90+ Khwab Quotes in Urdu – Dreams That Speak to the Heart
Introduction -The Beauty of Khwab (Dreams)
Dreams, or Khwab, are not only what we perceive during our sleep but the unspoken communication of our hearts.
They reflect our aspirations, anxieties, and at times even our most secret wishes.
The collection of 90+ Khwab Quotes in Urdu represents a trio of emotions, imagination, and inspiration – written and shared to move your spirit.
Every single line here reflects the essence of what dreams are about in life – from the romantic Khwab quotes that bring a smile to your lips, to the deep Urdu dream sayings that provoke your thoughts. Whichever way you take dreams to be signs, wishes, or heart’s communications, these quotes will be there to remind you why Khwab are so divine and an inseparable part of human existence.
Description – Urdu Khwab Quotes That Touch Emotions
Khwab (dreams) in Urdu literature have really always portrayed a very beautiful aspect and a very practical one. Poetry gets connected with life and imagination with truth.
Khwab Urdu quotations are very easy, and emotional yet full of life teachings.
The collection comprises:
- Khwab quotes in Urdu that are romantic and depict love and longing
- Khwab quotes that inspire to chase the dreams and goals
- Dreamers and imagination in beautiful Urdu lines
- Deep Urdu quotes regarding dreams, destiny, and the heart’s wishes
All quotes are simple for reading but very emotional, ideal for the lovers of Urdu poetry, dream quotes, or motivational Urdu sayings.
Urdu Khwab quotations have us remember that every dream, whether big or small, carries a meaning. Some dreams make us smile, some cause tears, but they all remind us that we are still living and we still have hope.

موجوں میں تلاطم ہے ساحل پہ بھی طوفاں ہے
اب اپنے سفینے کا اللہ نگہباں ہے
ہر چند محیط دل تاریکیٔ ہجراں ہے
شعلہ تری یادوں کا سینہ میں فروزاں ہے
دیکھا ہی نہیں تم نے کیا رنگ بہاراں ہے
سرخی ہے جو پھولوں پر وہ خون شہیداں ہے
تخریب کے پردے میں تعمیر بھی پنہاں ہے
تاریک فضاؤں میں اک شمع فروزاں ہے
کیا غم جو اندھیرا ہے دنیا کی فضاؤں میں
جو داغ تمنا ہے خورشید درخشاں ہے
کھلتے نہیں لب میرے احساس حمیت سے
مرتا ہوں کہ حال دل چہرے سے نمایاں ہے
خوابوں کے دریچوں سے جھانکا ہے بہاروں نے
اب دامن صحرا بھی دامان گلستاں ہے
ممکن ہے صبا خوشبو صحرا میں اڑا لائے
ہرچند گھٹاؤں کا رخ سوئے گلستاں ہے
کیا خوف تجھے آخر اے راہ رو ہستی
کہتے ہیں اجل جس کو ہستی کی نگہباں ہے
چھائے گی خوشی اک دن غم خانۂ ہستی پر
غم تو مری دنیا میں کچھ دیر کا مہماں ہے
اب آپ کی مرضی ہے جو چاہیں ہمیں سمجھیں
دل آپ کا شیدا ہے دل آپ پہ نازاں ہے
تصویر تری اب تک پھرتی ہے نگاہوں میں
ہر یاد تری اب تک نزدیک رگ جاں ہے
اٹھ کر ترے کوچے سے اب جائے کہاں عظمتؔ
دنیا بھی بیاباں ہے عقبیٰ بھی بیاباں ہے

زمین چشم میں بوئے تھے میں نے خواب کے بیج
مگر اگے تو کھلا وہ تھے اضطراب کے بیج
مجھے ہی کاٹ کے مٹی میں گاڑنا ہوگا
کہ کون دے گا مری جاں تمہیں گلاب کے بیج
زمیں پہ ایسے چمکتے ہیں ریت کے ذرے
کسی نے جیسے بکھیرے ہوں آفتاب کے بیج
وہ میری روح میں اترا تو کب گمان بھی تھا
دبا رہا ہے مری روح میں عذاب کے بیج
تمام عمر کٹی اک فریب میں عزمیؔ
بکھیر کر وہ گیا دور تک سراب کے بیج

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا
آخر کوڑے دان میں رکھا جائے گا
آنکھوں کی اس بار رہائی ممکن ہے
خوابوں کو زندان میں رکھا جائے گا
سب کو دل کے کمرے تک کب لائیں گے
کچھ لوگوں کو لان میں رکھا جائے گا
باتوں سے جب پیٹ کا کمرہ بھر جائے
تو پھر ان کو کان میں رکھا جائے گا
جس کو چاہے ہونٹ اٹھا کر لے جائیں
لفظوں کو میدان میں رکھا جائے گا
ہم کب قبر کی مٹی کے ہاتھ آئیں گے
ہم کو تو دیوان میں رکھا جائے گا

بھنور میں تو ہی فقط میرا آسرا تو نہیں
تو ناخدا ہی سہی پر مرا خدا تو نہیں
اک اور مجھ کو مری طرز کا ملا ہے یہاں
سو اب یہ سوچتا ہوں میں وہ دوسرا تو نہیں
ابھی بھی چلتا ہے سایہ جو ساتھ ساتھ مرے
بتا اے وقت کبھی میں شجر رہا تو نہیں
ہیں گہری جڑ سے شجر کی بلندیاں مشروط
سو پستیاں یہ کہیں میرا ارتقا تو نہیں
جو پاس یہ مرے بے خوف چلے آتے ہیں
مرے بدن پہ پرندوں کا گھونسلہ تو نہیں
اے آئنے تو ذرا دیکھ غور سے مری آنکھ
گرے ہیں اشک کوئی خواب بھی گرا تو نہیں

کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی
کہ اب تو دل کے سناٹے سے بھی وحشت نہیں ہوتی
زمانے بھر کے غم اپنا لئے ہیں خود فریبی میں
خود اپنے غم سے ملنے کی ہمیں فرصت نہیں ہوتی
گزر جاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں
بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی
قسم کھائی ہے ہم نے بارہا خاموش رہنے کی
مگر گھٹ گھٹ کے رہنے کی ابھی عادت نہیں ہوتی
اسے میں آگہی کا فیض سمجھوں یا سزا سمجھوں
ہمیں دنیا کی نیرنگی پہ اب حیرت نہیں ہوتی
جہاں پر مکر و فن آداب محفل بن کے چھایا ہو
ہمیں ایسی کسی محفل سے کچھ نسبت نہیں ہوتی
ہزاروں ان کہی باتیں جنہیں لکھنے کو جی چاہے
کبھی ہمت نہیں ہوتی کبھی فرصت نہیں ہوتی

یہ دل بس میں کبھی میرے رہا نئیں
کبھی یادوں کا دامن چھوڑتا نئیں
بھلائیں کیسے امروہے کی گلیاں
ابھی لہجے سے امروہہ گیا نئیں
یہیں گم کردہ اپنا آشیاں تھا
جہاں باقی کوئی اب آشنا نئیں
شکستہ ہو چکے محراب و در سب
ابھی تک ذہن سے نقشہ گیا نئیں
ہمارے نام کی تختی نہیں ہے
مگر وہ گھر تو خوابوں سے گیا نئیں
میں سمجھوں ہوں تمہاری بے قراری
میاں گزرا زمانہ لوٹتا نئیں
کسی سفاک ہجرت کے ستم سے
زمیں سے اپنا رشتہ ٹوٹتا نئیں
تمہاری شاعرانہ بے خودی کو
کسی سرحد پہ کوئی روکتا نئیں
بہت تھی دھوم جشن ریختہ میں
تمہارے نام کی تم نے سنا نئیں
تمہاری شاعری پر سر دھنے ہیں
مگر یہ لوگ اردو آشنا نئیں
پڑی ہے شاعری گھٹی میں عذراؔ
مگر کچھ معتبر اب تک کہا نئیں

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں
ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں
حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر
ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں
رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال
صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں
کیسے گھبرائے سے پھرتے ہیں مرے خال غزال
زندگانی کی کڑی دھوپ میں سنولاتے ہیں
پھول سے لوگ جو خوشبو کے سفر پر نکلے
دیکھتے دیکھتے کس طرح سے مرجھاتے ہیں
چھوڑیئے جو بھی ہوا ٹھیک ہوا بیت گیا
آئیے راکھ سے کچھ خواب اٹھا لاتے ہیں

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں
میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں
عجیب موسم دل ہے عجیب مجبوری
نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں
پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر
سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں
حقیقتیں تو مرے روز و شب کی ساتھی ہیں
میں روز و شب کی حقیقت بدلنا چاہتی ہوں
کبھی تو خود نگری کی فصیل سے باہر
خود اپنے ساتھ سفر پر نکلنا چاہتی ہوں

اک شانت ندی سی لگتی ہو
کس خاموشی سے بہتی ہو
ہر بار امیدیں باندھتی ہو
ہر بار نئے دکھ سہتی ہو
اپنے من کا سارا سونا
کیوں بھکشا میں دے دیتی ہو
کس خواب کا عکس ہے آنکھوں میں
کیوں کھوئی کھوئی رہتی ہو
اک بار بھڑک کر تو دیکھو
کیوں دھیمے دھیمے جلتی ہو
یہ کون سا روپ تمہارا ہے
یہ کیسی غزلیں کہتی ہو

کبھی اک نیا آسمان ڈھونڈھتی ہوں
کبھی کوئی جائے اماں ڈھونڈھتی ہوں
وہ اک خواب جو میں نے دیکھا نہیں تھا
اب اس خواب کی دھجیاں ڈھونڈھتی ہوں
مجھے میری ہستی سے آزاد کر دے
وہ اک لمحۂ جاوداں ڈھونڈھتی ہوں
اداکار چہروں کی گہرائیوں میں
کہیں سچ کی پرچھائیاں ڈھونڈھتی ہوں
جو پتھر سے الفاظ میں جان ڈالے
وہ انداز سحر البیاں ڈھونڈھتی ہوں
نہیں کوئی دیوار گریہ میسر
کوئی مہرباں رازداں ڈھونڈھتی ہوں

اک مدت کے بعد ملی احساس جگاتی تنہائی
خاموشی سے دھیرے دھیرے گھر مہکاتی تنہائی
آوازوں کی بھیڑ میں جب بھی مجھ کو پریشاں دیکھا ہے
ہاتھ پکڑ کر لے آئی ہے کچھ سمجھاتی تنہائی
آنکھوں سے جب نیند بھٹک کر صحرا صحرا گھومتی ہے
میرے سرہانے رات گئے تک لوری گاتی تنہائی
بچپن میں جب گرم دوپہری ننگے پاؤں پھرتی تھی
آم کے باغوں میں ملتی تھی رس برساتی تنہائی
پیار کی خواب رتوں میں کیسی جاگی سوئی رہتی تھی
چاند ہنڈولے میں جھولی تھی جب مدھ ماتی تنہائی
پہروں ہم نے باتیں کی ہیں پہروں خواب سجائے ہیں
میں روئی تو مجھ سے چھپ کر اشک بہاتی تنہائی
بہت دنوں کے بعد سنور کر اپنا چہرہ دیکھا تھا
آئینے سے جھانک رہی تھی آنکھ چراتی تنہائی

کس کی پرچھائیں مرے ساتھ سفر کرتی ہے
کون ہے یہ جو مری عمر بسر کرتی ہے
خواب کے شہر بناتی ہے مری اک ہم راز
اور پھر خود ہی مجھے شہر بدر کرتی ہے
کوئی آواز کہیں ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھے
انتظار عرصے سے اک راہ گزر کرتی ہے
اسی امید پہ لکھتی ہوں حدیث دل زار
دل سے نکلی ہوئی ہر بات اثر کرتی ہے
لفظ و معنی کے سمندر میں کوئی ساعت نور
کسی تخلیق کے لمحے کو گہر کرتی ہے

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے
کچھ ایسے کار جہاں میں کھوئے کہ اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے
یہ ناامیدی کی انتہا ہے کہ آگہی کی ہے کوئی منزل
یہ دل کو کیا عارضہ ہوا ہے اسے کسی سے گلہ نہیں ہے
ہمیشہ سچ بولنے کی عادت ہے کیا کریں بولتے رہیں گے
قدم قدم پر ہے آزمائش کہ سہل یہ مرحلہ نہیں ہے
ہم ان کی ہر بات مان لیتے تو زندگی چین سے گزرتی
بس عزت نفس روکتی ہے انا کا یہ مسئلہ نہیں ہے
یوں ہی بھٹکتے پھریں گے کب تک خود اپنے اندر تلاش کر لیں
جہاں مکمل سکوں میسر ہو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے
بس اک پریشاں ہجوم کے ساتھ ہم بھی شامل ہیں چل رہے ہیں
نہ کوئی نقش قدم سلامت کہیں کوئی راستہ نہیں ہے
یہ شام اتنی اداس کیوں ہے کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے
یہ خوں کی سرخی شفق کے رنگوں میں گھل گئی بے وجہ نہیں ہے
ستارۂ صبح ڈھونڈتے ہیں غبار آلودہ موسموں میں
نظر سے اوجھل تو ہو گیا ہے مگر ابھی گمشدہ نہیں ہے

مری خود سے محبت بڑھ گئی ہے
بہت پنجرے سے وحشت بڑھ گئی ہے
ہیں میرے خواب سارے موم کے بت
مرے سورج تمازت بڑھ گئی ہے
ہمارے بیچ بیداری ہی غم تھی
بس اب نیندوں کی حاجت بڑھ گئی ہے
یہ کیا بازار کیسے لوگ یوسف
ادھر کیوں تیری رغبت بڑھ گئی ہے
سنائی دیتا ہے سب ان کہا بھی
تری دھن میں سماعت بڑھ گئی ہے
کبھی نیندوں سے میں وحشت زدہ تھی
پر اب خوابوں سے راحت بڑھ گئی ہے
میں بچنا چاہتی ہوں اپنی جاں سے
مری مجھ سے محبت بڑھ گئی ہے
نشہ سورج کو ہو جائے تو کیا ہو
مری حیرت پہ حیرت بڑھ گئی ہے

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا
عشق بس خواب ہے اس خواب کے جادو پہ نہ جا
اب پلٹ کر نہیں شہروں کو میں جانے والی
مرے جنگل تو پریشانی و ہا ہو پہ نہ جا
میں ترا رقص ہوں اس رقص کو پورا کر لے
تھک کے یوں ٹوٹ کے گرتے ہوئے گھنگھرو پہ نہ جا
گرمیٔ رقص کے تھمتے ہی تھمیں گے ہم سب
حصۂ رقص ہے اس جنبش ابرو پہ نہ جا

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا
اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا
سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی
اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا
اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی
ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا
چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے
سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں رہنا
اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی
یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا

بلا کشوں پہ کہاں پیاس کا عذاب نہ تھا
وہاں پہ منع تھا پانی جہاں سراب نہ تھا
شکست خواب کا ماتم تھا چار سو لیکن
تمام شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا
نہ آستینوں پہ ملتا نہ خاک مقتل پر
خدا کا شکر ہمارا لہو شراب نہ تھا
ادھر گناہ ادھر حسرت گناہ کا بوجھ
فشار قبر کی تمثیل تھا شباب نہ تھا
بکا تھا ذہن و دل و جاں سمیت منڈی میں
الگ ضمیر کے کیا دام تھے حساب نہ تھا
بہ طرز خاص تھی مقصود مجھ کو شہرت عام
لبوں پہ تھا مرے سینے میں انقلاب نہ تھا
زمانہ ساز تھا قیسیؔ نہ زر شناس مگر
عزیز کیسے تھا جو شخص کامیاب نہ تھا

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا
اندھیرے چیختے ہیں آفتاب کوئی لے گیا
میں سارے کاغذات لے کے دیکھتا ہی رہ گیا
ثواب کوئی لے گیا عذاب کوئی لے گیا
سپرد کر کے خامشی کی مہر خوش نما مجھے
لبوں سے نعرہ ہائے انقلاب کوئی لے گیا
ہے اعتراف میرے ہاتھ میں جو ایک چیز تھی
سنبھال کر رکھا تو تھا جناب کوئی لے گیا
یہ غم نہیں کہ مجھ کو جاگنا پڑا ہے عمر بھر
یہ رنج ہے کہ میرے سارے خواب کوئی لے گیا
شجر شجر ورق ورق پیام بر وہاں بھی ہے
جہاں سے ہر صحیفہ ہر کتاب کوئی لے گیا
شناخت ہو سکی نہ پھر بھی یہ مرا قصور تھا
ہمارے درمیاں تھا جو حجاب کوئی لے گیا

یوں ہی کٹے نہ رہ گزر مختصر کہیں
پڑتے ہیں پائے شوق کہیں اور نظر کہیں
موہوم و مختصر سہی پیش نظر تو ہے
دیکھا کسی نے خواب یہ بار دگر کہیں
مائل بہ جستجو ہیں ابھی اہل اشتیاق
دنیائیں اور بھی ہیں ورائے نظر کہیں
باقی ابھی قفس میں ہے اہل قفس کی یاد
بکھرے پڑے ہیں بال کہیں اور پر کہیں
اب ہم ہیں اور طلسم تمنا کی وسعتیں
ڈھونڈے سے بھی نہ مل سکی راہ مفر کہیں
ہر فاصلہ ہے جلوہ گہ موج اتصال
یعنی جبین شوق کہیں سنگ در کہیں
صدیوں کا اضطراب تمنائیؔ سونپ دوں
مل جائے کوئی لمحۂ فرصت اگر کہیں

جان نذر شباب ہو کے رہی
زندگی کامیاب ہو کے رہی
میری جانب جو اٹھ گئی تھی کبھی
وہ نظر لا جواب ہو کے رہی
عشق میں راہ راست بھی اکثر
راہ پر پیچ و تاب ہو کے رہی
بعد توبہ کے اور بھی ساقی
میری حالت خراب ہو کے رہی
ان کی محفل میں بے کسی میری
باعث انقلاب ہو کے رہی
فصل گل میں مزے اڑائیں گے
یہ تمنا بھی خواب ہو کے رہی
دہر میں اے عزیزؔ اپنی وفا
آپ اپنا جواب ہو کے رہی

ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ
اپنی مشکل کسی آسان سے باندھے ہوئے رکھ
تجھ کو معلوم سے آگے کہیں جانا ہے تو پھر
خواب کو دیدۂ حیران سے باندھے ہوئے رکھ
ورنہ مشکل بڑی ہوگی یہاں دنیا داری
دیکھ انسان کو انسان سے باندھے ہوئے رکھ
جو بھلانے پہ کبھی بھول نہیں پاتا ہے
مجھ کو اپنے اسی احسان سے باندھے ہوئے رکھ

سفر کے بعد بھی سفر کا اہتمام کر رہا ہوں میں
عجیب بے دلی سے ہر جگہ قیام کر رہا ہوں میں
یہ بات بات پر اٹھانا ہاتھ بد دعا کے واسطے
مرا یقین کر حلال کو حرام کر رہا ہوں میں
یہ لوگ خواب اور پھول سے پناہ مانگنے لگے
بس اتنا سوچ کر ہی بات کو تمام کر رہا ہوں میں
ہر ایک لفظ پر اکھڑ رہی ہے بار بار سانس یہ
مجھے تو لگ رہا ہے آخری سلام کر رہا ہوں میں
کچھ اس طرح کی تہمتیں لگائی جا رہی ہیں مجھ پہ اب
خموش رہ کے اپنے آپ سے کلام کر رہا ہوں میں

دوسرا رخ نہیں جس کا اسی تصویر کا ہے
مسئلہ بھولے ہوئے خواب کی تعبیر کا ہے
چند قدموں سے زیادہ نہیں چلنے پاتے
جس کو دیکھو وہی قیدی کسی زنجیر کا ہے
جو بھی کرنا ہے فقط دل کی تسلی کے لئے
وقت تحریر کا ہے اور نہ تدبیر کا ہے
تم محبت کا اسے نام بھی دے لو لیکن
یہ تو قصہ کسی ہاری ہوئی تقدیر کا ہے
یہ جو چلنے نہیں پاتے تری جانب دراصل
جلدی جلدی میں کہیں ڈر ہمیں تاخیر کا ہے
بالکل ایسے مجھے حاصل ہے حمایت سب کی
ہر کوئی جیسے طرف دار یہاں ہیر کا ہے

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا
رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا
ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے
ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا
روز پلکوں پہ گئی رات کو روشن رکھا
روز آنکھوں میں گئے دن کو مچلتے دیکھا
صبح کو تنگ کیا خود پہ ضرورت کا حصار
شام کو پھر اسی مشکل سے نکلتے دیکھا
ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے
ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
عزمؔ اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں
گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں
سکون کی صبح چاہتا تھا سو شام وحشت میں آ بسا ہوں
میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے
اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں
وصال فردا کی جستجو میں نشاط امروز گھٹ رہا ہے
یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں آ بسا ہوں
یہاں تو بے فرصتی کے ہاتھوں وہ پائمالی ہوئی ہے میری
کہ جس سے ملنے کی آرزو تھی اسی کی فرقت میں آ بسا ہوں
کہاں کی دنیا کہاں کی سانسیں کہ سب فریب حواس نکلا
جزا کی مدت سمجھ رہا تھا سزا کی مہلت میں آ بسا ہوں
سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک
جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں
یہ ان سے کہنا جو میری چپ سے ہزار باتیں بنا رہے تھے
میں اپنے شعلے کو پا چکا ہوں میں اپنی شدت میں آ بسا ہوں

اس آنکھ سے وحشت کی تاثیر اٹھا لایا
میں جاگتے رہنے کی تدبیر اٹھا لایا
میں نیت شب خوں سے خیمے میں گیا لیکن
دشمن کے سرہانے سے شمشیر اٹھا لایا
وہ صبح رہائی تھی یا شام اسیری تھی
جب میں در زنداں سے زنجیر اٹھا لایا
آوارہ مزاجی پر حرف آنے سے پہلے ہی
دل تیرے تغافل کی تصویر اٹھا لایا
اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں
اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا
وہ سنگ ملامت تھا جس کو ترا دل کہہ کر
اس کوچے سے مجھ جیسا رہگیر اٹھا لایا
اس شخص سے میں سب کو عجلت میں ملا بیٹھا
اور اپنے لیے کیسی تاخیر اٹھا لایا
میدان شکایت سے کیا اپنے سوا لاتا
اک رنج تھا میں جس کی تعمیر اٹھا لایا
اس بزم سخن میں ہم کیا پہنچے کہ شور اٹھا
لو عزمؔ کوئی زخمی تحریر اٹھا لایا

دل سویا ہوا تھا مدت سے یہ کیسی بشارت جاگی ہے
اس بار لہو میں خواب نہیں تعبیر کی لذت جاتی ہے
اس بار نظر کے آنگن میں جو پھول کھلا خوش رنگ لگا
اس بار بصارت کے دل میں نادیدہ بصیرت جاگی ہے
اک بام سخن پر ہم نے بھی کچھ کہنے کی خواہش کی تھی
اک عمر کے بعد ہمارے لیے اب جا کے سماعت جاگی ہے
اک دست دعا کی نرمی سے اک چشم طلب کی سرخی تک
احوال برابر ہونے میں اک نسل کی وحشت جاگی ہے
اے طعنہ زنو دو چار برس تم بول لیے اب دیکھتے جاؤ
شمشیر سخن کس ہاتھ میں ہے کس خون میں حدت جاگی ہے

کھلتا نہیں کہ ہم میں خزاں دیدہ کون ہے
آسودگی کے باب میں رنجیدہ کون ہے
آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ
یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے
دیکھوں جو آئینہ تو غنودہ دکھائی دوں
میں خواب میں نہیں تو یہ خوابیدہ کون ہے
انبوہ اہل زخم تو کب کا گزر چکا
اب رہ گزر پہ خاک میں غلطیدہ کون ہے
اے کرب نا رسائی کبھی یہ تو غور کر
میرے سوا یہاں ترا گرویدہ کون ہے
ہر شخص دوسرے کی ملامت کا ہے شکار
آخر یہاں کسی کا پسندیدہ کون ہے
تو عزم ترک عشق پہ قائم تو ہے مگر
تجھ میں یہ چند روز سے لرزیدہ کون ہے

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا
میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا
میں نے پرواز لکھی حد فلک سے آگے
اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا
میں نے خوشبو کو لکھا دسترس گم شدگی
رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا
حسن گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی
شور لکھنا تھا سو آزار سماعت لکھا
میں نے تعبیر کو تحریر میں آنے نہ دیا
خواب لکھتے ہوئے محتاج بشارت لکھا
کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا
اتنے داؤں سے گزر کر یہ خیال آتا ہے
عزمؔ کیا تم نے کبھی حرف ندامت لکھا

یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں
ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں
آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش
دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں
یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر
اے صاحب جمال ترا آئنا ہوں میں
یوں بار بار مجھ کو صدائیں نہ دیجئے
اب وہ نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں میں
میری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں
سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں میں
وہ بے وفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو
آنکھوں میں اس کے خواب لیے پھر رہا ہوں میں

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم
خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم
اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا
خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم
آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں
لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم
لکھ نہ پائے جو کسی کی نیم باز آنکھوں کا راز
وہ یہ وعدہ کر رہے ہیں میرؔ بن جائیں گے ہم
گر یوں ہی بڑھتا رہا دن رات شغل مے کشی
ایک دن اس میکدے کے پیر بن جائیں گے ہم
اس نے بھی اوروں کے جیسا ہی کیا ہم سے سلوک
جو یہ کہتا تھا تری تقدیر بن جائیں گے ہم

ساری رات کے بکھرے ہوئے شیرازے پر رکھی ہیں
پیار کی جھوٹی امیدیں خمیازے پر رکھی ہیں
کوئی تو اپنا وعدہ ہی آسانی سے بھول گیا
اور کسی کی دو آنکھیں دروازے پر رکھی ہیں
اس کے خواب حقیقت ہیں اس کی ذات مکمل ہے
اور ہماری سب خوشیاں اندازے پر رکھی ہیں

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے
میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے
سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا
پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے
ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں
دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے
بزم میں خوب لٹائے گئے چاہت کے گلاب
اس طرح صدقۂ احباب اتارا اس نے
آنسوؤں سے کبھی سیراب نہ ہوتا صحرا
میرے اندر کوئی سیلاب اتارا اس نے

اجالا جب شب ظلمات پر اترتا ہے
وہ حرف حرف مری ذات پر اترتا ہے
اس ایک رنگ پہ قربان دل کے سب موسم
جو رنگ شدت جذبات پر اترتا ہے
وہ خواب گاہ کی رونق وہ چاند جیسا بدن
کبھی حیات کبھی ذات پر اترتا ہے
سخن وران کہن اس پہ رشک کرتے ہیں
جو درد پرچۂ ابیات پر اترتا ہے
کبھی کبھار تو سقراط کی ردا بن کر
شعور فکر طلسمات پر اترتا ہے

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں
شوق پابند کو آزاد کروں یا نہ کروں
آپ ہیں وقت ہے فرصت ہے ذرا یہ کہہ دو
اب بیاں عشق کی روداد کروں یا نہ کروں
اے غم ہجر بتا اے دل مایوس بتا
ماتم حسرت ناشاد کروں یا نہ کروں
یوں تو اب کچھ بھی نہیں دیدۂ ویراں کو مگر
چند خوابوں سے بھی آباد کروں یا نہ کروں
میری قسمت میں سہی درد و الم کی راہیں
شادمانی کو کہیں یاد کروں یا نہ کروں
آج موسم نے کوئی مست غزل چھیڑی ہے
ضبط کو مائل فریاد کروں یا نہ کروں
زندگی عشق میں مٹنا ہے تو پھر ایسے میں
ناز تجھ پہ دل برباد کروں یا نہ کروں
انقلابات میں طوفان ستم میں عظمت
شان الطاف و کرم یاد کروں یا نہ کروں

دیکھا نہ ان کو جان کے بچ کر نکل گئے
یہ ایک چال ہم بھی قیامت کی چل گئے
ہم راہ زندگی میں بھٹک کر سنبھل گئے
ہر قافلہ کو چھوڑ کے آگے نکل گئے
خوشیوں کا ذکر کیا کہ فریب حیات تھیں
غم معتبر تھے عشق کے سانچے میں ڈھل گئے
کیا غم شب الم کا ابھرنے دو تیرگی
سینے میں سو چراغ سر شام جل گئے
دیکھا جب اہل بزم نے مجھ کج کلاہ کو
نظریں بدل گئیں کبھی تیور بدل گئے
اے ہم نشیں نہ پوچھ مآل شب امید
جو خواب ہم نے دیکھے تھے وہ خواب جل گئے
عظمتؔ یہ کیا ہوا کہ تمہارے تمام راز
اشکوں میں ڈھل گئے کبھی شعروں میں ڈھل گئے

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے
تیز دہکتی آگ زمیں پر خندق خندق چلتی ہے
آسیبی سی شمعیں لے کر سیاروں میں گھوم گئی
کوئی ہوا ایسی ہے کہ دنیا نیند میں اٹھ کر چلتی ہے
کہساروں کی برف پگھل کر دریاؤں میں جا نکلی
کچھ تو پاس آب رواں کر نبض جنوں کیا چلتی ہے
رات کی رات ٹھہرنے والے وقت خوش کی بات سمجھ
صبح تو اک دروازۂ غم پر دنیا آنکھیں ملتی ہے
خوش بو شہر بدی کا جادو ایک حدیث طلسم ہوئی
حوض میں کھلتا گل بکاؤلی خوش بو اس میں پلتی ہے
قندیل راہب کا جادو آسیبی تاروں کے موڑ
کاٹ کے وقت کی اک پرچھائیں خواب نما سی چلتی ہے
شمس و قمر کی خاکستر میں روح تھی اک آرائش کی
دنیا بیچ میں جا کے کھڑی ہے اور لباس بدلتی ہے
خاکستر دل کی تھی آخر ملتی راکھ میں تاروں کی
آتش مہر سا جست سا کرتی بجھتے بجھتے جلتی ہے
مطرب خوش آواز ہوئی ہے زخم آور آہنگ بلا
وہ جو مرے حصے کی لے تھی تیرے گلے میں ڈھلتی ہے

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے
تلاش آدمی کے زاویے کیا کیا بدلتی ہے
کبھی اک لو سے ششدر ہے کبھی اک ضو سے حیراں ہے
زمیں کس انکشاف نار سے یا رب پگھلتی ہے
تغیر کی صدی ہے آتشیں خوابوں کی پیکاریں
رصد گاہوں کے آئینوں میں اک تعبیر ڈھلتی ہے
نظر کو اک افق تازہ رخی سے تیری ملتا ہے
وفا اس فاصلے کا راز پا کر خود سنبھلتی ہے
نگاہ ناز سب رمز محبت کہہ گئی آخر
خرد کی پردہ داری کیا کف افسوس ملتی ہے
لہو میں آپ جل اٹھتی ہے کوئی شمع خلوت سی
وصال انداز اس کے خواب میں جب رات ڈھلتی ہے
روایت کی قناتیں جس ہوا سے جلنے والی ہیں
سواد ایشیا میں وہ ہوا اب تیز چلتی ہے
ورق اک دھند کا تازہ تغیر جب الٹتا ہے
تراشیدہ رخ الماس سی اک لو نکلتی ہے

حرم کا آئینہ برسوں سے دھندلا بھی ہے حیراں بھی
اک افسون برہمن ہے کہ پیدا بھی ہے پنہاں بھی
نہ جا اے ناخدا دریا کی آہستہ خرامی پر
اسی دریا میں خوابیدہ ہے موج تند جولاں بھی
کمال جانثاری ہو گئی ہے خاک پروانہ
اسے اکسیر بھی کہتے ہیں اور خاک پریشاں بھی
وداع شب بھی ہے اور شمع پر اک بانکپن بھی ہے
حدیث شوق بھی ہے قصۂ عمر گریزاں بھی
نہ آئی یاد تیری یہ بھی موسم کا تغیر تھا
یہ کشت شوق تھی پرورد ہائے باد و باراں بھی
یہ دنیا ہے تو کیا اے ہم نفس تفسیر غم کیجے
وہی آداب محفل بھی وہی آداب زنداں بھی
شعاع مہر ہے یا التزام زخم و مرہم ہے
یہ داغ لالہ بھی ہے شعلۂ لعل بدخشاں بھی

شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کی
کھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کی
شیشے کھلے نہیں ابھی ساغر چلے نہیں
اڑنے لگی پری کی طرح بو شراب کی
دو دن کی زندگی پہ الٰہی یہ غفلتیں
آنکھیں تو ہیں کھلی ہوئی حالت ہے خواب کی
ہوتے ہی صبح وصل کی شب دیکھتا ہوں کیا
تلوار بن گئی ہے کرن آفتاب کی
آتا نہیں کسی پہ دل بد گماں عزیزؔ
جمتی نہیں کسی پہ نظر انتخاب کی

دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں
الجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں
یہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے
مگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں
پتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے
نگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں
یہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے گا
دم آخر رکا ہے ایک آنسو چشم گریاں میں
مری جمعیت خاطر کا ساماں حشر کیا کرتا
قیامت ہو گئی ترتیب اجزائے پریشاں میں
فروغ لالہ و گل کا تماشا دیکھنے والے
یہ میرے دل کی چوٹیں ہیں جو ابھری ہیں گلستاں میں
عزیزؔ آرائش گلشن کی کوئی انتہا بھی ہے
وہ محو سیر گل ہیں یا گلستاں ہے گلستاں میں

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے
سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے
یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی
اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے
بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر
اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ہے
دل ایک مسافر ہے بے بس، جسے نوچ رہے ہیں پیش و پس
اک دریا پیچھے بہتا ہے اور آگے گہری کھائی ہے
اب خواب نہیں کمخواب نہیں، کچھ جینے کے اسباب نہیں
اب خواہش کے تالاب پہ ہر سو مایوسی کی کائی ہے
پہلے کبھی محفل جمتی تھی محفل میں کہیں تم ہوتے تھے
اب کچھ بھی نہیں یادوں کے سوا، بس میں ہوں مری تنہائی ہے

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے
کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے
میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا
کسی نے کھو دیا مجھ کو کسی نے پایا مجھے
نہ جانے کون ہوں کس لمحۂ طلب میں ہوں
نبیلؔ چین سے جینا کبھی نہ آیا مجھے
میں ایک لمحہ تھا اور نیند کے حصار میں تھا
پھر ایک روز کسی خواب نے جگایا مجھے
اسی زمیں نے ستارہ کیا ہے میرا وجود
سمجھ رہے ہیں زمیں والے کیوں پرایا مجھے
جہاں کہ صدیوں کی خاموشیاں سلگتی ہیں
کسی خیال کی وحشت نے گنگنایا مجھے
اک آرزو کے تعاقب میں یوں ہوا ہے نبیلؔ
ہوا نے ریت کی پلکوں پہ لا بٹھایا مجھے

حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم
جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم
ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر
سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم
سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو
سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم
سلگتے دشت، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو
نگر نگر، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم
زمین رک کے چل پڑی، چراغ بجھ کے جل گئے
کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم
مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب
خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم
چمک اٹھا ہر ایک پل، مہک اٹھے قلم دوات
کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں
بنیاد ایک خواب کی ڈالے ہوئے تو ہیں
تلوار گر گئی ہے زمیں پر تو کیا ہوا
دستار اپنے سر پہ سنبھالے ہوئے تو ہیں
اب دیکھنا ہے آتے ہیں کس سمت سے جواب
ہم نے کئی سوال اچھالے ہوئے تو ہیں
زخمی ہوئی ہے روح تو کچھ غم نہیں ہمیں
ہم اپنے دوستوں کے حوالے ہوئے تو ہیں
گو انتظار یار میں آنکھیں سلگ اٹھیں
راہوں میں دور دور اجالے ہوئے تو ہیں
ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیلؔ
اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

سر صحرائے جاں ہم چاک دامانی بھی کرتے ہیں
ضرورت آ پڑے تو ریت کو پانی بھی کرتے ہیں
کبھی دریا اٹھا لاتے ہیں اپنی ٹوٹی کشتی میں
کبھی اک قطرۂ شبنم سے طغیانی بھی کرتے ہیں
کبھی ایسا کہ آنکھوں میں نہیں رکھتے ہیں کوئی خواب
کبھی یوں ہے کہ خوابوں کی فراوانی بھی کرتے ہیں
ہمیشہ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں
مگر یہ یاد رکھیے گا کہ من مانی بھی کرتے ہیں
میاں تم دوست بن کر جو ہمارے ساتھ کرتے ہو
وہی سب کچھ ہمارے دشمن جانی بھی کرتے ہیں
یہ کیا قاتل ہیں، پہلے قتل کرتے ہیں محبت کا
پھر اس کے بعد اظہار پشیمانی بھی کرتے ہیں
تجھے تعمیر کر لینا تو اک آسان سا فن ہے
رفاقت کے محل! ہم تیری دربانی بھی کرتے ہیں

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
محبتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں
وہ شہر حیرت کا شاہزادہ گرفت ادراک میں نہیں ہے
اس ایک چہرے کی حیرتوں میں ہزار آنکھیں سما چکی ہیں
ہم اپنے سر پر گزشتہ دن کی تھکن اٹھائے بھٹک رہے ہیں
دیار شب تیری خواب گاہیں تمام پردے گرا چکی ہیں
بدلتے موسم کی سلوٹوں میں دبی ہیں ہجرت کی داستانیں
وہ داستانیں جو سننے والوں کی نیند کب کی اڑا چکی ہیں
وہ ساری صبحیں تمام شامیں کہ جن کے ماتھے پہ ہم لکھے تھے
سنا ہے کل شب تمہارے در پر لہو کے آنسو بہا چکی ہیں
کہاں سے آئے تھے تیر ہم پر، طنابیں خیموں کی کس نے کاٹیں
گریز کرتی ہوائیں ہم کو تمام باتیں بتا چکی ہیں
دھوئیں کے بادل چھٹے تو ہم نے نبیلؔ دیکھا عجیب منظر
خموشیوں کی سلگتی چیخیں فضا کا سینہ جلا چکی ہیں

آئیں گے نظر صبح کے آثار میں ہم لوگ
بیٹھے ہیں ابھی پردۂ اسرار میں ہم لوگ
لائے گئے پہلے تو سر دشت اجازت
مارے گئے پھر وادئ انکار میں ہم لوگ
اک منظر حیرت میں فنا ہو گئیں آنکھیں
آئے تھے کسی موسم دیدار میں ہم لوگ
ہر رنگ ہمارا ہے، ہر اک رنگ میں ہم ہیں
تصویر ہوئے وقت کی رفتار میں ہم لوگ
یہ خاک نشینی ہے بہت، ظل الٰہی
جچتے ہی نہیں جبہ و دستار میں ہم لوگ
اب یوں ہے کہ اک شخص کا ماتم ہے مسلسل
چنوائے گئے ہجر کی دیوار میں ہم لوگ
سنتے تھے کہ بکتے ہیں یہاں خواب سنہرے
پھرتے ہیں ترے شہر کے بازار میں ہم لوگ

خامشی ٹوٹے گی آواز کا پتھر بھی تو ہو
جس قدر شور ہے اندر کبھی باہر بھی تو ہو
بجھ چکے راستے سناٹا ہوا رات ڈھلی
لوٹ کر ہم بھی چلے جائیں مگر گھر بھی تو ہو
بزدلوں سے میں کوئی معرکہ جیتوں بھی تو کیا
کوئی لشکر مری جرأت کے برابر بھی تو ہو
مسکرانا کسے اچھا نہیں لگتا اے دوست
مسکرانے کا کوئی لمحہ میسر بھی تو ہو
رات آئے گی نئے خواب بھی اتریں گے مگر
نیند اور آنکھ کا رشتہ کبھی بہتر بھی تو ہو
چھوڑ کر خواب کا سیارہ کہاں جاؤں نبیلؔ
کرۂ شب پہ کوئی جاگتا منظر بھی تو ہو

سبھی رشتوں کے دروازے مقفل ہو رہے ہیں
ہمارے بیچ جو رستے تھے دلدل ہو رہے ہیں
ابھی تو دشت آئے اور پھر اس کے بعد جنگل
ابھی سے کیوں تمہارے پاؤں بوجھل ہو رہے ہیں
زمانے بعد سویا ہوں مجھے سونے دو کچھ پل
ادھورے خواب تھے جتنے مکمل ہو رہے ہیں
یہ کیسی بے حسی کی دھول ہم پر چھا رہی ہے
خود اپنی زندگی سے ہم معطل ہو رہے ہیں
تھکن اب آپ کی آنکھوں میں جمتی جا رہی ہے
سو اب ہم آپ کی نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں
نبیلؔ اترا ہے کیسا دل ربا موسم زمیں پر
کہ جتنے نیم تھے بستی میں صندل ہو رہے ہیں

ہمارے دل کی زمیں پر کٹاؤ اور بڑھا
اسی سبب سے غموں کا بہاؤ اور بڑھا
میں نیند کیا ترے بازار شب میں لے آیا
پھر اس کے بعد تو خوابوں کا بھاؤ اور بڑھا
یہ کیسے خواب زدہ راستوں میں آ گئے ہیں
کہ جتنا آگے بڑھے ہم گھماؤ اور بڑھا
یہیں پہنچ کے میں ڈوبا ہوں بارہا ملاح
یہاں سے آگے ادھر دور ناؤ اور بڑھا
تکلفات نے زنجیر باندھ دی دل پر
سکون ختم ہوا ہے تناؤ اور بڑھا
تمام دشت بدن میں مٹھاس جاگ اٹھی
رگوں میں موجۂ خوں کا دباؤ اور بڑھا
یہ آگ مجھ میں اترنے سے ڈر رہی ہے نبیلؔ
اسے ہوا دے مسلسل الاؤ اور بڑھا

جل رہی ہے ایک ٹھنڈی شام آتش دان میں
اور نمی پھیلی ہوئی ہے دل کے ریگستان میں
آنکھ میچے چل رہا ہوں پیاس کی آواز پر
بھر گیا ہے ریت کوئی دیدۂ حیران میں
گھل رہا ہے دھیرے دھیرے زہر میرے خون میں
آ رہی ہے رفتہ رفتہ جان میری جان میں
دل میں رکتے ہی نہیں ہیں اب تمناؤں کے عکس
پاؤں پڑتے ہی نہیں ہیں وادیٔ امکان میں
میں زمیں کا گیت لکھنے جا رہا ہوں دوستو
آسماں اترا ہوا ہے آج میرے دھیان میں
مجھ کو اغوا کر لیا ہے میرے خوابوں نے نبیلؔ
اور مری آنکھیں انہیں مطلوب ہیں تاوان میں

آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا
یہ کون دبے پاؤں مرے خواب سے نکلا
جب جال مچھیرے نے سمیٹا ہے علی الصبح
ٹوٹا ہوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا
سینے میں دبی چیخ بدن توڑ کے نکلی
یادوں کا دھواں روح کی محراب سے نکلا
مٹھی میں چھپائے ہوئے کچھ عکس کئی راز
میں اس کی کہانی کے ہر اک باب سے نکلا
آواز مجھے دینے لگی تھی مری مٹی
میں خود کو سمیٹے ہوئے مہتاب سے نکلا
کچھ تہمت و دشنام شکایات و سوالات
کیا کچھ نہ میاں حلقۂ احباب سے نکلا

وہی جو رشتہ ہے کشتی کا سطح آب کے ساتھ
وہی ہے میرا تعلق بھی اپنے خواب کے ساتھ
یہیں کہیں تو چمکتی تھی اک طلسمی جھیل
یہیں کہیں تو میں ڈوبا تھا اپنے خواب کے ساتھ
چھلک رہی تھی کسی انتظار کی چھاگل
بھٹک رہی تھی کہیں پیاس اضطراب کے ساتھ
الجھ رہی تھی مسلسل سوال کی لکنت
مکالمہ نہ کوئی ہو سکا جواب کے ساتھ
ہر ایک حرف ستارہ ہر ایک لفظ چراغ
میں نور نور ہوا رات کی کتاب کے ساتھ
یہ کس کے لمس کی بارش میں رنگ رنگ ہوں میں
یہ کون مجھ سے گزرتا ہے آب و تاب کے ساتھ
سنبھل کے چلنا یہ تعبیر کی سڑک ہے میاں
بندھی ہوئی کئی آنکھیں ہیں ایک خواب کے ساتھ
میں ریت ہونے ہی والا تھا جب عزیز نبیلؔ
امید آب دھڑکنے لگی سراب کے ساتھ

اک رات ہے اب تک آنکھوں میں مری نیند کا غم کرنے کے لیے
کئی خواب سرہانے بیٹھے ہیں روداد رقم کرنے کے لیے
کبھی رنگ بنا کبھی نور ہوا گہے خاموشی گہے شور ہوا
ہر روپ میں ڈھالا ہے خود کو ترا روپ بہم کرنے کے لیے
کئی آنکھیں مجھ میں جاگ اٹھیں کئی موسم مجھ میں آ نکلے
مرے خواب نئے کرنے کے لیے مری وحشت کم کرنے کے لیے
میں برسوں سے کوئی خشک زمیں مرا تن من گویا بنجر سا
پھر یوں ہے کہ اک برسات ہوئی مری مٹی نم کرنے کے لیے
نئے شعر کہو مرے شعر گرو کوئی عشق چراغ کرو روشن
ہر منظر حرف و صوت پہ چھائی دھند کو کم کرنے کے لیے
انکار کے صحرا میں تنہا میں نا ممکن اک شخص نبیلؔ
ویسے تو کئی طوفان اٹھے مری گردن خم کرنے کے لیے

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے
پتھر سے میرے خواب کا پیکر کوئی تو آئے
دریا بھی ہو تو کیسے ڈبو دیں زمین کو
پلکوں کے پار غم کا سمندر کوئی تو آئے
چوکھٹ سے حال پوچھا تو بازار سے سنا
اک دن غریب خانے کے اندر کوئی تو آئے
جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں
پر دشمنوں کی سمت سے پتھر کوئی تو آئے
ہیں نوحہ گر ہزار ثنا خواں ہزار ہیں
میرے سوائے تیر کی زد پر کوئی تو آئے
لاکھوں جب آ کے جا چکے کیا مل گیا میاں
اب بھی یہ سوچتے ہو پیمبر کوئی تو آئے
شکوہ درست قیسیؔ کے پیہم سکوت کا
لیکن اس انجمن میں سخنور کوئی تو آئے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے
کہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے
ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میں
کناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے
ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیں
دلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم نے
ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے
وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو
اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو
کس قدر اس کو سرابوں نے ستایا ہوگا
دور ہی سے جو سمجھتا رہا چشمہ مجھ کو
میری امید کے سورج کو ڈبو کے ہر شام
وہ دکھاتا رہا دریا کا تماشہ مجھ کو
جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں
خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو
پھر سجا دے گا وہ یادوں کے عجائب گھر میں
سوچ کر عہد جنوں کا کوئی سکہ مجھ کو
میرے احساس کے دوزخ میں سلگنے کے لئے
چھوڑ دے گا مرے خوابوں کا فرشتہ مجھ کو
پھر یہ ہوگا کہ کسی دن کہیں کھو جائے گا
اک دوراہے پہ بٹھا کے مرا رستہ مجھ کو
لوگ کہتے ہیں کہ جادو کی سڑک ہے ماضی
مڑ کے دیکھوں گی تو ہو جائے گا سکتہ مجھ کو
سبز موسم کی عنایت کا بھروسا بھی نہیں
کب اڑا دے یہ ہوا جان کے پتا مجھ کو
وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا
دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو
میں نہ لیلیٰ ہوں نہ رکھتا ہے وہ مجنوں کا مزاج
اس نے چاہا ہے مگر میرے علاوہ مجھ کو

نکلنا خود سے ممکن ہے نہ ممکن واپسی میری
مجھے گھیرے ہوئے ہے ہر طرف سے بے رخی میری
بجھا کے رکھ گیا ہے کون مجھ کو طاق نسیاں پر
مجھے اندر سے پھونکے دے رہی ہے روشنی میری
میں خوابوں کے محل کی چھت سے گر کے خود کشی کر لوں
حقیقت سے اگر ممکن نہیں ہے دوستی میری
میں اپنے جسم کے مردہ عجائب گھر کی زینت ہوں
مجھے دیمک کی صورت چاٹتی ہے زندگی میری

مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے
میں دھوپ ہوں مجھے ناحق سکوڑتا کیوں ہے
اگر یہ سچ ہے کہ تو میرا خواب ہے تو بتا
کہ آنکھ لگتے ہی مجھ کو جھنجھوڑتا کیوں ہے
ادھر بھی تو ہے ادھر بھی جو صرف تو ہی ہے
تو پھر یہ بیچ کی دیوار توڑتا کیوں ہے
میں تیرے وعدے کو جب آنسوؤں سے دھوتی ہوں
ہر ایک لفظ ترا رنگ چھوڑتا کیوں ہے
مگر یہ دل ہے کہ کیا جانے تیری باتوں سے
طرح طرح کے بہانے نچوڑتا کیوں ہے

کھول رہے ہیں موند رہے ہیں یادوں کے دروازے لوگ
اک لمحے میں کھو بیٹھے ہیں صدیوں کے اندازے لوگ
نیند اچٹ جانے سے سب پر جھنجھلاہٹ سی طاری ہے
آنکھیں میچے باندھ رہے ہیں خوابوں کے شیرازے لوگ
شہروں شہروں پھرتے ہیں دیوانوں کا بہروپ بھرے
خود سے چھپ کر خود کو ڈھونڈ رہے ہیں بعضے بعضے لوگ
چلتی پھرتی لاشوں کے ہونٹوں کی ہنسی پر حیرت کیا
مردوں پر رکھا کرتے ہیں پھول ہمیشہ تازے لوگ

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا
جہاں چلتا ہے اپنے ساتھ خالی راستہ اپنا
کسی دریا کی صورت بہہ رہی ہوں اپنے اندر میں
مرا ساحل بڑھاتا جا رہا ہے فاصلہ اپنا
لٹا کے اپنا چہرہ تک رہی ہوں اپنا منہ جیسے
کوئی پاگل الٹ کے دیکھتا ہو آئینہ اپنا
یہ بستی لوگ کہتے ہیں مرے خوابوں کی بستی ہے
گنوا بیٹھی ہوں میں بد قسمتی سے حافظہ اپنا
گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب پھل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا
فسانہ در فسانہ پھر رہی ہے زندگی جب سے
کسی نے لکھ دیا ہے طاق نسیاں پر پتہ اپنا

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ
چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ
خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا
خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ
یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ
شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ
خط معزولئ ارباب ستم کھینچ گئے
یہ رسن بستہ صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ
وقت ہی وہ خط فاصل ہے کہ اے ہم نفسو
دور ہے موج بلا اور کنارے ہوئے لوگ
اے حریفان غم گردش ایام آؤ
ایک ہی غول کے ہم لوگ ہیں ہارے ہوئے لوگ
ان کو اے نرم ہوا خواب جنوں سے نہ جگا
رات مے خانے کی آئے ہیں گزارے ہوئے لوگ

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے
وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے
ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خواب ناک
جو روشناس مرگ محبت تھے کم گئے
وحشت سی ایک لالۂ خونیں کفن سے تھی
اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے
اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار
آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے
اے جادہ خرام مہ و مہر دیکھنا
تیری طرف بھی آج ہوا کے قدم گئے
میں اور تیرے بند قبا کی حدیث عشق
نا دیدہ خواب عشق کئی بے رقم گئے
ایسی کوئی خبر تو نہیں ساکنان شہر
دریا محبتوں کے جو بہتے تھے تھم گئ

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں
ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں
کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے
اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں
وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط
جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں
کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب
بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں
گزر رہا ہے تو آنکھیں چرا کے یوں نہ گزر
غلط بیاں بھی بہت رہ گزر میں ہوتے ہیں
قفس وہی ہے جہاں رنج نو بہ نو اے دوست
نگاہ داری احساس پر میں ہوتے ہیں
سرشت گل ہی میں پنہاں ہیں سارے نقش و نگار
ہنر یہی تو کف کوزہ گر میں ہوتے ہیں
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے
جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے
جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں
عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے
شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار
وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے
اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات
خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے گئے
دشت میں قحط آب سے ہجرت طائراں کے بعد
سیر پسند و تر نفس ابر کے قافلے گئے
اے یہ فسون دلبری تازہ رخ و سیاہ چشم
منزل قرب بھی گئی تجھ سے نہ فاصلے گئے
نیند میں مہوشان شہر بوسۂ عاشقاں کی خیر
شب بہ ہوائے نرم سیر صبح ہوئی صلے گئے
اے رخ تازہ جہاں رات تو اب بھی ہے گراں
شمع ہزار رنگ تک یوں ترے سلسلے گئے
دامن دل کی اوٹ سے ایک شب فراق کیا
دور تغیر جہاں سب ترے قافلے گئے
ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے
جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے
جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں
عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے
شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار
وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے
اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات
خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے گئے
دشت میں قحط آب سے ہجرت طائراں کے بعد
سیر پسند و تر نفس ابر کے قافلے گئے
اے یہ فسون دلبری تازہ رخ و سیاہ چشم
منزل قرب بھی گئی تجھ سے نہ فاصلے گئے
نیند میں مہوشان شہر بوسۂ عاشقاں کی خیر
شب بہ ہوائے نرم سیر صبح ہوئی صلے گئے
اے رخ تازہ جہاں رات تو اب بھی ہے گراں
شمع ہزار رنگ تک یوں ترے سلسلے گئے
دامن دل کی اوٹ سے ایک شب فراق کیا
دور تغیر جہاں سب ترے قافلے گئے

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں
ہر اک پہ سہل کچھ آداب میکشی بھی نہیں
ادھر ادھر سے حدیث غم جہاں کہہ کر
تری ہی بات کی اور تیری بات کی بھی نہیں
وفائے وعدہ پہ دل نکتہ چیں ہے وہ خاموش
حدیث مہر و وفا آج گفتنی بھی نہیں
بکھر کے حسن جہاں کا نظام کیا ہوگا
یہ برہمی تری زلفوں کی برہمی بھی نہیں
شکست ساغر و مینا کو خاک روتا میں
گراں ابھی مرے دل کی شکستگی بھی نہیں
ہزار شکر کہ بے خواب ہے سحر کے لیے
وہ چشم ناز کہ جو جاگتوں میں تھی بھی نہیں
یہ زندگی ہی تلون مزاج ہے اے دوست
تمام ترک وفا تیری بے رخی بھی نہیں
تعلقات زمانہ کی اک کڑی کے سوا
کچھ اور یہ ترا پیمان دوستی بھی نہیں
کرم کی وجہ نہ تھی بے سبب خفا بھی ہے وہ
مزاج حسن سے یہ بات دور تھی بھی نہیں

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا
ہوا کے رخ پہ مگر کچھ تو ناخدا جاتا
جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے
وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا
کشید مے پہ ہے کیسا فساد حاکم شہر
تری گرہ سے ہے کیا بندۂ خدا جاتا
خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات
رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا جاتا
مثال برق جو خواب جنوں میں چمکی تھی
اس آگہی کے تعاقب میں ہوں چلا جاتا
لباس تازہ کے خواہاں ہوئے ہیں ذرہ و سنگ
اک آئنہ ہے کوئی دور سے دکھا جاتا
عجب تماشۂ صحرا ہے چاک محمل پر
غبار قیس ہے پردہ کوئی گرا جاتا
جو آگ بجھ نہ سکے گی اسی کے دامن میں
ہر ایک شہر ہے ایجاد کا بسا جاتا

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں
چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں
یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں
وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں
غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا
وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں
وہ تعصب برہمن جو صنم کو ڈھالتا ہے
رخ نقش پر بھی آیا یہ سپاس نقش کاراں
بہ خیال دوست آخر کوئی خواب ہم کناری
کوئی خواب ہم کناری شب خواب بے قراراں
سر کشت غیر کیا کیا یہ گھٹا برس رہی ہے
کوئی ہم سے آ کے پوچھے اثر دعائے باراں
وہ شکست خواب محفل وہ ہوا کے چار جھونکے
لگی دل پہ تیر بن کر دم صبح یاد یاراں

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر
پہاڑوں پر چمکتی بجلیاں نکلیں ادھر چل کر
زباں کا ذائقہ بگڑا ہوا ہے مے پلا ساقی
سموم دشت نے سب رکھ دئے کام و دہن تل کر
رموز زندگی سیکھے ہیں میرے شوق وحشت نے
کئی صاحب نظر زندانیوں کے بیچ میں پل کر
یہ کس ذوق نمو کو آج دہرانے بہار آئی
لہو ہم سرفروشوں کا جبین ناز پر مل کر
وہ جن کی خو سے کل اک ابر تر خواب محبت تھا
انہی کو رکھ دیا پھر کیوں کھلے ہاتھوں سے مل دل کر
رخ دوراں پہ ہے اک نیل سا کرب تغیر سے
ورق تانبے کا کھو دیتا ہے رنگت آگ میں گل کر
ہری شمعیں سی انگوروں کی بیلوں میں جو چمکیں تھیں
وہی اب سرخ رنگوں میں جلی ہیں جام میں ڈھل کر
وہی اک روئے آتش رنگ ہے ہلکی سی دستک ہے
سمندر پار کی موج ہوا جاتی نہیں ٹل کر
جب آئی ساعت بے تاب تیری بے لباسی کی
تو آئینے میں جتنے زاویے تھے رہ گئے جل کر
مہک میں زہر کی اک لہر بھی خوابیدہ رہتی ہے
ضدیں آپس میں ٹکراتی ہیں فرق مار و صندل کر
شب افسانہ خواں تو شہر کی آخر ہوئی مدنیؔ
کہاں جاتے ہو تم نکلے ہوئے یوں نیند میں چل کر

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے
اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے
اک تازہ تر سواد محبت میں لے چلی
وہ بوئے پیرہن کہ جنوں خیز ابھی سے ہے
اک خواب طائران بہاراں ہے اس کی آنکھ
تعبیر ابر و باد سے لبریز ابھی سے ہے
شب تاب ابھی سے اس کی قباؤں کے رنگ ہیں
اک داستاں جبین گہر ریز ابھی سے ہے
گزری ہے ایک رو مژۂ خواب ناک کی
دل میں لہو کا رنگ بہت تیز ابھی سے ہے
آئینہ لے کے گھوم گئی عمر نوا خرام
تازہ رخی کا موڑ بلا خیز ابھی سے ہے
مبہم سے ایک خواب کی تعبیر کا ہے شوق
نیندوں میں بادلوں کا سفر تیز ابھی سے ہے
اک تازہ مہر لب سے جنوں مانگتا ہے نقش
جنبش لبوں کی سلسلہ آمیز ابھی سے ہے
شاید کہ محرمانہ بھی اٹھے تری نگاہ
ویسے تری نگاہ دل آویز ابھی سے ہے

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے
کچھ حرف ملامت اور چلیں کچھ ورد زباں دشنام چلے
اک گرمیٔ جست فراست ہے اک وحشت پائے محبت ہے
جس پاؤں کی طاقت جی میں ہو وہ ساتھ مرے دو گام چلے
ایسے غم طوفاں میں اکثر اک ضد کو اک ضد کاٹ گئی
شاید کہ نہنگ آثار ہوا کچھ اب کے حریف دام چلے
جو بات سکوت لب تک ہے اس سے نہ الجھ اے جذبۂ دل
کچھ عرض ہنر کی لاگ رہے کچھ میرے جنوں کا کام چلے
اے وادئ غم یہ موج ہوا اک ساز راہ سپاراں ہے
رکتی ہوئی رو خوابوں کی کوئی یا صبح چلے یا شام چلے
تجھ کو تو ہواؤں کی زد میں کچھ رات گئے تک جلنا ہے
اک ہم کہ ترے جلتے جلتے بستی سے چراغ شام چلے
جو نقش کتاب شاطر ہے اس چال سے آخر کیا چلئے
کھیلے تو ذرا دشوار چلے ہارے بھی تو کچھ دن نام چلے
کیا نام بتائیں ہم اس کا ناموں کی بہت رسوائی ہے
کچھ اب کے بہار تازہ نفس اک دور وفا بے نام چلے
یہ آپ کہاں مدنیؔ صاحب کچھ خیر تو ہے مے خانہ ہے
کیا کوئی کتاب مے دیکھی دو ایک تو دور جام چلے

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا
دیوار و در میں شعلۂ برہم سا رہ گیا
شیر وطن کے پیالے پہ تھیں کل ضیافتیں
آیا جو تا بہ لب تو فقط سم سا رہ گیا
مانا وفا برائے وفا اتفاق تھی
تم سا رہا کوئی نہ کوئی ہم سا رہ گیا
اک لا تعلقی کی فضا درمیاں رہی
جب دو دلوں میں فرق بہت کم سا رہ گیا
اس سرو قد کی تاب و ملائم رخی کا راز
عصیاں کی شب میں دیدۂ پر نم سا رہ گیا
آخر ہوئی بہار مگر رنگ گل کا خواب
دل میں دعا نگاہ میں شبنم سا رہ گیا
اک اس کے رنگ رخ کی جنوں ساز چھوٹ سے
اس زندگی میں خواب کا عالم سا رہ گیا

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے
آگہی کی حد پہ اک خواب جنوں کی جنگ ہے
جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ
نیند کا ریشم دھواں ہے خواب شعلہ رنگ ہے
اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈھتا ہے آدمی
خود طوافی میں بھی خود سے سینکڑوں فرسنگ ہے
کرم خوردہ کشتیاں بینائی کی ہیں تہہ نشیں
نم ہوا سے استخوانوں میں اترتا رنگ ہے
آگ کو گلزار کر دے اس دعا کا وقت ہے
ورنہ خوئے آدمیت آدمی پر تنگ ہے
بوئے گل رخصت ہوئی شاید یہ ہو ختم بہار
ٹوٹتی لے میں بکھرتی صوت شب آہنگ ہے
ایک مرکز پر ضدیں یکجا ہیں اور گردش میں ہیں
یہ زمانہ کا تغیر عالم نیرنگ ہے

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا
ارباب وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں تھا
لب جلتے ہیں مے خواروں کے سینے نہیں جلتے
اس درجہ خنک شعلۂ مینا بھی نہیں تھا
اک اس کا تغافل ہے وہ یاد آ ہی گیا ہے
اک وعدۂ فردا ہے وہ بھولا بھی نہیں تھا
کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے
تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا
اب حسن پہ خود اس کا تصور بھی گراں ہے
پہلے تو گراں خواب زلیخا بھی نہیں تھا
پہلے مری وحشت کے یہ انداز بھی کم تھے
پہلے مجھے اندازۂ صحرا بھی نہیں تھا
اب یہ ہے کہ تھمتا ہوا دریا ہے تری یاد
بے فیض یہ دریا کبھی ایسا بھی نہیں تھا
اچھا تو مروت ہی ترا بوسۂ لب ہے
اچھا یہ کوئی دل کا تقاضا بھی نہیں تھا
مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منت دیدار
آخر رخ لیلیٰ تھا تماشا بھی نہیں تھا

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے
ہو گئے سر کئی قلم ایک کلاہ کے لئے
تازہ رخیٔ کائنات ڈھونڈ رہی ہے آئنہ
جستجو ہے ہزار میں ایک گواہ کے لئے
کھل ہی گیا طلسم دوست عین وصال میں کہ تھی
اک شب ہجر زندگی لذت آہ کے لئے
اک شب خود نمائی میں عصمت بے مقام نے
کتنے سوال کر لئے رمز گناہ کے لئے
صورت گرد کارواں ہے غم منزل جہاں
خواب جنون تازہ کار چاہیے راہ کے لئے
آتش کیمیا گراں کام نہ آ سکی کوئی
سرمہ ہے خاک دل مری چشم سیاہ کے لئے
میری خود آگہی بھی کی تیرے وصال نے طلب
ہجر ہزار شب کے بعد ایک گناہ کے لئے

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے
اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے
اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں
لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے
ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں
ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے
پہلے بھی لوگ ملتے تھے لیکن تعلقات
انگڑائی کی طرح تو کبھی ٹوٹتے نہ تھے
پکے گھروں نے نیند بھی آنکھوں کی چھین لی
کچے گھروں میں رات کو ہم جاگتے نہ تھے
رہتے تھے داستانوں کے ماحول میں مگر
کیا لوگ تھے کہ جھوٹ کبھی بولتے نہ تھے
اظہرؔ وہ مکتبوں کے پڑھے معتبر تھے لوگ
بیساکھیوں پہ صرف سند کی کھڑے نہ تھے

چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے
پیڑ بھی رستے کے بوڑھے ہو گئے
انگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھٹیں
بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے
حادثہ کل آئنہ پر کیا ہوا
ریزہ ریزہ عکس میرے ہو گئے
ڈھونڈیئے تو دھوپ میں ملتے نہیں
مجرموں کی طرح سائے ہو گئے
میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن
شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے
چاند کو میں چھو نہیں پایا مگر
خواب سب میرے سنہرے ہو گئے
میری گم نامی سے اظہرؔ جب ملے
شہرتوں کے ہاتھ میلے ہو گئے

رنگتیں معصوم چہروں کی بجھا دی جائیں گی
تتلیاں آندھی کے جھونکوں سے اڑا دی جائیں گی
حسرت نظارگی بھٹکے گی ہر ہر گام پر
خواب ہوں گے اور تعبیریں چھپا دی جائیں گی
آہٹیں گونجیں گی اور کوئی نہ آئے گا نظر
پیار کی آبادیاں صحرا بنا دی جائیں گی
اس قدر دھندلائیں گے نقش و نگار آزرو
دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں گنوا دی جائیں گی
فرصتیں ہوں گی مگر ایسی بڑھیں گی تلخیاں
صرف یادیں ہی نہیں شکلیں بھلا دی جائیں گی
اس قدر روئیں گی آنکھیں دیکھ کر پچھلے خطوط
آنسوؤں سے ساری تحریریں مٹا دی جائیں گی
رات کے جگنو پہ ہوگا چڑھتے سورج کا گماں
ظلمتیں ماحول کی اتنی بڑھا دی جائیں گی

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ
مٹھی میں جگنوؤں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ
اس شخص کو تو قتل ہوئے دیر ہو گئی
اب کس لیے یہ بھیڑ لگائے ہوئے ہیں لوگ
برسوں پرانے درد نہ اٹکھیلیاں کریں
اب تو نئے غموں کے ستائے ہوئے ہیں لوگ
آنکھیں اجڑ چکی ہیں مگر رنگ رنگ کے
خوابوں کی اب بھی فصل لگائے ہوئے ہیں لوگ
کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا
کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ
کچھ دن سے بے دماغی اظہرؔ ہے رنگ پر
بستی میں اس کو میرؔ بنائے ہوئے ہیں لوگ

بنائے ذہن پرندوں کی یہ قطار مرا
اسی نظارے سے کچھ کم ہو انتشار مرا
جو میں بھی آگ میں ہجرت کا تجربہ کرتا
مہاجروں ہی میں ہوتا وہاں شمار مرا
پھر اپنی آنکھیں سجائے ہوئے میں گھر آیا
سفر اک اور رہا اب کے خوش گوار مرا
تمام عمر تو خوابوں میں کٹ نہیں سکتی
بہت دنوں تو کیا اس نے انتظار مرا
یہ میرا شہر مری خامیوں سے واقف ہے
یہاں کسی کو نہ آئے گا اعتبار مرا
یہ لوگ صرف مری زندگی کے دشمن ہیں
مجسمہ یہ بنائیں گے شاندار مرا
مری بساط سے اظہرؔ بہت زیادہ تھیں
توقعات جو رکھتا تھا مجھ سے یار مرا

یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے
کہ اس نے ہم کو رلایا نہیں بہت دن سے
چلو کہ خاک اڑائیں چلو شراب پئیں
کسی کا ہجر منایا نہیں بہت دن سے
یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر
کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے
ہر ایک شخص یہاں محو خواب لگتا ہے
کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے
یہ خوف ہے کہ رگوں میں لہو نہ جم جائے
تمہیں گلے سے لگایا نہیں بہت دن سے

جس کی خواہش تھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ
آج وہ شخص زمیں بوس ہے دستار کے ساتھ
گو منافق ہے مگر پھر بھی حسیں لگتا ہے
جب بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے بڑے پیار کے ساتھ
تو اگر اے مرے سالار اسی میں خوش ہے
رہن رکھ دیتے ہیں دستار بھی تلوار کے ساتھ
کیسا موسم ہے کہ ہر سمت نظر آتے ہیں
سر ثمر کی طرح لٹکے ہوئے اشجار کے ساتھ
جانے کیا بات اسے گھر سے اٹھا لائی ہے
خواب بھی بیچتی پھرتی ہے وہ اخبار کے ساتھ
اے مرے زود فراموش کبھی دیکھ ادھر
کیا گزرتی ہے یہاں پر ترے شہ کار کے ساتھ
دیکھ لیتا ہے فقط ایک نظر جو بھی تجھے
بیٹھ جاتا ہے وہ لگ کر تری دیوار کے ساتھ
داد دے گا مرے اشعار کی لیکن پہلے
سوچ کے زاویے پرکھے گا وہ پرکار کے ساتھ
غالبؔ و فیضؔ سے رشتہ ہے وہ اپنا اظہرؔ
جیسے اک کونج کا رشتہ ہو کسی ڈار کے ساتھ

وہی رات بھر تجھے سوچنا وہی چاہتوں کے نصاب ہیں
یہ بڑے طویل ہیں سلسلے یہ بڑے طویل عذاب ہیں
ہمیں روز ملتی ہیں سازشیں یہاں دوستی کے لباس میں
یہاں ہر قدم پہ فریب ہیں یہاں ہر قدم پہ سراب ہیں
یہ کرم ہے رب کریم کا مجھے اتنے رنگ عطا کیے
جو مٹا رہے تھے نشاں مرا نہ سوال ہیں نہ جواب ہیں
جو سمندروں میں سکوت ہے اسے دیکھ کر نہ فریب کھا
کئی اشک ہیں جو بہے نہیں کئی زلزلے تہہ آب ہیں
کئی چاندنی میں گندھے ہوئے کئی تتلیوں میں گھرے ہوئے
وہ جو پھول تھے تری راہ کے وہی آج مجھ پہ عذاب ہیں
وہ جو لوگ تھے یہاں ریت سے انہیں کیا ہوا وہ کہاں گئے
یہاں پتھروں سی ہے بے حسی یہاں پتھروں سے گلاب ہیں
ہمیں بھوک اپنی قبول ہے یہاں نفرتیں نہیں بیچنا
مرے گاؤں میں بڑا امن ہے مری آنکھ میں بڑے خواب ہیں

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر
کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت
پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو
ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
اٹھی جو صحن میں دیوار اختلاف بڑھے
زمیں کے واسطے اپنوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
کتاب زیست کا ہر صفحہ سادہ ہے نیرؔ
قلم کی نوک کا لفظوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے
ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے
سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے
بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے
غریب شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے
امیر شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے
سروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادر
اترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے
وہ ایک شخص کہ جو فتح کا سمندر تھا
اسی کے حصے میں آئے سراب زخموں کے
کھلیں گے نخل تمنا کی ٹہنی ٹہنی پر
لہو کی سرخیاں لے کر گلاب زخموں کے
سجا کے رکھوں گا محراب دل میں اے نیرؔ
بہت عزیز ہیں مجھ کو گلاب زخموں کے

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں
کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں
وہ کھلیں تو ہم سے راز دشت وحشت کچھ کھلے
لوٹ کر کچھ لوگ آئے ہیں مگر خاموش ہیں
ہو گیا غرقاب سورج اور پھر اب اس کے بعد
ساحلوں پر ریت اڑتی ہے بھنور خاموش ہیں
منزلوں کے خواب دے کر ہم یہاں لائے گئے
اب یہاں تک آ گئے تو راہبر خاموش ہیں
دکھ سفر کا ہے کہ اپنوں سے بچھڑ جانے کا غم
کیا سبب ہے وقت رخصت ہم سفر خاموش ہیں
کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے
اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں
جب سے اظہرؔ خال و خد کی بات لوگوں میں چلی
آئنے چپ چاپ ہیں آئینہ گر خاموش ہیں

ایک اک سانس میں صدیوں کا سفر کاٹتے ہیں
خوف کے شہر میں رہتے ہیں سو ڈر کاٹتے ہیں
پہلے بھر لیتے ہیں کچھ رنگ تمہارے اس میں
اور پھر ہم اسی تصویر کا سر کاٹتے ہیں
خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا
ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں
سونپ کر اس کو ترے درد کے سارے موسم
پھر اسی لمحے کو ہم زندگی بھر کاٹتے ہیں
تو نہیں ہے تو ترے شہر کی تصویر میں ہم
سارے ویرانے بنا دیتے ہیں گھر کاٹتے ہیں
اس کی یادوں کے پرندوں کو اڑا کر اظہرؔ
دل سے اب درد کا اک ایک شجر کاٹتے ہیں

گرداب ریگ جان سے موج سراب تک
زندہ ہے تو لہو میں بس اک اضطراب تک
اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا
اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک
تو لفظ لفظ لذت ہجراں میں ہے ابھی
ہم آ گئے ہیں ہجرت غم کے نصاب تک
جو زیر موج آب رواں ہے خروج آب
آ جائے ایک روز اگر سطح آب تک
ملتا کہیں سواد ورود و شہود میں
ہوتا مری حدود کا کوئی حساب تک
تیرا ہی رقص سلسلہ عکس خواب ہے
اس اشک نیم شب سے شب ماہتاب تک
آثار عہد غم ہیں تہہ ریگ جاں کہ تو
پہنچا نہیں ابھی دل خانہ خراب تک

کوئی ایسی بات ہے جس کے ڈر سے باہر رہتے ہیں
ہم جو اتنی رات گئے تک گھر سے باہر رہتے ہیں
پتھر جیسی آنکھوں میں سورج کے خواب لگاتے ہیں
اور پھر ہم اس خواب کے ہر منظر سے باہر رہتے ہیں
جب تک رہتے ہیں آنگن میں ہنگامہ تنہائی کے
خاموشی کے سائے بام و در سے باہر رہتے ہیں
جب سے بے چہروں کی بستی میں چہرے تقسیم ہوئے
اس دن سے ہم آئینوں کے گھر سے باہر رہتے ہیں
جس کی ریت پہ نام لکھے ہیں اظہرؔ ڈوبنے والوں کے
وہ ساحل موجوں کے شور و شر سے باہر رہتے ہیں

گریۂ شب کی شہادت کے لئے جاگتے ہیں
یہ ستارے کوئی ساعت کے لئے جاگتے ہیں
خوف ایسا ہے کہ ہم بند مکانوں میں بھی
سونے والوں کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں
عمر گزری ہے تری سجدہ وری میں لیکن
آج ہم اپنی عبادت کے لئے جاگتے ہیں
پہلے ہم کرتے ہیں تصویر میں عریاں ترا خواب
اور پھر اس کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں
لفظ در لفظ پڑھا کرتے ہیں تیری صورت
رات بھر تیری تلاوت کے لئے جاگتے ہیں

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا
کانٹے کرا رہے ہیں تعارف گلاب کا
کیسا یہ انتشار دیوں کی صفوں میں ہے
کچھ تو اثر ہوا ہے ہوا کے خطاب کا
یہ طے کیا جو میں نے جنوں تک میں جاؤں گا
یہ مرحلہ اہم ہے مرے اضطراب کا
مانا بہت حسین تھا وہ عمر کا پڑاؤ
قصہ مگر نہ چھیڑئیے عہد شباب کا
اظہرؔ کہیں سے نیند کا اب کیجے انتظام
یونہی نکل نہ جائے یہ موسم بھی خواب کا

میری پلکوں پہ خواب رہنے دے
کچھ نہ کچھ اضطراب رہنے دے
حق بیانی تو میرا شیوہ ہے
مجھ کو زیر عتاب رہنے دے
تجھ کو فرصت ملے تو پڑھ لینا
مجھ کو مثل کتاب رہنے دے
تیری آنکھیں تو خود نشیلی ہیں
ذکر جام و شراب رہنے دے
تشنگی جب مرا مقدر ہے
میرے حق میں سراب رہنے دے
کوئی آیا ہے سج کے گلشن میں
آج ذکر گلاب رہنے دے
لکھ دے واعظ گناہ سب مجھ پر
نام اپنے ثواب رہنے دے
زندگی تو حباب ہے صارمؔ
اب مجھے تو حباب رہنے دے

جو لٹ گیا تو ہر اک ساز دستیاب ہوا
بھٹک کے راہ تلاشی تو کامیاب ہوا
مری ہی چشم سے سیراب وہ سراب ہوا
میں ہو گیا کوئی کانٹا تو وہ گلاب ہوا
سوال کرتے زمانے گزر گئے مجھ کو
سکوت کر لیا تو پھر وہی جواب ہوا
بھلا کے خود کو ہر اک دل ہے دیکھنے میں لگا
کسے ملی کوئی نعمت کسے عذاب ہوا
ہزار لوگ ہوئے ہیں مگر زیادہ دیر
بتاؤ کون سا جھوٹا یہاں جناب ہوا
سروں کے تاج ہوئے قوم کے چھپے رستم
بہت ستایا گیا جو کھلی کتاب ہوا
تری جدائی کے دن بھی بہت برے تھے مگر
غموں کا چھوڑ کے جانا بہت خراب ہوا
حقیقتوں کی حقیقت جو ہو گئی معلوم
عزیزؔ دیکھ مرا روم روم خواب ہوا
————————————————————–
اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا
مجھ کو تصویر بھی دے گا تو پرانی دے گا
چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے
وقت رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا
عمر بھر میں کوئی جادو کی چھڑی ڈھونڈوں گی
میری ہر رات کو پریوں کی کہانی دے گا
ہم سفر میل کا پتھر نظر آئے گا کوئی
فاصلہ پھر مجھے اس شخص کا ثانی دے گا
میرے ماتھے کی لکیروں میں اضافہ کر کے
وہ بھی ماضی کی طرح اپنی نشانی دے گا
میں نے یہ سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں لگے پیڑ کو پانی دے گا
———————————————————————————–
علاوہ اک چبھن کے کیا ہے خود سے رابطہ میرا
بکھر جاتا ہے مجھ میں ٹوٹ کے ہر آئینہ میرا
الجھ کے مجھ میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہے جو
نہ جانے ختم کر بیٹھے کہاں پر سلسلہ میرا
مجھے چکھتے ہی کھو بیٹھا وہ جنت اپنے خوابوں کی
بہت ملتا ہوا تھا زندگی سے ذائقہ میرا
میں کل اور آج میں حائل کوئی نادیدہ وقفہ ہوں
مرے خوابوں سے ناپا جا رہا ہے فاصلہ میرا
وہ کیسا شہر تھا مانوس بھی تھا اجنبی بھی تھا
کہ جس کی اک گلی میں کھو گیا مجھ سے پتا میرا
پلٹ آتا ہے ہر دن گھر کی جانب شام ڈھلتے ہی
کسی بے نام بستی سے گزر کے راستا میرا
یہ میں ہوں یا مرا سایہ مرا سایہ ہے یا میں ہوں
عجب سی دھند میں لپٹا ہوا ہے حافظہ میرا
ہنسی آئی تھی اپنی بے بسی پر ایک دن مجھ کو
ابھی تک گونجتا ہے میرے اندر قہقہہ میرا
Conclusion – Live Your Khwab, Don’t Just See Them
Dreams are like stars we may never touch them, but they guide our hearts.
These Urdu Khwab quotes are not just about dreaming while sleeping; they are about the dreams we have for life, love, and the future.
So keep dreaming. Your dreams might be distant, but they are the reason your heart never stops moving forward.
As someone in Urdu once said,
“Khwab dekhna gunaah nahi, unhein sach karna himmat hai.”
(Dreaming isn’t a sin; inspiring them is courage.)
Let your Khwab be your morning inspiration and your night’s comfort.
Thank You Message
Thank you for taking your time to read our compilation of more than 90 Khwab Quotes in Urdu.
We really want to bring to you the essence of peace, love, and hope through these words.
Dreams are a great blessing — they show us that no matter how quiet life may seem, our spirit is still communicating.
Dream on, believe in your dreams, and never lose your trust in your Khwab.
FAQs
Q1: What do Khwab Quotes in Urdu mean?
They express magical and alluring Urdu thoughts and poems about dreams, love, and creativity.
Q2: Is it possible for me to share these Khwab quotes through my social media accounts?
Absolutely! These Urdu dream quotes are very well suited for your Instagram captions, WhatsApp statuses, or poetry posts.
Q3: Do these Khwab quotes belong to the romantic or the motivational category?
These quotes contain both elements. You will find cozy Khwab quotes, encouraging Urdu quotes as well as life reflections that are very deep.
Q4: Why are Khwab so significant in Urdu poetry?
In Urdu literature, dreams (Khwab) symbolize feelings, aspirations, and limitless imagination.
Q5: Who is the audience for these Urdu quotes?
Anyone who is a fan of Urdu, poetry, or intellectual writing. They are straightforward and comprehensible even for beginners.
