50+World Best Udas Quotes in Urdu About Life

Udas Quotes in Urdu

50+ Udas Quotes in Urdu – Words for the Quiet Heart

When Words Fall Silent

Life sometimes has its moments when it is better not to talk — sadness has taken its turn and is now sitting inside you, without any noise made.

That sad feeling, “Udaasi,” (sadness) indeed has its own communicative way. Urdu is the one to depict it in the most artistic way ever.

This is the compilation of 50+ Udas Quotes in Urdu for silent nights, unspoken feelings, and memories that are never really gone. Here, each line is straightforward but touching — a very soft whisper for the times when the world seems to be too much and the heart too lonely.

If you have lost someone, if you have a friend who is not around, or if you just feel barren and empty for no particular reason, these melancholic Urdu quotes can show you the brighter side of your suffering.

The Beauty of Udaasi in Urdu Words

udaas (sad) hona mein kuchh balshakt hai.

 Ye hamesha nahi, mudda hai, you are weak – sometimes it is a sign that you have loved very much, cared too much, or dreamt too big.

As for Urdu literature, Udaasi is not only suffering – it is a verse, a meditation, and a quiet power.

 These Udas Urdu quotes bear feelings which everyone has experienced at least once – love, loss, isolation, and yearning.

 In this collection, you’ll find:

  •  Sad Udas quotes in Urdu convey grief and quiet.
  •  The sadness of missing a person is expressed in profound emotional Urdu lines for nights when you are very lonely.
  •  Solitary Urdu proverbs that reach your core emotions.
  • Moving Urdu poems depicting love, pain, and endurance.

Each quote presented is related to a genuine feeling – nothing but plain words, merely the truth. Sometimes being simple is the most truthful way of expressing oneself.

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

وہ مجھ سے میرا تعارف کرانے آیا تھا

ابھی گزر جو گیا اک عظیم لمحہ تھا

سنا ہے میں نے یہاں سرخ گھاس آ گئی تھی

وہ بادشاہ یہیں اپنی جنگ ہارا تھا

ہماری رات سے بہتر تھی اگلے وقت کی رات

ہر ایک گھر میں دیا صبح تک تو جلتا تھا

عزیز مجھ کو بھی تھے نقش اپنے ماضی کے

اسے بھی شوق پرانی عمارتوں کا تھا

اب اپنے سر کا تحفظ بھی آپ خود کیجے

فضا میں آپ نے پتھر بھی خود اچھالا تھا

گیا تو اپنی اداسی بھی دے گیا مجھ کو

تمام دن جو مرے ساتھ ہنستا رہتا تھا

اب اس سے ایک بڑا نام جڑ گیا اظہرؔ

جو شاہ کار مری فکر نے بنایا تھا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی

ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رت بدلنے لگی

پڑوس والو! دریچوں کو مت کھلا چھوڑو

تمہارے گھر سے بہت روشنی نکلنے لگی

ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو

جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی

بھلا ہو شہر کے لوگوں کی خوش لباسی کا

کہ بے کسی بھی مرا پیرہن بدلنے لگی

ٹھہر گئی ہے کہاں آ کے ڈھلتے ڈھلتے رات

مری نظر بھی چراغوں کے ساتھ جلنے لگی

نظر اٹھی تو اندھیرا تھا جب قدم اٹھے

شعاع مہر مرے ساتھ ساتھ چلنے لگی

ستم ظریفیٔ فطرت تو دیکھیے اظہرؔ

شباب آیا غزل پر تو عمر ڈھلنے لگی

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

جی رہا ہوں میں اداسی بھری تصویر کے ساتھ

شور کرتا ہوں سیہ رات میں زنجیر کے ساتھ

سرخ پھولوں کی گھنی چھاؤں میں چپکے چپکے

مجھ سے ملتا تھا کوئی اک نئی تنویر کے ساتھ

اک تری یاد کہ ہر سانس کے نزدیک رہی

اک ترا درد کہ چسپاں رہا تقدیر کے ساتھ

کبھی زخموں کا بھی خندۂ گل کا موسم

ہم پہ کھلتا رہا اک درد کی تفسیر کے ساتھ

بات آپس کی ہے آپس ہی میں رہنے دیجے

ورنہ ہم سرخیاں بن جائیں گے تشہیر کے ساتھ

آپ کی میز پہ پھر ایک نیا منظر ہے

میری تصویر بھی ہے آپ کی تصویر کے ساتھ

دل کے نزدیک سر شام الم اے نیرؔ

زخم کے چاند چمک اٹھتے ہیں تنویر کے ساتھ

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

مری دنیا اکیلی ہو رہی ہے

تمنا گھر میں تنہا سو رہی ہے

صدائیں گھٹ گئیں سینے کے اندر

خموشی اپنی پتھر ہو رہی ہے

تمناؤں کے سینے پر رکھے سر

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

سنا ہے اپنا چہرہ زندگانی

مسلسل آنسوؤں سے دھو رہی ہے

یہاں سے اور وہاں تک نا امیدی

ہمارے دل کا عنواں ہو رہی ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

چاک دامان قبا داغ جنوں ساز بہت

ہم نے پائے ہیں در یار سے اعزاز بہت

ہم سے پوچھو کہ غم فرقت یاراں کیا ہے

ہم نے دیکھے ہیں شب ہجر کے انداز بہت

رات بھر چاند سے ہوتی رہیں تیری باتیں

رات کھولے ہیں ستاروں نے ترے راز بہت

آج کیوں پہلی سی کچھ وحشت دل کوئی نہیں

آج مدھم ہے شب غم ترا آغاز بہت

ایک ہم ہی نے سمیٹی ہے اداسی تیری

شام غم ہم نے اٹھائے ہیں ترے ناز بہت

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا

مرے یقین کو میرا قیاس کر دے گا

میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی

تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا

ملا کے مجھ سے نگاہیں وہ میری نظروں کے

ذرا سی دیر میں خالی گلاس کر دے گا

پھر اس طرح سے رہے گا مرے خیالوں میں

کہ میری پیاس کو دریا کی پیاس کر دے گا

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتی ہوں

وہ آئینہ ہے مجھے خود شناس کر دے گا

میں اس کے سامنے عریاں لگوں گی دنیا کو

وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا

وہ ماہتاب صفت صرف روشنی ہی نہیں

مجھی کو رات کا منظر بھی خاص کر دے گا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

کس قدر کم اساس ہیں کچھ لوگ

صرف اپنا قیاس ہیں کچھ لوگ

جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے

اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ

مطمئن ہیں بہت ہی دنیا سے

پھر بھی کتنے اداس ہیں کچھ لوگ

وہ برے ہوں بھلے ہوں جیسے ہوں

کچھ ہوں لوگوں کو راس ہیں کچھ لوگ

موسموں کا کوئی اثر ہی نہیں

ان پہ جنگل کی گھاس ہیں کچھ لوگ

تیرگی میں نظر نہیں آتے

سائے کی طرح پاس ہیں کچھ لوگ

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

نقشے اسی کے دل میں ہیں اب تک کھنچے ہوئے

وہ دور عشق تھا کہ بڑے معرکے ہوئے

اتنا تو تھا کہ وہ بھی مسافر نواز تھے

مجنوں کے ساتھ تھے جو بگولے لگے ہوئے

آئی ہے اس سے پچھلے پہر گفتگو کی یاد

وہ خلوت وصال وہ پردے چھٹے ہوئے

کیوں ہم نفس چلا ہے تو ان کے سراغ میں

جس عشق بے غرض کے نشاں ہیں مٹے ہوئے

یہ مے کدہ ہے اس میں کوئی قحط مے نہیں

چلتے رہیں گے چند سبو دم کیے ہوئے

کل شب سے کچھ خیال مجھے بت کدے کا ہے

سنتا ہوں اک چراغ جلا رت جگے ہوئے

میری وفا ہے اس کی اداسی کا ایک باب

مدت ہوئی ہے جس سے مجھے اب ملے ہوئے

اللہ رے فیض بادہ پرستان پیش رو

نکلے زمیں سے شیشۂ مے کچھ دبے ہوئے

میں بھی تو ایک صبح کا تارہ ہوں تیز رو

آپ اپنی روشنی میں اکیلے چلے ہوئے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

جی ہے بہت اداس طبیعت حزیں بہت

ساقی کو پیالۂ مے آتشیں بہت

دو گز زمیں فریب وطن کے لیے ملی

ویسے تو آسماں بھی بہت ہیں زمیں بہت

ایسی بھی اس ہوا میں ہے اک کافری کی رو

بجھ بجھ گئے ہیں شعلۂ ایمان و دیں بہت

بے باکیوں میں فرد بہت تھی وہ چشم ناز

دل کی حریف ہو کے اٹھی شرمگیں بہت

پیکار خیر و شر سے گزر آئی زندگی

تیری وفا کا دور تھا عہد آفریں بہت

فریاد تھی چکیدۂ خون گلو تمام

نغمہ بھی ہم صفیر تھا کار حزیں بہت

اے دل تجھی پہ ختم نہیں داستان عشق

افسانہ خواں ملے مژہ و آستیں بہت

ایسی ہوا میں گھر سے نکلنے کی جا نہ تھی

ورنہ تمام بات کا آتا یقیں بہت

اے انقلاب رنگ طبیعت سنبھالنا

ہم بھی اٹھے ہیں بزم سے اب کے حزیں بہت

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

وفا نہ ان کے نہ اپنے ہی بس میں کیا کیجے

اسیر بحر ہیں تنکوں سے کیا گلہ کیجے

حصار سنگ سے ٹکرا کے مر تو سکتے ہیں

نجات سامنے ہے کچھ تو حوصلہ کیجے

بہت دنوں سے نہیں کوئی زندگی کا جواز

بدل کے لفظ وہی وعدہ پھر عطا کیجے

پہاڑ کاٹنے والوں کو کوئی سمجھا دے

کہ ہو سکے تو کسی دل میں راستہ کیجے

پلک پہ ٹھہری ہوئی شب پگھل کے بہہ جائے

کسی اداس فسانے کی ابتدا کیجے

نہ یوں ہو لاش کے پرزے خلا میں کھو جائیں

زمیں کا خاتمہ با لخیر ہو دعا کیجے

اسی کو اپنا کفن کیجیے اور سو رہئے

یہ شب نہ گزرے گی قیسیؔ خدا خدا کیجے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے

اک روشنئ صبح تھی وہ بھی اداس ہے

اک ایک کرکے فاش ہوئے جا رہے ہیں راز

شاید یہ کائنات قرین قیاس ہے

سمجھا گئی یہ تلخئ پیہم فراق کی

اک مژدۂ وصال میں کتنی مٹھاس ہے

ہر چیز آ رہی ہے نظر اپنے روپ میں

اترا ہوا فریب نظر کا لباس ہے

اک گردش دوام میں روز ازل سے ہے

وہ چشم با خبر کہ جو مردم شناس ہے

فطرت کہاں تھی اپنی تمنائیؔ شبنمی

لیکن کسی کی شعلہ نگاہی کا پاس ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم

ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم

ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے

ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم

جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا کا دروازہ

جانے کب کس کو آ گھیرے اپنے مر جانے کا غم

یہ جو بھیڑ ہے بے حالوں کی دوڑ ہے چند نوالوں کی

نان و نمک کا بوجھ لیے جلدی سے گھر جانے کا غم

دریا پار اترنے والے یہ بھی جان نہیں پائے

کسے کنارے پر لے ڈوبا پار اتر جانے کا غم

عزمؔ اداسی کا یہ صحرا یوں قدموں سے لپٹا ہے

جلنے والوں کو مل جائے جیسے ٹھہر جانے کا غم

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

بہت دنوں سے ہمارا خوابوں سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہے

کچھ ایسے کار جہاں میں کھوئے کہ اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے

یہ ناامیدی کی انتہا ہے کہ آگہی کی ہے کوئی منزل

یہ دل کو کیا عارضہ ہوا ہے اسے کسی سے گلہ نہیں ہے

ہمیشہ سچ بولنے کی عادت ہے کیا کریں بولتے رہیں گے

قدم قدم پر ہے آزمائش کہ سہل یہ مرحلہ نہیں ہے

ہم ان کی ہر بات مان لیتے تو زندگی چین سے گزرتی

بس عزت نفس روکتی ہے انا کا یہ مسئلہ نہیں ہے

یوں ہی بھٹکتے پھریں گے کب تک خود اپنے اندر تلاش کر لیں

جہاں مکمل سکوں میسر ہو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے

بس اک پریشاں ہجوم کے ساتھ ہم بھی شامل ہیں چل رہے ہیں

نہ کوئی نقش قدم سلامت کہیں کوئی راستہ نہیں ہے

یہ شام اتنی اداس کیوں ہے کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے

یہ خوں کی سرخی شفق کے رنگوں میں گھل گئی بے وجہ نہیں ہے

ستارۂ صبح ڈھونڈتے ہیں غبار آلودہ موسموں میں

نظر سے اوجھل تو ہو گیا ہے مگر ابھی گمشدہ نہیں ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

چمن ہے کیسا یہ کیسی بہار ہے ساقی

لہو سے صحن چمن لالہ زار ہے ساقی

یہ چیرہ دستیٔ اہل جنوں معاذ اللہ

قبائے لالہ و گل تار تار ہے ساقی

ہے زد میں آتش و آہن کی شہر رامش و رنگ

اداس شام سحر سوگوار ہے ساقی

یہ زخم زخم بدن اور یہ سوختہ لاشیں

عجیب مرحلۂ گیر و دار ہے ساقی

یہ کیا ستم ہے کہ قاتل ہے سرخ رو لیکن

ہوا جو قتل وہی شرمسار ہے ساقی

نہ جانے موسم گل کا شباب کیا ہوگا

اگر یہ آمد فصل بہار ہے ساقی

بجا کہ وقت تغیر پذیر ہے ہر دم

مگر حیات کا کب اعتبار ہے ساقی

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

کوئی نہیں ہمارا پرسان حال اب کے

پہلے سے بھی شکستہ آیا ہے سال اب کے

ہمت تو آ گئی تھی دکھ جھیلنے کی لیکن

آیا ہے غم ہی چل کے اک اور چال اب کے

کی ہے بہت عبادت فرقت میں آنسوؤں نے

یزداں تو کر لے ان کا کچھ تو خیال اب کے

باتوں کی نغمگی سب آہوں میں ڈھل گئی ہے

پھیلا اداسیوں کا کیسا یہ جال اب کے

دو لخت ہو گیا ہے یہ دل نزار اپنا

اٹھا جو دوریوں کا پھر سے سوال اب کے

برگ و ثمر سے عاری تنہا شجر ہو جیسے

جیون کی ہے صفیؔ جی ایسی مثال اب کے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر

پھلوں سے شاخوں سے رہتا ہے بے خبر دن بھر

نہ آبشار نہ پنچھی نہ جانور نہ درخت

عجیب دشت میں کرتا رہا سفر دن بھر

ڈھلی جو شام تو بچے سا سو گیا سورج

دکھا رہا تھا کئی طرح کے ہنر دن بھر

مرے نصیب میں کیا اور کچھ لکھا ہی نہیں

سفر میں رہتا ہوں گھر پر میں رات بھر دن بھر

سویرا ہوتے ہی سب کام پر نکلتے ہیں

اداس اداس سا رہتا ہے میرا گھر دن بھر

قبول کیسے دعا ہو بھلا چراغوں کی

کہ اپنی جان بھی رہ جائے معتبر دن بھر

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

گماں کے تن پہ یقیں کا لباس رہنے دو

کہ میرے ہاتھ میں خالی گلاس رہنے دو

زمانہ گزرا ہے خوشیوں کا ساتھ چھوڑے ہوئے

مرے مزاج کو اب غم شناس رہنے دو

عمل کی رت میں پنپتی ہیں ٹہنیاں حق کی

ملاؤ سچ سے نگاہیں قیاس رہنے دو

وہ خواب کو بھی حقیقت سمجھ کے جیتے ہیں

اسی میں خوش ہیں تو یہ التباس رہنے دو

ملا کے ہاتھ شیاطیں سے دیکھتے ہو مجھے

انانیت کو تم اپنے ہی پاس رہنے دو

مجھے نہ کھینچو خوشی کے حصار میں اے اطیبؔ

اداس رہنا ہے مجھ کو اداس رہنے دو

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

یہ باتوں ہی باتوں میں باتیں بدلنا

کوئی تم سے سیکھے یہ آنکھیں بدلنا

ہم آسیب کے ڈر سے گھر کیوں بدل لیں

پرندوں پہ جچتا ہے شاخیں بدلنا

کچھ اپنا بھی کہہ لو یوں کب تک چلے گا

ردیفیں اچکنا زمینیں بدلنا

وہی غم سے عاری ہیں کار جہاں میں

جنہیں خوب آتا ہے راہیں بدلنا

یہ جینا بھی شطرنج ہی نے سکھایا

کہ چالوں کے لگنے پہ چالیں بدلنا

روایت رہی ہے یہی فی زمانہ

نظریے بدلنا کتابیں بدلنا

یہ تجھ سے ہی سیکھا ہے جان تمنا

ذرا سی اداسی میں بانہیں بدلنا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

ہوس نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارا کیا ارادہ ہے

بدن کار محبت میں برائے استفادہ ہے

کبھی پہنا نہیں اس نے مرے اشکوں کا پیراہن

اداسی میری آنکھوں میں ازل سے بے لبادہ ہے

بھڑک کر شعلہ‌ٔ وحشت لہو میں بجھ گیا ہوگا

ذرا سی آگ تھی لیکن دھواں کتنا زیادہ ہے

اگر تم غور سے دیکھو رخ مہتاب کم پڑ جائے

فلک پر اک ستارے کی جبیں اتنی کشادہ ہے

مجھے مسکن سمجھتے ہیں عجب آسیب ہیں غم کے

میں اک دو سے نمٹ بھی لوں یہ پورا خانوادہ ہے

اسے دھندے سے مطلب ہے وہ دیمک بیچنے والا

اسے وہ خاک سمجھے گا یہ خوابوں کا برادہ ہے

ہم اس سے چاہ کر بھی بچ نہیں سکتے کسی صورت

نبھانا پڑتا ہے اس کو محبت ایک وعدہ ہے

مجھے شطرنج کے خانوں میں چلنا تو سکھائے گا

میں فرضی بن چکا کب کا تو اب تک اک پیادہ ہے

نہ جانے کاتب تقدیر نے کیا لکھ دیا اس پر

مری تقدیر کا صفحہ نہ سیدھا ہے نہ سادہ ہے

میں اس حالت میں زیبؔ آخر کہاں چلتے ہوئے جاؤں

نہ مجھ میں حوصلہ باقی نہ منزل ہے نہ جادہ ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

نہتے آدمی پہ بڑھ کے خنجر تان لیتی ہے

محبت میں نہ پڑ جانا محبت جان لیتی ہے

اسے خاموش دیکھوں تو سنائی کچھ نہیں دیتا

دکھائی کچھ نہیں دیتا نظر جب کان لیتی ہے

اداسی آشنا ہے اس قدر آہٹ سے میری اب

جہاں سے بھی گزرتا ہوں مجھے پہچان لیتی ہے

خوشی تو دے ہی دیتی ہے تری دنیا مجھے لا کر

مگر بدلے میں وہ اس کے مرا ایمان لیتی ہے

بس اک لمحہ لگاتی ہے خوشی آ کر گزرنے میں

اداسی آئے تو صدیوں کی مٹی چھان لیتی ہے

برابر بانٹ دیتی ہے وہ سانسیں خاک زادوں میں

نہ جانے زندگی کس کی دکاں سے بھان لیتی ہے

اسی کے ساتھ چلتی ہے یہ منزل پر پہنچنے تک

یہ راہ غم جسے اپنا مسافر جان لیتی ہے

وہ ہر مچھلی جو مچھلی گھر کی پیداوار ہو صاحب

وہ مچھلی گھر کو ہی اپنا سمندر مان لیتی ہے

ہم اس کے ہاتھ پہ رکھ دیں زمین و آسماں لا کر

مگر وہ ہم فقیروں کا کہاں احسان لیتی ہے

سر مقتل بکھر جاتے ہیں اس میں ڈوبنے والے

محبت ہر قدم پر خون کا تاوان لیتی ہے

اگر بجھنے سے بچنا ہے تو لو سے لو جلاؤ زیبؔ

ہوا جلتے چراغوں سے یہی پیمان لیتی ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں

کس نے کھینچے ہیں یہ رستے صحن میں

کون دیتا ہے اداسی کو فریب

کون اگاتا ہے یہ چہرے صحن میں

کوئی سمجھا ہی نہیں اک لفظ بھی

گونجتے ہیں کتنے لہجے صحن میں

اک شجر بھی نام کو گھر میں نہیں

اڑ رہے ہیں خشک پتے صحن میں

جانے کب ٹوٹے طلسم تیرگی

جانے کب اتریں سویرے صحن میں

چھوڑ جاتا ہے کوئی آنکھیں یہاں

کھول جاتا ہے دریچے صحن میں

رات پھر اوصافؔ یاد آیا کوئی

رات جیسے پھول مہکے صحن میں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا

ان کو وعدہ وفا نہیں کرنا

ہم پہ الزام ہے اداسی کا

رد اس الزام کا نہیں کرنا

تجھ سے بے شک ہمیں بچھڑنا ہے

پر تیرا دل برا نہیں کرنا

شیخ جی رند کو نہ سمجھائیں

اس کو کیا کرنا کیا نہیں کرنا

عاشقی دل لگی کا ساماں ہے

ان کو قیدی رہا نہیں کرنا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

یہ کس ادا سے چمن سے بہار گزری ہے

سلگ سلگ کے تمنا ہزار گزری ہے

حیات دل کی جو اک شب شمار کر بھی لوں

وہ ایک شب ہی بہت بے قرار گزری ہے

اڑا کے لے جو گئی دل کی سسکیاں بلبل

چمن چمن پہ قیامت ہزار گزری ہے

صبا نے چھو جو لیا خوشبوؤں کے آنچل کو

جبین گل پہ شکن ناگوار گزری ہے

یہ کس مقام پہ پہنچی ہے جستجو دل کی

وصال رت تھی مگر سوگوار گزری ہے

وفا اداس ہوئی تھی فریب کھا کھا کر

مری نگاہ سے گزری تو مشک بار گزری ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں

آؤ کہ فلک میں ڈوبتے ہیں

دنیا کی ہزار نعمتوں میں

ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں

آنکھوں سے دکھوں کے سارے منظر

سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں

ہنستے ہوئے بے غبار چہرے

بے وجہ اداس ہو رہے ہیں

کچھ دکھ تو خوشی کے باب میں تھے

باقی بھی نشان پا چکے ہیں

یوں بھی ہے کہ پیار کے نشے میں

کچھ سوچ کہ لوگ رو پڑے ہیں

ساون کی طرح سے لوگ آئے

خوشبو کی طرح سے گزر گئے ہیں

بہتے ہوئے دو بدن سمندر

ہونٹوں کے کنارے آ لگے ہیں

آنکھوں میں یہ کربلا کے منظر

اپنی ہی انا کے رت جگے ہیں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

آ جائے نہ رات کشتیوں میں

پھینکو نہ چراغ پانیوں میں

اک چادر غم بدن پہ لے کر

در در پھرا ہوں سردیوں میں

دھاگوں کی طرح الجھ گیا ہے

اک شخص مری برائیوں میں

اس شخص سے یوں ملا ہوں جیسے

گر جائے ندی سمندروں میں

لوہار کی بھٹی ہے یہ دنیا

بندے ہیں عذاب کی رتوں میں

اب ان کے سرے کہاں ملیں گے

ٹوٹے ہیں جو خواب زلزلوں میں

موسم پہ زوال آ رہا ہے

کھلتے تھے گلاب کھڑکیوں میں

اندر تو ہے راج رت جگوں کا

باہر کی فضا ہے آندھیوں میں

کہرہ سا بھرا ہوا ہے خاورؔ

آنکھوں کے اداس جھونپڑوں میں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی

یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی

سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر اک کھنڈر میں چھپے ملیں گے

کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی

مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا

میں اس کے سینے سے لگ کے بولا نہیں اداسی نہیں اداسی

بدھائی چہکیں دعائیں گونجی تمام چہرے خوشی سے جھومے

قبول ہے تین بار بولی جب ایک پردہ نشیں اداسی

بچھڑنے والے بچھڑتے ٹائم نہ کہہ سکے کچھ نہ سن سکے کچھ

بس ایک فوٹو میں قید کر لی گئی بلا کی حسیں اداسی

شفیق سورج خموش پانی مگر ابھی بھی کمی ہے کچھ کچھ

چراغؔ صاحب کے شعر پڑھ کر کریں مکمل ہمیں اداسی

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

تصور پیار کا جو ہے پرانا کرنے والا ہوں

میں اپنی آپ بیتی کو فسانہ کرنے والا ہوں

جہاں پہ صرف وہ تھی اور میں تھا اور خوشبو تھی

اسی جھرمٹ کو اپنا آشیانہ کرنے والا ہوں

جسے میں چاہتا ہوں وہ کہیں کی شاہزادی ہے

سو اس کے واسطے خود کو شہانہ کرنے والا ہوں

اداسی دیکھ آئی ہے مکاں شہر محبت میں

جہاں میں شام کو جا کر بیانہ کرنے والا ہوں

مجھے معلوم ہے وہ کیا شکایت کرنے والی ہے

اسے معلوم ہے میں کیا بہانہ کرنے والا ہوں

تری آنکھوں تری زلفوں ترے ہونٹھوں سے وابستہ

کئی ارمان ہیں جن کو سیانا کرنے والا ہوں

اسے جو عقل مندی کی بڑی باتیں بتاتے ہیں

انہیں لوگوں کو اب اپنا دوانہ کرنے والا ہوں

چراغؔ اب کون سی مجبوریاں ہیں جو اندھیرا ہے

تمہیں کہتے تھے کہ روشن زمانہ کرنے والا ہوں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

جہاں جہاں پر قدم رکھو گے تمہیں ملے گی وہیں اداسی

یہ راز کچھ اس طرح سمجھ لو مکاں مرا ہے مکیں اداسی

سمے کی آنکھوں سے دیکھیے تو ہر ایک کھنڈر میں چھپے ملیں گے

کہیں پہ بچپن کہیں جوانی کہیں بڑھاپا کہیں اداسی

مرے شبستاں کے پاس کوئی بری طرح کل سسک رہا تھا

میں اس کے سینے سے لگ کے بولا نہیں اداسی نہیں اداسی

بدھائی چہکیں دعائیں گونجی تمام چہرے خوشی سے جھومے

قبول ہے تین بار بولی ایک پردہ نشیں اداسی

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

روح زخمی ہے جسم گھائل ہے

آپ کے انتظار کا پل ہے

غم ہے دونوں کا ضبط سے باہر

چھت پہ میں ہوں اور ایک بادل ہے

میرے ماضی کی سرخ آنکھوں میں

میری محرومیوں کا کاجل ہے

رنج ہے درد ہے اداسی ہے

زندگی ہر طرح مکمل ہے

دل کہاں ہے چراغؔ سینہ میں

ایک طوفان جیسی ہلچل ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

مزاج دوست میں کچھ برہمی نظر آئی

مرے خلوص میں شاید کمی نظر آئی

تمہارے آنے سے سارا چمن مہک اٹھا

کلی کلی پہ تر و تازگی نظر آئی

یہ انقلاب زمانہ ہے یا فسون نظر

ہنسی بھی آپ کی محبوب سی نظر آئی

یہی تو درد جدائی کا فیض ہے مجھ پر

سسکتی سانس اکھڑتی ہوئی نظر آئی

یہ زخم عشق کا احساں ہے راہ الفت میں

اداس دل میں بھی اک روشنی نظر آئی

ہے پر فریب یہ طرز عمل حسینوں کا

ذرا سی چھیڑ پہ وارفتگی نظر آئی

ہجوم ماہ وشاں میں عظیمؔ رہ کے مجھے

قدم قدم پہ بڑی بے بسی نظر آئی

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے

مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہے

بہار صبح ازل پھر گئی نگاہوں میں

وہی فضا ترے کوچہ کے آس پاس بھی ہے

جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف

ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے

خلوص نیت رہ رو پہ منحصر ہے عظیمؔ

مقام عشق بہت دور بھی ہے پاس بھی ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

عجیب لگتا ہے یوں ہی بچھا ہوا بستر

یہ ایک عمر سے خالی پڑا ہوا بستر

سنا رہا ہے کہانی ہمیں مکینوں کی

مکاں کے ساتھ یہ آدھا جلا ہوا بستر

نہ جانے کون سا لمحہ بناۓ ہجرت ہو

میں کھولتا ہی نہیں ہوں بندھا ہوا بستر

اداسیاں نہ شکن در شکن نظر آتیں

ترے وجود سے ہوتا بھرا ہوا بستر

اڑا رہا ہے ہماری محبتوں کا مذاق

یہ ایک دوجے سے ہٹ کر کیا ہوا بستر

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

گھر کا رستہ جو بھول جاتا ہوں

کیا بتاؤں کہاں سے آتا ہوں

ذہن میں خواب کے محل کی طرح

خود ہی بنتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں

آج بھی شام غم! اداس نہ ہو

مانگ کر میں چراغ لاتا ہوں

میں تو اے شہر کے حسیں رستو

گھر سے ہی قتل ہو کے آتا ہوں

روز آتی ہے ایک شخص کی یاد

روز اک پھول توڑ لاتا ہوں

ہائے گہرائیاں ان آنکھوں کی

بات کرتا ہوں ڈوب جاتا ہوں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

مجھے تو یہ بھی فریب حواس لگتا ہے

وگرنہ کون اندھیروں میں ساتھ چلتا ہے

بکھر چکی جرس کاروان گل کی صدا

اب اس کے بعد تو واماندگی کا وقفہ ہے

جو دیکھیے تو سبھی کارواں میں شامل ہیں

جو سوچئے تو سفر میں ہر ایک تنہا ہے

کسے خبر کہ یہ دوری کا بھید کیا شے ہے

قدم اٹھاؤ تو رستہ بھی ساتھ چلتا ہے

ابھر رہے ہیں جو منظر فریب منظر ہیں

جو کھل رہا ہے دریچہ تو وہم اپنا ہے

طلب تو کر کسے معلوم کامگار بھی ہو

زمانہ عیب و ہنر اب کہاں پرکھتا ہے

تری صدا ہے کہ ظلمت میں روشنی کی لکیر

ترا بدن ہے کہ نغموں کا دل دھڑکتا ہے

اداسیوں کو نہ چھونے دے پھول سا پیکر

ابھی کچھ اور تجھے اہل غم پہ ہنسنا ہے

مری وفا پہ بھی اے دوست اعتبار نہ کر

مجھے بھی تیری طرح سب سے پیار کرنا ہے

یہ پوچھنا ہے کہ غیروں سے کیا ملا تجھ کو

تری جفا کی شکایت تو کون کرتا ہے

چمن چمن ہے اگر گل فشاں تو کیا کیجے

ہمیں تو اپنے خرابے کو ہی پلٹنا ہے

یہ ایک چاپ جو برسوں میں سن رہا ہوں میں

کوئی تو ہے جو یہاں آ کے لوٹ جاتا ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

وہی حسرتیں وہی آرزو مری زندگی میں خوشی نہیں

تری چشم ناز کو کیا کہوں مرے سوز غم میں کمی نہیں

نہ نسیم ہے نہ بہار ہے نہ گلوں میں اب ہے شگفتگی

ہے اداسیوں کا عجب سماں کہ کسی کے لب پہ ہنسی نہیں

میں ہوں مشکلوں میں گھرا ہوا ترے در سے دور پڑا ہوا

تری یاد سے ہوں ضرور خوش کوئی اور وجہ خوشی نہیں

وہ نگاہ ناز سے آگ جو مرے دل میں تم نے لگائی تھی

وہ دبی دبی سی ضرور ہے مگر آج تک وہ بجھی نہیں

نہ وہ گرمیاں نہ وہ مستیاں نہ وہ سوز و ساز ہے ساقیا

ترے میکدے میں مرے لئے کسی شے میں جلوہ گری نہیں

میں وہ عندلیب بہار ہوں جسے باغباں نے مٹا دیا

میں وہ گلستان حیات ہوں کہ شگفتہ کوئی کلی نہیں

ہے کہاں وہ اسلمؔ خوش نوا جو رہین عیش و نشاط تھا

ترے غم نے اس کو مٹا دیا کہ خوشی سے اس کو خوشی نہیں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے

تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے

سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے

خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے

دھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں

لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے

اب ان سے دیکھیے کب منزلیں ہویدا ہوں

اٹھا کے لایا ہوں کچھ نقش تیری راہوں سے

بلک رہا ہے نگاہوں میں حسرتوں کا ہجوم

لٹک رہی ہیں پتنگیں اداس کھمبوں سے

اب اور کس سے ترے غم کا تذکرہ کرتے

تمام رات رہی گفتگو ستاروں سے

بس ایک جست میں افلاک سے نکل جاؤں

پھلانگ جاؤں زمیں کو میں چار قدموں سے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا

مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا

عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو

پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا

مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں

ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا

کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی

لہولہان لبوں پر مرے بھی نغمہ تھا

میں بچ کے جاتا تو کس سمت کس جگہ کہ مجھے

کہیں زمیں نے کہیں آسماں نے گھیرا تھا

ذرا پکار کے دیکھوں نہ ان دیاروں میں

مرا خیال ہے اک شخص میرا اپنا تھا

مہک لہو کی تھی یا تیرے پیرہن کی تھی

مرے بدن سے ہیولیٰ سا ایک لپٹا تھا

اداس گھڑیو ذرا یہ پتہ تو دے جاؤ

کہاں گیا وہ خوشی کا جو ایک لمحہ تھا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

ہر اک کتاب نجومی غلط بتاتا ہے

مری حیات کا جب زائچہ بناتا ہے

کسی حویلی میں جب وحشتیں پنپتی ہیں

بدن پہ سبزۂ نورستہ لہلہاتا ہے

ہماری نیند میں گرداب بننے لگتے ہیں

اداس کمرہ عجب قہقہے لگاتا ہے

مہیب تیرہ گپھا میں بدن ہے سہما ہوا

بس ایک جگنو ہے جو حوصلہ بڑھاتا ہے

نہ جانے کتنے نئے خوف ڈسنے لگتے ہیں

وہ مجھ سے ملنے کا جب سلسلہ بڑھاتا ہے

اسے حریف کہو وصل رت کے نغموں کا

درخت سے جو پرندے اڑائے جاتا ہے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

صرف میرے لیے نہیں رہنا

تم مرے بعد بھی حسیں رہنا

پیڑ کی طرح جس جگہ پھوٹا

عمر بھر ہے مجھے وہیں رہنا

مشغلہ ہے شریف لوگوں کا

صورت مار آستیں رہنا

دلی اجڑی اداس بستی میں

چاہتے تھے کئی مکیں رہنا

مر نہ جائے تمہاری پھلواری

قریۂ زخم کے قریں رہنا

مسکراتا ہوں عادتاً اسلمؔ

کون سمجھے مرا غمیں رہنا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

دیکھ کے ارزاں لہو سرخئ منظر خموش

بازئ جاں پر مری تیغ بھی ششدر خموش

عکس مرا منتشر اور یہ عالم کہ ہے

ایک اک آئینہ چپ ایک اک پتھر خموش

تیغ نفس کو بہت ناز تھا رفتار پر

ہو گئی آخر مرے خوں میں نہا کر خموش

عرصۂ حیرت میں گم آئنہ خانے مرے

خیمۂ مژگاں میں ہیں خواب کے پیکر خموش

خوف سے سب دم بخود فکر سے چہرے اداس

موج ہوا کیوں ہے چپ کیوں ہے سمندر خموش

کوئی علامت تو ہو کوئی نشاں تو ملے

کیوں ہے لہو بے صدا ہو گئے کیوں سر خموش

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

اداس آنکھیں غزال آنکھیں

جواب آنکھیں سوال آنکھیں

ہزار راتوں کا بوجھ اٹھئے

وہ بھیگی پلکیں وہ لال آنکھیں

وہ صبح کا وقت نیند کچی

خمار سے بے مثال آنکھیں

بس اک جھلک کو تڑپ رہی ہیں

رہین شوق وصال آنکھیں

جھکی جھکی سی مندی مندی سی

امین ناز جمال آنکھیں

وہ ہجر کے موسموں سے الجھی

تھکی تھکی سی نڈھال آنکھیں

نہ جانے کیوں کھوئی کھوئی سی ہیں

بجھی بجھی پر خیال آنکھیں

ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی

محبتوں سے نہال آنکھیں

اگر نگاہوں سے مل گئیں تو

کریں گی جینا محال آنکھیں

چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ

بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

پہچان زندگی کی سمجھ کر میں چپ رہا

اپنے ہی پھینکتے رہے پتھر میں چپ رہا

لمحے اندھیرے دشت میں پیتے رہے مجھے

مجھ میں تھا روشنی کا سمندر میں چپ رہا

میرے لہو کے رنگ کا ایسا اثر ہوا

منصف سے بولتا رہا خنجر میں چپ رہا

بوجھل اداس رات تھی خاموش تھی ہوا

پھولوں کی آگ میں جلا بستر میں چپ رہا

اسرارؔ کیوں کسی سے میں کرتا شکایتیں

وہ آخری تھا راہ کا پتھر میں چپ رہا

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

شوق نظر گلاب سے بھی مطمئن نہیں

چشم اداس خواب سے بھی مطمئن نہیں

کس عمر میں نہ جانے قناعت پسند ہو

یہ دل کہ دستیاب سے بھی مطمئن نہیں

اب تیرے خد و خال پہ کیا اکتفا کرے

یہ آنکھ ماہتاب سے بھی مطمئن نہیں

بس یوں ہی بے قراری کی لت میں ہوں مبتلا

ویسے میں اضطراب سے بھی مطمئن نہیں

میرے بھلے دنوں پہ بھی وہ معترض رہا

اب ساعت خراب سے بھی مطمئن نہیں

کتنوں کو راہ راست پہ لایا حسنؔ مگر

درویش اس ثواب سے بھی مطمئن نہیں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

کہاں گئے شب مہتاب کے جمال زدہ

اکیلا شہر میں پھرتا ہوں میں خیال زدہ

تمہاری بزم سے جب بھی اٹھے تو حال زدہ

کبھی جواب کے مارے کبھی سوال زدہ

ترے فراق کے مارے نظر تو آتے ہیں

نگار شعر کہاں ہیں ترے وصال زدہ

نہ دیکھو یوں مری جانب اداس آنکھوں سے

کہ مجھ سے پہلے بھی گزرے بہت کمال زدہ

ستارے ڈوب رہے ہیں جمیلؔ سو جاؤ

یہ کاروبار جہاں کب نہ تھا مآل زدہ

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

دل ہے مسرت غم جاناں لئے ہوئے

لیکن ملال تلخیٔ دوراں لئے ہوئے

اے دل نہ ہو اداس خدارا نہ ہو اداس

احساس تشنہ کامیٔ ارماں لئے ہوئے

ہر مشکل حیات ہے خود اپنی آڑ میں

آسانیٔ حیات کا ساماں لئے ہوئے

ہر کم نظر کو دے کے زمانے کی راحتیں

میں خوش ہوں اپنا قلب پریشاں لئے ہوئے

اے رہروان ساحل امید ہوشیار

ساحل ہے اپنی گود میں طوفاں لئے ہوئے

اے دوست اپنے آپ پہ نازاں رہا ہوں میں

اک عزم سر بلندیٔ انساں لئے ہوئے

امید التفات پہ بیٹھا ہوں مطمئن

سرمایۂ ندامت عصیاں لئے ہوئے

اس انجمن میں جا تو رہا ہوں مگر عتیقؔ

دل میں کشاکش غم دوراں لئے ہوئے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

کہانیاں خموش ہیں پہیلیاں اداس ہیں

ہنسی خوشی کے دن گئے حویلیاں اداس ہیں

کبھی کبھی تو باغ میں چلا آ گھومتا ہوا

کہ ٹوٹنے کی چاہ میں چمیلیاں اداس ہیں

پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگر

ابھی تلک گلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں

یہ چاندنی بہار یہ کلی یہ جھیل یہ فضا

ترے بغیر تیری سب سہیلیاں اداس ہیں

جھلس گیا ہے پیڑ یہ حنا کا جب سے دھوپ میں

ہمارے گاؤں کی نئی نویلیاں اداس ہیں

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

پھول پر اوس ہے عارض پہ نمی ہو جیسے

اس کے چہرے پہ مری آنکھ دھری ہو جیسے

اس کی پلکوں پہ رکھوں ہونٹ تو یوں جلتے ہیں

اس کے سینے میں کہیں آگ لگی ہو جیسے

جھیل کے ہونٹ پہ سورج کی کرن لہرائی

میرے محبوب کے ہونٹوں پہ ہنسی ہو جیسے

اب بھی رہ رہ کے مرے دل میں سسکتا ہے کوئی

اس میں مورت کوئی بچپن کی چھپی ہو جیسے

خط میں اس طرح وہ تادیب مجھے کرتی ہے

عمر میں مجھ سے کئی سال بڑی ہو جیسے

میرے بچپن کی پجارن نے مجھے یوں دیکھا

اپنے بھگوان کے چرنوں میں دکھی ہو جیسے

تجھ سے مل کر بھی اداسی نہیں جاتی دل کی

تو نہیں اور کوئی میری کمی ہو جیسے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

اداس بیٹھا دیے زخم کے جلائے ہوئے

انہیں میں سوچ رہا ہوں جو اب پرائے ہوئے

مجھے نہ چھوڑ اکیلا جنوں کے صحرا میں

کہ راستے یہ ترے ہی تو ہیں دکھائے ہوئے

گھرا ہوا ہوں میں کب سے جزیرۂ غم میں

زمانہ گزرا سمندر میں موج آئے ہوئے

کبھی جو نام لکھا تھا گلوں پہ شبنم سے

وہ آج دل میں مرے آگ ہے لگائے ہوئے

زمانہ پھول بچھاتا تھا میری راہوں میں

جو وقت بدلا تو پتھر ہے اب اٹھائے ہوئے

حیا کا رنگ وہی ان کا میرے خواب میں بھی

دبائے دانتوں میں انگلی نظر جھکائے ہوئے

میں تم سے ترک تعلق کی بات کیوں سوچوں

جدا نہ جسموں سے انظرؔ کبھی بھی سائے ہوئے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

چراغ ہاتھوں کے بجھ رہے ہیں ستارہ ہر رہگزر میں رکھ دے

اتار دے چاند اس کے در پر سیاہ دن میرے گھر میں رکھ دے

کہیں کہیں کوئی ربط مخفی عبارت منتشر میں رکھ دے

گریز پر ہیں نشان سارے طرف بھی کوئی سفر میں رکھ دے

طلب طلب آئنہ صفت ہے خراب و خستہ ہیں عکس سارے

یہ نیکیاں بھی ہیں سر برہنہ لطافت خیر شر میں رکھ دے

نشاط آور ہے یہ اداسی کا ایک اڑتا ہوا سا لمحہ

مبادا طاق رجا ہو ویراں شرارہ اک چشم تر میں رکھ دے

یہ صرف و حاصل گزیدہ دنیا نہ دن ہی میرے نہ میری راتیں

کہاں تلک دیکھتا ہی جاؤں سماعتیں کچھ نظر میں رکھ دے

مرے خدا میرے جسم و جاں کے خدا مرے ہاتھ جھڑ نہ جائیں

دعا تہ سنگ لب گڑی ہے اثر ذرا سا اثر میں رکھ دے

بدن ہے یا قلعۂ ہوا ہے کہیں سے آؤں کہیں سے جاؤں

ہزاروں رخنے پڑے ہوے ہیں اٹھا کے دیوار در میں رکھ دے

Udas Quotes in Urdu
Udas Quotes in Urdu

میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں

کسی اور شخص سے دل لگا کے بھی دیکھنا

سر شاخ دل کوئی زخم ہے کہ گلاب ہے

مری جاں کی رگ کے قریب آ کے بھی دیکھنا

کوئی تارہ چپکے سے رکھنا اس کی ہتھیلی پر

وہ اداس ہے تو اسے ہنسا کے بھی دیکھنا

وہ جو شام تیری پلک پہ آ کے ٹھہر گئی

مری روشنی کی حدوں میں لا کے بھی دیکھنا

بڑی چیز ہے یہ سپردگی کا مہین پل

نہ سمجھ سکو تو مجھے گنوا کے بھی دیکھنا


ہو گئی شام ڈھل گیا سورج

دن کو شب میں بدل گیا سورج

گردش وقت کٹ گئی آخر

لو گہن سے نکل گیا سورج

دن بھی جیسے اداس رہتا ہے

ہائے کتنا بدل گیا سورج

ہم نے جس کوچے میں گزاری شب

اس جگہ سر کے بل گیا سورج

اب بہت ہو چکے اٹھو نادرؔ

چڑھ گیا دن نکل گیا سورج


کرتا میں اب کسی سے کوئی التماس کیا

مرنے کا غم نہیں ہے تو جینے کی آس کیا

جب تجھ کو مجھ سے دور ہی رہنا پسند ہے

سائے کی طرح رہتا ہے پھر آس پاس کیا

تجھ سے بچھڑ کے ہم تو یہی سوچتے رہے

یہ گردش حیات نہ آئے گی راس کیا

اب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا

تیرا قیاس گر ہے یہی تو قیاس کیا

مانا کہ تیرا ملنا ہے مشکل بہت مگر

ہر لمحہ ٹوٹ جائے اب ایسی بھی آس کیا

اک عمر ہو گئی ہے یہی سوچتے ہوئے

اپنی کتاب زیست کا ہے اقتباس کیا

نادرؔ کہیں تو سیر کو باہر بھی جائیے

ہر دم کسی کی یاد میں رہنا اداس کیا


کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے

مجھے کیا جانتا کوئی نہیں ہے

کسے آواز دوں کس کو پکاروں

یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے

مری باتیں ہی لا یعنی ہیں گویا

کہ میری مانتا کوئی نہیں ہے

بظاہر دور ہیں اک دوسرے سے

دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے

میں اپنے حال میں جیسا ہوں خوش ہوں

کسی کا آسرا کوئی نہیں ہے

اداسی کا سبب کیا پوچھتے ہو

اداسی مسئلہ کوئی نہیں ہے

بس اک اپنے سوا دنیا میں نادرؔ

سب اچھے ہیں برا کوئی نہیں ہے


پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے

تجھ سے بچھڑ کے گاؤں میں سارے اداس تھے

سوچا تو تو مگن تھا فقط میری ذات میں

دیکھا تو کتنے لوگ ترے آس پاس تھے

جب ہم نہ مل سکے تو ہمیں ماننا پڑا

بستی کے لوگ کتنے ستارہ شناس تھے

دل اس پہ مطمئن تھا کہ ہم ایک ہو گئے

لیکن کئی گماں مری سوچوں کے پاس تھے

وہ پھول ہو ستارہ ہو شبنم ہو جھیل ہو

تیری کتاب حسن کے سب اقتباس تھے

اشفاقؔ اس کو دیکھ کے ہم سے غزل ہوئی

مدت سے ورنہ ہم تو یوں ہی محو یاس تھے


نظر نظر ہے نظر عین شین قاف نہیں

ملی ہے مجھ کو خبر عین شین قاف نہیں

یہ غین میم تو جینا محال کر دے گا

برابری میں اگر عین شین قاف نہیں

یہ لکھ کے کاٹنا خط میں اب آپ بند کریں

اگر مگر کا سفر عین شین قاف نہیں

اداسی آنسو عداوت نصیحتیں رنجش

بغیر پھل کا شجر عین شین قاف نہیں

تمہارے بعد تو کٹ مر رہے ہیں آپس میں

تمہارے بعد ادھر عین شین قاف نہیں

اداسی دیکھ کے اشرفؔ کی رب نے فرمایا

میں دل بناؤں گا پر عین شین قاف نہیں


رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے

بارش سے کھڑکی کے شیشے بھیگ گئے

بارش کی بوچھاڑ تو اندر تک آئی

خشک تنوں کے سب اندازے بھیگ گئے

بھیگ گئے سب اپنی اپنی یادوں میں

کچھ روتے کچھ ہنستے ہنستے بھیگ گئے

بھیگ گئے سب خط رکھے الماری میں

اور ان میں سب لکھے وعدے بھیگ گئے

دیکھ دیے کی لو تو نے تو دیکھے ہیں

کتنی آنکھیں کتنے تکیے بھیگ گئے

بادل کے ہم راہ سکول سے نکلے تھے

گھر تک آتے آتے بستے بھیگ گئے

اڑتے پنچھی تیری منزل دور ہے کیا

دیکھ مسافر تیرے کپڑے بھیگ گئے

رات ستارے آنگن اور اداس آنکھیں

تیری باتیں کرتے کرتے بھیگ گئے

باہر آ کر دیکھ یہ منظر شہزادی

ہم تیری دہلیز پہ بیٹھے بھیگ گئے

جانے کیسے موسم کی یہ بارش تھی

میری آنکھیں تیرے سپنے بھیگ گئے

جس بستی میں دھوپ سا روپ چمکتا تھا

اس بستی کے سارے رستے بھیگ گئے


شب فراق تھی خاموشی تھی اداسی تھی

یہ تین بہنیں تھیں جن میں بڑی اداسی تھی

مرے وجود سے اترا جہاں میں بار الم

مرے نصیب میں بھاگیرتھی اداسی تھی

تمہیں ہی پاس وفا تھا نہیں وگرنہ کبھی

ہمارے پاس بھی اچھی بھلی اداسی تھی

وہ مسکرا تو رہا تھا بیان کرتے ہوئے

مگر بیان میں اس کے بسی اداسی تھی

ہرا ہوا تو ہرا ہی رہا شگفتہ دل

شریر زخم تھا اندر چھپی اداسی تھی

میں اپنے شہر کا سب سے اداس لڑکا تھا

مرے قریب لڑکپن سے ہی اداسی تھی


بیٹھنا ساحل پہ دریا کی روانی دیکھنا

اور خالی وقت میں فلمیں پرانی دیکھنا

دیکھنا چاہو اداسی میں شجر ڈوبے ہوئے

تم پرندوں کی کبھی نقل مکانی دیکھنا

انتہائی سکھ کنہیں آنکھوں میں میرے خواب ہوں

انتہائی دکھ انہیں آنکھوں میں پانی دیکھنا

روز سو جانا فلک کی وسعتوں کو اوڑھ کر

روز خوابوں میں زمیں کی بے کرانی دیکھنا

طے ہوا ہے آئے گا وہ ملنے آدھی رات کو

نیم شب میں آپ نور کہکشانی دیکھنا


روز تجھ کو یاد کرنے کی تمنا بھی نہیں

بھول جانے کا مگر ہم میں کلیجہ بھی نہیں

غیب ہی سے معجزہ ہو بات تب شاید بنے

دشت امکان میں کھڑا ہوں اور رستہ بھی نہیں

زخم بھی رستے نہیں طنز زمانہ بے اثر

ہے مرض میرا یگانہ دور ہوتا بھی نہیں

پڑ نہ جانا عشق میں تم شاعروں کے جان لو

کب غزل کر دیں یہ خارج کچھ بھروسہ بھی نہیں

نکہت گل کی طرح بکھرا دیا اس کا پتہ

منتشر ہوں عشق رکھنے کا سلیقہ بھی نہیں

ذات میں میری اداسی کا ہے نقش معتبر

ذات میں میری خوشی کا تو ٹھکانا بھی نہیں

آگ چولھے کی جلی تو خواہشیں ایندھن بنیں

راکھ ہی میں دب گیا شعلہ جو بھڑکا بھی نہیں


بس ایک سکے سے دھرتی خرید سکتا ہوں

میں اپنے خواب میں کچھ بھی خرید سکتا ہوں

مجھے ترے لیے خوشیاں خریدنی ہیں دوست

سو کیا میں تیری اداسی خرید سکتا ہوں

کوئی عزیز مرا پیاسا مرنے والا ہے

میں خون بیچ کے پانی خرید سکتا ہوں

کسی کی بھوک مٹا کر بھی بھوک مٹتی ہے

میں روٹی بیچ کے روٹی خرید سکتا ہوں

مری سمجھ کو سمجھنا سمجھ سے باہر ہے

جو میں نے بیچا ہے میں ہی خرید سکتا ہوں


ہے غلط فہمی ہوا کی اس سے ڈر جاتا ہوں میں

حوصلہ بن کر چراغوں میں اتر جاتا ہوں میں

نیند کی آغوش میں تھک کر گروں میں جب کبھی

خواب جی اٹھتے ہیں میرے اور مر جاتا ہوں میں

گھر مکینوں سے بنا کرتا ہے پتھر سے نہیں

بس اسی امید پر ہر روز گھر جاتا ہوں میں

میں نے تجھ سے کیا کبھی پوچھا کدھر جاتی ہے تو

اے شب آوارہ تجھ کو کیا کدھر جاتا ہوں میں

میرے جانے پر نہ ہو گھر کی اداسی یوں ملول

تو اگر گھبرا گئی ہے تو ٹھہر جاتا ہوں میں


ہر دم کچھ اضطراب کے ایسے بھنور میں ہوں

جیسے کسی دعائے ضرر کے اثر میں ہوں

بہہ جاؤں بن کے سیل رواں اس زمین پر

میں اک اداس شام کسی چشم تر میں ہوں

خود کی تلاش میں ہی زمانے گزر گئے

کیا اپنی جستجو ہی کے دام سحر میں ہوں

جیسے کسی اجاڑ خرابے میں گونج ہو

موجود اس طرح ترے دیوار و در میں ہوں

منزل شناس بن نہ سکا میں تو کیا ہوا

اتنا تو جانتا ہوں کہ راہ سفر میں ہوں

عاصمؔ مزاج میں ہیں تمنائیں اس طرح

جیسے میں آج تک کوئی بچہ سا گھر میں ہوں


درمیاں فاصلہ بڑھاتے ہوئے

کتنا خوش تھا وہ دور جاتے ہوئے

خون پوروں سے ہو گیا جاری

برف سے انگلیاں ہٹاتے ہوئے

ہم کسی اور کو بھی دیکھیں کیا

آپ کو آئنہ دکھاتے ہوئے

کیا اداسی اترنے لگتی ہے

میرؔ کا شعر گنگناتے ہوتے

ایک نقطے پہ مل گئے دونوں

ہجر کا دائرہ بناتے ہوئے

جس کے درشن کو نین ترسے ہیں

کیسے دیکھیں گے اس کو جاتے ہوئے

ہم کنارے سے آ لگے عاصمؔ

آخری شخص کو بچاتے ہوئے


یہ جسم و روح کا رشتہ بھی بوجھ لگتا ہے

خود اپنے آپ کا سایہ بھی بوجھ لگتا ہے

کسی کو چاہتے رہنا بھی بوجھ لگتا ہے

کسی کے ہجر میں رونا بھی بوجھ لگتا ہے

یہ کس مقام پہ لائی ہیں شہرتیں مجھ کو

کہ اپنے نام کا چرچا بھی بوجھ لگتا ہے

تمہارے ساتھ ہی گزری جو زندگی گزری

تمہارے بعد تو جینا بھی بوجھ لگتا ہے

کسی کو میری اداسی اداس کرتی ہے

کسی کو میرا یہ ہنسنا بھی بوجھ لگتا ہے

اب آنکھیں اس طرح بوجھل ہوئی ہیں اے عاصمؔ

کہ کوئی خواب سہانا بھی بوجھ لگتا ہے


دلوں کی خاک اڑنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

کسی کے جینے مرنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

تمہارے گھر کے رستے کی اداسی ختم ہو جائے

مجھے گھر تک بلانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

تمہیں اچھی نہیں لگتیں مری خوشیاں بتاؤ کیوں

مرے ہنسنے ہنسانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

تمہیں تو چھت میسر ہے سلامت ہے تمہارا گھر

مرا گھر ڈوب جانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

مرے اطراف دشمن ہیں پرائے اور اپنے بھی

لڑے تنہا زمانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے


میں کیا کہوں کہ یہ کیونکر اداس رہتا ہے

تمہارے بعد تو دل محو یاس رہتا ہے

میں کیا کروں گا بھلا زیست بن ترے جاناں

کہیں رہوں میں یہ دل بد حواس رہتا ہے

نہ جانے کیسے اذیت سمیٹتا ہی رہا

وفا شناس جو دل کی اساس رہتا ہے

میں کیوں کہوں کہ میں تنہا ہوں ہجر کا مارا

وہ بن کے خوشبو یہیں آس پاس رہتا ہے

میں بن کے اس کی تمنا اڑا پھروں تنہا

وہ بن کے میری وفا کا لباس رہتا ہے


ہے مستقل یہی احساس کچھ کمی سی ہے

تلاش میں ہے نظر دل میں بیکلی سی ہے

کسی بھی کام میں لگتا نہیں ہے دل میرا

بڑے دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے

بڑی عجیب اداسی ہے مسکراتا ہوں

جو آج کل مری حالت ہے شاعری سی ہے

گزر رہے ہیں شب و روز بے سبب میرے

یہ زندگی تو نہیں صرف زندگی سی ہے

تھکی تو ایک محبت نے موند لی آنکھیں

ہر ایک نیند سے اب میری دشمنی سی ہے

ترے بغیر کہاں ہے سکون کیا آرام

کہیں رہوں مری تکلیف بے گھری سی ہے

نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ

یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے


سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں

اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں

مرے وجود کے اندر ہے اک قدیم مکان

جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں

کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا

کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں

جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں

جسے میں اپنے سخن میں اتار لیتی ہوں

میں اب بھی یاد تو کرتی ہوں عاصمہ اس کو

اسی کا غم ہے جسے میں سہار لیتی ہوں


تیری یادیں بحال رکھتی ہے

رات دل پر وبال رکھتی ہے

شب غم کی یہ راگنی بن میں

بانسری جیسی تال رکھتی ہے

دل کی وادی سے اٹھنے والی کرن

وحشتوں کو اجال رکھتی ہے

بام و در پر اترنے والی دھوپ

سبز رنگ ملال رکھتی ہے

شام کھلتی ہے تیرے آنے سے

لب پہ تیرا سوال رکھتی ہے

ایک لڑکی اداس صفحوں میں

اک جزیرہ سنبھال رکھتی ہے

آخری دیپ کی لرزتی لو

مہر و مہ سا جمال رکھتی ہے


شام دل کو بجھائے جاتی ہے

تیری باتیں سنائے جاتی ہے

یہ اداسی بھی خوب صورت ہے

مجھ کو رنگیں بنائے جاتی ہے

رات کی آنکھ سے اسے دیکھو

کیسے منظر دکھائے جاتی ہے

ایک لمحے کی روشنی مجھ میں

ایک دنیا بسائے جاتی ہے

کتنی گمبھیر ہے یہ تاریکی

میرے اندر سمائے جاتی ہے

ہجر کی شب ہماری جانب کیوں

دیکھ کر مسکرائے جاتی ہے

زندگی بے وفا سہی لیکن

ساتھ پھر بھی نبھائے جاتی ہے

آپ تعبیر جانتے ہوں گے

چاندنی بوکھلائے جاتی ہے

کوئی خوشبو گریزاں ہے مجھ سے

کوئی آہٹ بلائے جاتی ہے

زندگی لاڈلی سی شہزادی

میرا آنچل اڑائے جاتی ہے


ہماری یاد انہیں آ گئی تو کیا ہوگا

گھٹا ادھر کی ادھر چھا گئی تو کیا ہوگا

ابھی تو بزم میں قائم ہے دو دلوں کا بھرم

نظر نظر سے جو ٹکرا گئی تو کیا ہوگا

دھڑک رہا ہے سر شام ہی سے دل کم بخت

وصال یار کی صبح آ گئی تو کیا ہوگا

یہ سوچتا ہوں کہ دل کی اداس گلیوں سے

تمہاری یاد بھی کترا گئی تو کیا ہوگا

سرور آ گیا رندوں کو دیکھتے ہی سبو

جو میکدے پہ گھٹا چھا گئی تو کیا ہوگا

وہ بات جس سے دھواں اٹھ رہا ہے سینے سے

وہ بات لب پہ اگر آ گئی تو کیا ہوگا

وفا کا دم نہ بھرو دوستو تم اسلمؔ سے

تمہیں جو وقت پہ جھٹلا گئی تو کیا ہوگا


یادوں کا لمس ذہن کو چھو کر گزر گیا

نشتر سا میرے جسم میں جیسے اتر گیا

موجوں کا شور مجھ کو ڈراتا رہا مگر

پانی میں پاؤں رکھتے ہی دریا اتر گیا

پیروں پہ ہر طرف ہی ہواؤں کا رقص تھا

اب سوچتا ہوں آج وہ منظر کدھر گیا

دو دن میں خال و خط مرے تبدیل ہو گئے

آئینہ دیکھتے ہی میں اپنے سے ڈر گیا

اپنا مکان بھی تھا اسی موڑ پر مگر

جانے میں کس خیال میں اوروں کے گھر گیا

اس دن مرا یہ دل تو بہت ہی اداس تھا

شاید سکون ہی کے لئے در بہ در گیا

میں سنگ ہوں نہ اور وہ شیشہ ہی تھا مگر

اسلمؔ جو اس کو ہاتھ لگایا بکھر گیا


کہیں پہ قرب کی لذت کا اقتباس نہیں

ترے خیال کی خوشبو بھی آس پاس نہیں

ہزار بار نگاہوں سے چوم کر دیکھا

لبوں پہ اس کے وہ پہلی سی اب مٹھاس نہیں

سجا کے بوتلیں ٹیبل پہ منتظر ہوں مگر

قریب و دور نگاہوں کے وہ گلاس نہیں

سمندروں کا یہ نمکین پانی کیسے پیوں

پیاسا ہوں مگر اتنی زیادہ پیاس نہیں

یہ اور بات کہ مجھ سے بچھڑ کے خوش ہے مگر

وہ کیسے کہہ دے کہ میں ان دنوں اداس نہیں

تمہارے کپڑے کہیں گرد میں نہ اٹ جائیں

یہ خشک پتوں کا بستر ہے سبز گھاس نہیں

بجھی بجھی سہی یہ دھوپ کم نہیں اسلمؔ

اب اس کے بعد کسی روشنی کی آس نہیں


Conclusion – Udaasi Not Weakness; It Is Power in Quiet

To be udas means to be human. You have experienced something genuine.

 Pain is not a foe but a mentor.

These Udas quotes in Urdu are very clear – it is permissible to feel, to take a break, to breathe.

 All emotions, even the sad ones, have their own light — they impart patience, empathy, and depth.

“Udaasi kabhi kabhi zaroori hoti hai,

 Kyunke khushi ka asli maza tabhi samjha jata hai.”

 (Sometimes sadness is necessary — only then do we understand the true value of happiness.)

Let the heavy words stay with you for some time if your heart feels heavy.

 Perhaps you don’t need to resolve your emotions but rather feel them.

Thank You Message

We sincerely appreciate your for reading these 50+ Udas Quotes in Urdu.

We are praying that these sincere expressions made you feel understood and less lonely. 🌧

In case you found any quote touching, do not hesitate to make it known, for it may happen that your shared feeling will be the one that brings comfort to another person.

Do not forget, sorrow might go away, but it will not take the wisdom with it.

FAQs

Q1: What are Udas’ quotes in Urdu?

They are very expressive and emotional Urdu words that convey sadness, heartache, and deep personal feelings in a very poetic way.

Q2: Are Udas’ quotes only about pain?

 Not necessarily. On the contrary, many of them impart moral lessons about one’s strength, the process of self-healing, and the richness of emotions.

Q3: Can I share these Udas quotes on social networks?

 The answer is yes! These quotes are very suitable for WhatsApp statuses, Instagram captions, or just for sharing with someone who knows your silence.

Q4: Why is Urdu the so emotional language for sad quotes?

 It is so because Urdu has the natural gift of mixing words with emotions in such a way, that even pain sounds gorgeous when expressed through its words.

Q5: Are these quotes hard to understand?

 No, every single quote is written in such a straightforward Urdu that no one would have a problem in reading it and consequently, feeling its meaning instantly.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *