Top 120+ Best Mohabbat Badnaam Shayari | Unique Urdu Love & Heart Touching Poetry

Mohabbat Badnaam Shayari

120+ Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu | Love & Heartbroken Shayari Collection

About the Collection

Among other emotions, the emotion of love, or the feeling of love, is the most wonderful, although sometimes it can become so painful. Mohabbat Badnaam Shayari reveals the hidden side of love that people often do not dare to speak about — the heartbreak, betrayal, and the silence after very deep love. These beautiful Urdu Shayari lines explain how love gets “badnaam” (defamed), not because love is wrong, but simply because the world does not comprehend the true feelings and emotions.

If you have ever been in pain because of love, felt unnoticed, or lost a loved one, then these words will surely touch your heart. The writer speaks to the people who still believe in love, though not always happy love.

Description

A collection of more than 120 Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu is the union of emotions, and it is written for lovers, broken hearts, and dreamers. It doesn’t matter if you are looking for:

  • Mozart Shayari Urdu,
  • Sad Love Shayari,
  • Broken Hearts’ Urdu Poetry,
  • Ishq Shayari or
  • Bewafa Shayari,

All of them can be found in one single location.

Every quote in the enumeration provided is unique, profound, and straightforward simultaneously, thus making the pain of each line comprehensible even for the person not used to reading Urdu poetry.

The Reason Why People Adore Mohabbat Badnaam Shayari

This kind of Shayari is popular among people because it expresses the truth. It brings forth the feelings that cannot be pretended: pain, regret, desire, and the fact that love sometimes implies sadness rather than smiles.

People have found similarity between their feelings and these quotes, so they share them using their Instagram captions, WhatsApp statuses, Facebook posts, or YouTube Shorts as they say what hearts can’t express in words.

It is not only about sorrow but also about recovery. Each of the lines gives us a hint that even if love is “badnaam”, its memory is always pure.

The shayari are some examples of the classic theme of love and its bad reputation.

The following is a list of translations containing Urdu, Roman, and English (Urdu + Roman + English meaning), along with the provided example:

محبت بھی بدنام ہوئی اور ہم भी 

Mohabbat bhi badnaam hui aur hum bhi

infamous Love, and so did we.

یہ عشق نہیں آسان، بس اتنا समझ लीजिए

Yeh ishq nahi aasan, bas itna samajh lijiye

Just know that much love isn’t easy.

وفا کی راہوں میں دھوکہ ملا، پھر بھی شکوا نہیں کیا

Wafa ki rahon main dhoka mila, phir bhi shekwa nahi kiya

I didn’t complain even after the betrayal in loyalty.

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

یہ دنیا اصل میں آرام کرنے کے لیے ہے

محبت اور پھر ایسی محبت جو ہے تجھ سے

چھپائیں کیوں یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے

کرے گا کون تجھ کو تیری بے مہری کا قائل

یہاں جو بھی ہے تجھ کو رام کرنے کے لیے ہے

یہ کار عشق میں الجھی ہوئی بے نام دنیا

حقیقت میں نمود و نام کرنے کے لیے ہے

بہت چھوٹا سا دل اور اس میں اک چھوٹی سی خواہش

سو یہ خواہش بھی اب نیلام کرنے کے لیے ہے

غزل کہنی پھر اس میں اپنے دل کی بات کہنی

یہی کافی ہمیں بدنام کرنے کے لیے ہے

بہت دن رہ چکے نام آوروں کے بیچ اشفاقؔ

اب اپنا نام بس گمنام کرنے کے لیے ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے

دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے

شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل

ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے

گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں

اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے

آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں

یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے

جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو

ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا

اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم

معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا

اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے

باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا

ہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح

نکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا

ناحق کو فغاںؔ کے تئیں تشہیر کیا ہے

دنیا میں نہ ہووے کوئی بدنام کسی کا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

پامال آرزو دل ناکام ہی تو ہے

خوش ہوں کہ یہ بھی عشق کا انجام ہی تو ہے

گو زندگی کی شام سہی شام ہی تو ہے

ایک ابتدائے صبح خوش انجام ہی تو ہے

انسانیت کا خون نہیں شیخ محترم

میرے سبو میں بادۂ گلفام ہی تو ہے

تم تو غم حیات سے بچتے ہو اس طرح

جیسے یہ کوئی زہر بھرا جام ہی تو ہے

میرے لبوں پہ شکوۂ تقدیر تو نہیں

ذکر مآل گردش ایام ہی تو ہے

میں جب سے مبتلائے غم روزگار ہوں

تکلیف تو نہیں مجھے آرام ہی تو ہے

جس آرزوئے شوق سے چھوٹے نہ جاں کبھی

وہ آرزوئے شوق کہاں دام ہی تو ہے

اس نام سے کہ شاعر شیریں مقال ہے

تیرا عتیقؔ شہر میں بدنام ہی تو ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگی

درد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگی

یہی حالت ہے تو اک روز یہ صورت ہوگی

قیس و فرہاد سے بڑھ کر مری وحشت ہوگی

کر کے بدنام مجھے اور یہ کہنا اس پر

آپ کے ملنے سے بے شک مری ذلت ہوگی

اضطراب دل مضطر ہے بیاں سے باہر

تیرے دیدار سے حاصل اسے راحت ہوگی

لے خبر جلد مسیحا تو خدارا آ کر

تیرے بیمار کی ورنہ بری حالت ہوگی

دل یہ کہتا ہے ذرا چل تو در جاناں تک

شرم کہتی ہے ترے جانے میں ذلت ہوگی

میں نے پوچھا کہ بھلا پھر بھی ملو گے صاحب

بولے منہ پھیر کے ہاں گر ہمیں فرصت ہوگی

آپ چل پھر کے ذرا چال دکھائیں تو سہی

آپ کی جانے بلا ہوگی قیامت ہوگی

میں تو گھل گھل کے یوں ہی ہجر میں جاں دوں گا عزیزؔ

اس کو معلوم مرے بعد حقیقت ہوگی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیں

مزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیں

فقط اتنا کہا تھا تم ذرا صورت دکھا جاؤ

یہ سن کر آج مجھ سے وہ بہت بیزار بیٹھے ہیں

محبت ان سے کیا کی لے لیا کوہ الم سر پر

مجھے بدنام کرنے کو سر بازار بیٹھے ہیں

ذرا مقتل میں تم آ کر نکالو اپنے خنجر کو

یہاں ہم قتل ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں

چلا تو ہے عزیزؔ ان کی گلی میں شوق سے لیکن

قدم رکھنا سنبھل کر وہ بنے عیار بیٹھے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

روشن نہ ہوئی تھی صبح ابھی منہ کھول رہی ہے شام کہیں

آغاز نہ ہونے پایا تھا اور ہونے لگا انجام کہیں

اس دنیا میں کیا ملنا ہے بس ارمانوں کے خوں کے سوا

اے خواب حسیں تیرے چلتے ہو جائیں نہ ہم بدنام کہیں

مانند صبا آوارہ ہم پھرتے ہی رہے شہروں شہروں

رمتا جوگی بہتا پانی ہے صبح کہیں تو شام کہیں

اس وقت تو خوش آتے ہیں نظر کچھ سادہ لوح عنادل بھی

دیکھو تو نہ پھر پھیلایا ہو صیاد نے کوئی دام کہیں

صیاد سے گر لڑنا ہے تجھے شاہیں کا جگر پیدا کر لے

بلبل جیسے نازک دل سے ہوتا ہے جری اقدام کہیں

کچھ زیست کا غم کچھ ملت کا مغموم رہے ہر دم اظہرؔ

حساس طبیعت والوں کو ملتا ہے بھلا آرام کہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر

ساقیا خذ ما صفا دع ما کدر

پھر حیات چند روزہ کا مآل

موت پر جب زندگی ہے منحصر

رت بدلتے ہی فضا میں گونج اٹھا

نغمۂ‌ یا ایہا الساقی ادر

ایسے وادی میں نہیں کیا رہ نما

خود جہاں گم کردہ منزل ہوں خضر

مشورہ رحمت سے کر اے عدل حق

کیا سزا جو ہو خطا کا خود مقر

کیوں ہے اسرار دو عالم کی تلاش

پردۂ دل میں ہیں تیرے مستر

کیوں مری دیوانگی بدنام ہے

ان کی آنکھیں خود ہوئیں جب مشتہر

الحذر پیر فلک کی سرکشی

دیکھنے میں تو ہے اتنا منکسر

کھو چکا آنکھیں مگر اے برق حسن

دل رہے گا اور رہے گا منتظر

سن لے فریاد عزیزؔ جاں بہ لب

رب‌ انی مستغیث فالفقر

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے

یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی

اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے

بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر

اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ہے

دل ایک مسافر ہے بے بس، جسے نوچ رہے ہیں پیش و پس

اک دریا پیچھے بہتا ہے اور آگے گہری کھائی ہے

اب خواب نہیں کمخواب نہیں، کچھ جینے کے اسباب نہیں

اب خواہش کے تالاب پہ ہر سو مایوسی کی کائی ہے

پہلے کبھی محفل جمتی تھی محفل میں کہیں تم ہوتے تھے

اب کچھ بھی نہیں یادوں کے سوا، بس میں ہوں مری تنہائی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اور کس کو مرے جینے سے علاقہ ہوگا

کوئی ہوگا مرا قاتل تو مسیحا ہوگا

بھیڑ کی بھیڑ اسے ڈھونڈنے نکلی ہوگی

ایک وہ شخص جو ہر بھیڑ میں تنہا ہوگا

ریت میں پیاس کے دوزخ کے سوا کچھ بھی نہیں

میرے سوکھے ہوئے ہونٹوں میں ہی دریا ہوگا

دیکھ کر تجھ کو جو نم ہو گئیں میری آنکھیں

تجھ پہ جو وقت پڑا مجھ پہ بھی گزرا ہوگا

بس اسی دھن میں پس و پیش نہ دیکھا ہم نے

اس کے آگے بھی ذرا دیکھ تو لیں کیا ہوگا

میں تو بدنام بھی ہوں شہر میں برباد بھی ہوں

آپ کو بات نبھانے کا سلیقہ ہوگا

مر گئے راہ پہ یہ آس لئے آنکھوں میں

کوئی مردہ تو کسی سینے میں زندہ ہوگا

یوں ہی تو روندتے پھرتے نہیں بے خوف و خطر

تم نے لاشوں سے ہی یہ شہر بسایا ہوگا

بات کچھ ہوگی جوانی کے دنوں سے قیسیؔ

قیس سے اپنا تعلق جو بتاتا ہوگا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے

اپنی ہی جرأت اظہار سے ڈر لگتا ہے

اتنی راہوں کی صعوبت سے گزر جانے کے بعد

اب کسے وادیٔ پر خار سے ڈر لگتا ہے

کتنے ہی کام ادھورے ہیں ابھی دنیا میں

عمر کی تیزئ رفتار سے ڈر لگتا ہے

ساری دنیا میں تباہی کے سوا کیا ہوگا

اب تو ہر صبح کے اخبار سے ڈر لگتا ہے

خود کو منواؤں زمانے سے تو ٹکڑے ہو جاؤں

کچھ روایات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے

شوق شوریدہ کے ہاتھوں ہوئے بدنام بہت

اب تو ہر جذبۂ بیدار سے ڈر لگتا ہے

جانتی ہوں کہ چھپے رہتے ہیں فتنے اس میں

آپ کی نرمیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

برہم زن شیرازۂ ایام ہمیں ہیں

اے درد محبت ترا انجام ہمیں ہیں

اس قافلۂ شوق میں یہ وہم ہے سب کو

آوارہ و سر گشتہ و ناکام ہمیں ہیں

ہوں گے کئی گردن زدنی اور بھی لیکن

اس شہر نگاراں میں تو بدنام ہمیں ہیں

ہم دھوپ میں تپتے تو پنپ جاتے مگر اب

دریوزہ گر مہر لب بام ہمیں ہیں

کیا آن تھی ناکامیٔ تدبیر سے پہلے

اب لائق فہمائش دشنام ہمیں ہیں

حق نقد مسرت کا اگر ہے تو ہمیں کو

کچھ نبض شناس غم و آلام ہمیں ہیں

جس تک کوئی کوئی ابھی پہنچا ہی نہیں ہے

وہ مشعل‌ بے نور سر شام ہمیں ہیں

انکار ہی سر چشمۂ ایمان و یقیں ہے

اب روز جزا لائق انعام ہمیں ہیں

کلیوں سے دم صبح جو زیدیؔ نے سنا تھا

فطرت کا وہ نا گفتہ سا پیغام ہمیں ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میرا

غیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میرا

واسطے کی خوبی نے سہل منزلیں کر دیں

حسن عشق کا رہبر عشق رہنما میرا

کر دیا مجھے بے خود ان کی بے نیازی نے

کہہ رہا ہوں خود ان سے دل سنبھالنا میرا

ہائے خوف بدنامی وائے فکر ناکامی

بے وفا کے ہاتھوں میں حاصل وفا میرا

لطف خلوت و جلوت ہم نہ پا سکے لیکن

دھوم ہر طرف ان کی ذکر جا بہ جا میرا

طرز والہانہ کی داد کب ملی مجھ کو

ناز دوست کب نکلا صورت آشنا میرا

سوچنے لگے گی کچھ تیری خوش نگاہی بھی

رائیگاں نہ جائے گا یوں ہی دیکھنا میرا

میں نے جب کبھی دیکھا سر جھکا لیا تو نے

تو نے جب کبھی دیکھا دل تڑپ گیا میرا

عشرت حجاب از خود چارہ ساز دل کیا ہو

ساز ہو جب اے ظالم سوز آشنا میرا

میری خستہ حالی نے سعیٔ خود شناسی کی

ان کی خود نمائی نے جب کیا گلہ میرا

ہے جو حضرت منظورؔ اعتبار ایں و آں

اذن بے خودی لے کر پوچھئے پتا میرا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہو گئی عشق میں بدنام جوانی اپنی

بن گئی مرکز آلام جوانی اپنی

ماضی و حال ہیں محروم شراب و نغمہ

ہائے افسردہ و ناکام جوانی اپنی

آہ وہ صبح جو تھی صبح بہار ہستی

ہے اسی صبح کی اب شام جوانی اپنی

ایک تاریک فضا ایک گھٹا سا ماحول

کسی مفلس کا ہے انجام جوانی اپنی

انہیں راہوں میں انہیں مست و جواں گلیوں میں

لڑکھڑائی ہے بہر گام جوانی اپنی

ایک وہ دن تھا کہ مے خانوں پہ ہم بھاری تھے

آج ہے دور تہہ جام جوانی اپنی

اکتفا کر کے کھنکتے ہوئے روز و شب پر

بن گئی زیست پر الزام جوانی اپنی

دن ہوا دھوپ چڑھی ڈھل گئے سائے الطافؔ

اب ہے اک بجھتی ہوئی شام جوانی اپنی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں

مے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیں

کب مجھے یاد رخ و زلف سیہ فام نہیں

کوئی شغل اس کے سوا صبح سے تا شام نہیں

ہر سخن پر مجھے دیتا ہے وہ بد خو دشنام

کون سی بات مری قابل انعام نہیں

نیک نامی میں دلا فرقۂ عشاق ہیں عشق

ہے وہ بدنام محبت میں جو بدنام نہیں

چہرۂ یار کے سودے میں کہا کرتا ہوں

رخ ہے یہ صبح نہیں زلف ہے یہ شام نہیں

بوسہ آنکھوں کا جو مانگا تو وہ ہنس کر بولے

دیکھ لو دور سے کھانے کے یہ بادام نہیں

حلقۂ زلف بتاں میں ہے بھری نکہت گل

اے دل اس لام میں بوئے گل اسلام نہیں

ابتدا عشق کی ہے دیکھ امانتؔ ہشیار

یہ وہ آغاز ہے جس کا کوئی انجام نہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہم کنارا کئے کناروں سے

کھیلا کرتے ہیں منجدھاروں سے

ہم گزرتے ہیں کھیلتے ہنستے

شعلہ زاروں سے خارزاروں سے

نام پاتے ہیں ناصح بے نام

ہم سے بدنام بادہ خواروں سے

تف بہ مطلب براری یاراں

اف یہ اطوار خاکساروں سے

جن کے دل میں گلوں کی چاہت ہے

پہلے وہ سرخ رو ہوں خاروں سے

دل کی راہوں میں بو لیے کانٹے

کر کے امید گلعذاروں سے

یوں ہے جنبش میں پھول کی ڈالی

وہ بلاتے ہیں جوں اشاروں سے

یوں تو مہ وش ہزار دیکھے ہیں

تم جدا ہو مگر ہزاروں سے

بوالہوس ہے رقیب باطن میں

طور ظاہر میں جاں نثاروں سے

اک فسانہ کہ تھا دیار اپنا

اک حقیقت کہ بے‌ دیاروں سے

تو نے اے دوست ساتھ کیا چھوڑا

دل لرزتا ہے اب سہاروں سے

گرم بازار ہے مرے فن کا

داد پاتا ہوں نقد کاروں سے

روٹھ جائیں نہ وہ کہیں عامرؔ

شعر پڑھیے نہ یوں اشاروں سے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا

ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا

قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا

قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا

میرے غم پر وہ اکثر ہنس دیتا ہے

یہ تو غم کا غیر مناسب دام ہوا

زخم یہاں تو ویسے کا ویسا ہی ہے

تم بتلاؤ تم کو کچھ آرام ہوا

تنہائی نے جب سے قید کیا مجھ کو

باہر آنے میں تب سے ناکام ہوا

روز مسائل گھیرے ہیں مجھ کو تو اب

سوچ رہا ہوں گردش ایام ہوا

اخباروں میں خود کو پڑھتے سوچوں ہوں

میتؔ یہاں پر میرا بھی کچھ نام ہوا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لمحے بھر میں تم نے میری ہر خوبی کو خام کیا

میں نے کہا کہ نام کیا ہے تم نے کہا بدنام کیا

اپنا کام تھا اس تک جانا گردش ہو یا سوزش ہو

اس کے در تک پہنچے دستک دیتے ہی آرام کیا

جس کے سر پر تاج کبھی تھا فکر میں گزری اس کی بھی

دیکھے دنیا اس الفت نے کیا تیرا انجام کیا

لکھنی تھی بیتابی دل کی امرتؔ خط میں یوں لکھی

کچھ کاٹا کچھ لکھا قاصد کے ہاتھوں پیغام کیا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

رہروی ہے نہ رہنمائی ہے

آج دور شکستہ پائی ہے

عقل لے آئی زندگی کو کہاں

عشق ناداں تری دہائی ہے

ہے افق در افق رہ ہستی

ہر رسائی میں نارسائی ہے

شکوے کرتا ہے کیا دل ناکام

عاشقی کس کو راس آئی ہے

ہو گئی گم کہاں سحر اپنی

رات جا کر بھی رات آئی ہے

جس میں احساس ہو اسیری کا

وہ رہائی کوئی رہائی ہے

کارواں ہے خود اپنی گرد میں گم

پاؤں کی خاک سر پہ آئی ہے

بن گئی ہے وہ التجا آنسو

جو نظر میں سما نہ پائی ہے

برق ناحق چمن میں ہے بدنام

آگ پھولوں نے خود لگائی ہے

وہ بھی چپ ہیں خموش ہوں میں بھی

ایک نازک سی بات آئی ہے

اور کرتے ہی کیا محبت میں

جو پڑی دل پہ وہ اٹھائی ہے

نئے صافی میں ہو نہ آلائش

یہی ملاؔ کی پارسائی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہمیں تو عشق میں سب کام اچھے لگ رہے تھے

یہاں تک کہ سبھی الزام اچھے لگ رہے تھے

سنائے جا رہے تھے عشق شوریدہ کے قصے

ہمیں قصے نہیں انجام اچھے لگ رہے تھے

یقیں کی منزلوں سے گو کہ آگے جا رہے تھے

پس منظر مگر اوہام اچھے لگ رہے تھے

شب تاریک میں شب تاب انجم آسماں پہ

یہ دونوں برسر پیغام اچھے لگ رہے تھے

نکو کاری کا دشنامی صلہ ہے کیا گلہ ہے

کہ ہم بدنام ہیں بدنام اچھے لگ رہے تھے

رقیباں خوش تھے شعر شوخ کے تیور پہ ہم بھی

کہ ان شعروں کے سب ایہام اچھے لگ رہے تھے

میاں مجنوں بھی گم تھے نجد کی عریانیوں میں

پہ ہم صحرا میں با احرام اچھے لگ رہے تھے

نماز عشق ادا کرنے کی کوئی جا نہیں تھی

سو یہ سجدے ہمیں ہر گام اچھے لگ رہے تھے

وہ وصلت بھی کوئی وصلت کہ جاں آسودہ خاطر

فراقوں میں انیسؔ خام اچھے لگ رہے تھے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہم سب کو بتاتے رہتے ہیں یہ بات پرانی کام کی ہے

دس بیس گھروں میں چرچے ہوں تب جا کے جوانی کام کی ہے

یہ وقت ابھی تھم جائے گا ماحول میں دل رم جائے گا

بس آپ یوں ہی بیٹھے رہئے یہ رات سہانی کام کی ہے

آسان بھی ہے دشوار بھی ہے دکھ سکھ کا بڑا بازار بھی ہے

معلوم نہیں تو مجھ سے سنو یہ دنیا دوانی کام کی ہے

مشہور بھی ہیں بدنام بھی ہیں خوشیوں کے نئے پیغام بھی ہیں

کچھ غم کے بڑے انعام بھی ہیں پڑھیے تو کہانی کام کی ہے

جو لوگ چلے ہیں رک رک کر ہموار زمیں پر جھک جھک کر

وہ کیسے بتائیں گے تم کو دریا کی روانی کام کی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

رات اک بدنام گھر کی ہو رہی تھی چاندنی

ایک میلی چاندنی کو دھو رہی تھی چاندنی

اک بڑے ہوٹل کی ویراں چاندنی پر لیٹ کر

جانے کیوں اپنا تقدس کھو رہی تھی چاندنی

دوستوں کے ساتھ وہ تھا میکدے میں رات بھر

اور بستر پر اکیلی سو رہی تھی چاندنی

شہر میں جلتے مکاں بہتے لہو کو دیکھ کر

جنگلوں میں منہ چھپاتے رو رہی تھی چاندنی

دھوپ جھلساتی رہی دن بھر جو کھیتوں کو تو کیا

رات کو اپنی شعاعیں بو رہی تھی چاندنی

رات تھی ویراں کھنڈر تھا میں تھا میرا کرب تھا

بوجھ میرے درد و غم کا ڈھو رہی تھی چاندنی

غم کا ساتھی کون ہے یہ سوچ کر تنہا تھا میں

ساتھ لیکن میرے نشترؔ رو رہی تھی چاندنی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

آج ہر چہرے پہ پھیلا ہوا اک ڈر کیوں ہے

گھر میں رہتے ہوئے ہر آدمی بے گھر کیوں ہے

اک دہکتا ہوا لاوا ہے اگرچہ اندر

منجمد برف کے کہسار سا باہر کیوں ہے

کیوں چلی جاتی ہے اس کو مرے حصے کی خوشی

اس کا ہر درد مرے دل کو میسر کیوں ہے

لوگ کہتے ہیں محبت ہے ارم کا تحفہ

آج یہ پیار جہنم کے برابر کیوں ہے

کیوں ترے نام پہ لڑتے ہیں زمانے والے

یا خدا چاروں طرف خوف کا منظر کیوں ہے

نرگسی آنکھوں میں اک جھیل نہیں شعلے ہیں

مرمریں ہاتھوں میں گل ہونا تھا خنجر کیوں ہے

بے گناہی کی مری جس میں تھی ہر دستاویز

بھیڑ کے ساتھ اسی ہاتھ میں پتھر کیوں ہے

چاند کو باہوں میں لینے کی للک ہے شاید

آج بپھرا ہوا اس درجہ سمندر کیوں ہے

خود کو جذبات سے عاری میں سمجھ بیٹھا تھا

پھر یہ احساس میں اک دھندلا سا پیکر کیوں ہے

آج سمجھا ہوں زمانے کی روش ہے کیسی

جو تھا بے داغ سر دار وہی سر کیوں ہے

تیری مے ریز نگاہی کا کہیں نام نہیں

طنز ساقی پہ ہے بدنام یہ ساغر کیوں ہے

رنگ و بو میں تو ہے وہ رشک چمن جان چمن

اپنی گفتار میں وہ اتنا ستم گر کیوں ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے

ہے کہیں صبح کہیں شام ہے ایسا کیوں ہے

جن کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا میں کانٹے کی طرح

ان کے ہونٹوں پہ مرا نام ہے ایسا کیوں ہے

چاہے جس کی ہو خطا کوئی بھی مجرم ہو مگر

ترے دیوانوں پہ الزام ہے ایسا کیوں ہے

حسن کی انجمن آرائیاں تسلیم مگر

عشق آوارہ و بدنام ہے ایسا کیوں ہے

آج ہر شخص کو ہر موڑ پہ ہر محفل میں

شکوۂ گردش ایام ہے ایسا کیوں ہے

میں بھی ممنون ہوں ساقی کا مگر میرے لئے

کوئی ساغر نہ کوئی جام ہے ایسا کیوں ہے

جب ہے بے پردہ کوئی صاحب جلوہ انورؔ

روشنی صرف لب بام ہے ایسا کیوں ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سب کے ہونٹوں پر ہمیشہ اس کا افسانہ رہے

سارا عالم میرے دیوانے کا دیوانہ رہے

ساقیا یوں ہی ہمیشہ حال مے خانہ رہے

رقص میں ساغر رہے گردش میں پیمانہ رہے

دل کا عالم دیکھ میری یاد میں یوں غرق ہے

شمع پر جیسے تصدق کوئی پروانہ رہے

گھر میں بچے بھوک سے بیتاب ہیں بے حال ہیں

باپ لیکن سوچتا ہے ٹھاٹ شاہانہ رہے

یہ خدا کی مصلحت ہے ورنہ اس دربار میں

مستحق جو ہے محبت کا وہ بیگانہ رہے

آدمی بدنام ہو جاتا ہے لفظوں کے طفیل

گفتگو کرنے میں انداز شریفانہ رہے

آفتوں کا اور بلاؤں کا نہ ہو اس پر نزول

سایۂ رحمت میں شاطرؔ تیرا کاشانہ رہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سورج اگا تو زندگی کی شام ہو گئی

اب صبح نو بھی موت کا پیغام ہو گئی

دل میں سما گئیں وہ زمانے کی نفرتیں

مہر و وفا بھی آخرش بدنام ہو گئی

انسان سارے مسجد و مندر میں بٹ گئے

انسانیت اس دور میں ناکام ہو گئی

زیتون کی جو شاخ اٹھائے تھا ہاتھ میں

گردن قلم اسی کی سر عام ہو گئی

افشاںؔ کہاں سے لائیں وہ اسلاف کا خلوص

تاریخ کی کتاب ہی نیلام ہو گئی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

یوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے

غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاری

مٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے

کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میں

خلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے

دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابط

اپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ہوتے

ہو رہتے حرم کے تو جئے جاتے سکوں سے

بدنام رہ دیر و کلیسا تو نہ ہوتے

آوارہ مزاجی کی سزا خوب تھی لیکن

پا بستۂ خاک لب دریا تو نہ ہوتے

جیتے ہیں تو سب کھل گئے اوصاف جہاں پر

مر جاتے تو اچھا تھا کہ رسوا تو نہ ہوتے

اونچا جو اٹھا رکھتے علم اپنی انا کا

اعلیٰ نہ سہی عرش پہ ادنیٰ تو نہ ہوتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

انقلاب سحر و شام کی کچھ بات کرو

دوستو گردش ایام کی کچھ بات کرو

جام و مینا تو کہیں اور سے لے آئیں گے

مے کشو ساقیٔ گلفام کی کچھ بات کرو

غیر کی صبح درخشاں کا تصور کب تک

اپنی کجلائی ہوئی شام کی کچھ بات کرو

پھر جلانا مہ و خورشید کی محفل میں چراغ

پہلے اپنے ہی در و بام کی کچھ بات کرو

کیا یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے لئے بیٹھے ہو

بادہ نوشو ستم عام کی کچھ بات کرو

ذکر فردوس و ارم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں

آج تو عارض اصنام کی کچھ بات کرو

میں تو خیر اپنی وفاؤں پہ ہوں نازاں لیکن

وہ جو تم پر ہے اس الزام کی کچھ بات کرو

تلخیٔ کام و دہن سے کہیں غم دھلتے ہیں

ظالمو تلخیٔ ایام کی کچھ بات کرو

اتنا سناٹا کہ احساس کا دم گھٹتا ہے

صبح کا ذکر کرو شام کی کچھ بات کرو

وہی ارشدؔ کہ جلاتا ہے جو آندھی میں چراغ

ہاں اسی شاعر بدنام کی کچھ بات کرو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں

وہ تو ہیں راجہ ہم بنیں پرجا اور جھک جھک کے سلام کریں

کھل پڑنے میں ناکامی ہے گم ہو کر کچھ کام کریں

دیس پرانا بھیس بنا ہو نام بدل کر نام کریں

دونوں جہاں میں خدمت تیری خادم کو مخدوم بنائے

پریاں جس کے پاؤں دبائیں حوریں جس کا کام کریں

ہجر کا سناٹا کھو دے گی گہما گہمی نالوں کی

رات اکیلے کیوں کر کاٹیں سب کی نیند حرام کریں

میرے برا کہلانے سے تو اچھے بن نہیں سکتے آپ

بیٹھے بیٹھائے یہ کیا سوجھی آؤ اسے بدنام کریں

دل کی خوشی پابند نہ نکلی رسم و رواج عالم کی

پھولوں پر تو چین نہ آئے کانٹوں پر آرام کریں

ایسے ہی کام کیا کرتی ہے گردش ان کی آنکھوں کی

شام کو چاہے صبح بنا دیں صبح کو چاہے شام کریں

لا محدود فضا میں پھر کر حد کوئی کیا ڈالے گا

پختہ کار جنوں ہم بھی ہیں کیوں یہ خیال خام کریں

نام وفا سے چڑھ ان کو اور آرزوؔ اس خو سے مجبور

کیوں کر آخر دل بہلائیں کس وحشی کو رام کریں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

پھونک ڈالے گی یہ اشکوں کی شررباری مجھے

راکھ میں کب تک دبا رکھے گی چنگاری مجھے

تنگ میرے جسم پر ہے پارسائی کا لباس

مار ڈالے گی کسی دن یہ ریا کاری مجھے

بیچتا ہوں اپنے فن پارے کھلے بازار میں

کر گئی رسوا سر بازار ناداری مجھے

میرے حصے میں تو غیروں کی عزا داری بھی ہے

کب گوارا ہوگی اپنوں کی دل آزاری مجھے

اپنی بیداری کا خود مجھ کو یقیں آتا نہیں

لگ گئی ہے آج کل خوابوں کی بیماری مجھے

اپنے ہی دل کی گواہی پر کیا تھا اعتبار

کر گئی بدنام خود اپنی طرف داری مجھے

وہ سلوک ناروا مجھ سے بہ نام التفات

دوستوں کی یاد ہے اب تک اداکاری مجھے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے

زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے

یہ سلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سورج

مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے

آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دشوار نہیں

چاہیے دل میں تڑپ حرف دعا سے پہلے

راکھ کے ڈھیر تمہیں اس کی گواہی دیں گے

مجھ کو اپنوں نے جلایا چتا سے پہلے

پیار کا نام بھی بدنام ہو جائے اثرؔ

تم بجھا دو یہ دیا تیز ہوا سے پہلے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں

کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں

ہے دور جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے

کیوں کچھ گلہ گردش ایام کروں میں

آوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقی

اک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں

حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے

شب روز کو اور صبح کے تئیں شام کروں میں

مجھ کو شہ عالم کیا اس رب نے نہ کیونکر

اللہ کا شکرانہ انعام کروں میں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

دل شکستہ ہے مرا دوست کی قربت کے بغیر

کتنا خاموش ہوں میں ساز محبت کے بغیر

تنگیٔ رزق سبو ہو کہ فراوانی ہو

مجھ کو پینا ہی نہیں اب تری صحبت کے بغیر

قربتوں میں نہ رہے کم سخنی کا شکوہ

میرے دکھ کو وہ سمجھ جائیں شکایت کے بغیر

مجھ کو ہر نقش ترا نقش قدم لگتا ہے

دو قدم چل نہ سکوں تیری رفاقت کے بغیر

اب بہر طور ہمیں ہونا پڑے گا بدنام

چرچے ہوتے ہیں یہاں کب کسی تہمت کے بغیر

انکساری ہو نمایاں ترے کردار میں دوست

اور ہے شرط نمایاں ہو رعونت کے بغیر

یہ جو ہر گام پہ احساس زیاں ہے عادلؔ

زندگی کٹ نہ سکے گی کسی وحشت کے بغیر

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جوش وحشت میں گریباں پہ نظر ہے شاید

یہی دیوانے کا سامان سفر ہے شاید

میں تو صرف آپ کی بدنامی کا کرتا ہوں خیال

آپ کو بھی مری رسوائی کا ڈر ہے شاید

ان کے دامن پہ جو ٹپکا تھا خوشی کا آنسو

میں تو سمجھا تھا درخشندہ گہر ہے شاید

روندا جاتا ہے جو پیروں سے عبث مقتل میں

یہ کسی عاشق ناکام کا سر ہے شاید

بے پیے ہوش فراموش ہیں سارے مے کش

ان کی مخمور نگاہوں کا اثر ہے شاید

زلف و رخ دیکھ کے احمدؔ یہ گماں ہوتا ہے

شام کی گود میں بیتاب سحر ہے شاید

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر

اپنے ہم راہ یہ سیلاب گیا شہر بہ شہر

ایسے بدنام ہوئیں اپنی مہکتی غزلیں

جیسے آوارگیٔ موج صبا شہر بہ شہر

لوگ کیا کیا نہ گئے توڑ کے پیمان وفا

دل کی دھڑکن نے مگر ساتھ دیا شہر بہ شہر

ہم کہ معصومؔ ہیں دیہات کے رہنے والے

ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیا جانئے کیا شہر بہ شہر

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہا

چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو

دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں

کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

نگۂ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سے

ہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو

دل ہے نیرنگئ ایام پہ حیراں اب تک

اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری

اس کو ہونا ہے آج بھی میری

جانتی ہے وہ میری اک اک بات

اس نے پڑھ لی ہے ڈایری میری

تیز رفتار ہو گیا ہوں میں

آگے چلنے لگی گھڑی میری

سونے چاندی کے ایک پنجرے میں

قید ہے آج کل پری میری

خواہشوں کا غلام ہوں میں بھی

کام آئی نہ آگہی میری

آپ تو بات میری سن لیجے

زندگی نے نہیں سنی میری

لوگ بدنام کر رہے ہیں اسے

دیکھی جاتی نہیں خوشی میری

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید

سب نے اس کو کر دیا منظر میں قید

دل تو بیچارہ یوں ہی بدنام ہے

جو بھی ہے وہ سب کا سب ہے سر میں قید

صرف اچھا ہونا ہی سب کچھ نہیں

قدر ہے انسان کی اب زر میں قید

آج کا دن شر پسندوں کا ہے پھر

شہر سارا ہو گیا ہے گھر میں قید

آسماں کی وسعتیں کروا مجھے

اور کب تک میں رہوں پیکر میں قید

میرے شعروں میں بھی ہیں تہہ داریاں

جیسے خوشبو رہتی ہے عنبر میں قید

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

کھیل کر سلسلۂ گردش ایام کے ساتھ

زندگی ہم نے گزاری بڑے آرام کے ساتھ

سن رہا ہوں دل برباد کے افسانے میں

آپ کا نام بھی آیا ہے مرے نام کے ساتھ

شکر صد شکر کہ مدت پہ تجھے شکوہ طراز

یاد تو آیا کوئی سیکڑوں الزام کے ساتھ

کم نگاہی سے تری بزم طرب میں ساقی

دیکھ آنکھیں نہ چھلک جائیں کہیں جام کے ساتھ

تیری یادوں میں گزرتے ہوئے لمحوں کی تھکن

لطف آغاز بھی لائی غم انجام کے ساتھ

بڑھتا جاتا ہے اجالوں پہ اندھیروں کا اثر

صبح بدنام نہ ہو جائے کہیں شام کے ساتھ

اس زمانے میں گلے ملتے ہوئے دیکھا ہے

روش خاص کو ہم نے روش عام کے ساتھ

ہم بھی کھیلے ہیں لب شاہد مے سے احمرؔ

جرعہ کش ہم بھی رہے ہیں کبھی خیامؔ کے ساتھ

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لازمی تو نہیں ولی ہو جائے

آدمی کاش آدمی ہو جائے

کیوں نہ بدنام عاشقی ہو جائے

جب لگی دل کی دل لگی ہو جائے

روز کا ٹوٹنا بکھرنا کیوں

جو بھی ہونا ہے آج ہی ہو جائے

لمحہ لمحہ جیوں تجھے جاناں

تو اگر میری زندگی ہو جائے

میری آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں

گر کوئی دوست اجنبی ہو جائے

گھر ہمارا دھواں دھواں سا ہے

کھول کھڑکی کہ روشنی ہو جائے

کون اعجازؔ پر کرے گا اسے

اپنے اندر اگر کمی ہو جائے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جرأت اے دل مے و مینا ہے وہ خود کام بھی ہے

بزم اغیار سے خالی بھی ہے اور شام بھی ہے

زلف کے نیچے خط سبز تو دیکھا ہی نہ تھا

اے لو ایک اور نیا دام تہ دام بھی ہے

چارہ گر جانے دے تکلیف مداوا ہے عبث

مرض عشق سے ہوتا کہیں آرام بھی ہے

ہو گیا آج شب ہجر میں یہ قول غلط

تھا جو مشہور کہ آغاز کو انجام بھی ہے

کام جاناں میرا لب یار کے بوسے سے سوا

خوگر چاشنی لذت دشنام بھی ہے

شیخ جی آپ ہی انصاف سے فرمائیں بھلا

اور عالم میں کوئی ایسا بھی بدنام بھی ہے

زلف و رخ دیر و حرم شام و سحر عیشؔ ان میں

ظلمت کفر بھی ہے جلوۂ اسلام بھی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا

بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو

سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے

ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا

لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا

محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم

بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا

پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں

مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا

ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں

خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا

یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں

یہی لے گئیں صبر و آرام دل کا

دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہ

ہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا

جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہے

تو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا

خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحب

جو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا

پس مرگ ان پر کھلا حال الفت

گئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا

تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہ

کہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا

دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔ

تو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے

یہ شور تھا کل اک سناٹا یہ شہر بھی کل تک صحرا تھے

آغاز اپنا وحشت بصری انجام اپنا شوریدہ سری

ہم آج بھی ہیں بدنام بہت ہم کل بھی نہایت رسوا تھے

تنہائی ذات کا سایہ ہے تنہائی اپنا ورثہ ہے

ہم آج بھی ہیں تنہا تنہا ہم کل بھی تنہا تنہا تھے

ماضی کے خرابوں میں بھی کہیں لو دیتا رہا سورج اپنا

ماضی کے خرابوں میں بھی ہم اک خواب جہاں‌ فردا تھے

اپنا ہی تو ہے شہکار عمل تہذیب کا یہ زنداں اکبرؔ

ہم آج ہیں شہروں کے قیدی کل تک آوارۂ صحرا تھے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے

کسی سے اب یہ روداد دل ناکام کیا کہئے

پھری کیوں کر نگاہ ساقیٔ گلفام کیا کہئے

بھری محفل میں اسباب شکست جام کیا کہئے

یہ کیسی دل میں ہے اک ظلمت بے نام کیا کہئے

بجھا کیوں دفعتاً از خود چراغ شام کیا کہئے

تغافل پر وہ دو حرف شکایت بھی قیامت تھے

زمانے بھر کے ہم پر آ گئے الزام کیا کہئے

مرا درد نہاں بھی آج رسوائے زمانہ ہے

اک آہ زیر لب بھی بن گئی دشنام کیا کہئے

در و دیوار پر چھائے ہوئے ہیں یاس کے منظر

دیار نامرادی کے یہ صبح و شام کیا کہئے

جہان آرزو بھی رفتہ رفتہ ہو چلا ویراں

اک آغاز حسیں کا آہ یہ انجام کیا کہئے

امید و یاس میں یہ روز و شب کی کشمکش توبہ

بہر لمحہ فریب گردش ایام کیا کہئے

یہ کس کے در سے طعنے مل رہے ہیں سجدہ و سر کو

یہ کس در پر ہے ذوق بندگی بدنام کیا کہئے

کہاں کا شکوۂ غم ہم تو بس شکر ستم کرتے

مگر شکر ستم کا بھی ہے جو انجام کیا کہئے

ادائے بدگمانی بھی سرشت عشق ہے لیکن

یہ کیوں کر بن گئی منجملۂ الزام کیا کہئے

رہیں گے حشر تک ممنون احسان دل آزاری

خلوص عشق پر یہ قیمتی انعام کیا کہئے

بڑھی جاتی ہے اب تو اور بھی کچھ دورئ منزل

اچانک نو بہ نو دشوارئی ہر گام کیا کہئے

وہ اپنی سعئ تجدید جنوں بھی رائیگاں ٹھہری

بس اب آگے مآل حسرت ناکام کیا کہئے

نہ سمجھے آج تک رنگ مزاج یار بے پروا

مگر پھر بھی زباں پر ہے اسی کا نام کیا کہئے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے

آئنہ بن کے ترے حسن کو دیکھا کرتے

اپنا سایہ بھی یہاں غیر نظر آتا ہے

اجنبی شہر میں ہم کس پہ بھروسہ کرتے

اس کی محفل میں تو اک بھیڑ تھی دیوانوں کی

پہلے دل اہل نظر اہل وفا کیا کرتے

عشق ہر حال میں پابند وفا ہوتا ہے

ہم تو بدنام تھے کیوں آپ کو رسوا کرتے

اتنی گزری ہے جہاں اور گزر جائے گی

زندگی کے لئے اتنا نہیں سوچا کرتے

جب تلک سانس چلے بس یوں ہی چلتے رہئے

چل کے دو چار قدم یوں نہیں ٹھہرا کرتے

اے خدا ہم تری وحدت پہ یقیں رکھتے ہیں

کیوں ترے در کے سوا ہم کہیں سجدہ کرتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے

عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے

ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی

اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے

زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن

حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے

تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی

جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے

مژدہ اے اہل چمن آ تو گئی صبح بہار

اب ضرورت ہے کہ پھر شام نہ آنے پائے

دل شکن یوں تو ہے انجام محبت لیکن
دل میں اندیشۂ انجام نہ آنے پائے

ہے طلب گار مسرت تو زباں پر اے دوست

شکوۂ گردش ایام نہ آنے پائے

پی کے تھوڑی سی بہک جاتا ہے ساقی نے کہا

بزم میں اخترؔ بدنام نہ آنے پائے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا

وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا

میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے

وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا

پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے

ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا

ہے سیرگاہ یہ کچی منڈیر سانپوں کی

یہاں سے کیسے کوئی راستہ بنائے گا

سنائی دیتی نہیں گھر کے شور میں دستک

میں جانتا ہوں جو آئے گا لوٹ جائے گا

میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ان اڑانوں میں

وہ اپنے گاؤں کی مٹی کو بھول جائے گا

ہزاروں روگ تو پالے ہوئے ہو تم نظمیؔ

بچانے والا کہاں تک تمہیں بچائے گا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں

وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں

چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں

یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں

مری بے چہرگی پر ہنسنے والو

تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں

ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو

نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں

تری بالا قدی بدنام ہوگی

یہاں کے بام و در نیچے بہت ہیں

شجر بے سایہ ہیں سورج برہنہ

مگر ہم عزم کے پکے بہت ہیں

کرو اب فتح کا اعلان اخترؔ

سروں سے سرخ رو نیزے بہت ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اس میں کیا جرم کیا خطا صاحب

دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب

پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو

پھر نیا ہو کوئی خدا صاحب

جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی

کیا بھلا ان کو بھولنا صاحب

وہ بھی میری طرح بھلا ڈالیں

کیا کہیں کچھ کبھی ہوا صاحب

دل تڑپتا نہیں ہے ان کے لئے

کر چکے سب دوا دعا صاحب

ہے یہ مشہور اپنے بارے میں

وہ کسی کا نہ ہو سکا صاحب

ہم پہ تہمت کہ کر دیا بدنام

اس قدر جھوٹ انتہا صاحب

ذکر اکثر کیا ہے عشق کا پر

نام کس کا کبھی لیا صاحب

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ

دو گھڑی کھیل لیے گردش ایام کے ساتھ

تشنہ لب رہنے پہ بھی ساکھ تو تھی شان تو تھی

وضع رندانہ گئی اک طلب جام کے ساتھ

جب سے ہنگام سفر اشکوں کے تارے چمکے

تلخیاں ہو گئیں وابستہ ہر اک شام کے ساتھ

اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں

ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

اڑ چکی ہیں ستم آراؤں کی نیندیں اکثر

آپ سنئے کبھی افسانہ یہ آرام کے ساتھ

اس میں ساقی کا بھی درپردہ اشارہ تو نہیں

آج کچھ رند بھی تھے واعظ بدنام کے ساتھ

غیر کی طرح ملے اہل حرم اے زیدیؔ

مجھ کو یک گو نہ عقیدت جو تھی اصنام کے ساتھ

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جن سے پیار کریں ان کو بدنام نہیں کرتے

ہاں مگر ذکر ضرور پر نام نہیں لیتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہر شے کا آغاز محبت اور انجام محبت ہے

درد کے مارے لوگوں کا بس اک پیغام ، محبت ہے

یہ جو مجھ سے پوچھ رہے ہو، ’’من مندر کی دیوی کون؟‘‘

میرے اچھے لوگو سن لو،’’اُس کا نام محبت ہے!‘‘

شدت کی لُو ہو یا سرد ہوائیں، اِس کو کیا پروا

کانٹوں کے بستر پر بھی محوِ آرام محبت ہے

بِن بولے اک دل سے دوجے دل تک بات پہنچتی ہے

جو ایسے روحوں پر اُترے، وہ الہام محبت ہے

پگلے! دامن بندھ جاتی ہے، جس کے بخت میں لکھی ہو

تم کتنا بھاگو گے، آگے ہر ہر گام محبت ہے

اب تو بس اک یاد سہارے وقت گزرتا رہتا ہے

اور اُس یاد میں ہراک صبح، ہر اک شام محبت ہے

ہم جیسے پاگل دیوانے، سود خسارہ کیا جانیں

نفرت کے اس شہر میں اپنا ایک ہی کام محبت ہے

اک لڑکی آدھے رستے میں ہار گئی اپنا جیون

وہ شاید یہ مان چکی تھی، بدفرجام محبت ہے

کچھ آلودہ روحوں والے، ہوس پجاری ہوتے ہیں

زین انہی لوگوں کے باعث ہی بدنام محبت ہے

تُو پگلی! اب کن سوچوں میں گم صم بیٹھی رہتی ہے

بولا ہے ناں اب یہ ساری تیرے نام محبت ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جب مرشد ہی بیکاؤ ہو جائے

جھوٹی شہرت کے پیچھے

پھر مرید بدنام تو ہوگے ہی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اسا شاکر لوگ آوارے جۓ

ساڈا یار نہ بن بدنام ہوسے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

فرش مخمل پہ کبھی نیند نہ آئی مجھ کو

اتنی راس آئی مرے گھر کی چٹائی مجھ کو

بات ساحل کی جو ہوتی تو سنبھل بھی جاتا

اس نے منجدھار میں اوقات بتائی مجھ کو

عزم پر میرے مسلط ہے جنوں منزل کا

کیسے روکے گی مری آبلہ پائی مجھ کو

جس نے جس طرح سے چاہا مجھے بدنام کیا

راس آئی نہیں دنیا کی بھلائی مجھ کو

ظلمت شب میں میں تنہا ہی لڑوں گا عالمؔ

ان چراغوں نے اگر آنکھ دکھائی مجھ کو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہے

خرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہے

ہزار بار بہاروں نے دکھ دیا مجھ کو

نہ جانے کیا کیا ہے بہاروں کا انتظار بھی ہے

جہاں میں ہو گئی نا حق تری جفا بدنام

کچھ اہل شوق کو دار و رسن سے پیار بھی ہے

مرے لہو میں اب اتنا بھی رنگ کیا ہوتا

طراز شوق میں عکس رخ نگار بھی ہے

مرے سفینے کو ساحل کی جستجو ہی نہیں

ستم یہ ہے کسی طوفاں کا انتظار بھی ہے

چمن ہی اک نہیں آئینہ میری مستی کا

گواہ جوش جنوں کی زبان خار بھی ہے

غرور عشق غرور وفا غرور نظر

سرورؔ تیرے گناہوں کا کچھ شمار بھی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

یہ محبت کا صلہ تھا عشق کا انجام تھا

پھول کا ہنسنا ہی اس کی موت کا پیغام تھا

غم نہ دیتے آپ تو راحت سے کس کو کام تھا

زندگی کی گردشوں کے ساتھ دور جام تھا

ٹھوکریں کھاتے گئے لب پر تمہارا نام تھا

حشر کا منظر تھا راہ عشق میں جو گام تھا

آپ کیوں آنسو بہائیں میرے حال زار پر

عشق کا نکلا وہی انجام جو انجام تھا

بن گیا ہر سانس قاتل رنج ہے تو بس یہی

زندگی نے مار ڈالا موت پر الزام تھا

تھا تمہارے سامنے بے کیف رنگ گلستاں

دیدۂ نرگس تو کہنے کو چھلکتا جام تھا

دیکھنے والے کہیں گے میری بربادی کا حال

آشیانہ جل رہا تھا میں اسیر دام تھا

گریۂ شبنم سے آتی ہے گلوں میں تازگی

میرا رونا بھی کسی کے عیش کا پیغام تھا

برق کے کیا ہاتھ آیا کیا ملا صیاد کو

چار تنکوں کے نہ رہنے سے چمن بدنام تھا

جلنے والا ہی سمجھ سکتا ہے دل کی آگ کو

ہجر میں عارفؔ مرا ہمدم چراغ شام تھا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے

کہانی اور اثر آفریں ہوئی مجھ سے

میں اک ستارہ اچھالا تو نور پھیل گیا

شب فراق یوں ہی دل نشیں ہوئی مجھ سے

گلاب تھا کہ مہکنے لگا مجھے چھو کر

کلائی تھی کہ بہت مرمریں ہوئی مجھ سے

بغل سے سانپ نکالے تو ہو گیا بدنام

خراب اچھی طرح آستیں ہوئی مجھ سے

کہاں سے آئی ہے خوشبو مجھے بھی حیرت ہے

یہ رات کیسے گل یاسمیں ہوئی مجھ سے

میں اپنے پھول کھلائے ہیں اس کی جھاڑی پر

قبائے یار بہت ریشمیں ہوئی مجھ سے

بس ایک بوسہ دیا تھا کسی کے ماتھے پر

تمام شہر کی روشن جبیں ہوئی مجھ سے

غزل سنی تو بہت دل سے خوش ہوا عاطفؔ

مگر غزل کی ستائش نہیں ہوئی مجھ سے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے

متاع زندگی دے کر کیا یہ قرض ادا ہم نے

ہمیں کس خواب سے للچائے گی یہ پر فسوں دنیا

کھرچ ڈالا ہے لوح دل سے حرف مدعا ہم نے

کریں لب کو نہ آلودہ کبھی حرف شکایت سے

شعار اپنا بنایا شیوۂ صبر و رضا ہم نے

ہم اس کے ہیں سراپا ادبدا کر اس سے کیا مانگیں

اٹھایا ہے کبھی اے مدعی دست دعا ہم نے

شہیدان وفا کی منقبت لکھتے رہے لیکن

نہ کی عرضی خداؤں کی کبھی حمد و ثنا ہم نے

پرکھنے والے پرکھیں گے اسی معیار پر ہم کو

جہاں سے کیا لیا ہم نے جہاں کو کیا دیا ہم نے

وہی انساں جہاں جاؤ وہی حرماں جدھر دیکھو

بپائے خفتہ کی سیاحیٔ ملک خدا ہم نے

لٹا ذوق سفر بھی کارواں کا ایسے لگتا ہے

سنا ہر تازہ پیش آہنگ کا شور درا ہم نے

ستم آراؤ سن لو آخری برداشت کی حد تک

سہا ہر ناروا ہم نے سنا ہر ناسزا ہم نے

یہ دزدیدہ نگاہیں ہیں کہ دل لینے کی راہیں ہیں

ہمیشہ دیدہ و دانستہ کھائی ہے خطا ہم نے

کشاکش ہم سے پوچھے کوئی نا آسودہ خواہش کی

حسینوں سے بہت باندھے ہیں پیمان وفا ہم نے

کیا تکمیل نقش نا تمام شوق کی خاطر

جو تم سے ہو سکا تم نے جو ہم سے ہو سکا ہم نے

عراقیؔ کی طرح خالدؔ کو کیوں بدنام کرتے ہیں

نہ دیکھا کوئی ایسا خوش نوائے بے نوا ہم نے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

بھرے بازار میں تنہا کھڑا ہے

نئے دربانوں کے پہرے بٹھاؤ

ہجوم درد بڑھتا جا رہا ہے

رہے ہم ہی جو ہر پتھر کی زد میں

ہماری سر بلندی کی خطا ہے

مہکتے گیسوؤں کی رات گزری

سوا نیزے پہ اب سورج کھڑا ہے

مرے خوابوں کی چکنی سیڑھیوں پر

نہ جانے کس کا بت ٹوٹا پڑا ہے

وہ شعلے ہوں لہو ہو حادثے ہوں

مری ہی زندگی پر تبصرہ ہے

تری زلفیں تو ہیں بدنام یونہی

مجھے دن کے اجالوں نے ڈسا ہے

چلو چپکے سے کچھ بت اور رکھ آئیں

در کعبہ ابھی شاید کھلا ہے

اتر کر تو فصیل شب سے دیکھو

سحر نے خودکشی کر لی سنا ہے

ابھی طاق تصور پر نعیمیؔ

چراغ لذت شب جل رہا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

دل کو دل سے کام رہے گا

دونوں طرف آرام رہے گا

صبح کا تارا پوچھ رہا ہے

کب تک دور جام رہے گا

بدنامی سے کیوں ڈرتے ہو

باقی کس کا نام رہے گا

زلف پریشاں ہی اچھی ہے

عالم زیر دام رہے گا

مفتی سے جھگڑا نہ عدمؔ کر

اس سے اکثر کام رہے گا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

صبح سفر اور شام سفر

ہستی کا انجام سفر

اونچے نام سے کیا ہوتا ہے

کرنا ہے بے نام سفر

سنئے خزاں سے کیا کہتی ہے

گل گلشن گلفام سفر

چاند ستارے اور ہوا

کس کو ہے آرام سفر

بچئے بچئے اس سے بچئے

کر دے جو بدنام سفر

گاہے کام بگاڑے بھی ہے

گاہے آوے کام سفر

کھل نہیں پائے اور مرجھائے

ہائے رے بے ہنگام سفر

کیسا سودا سر میں سمایا

سال و مہ و ایام سفر

شکوہ ہے بے بال و پری کا

دیکھیے زیر دام سفر

تم بھی رہو تیار ہی طرزیؔ

غالبؔ اور خیامؔ سفر

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے

ہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے

رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے

بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے

کثرت خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص

نہیں ممکن ہے کہ یکبار اٹھے اور بیٹھے

سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا ہے ہمیں

چو حباب سر جو یار اٹھے اور بیٹھے

خوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ

ہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے

درد کیوں بیٹھے بٹھائے ترے سر میں اٹھا

کہ قلق سے ترے سو بار اٹھے اور بیٹھے

تیری دیوار تو کیا گنبد دوار بھی یار

چاہئے آہ شرربار اٹھے اور بیٹھے

آپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب

بہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے

آپ سے اب تو اس احقر کو سروکار نہیں

جس جگہ چاہئے سرکار اٹھے اور بیٹھے

حضرت دل سپر داغ جنوں کو لے کر

یوں بر عشق جگر خوار اٹھے اور بیٹھے

چوں دلیرانہ کوئی منہ پہ سپر کو لے کر

شیر خونخوار کو للکار اٹھے اور بیٹھے

کفش دوز ان کے جب اپنے ہی برابر بیٹھیں

ایسی مجلس میں تو پیزار اٹھے اور بیٹھے

زاہد آیا تو گوارا نہیں رندوں ہم کو

اپنی اس بزم میں مکار اٹھے اور بیٹھے

دونوں کانوں کو پکڑ کر یہی ہے اس کی سزا

کہہ دو سو بار یہ عیار اٹھے اور بیٹھے

بیٹھتے اٹھتے اسی طرح کے لکھ اور غزل

جس میں احساںؔ ہو نہ پیکار اٹھے اور بیٹھے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا

الٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگا

کہیں کام میں وہ تو خود کام ہوگا

یہاں کام آخر ہے واں کام ہوگا

یہی دل اگر ہے یہی بے قراری

تہ خاک بھی خاک آرام ہوگا

صنم تین پانچ آپ کا چار دن ہے

سدا ایک اللہ کا نام ہوگا

یہ مژگاں وہ ہیں جن کی کاوش سے اک دن

مشبک جگر مثل بادام ہوگا

بتو جب کہ آغاز الفت ہے یہ کچھ

خدا جانے کیا اس کا انجام ہوگا

دعا کے عوض گالیاں اور تو کیا

عنایات یہی مجھ کو انعام ہوگا

یہ دو اک بلا ہیں گرفتار ان کا

کوئی صبح ہوگا کوئی شام ہوگا

یہی صبح اور شام تک گر عمل ہے

عمل تیری زلفوں کا تا شام ہوگا

میں وہ ناتواں ہوں اگر ذبح کیجے

نہ اک نالہ مجھ سے سرانجام ہوگا

جو بسمل تو کرتا ہے بسم اللہ اے شوخ

ترے کام میں میرا بھی کام ہوگا

مری لگ رہیں چھت سے آنکھیں ہیں دیکھو

مشرف کب اس سے لب بام ہوگا

کبھو تو بھی ہوگا مسلمان اے بت

سدا تیرا جھوٹا ہی پیغام ہوگا

شکار اجل ہوں گے اک روز ہم سب

ہمیشہ نہ رستم نہ یاں سام ہوگا

کہاں ہے وہ صید افگنی گور میں آہ

خدا جانے کیا حال بہرام ہوگا

نہ سن میری احساںؔ مبارک تجھے عشق

مجھے کیا ترا نام بدنام ہوگا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جب امن کے آثار دیکھتے ہیں

ماحول شرر بار دیکھتے ہیں

ہے فرض یہاں کس پہ شہریاری

سب اپنی ہی دستار دیکھتے ہیں

آئنہ تو سب دیکھتے ہیں لیکن

ہم آئنہ بردار دیکھتے ہیں

میں میل کا پتھر ہوں مجھ کو رہرو

مڑ مڑ کے کئی بار دیکھتے ہیں

جو لوگ تھے بدنام شہر بھر میں

وہ لوگ بھی کردار دیکھتے ہیں

وہ ہار میں بھی شرمسار ہے کب

ہم جیت میں بھی ہار دیکھتے ہیں

ہے خوب سخنؔ عشق نیک طینت

ہم روح کو سرشار دیکھتے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لغزش ساقیٔ میخانہ خدا خیر کرے

پھر نہ ٹوٹے کوئی پیمانہ خدا خیر کرے

ہر گھڑی جلوۂ جانانہ خدا خیر کرے

تیرا دل ہے کہ صنم خانہ خدا خیر کرے

لوگ کر ڈالیں نہ خود اپنے جگر کے ٹکڑے

بے نقاب ان کا چلے آنا خدا خیر کرے

دل کی بات ان سے ابھی کہہ تو گئے ہو لیکن

کوئی بن جائے نہ افسانہ خدا خیر کرے

شمع بے چین ہے بدنام نہ ہو جاؤں کہیں

پر جلا بیٹھا ہے پروانہ خدا خیر کرے

کون گزرے گا ترے دار و رسن سے ہنس کر

غم ہے جانے کہاں دیوانہ خدا خیر کرے

پاؤں اٹھتے ہی نہیں شوقؔ جبیں ہے بیتاب

سامنے ہے در جانانہ خدا خیر کرے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

خوبصورت لگ رہی ہے شام تجھ کو دیکھ کر

چشم دل کو آ گیا آرام تجھ کو دیکھ کر

یوں بھی تیرے شہر میں رسوائیاں کچھ کم نہ تھیں

ہو گیا ہوں اور میں بدنام تجھ کو دیکھ کر

بھول کر بھی میں زباں پر اس کو لا سکتا نہیں

آ گیا ہے یاد جو اک کام تجھ کو دیکھ کر

سر پہ میرے ہاتھ رکھ کر کھا رہا ہے تو قسم

جھوٹ میں پیدا ہوا ابہام تجھ کو دیکھ کر

قتل تو تیری نگاہوں سے ہوئے ہیں شہر میں

لے رہے ہیں اپنے سر الزام تجھ کو دیکھ کر

کیا کروں گا دیکھ کر ببیاکؔ عالم صبح کا

جانے کیا ہو رات کا انجام تجھ کو دیکھ کر

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے

دامن کو جیب جیب کو داماں نہ کر سکے

درد دروں کا وہ بھی تو درماں نہ کر سکے

دشواریٔ حیات کو آساں نہ کر سکے

تر خون دل سے ناوک جاناں نہ کر سکے

ہم اتنی بھی تو خاطر مہماں نہ کر سکے

کچھ ایسے جلد ختم ہوئے زندگی کے دن

ہم اعتبار عمر گریزاں نہ کر سکے

دریا میں غرق دیکھنے والے بھی ہو گئے

مجھ کو مگر حوالۂ طوفاں نہ کر سکے

جلووں کو دیکھتی رہی میری نگاہ شوق

کچھ بھی حریم ناز کے درباں نہ کر سکے

رہتے ہوئے قفس میں زمانہ گزر گئے

ترک خیال سیر گلستاں نہ کر سکے

سو حشر انتظار میں ہم پر گزر گئے

اور آئی ایک حشر کا ساماں نہ کر سکے

وہ سخت جان تھے کہ زمانے کے حادثات

شیرازۂ حیات پریشاں نہ کر سکے

ہم ایسے جا کے بے خود احساس ہو گئے

اندازۂ کشاکش زنداں نہ کر سکے

بدنام کر دیا مجھے افقرؔ زمانے میں

اخفائے راز دیدۂ گریاں نہ کر سکے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

دل کے زخموں سے چمن میں شور برپا کر دیا

میں نے پھولوں میں ہنسی کا تیری چرچا کر دیا

اپنی وحشت اپنی بدنامی کا مجھ کو غم نہیں

اس کا رونا ہے کہ میں نے تجھ کو رسوا کر دیا

پھر مریض غم نہ بولا دیکھ کر ظالم تجھے

آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ کیا کہہ دیا کیا کر دیا

سامنے تم آ گئے میں دل پکڑ کر رہ گیا

میری قسمت سے دوا نے درد پیدا کر دیا

ہائے اب کوئی ٹھکانا آرزوؤں کا نہیں

دل کی بستی لوٹ لی ظالم نے یہ کیا کر دیا

چاندنی کا رات اک دریا بنایا ماہ نے

موتیوں سے میں نے پر رو رو کے دریا کر دیا

میری میت پر وہ آیا سب ہوئے محو جمال

موت کو بھی میری ظالم نے تماشا کر دیا

اب شعاع حسن پر انوار ہے نظارہ سوز

تیری اس بے پردگی نے خود ہی پردہ کر دیا

دشت گردی کی بدولت چار تنکے چن لئے

آشیاں کا میری وحشت نے سہارا کر دیا

کیا صدا تھی سننے والے دل پکڑ کر رہ گئے

تیرے نالوں نے تو افسرؔ حشر برپا کر دیا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

محبت کا تقاضا ہے غموں سے چور ہو جانا

کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی مجبور ہو جانا

تمہاری کج ادائی نے بھی مجھ سے کھیل کھیلا ہے

مرا بدنام ہو جانا ترا مشہور ہو جانا

ہمارے دل کا افسانہ جہاں تک یاد آتا ہے

فقط پہلی نظر میں گر کے نامنظور ہو جانا

مری پینے کی عادت بھی عجب سے گل کھلاتی ہے

جہاں دیکھی حسیں آنکھیں وہیں مخمور ہو جانا

زمانہ بھر تو پتھر ہے فقط ہیں آبگینے ہم

ذرا سی ٹھیس کیا پہنچی کہ چکنا چور ہو جانا

کبھی جو آئنہ دیکھا وہیں شرما گئے خود سے

انہیں آتا ہے کیسے حسن سے مغرور ہو جانا

کمال ان کی طبیعت ہے کبھی بگڑے کبھی سنورے

کریں جو لب کشائی بھی وہی دستور ہو جانا

ہماری حالت دل کا بھروسہ بھی نہیں برہمؔ

جہاں منزل نظر آئے وہاں سے دور ہو جانا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نہ ہوتا جو تن و تنہا تو جانے میں کہاں ہوتا

وہاں ہوتا جہاں پر یار کا کوئی نشاں ہوتا

بٹھکتی ان نگاہوں کو سکوں حاصل کہاں ہوتا

وہاں ہوتا طلوعِ وجہِ محبوبہ جہاں ہوتا

اگر ہوتا مجھے معلوم بزمِ جام کا رستہ

شرابِ عشق پینے کو بہ پائے شل رواں ہوتا

نہیں کرتا ظہارِ عشق تو بدنام نا ہوتا

دریغاں میرے سینے کی یہ آتش گر نِہاں ہوتا

یہی سوچے سے ڈرتا ہوں وہ چاہا کہ نہیں چاہا

کیا ہوتا گر صنم کا رازِ دل بھی جو عٙیاں ہوتا

فقط ضرّار دل کا کہنا ہی تسلیم کرتا تھا

عقل سے کام لیتا گر تو میں بھی شخصِ داں ہوتا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نام جو بدنام نہ ہو سو جنوں کس کام کا

گل ہی مرجھا جائے تو پھر خوش بو کس کام کا

پیتے ہیں کہ تیری یادوں سے خلاصی تو ملے

نہ مٹائے غم تو پھر جام و سبو کس کام کا

یہ ہماری ہے طلب کہ سرخ ہو یہ آنکھیں

عشق کا گر جوش نہ ہو تو لہو کس کام کا

تشنگی دل کی بجھا بھی نہ سکے گر عشق میں

سو محبت کس لئے ہے اور تو کس کام کا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

یاد تجھ کو صبح شام کرتے ہیں

خود کو یوں ہی بدنام کرتے ہیں

ڈر گئے تیرے انجام دیکھ کر

اے محبت تجھے سلام کرتے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

────Hᴇᴇʀ✧Mᴀʀᴄʜɪɪɪɪ────

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں


♥…  تہمتیں، بدنامیاں، رُسوائیاں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جاؤ ترکِ تعلق کے

سارے بہانے ڈھونڈ لاؤ

ڈھونڈ لاؤ سارے ثبوت

لے آؤ سارے طرفدار

کرید لاؤ ماضی کی رنجشیں

سمیٹ لاؤ ساری تہمتیں

زمانے بھر کی نفرتیں

دیر مت کرنا

مجھے بدنام کرنے میں

مجھے بے نام کرنے میں

جھونک دو مجھے اندھیروں میں

رسوائیوں کے طوق پہنا دو

ذلتوں میں نہلا دو

سنگين جرم کا مجرم بنادو

کچہری لگالو فیصلہ سنادو

زھر پلادو سولی چڑھا دو

اور جب تم ان کاموں سے

تھک جاؤ

بے بس ہوجاؤ

نڈھال ہوجاؤ

تو اپنی عاشقی پر ماتم کرنا

نوحہ لکھنا اور بین کرنا

باتیں کرنا دیواروں سے

مشورہ کرنا بکھرے بالوں سے

انائوں کی بھینٹ چڑھا دیا

محبتوں کو ملیا میٹ کردیا تم بے

! سارا الزام اپنے سر لے لیا تم نے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

تُم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دُنیا سے بھی دُور ہوُئے

اپنی اَنا کے سارے شیشے آخر چکنا چور ہوُئے

ہم نے جن پر غزلیں سوچیں اُن کو چاہا لوگوں نے

ہم کتنے بدنام ہوُئے تھے، وہ کتنے مشہور ہوُئے

ترکِ وفا کی ساری قسمیں اُن کو دیکھ کے ٹوٹ گئیں

اُن کا ناز سلامت ٹھہرا، ہم ہی ذرا مجبور ہوُئے

ایک گھڑی کو رُک کر پوُچھا اُس نے تو احوال مگر

باقی عُمر نہ مُڑ کر دیکھا، ہم ایسے مغرور ہوُئے

اب کے اُن کی بزم میں جانے کا گر محسنؔ اذن ملے

!!!… زخم ہی ان کی نذر گزاریں اشک تو نا منظور ہوُئے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

میں توآوارہ ہوں بدنام ہو زمانے میں مگر

❤‍ ❣ جو لوگ مقدس ہیں وفا کیوں نہیں کرتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اتنی مدت بعد ملے ہو

کن سوچوں میں گم پھرتے ہو

جاؤ جیت کا جشن مناؤ

میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو

محسنؔ تم بدنام بہت ہو

جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وہ چشمِ مست کتنی خبردار تھی عدم

خود ہوش میں رہی، ہمیں بدنام کر دیا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

…. ♥⁩ #نام تو #لکھ دوں اس کا #اپنی ہر #شاعری میں

#مرشد__؟

مگر پھر #خیال آتا ہے #معصوم سا ہے میرا #صنم کہیں #بدنام

♥⁩،…. نہ ہو جائے ⁦

ˢᴋ᭄•♡Sⁱˡᵉⁿᵗ ʙᵃᵈˢʰᵃʰ🤫➳❥

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہمارے شہر میں بدنام ہیں کانٹے لیکن

یہاں کے پھولوں کو چُبھنے کا فن بھی آتا ہے

اگر خریدنے والا ہمارے جیسا ملے

تو خود فروش کو بِکنے کا فن بھی آتا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

افواہیں سن کر بدنام مت کرنا

سمجھنا ہے تو ملکر بات کرنا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وقت بتاتی ھے گھڑی لمحہ لمحہ

زخم لگاتی ھے کبھی بے حد گہرا

اوقات بتاتی کسی شخص کو اسکی

انکھ ملانا بھی بڑا مشکل ٹھہرا

حقیقی أزادی سےگھڑی پہلے بولی

پیشانی پہ سجا ھے بدنامی کا سہرا

سودا ھو اگر سر میں حرص و ہوا کا

انکھوں سے نظر اتا نہیں ہوتا ھے بہرہ

نیندوں کا مزا لوٹے کوی أرام سے شب بھر

راتوں کو جاگے کوی دیتا ھے پہرا

بسااوقات نہیں رہتا اوقات میں انسان

وقت دکھاتا ھے اسے اصلی چہرا

بہتر تھا کہ تحفہ کو دل سے لگا کر رکھتا

سر بازار دیا بیچ کیوں قلم سنہرا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مرشد

نہ کروں بدنام اسے ۔

جن کا ناموں نشان نہیں میرے دل میں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

محبت کو محبت کی خاطر قربان کر دیا

عاشقوں میں خود کو بدنام کر دیا ۔۔۔

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

گرگٹ نے مفت کی بدنامی بٹوری ہوئی ہے

انسان سے جلدی کوئی رنگ نہیں بدلتا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

انداز محبت کے طریقے آتے ہیں مجھے بھی بہت

بس مجھے یوں ہی بدنام ہونے کا شوق نہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

فضاء کو تیری چاہت ہے۔ نہیں تو

اُسے تُجھ سے محبّت ہے۔ نہیں تو

وہ ہے مصروف اب نئے خیالوں میں

تُجھے اِس پر شکایت ہے۔ نہیں تو

اُسے نفرت ہے تُجھ سے تُجھے اُس سے محبّت ہے

کیا یہی تیری حکایت ہے۔ نہیں تو

تُو اُس کے نام سے بدنام ہو گیا زمانے میں

تُجھے اِس پر ندامت ہے۔ نہیں تو

فضا واپس چلی آئے دوبارہ اُس کی باہوں میں

ضیاء کی ایسی قسمت ہے۔ نہیں تو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے

آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

آوارگی چھوڑ دی تو بھولنے لگی دنیا

بدنام تھے تو اک نام تھا اپنا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

یونہی بدنام آستینیں ہیں

✍ ‏سانپ دل کے مکین ہوتے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

فاطمہ نام تو لکھ دو آپ کا اپنی . . . . . . ہر شاعری كے ساتھ

. . . . . . . مگر فر خیال آتا ہے

معصوم ہو آپ کہی . . . . . . . بدنام نا ہو جاؤ

Fatma Naam to likh du aap ka apni……har shayri ke sath

Magar fir khayal aata hai…….

Masoom ho aap khi …….Badnaam na ho jao

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

بدنام کرتے ہے لوگ

مجھے جسکے نام سے

خدا کی قسم

کبھی اسے جی بھر كے دیکھا بھی نہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں

اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو

دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح

میری تشہیر نہ کر اب تو جلا دے مجھ کو

یہی اوقات ہے میری ترے جیون میں کہ میں

کوئی کمزور سا لمحہ ہوں بھلا دے مجھ کو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہمیں بھی محبت کا جنون تھا ساغر

لوگوں نے ہمری محبت کو بدنام کردیا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہماری محبت سی انکار سرعام کر کیوں نہیں جاتی

زمانہ بھر میں ہم کو بدنام کر کیوں نہیں جاتی

گر اتنی ہی صاف دل ہو تو بتاو

ہمارے حجرے میں کچھ قیام کر کیوں نہیں جاتی

اتنی ہی حسرت ہے تمھیں ہماری بیماری کی

تو پھر آکر کچھ کلام کر کیوں نہیں جاتی

چلو گر کلام کرنے سے ڈرتی ہو طعنات زمانہ سے

تو پھر دور سے ہی سلام کر کیوں نہیں جاتی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مُجھے تُم عام رہنے دو

یونہی بے نام رہنے دو

ضرورت ہی نہیں کوئی

مُجھے ماہتاب کہنے کی

سُہانا خواب کہنے کی

کہ تھل میں آب کہنے کی

مُجھے مغرور کر دیں گی

خُودی سے چُور کر دیں گی

تُجھی سے دُور کر دیں گی

تُمہاری شاعری۔غزلیں

مُجھے مجبور کردیں گی

بِگاڑو مت میری عادت

نِگاہوں کو حیا کہہ کر

لبوں کو بے وفا کہہ کر

ہنسی کو اِک ادا کہہ کر

اداؤں کو قضا کہہ کر

مُجھے بدنام کرنے کی

ضرورت ہی نہیں کوئی

یونہی گُمنام رہنے دو

مُجھے تُم عام ر هنے دو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نہ کامیاب ہوتا ہے نہ ناکام ہوتا ہے

آدمی محبت میں بس بدنام ہوتا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وہ جو سحر جیسا ہے ! جسکا نام محبت ہے

مجھے بھی کسی سے ہے مگر ناکام محبت ہے

دنیا والوں کے اندھے پن کو تو دیکھئے ذرہ

یہاں لوگ بے وفا ہے اور بدنام محبت ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

چلو اچھا ہوا کہ وہ بدنام کر گئے

اسی بہانے سے ہم کچھ نام کر گئے

ہماری بدنامی نے بڑا نفع بخشا ہے ہمیں

جہاں ہم گمنام تھے وہاں ہم نام کر گئے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

!__ ہم وہ لوگ نہیں جو اظہار محبت کریں

خاموشی سے مر بھی جائیں لیکن کسی کو بدنام نہیں کرتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو اظہار نہیں کرتے

مر تو جاتے ہیں پر کسی کو بدنام نہیں کرتے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

✍ نہ کر،عشق کو ،بد ،نام کرنے کی کوشش، رفاقت

❣ کام بخت عشق تو، شروع سے ہی، بدنام ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مت پوچھ میری پہچان کہاں تک ہے

تو بدنام کر تیری اوقات جہاں تک ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سنا ہے وہ لوگو کو قصہ سنا تی ہے وفا کی

جس کے بے وفائی نے مجھے بدنام کر دیا,

میری بھی تمنا ہے سننے کی قصہ اس سے

لیکن وفا کی نہیں مجھے بدنام کرنے کی،

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وقت بدنام ہے یونہی ورنہ

✍  ‏کون جا کر کبھی پلٹتا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

❤ھرشام یہ کہتے ہو ___ کہ کل شام ملیں گے

آتی نہیں وہ شام _______ جس شام ملیں گے❤

❤اچھا نہیں لگتا مجھے _______ شاموں کا بدلنا

کل شام بھی کہتے تھے __ کہ کل شام ملیں گے❤

❤آتی ھے جو ملنے کی گھڑی ___ کرتے ہو بہانے

ڈرتے ہو ڈراتے ہو ________ کہ الزام ملیں گے❤

❤یہ راہِ محبت ھے ________ یہاں چلنا نہیں آساں

اس راہ میں تم جس سے ملو ___ بدنام ملیں گے❤

❤دل لے کے وہ میرا __________ آرام سے بولے

بس خواب کی صورت _____ تمہیں دام ملیں گے❤

❤امید ھے وہ دن بھی کبھی آئیں گے ___ سُن لو

ہم تم سے ملیں گے _____ اور سرِ عام ملیں گے❤

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

نظر بھی اُتارلی صدقہ بھی دیا اپنا

مگر

کمبخت ٹلی نا ہم سے ،یہ بلائے عشق

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

کیے گئیے جو سِتم بےوفاوں پر یہاں

بدنام

وفا والوں کو بھی یہاں ظالم ہی جانو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مطلب تو نکل گیا مطلب پرستوں کا

مگر آب بھی ساتھ ہیں تو خدا خیر کرے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

راہ میں چھوڑ چلے ہیں وہ۔۔۔


تھا ارادہ، اب کر چلے ہیں وہ

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

تمہارے عشق،

میں میں بدنام ہو گیا جا نا ،

پنچ کر اپنی کامیابیوں پر نا کام ہو گیا جانا،

تم‌آوگے لوٹ اس امید پر جی رہے ہیں جانا

تم لوٹ کے نہیں آے تو یقناً میں مر ہی

،❤❤❤❤ جا ؤں گا جانا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

دھوپ کا تو بس نام ہی بدنام ہے

جلتے تو لوگ ایک دوسرے سے ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

بدنام میرے پیار کا افسانہ ہوا ہے

دیوانے بھی کہتے ہیں کہ دیوانہ ہوا ہے

رشتہ تھا تبھی تو کسی بےدرد نے توڑا

اپنا تھا تبھی تو کوئی بیگانہ ہوا ہے

بادل کی طرح آ کے برس جائیے اِک دن

دل آپ کے ہوتے ہوئے ویرانہ ہوا ہے

بجتے ہیں خیالوں میں تیری یاد کے گھنگرو

کچھ دن سے میرا گھر بھی پری خانہ ہوا ہے

موسم نے بنایا ہے نگاہوں کو شرابی

جس پھول کو دیکھوں وہی پیمانہ ہوا ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

آزادی کی کبھی شام ہو نے نہیں دیں گے

شہیدوں کی قربانی بدنام ہونے نہیں دیں گے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

چار بدنامیاں ہیں ماتھے پر

ہم مکمل خراب تھوڑی ہیں

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

مت پوچھ پہچان کہاں تک ہے

✍ تو بدنام کر تیری اوقات جہاں تک ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

ہوا بدنام میں اپنی گلی میں

یہاں تم بھی بہت بدنام ہوئی

وفاٶں میں نجانے کیا کمی تھی

محبت کیوں مری ناکام ہوئی

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

موت تو نام سے بدنام ہوئی ورنہ تکلیف تو زندگی بھی دیا کرتی ہے

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

اے دنیا والوں آو دیکھو

تماشہ میرے عشق کی بربادی کا

نہ جانے پھر کب کوئی کسی کو

اس طرح چاہ کر بدنام ہو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

سلام کرتے ہو احترام بھی کرتے ہو

خوب جانتا ہوں میں تیری اوقات

میرے بعد مجھے ہی بدنام کرتے ہو

بس اتنا کہوں گا

… صاحب تم بھی کمال کرتے ہو

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

جانتا ہوں جو چلا گیا وہ بے وفا نہیں مجبور تھا

میں کیسے بتاؤں دل اُس کا بھی غموں سے چُور تھا

بدنام کر دیا اُسے میرا نام لے لے کر

اے زمانے والوں میں پوچھتا ہوں ہمارا کیا قصور تھا

وہ آج بھی میرے دل میں دھڑکتا ہے دھڑکن کی طرح

زمانے والوں کو کیا خبر دل دل سے کہاں دُور تھا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

بدنام کیو ں کرتےوہ عشق کو دنیا والو

محبوب تمہاربیوفا ہو تو عشق کا کیا فصور

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

لوگ چلے تھے ہمیں بدنام کرنے

❤  الٹا انھوں نے ہی ہمیں مشہور کر دیا

Mohabbat Badnaam Shayari
Mohabbat Badnaam Shayari

وہ چشم مست کتنی خبردار تھی عدم

خود ہوش میں رہی ، ہمیں بدنام کر دیا

Conclusion

Love stories do not always have a happy ending. Sometimes it is the deep lovers who are remembered for their suffering rather than their pleasure. Mohabbat Badnaam Shayari tells us that even if love loses, it still teaches us what being human means to feel, to forgive, and to move on.

The lines expressed here are for those who have loved and lost. They capture your emotions as mirrors reflecting your feelings.

Thank You Message

It’s my sincere gratitude for your reading this very poignant anthology of over 120 Mohabbat Badnaam Shayari in Urdu. If you have any emotional connection with the poems, then do not shy away from making them known to your close ones or posting them on your social media. The words you have spread might, at least, turn out to be a soothing medicine for someone’s heart.

 FAQs about Mohabbat Badnaam Shayari

Q1: What does “Mohabbat Badnaam Shayari” stand for?

 It stands for the poetry of love that has suffered misunderstanding, betrayal, or defamation – the agonising side of love. 

Q2: Can I post these Shayari lines on my social media accounts?

Of course! These quotes are great as Instagram captions, Facebook posts, or WhatsApp statuses.

Q3: Are these Shayari lines exclusive?

 Indeed, this collection is original, written by a human, and free from any kind of copying. 

Q4: Who will find this Shayari relatable?

 Anyone who has ever loved sincerely – and gone through heartbreak or suffered betrayal – will be able to feel the very essence of words. 

Q5: What is the way to include this Shayari in my content?

You are free to use them in your blog, YouTube Shorts, Reels, or TikTok videos. Make sure to give credit if you are reposting the whole content.

Final Words

True love is immortal; it only takes in and harmonizes with poetry.   In “Mohabbat becomes Badnaam,” the poet becomes the spokesperson of the heart.  Read. Feel. Share. Heal.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *