Welcom to the 90 Best Amazing Collection of “Alama Iqbal Quotes in Urdu”
Alama Iqbal is one of the greatest poets and thinkers of all time. His Urdu poetry is full of wisdom, motivation, and deep love for humanity. Every line he wrote touches the heart and wakes the soul.In this article, you will find 90 of the best Alama Iqbal quotes in Urdu short, beautiful, and full of meaning. These quotes will help you stay positive, strong, and faithful in life.Each quote is a small light that can guide you every day.If you are a student, a teacher, or simply someone who loves Urdu poetry this list will give you new energy and inspiration.
Description
Alama Muhammad Iqbal believed that every person has a strong power inside called Khudi (self-respect and self-belief). He wanted people to wake up, believe in themselves, and work hard for a better future.His Urdu quotes are not just words, they are life lessons. When you read them, you feel hope and courage. They teach us to dream big, to stay honest, and to trust in Allah.
This collection of 90 Alama Iqbal quotes in Urdu is easy to read and understand for everyone young or old, educated or not. You can share these quotes on social media, write them in notebooks, or keep them close to your heart.These lines remind us that real success comes from strong faith, self-respect, and helping others.Each quote is full of positive energy and gives strength in hard times.
- خُودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
- خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔
- تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا
- تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
- ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
- ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
- Allama Iqbal Quotes in Urdu
- Iqbal Quotes Urdu
- Urdu Quotes by Allama Iqbal
- Motivational Allama Iqbal Quotes
- Urdu Poetry Quotes
- Best Iqbal Quotes
- Allama Iqbal Urdu Poetry
- Inspirational Urdu Quotes
- “Best Urdu Quotes by Allama Iqbal”
- “Allama Iqbal Urdu Quotes About Life”
- “Motivational Iqbal Quotes in Urdu”

یہ دیر کہن کیا ہے انبار خس و خاشا
مشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناک

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امیرا کے در و دیوار ہلا دو

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہے ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خایکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادرایک

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
خدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا
دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بےبایک

ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

حرم پایک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

ہیں عقدہ کشا یہ خار صحرا
کم کر گلۂ برہنہ پائی

یہ ہے خلاصۂ علم قلندری کہ حیات
خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا

میرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

سو سو امیدیں بندھتی ہے ایک ایک نگاہ پر
مجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

آئین جواں مرداں حق گوئی و بےبایکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ

پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

میرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

دنیا کی محفلوں سے ایکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

عروج آدم خایکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے

ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

سودا گری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالات کے بدلنے کا

ہے یاد مجھے نکتۂ سلمان خوش آہنگ
دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ
Conclusion
We hope you enjoyed these beautiful Urdu quotes by Allama Iqbal. His words are like fresh air for the soul; they make us think, dream, and grow. Every quote carries a message of hope, courage, and faith.Let these words remind you that you are strong, capable, and made for greatness. Keep reading, keep learning, and keep spreading positivity.
Thank You
Thank you so much for visiting our page and reading this article. We are really happy to share these Urdu quotes of Allama Iqbal with you. If you liked them, please share this article with your friends and family.Let’s spread Iqbal’s message of love, peace, and strength to the world. Stay inspired and visit again for more amazing Urdu content.
FAQs
Q1. Who was Allama Iqbal?
Allama Muhammad Iqbal was a famous Urdu poet and thinker. He inspired millions through his poetry and his dream of a strong and united nation.
Q2. Why are Iqbal’s quotes so popular?
Because they are full of life lessons. His words motivate people to believe in themselves, work hard, and stay close to Allah.
Q3. Can I share these quotes on social media?
Yes! You can post them anywhere Facebook, Instagram, Whats app just write “Allama Iqbal Quotes in Urdu” with them to inspire others too.
Q4. What is the main idea of Iqbal’s message?
Iqbal’s main message is self belief (Khudi), hard work, and faith. He wanted every human to rise and make the world a better place.
Q5. How can I use these quotes in daily life?
Read one quote every morning, write it down, and try to follow its message throughout your day. It will make your mind and heart stronger.
