورج کا منظر یاد رکھ
میں بدل دوں گا زمانے کا مزاج
پہلے تو سچائی کی بنیاد رکھ
ڈوبتی نبض چلتی ہوا دیکھنا
موسم ہجر میں اور کیا دیکھنا
رت بدلتے ہوئے وقت لگتا نہیں
گھر سے نکلو تو پہلے فضا دیکھنا
زندگی اک سفر ہے مسلسل سفر
ٹوٹنا ہے کہاں سلسلہ دیکھنا
چھین لے گی متاع غم عشق بھی
ایک دن مجھ سے میری انا دیکھنا
مشغلہ بن گیا زندگی کا مری
ایک ہی شخص کا راستہ دیکھنا
خواب تسکین بھی ہے اذیت بھی ہے
خواب کے بعد تعبیر کیا دیکھنا
اب کسی کی بھی پہچان مشکل نہیں
آ گیا ہے مجھے آئنہ دیکھنا
سوچنا شہر میں امن کا راج ہے
جب بھی اخترؔ کوئی در کھلا دیکھنا
تیرگی شعلۂ نفرت کو ہوا دیتی ہے
روشنی ذوق یقیں فکر رسا دیتی ہے
تیرگی باعث آزار مسافر کے لئے
روشنی شوخئ رفتار صبا دیتی ہے
تیرگی سرحد اوہام سے آگے نہ بڑھی
روشنی قریۂ شب میں بھی صدا دیتی ہے
تیرگی رنگ علامت کے سوا کچھ بھی نہیں
روشنی عکس شفق رنگ حنا دیتی ہے
تیرگی جہل کو رکھتی ہے دل و جاں کی طرح
روشنی علم کی راہوں کا پتہ دیتی ہے
مختصر یہ کہ شب غم کی سحر ہونے تک
روشنی نور کا اک جال بچھا دیتی ہے
روشنی صورت پیغام سحر ہے اخترؔ
روشنی ہی صلۂ عہد وفا دیتی ہے
شغل ہے میرا سفر میں رہنا
میری عادت نہیں گھر میں رہنا
کتنا آسان سمجھتے ہیں لوگ
صحبت آئنہ گر میں رہنا
لوگ آئیں گے چلے جائیں گے
تو مگر میری نظر میں رہنا
اپنے اندر بھی انا پیدا کر
چھوڑ غیروں کے اثر میں رہنا
قربتیں اتنی سبک ہیں جیسے
خوشبوؤں کا گل تر میں رہنا
ہے علامات ہنر میں شامل
بند آنکھوں کا سفر میں رہنا
میں کسی دل میں رہوں گا اخترؔ
کیا کسی راہ گزر میں رہنا
نشاط دنیا کو خواب لکھنا مسرتوں کو سراب لکھنا
جو ہو سکے تو غم و الم کی حکایت پر کتاب لکھنا
میں سرگزشت حیات اپنی صحیفۂ دل پہ لکھ رہا ہوں
تو عہد رفتہ کے موسموں کو نئے دنوں کا عذاب لکھنا
میں اپنی تہذیب کے حوالے سپرد قرطاس کر چکا ہوں
ترے مقدر میں کیا نہیں ہے کوئی درخشندہ باب لکھنا
ہیں میری آنکھوں میں خواب تیرے اسی لئے تو ہیں زخم گہرے
کسی کے بس میں نہیں ہے شاید حکایت اضطراب لکھنا
میں اپنی چشم مشاہدہ سے جو دیکھتا ہوں وہی لکھوں گا
خلاف شان سخنوری ہے قصیدۂ آب و تاب لکھنا
یہ دشت امکان آرزو ہے یہیں خیابان جستجو ہے
یہاں کے موسم کی سرکشی کو علامت انقلاب لکھنا
دیار احساس کے مکینوں کے سر پہ تاج سخنوری ہے
تو ایسے زندہ دلوں کو اخترؔ ہمیشہ عزت مآب لکھنا
ہجوم سلسلۂ رفتگاں دکھائی دیا
زمین پر ہی مجھے آسماں دکھائی دیا
میں ایسے شہر میں کچھ دن گزار آیا ہوں
ہر ایک شخص جہاں بے زباں دکھائی دیا
نگار خانۂ حیرت میں ایک شب گزری
پھر اس کے باد وہ منظر کہاں دکھائی دیا
سمجھ رہا تھا جسے اپنا ہم سفر وہ بھی
حریص مملکت جسم و جاں دکھائی دیا
فقط چراغ نہ تھے میری رہبری کے لئے
اک آئینہ بھی پس کارواں دکھائی دیا
ہر ایک شخص دیار سخن فروشاں میں
نقیب فطرت بازی گراں دکھائی دیا
کسی نے شہر کو صحرا بنا دیا اخترؔ
کسی کو دشت بھی اک سائباں دکھائی دیا
ہمیشہ موسم گل ہائے تر نہیں رہتا
تمام عمر کوئی ہم سفر نہیں رہتا
جنون عشق میں کیا تیرا گھر تلاش کروں
مری نگاہ میں خود میرا گھر نہیں رہتا
عجیب رابطہ حسن و عشق ہے جس میں
خیال سایۂ دیوار و در نہیں رہتا
یہ اور بات کہ تیری خبر نہ ہو مجھ کو
مگر میں خود سے کبھی بے خبر نہیں رہتا
بتا رہا ہے یہ میرا مشاہدہ مجھ کو
رفاقتوں کا شجر بے ثمر نہیں رہتا
ہمارے پیش نظر آئنہ تو رہتے ہیں
مگر نگاہ میں آئینہ گر نہیں رہتا
جو اعتبار کی حد سے گزر گیا اخترؔ
کسی نظر میں بھی وہ معتبر نہیں رہتا
تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں
اک سمندر کے دو کنارے ہیں
دشت امکاں سے کوئے جاناں تک
زیست نے کتنے روپ دھارے ہیں
پھول خوشبو چراغ موج صبا
یہ محبت کے استعارے ہیں
کس لئے رقص میں ہے چرخ کہن
کیوں تعاقب میں چاند تارے ہیں
حاصل زندگی ہیں وہ لمحے
جو غم ہجر میں گزارے ہیں
صبح نو کے نئے نئے منظر
کتنے دل کش ہیں کتنے پیارے ہیں
جن کو اخترؔ شعور ذات نہ تھا
جیتی بازی وہ لوگ ہارے ہیں
دل سے ارماں نکل رہے ہیں
میرے بھی دن بدل رہے ہیں
ورنہ گھر میں ہے گھپ اندھیرا
یادوں کے چراغ جل رہے ہیں
یہ عجب لوگ ہیں کہ ان کے
پاؤں نہیں پہ چل رہے ہیں
ہم در شاہ پر سوالی
آج ہیں اور نہ کل رہے ہیں
وہ ہی پہنچیں گے یار تک جو
گرتے گرتے سنبھل رہے ہیں
ہم نکو نام تو ہوئے پر
دل پہ آرے سے چل رہے ہیں
ان کو آزاد کر جو اب تک
زیر حبس علل رہے ہیں
ان کو محبوس کر جو کب سے
قاعدے سب کچل رہے ہیں
کہہ نہ کرب و بلا کا قصہ
لفظوں کے دل دہل رہے ہیں
خود سے کتنا کیا دغا میں نے
ابھی سیکھی نہیں وفا میں نے
نکلا چوہا پہاڑ کو کھودا
جو کیا جو کہا سنا میں نے
کھولیے کیوں دکھوں کے دفتر کو
سوچنا بند کر دیا میں نے
ہاں لگایا ہے ذکر عظمت پر
زور سے ایک قہقہہ میں نے
حاصل زیست ہے کہ دیکھا ہے
سنبل و سبزہ و صبا میں نے
زندگی زہر تھا اسے سقراط
جرعہ جرعہ مگر پیا میں نے
چھپ کے بیٹھا ہوں شرمساری سے
کعبے سے دور لی ہے جا میں نے
یہ تو تذلیل ہے شہادت کی
کبھی مانگا نہ خوں بہا میں نے
جب بڑھی اور شرم عریانی
اوڑھ لی خاک کی قبا میں نے
اپنے دل کو تو سی نہیں سکتا
اپنے ہونٹوں کو سی لیا میں نے
خوف سے بھاگ نکلا مجلس سے
جب سنا ذکر کربلا میں نے
Conclusion – Eid: A Day of Peace and Gratitude
Eid is an experience that continually internalizes the sharing, forgiving, and being grateful as the only sources of true happiness. Saying “Eid Mubarak” does not merely convey a wish; rather, it is a prayer for peace, love, and blessings bestowed upon all.
Humans cannot sometimes express their feelings as well as these quotes. The quotes can be shared with your family in a whisper, as a text message, or on social media, but always remember to let them radiate and to create a positive atmosphere.
Every Eid is a new beginning to start anew with God in your heart and love in your speech.
Thank You Message
It was a pleasure for us if you took the time to check our 50+ Eid Quotes in Urdu collection.
We hope these quotes will be a source of happiness for you and a sign of God’s favor in your home.
Eid brings to mind the fact that even the least of the good deeds can make a person very happy. Thus, share these quotes, bring joy, and have a wonderful Eid celebration.
Eid Mubarak!
FAQs
Q1: What do you mean by Eid quotes in Urdu?
Eid quotes in Urdu are lovely expressions and lines of poetry that convey the essence of Eid — happiness, harmony, love, and thankfulness.
Q2: Is it okay to post these Eid quotes on social media?
Definitely! These quotes of Eid Mubarak in Urdu are a great choice to be shared on WhatsApp, Facebook, Instagram, or sent as Eid cards.
Q3: Are these quotes only religious, or do they also have a general?
Both kinds are there. You will come across Islamic Eid quotes with great faith and also very sincere Eid wishes for everyone.
Q4: What type of Urdu Eid quotes are there?
Mostly, short, simple, and emotional ones — including Eid poetry, Islamic blessings, and Eid wishes for friends and family.
Q5: What is the reason for the popularity of Urdu Eid quotes?
The reason is already stated: Urdu is an extremely beautiful language to express emotions — even the smallest word feels poetic and very warm, thus making Eid greetings more meaningful.
