40+ Dil Quotes in Urdu – Words That Speak From the Heart
Introduction – When the Heart Speaks, Words Follow
The heart, or Dil, is the place where all feelings are born.
At times it smiles pleasantly, and at times it hurts and moans in silence.
But it is only through Urdu that the reactions can be expressed in the most exquisite manner.
This anthology of over 40 Dil Quotes in Urdu is a capture of love, pain, hope, and connection.
Each quote is expressed in the most humble yet powerful words, the very words that resonate with your inner being.
If you are looking for romantic Urdu quotes, sad Dil lines, or emotional Urdu sayings about life and love, just take a look here, and you will definitely find something that mirrors your heart.
Description: The Emotions Hidden in Dil Quotes
Urdu is a language of emotions — it converts feelings into poetry and silence into meaning.
These Dil quotes in Urdu deliver what, at times, words alone cannot convey.
In this collection, you’ll discover:
- Love Dil Quotes in Urdu, capturing the very essence of tenderness and love
- Sad Urdu quotes about broken hearts reach very deep emotional levels
- Emotional Urdu sayings regarding life and destiny
- Beautiful Dil lines for desire, hope, and tranquility
Every saying is in its own way simple but at the same time full of power — just short enough to share and yet so profound that it will stay with you.
These Urdu heart quotes are a reminder that the heart is always speaking, even during silence — through love, through pain, and through the dreams that never fade.
میں نے سنا تھا کہ لوگ چھوڑ جاتے ہیں لیکن جب آزمایا تو معلوم ہوا کہ لوگ تو توڑ بھی جاتے ہیں چاہے
وہ کسی کا مان ہو یا دل اور اس بے دردی سے توڑتے کہ شاید سامنے والے کو کبھی کبھی ایسی حالت سے
نکلنا ناممکن لگتا ہے پر ہے نا وہ ایک زات جو ہم سے 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے وہ ہمیں ہر سچویشن کو
ہینڈل کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اللہ کی کریم زات ہے جو ہمارے ہزار ہا عیب جانتے ہوۓ بھی ہم سے منہ نہیں موڑتی
ہمیں رزق فراہم کرتی ہے ہمیں سانسیں دیتی ہے اللہ کہ کتنے احسانات ہیں ہم پر اس کے لیے شکر گزار رہیں نہ کہ کسی
کے منہ موڑ لینے سے کسی کہ چھوڑ جانے سے اپنی ہستی برباد کر لیں اللہ نے آپ کو ہم سب کو بہت خوبصورت بنایا
اپنے آپ کو اون کرنا سیکھیں سر اٹھا کر چلیں اور انکے سامنے تو اتنے وقار سے چلیں جو یہ سمجھتے
کہ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا یا توڑ دیا تاکہ انکو پچھتاوا ہو نا کہ وہ ہمیں دیکھ کر مزاق بنائیں اللہ مجھے
آپ کو ہم سب کو اپنا گرویدہ بناۓ اور سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

کبھی پردہ کبھی چلمن کبھی ہے دل لگی کوئی
تڑپنے سے بچھڑنے تک ادائیں بھی ضروری ہیں
پکارو گے بلاؤ گے ہمیں ڈھونڈو گے تم ہر سو
کسی کو پا کے کھونے کی خطائیں بھی ضروری ہیں
بہت بے رنگ لمحوں میں بہت بے کیف ہستی میں
حسیں رنگوں میں ڈوبی کچھ ردائیں بھی ضروری ہیں
چلو اک بار پھر سے ہم محبت اوڑھ لیں خود پر
محبت کی عبادت میں عبائیں بھی ضروری ہیں
محبت مار دیتی ہے یقیں ہم کو بھی ہے لیکن
اسی سر دھڑ کی بازی میں صدائیں بھی ضروری ہیں
تمہارے عشق میں رونا تمہاری یاد میں سونا
محبت کے جہاں میں کچھ عطائیں بھی ضروری ہیں
کٹے جو سر کسی کے پیار میں یہ بھی سعادت ہے
اسی کٹنے سے مرنے تک دعائیں بھی ضروری ہیں
تمہارے دل میں اب بھی کیا آفتاب رہتا ہے
چلو جھوٹا ہی کہہ دو تم بلائیں بھی ضروری ہیں

ریب بھی تو نہیں ہو کہ آ کے سو جاؤ
ستاروں جاؤ کہیں اور جا کے سو جاؤ
طریق کار بدلنے سے کچھ نیا ہوگا
جو دور ہے اسے نزدیک لا کے سو جاؤ
اداس رہنے کی عادت بہت بری ہے تمہیں
لطیفے یاد کرو ہنس ہنسا کے سو جاؤ

سفر منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں
اولیں قرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزر گاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا الجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خواب طرب یاد نہیں
رشتئہ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہیں سب چراغاں ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا
کمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا
پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
میں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا
تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے
اور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا
بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن
دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا
بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے
میں صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

سب ختم ہونے کے بعد ایک دن وہ گھر آئی
میں اٹھ کر جانے لگا تو کہنے لگی بہت کمزور ہو گۓ ہو،
خیال نہیں رکھتے کیا اپنا ؟
میں نے جواب نہیں دیا ، تو کہنے لگی خیال رکھا کرو پاگل،
آنٹی آپ ہی سمجھائیں اسے بیمار ہونا ہے کیا ؟
کمرے میں آکر اتنا رویا کہ جب فکر ہے تواحساس کیوں نہیں ؟؟؟
میں نہیں جانتا امی نے اسے کیا جواب دیا ۔
میں اس سے پہلے وہاں سے بھاگ آیا تھا ۔
کاش میں صرف اُسے اتنا کہہ پاتا کہ تمہاری فکر کی اب ضرورت نہیں
غم دے کر دلاسے کیسے ؟
یہ تسلی یہ تماشے کیسے ؟
اب جب بھی خیال آتا ہے تو گھنٹوں تک آنکھوں سے
آنسو بہتے رہتے ہیں اور چہرے پر کالی رنگت چھا جاتی ہے
اور خود پر ملال ہوتا ہے
کہ مجھ کو چنا گیا تھا وقت گزاری کیلئے ۔

اسیرِ حیرت و غم ہے تعجبات کا دل
بدل کے رکھ دیا کیسے علی۴ نے رات کا دل
علی کے طرزِ عمل میں ہے اصل کی تفہیم
علی کے علم سے روشن ہے پات پات کا دل
میں ایک شاعرِ غم جب بھی سوچتا ہوں اسے
مرا علی مجھے لگتا ہے کائنات کا دل
مری دعا سے مجھے منقبت کی طاقت دی
کشادہ اور کیا اس نے میری بات کا دل
کمال سی کوئی قدرت علی۴ کے ذکر میں ہے
علی کے دم سے دھڑکتا ہے معجزات کا دل
میں جب سے حیدرِ کرار کی پناہ میں ہوں
قدم قدم پہ لرزتا ہے مشکلات کا دل
مرے خدا مجھے سچ بولنے کی ہمت دے
علی کے لفظ سے بھر دے مری دوات کا دل
اسی لیے تو مری گفتگو میں ھے تاثیر
علی کے ذکر سے روشن ہے میری بات کا دل
پڑھا لکھا نہیں لیکن علی۴ شناس تو ہوں
مرے ہی دل پہ تو کھلتا ہے واقعات کا دل
بتا دوں آج کہ کیا ہے یہ سر ناد علی۴
علی کے دم سے دھڑکتا ہے معجزات کادل
میں جب سے حیدر کرار کی پناہ میں ہوں
قدم قدم پہ لرزتا ہے مشکلات کا دل
علی کی مدح سے آباد کر قلم میرا
علی کے لفظ سے بھر دے مری دوات کا دل

اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے
اِک سانس کا شیشہ ہے ، کہ لبریز بہت ہے
کچھ دِل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب
کچھ یوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے
پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا
اِس ہجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے
بولے تو سہی جُھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے
کیا اُس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے
محسنؔ ـــــ اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو ، کہ وہ “شب خیز” بہت ہے

دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے
تیری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
تیرے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے
یہ اعتراف بھی شامل میرے گناہ میں ہے
اب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا
میں مطمئن ہوں ،میرا دل تیری پناہ میں ہے
بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے
وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے
جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
وہ اِک مکان ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے
یہی وہ دن تھے جب اِک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی
میرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے
کہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے
ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میں
کناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے
ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیں
دلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم نے
ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے
وفا کے نام پر تیرا کیے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے

بات کڑوی بھی ہو ! لگتا ہے شہابی لہجہ
تیرا اردو میں جو ہوتا ہے ! نوابی لہجہ
دل کی کہہ دوں تو تجھے ہوش نہیں رہنا ہے
تونے دیکھا ہی نہیں میرا ! شرابی لہجہ !
سنتے سنتے اسے ! پڑھنے کی لگن لگ جائے
تونے دیکھا ہے کہیں ایسا ! کتابی لہجہ ؟
بات کرتے ہوئے پھر تونے ! جھجھک جانا ہے
کھلتے کھلتے بھی وہ ایسا ہے ! حجابی لہجہ
دل پہ لگتی ہے ،لہو رستا ہے ،پر کیا کیجیے
بات نشتر سی ! مگر اس کا گلابی لہجہ !
کب تلک ہنستی رہوں گی میں ترے لہجے پر
ایک دن میرا بھی ہونا ہے ! جوابی لہجہ !
دیکھنے میں تو محبت کی غزل جیسے ہو !
تم پہ جچتا ہے بھلا ایسا ! شاعری لہجہ

نظر کو اُن سے ملا ۔۔۔ضیائی
ملا کے دل کو چرا ۔۔۔ضیائی
ادائیں قاتل ہے اُسکی لیکن
شریف تو بھی کہا ۔۔ضیائی
بہت سے لڑکے ہیں مرتے اُس پر
تو آ کے سب سے بچا ۔۔۔۔ضیائی
کہ دل میں تجھکو سمائے آخر
شراب ایسا پلا ۔۔۔ضیائی
وہ سنگ تیرے بسائے گی گھر
تو دل کی بات تو بتا۔۔۔ ضیائی
قبول کر لیں جو پیار تیرا
تو جلدی شادی منا ضیائی
دو چار بچے تو عام ہے اب
تو اپنی ایک ٹیم بنا ضیائی

مجھے لوگوں نے اپنے رویوں سے سمجھایا
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا،
چاہتوں میں شدت عمر بھر نہیں رہتی،
کسی کے لئے ہم عمر بھر تجسس کا پہلو بن کر نہیں رہتے،
کوئی ہر وقت ہمارے لئے منتظر نہیں رہتا،
کسی کے دل میں ساری عمر ہمارا وہی مقام نہیں رہتا،
ہم تاعمر اہم نہیں رہتے،
وقت بدل جاتا ہے
لوگ بدل جاتے ہیں
.ہاں لوگوں نے مجھے سمجھایا

کہاں یہ بس میں کہ ہم خود کو حوصلہ دیتے
یہی بہت تھا کہ ہر غم پہ مسکرا دیتے
ہوا کی ڈور الجھتی جو انگلیوں سے کبھی
ہم آسماں پہ ترا نام تک سجا دیتے !
ہمارے عکس میں ہوتی جو زخمِ دل کی جھلک
ہم آئینے کو بھی اپنی طرح رلا دیتے
ہمیں بھی روشنیوں پر جو دسترس ہوتی
کبھی چراغ جلاتے کبھی بجھا دیتے
ہمارے پاؤں ہواؤں کی زد میں تھے ورنہ
گزرتی عمر کو رک رک کے ہم صدا دیتے
اب اس کی یاد سے اُس کا بدن تراشتے ہیں
وہ خواب بھی تو نہیں تھا کہ ہم بھلا دیتے

کڑے سفر میں اگر راستہ بدلنا تھا
تو ابتدا میں مرے ساتھ ہی نہ چلنا تھا
کچھ اس لیے بھی تو سورج زمیں پہ اترا ہے
پہاڑیوں پہ جمی برف کو پگھلنا تھا
اتر کے دل میں لہو زہر کر گیا آخر
وہ سانپ جس کو مری آستیں میں پلنا تھا
یہ کیا کہ تہمتیں آتش فشاں کے سر آئیں
زمیں کو یوں بھی خزانہ کبھی اگلنا تھا
میں لغزشوں سے اٹے راستے پہ چل نکلا
تجھے گنوا کے مجھے پھر کہاں سنبھلنا تھا
اسی کو صبح مسافت نے چُور کر ڈالا
وہ آفتاب جسے دوپہر میں ڈھلنا تھا

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ہے
دُهواں سا دل سے اُٹھے بھی تو کون دیکھتا ہے
مرے لیے کبھی مٹی پہ سردیوں کی ہٙوا
تمہارا نام لکھے بھی تو کون دیکھتا ہے
اُجاڑ گھر کے کسی بے صدا دریچے میں
کوئی چراغ جلے بھی تو کون دیکھتا ہے
ہُجوم شہر سے ہٹ کر حدودِ شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے
جس آنکھ میں کوئی چہرا نہ کوئی عکسِ طلب
وہ آنکھ جل کے بُجھے بھی تو کون دیکھتا ہے
ہجومِ درد میں کیا مسکرائیے کہ یہاں
خزاں میں پُھول کِھلے بھی تو کون دیکھتا ہے
ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رُکے بھی تو کون دیکھتا ہے

یہ زباں نہ کر سکے بیاں تیرے لطف و کرم کی عنایتیں
بات میری مختصر نہ کلام ھے نہ وضاحتیں
تو خالق ارض و سماں تو مالک شمس و قمر
جن و انس ملائکہ کرتے ہیں تیری عبادتیں
ستاروں کی روشنی میں تو موسموں کی جاں ہے تو
یکساں ھے ہر کسی سے تو ھیں سب سے تیری رفاقتیں
پھولوں میں تو شبنم میں تو ھواؤں پہ تیرا راج ھے
جلوے ھیں تیرے کو بہ کو ھر سو تیری قیادتیں
رنگ کائنات کے اک دوسرے سے ھیں الگ
ہر رنگ میں تو بسا ہوا بےشمار تیری عظمتیں
یہ کہسار أبشار سب تیری توحید کے گواہ
درخشندہ أفتاب کی کرنیں ھیں تیری صداقتیں
یہ بادلوں کی رونقیں اور موسموں کی شوخیاں
تیرے وجود سے ھیں سب انکی یہ نزاکتیں
نصرت ھے تیری جا بجا تو لا شریک ھے خدا
ذرہ ذرہ خاک کا کرتا ہے تیری عطاعتیں
ھے تاروں کی روشنی میں تو چاند تیرا خوشنما
اٹھکھیلیاں ھے کر رھی باد صبا کی نزاکتیں
میری خطائیں بے شمار تیری عطایئں صد ہزار
تسلیاں ھیں دے رھیں تیرے در پہ گزری ساعتیں
حرص و ھوا کا اسیر ھوں
خواہشیں میری بے جواز
میری لفزشیں ھی لغزشیں میری بے ادب سی عبادتیں
صفا و مروہ پہ دیکھیں رونقیں وہ زمانہ یاد أگیا
أب زمزم کی کوئ تلاش میں کر رہا تھا کوششیں
طواف کعبہ لکھا تھا نصیب میں تیرا لاکھ بار شکریہ
شرف اسود کی ھوئیں سعادتیں یاد ھیں وہ ساعتیں
عرب کے ریگزار سب بدل کے گلستاں ھوۓ
تیری عظمتوں کا شمار کیا بے مثل ھیں کرامتیں
بخش دے مجھے تو خدا تجھے لوح وقلم کا واسطہ
نہ بدلتا ھے تو وعدے نہ تبدیل ھوں تیری عادتیں
پیوستہ تیری ذات سے شیوہ رحم وکرم
لرزاں و ترساں ھوں اس لیۓ میری بے سبب ھیں خواہشیں
پوشیدہ نظر سےھےمیرے
اور سامنے بھی تو میرے
تیرا بھید نہ کوئ پا سکا تیری عجب ھیں بجھارتیں
تو رب عرش عظیم ھے مہربان تو کریم ھے
تیرا پیار اپنی خلق سے ھیں سب سے تیری قرابتیں
یا رب خطائیں معاف ھوں سیدھا راستہ تو
یہ زباں نہ کر سکے بیاں تیرے لطف و کرم کی عنایتیں
بات میری مختصر نہ کلام ھے نہ وضاحتیں
تو خالق ارض و سماں تو مالک شمس و قمر
جن و انس ملائکہ کرتے ہیں تیری عبادتیں
ستاروں کی روشنی میں تو موسموں کی جاں ہے تو
یکساں ھے ہر کسی سے تو ھیں سب سے تیری رفاقتیں
پھولوں میں تو شبنم میں تو ھواؤں پہ تیرا راج ھے
جلوے ھیں تیرے کو بہ کو ھر سو تیری قیادتیں
رنگ کائنات کے اک دوسرے سے ھیں الگ
ہر رنگ میں تو بسا ہوا بےشمار تیری عظمتیں
یہ کہسار أبشار سب تیری توحید کے گواہ
درخشندہ أفتاب کی کرنیں ھیں تیری صداقتیں
یہ بادلوں کی رونقیں اور موسموں کی شوخیاں
تیرے وجود سے ھیں سب انکی یہ نزاکتیں
نصرت ھے تیری جا بجا تو لا شریک ھے خدا
ذرہ ذرہ خاک کا کرتا ہے تیری عطاعتیں
ھے تاروں کی روشنی میں تو چاند تیرا خوشنما
اٹھکھیلیاں ھے کر رھی باد صبا کی نزاکتیں
میری خطائیں بے شمار تیری عطایئں صد ہزار
تسلیاں ھیں دے رھیں تیرے در پہ گزری ساعتیں

لوگ جو اچھے ھیں انہیں کہتےھیں برا کیوں
چلتا ھے سیاست میں اسی طور زمانہ
دیتا ھے خدا عزت مگر گر جاتا ہے انسان
ملتا نہیں پھر اسکو کہیں اور ٹھکانہ
مل جاۓ جو مسند تو بدل جاتی ھیں نظریں
ستاروں سے پرے ھوتا ھے انکا نشانہ
کرتے ھیں کرامات بہت اسکے علاوہ
اپنا بھی جو ھوتا ھے بن جاۓ بیگانہ
یہ لوگ منافق ھیں سیاست کی گلی میں
چور اور لٹیرے ھیں لوٹیں یہ خزانہ
محل بناتے ھیں کہیں پیرس کی فضا میں
زردار کچھ ایسے ھیں چرا کرکے خزانہ
قیادت جو ملی ھمکو وہ تھا قائد کا زمانہ
قائد کی قیادت کا بے مثل زمانہ
ھم بھی لندن میں بنا تے کوئ محل نرالا
مل جاتا اگر ھمکو بھی کوئ خزانہ
کاشانہ کوئ انور ھم جنت سا بناتے
قیادت گر ھوتی یہ امانت کا خزانہ

خواہشیں میری بے جواز
میری لفزشیں ھی لغزشیں میری بے ادب سی عبادتیں
صفا و مروہ پہ دیکھیں رونقیں وہ زمانہ یاد أگیا
أب زمزم کی کوئ تلاش میں کر رہا تھا کوششیں
طواف کعبہ لکھا تھا نصیب میں تیرا لاکھ بار شکریہ
شرف اسود کی ھوئیں سعادتیں یاد ھیں وہ ساعتیں
عرب کے ریگزار سب بدل کے گلستاں ھوۓ
تیری عظمتوں کا شمار کیا بے مثل ھیں کرامتیں
بخش دے مجھے تو خدا تجھے لوح وقلم کا واسطہ
نہ بدلتا ھے تو وعدے نہ تبدیل ھوں تیری عادتیں
پیوستہ تیری ذات سے شیوہ رحم وکرم
لرزاں و ترساں ھوں اس لیۓ میری بے سبب ھیں خواہشیں
پوشیدہ نظر سےھےمیرے
اور سامنے بھی تو میرے
تیرا بھید نہ کوئ پا سکا تیری عجب ھیں بجھارتیں
تو رب عرش عظیم ھے مہربان تو کریم ھے
تیرا پیار اپنی خلق سے ھیں سب سے تیری قرابتیں
یا رب خطائیں معاف ھوں سیدھا راستہ تو بتا مجھے
دلنواز تیری صورتیں دلربا ھیں تیری نوازشیں
ابتدا تا انتہا تیرے رحم و کرم کی ھے التجا
انور بخششوں کی نوید ھو جس وقت ھوں سماعتیں

نگین لگتا ہوں میں دل نشین لگتا ہوں
وہ دیکھ لے جو مجھے میں حسین لگتا ہوں
وہ تتلیوں میں بسی اپسرا سی شہزادی
جو سوچ لے وہ مجھے میں سبین لگتا ہوں
خرید لے وہ اگر کچھ کہیں بھی سستے میں
میں دل کی بستی میں بکتی زمین لگتا ہوں
وہ آب جو سی اگر رخ کرے مری جانب
میں رت جگوں کے جہاں کا مکین لگتا ہوں
وہ چاند صورت گر روک لے مجھے تنہا
میں رات اوڑھ کے چندے جبین لگتا ہوں
وہ دیکھتے ہی مرا نام بول دے جو کہیں
میں اس کے لفظ سے اعلیٰ ترین لگتا ہوں
وہ مورنی سی مجھے جب ذہین کہتی ہے
میں گڑبڑی سا خود کو فطین لگتا ہوں

کچھ اس طور پہ ھم نے مراسم رکھے
پھولوں سے جس طرح شبنم رکھے
تیز بارش میں ھوا بھی دشمن نکلی
رابطے ھم نے بھی اپنے پیہم رکھے
کارواں وقت تھا بڑا تیز رواں جانب منزل
حوصلے ھم نے بھی بڑے ھردم رکھے
فرصت نہ ملی کہ ھم جی بھر کر سوتے
وسوے تھے دعاؤں میں صبحدم رکھے
دکھوں کی بھیڑ تھی آنکھ نہ پرنم رکھی
موجوں کی طرح ولولے ھم نے رکھے
تسلی وہ دلاسے کچھ دیتا تھا ایسے
ھاتھ اپنا ھو کوئ ھاتھ پہ ھمدم رکھے
سناتا تھا ھمیں انور غزلیں نظمیں
آواز کے جادو میں وہ سرگم رکھے

میں ہنستا رھا مسکراتا رھا
درد سہتارھا اورچھپاتا رھا
عشق تھا مجھکو باد صبا سے بڑا
درد اسکو میں اپنا سناتا رھا
بھینی بھینی سی خوشبو کا تھا سامنا
میں سانسسوں میں اسکو بساتا رھا
پھولوں سے تھیں قربتیں دوستی
درد انکو تھا اپنا سناتا دکھاتا رھا
بے نیازی میں اپنی وہ کھویا رھا
کشتی کاغذ کی تھا وہ چلاتا رھا
شاخ گل سے نہ توڑا کبھی پھول کو
فقط اسے دیکھ کر مسکراتا رھا
بھری انجمن میں تھا رشک قمر
کہکشاں کی طرح مسکراتا رھا
برسوں رفاقت رھی چاند سے
چہرہ بادل میں پھر بھی چھپاتا رہا
تھا ڈرتا زمانے کے دستور سے
دورسے دیکھ کر مسکراتا رھا
وہ خوابوں میں آ کے جگا کے مجھے
ھاتھ اکثر تھا مجھ سے ملاتا رھا
وہ آتا تو تھا درد دل بانٹنے
میں سوتا رھا وہ جگاتا رھا
چاندنی کو تبسم دیا چاند نے
چاند بن ٹھنکےصورت دکھاتا رھا
اک ملاقات تھی اس سے اچھی لگی
پھر نہ ملنا کبھی دل دکھاتا رھا
الوداع کہہ کے جنکو تھا رخصت کیا
وہ یادوں میں صورت دکھاتا رھا
سرد شاموں کا موسم تھا انور غضب
وہ خیالوں میں أکے ستاتا رھ

کچھ کھو گیا ہے مجھ میں،کچھ اپنا سا لگ رہا ہے
جو ساتھ تھا برسوں سے کچھ بدلا سا لگ رہا ہے
دیکھو ڈھونڈو اسے ،شاید وہ مل جائے
درد پا لیا ہے میں نے ،سپنا سا لگ رہا ہے
زندگی کی کشمکش میں کھو سا گیا ہوں میں
نہ جانے کیوں اک طوفان برپا سا لگ رہا ہے
جس کی محبت میں میں نے سب کچھ لٹا دیا
اب روبرو جو آیا تو دھچکا سا لگ رہا ہے

عجب زندگی میں ہر نئو رنگ دیکھے
بدلتے ہوئے اپنے لوگ، یاروں کے سنگ دیکھے
آج سے نہیں یارو 1990 سے دیکھ رہا ہوں
اپنے ہی لوگ بکتے اور بدلتے پَل پَل دیکھے
آج جو جنم کا دن دیکھا،تو مسکراہٹ کُھل کے آئی
ہم ابھی تک زندہ ہیں شاید٫ ورنہ لوگ قبر تک دیکھے
جٹا تیرے یار بھٹی کو کیا کر سکتا ہے کوئی؟
اس کی مسکراہٹ سے ہی کَئی کِھلتے پھول دیکھے

طیش میں پیار کا رنگ دیکھا ہم نے
دوستی کا عجب ڈھنگ دیکھا ہم نے
کہتے تھے ہم جسکو اپنا ہمدم
اسکوعدو کے سنگ دیکھا ہم نے
دنیا میں جانے کیا کیا نہ دیکھا
درد کی دھوپ کا رنگ دیکھا ہم نے
بدل جاتے ھیں موسم کی طرح اپنے
انکے ہاتھوں میں سنگ دیکھا ھم نے
ا جاتے ھیں اپنی اوقات پہ اکثر لوگ
انسان کو انساں سے تنگ دیکھا ھم نے
وفا کا صلہ خواب پریشان دیکھا
اسکے اعتبار کا رنگ دیکھا ہم نے
نکلا نہ خوں جس زخم سے انور
اپنوں کا تھا سنگ دیکھا ھم نے

بہار کے موسم کو جب عشق ستاتا ھو
وجدان کی صورت میں وہ گیت سناتا ھو
سنگیت ھوں بلبل کے کوئل کے ترانے ھوں
میخانہ اک موسم کا دلکو ترساتا ھو
ندیا کے کنارے پر اک شاعر بیٹھا ہو
بہار کے موسم کا کوئ گیت سناتا ھو
شاعر کچھ لکھتا ھو اشعار محبت کے
بیٹھا جو برابر ھو اسکو سناتا ھو
گفتار مرصع ہو شخص وہ ایسا ھو
کہتا ھو غزل شاعر چہرہ شرماتا ھو
ہنگامہ ھو ندیا میں موجوں کی روانی کا
پڑے عکس جو ندیا میں وہ چاند اتراتا ھو
وہ سامنے رھتا ھو دل أسکا سمندر ھو
انسان ھو ایسا وہ نہ پیار جتاتا ھو
جھرمٹ ھو ستاروں کا مہتاب چمکتا ھو
چاند اپنی کرنوں سے اک فرش بچھتاتا ھو
گرچتا بادل کوئ پچھم سے أتا ھو
جادو کوئ ھو اس میں پھل پھول اگاتا ھو
جگنو کوئ اڑتا ھوا لگے ننھا ستارا وہ
گھر جاتے ھوۓ ھمکو راہ دکھاتا ھو
کلی اپنے تبسم پر لٹاتی ھو شبنم کو
سرخ گلابوں سیے کوئ زلف سجاتا ہو
رات کی رانی ھو کہیں دن کا راجا ھو
أواز سریلی میں کوئ ھیر سناتا ھو
بے درد ذمانے میں ھمدرد ھے مفقود
ھمدم کوئ ایسا ھو دل میں سماتا ھو
سیلاب نہ أے کوئی رحمت کی بارش ہو
لہراتی فصلیں ہو ں دہقان کماتا ہو
ہوجائیں سنہری جب گوشے گندم کے
کسان مسرت سے بچوں کو کھلاتا ہو
لیڈر کوئی ایسا ہو ہمت کا شناور ھو
متوالہ دیانت کا امانت سے شناسا ھو
ہر گھر اک گلشن ہو پھولوں سے معطر ہو
تہوار لگے انور کوئ ساز بجاتا ھو

أۓ دھوپ کا موسم تو گھبرا نہ جانا تم
میرا سایہ سمجھ لینا مجھے أواز دینا تم
گدا گر در پہ أ جاۓ تو اسکو جھڑک نہ دینا
خطا ھرگز نہ کرنا یہ مجھے أواز دینا تم
نیت میں خرابی ہو تو ہوتا کام رک جائے
ھمیشہ یاد رکھنا یہ مجھے أواز دینا تم
یادوں میں تیری أکے اگر رک جاؤں رستے میں
اسی تم پیڑ کے نیچے مجھے آواز دینا تم
دل میں زھر مت رکھنا شیریں بات کرنا تم
جدا اپنوں سے مت ہونا مجھے آواز دینا تم
سماں برسات کا ھوگا گھٹائیں گھر کے أئیں گی
اسی رم جھم کے موسم میں مجھے أواز دینا تم
جوانی یاد جب أۓ یا بچپن خواب میں أۓ
جوانی پر ہنس دینا مجھے أواز دینا تم
کرنا یاد خوشیوں کو غموں کو بھول جانا تم
ہنسنا سیکھ ھی لینا مجھے آواز دینا تم
نہ لانا خوف کو دل میں اکیلے میں نہ ڈر جانا
ذرا تم حوصلہ کرنا مجھے آواز دینا تم
پریشاں حال ھو جاؤ مصیبت کوئ أ جاۓ
اکیلے خود کو مت سمجھو مجھے أواز دینا تم
زمانہ مال کو دیکھے خدا اعمال کو دیکھے
جلانا علم کی مشعل مجھے آواز دینا تم
اگر مشکل پڑے سر پر حل کر سکو نہ تم
گھبرا نہ جانا تم مجھے أواز دینا تم
کانٹے تلخیوں اور رنجشوں کے سب
سبکو کو طاق میں رکھنا مجھے آواز دینا تم
وحشت سی لگے دلکو تو نوک پر رکھنا
خدا کا نام لینا تم مجھے آواز دینا تم
ھو شکوہ گر تجھے کوئی انور بھول جانا تم
شکایت اور کچھ کرکے مجھے أواز دینا تم

قرینے اور سلیقے سے مجھے آواز دینا تم
محبت سے مروت سے مجھے آواز دینا تم
آواز دو مجھکو تو میرا نام لینا تم
نہ جانا بھول تم مجھکو مجھے أواز دینا تم
سناٹا رات کا ھو یا گرجے زور سے بادل
موسم برس جاۓ نہ مجھے أواز دینا تم
مشکل گزر جاۓ گی صبر سے کام لینا تم
زبر کو زیر کر دینا مجھے أواز دینا تم
علم کو تھام کر چلنا قلم کو ہاتھ میں رکھنا
قدم سنھبال کے رکھنا مجھے آواز دینا تم
ارادہ ٹھیک ھو ثو مقدر بدل جاتا ھے
کبھی یہ دیکھنا کرکے مجھے أواز دینا تم
زمانے کا نہ غم کرنا بھروسہ مجھ پہ رکھنا تم
ضرورت مشورےکی ھو مجھے أواز دینا تم
تاریک راتیں ھوں ھواؤں سے نہ ڈر جانا
ابھی جب چاند نکلے گا مجھے أواز دینا تم
جو أئے موسم گل تو خوشبو سے لپٹ جانا
جو أئیں سرد شامیں تو مجھے أواز دینا تم

ایسے مگن رہوں کہ مجھے ہوش ہی نہ ہو
کمرہ ہو ، تیری یاد ہو اور روشنی نہ ہو
تم خوش رہو کہ دنیا جہاں ہے تمھارے ساتھ
وہ کیا کرے کہ جس کا سہارا کوئی نہ ہو
دستک ہوئی جو رات کے پچھلے پہر تو میں
ڈر ہی گیا کہ یار کہیں نیند ہی نہ ہو
تم ہی رہو سدا مرے دل کی زمین پر
میں چاہتا ہوں یہ زمیں بنجر کبھی نہ ہو
اک یہ خوشی بھی کال کی ہے اس نے پہلی بار
اس پر یہ خوف بھی کہ کہیں آخری نہ ہو۔۔

دنیا میں أکے ھم نے کیا کچھ ھے پا لیا
مقدر میں جو لکھا تھا وہ ہم نے کما لیا
کون تھی وہ جس نے پریشان دیکھ کر
دامن میں اس نے مجھکو اپنے چھپا لیا
آنکھوں میں اس کے أکے آنسو چھلک پڑے
دوپٹے سے اپنا منہ تھا اس نے چھپا لیا
اٹھا کے وہ دونوں ہاتھ کرنے لگی دعا
ماں نے اٹھا کے مجھکو سینے لگا لیا
کار گاہ حیات میں برسوں کیا ھے کام
لیکن نہ گھر کو اپنے امریکا بنا لیا
کرنا پڑا ضمیر کا جب سامنا اسے
اس نے تھا اپنے منہ پر طماچہ لگا لیا
وفا نہ کر سکا جو ھو نہ وہ شرمسار
اسکو تھا ھم نے اپنا شناسا بنا لیا
سیرت و کردار تھے جس کے سدا غلام
ہم نے اس شخص کو اپنا بنا لیا
قناعت اور صبر کا ہم کو صلہ ملا
زمانے میں أکے جینا خود کو سکھا لیا
شاعر نہیں ھوں لیکن اشعار لکھ رھا ھوں
اک روگ یہ عجیب سا دل کو لگا لیا
کبھی دھوپ میں رہے ہم کبھی سایہ آ گیا
ہم نے نہ کوئی انور اثاثہ بنا لیا

تصویر میری دیکھ کر اپنی کتاب میں
چہرہ چھپایا اس نے اپنا نقاب میں
نظریں چرا کے اس نے شرما کے یوں کہا
تصویر آپکی ھے میری کتاب میں
رکھا تھا میں نے اسکو کتنا سنبھال کے
اس نے دیا تھا پھول جو اپنی کتاب میں
دل جس طرح سے چاھے ویسے پکارنا
رکھا کیا ھےأخر سر اور جناب میں
مدت ہوئی ہے اسکو مجھ سے جدا ہوئے
لیکن نہ گیا خیال سے آتا ھےخواب میں
تھاجسکا تذکرہ میرے سوال میں
خاموش ھو کے رہ گیا اسکے جواب میں
بسا اسطرح وہ دل اور دماغ میں
رھتی ھے جیسے خوشبو گلاب میں
کر چکا تمام میں سارے جہاں کی بات
وہ بات کر سکا نہ اپنے خطاب میں
کرتا تھا ملاقات میں وہ بات مختصر
رکھے ہوں اس نے پاؤں گویا رکاب میں
یادوں نے اسکی دل میں بسیرا بنا لیا
گزرا جو وقت اپنا عمر شباب میں
نیندوں کا جو سکون تھا جانے کہاں گیا
رکھا ھے آخر کیا اس عمر خراب میں
خدا پر یقین رکھنا ھمت نہ ھارنا
اسکو کیا ھے شامل اپنے نصاب میں
جرم و سزا کی داستان لکھتے رہے فرشتے
کچھ اور تو لکھا نہ انور حساب میں

محبت آس کا پنچھی
محبت باس ہے تیری
محبت دل کا مندر ہے
بسا ہے روح میں میری
محبت سوچ کا دریا
محبت راگ منگتوں کا
مناتا ہوں جسے تاعمر
وہی ہےسوگ رسموں کا
محبت چاشنی رب کی
محبت بندگی سب کی
محبت فرض جیسی ہے
محبت قرض جیسی ہے
محبت آگ جسموں کی
محبت جرم قسموں کا
محبت طوق وعدوں کا
محبت موت فرقوں کی
محبت نظم فطرت کی
محبت غزل کی صورت
محبت مرثیہ شب کا
محبت مثنویِ شام
محبت شور دریا کا
محبت خواب جھیلوں سا
محبت میگھنا کا راگ
اڑاتا ہے سروں پہ خاک
محبت صوفی کی منت
محبت سنت کا پیالہ
محبت درد کا آنگن
محبت خبط کی جنت
محبت یاد ماضی کی
محبت حال کا نوحہ
محبت فلک کا دھوکہ
محبت جوگی کا چولہ
محبت راز قدرت کا
محبت خار گلشن کا
محبت آپلہ پگ کا
محبت قافلہ سگ کا
محبت سانس خوشبو کی
محبت پھانس کانٹے سی
محبت ترس تعلق کا
محبت حرس ملنے کی
محبت سراب ہے یارو
محبت ثواب ہے یارو
جو ملنے پر نہیں ملتی
اک عذاب ہے یارو
محبت نہ ملے تو پھر
ساری قاتل خدائی ہے
محبت کی سدا منزل
میری جاں بس جدائی ہے میری جاں بس جدائی ہے

فرض کرو ھم تارے ھوتے
عرش کے چاند ستارے ہوتے
تکتے تکتے ھم تھک جاتے
ھم کو بہت اشارے ھوتے
چاند کو تکتے تکتے ھم نے
شب اور روز گزارے ھوتے
چاند سے باتیں راز کی کرتے
چاند کے راج دلارے ھوتے
تھک جاتے ھم چمک چمک کر
ہمت نہ ھم ھارے ہارے ھوتے
کاش ھم عرش کے تارے ھوتے
دلکش عجب نظارے ھوتے
تاروں کے ھم جھرمٹ ھوتے
نہ کوئ ھمیں خسارے ھوتے
دکھ نہ ھوتے روگ نہ ھوتے
نکھرے اور نکھارے ھوتے
باتیں وعدے سچے کرتے
نہ کوی وھاں پہ لارے ھوتے
عکس ندی میں تارے ھوتے
بیٹھے لوگ کنارے ھوتے
نہ سردی نہ گر می ھوتی
نہ ھی گرم چھوارے ھوتے
جنت میں اک گھر مل جاتا
نہ کوئ لیکھ لکھارے ھوتے
میوے جنت کےھم کھاتے
پانی وھاں نہ کھارے ھوتے
دیکھ دیکھ کے دنگ رہ جاتے
اپنے خاص چوبارے ھوتے
کاش ھم عرش ستارے ھوتے
فرض کرو ھم تارے ھوتے
حسن ہمارا دیکھ کے سارے
ہم پر جاں نثار ے ہوتے
أسمان پر تکتے ھم کو
کتنے لوگ بے چارے ھوتے
چھپ جاتے ھم دن کو سارے
رات کو ہم نظارے ہوتے
صفتیں کرتے لوگ نہ تھکتے
عرش کے ھم مینارے ھوتے
پھولوں کے گلدستے لاتے
کاش کے أپ ھمارے ھوتے
بھول نہ جانا بھولنے والے
گاتے گیت ھمارے ھوتے
انمول تخیل ھے یہ کتنا
نہ ھم ھوتے خسارے ھوتے
اشعار میں لکھتے ھمکو انور
شاعر لوگ پیارے ھوتے

دنیا کے شہروں میں اک شہر مدینہ ھے
اعزاز خدا بخشا وہ شہر نگینہ ھے
ہر سمت سے أتے ھیں طلبگار زیارت
اس شہر سے ملتا ھے جینے کا قرینہ ھے
حج کی سعادت تو کعبہ میں میسر ھے
اب خواہش جو دلکی وہ شہر مدینہ ھے
جس دل میں نہیں ھوتی یاد محمد کی
اس شخص کا کیا جینا وہ کیسا سینہ ھے
شمع محمدﷺ سے وہ بزم فرزاں ھے
ھیں رحمت عالم وہ رمضان کا مہینہ ھے
دل میں جو امنگیں ھیں کیوں مانگ نہیں لیتے
رمضان کو ھیں کہتے اللہ کا مہینہ ھے
جھوم کے أتے ھیں وہاں بادل رحمت کے
کہیں ھوتی مجلس ھے کہیں ھوتا شبینہ ھے
ھے رخت سفر باندھا ارادہ بھی مصمم ھے
اب لرذاں و ترساں ھوں اونچا
وہ زینہ ھے
طوفان حوادٹ سے شناسا نہیں انور تو
موجوں میں سمندر کی تیرا

جدوں عمراں لمبیاں ھوندیاں نے
کمراں وچ درداں ھوندیاں نے
دل دھڑھک دھڑھک کے تھک جاندا
دکھاں دیاں گھڑیاں ھوندیاں نے
پھر چلنابھی مشکل ھو ندا اے
پیراں وچ چیساں ھوندیاں نے
کدی کناں دی گل ھوندی اے
کدی دنداں وچ درداں ھوندیاں نے
جد اپنے سارے چھڈ جاند ے
پھردل وچ درداں ھوندیاں نے
دن وچ سوچاں دے لنگ جاندا
تے راتاں لمبیاں ھوندیاں نے
نہ لکھ ھندا نہ پڑھ ھندا
گھٹ اکھاں دیاں نظراں ھوندیاں نے
راتاں دیاں نیندراں اڈ جاون
شاماں توں شاماں ھوندیاں نے
جدوں ہنس کےلوگ نیں گل کر دے
پھردرداں وچ درداں ہوندیاں نے
أکھاں وچ ہنجو أ جاندے
کئ یاداں أوندیاں ھوندیاں نے
بھیناں بھائی جدوں سارے ٹر جاندے
پھر کنداں ناں گلاں ھوندیاں نے
ٹر جاندیاں عقکلاں شکلاں سب
دکھاں دیاں گلاں ھوندیاں نے
شملہ بھاییا ں دی وگ دا اوچا دسے
ایہہ بھیناں دیاں سدراں
ھوندیاں نے
بھیناں بھائیاں محبتاں سنگ رھنا
گلاں انور چنگیاں ھوندیاں نے

سراپا میں دعا بن کے مقدس شہر آیا ھوں
تہی دامن نہیں میرا خطائیں لیکے آیا ھوں
سمندر تیری رحمت کے تو اک قطرہ عطا کردے
الٰہی مانگنے تجھ سے میں تیرے در پہ آیا ھوں
میں تشنہ کام ھوں کب سے بہت دشوار راہوں پر
بجھانے تشنگی اپنی تیرے دربار آیا ھوں
اقرار جرم ھے میرا کرم کی نظر ھوتیری
ہزاروں خواہشیں ایسی چھپاکر دل میں لایا ھوں
دعائیں روز و شب مانگیں در کعبہ کی زیارت ھو
کرم کی اب نظر ہوئی تو سر کے بل میں آیا ھوں
دیکھے ہر طرف جلوے بساۓ میں نے آنکھوں میں
رہیں یہ دل کی دھڑکن میں یہی میں لینےآیا ھوں
دعاؤں پر یقین کامل کہ رد یہ ہو نہیں سکتیں
سمندر کرم کے تیرے بھروسہ کرکے أیا ھوں
امیدیں دل میں رکھتا ہوں تمنا ہے میرے لب پر
دعا مقبول ھو یا رب تیرے میں در پہ میں أیا ھوں
مجھے گر پوچھیۓ انور حرم سے کیا میں لایا ھوں
میں بخشش کے وسیلے کی بڑی سوغات لایا ھوں

کرم تیرا جو مرے حال پر اک بار ہو جائے
یہ سودا میرے بکنے کا تیرے دربار ہو جائے
تجسس سا لگا دل میں جو صبح و شام رہتا ھے
تماشا جینے مرنےکاسربازار ہو جائے
خزانہ قیمتی میرا تیری انمول یادوں کا
گزارش ہے نگہبانی نہ قصہ پار ھو جائے
جھلک تیری نظر أۓ کبھی اے کاش خوابوں میں
صنم کوئ اور ھو دل میں تو وہ سنگسار ھو جاۓ
سخاوت میں مجھے اپنی محبت تو عطا کر دے
نہ ایسا ہو کہیں کہ زندگی بیکار ہو جائے
مصیبت ھو اگر کوئ جو مجھ پر وار ھو جاۓ
أ کے تیری رحمت کا میرا حصار ھو جاۓ
صدقہ مانگ لےکوئی جو أکے تیری مجلس میں
تو بھر دے جھولیاں خالی بڑا غمخوار ھو جاۓ
خلوص عشق ھے میرا نہ کرنا دور قدموں سے
کبھی تو خواب میں أؤ مجھے دیدار ھو جاۓ
حشر کے روز بخشش کا میری سامان ھو جاۓ
بھروسہ تجھ پہ ھے میرا نہ میری ھار ھو جاۓ
دعا مقبول ہو جائے جو مانگی سچی نیت سے
ایسا عمل ہو مجھ سےکہ تجھ کو پیار ہو جائے
حشر جب ناگہاں ھوگا بشر ھر لرزتا ھوگا
ھو سایہ أپکا انور تو بیڑہ پار ھو جاۓ

زندگی وہ مستعار دیتا ھے
بینک جیسے ادھار دیتا ھے
رکھتا ھے سامنے وہ ساری شرائطیں
یاد رکھتا ھے جو ادھار دیتا ھے
نیت جو صاف ھو اور سوچیں شفاف ھوں
دیتا ھے جب صلہ وہ تو بے شمار دیتا ھے
جو بھول جاتا ھے جا کے جنت میں
زمین پہ اسکو اتار دیتا ھے
وہ جاہ و حشم کا خالق اسکا نگاہ کرم رکھنا
دلوں کو سکوں انور قرار دیتا ھے

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند
یہ دل وہی تو ہے جو تمہیں اب ہے نا پسند
معشوق کر چکے ہیں جسے بارہا پسند
جنس وفا کو کرتے ہیں اہل وفا پسند
دشمن کو کیا تمیز ہے دشمن کی کیا پسند
جنت کی کوئی حور نظر پر چڑھی نہیں
دنیا میں مجھ کو ایک پری زاد تھا پسند
روندی کسی نے پائے حنائی سے میری نعش
تھی زندگی میں مجھ کو جو بوئے حنا پسند
وہ بد نصیب ہے جسے آیا پسند تو
قسمت تو اس کی ہے جسے تو نے کیا پسند
چڑتے ہیں وہ سوال سے یہ ہم سمجھ گئے
ہے اس لیے انہیں دل بے مدعا پسند
صورت بھی پیش چشم ہے سیرت بھی پیش چشم
دم بھر میں تو پسند ہے دم بھر میں نا پسند
تجھ کو غرور زہد ہے شرم گنہ مجھے
زاہد کسے خبر کہ خدا کو ہو کیا پسند
چوٹیں چلیں گی خوب برابر کی جوڑ ہے
تو ہے ادا شناس تو میں ہوں ادا پسند
ہر پھر کے ان کی آنکھ عدو سے لڑے نہ کیوں
فتنہ کو کرتی ہے نگہ فتنہ زا پسند
میں خود سکھا رہا ہوں ستم کی ادا انہیں
دنیا میں کب ہوا کوئی مجھ سا جفا پسند
رکھ دیں گے آئینہ کے برابر ہم اپنا دل
یا تو یہ نا پسند ہوا ان کو یا پسند
کس درجہ سادہ لوح ہیں عاشق مزاج بھی
جو ڈھب پہ چڑھ گیا وہ انہیں آ گیا پسند
میرا ہی کیا قصور یہ مجھ پر ستم ہے کیوں
آنکھوں نے دیکھا آپ کو دل نے کیا پسند
انکار سن چکے ہیں طلب گار کیوں بنیں
ملتا نہیں کوئی تو ہے بے فائدہ پسند
بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

میرے گلے پہ جمے ہاتھ میرے اپنے ہیں
جو لڑ رہے ہیں مرے ساتھ میرے اپنے ہیں
شکست کھا کے بھی میں فتح کے جلوس میں ہوں
کہ دے گئے جو مجھے مات میرے اپنے ہیں
میری طرح سے یہ کچے گھروں میں رہتے ہیں
جو گھیر لائے ہیں برسات میرے اپنے ہیں
اگر نہیں ہیں یہ شمس و قمر مرے بس میں
یہی بہت ہے یہ دن رات میرے اپنے ہیں
کوئی سنے نہ سنے کوئی داد دے کہ نہ دے
یہی بہت ہے خیالات میرے اپنے ہیں
کسی کے دل میں بسا ہوں کسی کی آنکھوں میں
یہ ٹوٹے پھوٹے کمالات میرے اپنے ہیں

وہ محترم و محتشم وہ دلربا لگے
ھمدم وھمنوا وہ مجھکو سدا لگے
ھمدرد و غمگسار وہ مہرباں لگے
ماں باپ میرے مجھکو شہر وفا لگے
احسان ماں باپ کے مجھ پر ھیں بے شمار
نقش قدم جو ان کے مجھے رہنما لگے
بڑے حوصلےسے انکو کہا تھا الوداع
رخصت سے انکے دیا گھر کا بجھا لگے
ٹوٹے نہ سلسلے اور گۓ نہ واسطے
ھے چاہتوں کی ان سے یہ انتہا لگے
کرتے ھیں خواب عالم میں أکے وہ ملاقات
أتی کہیں سے انکی مجھکو صدا لگے
کشتی جو ھو میری دریا کے درمیاں
ساحل پہ ماں کھڑی کرتی دعا لگے
. .
میں ھوں ناتیرے
ساتھ تھا ماں نے کہا مجھے . . . . . . ڈر کی کیا مجال کہ تجھکو ذرا لگے
تصویر جسپاں ماں کی جو ساتھ ھے میرے
دیکھوں میں روز اسکو بڑی خوشنما لگے
کہا تھا ماں نے اک دن ھو لمبی عمر تمہاری
جو جی رھا ھوں اب تک انکی دعا لگے
احترام والدین ادا ھو کچھ اسطرح
نظریں جھکی رھیں سر بھی جھکا لگے
وہ خوش نصیب ہیں جنکے زندہ ہیں والدین . . . خدمت کریں وہ انکی گھر جنت نما لگے
کانوں میں میرے ھر گھڑی آتی ہے اک آواز
ھے لفظ لفظ ماں کا مجھے آشنا لگے
ھے میری ماں کی مجھکو دعا لگی ہوئی
کرتا ہوں میں دعا تو سنتا خدا لگے
میری طرح سے سب کو ماں کی دعا لگے
شفقت ھے انکی مجھ کو الشفا لگے
بخشش کرے خدا ھو جنت نصیب انکو
ماں باپ میرے مجھ کو خدا کی عطا لگے
جنت میں انکے نام سے اک گھر سجا ملے
مجھکو خدا کے بعد وہ میرے خدا لگے
تاریکیوں سے مجھ کو لگتا ھے خوف اکثر
ماں ھو جو میرے ساتھ تو بڑا حوصلہ لگے
لگتا ھے مجھکو ایسا کہ کہیں أس پاس ھیں
ماں باپ میرے اب بھی نہ مجھکو جدا لگے
أنکی دعاؤں سے جی تو رھا
ھوں لیکن
أنکے بغیر زندگی مجھکو سزا لگے
تصور میں چومتا ھوں انور میں ماں کے ھاتھ
ایسا کروں نہ میں تو مجھکو خطا لگے

صد شکر خدا کا گزر گئ امسال کی گرمی
اس سال پڑی ضد سے بےحد گرمی
ستمگر ھے بڑا نکلا یہ موسم گرما
مفلس کیلۓ بنکے رھی صد سال کی گرمی
موسم گرما نے اس سال بڑا رنگ جمایا
لباس پسینے کا لگا مزدور کی گرمی
طوفان ھے سیلاب ھے یا ھے کوئی آفت
چراغ جو روشن تھے بجھا گئ گرمی
سیلاب تو پہلے بھی کئ بار تھے أۓ
دیکھے کبھی ایسا جو دکھا گئ گرمی
فصلیں تو ڈوبی تھیں گھر بار بھی ڈوبے
گاؤں اور شہروں کو ڈبو گئ سال کی گرمی
بادل بھی بہت برسے پھر لوٹ کے برسے
دریا کو سمندر میں بدل گئ سال کی گرمی
پانی کا سمندر ھے حد نظر تک
جھیلوں کو دریا میں بدل گئ سیلاب کی گرمی
لوگ متاثر ھوۓ جو سیلاب کی زد سے
سڑکوں کے کناروں پر انکو بیٹھا گئ گرمی
اجناس نہ کھانے کو پانی نہ ھے پینے کو
بھوک اور پیاس کا روزہ ہی رکھوا گی گرمی
قیادت نہ ملی اے وطن تجھے عرصہ ھے گزرا
کھا گئ تجھکو تو لیڈر کے سر کی گرمی
لیڑر کوئ أۓ ایسا کچھ کرے دکھاۓ
تو دور ھو جاۓ گی یہ ستمگر گرمی
سورج تیری کرنوں کی تپش سے ہارے
اب دور ذرا ھو جا تو جاۓ گی گرمی
قدرت نے بڑی شان سے موسم ھیں سنوارے
أب موسم ایسا ھے انور سردی ھے نہ گرمی

خوش رکھے یادوں میں مدینے کا سفر میرا
لوٹا نہ مدینے سے اک دل اک سر میرا
فریاد رسول اللہﷺاک نظر کرم مجھ پر
دل میرا منور ھو جس میں ھو ذکر تیرا
ڈر خوف نہ ھو دل میں سبب ایسا بنے کوئ
کاش أپ جو فرمائیں یہ ھے بشر میرا
فرقت میں رہتی ھے پریشان یہ
پیشانی
وہ دور شہر تیرا دور ھے گھر میرا
توقیر کی حامل ھو جاگیر عطا کرنا
مجھے رکھنا نگاہوں میں جب ھو سفر میرا
رحمت کا طالب ھوں دربار تیرا عالی
خالی ھے دامن یہ تو ھے مال و زر میرا
خوابوں میں تیرے در پر رہتا ھوں سدا حاضر
پہچان میری انور ھے دیدہ تر میرا
وچھوڑے دے میں صدمے روز جھلاں یا رسول اللہ ﷺ
کراں میں تیریاں دن رات گلاں یا رسول اللہ ﷺ
جدوں ویکھاں کوئی جاندا مسافر شہر تیرے نوں
کیویں وگدے ہوئے ہنجواں نوں ٹھلاں یا رسول اللہ ﷺ
ہوائے وگدی اے لے جا مدینے اتھرو میرے
تے آکیھں ہور کی میں نذر گھلا یا رسول اللہ ﷺ
جنہاں نوں عشق تیے دا کدی پانی نہیں ملیا
دلاں دیاں اوہ سدا سک جان ولاں یا رسول اللہ ﷺ
ظہوری نوں ملے قطرہ ترے وگدے سمندر
چوں تری رحمت دیاں ہر پاسے چھلاں یا رسول اللہ ﷺ
ڈرتا ہوں موت سے مگر مرنا ضرور ہے
لرزتا ہوں کفن سے مگر پہننا ضرور ہے
ہو جاتا ہوں غمگین جنازے کو دیکھ کر
مگر میرا بھی جنازہ اٹھنا ضرور ہے
ہوتی ہے بڑی کپکپی قبروں کو دیکھ کر
مدتوں اندھیری قبر میں رہنا ضرور ہے
دنیا تو میرے دل کو لبھاتی ہے صبح وشام
پر سچ تو یہ ہے اسے چھوڑ کے جانا ضرور ہے
ایک دن ايسا آئے گا کہ سب قبرستان سے وآپس آجائیگیں اور ہم نہیں آئیگیں
اللہ ہمیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے
آمین یارب العالمین
Conclusion – The Language of the Heart Never Ends
Urdu has a unique quality that makes pain sound like a poem.
These quotes about the Heart in Urdu tell us that love may hurt, but healing is also possible.
The lines quoted above represent gentle communication among hearts—
a reminder that emotions of feeling, dreaming, and understanding the quietest language are common to us all.
In the hardships of love, when your heart feels so heavy that it cannot express with words, use these Urdu Heart quotes to represent you.
For there are times when only the heart knows what it means to love and lose.
Thank You Message
We appreciate your reading our compilation of over 40 Dil Quotes in Urdu.
Our wish is that these sayings would be an oasis of comfort, tranquility, and possibly even a little power for your soul.
In case any of these quotes spoke to you, do pass them on. It is possible that another person might need them the same way.
After all, heartfelt words always reach another heart.
FAQs
Q1: What are Dil Quotes in Urdu?
They are expressions of love, pain, and heart-touching moments through words in Urdu wisdom that are often called emotional.
Q2: Are these quotes romantic or sad?
It’s both! The variety includes romantic Dil quotes, sad Urdu lines, and emotional thoughts about life and relationships.
Q3: Can I use these quotes on social media?
Absolutely! These heart-touching Urdu quotes are very suitable for Instagram captions, WhatsApp statuses, or poetry posts.
Q4: Are these quotes written in simple Urdu?
Indeed, every line is not only easy to understand but also very meaningful in a lovely way.
Q5: What makes Urdu Dil quotes special?
Because Urdu communicates feelings very strongly and intimately — every word sounds like poetry, even in silence.
