120+ Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu | Love & Heartbroken Shayari Collection
About the Collection
Among other emotions, the emotion of love, or the feeling of love, is the most wonderful, although sometimes it can become so painful. Mohabbat Badnaam Shayari reveals the hidden side of love that people often do not dare to speak about — the heartbreak, betrayal, and the silence after very deep love. These beautiful Urdu Shayari lines explain how love gets “badnaam” (defamed), not because love is wrong, but simply because the world does not comprehend the true feelings and emotions.
If you have ever been in pain because of love, felt unnoticed, or lost a loved one, then these words will surely touch your heart. The writer speaks to the people who still believe in love, though not always happy love.
Description
A collection of more than 120 Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu is the union of emotions, and it is written for lovers, broken hearts, and dreamers. It doesn’t matter if you are looking for:
- Mozart Shayari Urdu,
- Sad Love Shayari,
- Broken Hearts’ Urdu Poetry,
- Ishq Shayari or
- Bewafa Shayari,
All of them can be found in one single location.
Every quote in the enumeration provided is unique, profound, and straightforward simultaneously, thus making the pain of each line comprehensible even for the person not used to reading Urdu poetry.
The Reason Why People Adore Mohabbat Badnaam Shayari
This kind of Shayari is popular among people because it expresses the truth. It brings forth the feelings that cannot be pretended: pain, regret, desire, and the fact that love sometimes implies sadness rather than smiles.
People have found similarity between their feelings and these quotes, so they share them using their Instagram captions, WhatsApp statuses, Facebook posts, or YouTube Shorts as they say what hearts can’t express in words.
It is not only about sorrow but also about recovery. Each of the lines gives us a hint that even if love is “badnaam”, its memory is always pure.
The shayari are some examples of the classic theme of love and its bad reputation.
The following is a list of translations containing Urdu, Roman, and English (Urdu + Roman + English meaning), along with the provided example:
محبت بھی بدنام ہوئی اور ہم भी
Mohabbat bhi badnaam hui aur hum bhi
infamous Love, and so did we.
یہ عشق نہیں آسان، بس اتنا समझ लीजिए
Yeh ishq nahi aasan, bas itna samajh lijiye
Just know that much love isn’t easy.
وفا کی راہوں میں دھوکہ ملا، پھر بھی شکوا نہیں کیا
Wafa ki rahon main dhoka mila, phir bhi shekwa nahi kiya
I didn’t complain even after the betrayal in loyalty.

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے
یہ دنیا اصل میں آرام کرنے کے لیے ہے
محبت اور پھر ایسی محبت جو ہے تجھ سے
چھپائیں کیوں یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے
کرے گا کون تجھ کو تیری بے مہری کا قائل
یہاں جو بھی ہے تجھ کو رام کرنے کے لیے ہے
یہ کار عشق میں الجھی ہوئی بے نام دنیا
حقیقت میں نمود و نام کرنے کے لیے ہے
بہت چھوٹا سا دل اور اس میں اک چھوٹی سی خواہش
سو یہ خواہش بھی اب نیلام کرنے کے لیے ہے
غزل کہنی پھر اس میں اپنے دل کی بات کہنی
یہی کافی ہمیں بدنام کرنے کے لیے ہے
بہت دن رہ چکے نام آوروں کے بیچ اشفاقؔ
اب اپنا نام بس گمنام کرنے کے لیے ہے

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے
دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے
شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل
ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے
گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں
اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے
آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں
یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے
جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو
ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا
وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا
اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم
معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا
اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے
باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا
ہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح
نکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا
ناحق کو فغاںؔ کے تئیں تشہیر کیا ہے
دنیا میں نہ ہووے کوئی بدنام کسی کا

پامال آرزو دل ناکام ہی تو ہے
خوش ہوں کہ یہ بھی عشق کا انجام ہی تو ہے
گو زندگی کی شام سہی شام ہی تو ہے
ایک ابتدائے صبح خوش انجام ہی تو ہے
انسانیت کا خون نہیں شیخ محترم
میرے سبو میں بادۂ گلفام ہی تو ہے
تم تو غم حیات سے بچتے ہو اس طرح
جیسے یہ کوئی زہر بھرا جام ہی تو ہے
میرے لبوں پہ شکوۂ تقدیر تو نہیں
ذکر مآل گردش ایام ہی تو ہے
میں جب سے مبتلائے غم روزگار ہوں
تکلیف تو نہیں مجھے آرام ہی تو ہے
جس آرزوئے شوق سے چھوٹے نہ جاں کبھی
وہ آرزوئے شوق کہاں دام ہی تو ہے
اس نام سے کہ شاعر شیریں مقال ہے
تیرا عتیقؔ شہر میں بدنام ہی تو ہے

مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگی
درد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگی
یہی حالت ہے تو اک روز یہ صورت ہوگی
قیس و فرہاد سے بڑھ کر مری وحشت ہوگی
کر کے بدنام مجھے اور یہ کہنا اس پر
آپ کے ملنے سے بے شک مری ذلت ہوگی
اضطراب دل مضطر ہے بیاں سے باہر
تیرے دیدار سے حاصل اسے راحت ہوگی
لے خبر جلد مسیحا تو خدارا آ کر
تیرے بیمار کی ورنہ بری حالت ہوگی
دل یہ کہتا ہے ذرا چل تو در جاناں تک
شرم کہتی ہے ترے جانے میں ذلت ہوگی
میں نے پوچھا کہ بھلا پھر بھی ملو گے صاحب
بولے منہ پھیر کے ہاں گر ہمیں فرصت ہوگی
آپ چل پھر کے ذرا چال دکھائیں تو سہی
آپ کی جانے بلا ہوگی قیامت ہوگی
میں تو گھل گھل کے یوں ہی ہجر میں جاں دوں گا عزیزؔ
اس کو معلوم مرے بعد حقیقت ہوگی

جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں
مزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیں
فقط اتنا کہا تھا تم ذرا صورت دکھا جاؤ
یہ سن کر آج مجھ سے وہ بہت بیزار بیٹھے ہیں
محبت ان سے کیا کی لے لیا کوہ الم سر پر
مجھے بدنام کرنے کو سر بازار بیٹھے ہیں
ذرا مقتل میں تم آ کر نکالو اپنے خنجر کو
یہاں ہم قتل ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں
چلا تو ہے عزیزؔ ان کی گلی میں شوق سے لیکن
قدم رکھنا سنبھل کر وہ بنے عیار بیٹھے ہیں

روشن نہ ہوئی تھی صبح ابھی منہ کھول رہی ہے شام کہیں
آغاز نہ ہونے پایا تھا اور ہونے لگا انجام کہیں
اس دنیا میں کیا ملنا ہے بس ارمانوں کے خوں کے سوا
اے خواب حسیں تیرے چلتے ہو جائیں نہ ہم بدنام کہیں
مانند صبا آوارہ ہم پھرتے ہی رہے شہروں شہروں
رمتا جوگی بہتا پانی ہے صبح کہیں تو شام کہیں
اس وقت تو خوش آتے ہیں نظر کچھ سادہ لوح عنادل بھی
دیکھو تو نہ پھر پھیلایا ہو صیاد نے کوئی دام کہیں
صیاد سے گر لڑنا ہے تجھے شاہیں کا جگر پیدا کر لے
بلبل جیسے نازک دل سے ہوتا ہے جری اقدام کہیں
کچھ زیست کا غم کچھ ملت کا مغموم رہے ہر دم اظہرؔ
حساس طبیعت والوں کو ملتا ہے بھلا آرام کہیں

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا خذ ما صفا دع ما کدر
پھر حیات چند روزہ کا مآل
موت پر جب زندگی ہے منحصر
رت بدلتے ہی فضا میں گونج اٹھا
نغمۂ یا ایہا الساقی ادر
ایسے وادی میں نہیں کیا رہ نما
خود جہاں گم کردہ منزل ہوں خضر
مشورہ رحمت سے کر اے عدل حق
کیا سزا جو ہو خطا کا خود مقر
کیوں ہے اسرار دو عالم کی تلاش
پردۂ دل میں ہیں تیرے مستر
کیوں مری دیوانگی بدنام ہے
ان کی آنکھیں خود ہوئیں جب مشتہر
الحذر پیر فلک کی سرکشی
دیکھنے میں تو ہے اتنا منکسر
کھو چکا آنکھیں مگر اے برق حسن
دل رہے گا اور رہے گا منتظر
سن لے فریاد عزیزؔ جاں بہ لب
رب انی مستغیث فالفقر

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے
سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے
یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی
اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے
بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر
اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ہے
دل ایک مسافر ہے بے بس، جسے نوچ رہے ہیں پیش و پس
اک دریا پیچھے بہتا ہے اور آگے گہری کھائی ہے
اب خواب نہیں کمخواب نہیں، کچھ جینے کے اسباب نہیں
اب خواہش کے تالاب پہ ہر سو مایوسی کی کائی ہے
پہلے کبھی محفل جمتی تھی محفل میں کہیں تم ہوتے تھے
اب کچھ بھی نہیں یادوں کے سوا، بس میں ہوں مری تنہائی ہے

اور کس کو مرے جینے سے علاقہ ہوگا
کوئی ہوگا مرا قاتل تو مسیحا ہوگا
بھیڑ کی بھیڑ اسے ڈھونڈنے نکلی ہوگی
ایک وہ شخص جو ہر بھیڑ میں تنہا ہوگا
ریت میں پیاس کے دوزخ کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے سوکھے ہوئے ہونٹوں میں ہی دریا ہوگا
دیکھ کر تجھ کو جو نم ہو گئیں میری آنکھیں
تجھ پہ جو وقت پڑا مجھ پہ بھی گزرا ہوگا
بس اسی دھن میں پس و پیش نہ دیکھا ہم نے
اس کے آگے بھی ذرا دیکھ تو لیں کیا ہوگا
میں تو بدنام بھی ہوں شہر میں برباد بھی ہوں
آپ کو بات نبھانے کا سلیقہ ہوگا
مر گئے راہ پہ یہ آس لئے آنکھوں میں
کوئی مردہ تو کسی سینے میں زندہ ہوگا
یوں ہی تو روندتے پھرتے نہیں بے خوف و خطر
تم نے لاشوں سے ہی یہ شہر بسایا ہوگا
بات کچھ ہوگی جوانی کے دنوں سے قیسیؔ
قیس سے اپنا تعلق جو بتاتا ہوگا

اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے
اپنی ہی جرأت اظہار سے ڈر لگتا ہے
اتنی راہوں کی صعوبت سے گزر جانے کے بعد
اب کسے وادیٔ پر خار سے ڈر لگتا ہے
کتنے ہی کام ادھورے ہیں ابھی دنیا میں
عمر کی تیزئ رفتار سے ڈر لگتا ہے
ساری دنیا میں تباہی کے سوا کیا ہوگا
اب تو ہر صبح کے اخبار سے ڈر لگتا ہے
خود کو منواؤں زمانے سے تو ٹکڑے ہو جاؤں
کچھ روایات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے
شوق شوریدہ کے ہاتھوں ہوئے بدنام بہت
اب تو ہر جذبۂ بیدار سے ڈر لگتا ہے
جانتی ہوں کہ چھپے رہتے ہیں فتنے اس میں
آپ کی نرمیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے

برہم زن شیرازۂ ایام ہمیں ہیں
اے درد محبت ترا انجام ہمیں ہیں
اس قافلۂ شوق میں یہ وہم ہے سب کو
آوارہ و سر گشتہ و ناکام ہمیں ہیں
ہوں گے کئی گردن زدنی اور بھی لیکن
اس شہر نگاراں میں تو بدنام ہمیں ہیں
ہم دھوپ میں تپتے تو پنپ جاتے مگر اب
دریوزہ گر مہر لب بام ہمیں ہیں
کیا آن تھی ناکامیٔ تدبیر سے پہلے
اب لائق فہمائش دشنام ہمیں ہیں
حق نقد مسرت کا اگر ہے تو ہمیں کو
کچھ نبض شناس غم و آلام ہمیں ہیں
جس تک کوئی کوئی ابھی پہنچا ہی نہیں ہے
وہ مشعل بے نور سر شام ہمیں ہیں
انکار ہی سر چشمۂ ایمان و یقیں ہے
اب روز جزا لائق انعام ہمیں ہیں
کلیوں سے دم صبح جو زیدیؔ نے سنا تھا
فطرت کا وہ نا گفتہ سا پیغام ہمیں ہیں

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا
غیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا
واسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں
حسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا
کر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے
کہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا
ہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی
بے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا
لطف خلوت و جلوت ہم نہ پا سکے لیکن
دھوم ہر طرف ان کی ذکر جا بہ جا میرا
طرز والہانہ کی داد کب ملی مجھ کو
ناز دوست کب نکلا صورت آشنا میرا
سوچنے لگے گی کچھ تیری خوش نگاہی بھی
رائیگاں نہ جائے گا یوں ہی دیکھنا میرا
میں نے جب کبھی دیکھا سر جھکا لیا تو نے
تو نے جب کبھی دیکھا دل تڑپ گیا میرا
عشرت حجاب از خود چارہ ساز دل کیا ہو
ساز ہو جب اے ظالم سوز آشنا میرا
میری خستہ حالی نے سعیٔ خود شناسی کی
ان کی خود نمائی نے جب کیا گلہ میرا
ہے جو حضرت منظورؔ اعتبار ایں و آں
اذن بے خودی لے کر پوچھئے پتا میرا

ہو گئی عشق میں بدنام جوانی اپنی
بن گئی مرکز آلام جوانی اپنی
ماضی و حال ہیں محروم شراب و نغمہ
ہائے افسردہ و ناکام جوانی اپنی
آہ وہ صبح جو تھی صبح بہار ہستی
ہے اسی صبح کی اب شام جوانی اپنی
ایک تاریک فضا ایک گھٹا سا ماحول
کسی مفلس کا ہے انجام جوانی اپنی
انہیں راہوں میں انہیں مست و جواں گلیوں میں
لڑکھڑائی ہے بہر گام جوانی اپنی
ایک وہ دن تھا کہ مے خانوں پہ ہم بھاری تھے
آج ہے دور تہہ جام جوانی اپنی
اکتفا کر کے کھنکتے ہوئے روز و شب پر
بن گئی زیست پر الزام جوانی اپنی
دن ہوا دھوپ چڑھی ڈھل گئے سائے الطافؔ
اب ہے اک بجھتی ہوئی شام جوانی اپنی

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں
مے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیں
کب مجھے یاد رخ و زلف سیہ فام نہیں
کوئی شغل اس کے سوا صبح سے تا شام نہیں
ہر سخن پر مجھے دیتا ہے وہ بد خو دشنام
کون سی بات مری قابل انعام نہیں
نیک نامی میں دلا فرقۂ عشاق ہیں عشق
ہے وہ بدنام محبت میں جو بدنام نہیں
چہرۂ یار کے سودے میں کہا کرتا ہوں
رخ ہے یہ صبح نہیں زلف ہے یہ شام نہیں
بوسہ آنکھوں کا جو مانگا تو وہ ہنس کر بولے
دیکھ لو دور سے کھانے کے یہ بادام نہیں
حلقۂ زلف بتاں میں ہے بھری نکہت گل
اے دل اس لام میں بوئے گل اسلام نہیں
ابتدا عشق کی ہے دیکھ امانتؔ ہشیار
یہ وہ آغاز ہے جس کا کوئی انجام نہیں

ہم کنارا کئے کناروں سے
کھیلا کرتے ہیں منجدھاروں سے
ہم گزرتے ہیں کھیلتے ہنستے
شعلہ زاروں سے خارزاروں سے
نام پاتے ہیں ناصح بے نام
ہم سے بدنام بادہ خواروں سے
تف بہ مطلب براری یاراں
اف یہ اطوار خاکساروں سے
جن کے دل میں گلوں کی چاہت ہے
پہلے وہ سرخ رو ہوں خاروں سے
دل کی راہوں میں بو لیے کانٹے
کر کے امید گلعذاروں سے
یوں ہے جنبش میں پھول کی ڈالی
وہ بلاتے ہیں جوں اشاروں سے
یوں تو مہ وش ہزار دیکھے ہیں
تم جدا ہو مگر ہزاروں سے
بوالہوس ہے رقیب باطن میں
طور ظاہر میں جاں نثاروں سے
اک فسانہ کہ تھا دیار اپنا
اک حقیقت کہ بے دیاروں سے
تو نے اے دوست ساتھ کیا چھوڑا
دل لرزتا ہے اب سہاروں سے
گرم بازار ہے مرے فن کا
داد پاتا ہوں نقد کاروں سے
روٹھ جائیں نہ وہ کہیں عامرؔ
شعر پڑھیے نہ یوں اشاروں سے

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا
ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا
قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا
قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا
میرے غم پر وہ اکثر ہنس دیتا ہے
یہ تو غم کا غیر مناسب دام ہوا
زخم یہاں تو ویسے کا ویسا ہی ہے
تم بتلاؤ تم کو کچھ آرام ہوا
تنہائی نے جب سے قید کیا مجھ کو
باہر آنے میں تب سے ناکام ہوا
روز مسائل گھیرے ہیں مجھ کو تو اب
سوچ رہا ہوں گردش ایام ہوا
اخباروں میں خود کو پڑھتے سوچوں ہوں
میتؔ یہاں پر میرا بھی کچھ نام ہوا

لمحے بھر میں تم نے میری ہر خوبی کو خام کیا
میں نے کہا کہ نام کیا ہے تم نے کہا بدنام کیا
اپنا کام تھا اس تک جانا گردش ہو یا سوزش ہو
اس کے در تک پہنچے دستک دیتے ہی آرام کیا
جس کے سر پر تاج کبھی تھا فکر میں گزری اس کی بھی
دیکھے دنیا اس الفت نے کیا تیرا انجام کیا
لکھنی تھی بیتابی دل کی امرتؔ خط میں یوں لکھی
کچھ کاٹا کچھ لکھا قاصد کے ہاتھوں پیغام کیا

رہروی ہے نہ رہنمائی ہے
آج دور شکستہ پائی ہے
عقل لے آئی زندگی کو کہاں
عشق ناداں تری دہائی ہے
ہے افق در افق رہ ہستی
ہر رسائی میں نارسائی ہے
شکوے کرتا ہے کیا دل ناکام
عاشقی کس کو راس آئی ہے
ہو گئی گم کہاں سحر اپنی
رات جا کر بھی رات آئی ہے
جس میں احساس ہو اسیری کا
وہ رہائی کوئی رہائی ہے
کارواں ہے خود اپنی گرد میں گم
پاؤں کی خاک سر پہ آئی ہے
بن گئی ہے وہ التجا آنسو
جو نظر میں سما نہ پائی ہے
برق ناحق چمن میں ہے بدنام
آگ پھولوں نے خود لگائی ہے
وہ بھی چپ ہیں خموش ہوں میں بھی
ایک نازک سی بات آئی ہے
اور کرتے ہی کیا محبت میں
جو پڑی دل پہ وہ اٹھائی ہے
نئے صافی میں ہو نہ آلائش
یہی ملاؔ کی پارسائی ہے

ہمیں تو عشق میں سب کام اچھے لگ رہے تھے
یہاں تک کہ سبھی الزام اچھے لگ رہے تھے
سنائے جا رہے تھے عشق شوریدہ کے قصے
ہمیں قصے نہیں انجام اچھے لگ رہے تھے
یقیں کی منزلوں سے گو کہ آگے جا رہے تھے
پس منظر مگر اوہام اچھے لگ رہے تھے
شب تاریک میں شب تاب انجم آسماں پہ
یہ دونوں برسر پیغام اچھے لگ رہے تھے
نکو کاری کا دشنامی صلہ ہے کیا گلہ ہے
کہ ہم بدنام ہیں بدنام اچھے لگ رہے تھے
رقیباں خوش تھے شعر شوخ کے تیور پہ ہم بھی
کہ ان شعروں کے سب ایہام اچھے لگ رہے تھے
میاں مجنوں بھی گم تھے نجد کی عریانیوں میں
پہ ہم صحرا میں با احرام اچھے لگ رہے تھے
نماز عشق ادا کرنے کی کوئی جا نہیں تھی
سو یہ سجدے ہمیں ہر گام اچھے لگ رہے تھے
وہ وصلت بھی کوئی وصلت کہ جاں آسودہ خاطر
فراقوں میں انیسؔ خام اچھے لگ رہے تھے

ہم سب کو بتاتے رہتے ہیں یہ بات پرانی کام کی ہے
دس بیس گھروں میں چرچے ہوں تب جا کے جوانی کام کی ہے
یہ وقت ابھی تھم جائے گا ماحول میں دل رم جائے گا
بس آپ یوں ہی بیٹھے رہئے یہ رات سہانی کام کی ہے
آسان بھی ہے دشوار بھی ہے دکھ سکھ کا بڑا بازار بھی ہے
معلوم نہیں تو مجھ سے سنو یہ دنیا دوانی کام کی ہے
مشہور بھی ہیں بدنام بھی ہیں خوشیوں کے نئے پیغام بھی ہیں
کچھ غم کے بڑے انعام بھی ہیں پڑھیے تو کہانی کام کی ہے
جو لوگ چلے ہیں رک رک کر ہموار زمیں پر جھک جھک کر
وہ کیسے بتائیں گے تم کو دریا کی روانی کام کی ہے

رات اک بدنام گھر کی ہو رہی تھی چاندنی
ایک میلی چاندنی کو دھو رہی تھی چاندنی
اک بڑے ہوٹل کی ویراں چاندنی پر لیٹ کر
جانے کیوں اپنا تقدس کھو رہی تھی چاندنی
دوستوں کے ساتھ وہ تھا میکدے میں رات بھر
اور بستر پر اکیلی سو رہی تھی چاندنی
شہر میں جلتے مکاں بہتے لہو کو دیکھ کر
جنگلوں میں منہ چھپاتے رو رہی تھی چاندنی
دھوپ جھلساتی رہی دن بھر جو کھیتوں کو تو کیا
رات کو اپنی شعاعیں بو رہی تھی چاندنی
رات تھی ویراں کھنڈر تھا میں تھا میرا کرب تھا
بوجھ میرے درد و غم کا ڈھو رہی تھی چاندنی
غم کا ساتھی کون ہے یہ سوچ کر تنہا تھا میں
ساتھ لیکن میرے نشترؔ رو رہی تھی چاندنی

آج ہر چہرے پہ پھیلا ہوا اک ڈر کیوں ہے
گھر میں رہتے ہوئے ہر آدمی بے گھر کیوں ہے
اک دہکتا ہوا لاوا ہے اگرچہ اندر
منجمد برف کے کہسار سا باہر کیوں ہے
کیوں چلی جاتی ہے اس کو مرے حصے کی خوشی
اس کا ہر درد مرے دل کو میسر کیوں ہے
لوگ کہتے ہیں محبت ہے ارم کا تحفہ
آج یہ پیار جہنم کے برابر کیوں ہے
کیوں ترے نام پہ لڑتے ہیں زمانے والے
یا خدا چاروں طرف خوف کا منظر کیوں ہے
نرگسی آنکھوں میں اک جھیل نہیں شعلے ہیں
مرمریں ہاتھوں میں گل ہونا تھا خنجر کیوں ہے
بے گناہی کی مری جس میں تھی ہر دستاویز
بھیڑ کے ساتھ اسی ہاتھ میں پتھر کیوں ہے
چاند کو باہوں میں لینے کی للک ہے شاید
آج بپھرا ہوا اس درجہ سمندر کیوں ہے
خود کو جذبات سے عاری میں سمجھ بیٹھا تھا
پھر یہ احساس میں اک دھندلا سا پیکر کیوں ہے
آج سمجھا ہوں زمانے کی روش ہے کیسی
جو تھا بے داغ سر دار وہی سر کیوں ہے
تیری مے ریز نگاہی کا کہیں نام نہیں
طنز ساقی پہ ہے بدنام یہ ساغر کیوں ہے
رنگ و بو میں تو ہے وہ رشک چمن جان چمن
اپنی گفتار میں وہ اتنا ستم گر کیوں ہے

کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے
ہے کہیں صبح کہیں شام ہے ایسا کیوں ہے
جن کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا میں کانٹے کی طرح
ان کے ہونٹوں پہ مرا نام ہے ایسا کیوں ہے
چاہے جس کی ہو خطا کوئی بھی مجرم ہو مگر
ترے دیوانوں پہ الزام ہے ایسا کیوں ہے
حسن کی انجمن آرائیاں تسلیم مگر
عشق آوارہ و بدنام ہے ایسا کیوں ہے
آج ہر شخص کو ہر موڑ پہ ہر محفل میں
شکوۂ گردش ایام ہے ایسا کیوں ہے
میں بھی ممنون ہوں ساقی کا مگر میرے لئے
کوئی ساغر نہ کوئی جام ہے ایسا کیوں ہے
جب ہے بے پردہ کوئی صاحب جلوہ انورؔ
روشنی صرف لب بام ہے ایسا کیوں ہے

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے
سارا عالم میرے دیوانے کا دیوانہ رہے
ساقیا یوں ہی ہمیشہ حال مے خانہ رہے
رقص میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے
دل کا عالم دیکھ میری یاد میں یوں غرق ہے
شمع پر جیسے تصدق کوئی پروانہ رہے
گھر میں بچے بھوک سے بیتاب ہیں بے حال ہیں
باپ لیکن سوچتا ہے ٹھاٹ شاہانہ رہے
یہ خدا کی مصلحت ہے ورنہ اس دربار میں
مستحق جو ہے محبت کا وہ بیگانہ رہے
آدمی بدنام ہو جاتا ہے لفظوں کے طفیل
گفتگو کرنے میں انداز شریفانہ رہے
آفتوں کا اور بلاؤں کا نہ ہو اس پر نزول
سایۂ رحمت میں شاطرؔ تیرا کاشانہ رہے

سورج اگا تو زندگی کی شام ہو گئی
اب صبح نو بھی موت کا پیغام ہو گئی
دل میں سما گئیں وہ زمانے کی نفرتیں
مہر و وفا بھی آخرش بدنام ہو گئی
انسان سارے مسجد و مندر میں بٹ گئے
انسانیت اس دور میں ناکام ہو گئی
زیتون کی جو شاخ اٹھائے تھا ہاتھ میں
گردن قلم اسی کی سر عام ہو گئی
افشاںؔ کہاں سے لائیں وہ اسلاف کا خلوص
تاریخ کی کتاب ہی نیلام ہو گئی

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
یوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے
غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاری
مٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے
کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میں
خلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے
دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابط
اپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ہوتے
ہو رہتے حرم کے تو جئے جاتے سکوں سے
بدنام رہ دیر و کلیسا تو نہ ہوتے
آوارہ مزاجی کی سزا خوب تھی لیکن
پا بستۂ خاک لب دریا تو نہ ہوتے
جیتے ہیں تو سب کھل گئے اوصاف جہاں پر
مر جاتے تو اچھا تھا کہ رسوا تو نہ ہوتے
اونچا جو اٹھا رکھتے علم اپنی انا کا
اعلیٰ نہ سہی عرش پہ ادنیٰ تو نہ ہوتے

انقلاب سحر و شام کی کچھ بات کرو
دوستو گردش ایام کی کچھ بات کرو
جام و مینا تو کہیں اور سے لے آئیں گے
مے کشو ساقیٔ گلفام کی کچھ بات کرو
غیر کی صبح درخشاں کا تصور کب تک
اپنی کجلائی ہوئی شام کی کچھ بات کرو
پھر جلانا مہ و خورشید کی محفل میں چراغ
پہلے اپنے ہی در و بام کی کچھ بات کرو
کیا یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے لئے بیٹھے ہو
بادہ نوشو ستم عام کی کچھ بات کرو
ذکر فردوس و ارم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
آج تو عارض اصنام کی کچھ بات کرو
میں تو خیر اپنی وفاؤں پہ ہوں نازاں لیکن
وہ جو تم پر ہے اس الزام کی کچھ بات کرو
تلخیٔ کام و دہن سے کہیں غم دھلتے ہیں
ظالمو تلخیٔ ایام کی کچھ بات کرو
اتنا سناٹا کہ احساس کا دم گھٹتا ہے
صبح کا ذکر کرو شام کی کچھ بات کرو
وہی ارشدؔ کہ جلاتا ہے جو آندھی میں چراغ
ہاں اسی شاعر بدنام کی کچھ بات کرو

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں
وہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں
کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں
دیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں
دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے
پریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں
ہجر کا سناٹا کھو دے گی گہما گہمی نالوں کی
رات اکیلے کیوں کر کاٹیں سب کی نیند حرام کریں
میرے برا کہلانے سے تو اچھے بن نہیں سکتے آپ
بیٹھے بیٹھائے یہ کیا سوجھی آؤ اسے بدنام کریں
دل کی خوشی پابند نہ نکلی رسم و رواج عالم کی
پھولوں پر تو چین نہ آئے کانٹوں پر آرام کریں
ایسے ہی کام کیا کرتی ہے گردش ان کی آنکھوں کی
شام کو چاہے صبح بنا دیں صبح کو چاہے شام کریں
لا محدود فضا میں پھر کر حد کوئی کیا ڈالے گا
پختہ کار جنوں ہم بھی ہیں کیوں یہ خیال خام کریں
نام وفا سے چڑھ ان کو اور آرزوؔ اس خو سے مجبور
کیوں کر آخر دل بہلائیں کس وحشی کو رام کریں

پھونک ڈالے گی یہ اشکوں کی شررباری مجھے
راکھ میں کب تک دبا رکھے گی چنگاری مجھے
تنگ میرے جسم پر ہے پارسائی کا لباس
مار ڈالے گی کسی دن یہ ریا کاری مجھے
بیچتا ہوں اپنے فن پارے کھلے بازار میں
کر گئی رسوا سر بازار ناداری مجھے
میرے حصے میں تو غیروں کی عزا داری بھی ہے
کب گوارا ہوگی اپنوں کی دل آزاری مجھے
اپنی بیداری کا خود مجھ کو یقیں آتا نہیں
لگ گئی ہے آج کل خوابوں کی بیماری مجھے
اپنے ہی دل کی گواہی پر کیا تھا اعتبار
کر گئی بدنام خود اپنی طرف داری مجھے
وہ سلوک ناروا مجھ سے بہ نام التفات
دوستوں کی یاد ہے اب تک اداکاری مجھے

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے
زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے
یہ سلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سورج
مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے
آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دشوار نہیں
چاہیے دل میں تڑپ حرف دعا سے پہلے
راکھ کے ڈھیر تمہیں اس کی گواہی دیں گے
مجھ کو اپنوں نے جلایا چتا سے پہلے
پیار کا نام بھی بدنام ہو جائے اثرؔ
تم بجھا دو یہ دیا تیز ہوا سے پہلے

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں
کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں
ہے دور جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے
کیوں کچھ گلہ گردش ایام کروں میں
آوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقی
اک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں
حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے
شب روز کو اور صبح کے تئیں شام کروں میں
مجھ کو شہ عالم کیا اس رب نے نہ کیونکر
اللہ کا شکرانہ انعام کروں میں

دل شکستہ ہے مرا دوست کی قربت کے بغیر
کتنا خاموش ہوں میں ساز محبت کے بغیر
تنگیٔ رزق سبو ہو کہ فراوانی ہو
مجھ کو پینا ہی نہیں اب تری صحبت کے بغیر
قربتوں میں نہ رہے کم سخنی کا شکوہ
میرے دکھ کو وہ سمجھ جائیں شکایت کے بغیر
مجھ کو ہر نقش ترا نقش قدم لگتا ہے
دو قدم چل نہ سکوں تیری رفاقت کے بغیر
اب بہر طور ہمیں ہونا پڑے گا بدنام
چرچے ہوتے ہیں یہاں کب کسی تہمت کے بغیر
انکساری ہو نمایاں ترے کردار میں دوست
اور ہے شرط نمایاں ہو رعونت کے بغیر
یہ جو ہر گام پہ احساس زیاں ہے عادلؔ
زندگی کٹ نہ سکے گی کسی وحشت کے بغیر

جوش وحشت میں گریباں پہ نظر ہے شاید
یہی دیوانے کا سامان سفر ہے شاید
میں تو صرف آپ کی بدنامی کا کرتا ہوں خیال
آپ کو بھی مری رسوائی کا ڈر ہے شاید
ان کے دامن پہ جو ٹپکا تھا خوشی کا آنسو
میں تو سمجھا تھا درخشندہ گہر ہے شاید
روندا جاتا ہے جو پیروں سے عبث مقتل میں
یہ کسی عاشق ناکام کا سر ہے شاید
بے پیے ہوش فراموش ہیں سارے مے کش
ان کی مخمور نگاہوں کا اثر ہے شاید
زلف و رخ دیکھ کے احمدؔ یہ گماں ہوتا ہے
شام کی گود میں بیتاب سحر ہے شاید

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر
اپنے ہم راہ یہ سیلاب گیا شہر بہ شہر
ایسے بدنام ہوئیں اپنی مہکتی غزلیں
جیسے آوارگیٔ موج صبا شہر بہ شہر
لوگ کیا کیا نہ گئے توڑ کے پیمان وفا
دل کی دھڑکن نے مگر ساتھ دیا شہر بہ شہر
ہم کہ معصومؔ ہیں دیہات کے رہنے والے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیا جانئے کیا شہر بہ شہر

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو
یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو
تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہا
چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو
دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں
کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو
خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن
تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو
نگۂ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سے
ہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو
دل ہے نیرنگئ ایام پہ حیراں اب تک
اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری
اس کو ہونا ہے آج بھی میری
جانتی ہے وہ میری اک اک بات
اس نے پڑھ لی ہے ڈایری میری
تیز رفتار ہو گیا ہوں میں
آگے چلنے لگی گھڑی میری
سونے چاندی کے ایک پنجرے میں
قید ہے آج کل پری میری
خواہشوں کا غلام ہوں میں بھی
کام آئی نہ آگہی میری
آپ تو بات میری سن لیجے
زندگی نے نہیں سنی میری
لوگ بدنام کر رہے ہیں اسے
دیکھی جاتی نہیں خوشی میری

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید
سب نے اس کو کر دیا منظر میں قید
دل تو بیچارہ یوں ہی بدنام ہے
جو بھی ہے وہ سب کا سب ہے سر میں قید
صرف اچھا ہونا ہی سب کچھ نہیں
قدر ہے انسان کی اب زر میں قید
آج کا دن شر پسندوں کا ہے پھر
شہر سارا ہو گیا ہے گھر میں قید
آسماں کی وسعتیں کروا مجھے
اور کب تک میں رہوں پیکر میں قید
میرے شعروں میں بھی ہیں تہہ داریاں
جیسے خوشبو رہتی ہے عنبر میں قید

کھیل کر سلسلۂ گردش ایام کے ساتھ
زندگی ہم نے گزاری بڑے آرام کے ساتھ
سن رہا ہوں دل برباد کے افسانے میں
آپ کا نام بھی آیا ہے مرے نام کے ساتھ
شکر صد شکر کہ مدت پہ تجھے شکوہ طراز
یاد تو آیا کوئی سیکڑوں الزام کے ساتھ
کم نگاہی سے تری بزم طرب میں ساقی
دیکھ آنکھیں نہ چھلک جائیں کہیں جام کے ساتھ
تیری یادوں میں گزرتے ہوئے لمحوں کی تھکن
لطف آغاز بھی لائی غم انجام کے ساتھ
بڑھتا جاتا ہے اجالوں پہ اندھیروں کا اثر
صبح بدنام نہ ہو جائے کہیں شام کے ساتھ
اس زمانے میں گلے ملتے ہوئے دیکھا ہے
روش خاص کو ہم نے روش عام کے ساتھ
ہم بھی کھیلے ہیں لب شاہد مے سے احمرؔ
جرعہ کش ہم بھی رہے ہیں کبھی خیامؔ کے ساتھ

لازمی تو نہیں ولی ہو جائے
آدمی کاش آدمی ہو جائے
کیوں نہ بدنام عاشقی ہو جائے
جب لگی دل کی دل لگی ہو جائے
روز کا ٹوٹنا بکھرنا کیوں
جو بھی ہونا ہے آج ہی ہو جائے
لمحہ لمحہ جیوں تجھے جاناں
تو اگر میری زندگی ہو جائے
میری آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں
گر کوئی دوست اجنبی ہو جائے
گھر ہمارا دھواں دھواں سا ہے
کھول کھڑکی کہ روشنی ہو جائے
کون اعجازؔ پر کرے گا اسے
اپنے اندر اگر کمی ہو جائے

جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہے
بزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہے
زلف کے نیچے خط سبز تو دیکھا ہی نہ تھا
اے لو ایک اور نیا دام تہ دام بھی ہے
چارہ گر جانے دے تکلیف مداوا ہے عبث
مرض عشق سے ہوتا کہیں آرام بھی ہے
ہو گیا آج شب ہجر میں یہ قول غلط
تھا جو مشہور کہ آغاز کو انجام بھی ہے
کام جاناں میرا لب یار کے بوسے سے سوا
خوگر چاشنی لذت دشنام بھی ہے
شیخ جی آپ ہی انصاف سے فرمائیں بھلا
اور عالم میں کوئی ایسا بھی بدنام بھی ہے
زلف و رخ دیر و حرم شام و سحر عیشؔ ان میں
ظلمت کفر بھی ہے جلوۂ اسلام بھی ہے

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا
جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا
اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا
تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا
میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا
محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم
بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا
پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں
مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا
ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں
خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا
یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں
یہی لے گئیں صبر و آرام دل کا
دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہ
ہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا
جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہے
تو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا
خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحب
جو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا
پس مرگ ان پر کھلا حال الفت
گئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا
تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہ
کہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا
دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔ
تو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے
یہ شور تھا کل اک سناٹا یہ شہر بھی کل تک صحرا تھے
آغاز اپنا وحشت بصری انجام اپنا شوریدہ سری
ہم آج بھی ہیں بدنام بہت ہم کل بھی نہایت رسوا تھے
تنہائی ذات کا سایہ ہے تنہائی اپنا ورثہ ہے
ہم آج بھی ہیں تنہا تنہا ہم کل بھی تنہا تنہا تھے
ماضی کے خرابوں میں بھی کہیں لو دیتا رہا سورج اپنا
ماضی کے خرابوں میں بھی ہم اک خواب جہاں فردا تھے
اپنا ہی تو ہے شہکار عمل تہذیب کا یہ زنداں اکبرؔ
ہم آج ہیں شہروں کے قیدی کل تک آوارۂ صحرا تھے

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے
کسی سے اب یہ روداد دل ناکام کیا کہئے
پھری کیوں کر نگاہ ساقیٔ گلفام کیا کہئے
بھری محفل میں اسباب شکست جام کیا کہئے
یہ کیسی دل میں ہے اک ظلمت بے نام کیا کہئے
بجھا کیوں دفعتاً از خود چراغ شام کیا کہئے
تغافل پر وہ دو حرف شکایت بھی قیامت تھے
زمانے بھر کے ہم پر آ گئے الزام کیا کہئے
مرا درد نہاں بھی آج رسوائے زمانہ ہے
اک آہ زیر لب بھی بن گئی دشنام کیا کہئے
در و دیوار پر چھائے ہوئے ہیں یاس کے منظر
دیار نامرادی کے یہ صبح و شام کیا کہئے
جہان آرزو بھی رفتہ رفتہ ہو چلا ویراں
اک آغاز حسیں کا آہ یہ انجام کیا کہئے
امید و یاس میں یہ روز و شب کی کشمکش توبہ
بہر لمحہ فریب گردش ایام کیا کہئے
یہ کس کے در سے طعنے مل رہے ہیں سجدہ و سر کو
یہ کس در پر ہے ذوق بندگی بدنام کیا کہئے
کہاں کا شکوۂ غم ہم تو بس شکر ستم کرتے
مگر شکر ستم کا بھی ہے جو انجام کیا کہئے
ادائے بدگمانی بھی سرشت عشق ہے لیکن
یہ کیوں کر بن گئی منجملۂ الزام کیا کہئے
رہیں گے حشر تک ممنون احسان دل آزاری
خلوص عشق پر یہ قیمتی انعام کیا کہئے
بڑھی جاتی ہے اب تو اور بھی کچھ دورئ منزل
اچانک نو بہ نو دشوارئی ہر گام کیا کہئے
وہ اپنی سعئ تجدید جنوں بھی رائیگاں ٹھہری
بس اب آگے مآل حسرت ناکام کیا کہئے
نہ سمجھے آج تک رنگ مزاج یار بے پروا
مگر پھر بھی زباں پر ہے اسی کا نام کیا کہئے

بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے
آئنہ بن کے ترے حسن کو دیکھا کرتے
اپنا سایہ بھی یہاں غیر نظر آتا ہے
اجنبی شہر میں ہم کس پہ بھروسہ کرتے
اس کی محفل میں تو اک بھیڑ تھی دیوانوں کی
پہلے دل اہل نظر اہل وفا کیا کرتے
عشق ہر حال میں پابند وفا ہوتا ہے
ہم تو بدنام تھے کیوں آپ کو رسوا کرتے
اتنی گزری ہے جہاں اور گزر جائے گی
زندگی کے لئے اتنا نہیں سوچا کرتے
جب تلک سانس چلے بس یوں ہی چلتے رہئے
چل کے دو چار قدم یوں نہیں ٹھہرا کرتے
اے خدا ہم تری وحدت پہ یقیں رکھتے ہیں
کیوں ترے در کے سوا ہم کہیں سجدہ کرتے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے
عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے
ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی
اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے
زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن
حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے
تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی
جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے
مژدہ اے اہل چمن آ تو گئی صبح بہار
اب ضرورت ہے کہ پھر شام نہ آنے پائے
دل شکن یوں تو ہے انجام محبت لیکن
دل میں اندیشۂ انجام نہ آنے پائے
ہے طلب گار مسرت تو زباں پر اے دوست
شکوۂ گردش ایام نہ آنے پائے
پی کے تھوڑی سی بہک جاتا ہے ساقی نے کہا
بزم میں اخترؔ بدنام نہ آنے پائے

یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا
وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا
میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے
وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا
پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے
ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا
ہے سیرگاہ یہ کچی منڈیر سانپوں کی
یہاں سے کیسے کوئی راستہ بنائے گا
سنائی دیتی نہیں گھر کے شور میں دستک
میں جانتا ہوں جو آئے گا لوٹ جائے گا
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ان اڑانوں میں
وہ اپنے گاؤں کی مٹی کو بھول جائے گا
ہزاروں روگ تو پالے ہوئے ہو تم نظمیؔ
بچانے والا کہاں تک تمہیں بچائے گا

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں
وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں
چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں
یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں
مری بے چہرگی پر ہنسنے والو
تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں
ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو
نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں
تری بالا قدی بدنام ہوگی
یہاں کے بام و در نیچے بہت ہیں
شجر بے سایہ ہیں سورج برہنہ
مگر ہم عزم کے پکے بہت ہیں
کرو اب فتح کا اعلان اخترؔ
سروں سے سرخ رو نیزے بہت ہیں

اس میں کیا جرم کیا خطا صاحب
دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب
پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو
پھر نیا ہو کوئی خدا صاحب
جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی
کیا بھلا ان کو بھولنا صاحب
وہ بھی میری طرح بھلا ڈالیں
کیا کہیں کچھ کبھی ہوا صاحب
دل تڑپتا نہیں ہے ان کے لئے
کر چکے سب دوا دعا صاحب
ہے یہ مشہور اپنے بارے میں
وہ کسی کا نہ ہو سکا صاحب
ہم پہ تہمت کہ کر دیا بدنام
اس قدر جھوٹ انتہا صاحب
ذکر اکثر کیا ہے عشق کا پر
نام کس کا کبھی لیا صاحب

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ
دو گھڑی کھیل لیے گردش ایام کے ساتھ
تشنہ لب رہنے پہ بھی ساکھ تو تھی شان تو تھی
وضع رندانہ گئی اک طلب جام کے ساتھ
جب سے ہنگام سفر اشکوں کے تارے چمکے
تلخیاں ہو گئیں وابستہ ہر اک شام کے ساتھ
اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں
ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ
اڑ چکی ہیں ستم آراؤں کی نیندیں اکثر
آپ سنئے کبھی افسانہ یہ آرام کے ساتھ
اس میں ساقی کا بھی درپردہ اشارہ تو نہیں
آج کچھ رند بھی تھے واعظ بدنام کے ساتھ
غیر کی طرح ملے اہل حرم اے زیدیؔ
مجھ کو یک گو نہ عقیدت جو تھی اصنام کے ساتھ

جن سے پیار کریں ان کو بدنام نہیں کرتے
ہاں مگر ذکر ضرور پر نام نہیں لیتے

ہر شے کا آغاز محبت اور انجام محبت ہے
درد کے مارے لوگوں کا بس اک پیغام ، محبت ہے
یہ جو مجھ سے پوچھ رہے ہو، ’’من مندر کی دیوی کون؟‘‘
میرے اچھے لوگو سن لو،’’اُس کا نام محبت ہے!‘‘
شدت کی لُو ہو یا سرد ہوائیں، اِس کو کیا پروا
کانٹوں کے بستر پر بھی محوِ آرام محبت ہے
بِن بولے اک دل سے دوجے دل تک بات پہنچتی ہے
جو ایسے روحوں پر اُترے، وہ الہام محبت ہے
پگلے! دامن بندھ جاتی ہے، جس کے بخت میں لکھی ہو
تم کتنا بھاگو گے، آگے ہر ہر گام محبت ہے
اب تو بس اک یاد سہارے وقت گزرتا رہتا ہے
اور اُس یاد میں ہراک صبح، ہر اک شام محبت ہے
ہم جیسے پاگل دیوانے، سود خسارہ کیا جانیں
نفرت کے اس شہر میں اپنا ایک ہی کام محبت ہے
اک لڑکی آدھے رستے میں ہار گئی اپنا جیون
وہ شاید یہ مان چکی تھی، بدفرجام محبت ہے
کچھ آلودہ روحوں والے، ہوس پجاری ہوتے ہیں
زین انہی لوگوں کے باعث ہی بدنام محبت ہے
تُو پگلی! اب کن سوچوں میں گم صم بیٹھی رہتی ہے
بولا ہے ناں اب یہ ساری تیرے نام محبت ہے

جب مرشد ہی بیکاؤ ہو جائے
جھوٹی شہرت کے پیچھے
پھر مرید بدنام تو ہوگے ہی

اسا شاکر لوگ آوارے جۓ
ساڈا یار نہ بن بدنام ہوسے

فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کو
اتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کو
بات ساحل کی جو ہوتی تو سنبھل بھی جاتا
اس نے منجدھار میں اوقات بتائی مجھ کو
عزم پر میرے مسلط ہے جنوں منزل کا
کیسے روکے گی مری آبلہ پائی مجھ کو
جس نے جس طرح سے چاہا مجھے بدنام کیا
راس آئی نہیں دنیا کی بھلائی مجھ کو
ظلمت شب میں میں تنہا ہی لڑوں گا عالمؔ
ان چراغوں نے اگر آنکھ دکھائی مجھ کو

نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہے
خرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہے
ہزار بار بہاروں نے دکھ دیا مجھ کو
نہ جانے کیا کیا ہے بہاروں کا انتظار بھی ہے
جہاں میں ہو گئی نا حق تری جفا بدنام
کچھ اہل شوق کو دار و رسن سے پیار بھی ہے
مرے لہو میں اب اتنا بھی رنگ کیا ہوتا
طراز شوق میں عکس رخ نگار بھی ہے
مرے سفینے کو ساحل کی جستجو ہی نہیں
ستم یہ ہے کسی طوفاں کا انتظار بھی ہے
چمن ہی اک نہیں آئینہ میری مستی کا
گواہ جوش جنوں کی زبان خار بھی ہے
غرور عشق غرور وفا غرور نظر
سرورؔ تیرے گناہوں کا کچھ شمار بھی ہے

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا
پھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھا
غم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھا
زندگی کی گردشوں کے ساتھ دور جام تھا
ٹھوکریں کھاتے گئے لب پر تمہارا نام تھا
حشر کا منظر تھا راہ عشق میں جو گام تھا
آپ کیوں آنسو بہائیں میرے حال زار پر
عشق کا نکلا وہی انجام جو انجام تھا
بن گیا ہر سانس قاتل رنج ہے تو بس یہی
زندگی نے مار ڈالا موت پر الزام تھا
تھا تمہارے سامنے بے کیف رنگ گلستاں
دیدۂ نرگس تو کہنے کو چھلکتا جام تھا
دیکھنے والے کہیں گے میری بربادی کا حال
آشیانہ جل رہا تھا میں اسیر دام تھا
گریۂ شبنم سے آتی ہے گلوں میں تازگی
میرا رونا بھی کسی کے عیش کا پیغام تھا
برق کے کیا ہاتھ آیا کیا ملا صیاد کو
چار تنکوں کے نہ رہنے سے چمن بدنام تھا
جلنے والا ہی سمجھ سکتا ہے دل کی آگ کو
ہجر میں عارفؔ مرا ہمدم چراغ شام تھا

بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے
کہانی اور اثر آفریں ہوئی مجھ سے
میں اک ستارہ اچھالا تو نور پھیل گیا
شب فراق یوں ہی دل نشیں ہوئی مجھ سے
گلاب تھا کہ مہکنے لگا مجھے چھو کر
کلائی تھی کہ بہت مرمریں ہوئی مجھ سے
بغل سے سانپ نکالے تو ہو گیا بدنام
خراب اچھی طرح آستیں ہوئی مجھ سے
کہاں سے آئی ہے خوشبو مجھے بھی حیرت ہے
یہ رات کیسے گل یاسمیں ہوئی مجھ سے
میں اپنے پھول کھلائے ہیں اس کی جھاڑی پر
قبائے یار بہت ریشمیں ہوئی مجھ سے
بس ایک بوسہ دیا تھا کسی کے ماتھے پر
تمام شہر کی روشن جبیں ہوئی مجھ سے
غزل سنی تو بہت دل سے خوش ہوا عاطفؔ
مگر غزل کی ستائش نہیں ہوئی مجھ سے

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے
متاع زندگی دے کر کیا یہ قرض ادا ہم نے
ہمیں کس خواب سے للچائے گی یہ پر فسوں دنیا
کھرچ ڈالا ہے لوح دل سے حرف مدعا ہم نے
کریں لب کو نہ آلودہ کبھی حرف شکایت سے
شعار اپنا بنایا شیوۂ صبر و رضا ہم نے
ہم اس کے ہیں سراپا ادبدا کر اس سے کیا مانگیں
اٹھایا ہے کبھی اے مدعی دست دعا ہم نے
شہیدان وفا کی منقبت لکھتے رہے لیکن
نہ کی عرضی خداؤں کی کبھی حمد و ثنا ہم نے
پرکھنے والے پرکھیں گے اسی معیار پر ہم کو
جہاں سے کیا لیا ہم نے جہاں کو کیا دیا ہم نے
وہی انساں جہاں جاؤ وہی حرماں جدھر دیکھو
بپائے خفتہ کی سیاحیٔ ملک خدا ہم نے
لٹا ذوق سفر بھی کارواں کا ایسے لگتا ہے
سنا ہر تازہ پیش آہنگ کا شور درا ہم نے
ستم آراؤ سن لو آخری برداشت کی حد تک
سہا ہر ناروا ہم نے سنا ہر ناسزا ہم نے
یہ دزدیدہ نگاہیں ہیں کہ دل لینے کی راہیں ہیں
ہمیشہ دیدہ و دانستہ کھائی ہے خطا ہم نے
کشاکش ہم سے پوچھے کوئی نا آسودہ خواہش کی
حسینوں سے بہت باندھے ہیں پیمان وفا ہم نے
کیا تکمیل نقش نا تمام شوق کی خاطر
جو تم سے ہو سکا تم نے جو ہم سے ہو سکا ہم نے
عراقیؔ کی طرح خالدؔ کو کیوں بدنام کرتے ہیں
نہ دیکھا کوئی ایسا خوش نوائے بے نوا ہم نے

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے
بھرے بازار میں تنہا کھڑا ہے
نئے دربانوں کے پہرے بٹھاؤ
ہجوم درد بڑھتا جا رہا ہے
رہے ہم ہی جو ہر پتھر کی زد میں
ہماری سر بلندی کی خطا ہے
مہکتے گیسوؤں کی رات گزری
سوا نیزے پہ اب سورج کھڑا ہے
مرے خوابوں کی چکنی سیڑھیوں پر
نہ جانے کس کا بت ٹوٹا پڑا ہے
وہ شعلے ہوں لہو ہو حادثے ہوں
مری ہی زندگی پر تبصرہ ہے
تری زلفیں تو ہیں بدنام یونہی
مجھے دن کے اجالوں نے ڈسا ہے
چلو چپکے سے کچھ بت اور رکھ آئیں
در کعبہ ابھی شاید کھلا ہے
اتر کر تو فصیل شب سے دیکھو
سحر نے خودکشی کر لی سنا ہے
ابھی طاق تصور پر نعیمیؔ
چراغ لذت شب جل رہا ہے

دل کو دل سے کام رہے گا
دونوں طرف آرام رہے گا
صبح کا تارا پوچھ رہا ہے
کب تک دور جام رہے گا
بدنامی سے کیوں ڈرتے ہو
باقی کس کا نام رہے گا
زلف پریشاں ہی اچھی ہے
عالم زیر دام رہے گا
مفتی سے جھگڑا نہ عدمؔ کر
اس سے اکثر کام رہے گا

صبح سفر اور شام سفر
ہستی کا انجام سفر
اونچے نام سے کیا ہوتا ہے
کرنا ہے بے نام سفر
سنئے خزاں سے کیا کہتی ہے
گل گلشن گلفام سفر
چاند ستارے اور ہوا
کس کو ہے آرام سفر
بچئے بچئے اس سے بچئے
کر دے جو بدنام سفر
گاہے کام بگاڑے بھی ہے
گاہے آوے کام سفر
کھل نہیں پائے اور مرجھائے
ہائے رے بے ہنگام سفر
کیسا سودا سر میں سمایا
سال و مہ و ایام سفر
شکوہ ہے بے بال و پری کا
دیکھیے زیر دام سفر
تم بھی رہو تیار ہی طرزیؔ
غالبؔ اور خیامؔ سفر

محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے
ہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے
رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے
بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے
کثرت خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص
نہیں ممکن ہے کہ یکبار اٹھے اور بیٹھے
سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا ہے ہمیں
چو حباب سر جو یار اٹھے اور بیٹھے
خوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ
ہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے
درد کیوں بیٹھے بٹھائے ترے سر میں اٹھا
کہ قلق سے ترے سو بار اٹھے اور بیٹھے
تیری دیوار تو کیا گنبد دوار بھی یار
چاہئے آہ شرربار اٹھے اور بیٹھے
آپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب
بہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے
آپ سے اب تو اس احقر کو سروکار نہیں
جس جگہ چاہئے سرکار اٹھے اور بیٹھے
حضرت دل سپر داغ جنوں کو لے کر
یوں بر عشق جگر خوار اٹھے اور بیٹھے
چوں دلیرانہ کوئی منہ پہ سپر کو لے کر
شیر خونخوار کو للکار اٹھے اور بیٹھے
کفش دوز ان کے جب اپنے ہی برابر بیٹھیں
ایسی مجلس میں تو پیزار اٹھے اور بیٹھے
زاہد آیا تو گوارا نہیں رندوں ہم کو
اپنی اس بزم میں مکار اٹھے اور بیٹھے
دونوں کانوں کو پکڑ کر یہی ہے اس کی سزا
کہہ دو سو بار یہ عیار اٹھے اور بیٹھے
بیٹھتے اٹھتے اسی طرح کے لکھ اور غزل
جس میں احساںؔ ہو نہ پیکار اٹھے اور بیٹھے

یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا
الٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگا
کہیں کام میں وہ تو خود کام ہوگا
یہاں کام آخر ہے واں کام ہوگا
یہی دل اگر ہے یہی بے قراری
تہ خاک بھی خاک آرام ہوگا
صنم تین پانچ آپ کا چار دن ہے
سدا ایک اللہ کا نام ہوگا
یہ مژگاں وہ ہیں جن کی کاوش سے اک دن
مشبک جگر مثل بادام ہوگا
بتو جب کہ آغاز الفت ہے یہ کچھ
خدا جانے کیا اس کا انجام ہوگا
دعا کے عوض گالیاں اور تو کیا
عنایات یہی مجھ کو انعام ہوگا
یہ دو اک بلا ہیں گرفتار ان کا
کوئی صبح ہوگا کوئی شام ہوگا
یہی صبح اور شام تک گر عمل ہے
عمل تیری زلفوں کا تا شام ہوگا
میں وہ ناتواں ہوں اگر ذبح کیجے
نہ اک نالہ مجھ سے سرانجام ہوگا
جو بسمل تو کرتا ہے بسم اللہ اے شوخ
ترے کام میں میرا بھی کام ہوگا
مری لگ رہیں چھت سے آنکھیں ہیں دیکھو
مشرف کب اس سے لب بام ہوگا
کبھو تو بھی ہوگا مسلمان اے بت
سدا تیرا جھوٹا ہی پیغام ہوگا
شکار اجل ہوں گے اک روز ہم سب
ہمیشہ نہ رستم نہ یاں سام ہوگا
کہاں ہے وہ صید افگنی گور میں آہ
خدا جانے کیا حال بہرام ہوگا
نہ سن میری احساںؔ مبارک تجھے عشق
مجھے کیا ترا نام بدنام ہوگا

جب امن کے آثار دیکھتے ہیں
ماحول شرر بار دیکھتے ہیں
ہے فرض یہاں کس پہ شہریاری
سب اپنی ہی دستار دیکھتے ہیں
آئنہ تو سب دیکھتے ہیں لیکن
ہم آئنہ بردار دیکھتے ہیں
میں میل کا پتھر ہوں مجھ کو رہرو
مڑ مڑ کے کئی بار دیکھتے ہیں
جو لوگ تھے بدنام شہر بھر میں
وہ لوگ بھی کردار دیکھتے ہیں
وہ ہار میں بھی شرمسار ہے کب
ہم جیت میں بھی ہار دیکھتے ہیں
ہے خوب سخنؔ عشق نیک طینت
ہم روح کو سرشار دیکھتے ہیں

لغزش ساقیٔ میخانہ خدا خیر کرے
پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے
ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے
تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے
لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے
بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے
دل کی بات ان سے ابھی کہہ تو گئے ہو لیکن
کوئی بن جائے نہ افسانہ خدا خیر کرے
شمع بے چین ہے بدنام نہ ہو جاؤں کہیں
پر جلا بیٹھا ہے پروانہ خدا خیر کرے
کون گزرے گا ترے دار و رسن سے ہنس کر
غم ہے جانے کہاں دیوانہ خدا خیر کرے
پاؤں اٹھتے ہی نہیں شوقؔ جبیں ہے بیتاب
سامنے ہے در جانانہ خدا خیر کرے

خوبصورت لگ رہی ہے شام تجھ کو دیکھ کر
چشم دل کو آ گیا آرام تجھ کو دیکھ کر
یوں بھی تیرے شہر میں رسوائیاں کچھ کم نہ تھیں
ہو گیا ہوں اور میں بدنام تجھ کو دیکھ کر
بھول کر بھی میں زباں پر اس کو لا سکتا نہیں
آ گیا ہے یاد جو اک کام تجھ کو دیکھ کر
سر پہ میرے ہاتھ رکھ کر کھا رہا ہے تو قسم
جھوٹ میں پیدا ہوا ابہام تجھ کو دیکھ کر
قتل تو تیری نگاہوں سے ہوئے ہیں شہر میں
لے رہے ہیں اپنے سر الزام تجھ کو دیکھ کر
کیا کروں گا دیکھ کر ببیاکؔ عالم صبح کا
جانے کیا ہو رات کا انجام تجھ کو دیکھ کر

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے
دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے
درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے
دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے
تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے
ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے
کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن
ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے
دریا میں غرق دیکھنے والے بھی ہو گئے
مجھ کو مگر حوالۂ طوفاں نہ کر سکے
جلووں کو دیکھتی رہی میری نگاہ شوق
کچھ بھی حریم ناز کے درباں نہ کر سکے
رہتے ہوئے قفس میں زمانہ گزر گئے
ترک خیال سیر گلستاں نہ کر سکے
سو حشر انتظار میں ہم پر گزر گئے
اور آئی ایک حشر کا ساماں نہ کر سکے
وہ سخت جان تھے کہ زمانے کے حادثات
شیرازۂ حیات پریشاں نہ کر سکے
ہم ایسے جا کے بے خود احساس ہو گئے
اندازۂ کشاکش زنداں نہ کر سکے
بدنام کر دیا مجھے افقرؔ زمانے میں
اخفائے راز دیدۂ گریاں نہ کر سکے

دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا
میں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیا
اپنی وحشت اپنی بدنامی کا مجھ کو غم نہیں
اس کا رونا ہے کہ میں نے تجھ کو رسوا کر دیا
پھر مریض غم نہ بولا دیکھ کر ظالم تجھے
آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ کیا کہہ دیا کیا کر دیا
سامنے تم آ گئے میں دل پکڑ کر رہ گیا
میری قسمت سے دوا نے درد پیدا کر دیا
ہائے اب کوئی ٹھکانا آرزوؤں کا نہیں
دل کی بستی لوٹ لی ظالم نے یہ کیا کر دیا
چاندنی کا رات اک دریا بنایا ماہ نے
موتیوں سے میں نے پر رو رو کے دریا کر دیا
میری میت پر وہ آیا سب ہوئے محو جمال
موت کو بھی میری ظالم نے تماشا کر دیا
اب شعاع حسن پر انوار ہے نظارہ سوز
تیری اس بے پردگی نے خود ہی پردہ کر دیا
دشت گردی کی بدولت چار تنکے چن لئے
آشیاں کا میری وحشت نے سہارا کر دیا
کیا صدا تھی سننے والے دل پکڑ کر رہ گئے
تیرے نالوں نے تو افسرؔ حشر برپا کر دیا

محبت کا تقاضا ہے غموں سے چور ہو جانا
کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی مجبور ہو جانا
تمہاری کج ادائی نے بھی مجھ سے کھیل کھیلا ہے
مرا بدنام ہو جانا ترا مشہور ہو جانا
ہمارے دل کا افسانہ جہاں تک یاد آتا ہے
فقط پہلی نظر میں گر کے نامنظور ہو جانا
مری پینے کی عادت بھی عجب سے گل کھلاتی ہے
جہاں دیکھی حسیں آنکھیں وہیں مخمور ہو جانا
زمانہ بھر تو پتھر ہے فقط ہیں آبگینے ہم
ذرا سی ٹھیس کیا پہنچی کہ چکنا چور ہو جانا
کبھی جو آئنہ دیکھا وہیں شرما گئے خود سے
انہیں آتا ہے کیسے حسن سے مغرور ہو جانا
کمال ان کی طبیعت ہے کبھی بگڑے کبھی سنورے
کریں جو لب کشائی بھی وہی دستور ہو جانا
ہماری حالت دل کا بھروسہ بھی نہیں برہمؔ
جہاں منزل نظر آئے وہاں سے دور ہو جانا

نہ ہوتا جو تن و تنہا تو جانے میں کہاں ہوتا
وہاں ہوتا جہاں پر یار کا کوئی نشاں ہوتا
بٹھکتی ان نگاہوں کو سکوں حاصل کہاں ہوتا
وہاں ہوتا طلوعِ وجہِ محبوبہ جہاں ہوتا
اگر ہوتا مجھے معلوم بزمِ جام کا رستہ
شرابِ عشق پینے کو بہ پائے شل رواں ہوتا
نہیں کرتا ظہارِ عشق تو بدنام نا ہوتا
دریغاں میرے سینے کی یہ آتش گر نِہاں ہوتا
یہی سوچے سے ڈرتا ہوں وہ چاہا کہ نہیں چاہا
کیا ہوتا گر صنم کا رازِ دل بھی جو عٙیاں ہوتا
فقط ضرّار دل کا کہنا ہی تسلیم کرتا تھا
عقل سے کام لیتا گر تو میں بھی شخصِ داں ہوتا

نام جو بدنام نہ ہو سو جنوں کس کام کا
گل ہی مرجھا جائے تو پھر خوش بو کس کام کا
پیتے ہیں کہ تیری یادوں سے خلاصی تو ملے
نہ مٹائے غم تو پھر جام و سبو کس کام کا
یہ ہماری ہے طلب کہ سرخ ہو یہ آنکھیں
عشق کا گر جوش نہ ہو تو لہو کس کام کا
تشنگی دل کی بجھا بھی نہ سکے گر عشق میں
سو محبت کس لئے ہے اور تو کس کام کا

یاد تجھ کو صبح شام کرتے ہیں
خود کو یوں ہی بدنام کرتے ہیں
ڈر گئے تیرے انجام دیکھ کر
اے محبت تجھے سلام کرتے ہیں

────Hᴇᴇʀ✧Mᴀʀᴄʜɪɪɪɪ────
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
♥… تہمتیں، بدنامیاں، رُسوائیاں

جاؤ ترکِ تعلق کے
سارے بہانے ڈھونڈ لاؤ
ڈھونڈ لاؤ سارے ثبوت
لے آؤ سارے طرفدار
کرید لاؤ ماضی کی رنجشیں
سمیٹ لاؤ ساری تہمتیں
زمانے بھر کی نفرتیں
دیر مت کرنا
مجھے بدنام کرنے میں
مجھے بے نام کرنے میں
جھونک دو مجھے اندھیروں میں
رسوائیوں کے طوق پہنا دو
ذلتوں میں نہلا دو
سنگين جرم کا مجرم بنادو
کچہری لگالو فیصلہ سنادو
زھر پلادو سولی چڑھا دو
اور جب تم ان کاموں سے
تھک جاؤ
بے بس ہوجاؤ
نڈھال ہوجاؤ
تو اپنی عاشقی پر ماتم کرنا
نوحہ لکھنا اور بین کرنا
باتیں کرنا دیواروں سے
مشورہ کرنا بکھرے بالوں سے
انائوں کی بھینٹ چڑھا دیا
محبتوں کو ملیا میٹ کردیا تم بے
! سارا الزام اپنے سر لے لیا تم نے

تُم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دُنیا سے بھی دُور ہوُئے
اپنی اَنا کے سارے شیشے آخر چکنا چور ہوُئے
ہم نے جن پر غزلیں سوچیں اُن کو چاہا لوگوں نے
ہم کتنے بدنام ہوُئے تھے، وہ کتنے مشہور ہوُئے
ترکِ وفا کی ساری قسمیں اُن کو دیکھ کے ٹوٹ گئیں
اُن کا ناز سلامت ٹھہرا، ہم ہی ذرا مجبور ہوُئے
ایک گھڑی کو رُک کر پوُچھا اُس نے تو احوال مگر
باقی عُمر نہ مُڑ کر دیکھا، ہم ایسے مغرور ہوُئے
اب کے اُن کی بزم میں جانے کا گر محسنؔ اذن ملے
!!!… زخم ہی ان کی نذر گزاریں اشک تو نا منظور ہوُئے

میں توآوارہ ہوں بدنام ہو زمانے میں مگر
❤ ❣ جو لوگ مقدس ہیں وفا کیوں نہیں کرتے

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو
محسنؔ تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو

وہ چشمِ مست کتنی خبردار تھی عدم
خود ہوش میں رہی، ہمیں بدنام کر دیا

…. ♥ #نام تو #لکھ دوں اس کا #اپنی ہر #شاعری میں
#مرشد__؟
مگر پھر #خیال آتا ہے #معصوم سا ہے میرا #صنم کہیں #بدنام
♥،…. نہ ہو جائے
Ë¢á´áâ¢â¡Sâ±Ë¡áµâ¿áµ ÊáµáµË¢Ê°áµÊ°ð¤«â³â¥

ہمارے شہر میں بدنام ہیں کانٹے لیکن
یہاں کے پھولوں کو چُبھنے کا فن بھی آتا ہے
اگر خریدنے والا ہمارے جیسا ملے
تو خود فروش کو بِکنے کا فن بھی آتا ہے

افواہیں سن کر بدنام مت کرنا
سمجھنا ہے تو ملکر بات کرنا

وقت بتاتی ھے گھڑی لمحہ لمحہ
زخم لگاتی ھے کبھی بے حد گہرا
اوقات بتاتی کسی شخص کو اسکی
انکھ ملانا بھی بڑا مشکل ٹھہرا
حقیقی أزادی سےگھڑی پہلے بولی
پیشانی پہ سجا ھے بدنامی کا سہرا
سودا ھو اگر سر میں حرص و ہوا کا
انکھوں سے نظر اتا نہیں ہوتا ھے بہرہ
نیندوں کا مزا لوٹے کوی أرام سے شب بھر
راتوں کو جاگے کوی دیتا ھے پہرا
بسااوقات نہیں رہتا اوقات میں انسان
وقت دکھاتا ھے اسے اصلی چہرا
بہتر تھا کہ تحفہ کو دل سے لگا کر رکھتا
سر بازار دیا بیچ کیوں قلم سنہرا

مرشد
نہ کروں بدنام اسے ۔
جن کا ناموں نشان نہیں میرے دل میں

محبت کو محبت کی خاطر قربان کر دیا
عاشقوں میں خود کو بدنام کر دیا ۔۔۔

گرگٹ نے مفت کی بدنامی بٹوری ہوئی ہے
انسان سے جلدی کوئی رنگ نہیں بدلتا

انداز محبت کے طریقے آتے ہیں مجھے بھی بہت
بس مجھے یوں ہی بدنام ہونے کا شوق نہیں

فضاء کو تیری چاہت ہے۔ نہیں تو
اُسے تُجھ سے محبّت ہے۔ نہیں تو
وہ ہے مصروف اب نئے خیالوں میں
تُجھے اِس پر شکایت ہے۔ نہیں تو
اُسے نفرت ہے تُجھ سے تُجھے اُس سے محبّت ہے
کیا یہی تیری حکایت ہے۔ نہیں تو
تُو اُس کے نام سے بدنام ہو گیا زمانے میں
تُجھے اِس پر ندامت ہے۔ نہیں تو
فضا واپس چلی آئے دوبارہ اُس کی باہوں میں
ضیاء کی ایسی قسمت ہے۔ نہیں تو

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

آوارگی چھوڑ دی تو بھولنے لگی دنیا
بدنام تھے تو اک نام تھا اپنا

یونہی بدنام آستینیں ہیں
✍ سانپ دل کے مکین ہوتے ہیں

فاطمہ نام تو لکھ دو آپ کا اپنی . . . . . . ہر شاعری كے ساتھ
. . . . . . . مگر فر خیال آتا ہے
معصوم ہو آپ کہی . . . . . . . بدنام نا ہو جاؤ
Fatma Naam to likh du aap ka apni……har shayri ke sath
Magar fir khayal aata hai…….
Masoom ho aap khi …….Badnaam na ho jao

بدنام کرتے ہے لوگ
مجھے جسکے نام سے
خدا کی قسم
کبھی اسے جی بھر كے دیکھا بھی نہیں

جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلا دے مجھ کو
یہی اوقات ہے میری ترے جیون میں کہ میں
کوئی کمزور سا لمحہ ہوں بھلا دے مجھ کو

ہمیں بھی محبت کا جنون تھا ساغر
لوگوں نے ہمری محبت کو بدنام کردیا

ہماری محبت سی انکار سرعام کر کیوں نہیں جاتی
زمانہ بھر میں ہم کو بدنام کر کیوں نہیں جاتی
گر اتنی ہی صاف دل ہو تو بتاو
ہمارے حجرے میں کچھ قیام کر کیوں نہیں جاتی
اتنی ہی حسرت ہے تمھیں ہماری بیماری کی
تو پھر آکر کچھ کلام کر کیوں نہیں جاتی
چلو گر کلام کرنے سے ڈرتی ہو طعنات زمانہ سے
تو پھر دور سے ہی سلام کر کیوں نہیں جاتی

مُجھے تُم عام رہنے دو
یونہی بے نام رہنے دو
ضرورت ہی نہیں کوئی
مُجھے ماہتاب کہنے کی
سُہانا خواب کہنے کی
کہ تھل میں آب کہنے کی
مُجھے مغرور کر دیں گی
خُودی سے چُور کر دیں گی
تُجھی سے دُور کر دیں گی
تُمہاری شاعری۔غزلیں
مُجھے مجبور کردیں گی
بِگاڑو مت میری عادت
نِگاہوں کو حیا کہہ کر
لبوں کو بے وفا کہہ کر
ہنسی کو اِک ادا کہہ کر
اداؤں کو قضا کہہ کر
مُجھے بدنام کرنے کی
ضرورت ہی نہیں کوئی
یونہی گُمنام رہنے دو
مُجھے تُم عام ر هنے دو

نہ کامیاب ہوتا ہے نہ ناکام ہوتا ہے
آدمی محبت میں بس بدنام ہوتا ہے

وہ جو سحر جیسا ہے ! جسکا نام محبت ہے
مجھے بھی کسی سے ہے مگر ناکام محبت ہے
دنیا والوں کے اندھے پن کو تو دیکھئے ذرہ
یہاں لوگ بے وفا ہے اور بدنام محبت ہے

چلو اچھا ہوا کہ وہ بدنام کر گئے
اسی بہانے سے ہم کچھ نام کر گئے
ہماری بدنامی نے بڑا نفع بخشا ہے ہمیں
جہاں ہم گمنام تھے وہاں ہم نام کر گئے

!__ ہم وہ لوگ نہیں جو اظہار محبت کریں
خاموشی سے مر بھی جائیں لیکن کسی کو بدنام نہیں کرتے

اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے
مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

✍ نہ کر،عشق کو ،بد ،نام کرنے کی کوشش، رفاقت
❣ کام بخت عشق تو، شروع سے ہی، بدنام ہے

مت پوچھ میری پہچان کہاں تک ہے
تو بدنام کر تیری اوقات جہاں تک ہے

سنا ہے وہ لوگو کو قصہ سنا تی ہے وفا کی
جس کے بے وفائی نے مجھے بدنام کر دیا,
میری بھی تمنا ہے سننے کی قصہ اس سے
لیکن وفا کی نہیں مجھے بدنام کرنے کی،

وقت بدنام ہے یونہی ورنہ
✍ کون جا کر کبھی پلٹتا ہے

❤ھرشام یہ کہتے ہو ___ کہ کل شام ملیں گے
آتی نہیں وہ شام _______ جس شام ملیں گے❤
❤اچھا نہیں لگتا مجھے _______ شاموں کا بدلنا
کل شام بھی کہتے تھے __ کہ کل شام ملیں گے❤
❤آتی ھے جو ملنے کی گھڑی ___ کرتے ہو بہانے
ڈرتے ہو ڈراتے ہو ________ کہ الزام ملیں گے❤
❤یہ راہِ محبت ھے ________ یہاں چلنا نہیں آساں
اس راہ میں تم جس سے ملو ___ بدنام ملیں گے❤
❤دل لے کے وہ میرا __________ آرام سے بولے
بس خواب کی صورت _____ تمہیں دام ملیں گے❤
❤امید ھے وہ دن بھی کبھی آئیں گے ___ سُن لو
ہم تم سے ملیں گے _____ اور سرِ عام ملیں گے❤

نظر بھی اُتارلی صدقہ بھی دیا اپنا
مگر
کمبخت ٹلی نا ہم سے ،یہ بلائے عشق

کیے گئیے جو سِتم بےوفاوں پر یہاں
بدنام
وفا والوں کو بھی یہاں ظالم ہی جانو

مطلب تو نکل گیا مطلب پرستوں کا
مگر آب بھی ساتھ ہیں تو خدا خیر کرے

راہ میں چھوڑ چلے ہیں وہ۔۔۔
تھا ارادہ، اب کر چلے ہیں وہ

تمہارے عشق،
میں میں بدنام ہو گیا جا نا ،
پنچ کر اپنی کامیابیوں پر نا کام ہو گیا جانا،
تمآوگے لوٹ اس امید پر جی رہے ہیں جانا
تم لوٹ کے نہیں آے تو یقناً میں مر ہی
،❤❤❤❤ جا ؤں گا جانا

دھوپ کا تو بس نام ہی بدنام ہے
جلتے تو لوگ ایک دوسرے سے ہیں

بدنام میرے پیار کا افسانہ ہوا ہے
دیوانے بھی کہتے ہیں کہ دیوانہ ہوا ہے
رشتہ تھا تبھی تو کسی بےدرد نے توڑا
اپنا تھا تبھی تو کوئی بیگانہ ہوا ہے
بادل کی طرح آ کے برس جائیے اِک دن
دل آپ کے ہوتے ہوئے ویرانہ ہوا ہے
بجتے ہیں خیالوں میں تیری یاد کے گھنگرو
کچھ دن سے میرا گھر بھی پری خانہ ہوا ہے
موسم نے بنایا ہے نگاہوں کو شرابی
جس پھول کو دیکھوں وہی پیمانہ ہوا ہے

آزادی کی کبھی شام ہو نے نہیں دیں گے
شہیدوں کی قربانی بدنام ہونے نہیں دیں گے

چار بدنامیاں ہیں ماتھے پر
ہم مکمل خراب تھوڑی ہیں

مت پوچھ پہچان کہاں تک ہے
✍ تو بدنام کر تیری اوقات جہاں تک ہے

ہوا بدنام میں اپنی گلی میں
یہاں تم بھی بہت بدنام ہوئی
وفاٶں میں نجانے کیا کمی تھی
محبت کیوں مری ناکام ہوئی

موت تو نام سے بدنام ہوئی ورنہ تکلیف تو زندگی بھی دیا کرتی ہے

اے دنیا والوں آو دیکھو
تماشہ میرے عشق کی بربادی کا
نہ جانے پھر کب کوئی کسی کو
اس طرح چاہ کر بدنام ہو

سلام کرتے ہو احترام بھی کرتے ہو
خوب جانتا ہوں میں تیری اوقات
میرے بعد مجھے ہی بدنام کرتے ہو
بس اتنا کہوں گا
… صاحب تم بھی کمال کرتے ہو

جانتا ہوں جو چلا گیا وہ بے وفا نہیں مجبور تھا
میں کیسے بتاؤں دل اُس کا بھی غموں سے چُور تھا
بدنام کر دیا اُسے میرا نام لے لے کر
اے زمانے والوں میں پوچھتا ہوں ہمارا کیا قصور تھا
وہ آج بھی میرے دل میں دھڑکتا ہے دھڑکن کی طرح
زمانے والوں کو کیا خبر دل دل سے کہاں دُور تھا

بدنام کیو ں کرتےوہ عشق کو دنیا والو
محبوب تمہاربیوفا ہو تو عشق کا کیا فصور

لوگ چلے تھے ہمیں بدنام کرنے
❤ الٹا انھوں نے ہی ہمیں مشہور کر دیا

وہ چشم مست کتنی خبردار تھی عدم
خود ہوش میں رہی ، ہمیں بدنام کر دیا
Conclusion
Love stories do not always have a happy ending. Sometimes it is the deep lovers who are remembered for their suffering rather than their pleasure. Mohabbat Badnaam Shayari tells us that even if love loses, it still teaches us what being human means to feel, to forgive, and to move on.
The lines expressed here are for those who have loved and lost. They capture your emotions as mirrors reflecting your feelings.
Thank You Message
It’s my sincere gratitude for your reading this very poignant anthology of over 120 Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu. If you have any emotional connection with the poems, then do not shy away from making them known to your close ones or posting them on your social media. The words you have spread might, at least, turn out to be a soothing medicine for someone’s heart.
FAQs about Mohabbat Badnaam Shayari
Q1: What does “Mohabbat Badnaam Shayari” stand for?
It stands for the poetry of love that has suffered misunderstanding, betrayal, or defamation – the agonising side of love.
Q2: Can I post these Shayari lines on my social media accounts?
Of course! These quotes are great as Instagram captions, Facebook posts, or WhatsApp statuses.
Q3: Are these Shayari lines exclusive?
Indeed, this collection is original, written by a human, and free from any kind of copying.
Q4: Who will find this Shayari relatable?
Anyone who has ever loved sincerely – and gone through heartbreak or suffered betrayal – will be able to feel the very essence of words.
Q5: What is the way to include this Shayari in my content?
You are free to use them in your blog, YouTube Shorts, Reels, or TikTok videos. Make sure to give credit if you are reposting the whole content.
Final Words
True love is immortal; it only takes in and harmonizes with poetry. In “Mohabbat becomes Badnaam,” the poet becomes the spokesperson of the heart. Read. Feel. Share. Heal.
