The World Best Emotional 90+Khwab Quotes In Urdu

Khwab Quotes in Urdu

90+ Khwab Quotes in Urdu – Dreams That Speak to the Heart

 Introduction -The Beauty of Khwab (Dreams)

Dreams, or Khwab, are not only what we perceive during our sleep but the unspoken communication of our hearts. 

They reflect our aspirations, anxieties, and at times even our most secret wishes.

The collection of 90+ Khwab Quotes in Urdu represents a trio of emotions, imagination, and inspiration – written and shared to move your spirit.

Every single line here reflects the essence of what dreams are about in life – from the romantic Khwab quotes that bring a smile to your lips, to the deep Urdu dream sayings that provoke your thoughts. Whichever way you take dreams to be signs, wishes, or heart’s communications, these quotes will be there to remind you why Khwab are so divine and an inseparable part of human existence.

Description – Urdu Khwab Quotes That Touch Emotions

Khwab (dreams) in Urdu literature have really always portrayed a very beautiful aspect and a very practical one. Poetry gets connected with life and imagination with truth. 

Khwab Urdu quotations are very easy, and emotional yet full of life teachings.

The collection comprises:

  •  Khwab quotes in Urdu that are romantic and depict love and longing
  •  Khwab quotes that inspire to chase the dreams and goals
  •  Dreamers and imagination in beautiful Urdu lines
  •  Deep Urdu quotes regarding dreams, destiny, and the heart’s wishes

All quotes are simple for reading but very emotional, ideal for the lovers of Urdu poetry, dream quotes, or motivational Urdu sayings.

Urdu Khwab quotations have us remember that every dream, whether big or small, carries a meaning. Some dreams make us smile, some cause tears, but they all remind us that we are still living and we still have hope.

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

موجوں میں تلاطم ہے ساحل پہ بھی طوفاں ہے

اب اپنے سفینے کا اللہ نگہباں ہے

ہر چند محیط دل تاریکیٔ ہجراں ہے

شعلہ تری یادوں کا سینہ میں فروزاں ہے

دیکھا ہی نہیں تم نے کیا رنگ بہاراں ہے

سرخی ہے جو پھولوں پر وہ خون شہیداں ہے

تخریب کے پردے میں تعمیر بھی پنہاں ہے

تاریک فضاؤں میں اک شمع فروزاں ہے

کیا غم جو اندھیرا ہے دنیا کی فضاؤں میں

جو داغ تمنا ہے خورشید درخشاں ہے

کھلتے نہیں لب میرے احساس حمیت سے

مرتا ہوں کہ حال دل چہرے سے نمایاں ہے

خوابوں کے دریچوں سے جھانکا ہے بہاروں نے

اب دامن صحرا بھی دامان گلستاں ہے

ممکن ہے صبا خوشبو صحرا میں اڑا لائے

ہرچند گھٹاؤں کا رخ سوئے گلستاں ہے

کیا خوف تجھے آخر اے راہ رو ہستی

کہتے ہیں اجل جس کو ہستی کی نگہباں ہے

چھائے گی خوشی اک دن غم خانۂ ہستی پر

غم تو مری دنیا میں کچھ دیر کا مہماں ہے

اب آپ کی مرضی ہے جو چاہیں ہمیں سمجھیں

دل آپ کا شیدا ہے دل آپ پہ نازاں ہے

تصویر تری اب تک پھرتی ہے نگاہوں میں

ہر یاد تری اب تک نزدیک رگ جاں ہے

اٹھ کر ترے کوچے سے اب جائے کہاں عظمتؔ

دنیا بھی بیاباں ہے عقبیٰ بھی بیاباں ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

زمین چشم میں بوئے تھے میں نے خواب کے بیج

مگر اگے تو کھلا وہ تھے اضطراب کے بیج

مجھے ہی کاٹ کے مٹی میں گاڑنا ہوگا

کہ کون دے گا مری جاں تمہیں گلاب کے بیج

زمیں پہ ایسے چمکتے ہیں ریت کے ذرے

کسی نے جیسے بکھیرے ہوں آفتاب کے بیج

وہ میری روح میں اترا تو کب گمان بھی تھا

دبا رہا ہے مری روح میں عذاب کے بیج

تمام عمر کٹی اک فریب میں عزمیؔ

بکھیر کر وہ گیا دور تک سراب کے بیج

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا

آخر کوڑے‌ دان میں رکھا جائے گا

آنکھوں کی اس بار رہائی ممکن ہے

خوابوں کو زندان میں رکھا جائے گا

سب کو دل کے کمرے تک کب لائیں گے

کچھ لوگوں کو لان میں رکھا جائے گا

باتوں سے جب پیٹ کا کمرہ بھر جائے

تو پھر ان کو کان میں رکھا جائے گا

جس کو چاہے ہونٹ اٹھا کر لے جائیں

لفظوں کو میدان میں رکھا جائے گا

ہم کب قبر کی مٹی کے ہاتھ آئیں گے

ہم کو تو دیوان میں رکھا جائے گا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

بھنور میں تو ہی فقط میرا آسرا تو نہیں

تو ناخدا ہی سہی پر مرا خدا تو نہیں

اک اور مجھ کو مری طرز کا ملا ہے یہاں

سو اب یہ سوچتا ہوں میں وہ دوسرا تو نہیں

ابھی بھی چلتا ہے سایہ جو ساتھ ساتھ مرے

بتا اے وقت کبھی میں شجر رہا تو نہیں

ہیں گہری جڑ سے شجر کی بلندیاں مشروط

سو پستیاں یہ کہیں میرا ارتقا تو نہیں

جو پاس یہ مرے بے خوف چلے آتے ہیں

مرے بدن پہ پرندوں کا گھونسلہ تو نہیں

اے آئنے تو ذرا دیکھ غور سے مری آنکھ

گرے ہیں اشک کوئی خواب بھی گرا تو نہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کسی احساس میں پہلی سی اب شدت نہیں ہوتی

کہ اب تو دل کے سناٹے سے بھی وحشت نہیں ہوتی

زمانے بھر کے غم اپنا لئے ہیں خود فریبی میں

خود اپنے غم سے ملنے کی ہمیں فرصت نہیں ہوتی

گزر جاتی ہے ساری زندگی جن کے تعاقب میں

بگولے ہیں کسی بھی خواب کی صورت نہیں ہوتی

قسم کھائی ہے ہم نے بارہا خاموش رہنے کی

مگر گھٹ گھٹ کے رہنے کی ابھی عادت نہیں ہوتی

اسے میں آگہی کا فیض سمجھوں یا سزا سمجھوں

ہمیں دنیا کی نیرنگی پہ اب حیرت نہیں ہوتی

جہاں پر مکر و فن آداب محفل بن کے چھایا ہو

ہمیں ایسی کسی محفل سے کچھ نسبت نہیں ہوتی

ہزاروں ان کہی باتیں جنہیں لکھنے کو جی چاہے

کبھی ہمت نہیں ہوتی کبھی فرصت نہیں ہوتی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یہ دل بس میں کبھی میرے رہا نئیں

کبھی یادوں کا دامن چھوڑتا نئیں

بھلائیں کیسے امروہے کی گلیاں

ابھی لہجے سے امروہہ گیا نئیں

یہیں گم کردہ اپنا آشیاں تھا

جہاں باقی کوئی اب آشنا نئیں

شکستہ ہو چکے محراب و در سب

ابھی تک ذہن سے نقشہ گیا نئیں

ہمارے نام کی تختی نہیں ہے

مگر وہ گھر تو خوابوں سے گیا نئیں

میں سمجھوں ہوں تمہاری بے قراری

میاں گزرا زمانہ لوٹتا نئیں

کسی سفاک ہجرت کے ستم سے

زمیں سے اپنا رشتہ ٹوٹتا نئیں

تمہاری شاعرانہ بے خودی کو

کسی سرحد پہ کوئی روکتا نئیں

بہت تھی دھوم جشن ریختہ میں

تمہارے نام کی تم نے سنا نئیں

تمہاری شاعری پر سر دھنے ہیں

مگر یہ لوگ اردو آشنا نئیں

پڑی ہے شاعری گھٹی میں عذراؔ

مگر کچھ معتبر اب تک کہا نئیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں

ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں

حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر

ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں

رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال

صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں

کیسے گھبرائے سے پھرتے ہیں مرے خال غزال

زندگانی کی کڑی دھوپ میں سنولاتے ہیں

پھول سے لوگ جو خوشبو کے سفر پر نکلے

دیکھتے دیکھتے کس طرح سے مرجھاتے ہیں

چھوڑیئے جو بھی ہوا ٹھیک ہوا بیت گیا

آئیے راکھ سے کچھ خواب اٹھا لاتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں

عجیب موسم دل ہے عجیب مجبوری

نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں

پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر

سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں

حقیقتیں تو مرے روز و شب کی ساتھی ہیں

میں روز و شب کی حقیقت بدلنا چاہتی ہوں

کبھی تو خود نگری کی فصیل سے باہر

خود اپنے ساتھ سفر پر نکلنا چاہتی ہوں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اک شانت ندی سی لگتی ہو

کس خاموشی سے بہتی ہو

ہر بار امیدیں باندھتی ہو

ہر بار نئے دکھ سہتی ہو

اپنے من کا سارا سونا

کیوں بھکشا میں دے دیتی ہو

کس خواب کا عکس ہے آنکھوں میں

کیوں کھوئی کھوئی رہتی ہو

اک بار بھڑک کر تو دیکھو

کیوں دھیمے دھیمے جلتی ہو

یہ کون سا روپ تمہارا ہے

یہ کیسی غزلیں کہتی ہو

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کبھی اک نیا آسمان ڈھونڈھتی ہوں

کبھی کوئی جائے اماں ڈھونڈھتی ہوں

وہ اک خواب جو میں نے دیکھا نہیں تھا

اب اس خواب کی دھجیاں ڈھونڈھتی ہوں

مجھے میری ہستی سے آزاد کر دے

وہ اک لمحۂ جاوداں ڈھونڈھتی ہوں

اداکار چہروں کی گہرائیوں میں

کہیں سچ کی پرچھائیاں ڈھونڈھتی ہوں

جو پتھر سے الفاظ میں جان ڈالے

وہ انداز سحر البیاں ڈھونڈھتی ہوں

نہیں کوئی دیوار گریہ میسر

کوئی مہرباں رازداں ڈھونڈھتی ہوں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اک مدت کے بعد ملی احساس جگاتی تنہائی

خاموشی سے دھیرے دھیرے گھر مہکاتی تنہائی

آوازوں کی بھیڑ میں جب بھی مجھ کو پریشاں دیکھا ہے

ہاتھ پکڑ کر لے آئی ہے کچھ سمجھاتی تنہائی

آنکھوں سے جب نیند بھٹک کر صحرا صحرا گھومتی ہے

میرے سرہانے رات گئے تک لوری گاتی تنہائی

بچپن میں جب گرم دوپہری ننگے پاؤں پھرتی تھی

آم کے باغوں میں ملتی تھی رس برساتی تنہائی

پیار کی خواب رتوں میں کیسی جاگی سوئی رہتی تھی

چاند ہنڈولے میں جھولی تھی جب مدھ ماتی تنہائی

پہروں ہم نے باتیں کی ہیں پہروں خواب سجائے ہیں

میں روئی تو مجھ سے چھپ کر اشک بہاتی تنہائی

بہت دنوں کے بعد سنور کر اپنا چہرہ دیکھا تھا

آئینے سے جھانک رہی تھی آنکھ چراتی تنہائی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کس کی پرچھائیں مرے ساتھ سفر کرتی ہے

کون ہے یہ جو مری عمر بسر کرتی ہے

خواب کے شہر بناتی ہے مری اک ہم راز

اور پھر خود ہی مجھے شہر بدر کرتی ہے

کوئی آواز کہیں ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھے

انتظار عرصے سے اک راہ گزر کرتی ہے

اسی امید پہ لکھتی ہوں حدیث دل زار

دل سے نکلی ہوئی ہر بات اثر کرتی ہے

لفظ و معنی کے سمندر میں کوئی ساعت نور

کسی تخلیق کے لمحے کو گہر کرتی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے

کچھ ایسے کار جہاں میں کھوئے کہ اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے

یہ ناامیدی کی انتہا ہے کہ آگہی کی ہے کوئی منزل

یہ دل کو کیا عارضہ ہوا ہے اسے کسی سے گلہ نہیں ہے

ہمیشہ سچ بولنے کی عادت ہے کیا کریں بولتے رہیں گے

قدم قدم پر ہے آزمائش کہ سہل یہ مرحلہ نہیں ہے

ہم ان کی ہر بات مان لیتے تو زندگی چین سے گزرتی

بس عزت نفس روکتی ہے انا کا یہ مسئلہ نہیں ہے

یوں ہی بھٹکتے پھریں گے کب تک خود اپنے اندر تلاش کر لیں

جہاں مکمل سکوں میسر ہو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے

بس اک پریشاں ہجوم کے ساتھ ہم بھی شامل ہیں چل رہے ہیں

نہ کوئی نقش قدم سلامت کہیں کوئی راستہ نہیں ہے

یہ شام اتنی اداس کیوں ہے کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے

یہ خوں کی سرخی شفق کے رنگوں میں گھل گئی بے وجہ نہیں ہے

ستارۂ صبح ڈھونڈتے ہیں غبار آلودہ موسموں میں

نظر سے اوجھل تو ہو گیا ہے مگر ابھی گمشدہ نہیں ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

مری خود سے محبت بڑھ گئی ہے

بہت پنجرے سے وحشت بڑھ گئی ہے

ہیں میرے خواب سارے موم کے بت

مرے سورج تمازت بڑھ گئی ہے

ہمارے بیچ بیداری ہی غم تھی

بس اب نیندوں کی حاجت بڑھ گئی ہے

یہ کیا بازار کیسے لوگ یوسف

ادھر کیوں تیری رغبت بڑھ گئی ہے

سنائی دیتا ہے سب ان کہا بھی

تری دھن میں سماعت بڑھ گئی ہے

کبھی نیندوں سے میں وحشت زدہ تھی

پر اب خوابوں سے راحت بڑھ گئی ہے

میں بچنا چاہتی ہوں اپنی جاں سے

مری مجھ سے محبت بڑھ گئی ہے

نشہ سورج کو ہو جائے تو کیا ہو

مری حیرت پہ حیرت بڑھ گئی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا

عشق بس خواب ہے اس خواب کے جادو پہ نہ جا

اب پلٹ کر نہیں شہروں کو میں جانے والی

مرے جنگل تو پریشانی و ہا ہو پہ نہ جا

میں ترا رقص ہوں اس رقص کو پورا کر لے

تھک کے یوں ٹوٹ کے گرتے ہوئے گھنگھرو پہ نہ جا

گرمیٔ رقص کے تھمتے ہی تھمیں گے ہم سب

حصۂ رقص ہے اس جنبش ابرو پہ نہ جا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا

اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا

سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی

اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا

اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی

ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا

چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے

سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں رہنا

اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی

یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

بلا کشوں پہ کہاں پیاس کا عذاب نہ تھا

وہاں پہ منع تھا پانی جہاں سراب نہ تھا

شکست خواب کا ماتم تھا چار سو لیکن

تمام شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا

نہ آستینوں پہ ملتا نہ خاک مقتل پر

خدا کا شکر ہمارا لہو شراب نہ تھا

ادھر گناہ ادھر حسرت گناہ کا بوجھ

فشار قبر کی تمثیل تھا شباب نہ تھا

بکا تھا ذہن و دل و جاں سمیت منڈی میں

الگ ضمیر کے کیا دام تھے حساب نہ تھا

بہ طرز خاص تھی مقصود مجھ کو شہرت عام

لبوں پہ تھا مرے سینے میں انقلاب نہ تھا

زمانہ ساز تھا قیسیؔ نہ زر شناس مگر

عزیز کیسے تھا جو شخص کامیاب نہ تھا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اٹھا کے میرے ذہن سے شباب کوئی لے گیا

اندھیرے چیختے ہیں آفتاب کوئی لے گیا

میں سارے کاغذات لے کے دیکھتا ہی رہ گیا

ثواب کوئی لے گیا عذاب کوئی لے گیا

سپرد کر کے خامشی کی مہر خوش نما مجھے

لبوں سے نعرہ ہائے انقلاب کوئی لے گیا

ہے اعتراف میرے ہاتھ میں جو ایک چیز تھی

سنبھال کر رکھا تو تھا جناب کوئی لے گیا

یہ غم نہیں کہ مجھ کو جاگنا پڑا ہے عمر بھر

یہ رنج ہے کہ میرے سارے خواب کوئی لے گیا

شجر شجر ورق ورق پیام بر وہاں بھی ہے

جہاں سے ہر صحیفہ ہر کتاب کوئی لے گیا

شناخت ہو سکی نہ پھر بھی یہ مرا قصور تھا

ہمارے درمیاں تھا جو حجاب کوئی لے گیا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یوں ہی کٹے نہ رہ گزر مختصر کہیں

پڑتے ہیں پائے شوق کہیں اور نظر کہیں

موہوم و مختصر سہی پیش نظر تو ہے

دیکھا کسی نے خواب یہ بار دگر کہیں

مائل بہ جستجو ہیں ابھی اہل اشتیاق

دنیائیں اور بھی ہیں ورائے نظر کہیں

باقی ابھی قفس میں ہے اہل قفس کی یاد

بکھرے پڑے ہیں بال کہیں اور پر کہیں

اب ہم ہیں اور طلسم تمنا کی وسعتیں

ڈھونڈے سے بھی نہ مل سکی راہ مفر کہیں

ہر فاصلہ ہے جلوہ گہ موج اتصال

یعنی جبین شوق کہیں سنگ در کہیں

صدیوں کا اضطراب تمنائیؔ سونپ دوں

مل جائے کوئی لمحۂ فرصت اگر کہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

جان نذر شباب ہو کے رہی

زندگی کامیاب ہو کے رہی

میری جانب جو اٹھ گئی تھی کبھی

وہ نظر لا جواب ہو کے رہی

عشق میں راہ راست بھی اکثر

راہ پر پیچ‌ و تاب ہو کے رہی

بعد توبہ کے اور بھی ساقی

میری حالت خراب ہو کے رہی

ان کی محفل میں بے کسی میری

باعث انقلاب ہو کے رہی

فصل گل میں مزے اڑائیں گے

یہ تمنا بھی خواب ہو کے رہی

دہر میں اے عزیزؔ اپنی وفا

آپ اپنا جواب ہو کے رہی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ

اپنی مشکل کسی آسان سے باندھے ہوئے رکھ

تجھ کو معلوم سے آگے کہیں جانا ہے تو پھر

خواب کو دیدۂ حیران سے باندھے ہوئے رکھ

ورنہ مشکل بڑی ہوگی یہاں دنیا داری

دیکھ انسان کو انسان سے باندھے ہوئے رکھ

جو بھلانے پہ کبھی بھول نہیں پاتا ہے

مجھ کو اپنے اسی احسان سے باندھے ہوئے رکھ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سفر کے بعد بھی سفر کا اہتمام کر رہا ہوں میں

عجیب بے دلی سے ہر جگہ قیام کر رہا ہوں میں

یہ بات بات پر اٹھانا ہاتھ بد دعا کے واسطے

مرا یقین کر حلال کو حرام کر رہا ہوں میں

یہ لوگ خواب اور پھول سے پناہ مانگنے لگے

بس اتنا سوچ کر ہی بات کو تمام کر رہا ہوں میں

ہر ایک لفظ پر اکھڑ رہی ہے بار بار سانس یہ

مجھے تو لگ رہا ہے آخری سلام کر رہا ہوں میں

کچھ اس طرح کی تہمتیں لگائی جا رہی ہیں مجھ پہ اب

خموش رہ کے اپنے آپ سے کلام کر رہا ہوں میں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دوسرا رخ نہیں جس کا اسی تصویر کا ہے

مسئلہ بھولے ہوئے خواب کی تعبیر کا ہے

چند قدموں سے زیادہ نہیں چلنے پاتے

جس کو دیکھو وہی قیدی کسی زنجیر کا ہے

جو بھی کرنا ہے فقط دل کی تسلی کے لئے

وقت تحریر کا ہے اور نہ تدبیر کا ہے

تم محبت کا اسے نام بھی دے لو لیکن

یہ تو قصہ کسی ہاری ہوئی تقدیر کا ہے

یہ جو چلنے نہیں پاتے تری جانب دراصل

جلدی جلدی میں کہیں ڈر ہمیں تاخیر کا ہے

بالکل ایسے مجھے حاصل ہے حمایت سب کی

ہر کوئی جیسے طرف دار یہاں ہیر کا ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

میں نے کل خواب میں آئندہ کو چلتے دیکھا

رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا

روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا

لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

ایک خوش فہم کو روتے ہوئے دیکھا میں نے

ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا

روز پلکوں پہ گئی رات کو روشن رکھا

روز آنکھوں میں گئے دن کو مچلتے دیکھا

صبح کو تنگ کیا خود پہ ضرورت کا حصار

شام کو پھر اسی مشکل سے نکلتے دیکھا

ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے

ہاں کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا

عزمؔ اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں

گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

سکون کی صبح چاہتا تھا سو شام وحشت میں آ بسا ہوں

میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے

اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں

وصال فردا کی جستجو میں نشاط امروز گھٹ رہا ہے

یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں آ بسا ہوں

یہاں تو بے فرصتی کے ہاتھوں وہ پائمالی ہوئی ہے میری

کہ جس سے ملنے کی آرزو تھی اسی کی فرقت میں آ بسا ہوں

کہاں کی دنیا کہاں کی سانسیں کہ سب فریب حواس نکلا

جزا کی مدت سمجھ رہا تھا سزا کی مہلت میں آ بسا ہوں

سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک

جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

یہ ان سے کہنا جو میری چپ سے ہزار باتیں بنا رہے تھے

میں اپنے شعلے کو پا چکا ہوں میں اپنی شدت میں آ بسا ہوں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اس آنکھ سے وحشت کی تاثیر اٹھا لایا

میں جاگتے رہنے کی تدبیر اٹھا لایا

میں نیت شب خوں سے خیمے میں گیا لیکن

دشمن کے سرہانے سے شمشیر اٹھا لایا

وہ صبح رہائی تھی یا شام اسیری تھی

جب میں در زنداں سے زنجیر اٹھا لایا

آوارہ مزاجی پر حرف آنے سے پہلے ہی

دل تیرے تغافل کی تصویر اٹھا لایا

اے خواب پذیرائی تو کیوں مری آنکھوں میں

اندیشۂ دنیا کی تعبیر اٹھا لایا

وہ سنگ ملامت تھا جس کو ترا دل کہہ کر

اس کوچے سے مجھ جیسا رہگیر اٹھا لایا

اس شخص سے میں سب کو عجلت میں ملا بیٹھا

اور اپنے لیے کیسی تاخیر اٹھا لایا

میدان شکایت سے کیا اپنے سوا لاتا

اک رنج تھا میں جس کی تعمیر اٹھا لایا

اس بزم سخن میں ہم کیا پہنچے کہ شور اٹھا

لو عزمؔ کوئی زخمی تحریر اٹھا لایا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دل سویا ہوا تھا مدت سے یہ کیسی بشارت جاگی ہے

اس بار لہو میں خواب نہیں تعبیر کی لذت جاتی ہے

اس بار نظر کے آنگن میں جو پھول کھلا خوش رنگ لگا

اس بار بصارت کے دل میں نادیدہ بصیرت جاگی ہے

اک بام سخن پر ہم نے بھی کچھ کہنے کی خواہش کی تھی

اک عمر کے بعد ہمارے لیے اب جا کے سماعت جاگی ہے

اک دست دعا کی نرمی سے اک چشم طلب کی سرخی تک

احوال برابر ہونے میں اک نسل کی وحشت جاگی ہے

اے طعنہ زنو دو چار برس تم بول لیے اب دیکھتے جاؤ

شمشیر سخن کس ہاتھ میں ہے کس خون میں حدت جاگی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کھلتا نہیں کہ ہم میں خزاں دیدہ کون ہے

آسودگی کے باب میں رنجیدہ کون ہے

آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ

یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے

دیکھوں جو آئینہ تو غنودہ دکھائی دوں

میں خواب میں نہیں تو یہ خوابیدہ کون ہے

انبوہ اہل زخم تو کب کا گزر چکا

اب رہ گزر پہ خاک میں غلطیدہ کون ہے

اے کرب نا رسائی کبھی یہ تو غور کر

میرے سوا یہاں ترا گرویدہ کون ہے

ہر شخص دوسرے کی ملامت کا ہے شکار

آخر یہاں کسی کا پسندیدہ کون ہے

تو عزم ترک عشق پہ قائم تو ہے مگر

تجھ میں یہ چند روز سے لرزیدہ کون ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا

میں نے پرواز لکھی حد فلک سے آگے

اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا

میں نے خوشبو کو لکھا دسترس گم شدگی

رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا

حسن گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی

شور لکھنا تھا سو آزار سماعت لکھا

میں نے تعبیر کو تحریر میں آنے نہ دیا

خواب لکھتے ہوئے محتاج بشارت لکھا

کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے

قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

اتنے داؤں سے گزر کر یہ خیال آتا ہے

عزمؔ کیا تم نے کبھی حرف ندامت لکھا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں

ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں

آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش

دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں

یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر

اے صاحب جمال ترا آئنا ہوں میں

یوں بار بار مجھ کو صدائیں نہ دیجئے

اب وہ نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں میں

میری برائیوں پہ کسی کی نظر نہیں

سب یہ سمجھ رہے ہیں بڑا پارسا ہوں میں

وہ بے وفا سمجھتا ہے مجھ کو اسے کہو

آنکھوں میں اس کے خواب لیے پھر رہا ہوں میں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم

اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا

خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم

آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں

لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

لکھ نہ پائے جو کسی کی نیم باز آنکھوں کا راز

وہ یہ وعدہ کر رہے ہیں میرؔ بن جائیں گے ہم

گر یوں ہی بڑھتا رہا دن رات شغل مے کشی

ایک دن اس میکدے کے پیر بن جائیں گے ہم

اس نے بھی اوروں کے جیسا ہی کیا ہم سے سلوک

جو یہ کہتا تھا تری تقدیر بن جائیں گے ہم

Khwab Quotes in Urdu

ساری رات کے بکھرے ہوئے شیرازے پر رکھی ہیں

پیار کی جھوٹی امیدیں خمیازے پر رکھی ہیں

کوئی تو اپنا وعدہ ہی آسانی سے بھول گیا

اور کسی کی دو آنکھیں دروازے پر رکھی ہیں

اس کے خواب حقیقت ہیں اس کی ذات مکمل ہے

اور ہماری سب خوشیاں اندازے پر رکھی ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے

میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے

سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا

پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے

ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں

دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے

بزم میں خوب لٹائے گئے چاہت کے گلاب

اس طرح صدقۂ احباب اتارا اس نے

آنسوؤں سے کبھی سیراب نہ ہوتا صحرا

میرے اندر کوئی سیلاب اتارا اس نے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے

وہ حرف حرف مری ذات پر اترتا ہے

اس ایک رنگ پہ قربان دل کے سب موسم

جو رنگ شدت جذبات پر اترتا ہے

وہ خواب گاہ کی رونق وہ چاند جیسا بدن

کبھی حیات کبھی ذات پر اترتا ہے

سخن وران کہن اس پہ رشک کرتے ہیں

جو درد پرچۂ ابیات پر اترتا ہے

کبھی کبھار تو سقراط کی ردا بن کر

شعور فکر طلسمات پر اترتا ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

آپ سے شکوۂ بیداد کروں یا نہ کروں

شوق پابند کو آزاد کروں یا نہ کروں

آپ ہیں وقت ہے فرصت ہے ذرا یہ کہہ دو

اب بیاں عشق کی روداد کروں یا نہ کروں

اے غم ہجر بتا اے دل مایوس بتا

ماتم حسرت ناشاد کروں یا نہ کروں

یوں تو اب کچھ بھی نہیں دیدۂ ویراں کو مگر

چند خوابوں سے بھی آباد کروں یا نہ کروں

میری قسمت میں سہی درد و الم کی راہیں

شادمانی کو کہیں یاد کروں یا نہ کروں

آج موسم نے کوئی مست غزل چھیڑی ہے

ضبط کو مائل فریاد کروں یا نہ کروں

زندگی عشق میں مٹنا ہے تو پھر ایسے میں

ناز تجھ پہ دل برباد کروں یا نہ کروں

انقلابات میں طوفان ستم میں عظمت

شان الطاف و کرم یاد کروں یا نہ کروں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دیکھا نہ ان کو جان کے بچ کر نکل گئے

یہ ایک چال ہم بھی قیامت کی چل گئے

ہم راہ زندگی میں بھٹک کر سنبھل گئے

ہر قافلہ کو چھوڑ کے آگے نکل گئے

خوشیوں کا ذکر کیا کہ فریب حیات تھیں

غم معتبر تھے عشق کے سانچے میں ڈھل گئے

کیا غم شب الم کا ابھرنے دو تیرگی

سینے میں سو چراغ سر شام جل گئے

دیکھا جب اہل بزم نے مجھ کج کلاہ کو

نظریں بدل گئیں کبھی تیور بدل گئے

اے ہم نشیں نہ پوچھ مآل شب امید

جو خواب ہم نے دیکھے تھے وہ خواب جل گئے

عظمتؔ یہ کیا ہوا کہ تمہارے تمام راز

اشکوں میں ڈھل گئے کبھی شعروں میں ڈھل گئے

Khwab Quotes in Urdu

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے

تیز دہکتی آگ زمیں پر خندق خندق چلتی ہے

آسیبی سی شمعیں لے کر سیاروں میں گھوم گئی

کوئی ہوا ایسی ہے کہ دنیا نیند میں اٹھ کر چلتی ہے

کہساروں کی برف پگھل کر دریاؤں میں جا نکلی

کچھ تو پاس آب رواں کر نبض جنوں کیا چلتی ہے

رات کی رات ٹھہرنے والے وقت خوش کی بات سمجھ

صبح تو اک دروازۂ غم پر دنیا آنکھیں ملتی ہے

خوش بو شہر بدی کا جادو ایک حدیث طلسم ہوئی

حوض میں کھلتا گل بکاؤلی خوش بو اس میں پلتی ہے

قندیل راہب کا جادو آسیبی تاروں کے موڑ

کاٹ کے وقت کی اک پرچھائیں خواب نما سی چلتی ہے

شمس و قمر کی خاکستر میں روح تھی اک آرائش کی

دنیا بیچ میں جا کے کھڑی ہے اور لباس بدلتی ہے

خاکستر دل کی تھی آخر ملتی راکھ میں تاروں کی

آتش مہر سا جست سا کرتی بجھتے بجھتے جلتی ہے

مطرب خوش آواز ہوئی ہے زخم آور آہنگ بلا

وہ جو مرے حصے کی لے تھی تیرے گلے میں ڈھلتی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے

تلاش آدمی کے زاویے کیا کیا بدلتی ہے

کبھی اک لو سے ششدر ہے کبھی اک ضو سے حیراں ہے

زمیں کس انکشاف‌ نار سے یا رب پگھلتی ہے

تغیر کی صدی ہے آتشیں خوابوں کی پیکاریں

رصد گاہوں کے آئینوں میں اک تعبیر ڈھلتی ہے

نظر کو اک افق تازہ رخی سے تیری ملتا ہے

وفا اس فاصلے کا راز پا کر خود سنبھلتی ہے

نگاہ ناز سب رمز محبت کہہ گئی آخر

خرد کی پردہ داری کیا کف افسوس ملتی ہے

لہو میں آپ جل اٹھتی ہے کوئی شمع‌ خلوت سی

وصال انداز اس کے خواب میں جب رات ڈھلتی ہے

روایت کی قناتیں جس ہوا سے جلنے والی ہیں

سواد ایشیا میں وہ ہوا اب تیز چلتی ہے

ورق اک دھند کا تازہ تغیر جب الٹتا ہے

تراشیدہ رخ الماس سی اک لو نکلتی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

حرم کا آئینہ برسوں سے دھندلا بھی ہے حیراں بھی

اک افسون برہمن ہے کہ پیدا بھی ہے پنہاں بھی

نہ جا اے ناخدا دریا کی آہستہ خرامی پر

اسی دریا میں خوابیدہ ہے موج تند جولاں بھی

کمال‌ جانثاری ہو گئی ہے خاک پروانہ

اسے اکسیر بھی کہتے ہیں اور خاک پریشاں بھی

وداع شب بھی ہے اور شمع پر اک بانکپن بھی ہے

حدیث شوق بھی ہے قصۂ عمر گریزاں بھی

نہ آئی یاد تیری یہ بھی موسم کا تغیر تھا

یہ کشت شوق تھی پرورد ہائے باد و باراں بھی

یہ دنیا ہے تو کیا اے ہم نفس تفسیر غم کیجے

وہی آداب محفل بھی وہی آداب زنداں بھی

شعاع مہر ہے یا التزام زخم و مرہم ہے

یہ داغ لالہ بھی ہے شعلۂ لعل بدخشاں بھی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کی

کھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کی

شیشے کھلے نہیں ابھی ساغر چلے نہیں

اڑنے لگی پری کی طرح بو شراب کی

دو دن کی زندگی پہ الٰہی یہ غفلتیں

آنکھیں تو ہیں کھلی ہوئی حالت ہے خواب کی

ہوتے ہی صبح وصل کی شب دیکھتا ہوں کیا

تلوار بن گئی ہے کرن آفتاب کی

آتا نہیں کسی پہ دل بد گماں عزیزؔ

جمتی نہیں کسی پہ نظر انتخاب کی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں

الجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں

یہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے

مگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں

پتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے

نگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں

یہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے گا

دم آخر رکا ہے ایک آنسو چشم گریاں میں

مری جمعیت خاطر کا ساماں حشر کیا کرتا

قیامت ہو گئی ترتیب اجزائے پریشاں میں

فروغ لالہ و گل کا تماشا دیکھنے والے

یہ میرے دل کی چوٹیں ہیں جو ابھری ہیں گلستاں میں

عزیزؔ آرائش گلشن کی کوئی انتہا بھی ہے

وہ محو سیر گل ہیں یا گلستاں ہے گلستاں میں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے

یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی

اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے

بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر

اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ہے

دل ایک مسافر ہے بے بس، جسے نوچ رہے ہیں پیش و پس

اک دریا پیچھے بہتا ہے اور آگے گہری کھائی ہے

اب خواب نہیں کمخواب نہیں، کچھ جینے کے اسباب نہیں

اب خواہش کے تالاب پہ ہر سو مایوسی کی کائی ہے

پہلے کبھی محفل جمتی تھی محفل میں کہیں تم ہوتے تھے

اب کچھ بھی نہیں یادوں کے سوا، بس میں ہوں مری تنہائی ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے

کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے

میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا

کسی نے کھو دیا مجھ کو کسی نے پایا مجھے

نہ جانے کون ہوں کس لمحۂ طلب میں ہوں

نبیلؔ چین سے جینا کبھی نہ آیا مجھے

میں ایک لمحہ تھا اور نیند کے حصار میں تھا

پھر ایک روز کسی خواب نے جگایا مجھے

اسی زمیں نے ستارہ کیا ہے میرا وجود

سمجھ رہے ہیں زمیں والے کیوں پرایا مجھے

جہاں کہ صدیوں کی خاموشیاں سلگتی ہیں

کسی خیال کی وحشت نے گنگنایا مجھے

اک آرزو کے تعاقب میں یوں ہوا ہے نبیلؔ

ہوا نے ریت کی پلکوں پہ لا بٹھایا مجھے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم

جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم

ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر

سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم

سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو

سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم

سلگتے دشت، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو

نگر نگر، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم

زمین رک کے چل پڑی، چراغ بجھ کے جل گئے

کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم

مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب

خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم

چمک اٹھا ہر ایک پل، مہک اٹھے قلم دوات

کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں

بنیاد ایک خواب کی ڈالے ہوئے تو ہیں

تلوار گر گئی ہے زمیں پر تو کیا ہوا

دستار اپنے سر پہ سنبھالے ہوئے تو ہیں

اب دیکھنا ہے آتے ہیں کس سمت سے جواب

ہم نے کئی سوال اچھالے ہوئے تو ہیں

زخمی ہوئی ہے روح تو کچھ غم نہیں ہمیں

ہم اپنے دوستوں کے حوالے ہوئے تو ہیں

گو انتظار یار میں آنکھیں سلگ اٹھیں

راہوں میں دور دور اجالے ہوئے تو ہیں

ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیلؔ

اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سر صحرائے جاں ہم چاک دامانی بھی کرتے ہیں

ضرورت آ پڑے تو ریت کو پانی بھی کرتے ہیں

کبھی دریا اٹھا لاتے ہیں اپنی ٹوٹی کشتی میں

کبھی اک قطرۂ شبنم سے طغیانی بھی کرتے ہیں

کبھی ایسا کہ آنکھوں میں نہیں رکھتے ہیں کوئی خواب

کبھی یوں ہے کہ خوابوں کی فراوانی بھی کرتے ہیں

ہمیشہ آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں

مگر یہ یاد رکھیے گا کہ من مانی بھی کرتے ہیں

میاں تم دوست بن کر جو ہمارے ساتھ کرتے ہو

وہی سب کچھ ہمارے دشمن جانی بھی کرتے ہیں

یہ کیا قاتل ہیں، پہلے قتل کرتے ہیں محبت کا

پھر اس کے بعد اظہار پشیمانی بھی کرتے ہیں

تجھے تعمیر کر لینا تو اک آسان سا فن ہے

رفاقت کے محل! ہم تیری دربانی بھی کرتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں

محبتوں کی حکایتیں اب یہاں سے ڈیرا اٹھا چکی ہیں

وہ شہر حیرت کا شاہزادہ گرفت ادراک میں نہیں ہے

اس ایک چہرے کی حیرتوں میں ہزار آنکھیں سما چکی ہیں

ہم اپنے سر پر گزشتہ دن کی تھکن اٹھائے بھٹک رہے ہیں

دیار شب تیری خواب گاہیں تمام پردے گرا چکی ہیں

بدلتے موسم کی سلوٹوں میں دبی ہیں ہجرت کی داستانیں

وہ داستانیں جو سننے والوں کی نیند کب کی اڑا چکی ہیں

وہ ساری صبحیں تمام شامیں کہ جن کے ماتھے پہ ہم لکھے تھے

سنا ہے کل شب تمہارے در پر لہو کے آنسو بہا چکی ہیں

کہاں سے آئے تھے تیر ہم پر، طنابیں خیموں کی کس نے کاٹیں

گریز کرتی ہوائیں ہم کو تمام باتیں بتا چکی ہیں

دھوئیں کے بادل چھٹے تو ہم نے نبیلؔ دیکھا عجیب منظر

خموشیوں کی سلگتی چیخیں فضا کا سینہ جلا چکی ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

آئیں گے نظر صبح کے آثار میں ہم لوگ

بیٹھے ہیں ابھی پردۂ اسرار میں ہم لوگ

لائے گئے پہلے تو سر دشت اجازت

مارے گئے پھر وادئ انکار میں ہم لوگ

اک منظر حیرت میں فنا ہو گئیں آنکھیں

آئے تھے کسی موسم دیدار میں ہم لوگ

ہر رنگ ہمارا ہے، ہر اک رنگ میں ہم ہیں

تصویر ہوئے وقت کی رفتار میں ہم لوگ

یہ خاک نشینی ہے بہت، ظل الٰہی

جچتے ہی نہیں جبہ و دستار میں ہم لوگ

اب یوں ہے کہ اک شخص کا ماتم ہے مسلسل

چنوائے گئے ہجر کی دیوار میں ہم لوگ

سنتے تھے کہ بکتے ہیں یہاں خواب سنہرے

پھرتے ہیں ترے شہر کے بازار میں ہم لوگ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

خامشی ٹوٹے گی آواز کا پتھر بھی تو ہو

جس قدر شور ہے اندر کبھی باہر بھی تو ہو

بجھ چکے راستے سناٹا ہوا رات ڈھلی

لوٹ کر ہم بھی چلے جائیں مگر گھر بھی تو ہو

بزدلوں سے میں کوئی معرکہ جیتوں بھی تو کیا

کوئی لشکر مری جرأت کے برابر بھی تو ہو

مسکرانا کسے اچھا نہیں لگتا اے دوست

مسکرانے کا کوئی لمحہ میسر بھی تو ہو

رات آئے گی نئے خواب بھی اتریں گے مگر

نیند اور آنکھ کا رشتہ کبھی بہتر بھی تو ہو

چھوڑ کر خواب کا سیارہ کہاں جاؤں نبیلؔ

کرۂ شب پہ کوئی جاگتا منظر بھی تو ہو

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سبھی رشتوں کے دروازے مقفل ہو رہے ہیں

ہمارے بیچ جو رستے تھے دلدل ہو رہے ہیں

ابھی تو دشت آئے اور پھر اس کے بعد جنگل

ابھی سے کیوں تمہارے پاؤں بوجھل ہو رہے ہیں

زمانے بعد سویا ہوں مجھے سونے دو کچھ پل

ادھورے خواب تھے جتنے مکمل ہو رہے ہیں

یہ کیسی بے حسی کی دھول ہم پر چھا رہی ہے

خود اپنی زندگی سے ہم معطل ہو رہے ہیں

تھکن اب آپ کی آنکھوں میں جمتی جا رہی ہے

سو اب ہم آپ کی نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں

نبیلؔ اترا ہے کیسا دل ربا موسم زمیں پر

کہ جتنے نیم تھے بستی میں صندل ہو رہے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ہمارے دل کی زمیں پر کٹاؤ اور بڑھا

اسی سبب سے غموں کا بہاؤ اور بڑھا

میں نیند کیا ترے بازار شب میں لے آیا

پھر اس کے بعد تو خوابوں کا بھاؤ اور بڑھا

یہ کیسے خواب زدہ راستوں میں آ گئے ہیں

کہ جتنا آگے بڑھے ہم گھماؤ اور بڑھا

یہیں پہنچ کے میں ڈوبا ہوں بارہا ملاح

یہاں سے آگے ادھر دور ناؤ اور بڑھا

تکلفات نے زنجیر باندھ دی دل پر

سکون ختم ہوا ہے تناؤ اور بڑھا

تمام دشت بدن میں مٹھاس جاگ اٹھی

رگوں میں موجۂ خوں کا دباؤ اور بڑھا

یہ آگ مجھ میں اترنے سے ڈر رہی ہے نبیلؔ

اسے ہوا دے مسلسل الاؤ اور بڑھا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

جل رہی ہے ایک ٹھنڈی شام آتش دان میں

اور نمی پھیلی ہوئی ہے دل کے ریگستان میں

آنکھ میچے چل رہا ہوں پیاس کی آواز پر

بھر گیا ہے ریت کوئی دیدۂ حیران میں

گھل رہا ہے دھیرے دھیرے زہر میرے خون میں

آ رہی ہے رفتہ رفتہ جان میری جان میں

دل میں رکتے ہی نہیں ہیں اب تمناؤں کے عکس

پاؤں پڑتے ہی نہیں ہیں وادیٔ امکان میں

میں زمیں کا گیت لکھنے جا رہا ہوں دوستو

آسماں اترا ہوا ہے آج میرے دھیان میں

مجھ کو اغوا کر لیا ہے میرے خوابوں نے نبیلؔ

اور مری آنکھیں انہیں مطلوب ہیں تاوان میں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا

یہ کون دبے پاؤں مرے خواب سے نکلا

جب جال مچھیرے نے سمیٹا ہے علی الصبح

ٹوٹا ہوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا

سینے میں دبی چیخ بدن توڑ کے نکلی

یادوں کا دھواں روح کی محراب سے نکلا

مٹھی میں چھپائے ہوئے کچھ عکس کئی راز

میں اس کی کہانی کے ہر اک باب سے نکلا

آواز مجھے دینے لگی تھی مری مٹی

میں خود کو سمیٹے ہوئے مہتاب سے نکلا

کچھ تہمت و دشنام شکایات و سوالات

کیا کچھ نہ میاں حلقۂ احباب سے نکلا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

وہی جو رشتہ ہے کشتی کا سطح آب کے ساتھ

وہی ہے میرا تعلق بھی اپنے خواب کے ساتھ

یہیں کہیں تو چمکتی تھی اک طلسمی جھیل

یہیں کہیں تو میں ڈوبا تھا اپنے خواب کے ساتھ

چھلک رہی تھی کسی انتظار کی چھاگل

بھٹک رہی تھی کہیں پیاس اضطراب کے ساتھ

الجھ رہی تھی مسلسل سوال کی لکنت

مکالمہ نہ کوئی ہو سکا جواب کے ساتھ

ہر ایک حرف ستارہ ہر ایک لفظ چراغ

میں نور نور ہوا رات کی کتاب کے ساتھ

یہ کس کے لمس کی بارش میں رنگ رنگ ہوں میں

یہ کون مجھ سے گزرتا ہے آب و تاب کے ساتھ

سنبھل کے چلنا یہ تعبیر کی سڑک ہے میاں

بندھی ہوئی کئی آنکھیں ہیں ایک خواب کے ساتھ

میں ریت ہونے ہی والا تھا جب عزیز نبیلؔ

امید آب دھڑکنے لگی سراب کے ساتھ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اک رات ہے اب تک آنکھوں میں مری نیند کا غم کرنے کے لیے

کئی خواب سرہانے بیٹھے ہیں روداد رقم کرنے کے لیے

کبھی رنگ بنا کبھی نور ہوا گہے خاموشی گہے شور ہوا

ہر روپ میں ڈھالا ہے خود کو ترا روپ بہم کرنے کے لیے

کئی آنکھیں مجھ میں جاگ اٹھیں کئی موسم مجھ میں آ نکلے

مرے خواب نئے کرنے کے لیے مری وحشت کم کرنے کے لیے

میں برسوں سے کوئی خشک زمیں مرا تن من گویا بنجر سا

پھر یوں ہے کہ اک برسات ہوئی مری مٹی نم کرنے کے لیے

نئے شعر کہو مرے شعر گرو کوئی عشق چراغ کرو روشن

ہر منظر حرف و صوت پہ چھائی دھند کو کم کرنے کے لیے

انکار کے صحرا میں تنہا میں نا ممکن اک شخص نبیلؔ

ویسے تو کئی طوفان اٹھے مری گردن خم کرنے کے لیے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے

پتھر سے میرے خواب کا پیکر کوئی تو آئے

دریا بھی ہو تو کیسے ڈبو دیں زمین کو

پلکوں کے پار غم کا سمندر کوئی تو آئے

چوکھٹ سے حال پوچھا تو بازار سے سنا

اک دن غریب خانے کے اندر کوئی تو آئے

جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں

پر دشمنوں کی سمت سے پتھر کوئی تو آئے

ہیں نوحہ گر ہزار ثنا خواں ہزار ہیں

میرے سوائے تیر کی زد پر کوئی تو آئے

لاکھوں جب آ کے جا چکے کیا مل گیا میاں

اب بھی یہ سوچتے ہو پیمبر کوئی تو آئے

شکوہ درست قیسیؔ کے پیہم سکوت کا

لیکن اس انجمن میں سخنور کوئی تو آئے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے

کہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے

ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میں

کناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے

ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیں

دلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم نے

ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں

اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے

وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر

ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو

اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو

کس قدر اس کو سرابوں نے ستایا ہوگا

دور ہی سے جو سمجھتا رہا چشمہ مجھ کو

میری امید کے سورج کو ڈبو کے ہر شام

وہ دکھاتا رہا دریا کا تماشہ مجھ کو

جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں

خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو

پھر سجا دے گا وہ یادوں کے عجائب گھر میں

سوچ کر عہد جنوں کا کوئی سکہ مجھ کو

میرے احساس کے دوزخ میں سلگنے کے لئے

چھوڑ دے گا مرے خوابوں کا فرشتہ مجھ کو

پھر یہ ہوگا کہ کسی دن کہیں کھو جائے گا

اک دوراہے پہ بٹھا کے مرا رستہ مجھ کو

لوگ کہتے ہیں کہ جادو کی سڑک ہے ماضی

مڑ کے دیکھوں گی تو ہو جائے گا سکتہ مجھ کو

سبز موسم کی عنایت کا بھروسا بھی نہیں

کب اڑا دے یہ ہوا جان کے پتا مجھ کو

وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا

دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو

میں نہ لیلیٰ ہوں نہ رکھتا ہے وہ مجنوں کا مزاج

اس نے چاہا ہے مگر میرے علاوہ مجھ کو

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

نکلنا خود سے ممکن ہے نہ ممکن واپسی میری

مجھے گھیرے ہوئے ہے ہر طرف سے بے رخی میری

بجھا کے رکھ گیا ہے کون مجھ کو طاق نسیاں پر

مجھے اندر سے پھونکے دے رہی ہے روشنی میری

میں خوابوں کے محل کی چھت سے گر کے خود کشی کر لوں

حقیقت سے اگر ممکن نہیں ہے دوستی میری

میں اپنے جسم کے مردہ عجائب گھر کی زینت ہوں

مجھے دیمک کی صورت چاٹتی ہے زندگی میری

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے

میں دھوپ ہوں مجھے ناحق سکوڑتا کیوں ہے

اگر یہ سچ ہے کہ تو میرا خواب ہے تو بتا

کہ آنکھ لگتے ہی مجھ کو جھنجھوڑتا کیوں ہے

ادھر بھی تو ہے ادھر بھی جو صرف تو ہی ہے

تو پھر یہ بیچ کی دیوار توڑتا کیوں ہے

میں تیرے وعدے کو جب آنسوؤں سے دھوتی ہوں

ہر ایک لفظ ترا رنگ چھوڑتا کیوں ہے

مگر یہ دل ہے کہ کیا جانے تیری باتوں سے

طرح طرح کے بہانے نچوڑتا کیوں ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کھول رہے ہیں موند رہے ہیں یادوں کے دروازے لوگ

اک لمحے میں کھو بیٹھے ہیں صدیوں کے اندازے لوگ

نیند اچٹ جانے سے سب پر جھنجھلاہٹ سی طاری ہے

آنکھیں میچے باندھ رہے ہیں خوابوں کے شیرازے لوگ

شہروں شہروں پھرتے ہیں دیوانوں کا بہروپ بھرے

خود سے چھپ کر خود کو ڈھونڈ رہے ہیں بعضے بعضے لوگ

چلتی پھرتی لاشوں کے ہونٹوں کی ہنسی پر حیرت کیا

مردوں پر رکھا کرتے ہیں پھول ہمیشہ تازے لوگ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا

جہاں چلتا ہے اپنے ساتھ خالی راستہ اپنا

کسی دریا کی صورت بہہ رہی ہوں اپنے اندر میں

مرا ساحل بڑھاتا جا رہا ہے فاصلہ اپنا

لٹا کے اپنا چہرہ تک رہی ہوں اپنا منہ جیسے

کوئی پاگل الٹ کے دیکھتا ہو آئینہ اپنا

یہ بستی لوگ کہتے ہیں مرے خوابوں کی بستی ہے

گنوا بیٹھی ہوں میں بد قسمتی سے حافظہ اپنا

گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی

میں اب جاگی ہوں جب پھل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا

فسانہ در فسانہ پھر رہی ہے زندگی جب سے

کسی نے لکھ دیا ہے طاق نسیاں پر پتہ اپنا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ

چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ

خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا

خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ

یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ

شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ

خط معزولئ ارباب ستم کھینچ گئے

یہ رسن بستہ صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ

وقت ہی وہ خط فاصل ہے کہ اے ہم نفسو

دور ہے موج بلا اور کنارے ہوئے لوگ

اے حریفان غم گردش ایام آؤ

ایک ہی غول کے ہم لوگ ہیں ہارے ہوئے لوگ

ان کو اے نرم ہوا خواب جنوں سے نہ جگا

رات مے خانے کی آئے ہیں گزارے ہوئے لوگ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سب پیچ و تاب شوق کے طوفان تھم گئے

وہ زلف کھل گئی تو ہواؤں کے خم گئے

ساری فضا تھی وادئ مجنوں کی خواب ناک

جو روشناس مرگ محبت تھے کم گئے

وحشت سی ایک لالۂ خونیں کفن سے تھی

اب کے بہار آئی تو سمجھو کہ ہم گئے

اب جن کے غم کا تیرا تبسم ہے پردہ دار

آخر وہ کون تھے کہ بہ مژگان نم گئے

اے جادہ خرام مہ و مہر دیکھنا

تیری طرف بھی آج ہوا کے قدم گئے

میں اور تیرے بند قبا کی حدیث عشق

نا دیدہ خواب عشق کئی بے رقم گئے

ایسی کوئی خبر تو نہیں ساکنان شہر

دریا محبتوں کے جو بہتے تھے تھم گئ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ہزار وقت کے پرتو نظر میں ہوتے ہیں

ہم ایک حلقۂ وحشت اثر میں ہوتے ہیں

کبھی کبھی نگۂ آشنا کے افسانے

اسی حدیث سر رہ گزر میں ہوتے ہیں

وہی ہیں آج بھی اس جسم نازنیں کے خطوط

جو شاخ گل میں جو موج گہر میں ہوتے ہیں

کھلا یہ دل پہ کہ تعمیر بام و در ہے فریب

بگولے قالب دیوار و در میں ہوتے ہیں

گزر رہا ہے تو آنکھیں چرا کے یوں نہ گزر

غلط بیاں بھی بہت رہ گزر میں ہوتے ہیں

قفس وہی ہے جہاں رنج نو بہ نو اے دوست

نگاہ داری احساس پر میں ہوتے ہیں

سرشت گل ہی میں پنہاں ہیں سارے نقش و نگار

ہنر یہی تو کف کوزہ گر میں ہوتے ہیں

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے

جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے

جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں

عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے

شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار

وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے

اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات

خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے گئے

دشت میں قحط آب سے ہجرت طائراں کے بعد

سیر پسند و تر نفس ابر کے قافلے گئے

اے یہ فسون دلبری تازہ رخ و سیاہ چشم

منزل قرب بھی گئی تجھ سے نہ فاصلے گئے

نیند میں مہوشان شہر بوسۂ عاشقاں کی خیر

شب بہ ہوائے نرم سیر صبح ہوئی صلے گئے

اے رخ تازہ جہاں رات تو اب بھی ہے گراں

شمع ہزار رنگ تک یوں ترے سلسلے گئے

دامن دل کی اوٹ سے ایک شب فراق کیا

دور تغیر جہاں سب ترے قافلے گئے

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے

جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے

جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں

عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے

شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار

وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے

اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات

خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے گئے

دشت میں قحط آب سے ہجرت طائراں کے بعد

سیر پسند و تر نفس ابر کے قافلے گئے

اے یہ فسون دلبری تازہ رخ و سیاہ چشم

منزل قرب بھی گئی تجھ سے نہ فاصلے گئے

نیند میں مہوشان شہر بوسۂ عاشقاں کی خیر

شب بہ ہوائے نرم سیر صبح ہوئی صلے گئے

اے رخ تازہ جہاں رات تو اب بھی ہے گراں

شمع ہزار رنگ تک یوں ترے سلسلے گئے

دامن دل کی اوٹ سے ایک شب فراق کیا

دور تغیر جہاں سب ترے قافلے گئے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں

ہر اک پہ سہل کچھ آداب میکشی بھی نہیں

ادھر ادھر سے حدیث غم جہاں کہہ کر

تری ہی بات کی اور تیری بات کی بھی نہیں

وفائے وعدہ پہ دل نکتہ چیں ہے وہ خاموش

حدیث مہر و وفا آج گفتنی بھی نہیں

بکھر کے حسن جہاں کا نظام کیا ہوگا

یہ برہمی تری زلفوں کی برہمی بھی نہیں

شکست ساغر و مینا کو خاک روتا میں

گراں ابھی مرے دل کی شکستگی بھی نہیں

ہزار شکر کہ بے خواب ہے سحر کے لیے

وہ چشم ناز کہ جو جاگتوں میں تھی بھی نہیں

یہ زندگی ہی تلون مزاج ہے اے دوست

تمام ترک وفا تیری بے رخی بھی نہیں

تعلقات زمانہ کی اک کڑی کے سوا

کچھ اور یہ ترا پیمان دوستی بھی نہیں

کرم کی وجہ نہ تھی بے سبب خفا بھی ہے وہ

مزاج حسن سے یہ بات دور تھی بھی نہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

لکھی ہوئی جو تباہی ہے اس سے کیا جاتا

ہوا کے رخ پہ مگر کچھ تو ناخدا جاتا

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

کشید مے پہ ہے کیسا فساد حاکم شہر

تری گرہ سے ہے کیا بندۂ خدا جاتا

خدا کا شکر ہے تو نے بھی مان لی مری بات

رفو پرانے دکھوں پر نہیں کیا جاتا

مثال برق جو خواب جنوں میں چمکی تھی

اس آگہی کے تعاقب میں ہوں چلا جاتا

لباس تازہ کے خواہاں ہوئے ہیں ذرہ و سنگ

اک آئنہ ہے کوئی دور سے دکھا جاتا

عجب تماشۂ صحرا ہے چاک محمل پر

غبار قیس ہے پردہ کوئی گرا جاتا

جو آگ بجھ نہ سکے گی اسی کے دامن میں

ہر ایک شہر ہے ایجاد کا بسا جاتا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یہ فضائے ساز و مضرب یے ہجوم تاج داراں

چلو آؤ ہم بھی نکلیں بہ لباس سوگواراں

یہ فسون روئے لیلیٰ بہ عذاب جان مجنوں

وہی حسن دشت و در ہے بہ طواف جاں نثاراں

غم کارواں کا آخر کوئی رخ نہ اس سے چھوٹا

وہ حدیث کہہ گئی ہے یہ ہوائے رہ گزاراں

وہ تعصب برہمن جو صنم کو ڈھالتا ہے

رخ نقش پر بھی آیا یہ سپاس نقش کاراں

بہ خیال دوست آخر کوئی خواب ہم کناری

کوئی خواب ہم کناری شب خواب بے قراراں

سر کشت غیر کیا کیا یہ گھٹا برس رہی ہے

کوئی ہم سے آ کے پوچھے اثر دعائے باراں

وہ شکست خواب محفل وہ ہوا کے چار جھونکے

لگی دل پہ تیر بن کر دم صبح یاد یاراں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر

پہاڑوں پر چمکتی بجلیاں نکلیں ادھر چل کر

زباں کا ذائقہ بگڑا ہوا ہے مے پلا ساقی

سموم دشت نے سب رکھ دئے کام و دہن تل کر

رموز زندگی سیکھے ہیں میرے شوق وحشت نے

کئی صاحب نظر زندانیوں کے بیچ میں پل کر

یہ کس ذوق نمو کو آج دہرانے بہار آئی

لہو ہم سرفروشوں کا جبین ناز پر مل کر

وہ جن کی خو سے کل اک ابر تر خواب محبت تھا

انہی کو رکھ دیا پھر کیوں کھلے ہاتھوں سے مل دل کر

رخ دوراں پہ ہے اک نیل سا کرب تغیر سے

ورق تانبے کا کھو دیتا ہے رنگت آگ میں گل کر

ہری شمعیں سی انگوروں کی بیلوں میں جو چمکیں تھیں

وہی اب سرخ رنگوں میں جلی ہیں جام میں ڈھل کر

وہی اک روئے آتش رنگ ہے ہلکی سی دستک ہے

سمندر پار کی موج ہوا جاتی نہیں ٹل کر

جب آئی ساعت بے تاب تیری بے لباسی کی

تو آئینے میں جتنے زاویے تھے رہ گئے جل کر

مہک میں زہر کی اک لہر بھی خوابیدہ رہتی ہے

ضدیں آپس میں ٹکراتی ہیں فرق مار و صندل کر

شب افسانہ خواں تو شہر کی آخر ہوئی مدنیؔ

کہاں جاتے ہو تم نکلے ہوئے یوں نیند میں چل کر

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

نرمی ہوا کی موج طرب خیز ابھی سے ہے

اے ہم صفیر آتش گل تیز ابھی سے ہے

اک تازہ تر سواد محبت میں لے چلی

وہ بوئے پیرہن کہ جنوں خیز ابھی سے ہے

اک خواب طائران بہاراں ہے اس کی آنکھ

تعبیر ابر و باد سے لبریز ابھی سے ہے

شب تاب ابھی سے اس کی قباؤں کے رنگ ہیں

اک داستاں جبین گہر ریز ابھی سے ہے

گزری ہے ایک رو مژۂ خواب ناک کی

دل میں لہو کا رنگ بہت تیز ابھی سے ہے

آئینہ لے کے گھوم گئی عمر نوا خرام

تازہ رخی کا موڑ بلا خیز ابھی سے ہے

مبہم سے ایک خواب کی تعبیر کا ہے شوق

نیندوں میں بادلوں کا سفر تیز ابھی سے ہے

اک تازہ مہر لب سے جنوں مانگتا ہے نقش

جنبش لبوں کی سلسلہ آمیز ابھی سے ہے

شاید کہ محرمانہ بھی اٹھے تری نگاہ

ویسے تری نگاہ دل آویز ابھی سے ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اے شہر خرد کی تازہ ہوا وحشت کا کوئی انعام چلے

کچھ حرف ملامت اور چلیں کچھ ورد زباں دشنام چلے

اک گرمیٔ جست فراست ہے اک وحشت پائے محبت ہے

جس پاؤں کی طاقت جی میں ہو وہ ساتھ مرے دو گام چلے

ایسے غم طوفاں میں اکثر اک ضد کو اک ضد کاٹ گئی

شاید کہ نہنگ آثار ہوا کچھ اب کے حریف دام چلے

جو بات سکوت لب تک ہے اس سے نہ الجھ اے جذبۂ دل

کچھ عرض ہنر کی لاگ رہے کچھ میرے جنوں کا کام چلے

اے وادئ غم یہ موج ہوا اک ساز راہ سپاراں ہے

رکتی ہوئی رو خوابوں کی کوئی یا صبح چلے یا شام چلے

تجھ کو تو ہواؤں کی زد میں کچھ رات گئے تک جلنا ہے

اک ہم کہ ترے جلتے جلتے بستی سے چراغ شام چلے

جو نقش کتاب شاطر ہے اس چال سے آخر کیا چلئے

کھیلے تو ذرا دشوار چلے ہارے بھی تو کچھ دن نام چلے

کیا نام بتائیں ہم اس کا ناموں کی بہت رسوائی ہے

کچھ اب کے بہار تازہ نفس اک دور وفا بے نام چلے

یہ آپ کہاں مدنیؔ صاحب کچھ خیر تو ہے مے خانہ ہے

کیا کوئی کتاب مے دیکھی دو ایک تو دور جام چلے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا

دیوار و در میں شعلہ‌ٔ برہم سا رہ گیا

شیر‌ وطن کے پیالے پہ تھیں کل ضیافتیں

آیا جو تا بہ لب تو فقط سم سا رہ گیا

مانا وفا برائے وفا اتفاق تھی

تم سا رہا کوئی نہ کوئی ہم سا رہ گیا

اک لا تعلقی کی فضا درمیاں رہی

جب دو دلوں میں فرق بہت کم سا رہ گیا

اس سرو قد کی تاب و ملائم رخی کا راز

عصیاں کی شب میں دیدۂ پر نم سا رہ گیا

آخر ہوئی بہار مگر رنگ گل کا خواب

دل میں دعا نگاہ میں شبنم سا رہ گیا

اک اس کے رنگ رخ کی جنوں ساز چھوٹ سے

اس زندگی میں خواب کا عالم سا رہ گیا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے

آگہی کی حد پہ اک خواب جنوں کی جنگ ہے

جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ

نیند کا ریشم دھواں ہے خواب شعلہ رنگ ہے

اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈھتا ہے آدمی

خود طوافی میں بھی خود سے سینکڑوں فرسنگ ہے

کرم خوردہ کشتیاں بینائی کی ہیں تہہ نشیں

نم ہوا سے استخوانوں میں اترتا رنگ ہے

آگ کو گلزار کر دے اس دعا کا وقت ہے

ورنہ خوئے آدمیت آدمی پر تنگ ہے

بوئے گل رخصت ہوئی شاید یہ ہو ختم بہار

ٹوٹتی لے میں بکھرتی صوت شب آہنگ ہے

ایک مرکز پر ضدیں یکجا ہیں اور گردش میں ہیں

یہ زمانہ کا تغیر عالم نیرنگ ہے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ایک آدھ حریف غم دنیا بھی نہیں تھا

ارباب وفا میں کوئی اتنا بھی نہیں تھا

لب جلتے ہیں مے خواروں کے سینے نہیں جلتے

اس درجہ خنک شعلۂ مینا بھی نہیں تھا

اک اس کا تغافل ہے وہ یاد آ ہی گیا ہے

اک وعدۂ فردا ہے وہ بھولا بھی نہیں تھا

کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے

تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا

اب حسن پہ خود اس کا تصور بھی گراں ہے

پہلے تو گراں خواب زلیخا بھی نہیں تھا

پہلے مری وحشت کے یہ انداز بھی کم تھے

پہلے مجھے اندازۂ صحرا بھی نہیں تھا

اب یہ ہے کہ تھمتا ہوا دریا ہے تری یاد

بے فیض یہ دریا کبھی ایسا بھی نہیں تھا

اچھا تو مروت ہی ترا بوسۂ لب ہے

اچھا یہ کوئی دل کا تقاضا بھی نہیں تھا

مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منت دیدار

آخر رخ لیلیٰ تھا تماشا بھی نہیں تھا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

آج مقابلہ ہے سخت میر سپاہ کے لئے

ہو گئے سر کئی قلم ایک کلاہ کے لئے

تازہ رخیٔ کائنات ڈھونڈ رہی ہے آئنہ

جستجو ہے ہزار میں ایک گواہ کے لئے

کھل ہی گیا طلسم دوست عین وصال میں کہ تھی

اک شب ہجر زندگی لذت آہ کے لئے

اک شب خود نمائی میں عصمت بے مقام نے

کتنے سوال کر لئے رمز گناہ کے لئے

صورت گرد کارواں ہے غم منزل جہاں

خواب جنون تازہ کار چاہیے راہ کے لئے

آتش کیمیا گراں کام نہ آ سکی کوئی

سرمہ ہے خاک دل مری چشم سیاہ کے لئے

میری خود آگہی بھی کی تیرے وصال نے طلب

ہجر ہزار شب کے بعد ایک گناہ کے لئے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے

اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں

لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے

ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں

ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے

پہلے بھی لوگ ملتے تھے لیکن تعلقات

انگڑائی کی طرح تو کبھی ٹوٹتے نہ تھے

پکے گھروں نے نیند بھی آنکھوں کی چھین لی

کچے گھروں میں رات کو ہم جاگتے نہ تھے

رہتے تھے داستانوں کے ماحول میں مگر

کیا لوگ تھے کہ جھوٹ کبھی بولتے نہ تھے

اظہرؔ وہ مکتبوں کے پڑھے معتبر تھے لوگ

بیساکھیوں پہ صرف سند کی کھڑے نہ تھے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے

پیڑ بھی رستے کے بوڑھے ہو گئے

انگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھٹیں

بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے

حادثہ کل آئنہ پر کیا ہوا

ریزہ ریزہ عکس میرے ہو گئے

ڈھونڈیئے تو دھوپ میں ملتے نہیں

مجرموں کی طرح سائے ہو گئے

میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن

شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے

چاند کو میں چھو نہیں پایا مگر

خواب سب میرے سنہرے ہو گئے

میری گم نامی سے اظہرؔ جب ملے

شہرتوں کے ہاتھ میلے ہو گئے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

رنگتیں معصوم چہروں کی بجھا دی جائیں گی

تتلیاں آندھی کے جھونکوں سے اڑا دی جائیں گی

حسرت نظارگی بھٹکے گی ہر ہر گام پر

خواب ہوں گے اور تعبیریں چھپا دی جائیں گی

آہٹیں گونجیں گی اور کوئی نہ آئے گا نظر

پیار کی آبادیاں صحرا بنا دی جائیں گی

اس قدر دھندلائیں گے نقش و نگار آزرو

دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں گنوا دی جائیں گی

فرصتیں ہوں گی مگر ایسی بڑھیں گی تلخیاں

صرف یادیں ہی نہیں شکلیں بھلا دی جائیں گی

اس قدر روئیں گی آنکھیں دیکھ کر پچھلے خطوط

آنسوؤں سے ساری تحریریں مٹا دی جائیں گی

رات کے جگنو پہ ہوگا چڑھتے سورج کا گماں

ظلمتیں ماحول کی اتنی بڑھا دی جائیں گی

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ

مٹھی میں جگنوؤں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ

اس شخص کو تو قتل ہوئے دیر ہو گئی

اب کس لیے یہ بھیڑ لگائے ہوئے ہیں لوگ

برسوں پرانے درد نہ اٹکھیلیاں کریں

اب تو نئے غموں کے ستائے ہوئے ہیں لوگ

آنکھیں اجڑ چکی ہیں مگر رنگ رنگ کے

خوابوں کی اب بھی فصل لگائے ہوئے ہیں لوگ

کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا

کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ

کچھ دن سے بے دماغی اظہرؔ ہے رنگ پر

بستی میں اس کو میرؔ بنائے ہوئے ہیں لوگ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

بنائے ذہن پرندوں کی یہ قطار مرا

اسی نظارے سے کچھ کم ہو انتشار مرا

جو میں بھی آگ میں ہجرت کا تجربہ کرتا

مہاجروں ہی میں ہوتا وہاں شمار مرا

پھر اپنی آنکھیں سجائے ہوئے میں گھر آیا

سفر اک اور رہا اب کے خوش گوار مرا

تمام عمر تو خوابوں میں کٹ نہیں سکتی

بہت دنوں تو کیا اس نے انتظار مرا

یہ میرا شہر مری خامیوں سے واقف ہے

یہاں کسی کو نہ آئے گا اعتبار مرا

یہ لوگ صرف مری زندگی کے دشمن ہیں

مجسمہ یہ بنائیں گے شاندار مرا

مری بساط سے اظہرؔ بہت زیادہ تھیں

توقعات جو رکھتا تھا مجھ سے یار مرا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

یہ بار غم بھی اٹھایا نہیں بہت دن سے

کہ اس نے ہم کو رلایا نہیں بہت دن سے

چلو کہ خاک اڑائیں چلو شراب پئیں

کسی کا ہجر منایا نہیں بہت دن سے

یہ کیفیت ہے میری جان اب تجھے کھو کر

کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بہت دن سے

ہر ایک شخص یہاں محو خواب لگتا ہے

کسی نے ہم کو جگایا نہیں بہت دن سے

یہ خوف ہے کہ رگوں میں لہو نہ جم جائے

تمہیں گلے سے لگایا نہیں بہت دن سے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

جس کی خواہش تھی چلے وقت کی رفتار کے ساتھ

آج وہ شخص زمیں بوس ہے دستار کے ساتھ

گو منافق ہے مگر پھر بھی حسیں لگتا ہے

جب بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے بڑے پیار کے ساتھ

تو اگر اے مرے سالار اسی میں خوش ہے

رہن رکھ دیتے ہیں دستار بھی تلوار کے ساتھ

کیسا موسم ہے کہ ہر سمت نظر آتے ہیں

سر ثمر کی طرح لٹکے ہوئے اشجار کے ساتھ

جانے کیا بات اسے گھر سے اٹھا لائی ہے

خواب بھی بیچتی پھرتی ہے وہ اخبار کے ساتھ

اے مرے زود فراموش کبھی دیکھ ادھر

کیا گزرتی ہے یہاں پر ترے شہ کار کے ساتھ

دیکھ لیتا ہے فقط ایک نظر جو بھی تجھے

بیٹھ جاتا ہے وہ لگ کر تری دیوار کے ساتھ

داد دے گا مرے اشعار کی لیکن پہلے

سوچ کے زاویے پرکھے گا وہ پرکار کے ساتھ

غالبؔ و فیضؔ سے رشتہ ہے وہ اپنا اظہرؔ

جیسے اک کونج کا رشتہ ہو کسی ڈار کے ساتھ

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

وہی رات بھر تجھے سوچنا وہی چاہتوں کے نصاب ہیں

یہ بڑے طویل ہیں سلسلے یہ بڑے طویل عذاب ہیں

ہمیں روز ملتی ہیں سازشیں یہاں دوستی کے لباس میں

یہاں ہر قدم پہ فریب ہیں یہاں ہر قدم پہ سراب ہیں

یہ کرم ہے رب کریم کا مجھے اتنے رنگ عطا کیے

جو مٹا رہے تھے نشاں مرا نہ سوال ہیں نہ جواب ہیں

جو سمندروں میں سکوت ہے اسے دیکھ کر نہ فریب کھا

کئی اشک ہیں جو بہے نہیں کئی زلزلے تہہ آب ہیں

کئی چاندنی میں گندھے ہوئے کئی تتلیوں میں گھرے ہوئے

وہ جو پھول تھے تری راہ کے وہی آج مجھ پہ عذاب ہیں

وہ جو لوگ تھے یہاں ریت سے انہیں کیا ہوا وہ کہاں گئے

یہاں پتھروں سی ہے بے حسی یہاں پتھروں سے گلاب ہیں

ہمیں بھوک اپنی قبول ہے یہاں نفرتیں نہیں بیچنا

مرے گاؤں میں بڑا امن ہے مری آنکھ میں بڑے خواب ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر

کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت

پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو

ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

اٹھی جو صحن میں دیوار اختلاف بڑھے

زمیں کے واسطے اپنوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

کتاب زیست کا ہر صفحہ سادہ ہے نیرؔ

قلم کی نوک کا لفظوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

حروف خالی صدف اور نصاب زخموں کے

ورق ورق پہ ہیں تحریر خواب زخموں کے

سوال پھول سے نازک جواب زخموں کے

بہت عجیب ہیں یہ انقلاب زخموں کے

غریب شہر کو کچھ اور غمزدہ کرنے

امیر شہر نے بھیجے خطاب زخموں کے

سروں پہ تان کے رکھنا ثواب کی چادر

اترنے والے ہیں اب کے عذاب زخموں کے

وہ ایک شخص کہ جو فتح کا سمندر تھا

اسی کے حصے میں آئے سراب زخموں کے

کھلیں گے نخل تمنا کی ٹہنی ٹہنی پر

لہو کی سرخیاں لے کر گلاب زخموں کے

سجا کے رکھوں گا محراب دل میں اے نیرؔ

بہت عزیز ہیں مجھ کو گلاب زخموں کے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں

وہ کھلیں تو ہم سے راز دشت وحشت کچھ کھلے

لوٹ کر کچھ لوگ آئے ہیں مگر خاموش ہیں

ہو گیا غرقاب سورج اور پھر اب اس کے بعد

ساحلوں پر ریت اڑتی ہے بھنور خاموش ہیں

منزلوں کے خواب دے کر ہم یہاں لائے گئے
اب یہاں تک آ گئے تو راہبر خاموش ہیں

دکھ سفر کا ہے کہ اپنوں سے بچھڑ جانے کا غم

کیا سبب ہے وقت رخصت ہم سفر خاموش ہیں

کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے

اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں

جب سے اظہرؔ خال و خد کی بات لوگوں میں چلی

آئنے چپ چاپ ہیں آئینہ گر خاموش ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

ایک اک سانس میں صدیوں کا سفر کاٹتے ہیں

خوف کے شہر میں رہتے ہیں سو ڈر کاٹتے ہیں

پہلے بھر لیتے ہیں کچھ رنگ تمہارے اس میں

اور پھر ہم اسی تصویر کا سر کاٹتے ہیں

خواب مٹھی میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا

ہم وہی لوگ ہیں جو دھوپ کے پر کاٹتے ہیں

سونپ کر اس کو ترے درد کے سارے موسم

پھر اسی لمحے کو ہم زندگی بھر کاٹتے ہیں

تو نہیں ہے تو ترے شہر کی تصویر میں ہم

سارے ویرانے بنا دیتے ہیں گھر کاٹتے ہیں

اس کی یادوں کے پرندوں کو اڑا کر اظہرؔ

دل سے اب درد کا اک ایک شجر کاٹتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

گرداب ریگ جان سے موج سراب تک

زندہ ہے تو لہو میں بس اک اضطراب تک

اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا

اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک

تو لفظ لفظ لذت ہجراں میں ہے ابھی

ہم آ گئے ہیں ہجرت غم کے نصاب تک

جو زیر‌ موج آب رواں ہے خروج آب

آ جائے ایک روز اگر سطح آب تک

ملتا کہیں سواد ورود و شہود میں

ہوتا مری حدود کا کوئی حساب تک

تیرا ہی رقص سلسلہ عکس خواب ہے

اس اشک نیم شب سے شب ماہتاب تک

آثار عہد غم ہیں تہہ ریگ جاں کہ تو

پہنچا نہیں ابھی دل خانہ خراب تک

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

کوئی ایسی بات ہے جس کے ڈر سے باہر رہتے ہیں

ہم جو اتنی رات گئے تک گھر سے باہر رہتے ہیں

پتھر جیسی آنکھوں میں سورج کے خواب لگاتے ہیں

اور پھر ہم اس خواب کے ہر منظر سے باہر رہتے ہیں

جب تک رہتے ہیں آنگن میں ہنگامہ تنہائی کے

خاموشی کے سائے بام و در سے باہر رہتے ہیں

جب سے بے چہروں کی بستی میں چہرے تقسیم ہوئے

اس دن سے ہم آئینوں کے گھر سے باہر رہتے ہیں

جس کی ریت پہ نام لکھے ہیں اظہرؔ ڈوبنے والوں کے

وہ ساحل موجوں کے شور و شر سے باہر رہتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

گریۂ شب کی شہادت کے لئے جاگتے ہیں

یہ ستارے کوئی ساعت کے لئے جاگتے ہیں

خوف ایسا ہے کہ ہم بند مکانوں میں بھی

سونے والوں کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں

عمر گزری ہے تری سجدہ وری میں لیکن

آج ہم اپنی عبادت کے لئے جاگتے ہیں

پہلے ہم کرتے ہیں تصویر میں عریاں ترا خواب

اور پھر اس کی حفاظت کے لئے جاگتے ہیں

لفظ در لفظ پڑھا کرتے ہیں تیری صورت

رات بھر تیری تلاوت کے لئے جاگتے ہیں

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا

کانٹے کرا رہے ہیں تعارف گلاب کا

کیسا یہ انتشار دیوں کی صفوں میں ہے

کچھ تو اثر ہوا ہے ہوا کے خطاب کا

یہ طے کیا جو میں نے جنوں تک میں جاؤں گا

یہ مرحلہ اہم ہے مرے اضطراب کا

مانا بہت حسین تھا وہ عمر کا پڑاؤ

قصہ مگر نہ چھیڑئیے عہد شباب کا

اظہرؔ کہیں سے نیند کا اب کیجے انتظام

یونہی نکل نہ جائے یہ موسم بھی خواب کا

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

میری پلکوں پہ خواب رہنے دے

کچھ نہ کچھ اضطراب رہنے دے

حق بیانی تو میرا شیوہ ہے

مجھ کو زیر عتاب رہنے دے

تجھ کو فرصت ملے تو پڑھ لینا

مجھ کو مثل کتاب رہنے دے

تیری آنکھیں تو خود نشیلی ہیں

ذکر جام و شراب رہنے دے

تشنگی جب مرا مقدر ہے

میرے حق میں سراب رہنے دے

کوئی آیا ہے سج کے گلشن میں
آج ذکر گلاب رہنے دے

لکھ دے واعظ گناہ سب مجھ پر

نام اپنے ثواب رہنے دے

زندگی تو حباب ہے صارمؔ

اب مجھے تو حباب رہنے دے

Khwab Quotes in Urdu
Khwab Quotes in Urdu

جو لٹ گیا تو ہر اک ساز دستیاب ہوا

بھٹک کے راہ تلاشی تو کامیاب ہوا

مری ہی چشم سے سیراب وہ سراب ہوا

میں ہو گیا کوئی کانٹا تو وہ گلاب ہوا

سوال کرتے زمانے گزر گئے مجھ کو

سکوت کر لیا تو پھر وہی جواب ہوا

بھلا کے خود کو ہر اک دل ہے دیکھنے میں لگا

کسے ملی کوئی نعمت کسے عذاب ہوا

ہزار لوگ ہوئے ہیں مگر زیادہ دیر

بتاؤ کون سا جھوٹا یہاں جناب ہوا

سروں کے تاج ہوئے قوم کے چھپے رستم

بہت ستایا گیا جو کھلی کتاب ہوا

تری جدائی کے دن بھی بہت برے تھے مگر

غموں کا چھوڑ کے جانا بہت خراب ہوا

حقیقتوں کی حقیقت جو ہو گئی معلوم

عزیزؔ دیکھ مرا روم روم خواب ہوا

————————————————————–

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا

مجھ کو تصویر بھی دے گا تو پرانی دے گا

چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے

وقت رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا

عمر بھر میں کوئی جادو کی چھڑی ڈھونڈوں گی

میری ہر رات کو پریوں کی کہانی دے گا

ہم سفر میل کا پتھر نظر آئے گا کوئی

فاصلہ پھر مجھے اس شخص کا ثانی دے گا

میرے ماتھے کی لکیروں میں اضافہ کر کے

وہ بھی ماضی کی طرح اپنی نشانی دے گا

میں نے یہ سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت

کون جنگل میں لگے پیڑ کو پانی دے گا

———————————————————————————–

علاوہ اک چبھن کے کیا ہے خود سے رابطہ میرا

بکھر جاتا ہے مجھ میں ٹوٹ کے ہر آئینہ میرا

الجھ کے مجھ میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہے جو

نہ جانے ختم کر بیٹھے کہاں پر سلسلہ میرا

مجھے چکھتے ہی کھو بیٹھا وہ جنت اپنے خوابوں کی

بہت ملتا ہوا تھا زندگی سے ذائقہ میرا

میں کل اور آج میں حائل کوئی نادیدہ وقفہ ہوں

مرے خوابوں سے ناپا جا رہا ہے فاصلہ میرا

وہ کیسا شہر تھا مانوس بھی تھا اجنبی بھی تھا

کہ جس کی اک گلی میں کھو گیا مجھ سے پتا میرا

پلٹ آتا ہے ہر دن گھر کی جانب شام ڈھلتے ہی

کسی بے نام بستی سے گزر کے راستا میرا

یہ میں ہوں یا مرا سایہ مرا سایہ ہے یا میں ہوں

عجب سی دھند میں لپٹا ہوا ہے حافظہ میرا

ہنسی آئی تھی اپنی بے بسی پر ایک دن مجھ کو

ابھی تک گونجتا ہے میرے اندر قہقہہ میرا

Conclusion – Live Your Khwab, Don’t Just See Them

Dreams are like stars  we may never touch them, but they guide our hearts.

These Urdu Khwab quotes are not just about dreaming while sleeping; they are about the dreams we have for life, love, and the future.

So keep dreaming. Your dreams might be distant, but they are the reason your heart never stops moving forward.

As someone in Urdu once said,

“Khwab dekhna gunaah nahi, unhein sach karna himmat hai.”

(Dreaming isn’t a sin; inspiring them is courage.)

Let your Khwab be your morning inspiration and your night’s comfort.

Thank You Message

Thank you for taking your time to read our compilation of more than 90 Khwab Quotes in Urdu.

We really want to bring to you the essence of peace, love, and hope through these words.

Dreams are a great blessing — they show us that no matter how quiet life may seem, our spirit is still communicating.

Dream on, believe in your dreams, and never lose your trust in your Khwab.

FAQs

Q1: What do Khwab Quotes in Urdu mean?

They express magical and alluring Urdu thoughts and poems about dreams, love, and creativity.

Q2: Is it possible for me to share these Khwab quotes through my social media accounts?

Absolutely! These Urdu dream quotes are very well suited for your Instagram captions, WhatsApp statuses, or poetry posts.

Q3: Do these Khwab quotes belong to the romantic or the motivational category?

These quotes contain both elements. You will find cozy Khwab quotes, encouraging Urdu quotes as well as life reflections that are very deep.

Q4: Why are Khwab so significant in Urdu poetry?

In Urdu literature, dreams (Khwab) symbolize feelings, aspirations, and limitless imagination.

Q5: Who is the audience for these Urdu quotes?

Anyone who is a fan of Urdu, poetry, or intellectual writing. They are straightforward and comprehensible even for beginners.

For More, please click here

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *